No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
مری لارنس کالج۔۔
ایک مہینے بعد پیپرز شروع ہونے والے تھے جس کی وجہ سے سٹوڈنٹس کو ایک ہفتے کی چھٹیاں دی گئیں تھی تاکہ سٹوڈنٹس تھوڑا ری۰لیکس کر کے پوری انرجی سے پیپرز کی تیاریاں کر سکیں۔
ہاسٹل میں گہماگہمی تھی کچھ سٹوڈنٹس جا رہے تھے کچھ پیکنگ میں مصروف تھے۔سب کے چہروں سے خوشی جھلک رہی تھی۔۔
جن سٹوڈنٹس کو سال بھر گھونگھا سمجھا جاتا تھا آج ان کے لاؤڈسپیکر آسمان سے کو پہنچ رہے تھے۔
جن سٹوڈنٹس سے سوالات کے جواب میں صرف شرمیلی سے مسکراہٹ دیکھنے کو ملتی تھی ان کے قہقہے آج ہاسٹل کی دیواریں گِرا رہے تھے۔سب خوش تھے ایک ہفتے پڑھائ سے جان چھوٹ جانے پر اور کچھ فیملی سے ملنے پر۔
ایسے میں امان اللہ کاظمی اور سعدی رانا بھی پیکنگ میں مصروف تھے۔ہنستے مسکراتے باتیں کرتے وہ بھی گھر جانے کے لیئے خوش تھے۔
ہاسٹل کا کاٹ کبار بھی تو نے اپنے بیگ میں ساتھ لے جانا ہے۔سعدی نے اپنا بیگ پیک کر کے سائیڈ پر رکھا جبکہ امان کی پیکنگ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔
تو کالی بلی کی طرح میرا ہر راستہ ہر بات ہر کام کیوں ٹوکتا ہے آج اپنا مسئلہ بتا ہی دو مسٹرسعدی رانا صاخب۔۔!! امان ہاتھ میں پکڑی شرٹ کو بیڈ پر پٹخ کر پنجے جھاڑ کر اس کی طرف بڑھا۔
مسئلہ یہ ہے کہ میں ایک انتہائ چست بندہ ہوں اور تم پر میری صحبت کا بھی کوئ اثر ہوتا نظر نہیں آتا۔انتہائ سست انسان ہو۔مجھے لیٹ ہو رہا ہے پہنچنے میں دیر ہو گئ تو فلائیٹ مِس ہو جانی ہے۔امان کا رخ زبردستی دوبارہ بیگ کی طرف موڑتے سعدی کھڑکی کے پاس جا کھڑا ہوا۔۔
ہیلی کاپٹر بُک کروا لیں گے پھر یہ کون سی بڑی بات ہے۔۔امان نے بےپرواہی سے جواب دیا۔اور آخری شرٹ بیگ میں ڈال کر بیگ بند کرنے لگا۔۔۔
او بلگیٹس کی اولاد میں تیرے جتنا امیر نہیں ہوں کہ ہیلی کاپٹر منگواؤں غریب سا بندہ ہوں سکالرشپ نہ ملتی تو میں نے جاہل مر جانا تھا۔سعدی کی نظریں ہنوز کھڑکی سے باہر تھیں جہاں چمکتے چہروں کے ساتھ سٹوذنٹس جاتے ہوۓ دکھائ دے رہے تھے۔
ہاہاہاہا۔اتنا ہی کوئ فقیر پیدا ہوا ہے تو۔۔امان کی ہنسی چھوٹ گئ تھی اس کی آخری بات پر ۔
سعدی اور امان دوست تھے کزن تھے مگر سٹیٹس میں زمین آسمان کا فرق تھا۔امان اللہ کاظمی ایک کامیاب بزنس مین کا بیٹا تھا۔شہر کے امیر ترین لوگوں میں ان کا نام شامل ہوتا تھا۔جبکہ سعدی اور دانین کے والد سرکاری ملازم تھے۔سیلری کم مگر خوشیاں ذیادہ تھیں۔پھر ان کے والد کی ڈیتھ ہو گئ۔پنشن پر گزارا تھا ان کا۔سعدی اور دانین تھے بھی بہت ذہین تھے۔سکالرشپ پر دونوں کی تعلیم جاری تھی۔جبکہ امان بہت ہی لاپرواہ سا تھا پڑھائ میں انٹرسٹ زیرو تھا سعدی جدھر تھا وہ ادھر ہی تھا۔بچپن کے دوست اور ہم عمر جو ٹھہرے۔۔
ویسے سعدی اک بات تو بتا۔۔!! امان بیگ کو سائیڈ پر رکھتا سعدی کے بیڈ کے اوپر سے چھلانگ لگا کر کھڑکی کے پاس کھڑے سعدی کو پہنچا۔۔
جی فرمائیں۔سعدی نے اسے تیز نظروں سے دیکھا اور جا کر اپنے سنگل بیڈ کی چادر جھاڑنے لگا۔۔
اماں سے اس بار بات کرنی ہے میں نے مان تو جائیں گی نا وہ میری شادی کروانے کے لیئے۔۔
دیکھ دوست جتنا میں جانتا ہوں تیری اماں اس بات پر قتل بھی کر سکتی ہیں۔چادر ڈال وہ اپنے بیگ کی طرف بڑھا۔لیکن تو لاڈلا ہے ان کا تیری بات شاید مان لیں۔اپنا بیگ اٹھاتے ہوۓ وہ دروازے کی طرف بڑھا۔۔
یاہو یہ کی نا تو نے یاروں والی بات۔۔امان اپنا بیگ پکڑے سعدی کے پیچھے بھاگا جو کمرے سے نِکل چکا تھا۔۔
ویسے میرا ایک مشورہ ہے۔۔سعدی نے چلتے چلتے گردن موڑ کر پیچھے آتے امان کو کہا۔۔امان نے أنکھ کی ابر اٹھا کر سوالیہ انداذ میں اسے دیکھا۔۔
ابھی کچھ وقت کے لیئے اس سب کو چھوڑ دے میرے بھائ اپنی تعلیم پر دھیان دے ۔اپنی عمر کا بھی جائزہ لے ابھی زمین سے اگا بھی نہیں ھے تو۔۔سعدی کی بات پر پیچھے پیچھے چلتے امان نے راستے میں پڑے پتھر کو پاؤں سے زور کے ٹھوکر ماری جو سیدھا آ کر سعدی کی ٹانگ میں لگا۔
سعدی نے کراہتے ہوۓ تیز نظروں سے مڑ کر اسے دیکھا۔جو اب دانت نکال رہا تھا۔
فلائیٹ مِس ہونے کا ڈر نہ ہوتا تو میں نے تیرا کباب وِد چٹنی یہیں بنانا تھا۔۔سعدی نے غصے سے کہا جس کا امان پر حاطرخواہ اثر نہ ہوا۔
ویسے تیرے انتظار میں کون پھول اور مالائیں لے کر کھڑا ہے جو تو اتنا اتاولا ہوا جا رہا ہے۔۔
کیوں میری ماں بہن نہیں ہے۔۔سعدی تنگ آ گیا تھا اس کی فضول کی باتوں سے تبھی تنک کر بولا۔۔
وہ تو ہیں کسی دوسرے کی بہن بیٹی کو بھی تو پھول چڑھانے والی لائن میں نہیں کھڑا کیا ہوا۔۔۔امان نے پھر سے اسے چھیڑا۔
اب تیری آواز میں نے سن لی تو پھول چڑھیں گے تیری قبر پر۔۔سعدی غصے سے بولا۔۔دونوں چلتے ہوۓ کالج کے گیٹ سے نِکل آۓ تھے۔اِکا دُکا سٹوڈنٹس گاڑیوں کے انتظار میں کھڑے تھے۔
کچھ اسلام آباد کی طرف روانہ ہو گۓ تھے۔۔
امان کی سستی کی وجہ سے وہ دونوں لیٹ ہو گۓ ورنہ ابھی وہ اسلام آباد ائیرپورٹ پر ہوتے۔
بتا دے یار کب تک چھپاۓ گا۔۔امان کون سا باز آنے والا تھا۔تھوڑی خاموشی کے بعد وہ پھر شروع ہو چکا تھا۔۔
سعدی اسے نظردنداذ کرتا ایک ٹیکسی کی طرف بڑھا تھوڑی بات چیت کے بعد معاملہ طے پایا تو دونوں ٹیکسی میں بیٹھ گۓ۔
ٹیکسی اسلام آباد کی طرف جا رہی تھی جہاں سے جہاز کے ذریعے انہیں اپنی منزل کی طرف جانا تھا۔۔
اپنے پیپرز کی تیاری پر دھیان دو ۔میں ٹھیک ہوں ۔۔لیپ ٹاپ پرنظریں گاڑھے ایک ہاتھ سے کچھ ٹائپ کرتا وہ دوسرے ہاتھ سے موبائل کان کے ساتھ لگاۓ بولا۔۔
میں کیسے یقین کر لوں تم ٹھیک ہو۔۔دوسری طرف ڈی۔جے منہ بناۓ بیٹھی تھی۔۔
میری آواز سے۔۔
مجھے نہیں آتیں یہ سِکلز۔ڈی۔جے معصومیت سے بولی تو کی۔بورڈ پر چلتے اس کے ہاتھ رکے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئ۔۔
دل پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں بند کر کے مجھے سوچو ۔پھر دِل سے پوچھو وہ جو جواب دے وہ مان لینا۔لیپ ٹاپ کو ہاتھ سے سائیڈ پر کرتا وہ چیئر پر پیچھے کو ہو کر بیٹھ گیا۔
حیا کا دروازہ ناک کرتا ہاتھ رکا. . اے۔کے کا ہر لفظ خرف بہ خرف اس نے سنا۔۔
مجھے نہیں پتہ یہ سب بس ملو مجھے تمہیں دیکھوں گی تو یقین آۓ گا دل کو۔۔وہ بچوں کے سے انداذ میں ضد کرنے لگی. . اے۔کے سے بات کرتے وہ بچی ہی تو بن جایا کرتی تھی۔
اوکے میری جان میں ہارا تم جیتی شام میں آتا ہوں تمہارے ہاسٹل اب خوش۔۔
ایک دم خوش. . . ڈی۔جے کھکھلا اٹھی۔۔
آئ۔لو۔یو ڈی۔جے. . . . چیئر کو گھماتے اے۔کے شدت سے بولا۔دوسری طرف ڈی۔جے لال ٹماٹر ہو گئ تھی۔۔
بعد ممم میں بب بات کرتی ہوں. . . سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ ڈی۔جے نے فوراً کال کاٹ دی. . اے۔کے مسکرا کر رہ گیا اس کے گریز پر۔۔
باہر کھڑی حیا کو لگا اس کا دم گھٹ رہا ہے وہ اب سانس نہیں لے پاۓ گی۔۔تھوڑی دیر پہلے جو چہرے پر مسکراہٹ تھی وہ غائب ہو گئ تھی اس کی جگہ پہلے اذیت اور پھر سختی نے لے لی۔۔۔
ٹک ٹک کرتی ہیل کے ساتھ وہ جیسے آئ تھی ویسے ہی واپس مڑ گئ۔۔
ورکرز نے خیرانی سے اس پری پیکر کو دیکھا جو ہنستے ہوۓ آئ اور شدتِ ضبط کے باعث لال چہرہ لیئے واپس چلی گئ۔۔
کیسے بتاؤں آپی کو ۔۔ آخر کیسے. . . وہ کمرے میں ٹخلتی دماغ پر زور ڈالے سوچنے میں مصروف تھی۔۔
رات کو چاۓ دیتے ہوۓ بتاؤں گی گڈ۔۔وہ سوچتے ہوۓ خوش ہوئ۔۔. نن نہیں چاۓ وہ ٹیرس پر پیتی ہیں کہیں مجھے وہیں سے دھکا مار دیا تو۔۔سوچتے ہی اس نے جھرجھری لے۔۔۔۔۔۔۔
کینسل یہ پلان۔۔ہاتھ سے ہوا میں کراس کا نشان بناتے وہ پھر سے کمرے کے چکر کاٹنے لگی۔۔
کھانے کی ٹیبل پر بتا دوں گی۔۔موم ڈیڈ بھی ہوں گے انہیں الگ سے بتانا نہیں پڑے گا۔ویسے بھی موم ڈیڈ کو بتانا نہ بتانا ایک ہی بات ہے مرضی تو آپی کی چلے گی۔۔نہیں ٹیبل پر نہیں بتاتی کہیں پلیٹ سے میرا سر پھوڑ دیا تو۔۔سوچتے ہوۓ اس نے ایک بار پھر جھرجھری لی۔۔
پھر کیسے بتاؤں۔۔
آپی ہیں کوئ جلاد تو نہیں۔۔ویسے کسی جلاد سے کم بھی نہیں۔۔وہ خودکلامی میں ہی سوال و جواب میں مصروف تھی۔۔
اوہ یہ میرے ذہن میں پہلے کیوں نہیں آیا۔تو بھی کتنی بدو ہے عینا۔۔اس نے آئینے میں دیکھتے ہوۓ اپنے سر پر چپت لگائ ۔
ہاں یہ ٹھیک ہے ٹیکسٹ کرتی ہوں آپی کو ۔۔اس نے مسکراتے ہوۓ جلدی سے فون اٹھایا۔۔
Hi, appi..
I am in love..
لکھ کر اس نے سینڈ پر کلک کیا۔۔
اوہ ہو گیا آپی مان جائیں بس۔۔وہ خوش تھی بہت خوش۔۔
کمرے میں گھول گھول گھومتے دوپٹے کو لہراتے خوشی اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی۔
اس نے لاہور کی سڑکوں کی حاک چھان ماری مگر سعدی اسے نہ ملا۔۔وہ ایسا غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔
اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے اساور کو صبح سے دوپہر ،دوپہر سے شام،شام سے رات ہو گئ مگر وہ نہ مِلا۔۔
اساور بہت تھک گیا تھا۔۔صبح کے غصے پر تکھن غالب آ گئ تھی۔۔
دِماغ پھٹ رہا تھا۔وہ گھر نہیں جانا چاہتا تھا اس وقت وہ دانین کی شکل دیکھنے کا روادار بھی نہ تھا۔۔
دانین کی سعدی کو بچانے والی حرکت پر اس کا دِماغ ابھی بھی گرم تھا۔
وہ اب بےمقصد گاڑی کو دوڑا رہا تھا۔۔تبھی اس کی نظر وہاں سے جاتے کچھ لڑکوں کی ٹولی پر پڑی۔سڑک سنسنان تھی ایسے میں وہ لڑکے ہاتھ میں پیپسی کی بوٹلز پکڑے ناچتے گاتے ہوۓ جا رہے تھے۔۔
دِماغ کی گرمی دور کرنے کی حاطر اس نے سوچا کیوں نہ کولڈڈرنک پی لی جاۓ۔گاڑی کی سپیڈ سلو کرتے اس نے لڑکوں کے گروپ کے سامنے گاڑی کھڑی کر دی۔
لڑکوں کی ٹولی نے اسے عجیب سی نظروں سے دیکھا۔۔اساور نے ہاتھ سے ایک کو پاس آنے کا اشارہ کیا تو وہ منہ میں کچھ بڑبڑاتا لڑکھڑاتا ہوا گاڑی کے پاس آیا۔اساور نے حیرانی سے اسے دیکھا۔۔اس لڑکے کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں ایسے لگ رہا تھا وہ نیند میں ہے۔
ایک بوتل چاہیئے مجھے۔اساور نے لڑکے کے ہاتھ میں پکڑی بوتل کی طرف اشارہ کیا۔
لڑکے نے حیرانی سے اسے دیکھا اور پھر اپنے دوستوں کی طرف مڑ کر فلق شگاف قہقہہ لگایا۔
او صاحب کو بوتل دو چلو جی چلو۔۔گاڑی کے پاس کھڑا لڑکا اپنے پیچھے کھڑے لڑکوں کو اشارہ کرتا جھومتا ہوا گاڑی کے آگے سے گزر گیا
۔پیچھے آتے ایک لڑکھڑاتے ہوۓ لڑکے نے بوتل اس کی طرف بڑھائ اور گاڑی کے آگے سے گزر گیا۔۔۔۔۔۔
اساور نے بوتل کھول کر منہ سے لگائ پہلا گھونٹ بھرتے ہی اسے ہزار والٹ کا کرنٹ لگا۔گاڑی کا دروازہ کھول کر اس نے جلدی سے منہ میں موجود ڈرنک کو تھوکا۔۔
بڑی چالاک ہو گئ ہے آج کل کی جنریشن پیپسی کی بوتل میں شراب۔۔اس نے اچنبھے سے لڑکھڑا کر جاتے ہوۓ لڑکوں کی ٹولی کو دیکھا۔اور بوتل بند کر کے سیٹ پر رکھ دی۔۔
اس کا دل ہر ایک شے سے اچاٹ ہو گیا تھا۔اسے پےسکونی سی لگی ہوئ تھی۔اس کی شدت سے خواہش تھی کہ سعدی اس کے سامنے ایک بار آ جاۓ بس ایک بار۔مگر مارنے والے سے بچانے والا بڑا ہوتا ہے۔۔
وہ گاڑی سائیڈ پر کھڑی کر کے اسٹئیرنگ پر سر رکھ کر بیٹھ گیا۔رات کا اندھیرا چار سو پھیل چکا تھا۔سڑک بلکل سنسان تھی ایسے میں کافی دیر بعد کوئ گاڑی گزرتی تو ماحول کے سکون میں ہلچل ہوتی۔مگر وہ اسی طرح اسٹیرنگ پر سر رکھے بیٹھا تھا۔
سڑک کے سائیڈوں پر لگے درحتوں کے پیچھے کھیت تھے جن میں وقفے وقفے سے کتے بھونک رہے تھے۔
اس کا موبائل رِنگ کرنے لگا۔اسٹیرنگ سے سر اٹھا کر اس نے پاکٹ سے موبائیل نکالا۔گھر کے لینڈ لائن سے کال آ رہی تھی۔۔
سیٹ پر پیچھے کو ہو کر بیٹھتے اس نے خود کو ریلیکس کیا اور پھر کال پِک کی۔
اساور کہاں ہیں آپ۔دوسری طرف سے سہمی سہمی سی دانین کی آواز گونجی۔۔
کیوں۔۔؟؟اس کا لہجہ تیز ہوا۔وہ جو ریلیکس ہو کر بیٹھا تھا پھر سے آگ بھگولا ہو گیا۔۔
گھر نہیں آۓ آپ ابھی تک۔۔
تمہیں یہ فِکر ستا رہی ہو گی کہ تمہارا بھائ زندہ ہے کہ نہیں تو میں بتا دوں بچ گیا ہے کمینہ مجھ سے۔تم نے بھگا دیا اسے ورنہ وہ. . . اساور نے خود کو بڑی گالی دینے سے روکا۔۔
اساور گھر پر کوئ نہیں ہے مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔وہ اس کی بات نظرانداز کر کے خوف سے بولی۔۔۔
کیوں باقی سب کہاں ہے۔۔اب کے اساور کا لہجہ تھوڑا نرم پڑا تھا۔۔
وہ بھابھی کی بہن کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے سب وہیں گۓ ہیں۔ابھی سومو کی کال آئ تھی کہ وہ کل آئیں گے۔۔
ٹھیک ہے آتا ہوں میں۔اساور نے گاڑی سٹارٹ کر کے سڑک پر ڈالی۔ماخول کے خاموشی میں گاڑی کی آواز نے ارتعاش پیدا کیا۔۔۔
پلیز اساور کال مت کاٹیں مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔اساور کا فون کان سے ہٹاتا ہاتھ رکا۔دانین واقعی ڈری ہوئ تھی۔اساور کا تھوڑے دیر پہلے کا سارا غصہ ہوا ہو گیا تھا۔۔
سعدی،امان بدلہ کچھ وقت کے لیئے سب اس کے دماغ سے محو ہو گیا تھا یاد تھا تو صرف یہ کہ دانین اکیلی ہے ڈری ہوئ ہے ۔اسے جلد سے جلد اس کے پاس پہنچنا ہے۔۔
فون کان سے ہی لگا ایک ہاتھ سے ریش ڈرائیو کرتا وہ گھر کی طرف جا رہا تھا۔۔
گاڑی دوڑاتا وہ گھر پہنچا۔ہارن پر چوکیدار نے جلدی سے گیٹ کھولا۔گاڑی اندر لا کر پورچ میں کھڑا کرتا وہ گاڑی سے اتر کر وہ گاڑی لاک کرنے لگا۔پھر کچھ سوچتے ہوۓ سیٹ پر پڑی بوتل اٹھا لی۔دکھنے میں ایک دم کولڈڈرنک کی بوتل لگتی تھی وہ۔بوتل پکڑے وہ اندر کی طرف بڑھا۔
صاحب صاحب۔۔چوکیدار کی آواز پر اس کے بڑھتے قدم رکے۔اس نے مڑ کر سوالیہ انداذ میں چوکیدار کی طرف دیکھا۔جو ہاتھ میں پیکٹ پکڑے اس کی طرف آ رہا تھا۔۔
صاحب یہ کورئیر والا دے گیا تھا۔گھر پر کوئ نہیں تھا تو میں اندر نہیں گیا۔آپ لے لو یہ۔۔چوکیدار پیکٹ اسے پکڑا کر واپس گیٹ کی طرف چلا گیا۔۔
اساور نے ناسمجھی سے لفافے کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔۔وہ کورئیر دانین کاظمی کے لیئے آیا تھا۔۔کچھ سوچتے ہوۓ اس نے پیکٹ کو کھولا۔۔
اندر ایک فائل تھی۔پیکٹ سے فائل نکالی تو ایک چھوٹا سا کاغذ کا ٹکڑا نیچے گِرا۔۔
فائل کو کو غور سے دیکھتے ہوۓ اس نے کاغذ کا ٹکڑا نیچے سے اٹھایا۔۔
فائل میں دانین کے ڈاکومینٹس تھے۔۔ساتھ رول نمبر بھی تھا۔اس کے فورتھ سمیسٹر کے پیپرز سٹارٹ ہونے والے تھے۔۔
فائل کو بند کرتے اس نے کاغذ کے ٹکڑے کو دیکھا۔جو فولڈ ہوا تھا۔اسے کھول کر وہ پڑھنے لگا۔جیسے جیسے وہ پڑھ رہا تھا۔اس کی سر کی رگیں تن گئیں تھیں۔چہرے پر سختی در آئ تھی۔۔وہ پل میں تولا پل میں ماشا شخص تھا۔
ہونٹوں کو سختی سے بھینچے وہ اندر بڑھا۔۔
جاری ہے۔۔
