60.6K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

اٹھ گئ ماہرانی صاحبہ !!! ” ہو گئ نیند پوری آپ کی۔۔زخمی ٹانگ گھسیٹ کر چلتے سائرہ کچن میں داخل ہوئ جہاں دانین کھڑی آملیٹ بنا رہی تھی۔تھوڑی سی چوٹ کو نہ جانے اس نے کتنا بڑا کر دیا تھا۔”_
رسی جل گئ پر بل نہ گیا۔۔دانین نے آملیٹ کو پلٹے چبا چبا کر کہا۔۔
ذیادہ باتیں مت کرو اور ناشتہ بنا کر دو مجھے۔۔سائرہ نے ناگواری سے کہا۔۔
ہمم اچھا تو مس سائرہ ناظم کاظمی وہیل چیئر پر بیٹھنا چاہتی ہے رائٹ۔۔دانین خطرناک مسکراہٹ کے ساتھ اس کی طرف بڑھی تو سائرہ ایک دم ڈر کر پیچھے شیلف سے جا لگی بازو کی ٹکر سے کپ فرش پر گِرا اور چھناکے کے ساتھ ٹوٹ گیا۔۔
کانچ توڑ دیا اماں کہتی تھیں اچھا شگن نہیں ہوتا ہے کہیں تمہاری دوسری ٹانگ بھی نہ ٹوٹ جاۓ میرے ہاتھوں۔آملیٹ پلیٹ میں رکھتے دانین نے خطرناک نظروں سے اسے دیکھا۔ڈر کے مارے سائرہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئ۔۔
مم میں نے تت تو اتنا ہی کک کہا ہے ناشتہ بنا دو۔۔وہ ہکلائ تھی دانین کے تیور ان دنوں اسے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے تھے۔۔
تت تم نن نے کک کیوں کک کہا مم مجھے نن ناشتہ بنانے کا جج جب کے تت تمہارے ہاتھ فی الحال صیح سلامت ہیں۔۔دانین نے اس کی نقل کرتے ہوۓ ہکلانے کی ایکٹنگ کی۔۔سائرہ منہ بناتے جلدی سے کچن سے نکل گئ جو دانین کا انداذ تھا وہ اس کا ہاتھ توڑ دینے سے بھی باز نہ آتی۔۔
سائرہ کے تیزی سے نکلنے پر دانین ہلکا سا مسکرائ اور چاۓ کا کپ آملیٹ اور سلائیس لیئے لاؤنج میں چلی آئ۔۔””پلیٹ ٹیبل پر رکھ کر وہ بیٹھنے کو مڑی ہی تھی کہ اس کا سر چکرایا“۔ چچی کیا ہوا آپ کو۔۔”اپنے کمرے سے نکلتی سومو اسے یوں سر ہاتھوں سے پکڑے کھڑے دیکھ کر تیزی سے اس کی طرف بڑھی۔“:
کچھ نہیں سومو بس ہلکا سا چکر آ گیا تھا۔“دانین اب سنبھل کر صوفے پر بیٹھ چکی تھی“:
چچی آپ ٹھیک نہیں لگ رہیں چلیں ہسپتال لے کر چلتی ہوں میں آپ کو۔۔
ٹھیک ہوں سومو پریشان نہ ہو تم بلاوجہ”_
ایک ہاتھ میں چاۓ کا کپ پکڑے دوسرے سے وہ اپنی کنپٹی سہلا رہی تھی۔،” چکس نے کچھ کہا ہے پھر۔” سومو اس کے پاس ہی بیٹھ گئ۔چہرے سے پریشانی واضح ہو رہی تھی۔“‘
میں اب سب جیسی بن گئ ہوں جتنے دن میں نے اس گھر میں گزارے ہیں ان سے سیکھا ہے میں نے دنیا کے ساتھ جیسی دنیا ہے ویسے چلو ورنہ تمہیں لوگ نوچ کھائیں گے مار ڈالیں گے اور سمجھ بھی نہیں آۓ گی کہ کس نے قتل کر ڈالا آپ کا۔۔” اور میں اب جیسے کو تیسا کے اصول پر چل رہی ہوں جو زخم مجھے دیئے ہیں ان کے کھرنڈ کھرچنے نہیں دوں گی “
وہ کیا کہتے ھیں اینٹ کا جواب پتھر سے۔۔””‘:اب اسے اہمیت نہیں دیتی میں نہ خود پر تشدد کی اجازت دیتی ہوں۔’
چاۓ کا کپ لبوں سے لگا لیا تھا۔”لہجہ بےانتہا مظبوط تھا۔۔’
چکس آپ کو کھو رھے ہیں اپنی سانسوں کو خود سے جدا کر رہے ہیں رفتہ رفتہ اور دیکھو ان کو پتہ بھی نہیں”! کسی سے بےانتہا محبت کر کے بےانتہا نفرت کرنا چاہو اور کر نہ پاؤ اور نہ اس کے لیئے دل میں کچھ محسوس کرو ایسے انسان کی اذیت سمجھتی ہو تم۔”،
دانین کی انگلیاں چاۓ کے کپ پر گھوم رہی تھیں جو اب اس کے گود میں تھا۔”_
جس دن سچ ثابت ہو جاۓ گا آپ کیا کریں گی چکس کو معاف کر دیں گی۔”؟؟ ہاہاہاہا ۔۔!!! اس کی بات پر دانین دیر تک ہنستی رہی تھی۔ہنستے ہوۓ آنکھوں میں نمی در آئ تھی۔”” سومو نے حیرانی سے اس نیم پاگل لڑکی کو دیکھا تھا۔”
خواب بننے کے عمل کو جانتی ہو۔۔:”نہیں تم کہاں جانو گی سومو۔!! میں جانتی ہوں ۔میں نے خواب دیکھے نہیں تھے میں نے خوابوں کو سینچا تھا پل پل ہر پل یار۔!میں نے ان ہاتھوں سے خواب بننے تھے مم میں جانتی ہوں خواب بنتے میرے ہاتھ زخموں سے چور چور ہوۓ تھے مگر خواب پورے ہونے پر ملنے والی خوشی اور راخت کا خواب مجھے پھر سے خواب بننے پر مجبور کرتا تھا۔ ““؛’ اور دیکھو تمہارے چچا نے میرے خوابوں کی بنی ڈور کو اپنے انتقام اکی آگ میں جلا دیا۔””: وکالت میرا خواب تھا وہ خواب جو مجھے تروتازہ کرتا تھا۔۔:”انگلی کے پور سے اس نے آنکھ کے کنارے اٹکے آنسو کو صاف کیا۔۔۔” اور معافی۔!”” اساور کاظمی کے لیئے دانین جمشید علی کے پاس اب دینے کو کچھ نہیں بچتا نہ محبت نہ نفرت اور نہ معافی۔”کچھ بھی نہیں۔” اساور کاظمی وہ شخص تھا جسے دانین جمشید علی نے لڑکپن کی دہلیز پرقدم رکھتے ہی دل میں اترتے پایا تھا۔”: یقین جانو جیسے وہ دل میں اترا تھا ویسے ہی دل سے اتر گیا ہے۔”؛ اس نے میرے خواب جلا دیئے یار ۔“وہ قاتل نکلا ۔۔ میرے خوابوں کا خون اس نے مجھے تڑپا تڑپا کر کیا ہے” میری سیلف ریسپیکٹ میری ایگو میرے دل کو سب کو بدگمانی کے پاؤں تلے روند ڈالا اس نے۔ایک عورت محبت بعد میں کرتی ہے بعد میں چاہتی ہے پہلے عزت چاہتی ہے نہ ملے تو سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔۔ایک عورت عزت نفس پر کمپرومائز نہیں کرتی۔” چلو یہی سہی میرے خواب میرے بھائ کی زندگی کا صدقہ ہوۓ۔۔” گالوں پر آنسوؤں کی قطاریں بہہ نکلی تھی جن کو ہاتھ کی پشت سے اس نے بےدردی سے رگڑ ڈالا تھا اور نم آنکھوں سے مسکرا دی”‘ نم آنکھوں سے مسکرانا تکلیف کا کون سا درجہ ہے کوئ اس سے پوچھتا۔۔””
سومو بس دیکھے گئ تھی اس لڑکی کو ۔”وہ کمال کی لڑکی تھی نم آنکھوں سے بھی مسکرا دیتی تھی ایسی مسکراہٹ جو دل چیڑ کر رکھ دے پھر اساور کیوں نہیں پگھلتا تھا۔
آہ
۔منہ پر ہاتھ رکھ کر دانین تیزی سے کمرے کی طرف بھاگی ۔
سومو بھی اس کے پیچھے ہی کمرے میں داخل ہوئ۔”
واش روم سے دانین کی الٹیاں کرنے کی آوازیں وہ سن سکتی تھی۔”
دانین ٹھیک ہیں آپ۔۔وہ دروازہ پریشانی سے کھٹکھٹا رہی تھی۔”،_
تھوڑی دیر میں دروازہ کھلا ۔دانین تولیے سے منہ پونجتے باہر نکلی “اس کا چہرہ ایک دم سے زرد پڑ گیا تھا۔”:
دانین کیا ہوا آپ کو۔۔”سومو پریشانی سے اس کا چہرہ ھاتھوں کے پیالے میں لیتے ہوۓ بولی۔۔ کچھ نہیں بس وومٹینگ ہو گئ تھیں شاہد کچھ غلط کھا لیا ہے تم جانتی ہو کھانے پینے کی کتنی شوقین ہوں میں۔”دانین نے مسکرانا چاہا مگر نقاہت کی وجہ سے وہ مسکرا بھی نہ پائ تھی۔سومو کا سہارا لیتے وہ بیڈ پر بیٹھ گئ۔” چلیں میں آپکو ہوسپٹل لے کر چلتی ہوں۔”سومو نے اس کے لاکھ نہ نہ کرنے پر بھی بازو سے پکڑ کر زبردستی باہر لایا۔”سومو کا سہارا لیئے وہ چل رہی تھی ورنہ چکراتے سر کے ساتھ کہیں گِر جاتی۔۔°°` کیا ہوا خیریت ہے دانی بیٹا۔۔کچن کے کانچ کے ٹکڑے صاف کرتی فقیراں بی نے سومو کے سہارے چلتی دانین کو دیکھا تو ایک دم پریشان ہو اٹھیں۔ طبیعت ٹھیک نہیں ہے ان کی ہسپتال لے کر جا رہی ہوں۔۔” سومو نےعجلت میں بات مکمل کی اور دانین کو لیئے دروازے سے باہر نکل آئ۔”
ڈرائیور سے چابی لے کر اس نے دانین کو گاڑی میں بٹھایا اور گاڑی زن سے کھلے گیٹ سے بھگا لے گئ۔”:_


یار یہ کس روٹ پر لے کر جا رہا ہے شامین کی گاڑی کو فالو کر۔””سعدی کے یو ٹرن لے لینے پر امان آگ بھگولہ ہو گیا۔” چپ کر کے بیٹھ ورنہ یہیں کے دھکا دے دوں گا سمجھے۔۔”سعدی نے غصے کے کہا۔””
تو لے کر کہاں جا رہا ہے مجھے اور عینا یار شامین اسے کہاں لے کر جا رہی ہے۔”
امان کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا ہے۔”
تو اور تیری بھیگم کڈنیپ ہو گۓ ہو۔:”تجھے قتل کرنے لے کر جا رہا ہوں میں۔’؛”:
اس کے سوالات کے تنگ آکر سعدی نے تقریباً کچا نگل جانے والا لہجہ اختیار کیا۔”_
کر ہی نہ لے تو کڈنیپ۔” اوہ بھائ صاخب کڈنیپ کرنے والی شکلیں کوئ اور ہوتی ہیں ایسی ممی ڈیڈی نہیں ہوتیں۔””:
امان نے اس کے منہ پر چٹکی کاٹتے ہوۓ اس کا گال کھینچا جس سے سعدی ہمیشہ اریٹیٹ ہوتا تھا۔”_
اب کے تو نے ہاتھ لگایا مجھے تو تیرا قتل مجھ پر واجب ہو جانا ہے۔”! اپنی طرف سے سعدی نے دھمکی دی تھی مگر سامنے والا بھی خالص ڈھیٹ ہی تھا۔۔۔ ہاہاہاہا”” امان کا قہقہہ گاڑی میں گونجا تھا۔”
امان کی طرف دیکھتے سعدی نے گاڑی جھٹکے سے روکی ۔”امان کا سر ڈیش بورڈ سے ٹکراتے ٹکراتے بچا تھا۔۔
اوہ تیری اندھوں کے بادشاہ کس کے ساتھ ٹھوک دی گاڑی .”دیکھ کر نہیں چلا سکتا۔۔امان نے اپنے سر کو ہلایا جہاں درد کی شدید ٹیس اٹھی تھی۔”_
یہ سیٹ بیلٹ خفاظتی اقدامات کے طور پر گاڑی میں لگایا جاتا ہے اور اس کا استعمال کر لینا چاہیئے۔”سعدی نے بھی ادھار نہ رکھا تھا۔” گاڑی کا دروازہ کھول کر وہ باہر نکلا اور سر سہلاتے امان کو زبردستی کھینچ کر گاڑی سے باہر نکالا۔۔”” تکیلف کیا ہے تجھے یہی بتا دے میرے باپ۔۔”امان نے ہاتھ سر تک لے جا کر سعدی کے آگے جوڑے۔۔ مجھے کوئ تکلیف نہیں ہے سامنے دیکھ۔” سعدی نے اس کا منہ پکڑ کر سامنے مال کی طرف کیا۔”
ہاں یہ شاپنگ مال ہے کیا دیکھوں کون کی وکھڑی چیز ہے۔۔امان ہاتھ پینٹ کی پاکٹ میں ڈالتے گاڑی کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا۔”‘ عقل کے دشمن یہ شاپنگ مال ہے اور. . . . . . . . !!! اور یہ دنیا کا آٹھواں عجوبہ بن گیا ہے۔” امان نے بیزاری سے اس کی بات کاٹی۔”
کھوتے اپنی نئ نولی دلہن کے لیئے کچھ لے لو وہ کیا کہتے ہیں منہ دکھائ چاہے شادی ایسے ہو گئ مگر اس کے دل میں خواہشیں تو ہوں گی ۔”:
اور ویسے بھی بہت ڈپریس ہے وہ خوش ہو جاۓ گی ۔” اب اس کا سب کچھ تو ہی تو ہے”_ سعدی نے نرمی سے کہتے ہوۓ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔”_
تو واقعی میرا سچا دوست ہے میری جان۔!! امان نے فرطِ جذبات سے سعدی کو جھپی ڈالی۔”_
اب چھوڑ دے۔۔”عینا نہیں سعدی ہوں میں۔،”سعدی نے اسے چھیڑا۔” چل دفعہ ہو جب جب تجھ پر پیار آنے لگتا ہے تیرے منہ کے کچھ نہ کچھ منحوس ہی نکلتا ہے۔”سعدی کو خود سے الگ کرتے مصنوعی خفگی سے کہتا وہ مال کی طرف بڑھ گیا۔۔
ابے سن تو سہی مجنوں کی اولاد۔۔”سعدی کے اس کے پیچھے ہی شاپنگ مال کا گلاس ڈور کھلولتے اندر داخل ہو گیا۔۔
بول محبت کے دشمن۔”_ امان نے برا سا منہ بنا کر کہا ۔سعدی اور وہ چلتے ہوۓ ایک جیولری شاپ میں داخل ہوۓ۔”_
زیور کی چمک نے شاپ کو روشن کیا ہوا تھا۔”،
لے گا کیا۔۔؟” سعدی اسے ہر شے ریجیکٹ کرتے دیکھ کر تنک کر کے بولا۔۔ تو چپ کر تجھے کیوں بتاؤں تجھے کون سا محبت سمجھ آتی ہے تجھے۔“_
ہاں تم تو لو گرو ہو نا۔۔!! سعدی نے اس کی کمر پر ہلکی سی چٹکی کاٹی۔”
تمیز سے کھڑا ہو جا ورنہ رکھ کر ایک جھانپڑ لگاؤں گا۔۔”!امان نے اسے تھپڑ دکھایا۔”! تو بدل گیا ہے دوست بیوی آنے کے بعد سب بدل جاتے ہیں تُو بھی بدل گیا ہے”،یہ امید نہ تھی تجھ سے۔،:”! سعدی نے مصنوعی آنسو صاف کیئے۔”
پوری فلم ہے یار تو قسم سے۔،” امان مسکرایا۔۔
بس کبھی غرور نہیں کیا اپنے ٹیلنٹ پر۔۔سعدی نے فرضی کالر جھاڑے۔!
یہ والا بریسلٹ پیک کر دیں۔، ” امان نے ایک بریسلٹ شاپ کیپر کی طرف بڑھایا۔”_
بریسلٹ لے کر وہ دونوں ہنستے کھیلتے مذاق کرتے مال سے باہر نکلے۔”! گاڑی سٹارٹ کرتے خوش خوش سا امان اپنی عینا کے پاس پہنچنے کو بےتاب تھا۔”!


آرام سے بیٹھ گئ ہو نا ” کوئ مسئلہ تو نہیں۔”،سعدی نے اپنے پیچھے بیٹھی سومو کو کہا جو شائد بائیک پر پہلی بار بیٹھی تھی۔
وہ کاظمی خویلی کی ننھی اور لاڈلی شہزادی تھی وہ کہاں ان سواریوں پر بیٹھی ہو گی۔،!”
یس سعدی بھائ بہت مزہ آ رہا بس تھوڑا سا ڈر لگ رہا ہے کہیں گِر گئ میں تو۔” سومو نے ہاتھ زور سے سعدی کے کندھے پر رکھا تھا۔”! سعدی بس مسکرا کر رہ گیا تھا۔۔“؛ میں تمہیں نہیں گِرنے دوں گا بےفکر رہو۔!”_
سعدی بھائ وہ گولا گنڈا والا ٹھیلہ پلیز روکیں بائیک۔مجھے وہ کھانا ہے“!”سومو نے سڑک کے کنارے چھاتہ بنا کر اس کے نیچے لگے گولا گنڈے کے ٹھیلے کی طرف اشارہ کیا۔”_
جہاں سے آتے جاتے لوگ ٹھنڈا سرخ میٹھا گولا گنڈہ کھا رہے تھے۔،” سومو طبیعت خراب ہو گئ پھر۔“سعدی نے بائیک سائیڈ پر روکا۔” ایسی بھی کوئ نازک پری نہیں ہوں میں کچھ نہیں ہوتا “چلیں چلیں۔!: سومو بیگ کندھے پر ڈالتی بھاگتی ہوئ ریڑھی کے پاس پہنچی۔“” مجبوراً سعدی بھی اس کے پیچھے چل پڑا۔
انکل مجھے بنا دیں جلدی سے ایک کپ۔مزیدار میٹھا اور ٹھنڈا سا۔ ” آپ لیں گے سعدی بھائ “ایسا کریں انکل دو بنا دیں۔” ریڑھی والے کو بتا کر وہ سعدی کے پاس آ کھڑی ہوئ جو لکڑی کی بوسیدہ کرسی پر بیٹھا ہوا تھا
کیا ہوا کہیں یہ تو نہیں سوچ رہے خود مصیبت گلے ڈال دی جو گرمی میں خوار کروا رہی ہے۔” سعدی کے اس طرح خود کو تکتے پا کر وہ بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئ تھی۔
تم کہو تو صحرا کی خاک چھان لوں اور ہونٹوں سے پھر بھی مسکراہٹ جدا نہ ہونے دوں۔” اس پر امان کا اثر ہو رہا تھا اس نے دل ہی دل میں سوچا۔
اوہ مائ گاڈ کہیں آپ مجنوں کی نسل سے تو نہیں۔“: سومو نے معصویت سے دونوں ہاتھ گال پر رکھتے اسے چھیڑا۔
مجنوں تو لیلا کو پانے کی چاہ میں کنوارہ مر گیا تھا میں کہاں اس کی نسل سے نکل آیا پھر ۔“! سعدی اس کی شرارت سمجھ کر مسکرایا۔_
“مجنوں بننے کو مجنوں کے خاندان سے بیلونگ کرنا ضروری نہیں ہے۔ جس کا بھی عشق حد سے بڑھ جاۓ وہ پھر مجنوں کہلاۓ۔”_
مجنوں کوئ ایک شخص تھوڑی تھا وہ ایک شخص تو بس قیس تھا جب مجنوں بنا تو عشق بن گیا تھا عاشق بن گیا تھا “! اتنی سی عمر میں اتنی بڑی باتیں۔“سعدی حیران ہوا تھا اسے لگا وہ محبت کو ابھی نہیں سمجھتی ہو گی مگر وہ تو ایسی نکلی کہ عشق پڑھاۓ تو بندہ اس کے سحر سے نکل نہ پاۓ۔“! پورے سولہ سال کی ہوں میٹرک میں پڑھتی ہوں الحمداللہ میچورڈ ہوں ۔سمجھتی ہوں سب جانتی ہوں سب۔“وہ ماسٹر میں پہنچ کر بھی ننھی کاکیاں بننے والی لڑکیاں مجھے سمجھ نہیں آتیں۔“! عمریں بڈھوں کو مات دیں دماغ شیطان کو بچھاڑ دے اور منہ پر معصومیت طاری کر کے بولیں۔“جی یہ محبت کیا ہوتی ہے مجنوں کون تھا ، فرہاد لیلیٰ کے چچا کا بیٹا ہے یا چھپکلی قتل بھی کر ڈالتی ہے”_
سومو کے چہرے پر بولتے ہوۓ اتنی معصویت در آئ تھی کہ وہ بس اسے دیکھتا ہی رہ گیا تھا۔_
اچھا تم جانتی ہو محبت کیا ہے۔؟”سعدی نے اپنے من کا سوال کیا۔” نہیں شائد ہاں!”سومو نے پہلے نفی میں اور پھر ہاں میں گردن ہلائ۔سعدی کنفیوز ہوا۔” “محبت کیا ہے ۔؟؟میں یا آپ کوئ کنفرم نہیں بتا سکتا ہر شخص اسے الگ چیز سے تعبیر کرتا ہے ۔کوئ دولت کماتا ہے کہ اسے دولت سے محبت ہے کوئ رشتے جوڑ کر رکھتا ہے کیوں کہ اسے محبت ہے،کوئ پہاڑوں کی محبت میں مبتلا ہے تو کوئ کہکشاؤں کی ،کوئ انسانوں میں سکون تلاش کرتا ہے تو کوئ رب سے لو لگاتا ہے کیونکہ اسے محبت ہوتی ہے۔
کسی کے لیئے محبت وہ بھیانک خواب ہے جو اسے راتوں میں سونے نہیں دیتا ڈراتا ہے اور کسی کے لیئے محبت وہ حسین خواب ہے جو وہ پلکوں کی جھالڑ پر سجاتا ہے تو مسکراتے ہونٹوں کے ساتھ رات آنکھوں میں کٹتی ہے۔ “
کوئ دل میں سماتا ہے تو کوئ دل سے اتر جاتا ہے آسان الفاظ میں یہ کہ محبت ایک ذہنی کیفیت کا نام ہے اور ہر شخص کی ذہنی کیفیت دوسرے شخص سے مختلف ہوتی ہے کوئ شے کسی بندے کو سکون دیتی ہے تو وہی شے کسی دوسرے کا سکون غارت کرتی ہے۔محبت وہی شے ہے۔!
وہ ہمیں پڑھایا جاتا ہے کہ پانی کی کوئ شکل نہیں ہوتی جس برتن میں ڈالو وہی شکل اختیار کر لیتی ہے اگزیکٹلی محبت بھی پانی ہے ہم محبت کو سکون کے برتن میں ڈالیں یہ سکون بن جاۓ گی بےسکونی کے برتن میں انڈیلیں تو یہ بےسکونی بن جاۓ گی۔
ماں کرے گی تو مامتا بن جاۓ گی باپ کرے گا تو شفقت کہلاۓ گی بہن کرے تو دوست بن جاۓ گی بھائ کرے تو جان پہچانی جاۓ گی محبوب کرے تو محبوبہ بن جاۓ گی بس ثابت ہوا محبت ایک ایسی ذہنی کیفیت ہے جو پانی جیسی ہوتی ہے۔“۔سعدی یک ٹک اسے دیکھے جا رہا تھا کاش وہ بتا پاتا سومو کے لیئے اس کی ذہنی کیفیت کتنی سکون والی ہے۔ تم نے محبت محسوس کی کبھی۔“! سعدی کے اپنے سے ہی سوال تھے۔۔
ہاں کی ہے۔سومو نے نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا سعدی کو اپنا دل سینے کی حدود سے نکلتا ہوا محسوس ہوا ” ماں کی مامتا بھائ کی محبت چکس کا لاڈ آپی کا لڑنا پھر پیار کرنا سب محبت کے دائرے میں آتے ہیں جو میں نے محسوس کیئے ہیں۔۔”سومو کے لہجہ اپنوں کی محبت سے پُر تھا۔! اگر میں کہوں مجھے بھی تم سے محبت ہے تو تم کیا کہو گی۔”! سعدی نے سوال کیا۔_
چھوٹے لڑکے نے پلاسکٹ کے گلاس میں لال فالودہ لا کر دونوں کو پکڑایا۔
یہ تو بہت اچھی بات ہے امان بھائ جیسی محبت۔،” سومو مسکرائ ۔۔ نہیں جیسی اساور بھائ دانین سے کرتا ہے ویسی محبت۔سعدی بلاوجہ گلاس میں موجود لال برف کو توڑنے لگا۔۔
ہاہاہاہا ۔۔!! سومو پل بھر کو منجمند ہوئ پھر دوسرے ہی لمحے اس کا ایک جاندار قہقہ گونجا تھا۔” مذاق اچھا کر لیتے ہیں آپ “۔ سومو نے بات کو اڑا دینا چاہا تھا۔۔ محبت بس محبت ہوتی ہے سومو مذاق نہیں ہوتی۔۔سعدی کا فالودہ پگھل چکا تھا۔۔”: چلیں اماں پریشان ہو رہی ہوں گی۔:اس کی بات کو نظرانداذ کرتے وہ بیگ سنبھالے جانے کے لیئے کھڑی ہو گئ۔”_
سعدی نے بائیک سٹارٹ کیا تو سومو بیگ کو دونوں کندھوں پر ڈالے بیٹھ گئ مگر اب کی بار سومو نے گرنے کے خوف سے سعدی کا کندھا نہیں پکڑا تھا۔” وہ بےتاثر چہرے کے ساتھ لب بھینچے بیٹھی تھی ۔”
وہ نظرانداذ کر رہی تھی تو سعدی کا بھی فرض بنتا تھا وہ اس بات کو نہ چھیڑتا۔
بائیک لاہور کی سڑک پر دوڑ رہی تھی جس پر بیٹھے دو نفوس کے چہروں پر کچھ دیر پہلے کی ہنسی کا شائبہ تک نہ تھا۔”_
باقی کا سارا راستہ بہت خاموشی سے کٹا تھا۔۔


دن کا اجالا سمٹا تو رات نے اپنے پر پھیلاۓ تھے۔ایسے میں شامین کا گھر روشن تھا بہت روشن عام دنوں کی نسبت۔
۔شامین کا دو کمروں پر مشتمل چھوٹا سا گھر تھا جس ایک کچن اور لاؤنج اسے مکمل کرتے تھے۔”_
شامین ایک مڈل کلاس سے بیلونگ کرتی تھی ماں مر چکی تھی باپ اور چچازاد کے ساتھ اس چھوٹے سے گھر میں رہتی تھی پھر چچازاد ڈاکٹر بننے ترکی چلا گیا اور وہیں کا ہو گیا۔”بیماری کے باعث ابا کا بھی انتقال ہو گیا۔۔ وہ ایک بہادر لڑکی تھی وہ بکھرتے حالات کے ساتھ بکھری نہیں تھی بلکہ خود کو سمیٹا تھا۔”
وہ اب ایک کامیاب وکیل تھی اور اپنے باپ کے گھر میں اکیلی رہتی تھی۔” سعدی اور امان اندر داخل ہوۓ تو کچن سے شامین کے گنگنانے کی آواز آ رہی تھی
گنگناتے ہوۓ وہ کچن سے باہر نکلی ہاتھ میں چاۓ کا کپ تھا۔” بڑی دیر کر دی مہرباں آتے آتے۔۔شامین کپ سے چاۓ کا سِپ لیتی لاؤنج میں رکھے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بیٹھ گئ۔
عینا کہاں ہے۔:؟؟ امان نے بےتابی سے ادھراُدھر دیکھتے ہوۓ پوچھا۔” کون عینا۔” شامین نے آنکھیں پٹپٹا کر انجان بنتے ہوۓ کہا۔” میں نے یہ ٹیبل اٹھا کر تیرے سر پر مار دینی ہے پھر اگلی پچھلی ساری یاداشت واپس آ جاۓ گی۔
تم ٹھیک کہتے ہو سعدی یہ بدل گیا ہے واقعی یہ بدل گیا ہے اپنی بیسٹ فرینڈ کو بیوی کے لیئے ٹیبل مارے گا۔” شامین نے رونی شکل بنا لی تھی۔
چلو یہ تو یاد آیا عینا میری بیوی ہے ورنہ ابھی تو تم اسے پہچاننے سے انکاری تھی۔۔“۰امان نے اچھی خاصی کلاس لے ڈالی تھی اس کی۔۔ یہ امید نہیں تھی تم سے امان۔”اب کے وہ باقائدہ دہائیاں دینے لگی تھی۔
تم اور سعد کیا چیزیں ہو یا پوری کی پوری فلم۔” امان نے ان کی ایکٹنگ پر کانوں کو ہاتھ لگایا۔۔ مست ایکٹنگ کرتے ہیں ہم ہے ناں۔!؛ شامین نے کپ ٹیبل پر رکھتے ایک دم کھڑے ہو کر ہاتھ تالی کے لیئے امان کی طرف بڑھایا
اسے ایکٹنگ نہیں بیسٹ فرینڈز اوور ایکٹنگ کہتے ہیں۔امان تنک کر بولا تو دونوں اپنا سا منہ لے کر رہ گۓ مگر دوسرے ہی پل دونوں کا فلک شگاف قہقہہ گونجا تھا۔ان دونوں کو یوں ہنستا دیکھ کر امان بھی ہنسنے لگ گیا تھا۔“‘ چپ کرو عینا ہم تینوں کو سائیکو نہ سمجھ لے۔شامین نے سرگوشی میں کہا۔ “بیسٹ فرینڈذ جب مل بیٹھیں تو ان کو سائیکو ہی سمجھ لو”سعدی نے اپنا فلسفہ جھاڑا۔۔”” اچھا عینا ہے کدھر مجھے ملنا ہے اس سے۔” امان نے سوالیہ نظروں کے شامین کو دیکھا جس کے چہرے پر ” میں نہیں بتاؤں گی” صاف صاف لکھا تھا۔وہ خود ہی کمروں کی طرف بڑھا۔۔:: نہیں مل سکتے تم عینا سے۔”شامین نے صوفے سے ایک لمبی جست بھری اور سیدھی ایک کمرے کے آگے کھڑی ہو گئ۔“:
بڈھی ہونے کو ہو مگر بچپنا نہ جاۓ گا تمہارا “: ویسے کس خوشی میں اپنی بیوی سے نہیں مل سکتا میں۔” امان نے اسے ہٹنے کا اشارہ کیا ” دولہا میاں اس وقت میں عینا کی بہن ہوں تو سالی کے آگے جیب ڈھیلی کیئے بغیر نہیں مل سکتے عینا سے۔“شامین نے ہتھیلی آگے کی۔۔
سعدی سے بھی بڑا ڈرامہ ہو تم۔“امان نے والٹ سے سارے پیسے نکال کر شامین کے ہاتھ پر رکھ دیئے۔ . . سعدی نے اپنی اس قدر تعریف پر برا سا منہ بنایا۔” دونوں سے نبٹتا وہ کمرے کا دروازہ کھول کر اندر بڑھا مگر کمرے کی حالت دیکھ کر وہ ساکت رہ گیا تھا۔۔
کمرہ کے درمیان میں رکھا بیڈ جس پر سفید بیڈشیٹ بہت سلیقے سے بچھائ گئ تھی۔بیڈ کے اِردگِرد سفید جھالر لگا رکھی تھی جو سفید اور ہلکے گلابی رنگ کے نیچرل پھولں سے ڈھکا ہوا تھا۔“پھولوں کی خوشبو پورے کمرے میں پھیلی ہوئ تھی۔
“بیڈ کے بیچوں بیچ ہلکا گلابی رنگ کا لہنگا پھیلاۓ سر سے منہ تک نیٹ کے گلابی دوپٹے کا گھونگھٹ کھینچے سر جھکاۓ بیٹھی عینا سفیدستان کی باسی معلوم ہوتی تھی”: امان کے لبوں پر بےساختہ مسکراہٹ دور گئ تھی۔ اس نے پلٹ کر صوفے پر بیٹھے امان سے ہتھیاۓ پیسے گنتے سعدی اور شامین کو دیکھا۔” نظروں میں بےپناہ محبت اور تھینکس تھا۔دونوں نے مسکراتے ہوۓ اسے انگھوٹھا دکھایا۔“امان مسکرا کر دروازہ بند کرتے بیڈ پر سر جھکا کر بیٹھی اپنی متاعِ جاں کیطرف بڑھا۔۔
بیڈ پر ایک ٹانگ آگے اور ایک پیجھے رکھ کر وہ بیٹھا تھا چہرے پر بےانتہا حوشی چھائ تھی۔”
آہستہ سے اس کا گھونگھٹ اٹھایا تو جو ہوش آتا رہا تھا وہ بھی جاتا رہا پھر۔عینا سفید آرٹیفشل گردن کے ساتھ لگے نیکلس کندھوں تک آتے سفیر بڑے بڑے جھمکے جن کے بیچ میں گلابی نگینہ لگا ہوا ماتھے پر مانگ نکال کر جھومر سجاۓ وہ کسی پرستان سے آئ نازک سی پری لگ رہی تھی۔” کیا ہوا۔۔” اسے یوں منجمند ہوتے دیکھ کر عینا نے اس کے آگے چٹکی بجائ۔” کچھ نہیں بس یقین کرنا چاہ رہا تھا خدا آپ کی دعائیں مانگنے سے پہلے ہی سن لیتا ہے وہ دلوں میں جھانک لیتا میرے دل میں بھی جھانک لیا تبھی دیکھو آج تم میری ہوئ۔“‘امان کے الفاظ اس کی خوشی کے غماز تھے۔” بےشک وہ ہر شے پر قادر ہے۔“،عینا نے شکر کرتے ہوۓ گردن ہلائ۔_
ہاتھ آگے کرو۔امان نے کہا تو عینا نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔“ہاتھ آگے کرو یار ” امان نے پاکٹ میں ہاپھ ڈال کر بریسلٹ باکس نکالا۔“باکس کھولتے اس میں نے بریسلٹ نکالا اور عینا کے اپنی گود میں رکھے ہاتھ پر بہت نرمی سے پہنانے لگا۔*
دیکھو تمہاری کلائ میں سجا تو یہ بھی خوبصورت ہو گیا۔۔امان اس کا ہاتھ تھامے اسے دیکھے جا رہا تھا۔“پھر ہاتھ کو ہونٹوں کے قریب لا کر بہت پیار سے بھوسہ دیا ۔عینا جھینپ کر رہ گئ تھی “::؛!
امان اس کے کسمسانے اور شرمانے پر مسکرایا تو عینا کا سر خودبخود جھکتا چلا گیا ” امان نے ٹھوڑی سے پکڑ کر اس کا چہرہ اونچا کیا اور اس کے خوبصورت کشادہ ماتھے پر اپنے لبوں کی مہر ثبت کر دی تھی۔
عینا مزید خود میں سمٹ گئ تھی وہ بس کی خالت سے خوب مخظوظ ہوتا رہا تھا_”:
آج آسمان پر چاند بھی پورا نکلا تھا خوبصورت گول اور روشن پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتا وہ ان دو محرموں کی محبت کا چشم دید گواہ تھا۔۔


جاری ہے۔۔