60.7K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

فائل کو بند کرتے اس نے کاغذ کے ٹکڑے کو دیکھا۔جو فولڈ ہوا تھا۔اسے کھول کر وہ پڑھنے لگا۔جیسے جیسے وہ پڑھ رہا تھا۔اس کی سر کی رگیں تن گئیں تھیں۔چہرے پر سختی در آئ تھی۔۔وہ پل میں تولا پل میں ماشا شخص تھا۔
ہونٹوں کو سختی سے بھینچے وہ اندر بڑھا۔۔
سامنے صوفے پر ڈری سہمی سی دانین بیٹھی تھی۔اساور کو دیکھ کر اس کا ڈر ختم ہوا تھا۔وہ دوڑ کر اساور کے چوڑے سینے سے آ لگی۔
اگر اساور کو یہ انویلپ نہ مِلا ہوتا تو وہ خود سے لگی دانین کو خود میں سیمٹ لیتا۔
مگر اس وقت اس بددماغ شخص کا دماغ غصے کی آگ میں جل رہا تھا۔۔
اس نے جھٹکے سے دانین کو خود سے الگ کیا۔یوں ایک دم دھکا دینے پر وہ اپنا توازن قائم نہ رکھ پائ تھی اور لڑکھڑاتے ہوۓ صوفے کے پاس گِری تھی۔۔
آنسوؤں بھری آنکھیں اٹھا کر دانین نے اس شخص کو دیکھا جو تکلیف نہ دینے کا وعدہ کر کے اسے تکلیفوں کے سمندر میں پھینک دیتا تھا۔سامنے کھڑا شخص پتھر تھا پر وہ مخبت بھی نہیں تھا۔۔محبت نرم مزاج لوگوں کا شیوہ ہے پتھر دلوں کو زیب دیتی ہے نہ راس آتی ہے۔
یہ یہ کیا ہے۔۔ہاتھ میں پکڑی بوتل کو صوفے پر پھینکتا وہ فائل لے کر اس کی طرف بڑھا۔دانی جو اس کے آنے پر اپنے اندر سے ہر خوف کو مٹتا ہوا پا رہی تھی اب اس سے ہی شدید خوف محسوس کر رہی تھی۔۔
کک کیا ہے۔۔دانین دھیرے دھیرے پیچھے کو کھسکنے لگی مگر آج کوئ ایسی زمین نہ تھی جو اساور کاظمی سے بچاتی ہوئ دانین جمشید علی کے لیئے پھٹ پڑتی۔کوئ آسمان آج ایسا نہ تھا جو اساور کے عتاب سے دانین کو بچا پاتا۔۔
یہ پڑھو۔۔غصے سے کانپتی آواز کے ساتھ اساور نے کاغذ کا ٹکڑا اس کے ہاتھ میں تھمایا۔۔دانی نے جلدی سے اسے تھاما۔جیسے جیسے وہ تخریر پڑھ رہی تھی خوف کے مارے اس کی سانسیں بھی ختم ہو رہیں تھیں۔۔
وہ تم سے رابطے میں رہتا ہے ہر پل ہر گھڑی پھر کیوں تم مجھ سے جھوٹ بولتی ہو۔۔اساور کا شدید غصہ اس کے اونچے لہجے سے ظاہر ہو رہا تھا۔۔
وہ مم میں نے کہا تھا میرے ڈاکومینٹس لا دے وہ پیپرز ہونے والے ہیں۔۔
اوہ تو پیپرز کی تیاری کر رہے ہیں دونوں بہن بھائ۔کرئیر بنانا ہے گٹر کے کیڑوں نے۔۔اساور کا لہجہ انتہائ گھٹیا ہوتا جا رہا تھا۔دانی بس خیرت سے اسے دیکھ رہی تھی ہر پل اس پر اساور کا نیا وخشیانہ روپ آشکار ہوتا تھا جس سے وو پہلے انجان رہی تھی۔۔
ہماری زندگیوں سے سکون ختم کر کے اپنا کرئیر بنانا ہے تم خودغرضوں نے۔۔وہ دانین کے پاس ہوتے ہوۓ بولا تو وہ ڈر کر ایک دم پیچھے ہوئ تھی۔۔
صیخ صیخ بنے گا اب کرئیر تمہارا دانین جمشید علی۔۔طنزیہ مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ دانین کے ڈاکومینٹس اٹھاۓ وہ کچن کی طرف بڑھا ۔۔دانین ناسمجھی سے اسے جاتے ہوۓ دیکھتی رھی۔۔تھوڑی دیر بعد جب بات اس کی سمجھ میں آئ وہ دوڑتے ہوۓ کچن کی طرف بھاگی ۔
مگر یہ کیا۔۔؟! اس کی زندگی کے بیس سال اساور نے چولہے میں جھونک دیئے تھے۔جن سے آگ بھڑک رہی تھی۔
دانین کو لگا کسی نے اس کے دل کو جلا دیا ہو۔وہ بھاگ کر چولہے کے پاس پہنچی لیکن تب تک اس کی مخنت اس کا کرئیر اس کے خواب جل کر راکھ ہو چکے تھے۔۔
دانین کی سانسیں تھم گئیں تھیں۔اس نے صدمے سے اساور کو دیکھا جو ہونٹوں پر مسکراہٹ سجاۓ اس کی بےبسی اور اذیت کو انجواۓ کر رہا تھا۔۔
اس پل دانین کو اساور سے شدید نفرت محسوس ہوئ اتنی نفرت کہ اس کا دل چاہا اساور کا قتل کر دے جو محت کا قاتل تھا۔جو اس کے خوابوں کے ڈھیڑ کو جلا کر راکھ کر چکا تھا۔۔
خواب کریئیر زندگی کے اتنے سال سب برباد چچچ بہت افسوس ہوا۔۔اساور نے اس کی بہتی آنکھوں کو اور بہنے کے نۓ جواز دینے چاہے۔۔دانین نے ایک نظر راکھ پر ڈالی اور پھر دونوں مٹھیوں میں بھر کر اساور کے چہرے پر مل دی۔۔
اساور کا میٹر مذید گھوما۔وہ حیران ہوا تھا اس کی ہمت پر۔۔
یہ یہ ڈیزرو کرتے ہو تم مسٹر اساورکاظمی یہ راکھ ۔اور تم جیسے دوغلے انسان کی اوقات نہیں ہے خوابوں کو جلا دینے کی۔۔وہ پوری شدت سے چیخی تھی۔غصے سے اسکا پورا وجود کانپ رہا تھا۔اساور نے اسے کبھی اتنےغصے میں نہیں دیکھا تھا۔
جب خواب بےکسوں کی آنکھوں کے سامنے جلاۓ جائیں تو ہمت خود پیدا ہو جاتی ہے۔
میں محبت ڈیزرو نہیں کرتا تو تم کرتی ہو کبھی اپنےگریبان میں جھانکا ہے۔۔چہرے کو ایک ہاتھ سے صاف کرتے دوسرے ہاتھ سے زور سے اس کا بازو پکڑا۔۔
جھانکتی ہوں اور حیران ہوتی ہوں غلطیاں تو سب سے ہوتی ہیں مجھ سے ایسی کون سا گناہ ہو گیا تھا جس کی سزا میں تم ملے ۔وہ بھی اسی کے انداذ میں بولی تھی۔آنکھوں میں خوابوں کی راکھ آنسو لا رہی تھی۔۔
جان لے لوں گا میں تمہاری جو ایک لفظ بھی کہا تو۔۔دانین کے دوسرے بازوکو بھی اپنی گرفت میں لیتے وہ غرایا۔دانین کی تکلیف کے مارے سسکی نکلی۔۔
قصاص کے لیئے تیار رہنا۔۔آج دانی بےخوف تھی۔اس کے لہجے سے ڈر غائب تھا۔۔
شٹ اپ۔۔
یو شٹ اپ مسٹر اساور کاظمی۔۔
بہت زبان چل رہی ہے آج۔۔دونوں بازو ایک ہاتھ سے زور سے مڑوڑتے اس نے ایک ہاتھ سے دانین کا منہ دبوچ لیا۔۔بہت پٹر پٹر کرنے لگی ہو آج۔۔ایک جھٹکے سے اسے دھکا دیتا وہ کچن سے نِکل گیا۔۔وہ شیلف سے ٹکراتے ٹکراتے بچی تھی۔البتہ ہاتھ شیلف پر رکھے کٹر پر لگ گیا جسکی وجہ سے ہاتھ زخمی ہو گیا تھا۔۔
اساور غصے سے مٹھیاں بند کرتے لاؤنج میں صوفے پر آ بیٹھا تھا۔غصے کے مارے برا حال تھا اس کا۔ایک دم وہ اٹھ کر اِدھراُدھر کے چکر کاٹنے لگتا۔پھر ایک دم سے بیٹھ جاتا ۔۔۔
ابھی اس کی نظر صوفے پر پڑی بوتل پر گئ۔اس نے ایک دم بوتل اٹھائ۔جسے کچھ منٹ پہلے حرام جان کر چھوڑ دیا تھا اب اسے ہی ہاتھ میں پکڑے کچھ سوچ رہا تھا۔۔
بوتل کو ہاتھ میں لیتے اسے اپنے ٹیچر کے کہے الفاظ یاد آۓ۔۔
تو آج ہم بات کریں گے جگر اور اس کی بیماریوں پر اور یہ بیماریاں کیسے جنم لیتی ہیں وہ بھی جانیں گے۔۔۔ٹیچر نے سلام کے جواب کے بعد سبکو ٹاپک کا نام بتایا۔۔سب دلچسبی سے سر کو دیکھ رہے تھے۔
جگر کا سکڑنا یا اپنے قدرتی سائز سے چھوٹا ہو جانا یہ ایک نہایت خطرناک اور مہلک مرض ہے جو زیادہ تر شراب نوشی کے باعث پھیلتا ہے ۔ذیادہ تر یہ دوسرے ممالک کی بنسبت امریکہ اور یورپ میں بہت زیادہ ہوتا ہے ۔شراب نوشی کی وجہ سے جگر میں ریشہ دار مادہ پیدا ہو جاتا ہے جس سے جگر کے اصلی خلیے تباہ ہو جاتے ہیں اس کے ساتھ جگر میں چھوٹی چھوٹی یا بڑی بڑی گانٹھیں بننے لگتی ہیں یہ عمل جگر کی تمام حصوں میں پھیلا ہوا ہوتا ہے اور متواتر بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ جگر میں خون کا دباؤ بڑھ جاتا ہے اور جگر کی چربی گلنے لگتی ہے شروع میں تو جگر بڑھ جاتا ہے لیکن جب جگر کی چربی ختم ہو جاتی ہے اور گانٹھیں بڑھ جاتی ہیں تو وہ سکڑ کر چھوٹا ہو جاتا ہے اور کام کرنے کے قابل نہیں رہتا مریض نقاہت اور کمزوری کے باعث موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے اس بیماری کے دوران اور بھی پیچیدگیاں اور عارضے لاحق ہوجاتے ہیں مثلا پلورسی جریان خون جلندھر اور نمونیا وغیرہ__
ہاتھ میں پکڑی بوتل کو اس کے استاد کی آواز کھولنے سے روک رہی تھی۔مگر اس نے سر جھٹکا اور بوتل کھول دی۔
قرآن پاک میں اللہ کی طرف سے شراب نوشی کے بارے میں تین آیات کریمہ کا نزول فرمایا گیا ہے۔( تجھے پوچھتے ہیں شراب اور جوئے کے متعلق انہیں فرما دو کہ ان دونوں میں ہی بڑا گناہ ہے اور فائدے ہیں خلق کےواسطے)۔۔کہیں سے اس کے قاری کی آواز گونجی جن سے وہ قرآن پڑھتا تھا۔اساور نے چونک کر اردگرد دیکھا کوئ نہیں تھا۔یہ اس کے اندر کی آوازیں تھیں علم تھا جو اسے اسلام کے دائرے سے نہ نکلنے کی تلقین کر رہا تھا۔۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” اور بندہ جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔۔شراب حرام ہے۔
اس کی ماں کی آواز گونجی ۔منہ تک بوتل لے جاتے اس کے ہاتھ رکے مگر دوسرے ہی پل اس نے بوتل منہ سے لگا لی تھی۔
ذہن میں استاد،ماں،قاری سب کے پڑھاۓ جملے گردش کر رہے تھے مگر اس پل وہ سب کچھ فراموش کر دینا تھا۔کیونکہ وہ شدید غصے میں تھا۔
اسی لئیے تو غصے کو حرام کہا گیا ہے۔غصے میں انسان گر جاتا اپنے معیار سے ذات سے اور اسلام سے۔۔
غصہ نہایت خطرناک ہے اور اصل سمجھدار اور راسح مسلمان وہی ہے جو بروقت اس پر قابو پالیتا ہے۔۔
جبکہ غصے میں اپنا آپا کھو دینے والا اکثر سب کچھ کھو دیتا ہے۔۔
اس نے پہلے کبھی ڈرنک نہیں کی تھی اس لیئے اس پر نشہ جلدی اور بہت ذیادہ چڑھ گیا تھا۔۔
اپنے ہاتھ پر پٹی باندھتے آنسو پونجتے وہ کچن سے باہر آئ۔سامنے اساور لال آنکھوں، طنزیہ مسکراتے ہونٹوں، اور لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔
وہ حیرانی سے اس کی چال دیکھ رہی تھی۔ایسے لگ رہا تھا ٹانگوں میں چوٹ کے باعث ایسے چل رہا ہے۔۔
دانین کے پاس پہنچ کر اساور لڑکھڑایا۔دانین نے ایک دم دونوں ہاتھوں سے تھام کر اسےگرنے سے بچایا مگر اس کے پاس سے آتی بو پر دانین کی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں۔وہ ایک دم اساور سے دور ہوئ۔وہ توازن قائم نہ رکھ پایا اور اوندھے منہ زمین پر گِر گیا۔۔۔
مم میں گِر گیا مم مجج مجھے اٹھاؤ۔اساور کا لہجہ بھی اس کے قدموں کی طرح کانپ رہا تھا۔۔۔
گِر تو تم گۓ ہو اور کتنا گِرو گے اساور۔۔دانین حیرت اور بےیقینی سے اسے دیکھے جا رہی تھی۔۔
ہاہاہا یہی میں تمہیں کہنا چاہتا ہوں۔۔وہ طنز بھڑے انداذ میں ہنستا ہوا خود ہی اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
آج تم نے ساری حدیں پار کر دیں تم سے نفرت کرنے کا اک نیا جواز دے دیا تم نے مجھے۔۔
اور میں تم سے انتہائ نفرت کرتا ہوں سنا انتہائ نفرت۔۔وہ بھی بند ہوتی لال آنکھوں کے ساتھ غرایا۔۔
اور ایک بات تو بتاؤ سعدی کی اتنی طرف داری کیوں کرتی ہو۔لگتا کیا ہے وہ تمہارا۔۔اساور نے شکی انداذ میں اسے دیکھا۔۔
بھائ لگتا ہے وہ میرا۔۔
مجھے تو عاشق لگتا ہے۔۔
شٹ اپ اساور جسٹ شٹ اپ۔تم مینٹلی کتنے گِرے ہوۓ انسان ہو۔۔اساور کی بات پر دانین کا غصہ بڑھ گیا تھا۔۔
تمہاری ماں نے تو جنم نہیں دیا اسے نہ خون کا رشتہ ہے پھر بھائ نو نو مجھے دال میں کچھ کالا لگتا ہے۔۔
تم مر جاؤ اساور ایک گھٹیا انسان ہو تم رشتوں کو ان کی پاکیزگی کو نہیں سمجھتے تم کیونکہ تم انسان نہیں ہو تم وخشی درندے ہو تم۔۔ضبط سے مٹھیاں بھینچتی وہ بھاگ کرسومو کے کمرے میں آ گئ۔دروازہ لاک کرتے وہ دروازے کے سہارے بیٹھتی چلی گئ۔آنسو اس کی آنکھوں سے تیز بارش کی طرح برس رہے تھے۔۔
گھٹنوں پر سر رکھ کر وہ ہچکیوں کے ساتھ رو پڑی تھی۔۔
آج ساری حدیں تمام ہوئیں تھیں۔اس کے خواب اس کا کردار سب ملیا میٹ کر دیا تھا اساور نے۔۔۔


موم یہ ڈیڈ کو پاس کریں انہیں پسند ہے نا۔۔عینا اپنے والدین کے ساتھ ڈِنر کر رہی تھی۔۔اس کی ماں نے مسکراتے ہوۓ ڈونگا تھام کر سالن اپنے شوہر کی پلیٹ میں ڈالا۔۔
جیتی رہو میری بچی۔۔اس کے ڈیڈ مسکراۓ اور کھانا کھانے لگے۔۔
تبھی باہر زور زور سے ہارن کی آواز آئ پھر تیزی سے گاڑی پارک کی گئ جس کی وجہ سے گاڑی کے ٹائر چرچراۓ۔۔
عینا کی دھڑکن ہوا ہونے لگی۔یہ سب طوفان آنے کے پہلے کے چھوٹے موٹے ڈیمو تھے۔۔
دروازہ کھلا اور پینسل ہیل کی ٹک ٹک پورے لاؤنج میں گونجی۔وہ تیز تیز چلتے ڈائینگ روم میں پہنچی۔
عینا بہت گھبرا گئ تھے۔اس کے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے تھے۔عینا نے مددطلب نظروں سے ماں اور باپ کو دیکھا۔
جب جب وہ اس تیزی سے گھر میں داخل ہوتی تھی عینا کی شامت آتی تھی۔
ڈائینگ ٹیبل کے سامنے کھڑی وہ کھا جانے والی نظروں سے عینا کو دیکھ رہی تھی۔اور عینا بےبسی سے ماں باپ کو تکے جا رہی تھی جنہوں نے اپنی بڑی بیٹی کو اتنا سر چڑھا دیا تھا کہ اب وہ اس کے غصے سے ڈر جاتے تھے۔۔
مینو بیٹا کیا ہوا ہے۔۔اس کی ماں نے بےچارگی سے اس کا ہاتھ پکڑا۔۔
یہ آپ اپنی اس لاڈلی ماہرانی سے پوچھیں۔ماں کا ہاتھ جھٹکتے مینو نے زور سے عینا کی چیئر گھمائ عینا توازن برقرار نہ رکھتے ہوۓ اوندھی منہ مینو کے قدموں میں گِری تھی۔۔
مینا بس کرو جان لو گی اس کی۔۔عینا کے بابا وہیل چیئر کو دھکیلتے عینا کے پاس پہنچے۔عینا جلدی سے اٹھ کر ان کے پیچھے چھپ گئ۔
آپ مت بولیں بیچ میں ڈیڈ میں آج کوئ لخاظ کرنے کے موڈ میں نہیں ہوں۔۔
ہمارا لخاظ تم کرتی کب ہو۔اس کی ماں بھی عینا کے پاس جاکھڑی ہوئ ۔۔
لو بن گئ ٹولی۔واہ مجھے پرایا کر کے اس چھٹانک بھر کی لڑکی کو خود میں سیمٹ لیتے ہیں واہ واہ بہت خوب۔۔مینو نے طنزیہ انداذ میں زوردار تالی ماری تھی۔
بہن ہے تمہاری کیوں اس کے پیچھے پڑی رہتی ہو ہر وقت بخش دو اسے۔۔اسے کے باپ نے اپنے کانپتے ہاتھ مینو کے سامنے جوڑے تھے۔۔
اپنی اس لاڈلی کے کرتوت پتا ہیں آپ کو زمین سے پوری طرح اگی نہیں اور میڈم صاحبہ محبت کررہی ہیں۔مینا کے لہجے میں خقارت ہی خقارت تھی۔۔
یہ اس کی زندگی ہے اپنی مرضی سے جینے کا خق رکھتی ہے وہ تم کون ہوتی ہو انٹرفئیر کرنے والی۔۔اس کے باپ کا لہجہ بھی اونچا ہو گیا تھا۔۔
پھر تو میری زندگی بھی میری اپنی تھی مجھے محبت کرنے کا خق کیوں نہیں دیا گیا۔میں کیوں محبت سےمحروم ہوں۔۔مینا بھی چلائ تھی ۔ڈائینگ ٹیبل پر ہاتھ مار سارے برتن اِدھراُدھر پھینک دییئے تھے۔
ٹوٹی کانچ کے ٹکڑے لاؤنج میں بکھرے پڑے تھے۔۔
محبت خودعرض لوگوں پر کبھی مہربان نہیں ہوتی۔اپنے اندر سے تکبر ،خقارت،خودغرضی کو نکالو تب تم جانو محبت کیا ہے۔۔اس کی ماں نے آگے بڑھ کر اسے دونوں ہاتھوں سے تھام کر سمجھانے کی کوشش کی۔۔مگر اسنے ایک جھٹکے سے اپنے ہاتھ ان کے ہاتھوں سے چھڑاۓ تھے۔۔
میں خق نہیں رکھتی محبت پر تو کسی انسان کو محبت کرنے کا خق بھی نہیں دوں گی۔یہ بات سا سمجھ لو تو بہتر ہے۔۔انگلی اٹھا کر وارن کرتی وہ باپ کے پیچھے کھڑی عینا کی طرف بڑھی۔اسے بازو سے کھینچتی وہ کمرے کی طرف لے جانے لگی۔۔
ماں باپ کی لاکھ مزاحمت پر بھی اسے کوئ فرق نہیں پڑا تھا۔۔عینا کو کھینچ کر اس نے کمرے میں پھینک کر دروازہ لاک کر دیا۔۔
کسی نے اس عشق زادی کو یہاں کے نکالا تو نتائج کا ذمہ دار خود ہو گا۔۔چبا چبا کر کہتے دروازے کی چابی بیگ میں ڈالتی ٹک ٹک کرتی ہیل کے ساتھ اپنے کمرے کی طرف چلی گئ۔۔


اسلام علیکم۔اماں!! وہ گھر میں داخل ہوا تو اس کی اماں کچن میں کچھ بنانے میں مصروف تھی۔وہ آہستہ سے چلتا ہوا آیا اور پیچھے سے ان کی کمر میں ہاتھ ڈالا۔۔
سعدی میرا بچہ۔۔وہ خوشی سے پیچھے مڑیں۔سعدی کے ماتھے پر بھوسہ دیتے ان کے آنسو بہہ نکلے۔۔
اماں رو کیوں رہی ہیں جہاد سے تو آیا نہیں۔ان کے رونے پر پریشانی نے سعدی نے ان کے آنسو پونجے۔۔
سعدی کتنے مہینوں بعد دیکھا ہے تجھے میرا بچہ خوشی کے آنسو ہیں۔۔
افف اماں یہ أنسو آخر ہیں کیا چیز غم اور خوشی دونوں میں نِکل پڑتے ہیں۔آئ ڈونٹ انڈرسٹینڈ دِز تھیوری۔۔شرارت سے کہتا وہ انہیں ساتھ لیئے کچن سے باہر نکلا۔۔
یہ دانی نظر نہیں آ رہی۔۔
ہاسٹل میں ہے نا۔چھٹی نہیں ہوتی اسے اور تم بھی چلے جاتے ہو پیچھے مجھے اکیلا چھوڑ کر۔۔۔انہوں نے اپنا دکھڑا رویا۔۔
اماں کچھ پانے کے لیئے یہ سب تو سہنا پڑتا ہے جس دن میں اور دانی مشہور شخصیت بن جائیں گے تب آپ فخر کریں گی اس وقت پر۔۔
چل شودے۔اللہ تم دونوں کے خواب پورے کرے یہی دعا کرتی ہوں میں۔۔
اچھا یہ اماں بی کہاں ہے۔۔نظریں اِدھراُدھر دوڑاتے اس نے انہیں ڈھونڈنے کی کوشش کی۔۔
طبیعت خراب رہنے لگی ہے ان کی آرام کر رہی ہیں کمرے میں۔۔
او اچھا آپ جلدی سے کھانا بنائیں میں اماں بی سے مل کر دانی کو لینے جاؤں گا جتنے دن میں یہاں ہوں چھٹی تو کرنی پڑے گی اسے۔۔. . . . .
نہیں کرے گی بیٹا اپنی پڑھائ اور کرئیر کے لیئے بہت سیرئیس ہے وہ بھلے اور باتوں میں سیرئیس نہیں ہے. . . . .
میں لے آؤں گا اماں میری صلاحیتوں سے بھی آپ واقف نہیں۔۔انگلی سے ان کی ناک چھوتا وہ مسکراتا ہوا اماں بی کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔
اسے جاتا دیکھ کر وہ سرشاری سے مسکرا اٹھیں۔وہ خدا کا شکر ادا کرتیں تھیں کہ اتنی اچھی اولادیں ملی ہیں انہیں۔۔
مسکراتے ہوۓ وہ کچن میں چلی گئیں ابھی انہیں دانین اور سعدی دونوں کی پسند کے کھانے بنانے تھے۔۔


جاری ہے۔۔