60.6K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

سنگاپور میں صبخ کا سورج نکلا تو پاکستان سے آۓ مسافروں نے واپسی کی راہ لی ۔
لیکن وہاں بڑی خاموشی خاموشی تھی جسے اے۔کے نے نوٹ کیا تھا۔” سوٹ کیس دھکیلتا وہ ریسیپشن پر پہنچا جہاں اس کی سیکٹری اپنے سوٹ کیس کے ساتھ اس کا انتظار کر رہی تھی۔ سارے بل کلیئر ہو گۓ ہیں سر چلیں۔۔!! اس دیکھتے ہی سیکٹری نے کہا۔۔ حیاسدوانی اور اس کی سیکٹری کو بھی انفارم کر دو ان کی بھی فلائیٹ ہو گی۔۔موبائل چیک کرتا اے۔کے مصروف سے انداذ میں بولا۔۔ وہ دونوں تو رات میں ہی چلی گئ تھیں کہاں گئ ہیں یہ نہیں پتہ۔۔سیکٹری نے اسے آگاہ کیا۔۔ اوکے لیٹس گو“سوٹ کیس گھسیٹتا موبائل پر مسکراتے ہوۓ کچھ ٹائپ کرتا وہ ہوٹل کا گلاس ڈور کھولتا پارکنگ کی طرف بڑھ گیا۔۔جہاں سے گاڑی کے ذریعے ایئرپورٹ پہنچنا تھا اس نے۔۔


میٹنگ روم میں کھڑا وہ پراعتماد انداذ میں اپنی پڑیزینٹیشن دے رہا تھا۔
سب لوگ سانس روکے اکے سن رہے تھے۔،”!!!
تبھی اس کی نظر بار بار بھٹک کر موبائل پر چلی جاتی جو بار بار بلنک کر رہا تھا۔_ ایک گھنٹے بعد میٹنگ ختم ہوئ تو وہ اپنا موبائل فون لیئے پیون کو فائیلیں کیبن میں پہچانے کی تلقین کرتا اپنے آفس روم میں آ بیٹھا۔۔،” موبائل چیک کیا تو رخشندھ بھیگم اور سائرہ کی چالیس مِس کالز تھیں۔۔۔ اس نے فکرمندی سے جلدی جلدی سائرہ کا نمبر ملایا۔۔ جی بھابھی خیریت ہے۔۔ جی جی صیح میں آتا ہوں۔کال منقطع کرتا گاڑی کی چابیاں گلاسز پہنتے وہ آفس سے باہر نکلا۔۔ گاڑی سٹارٹ کر کے کاظمی خویلی کو جانے والے رستے پر بڑھا دی۔۔آدھے گھنٹے کی ریش ڈرائیو کرتے پہنچا تھا۔۔“: اس کی گاڑی کے ہارن پر چوکیدار نے گیٹ کھولا تو اس کی گاڑی دھول اڑاتی ایک جھٹکے سے رکی۔۔۔ گاڑی سے اترتا وہ تیزی سے اندر کی جانب بڑھا جہاں رخشندہ بھیگم آگ بنی بیٹھیں تھیں۔‘ کیا ہوا بھابھی اتنی جلدی میں بلایا آپ نے خیریت تو ہے۔“‘ اساور نے پریشانی رخشندہ بھیگم سے توچھا۔۔ تمہاری آوارہ بیوی نے میری بیٹی کو اتنا خودسر کر دیا ہے کہ باہر جاتے ہوۓ ماں سے پوچھنا تو دور بتانا بھی گوارہ نہیں کرتی۔۔“,رخشندہ بھیگم کا بس نہ چل رہا تھا کہ سامنے دانین ہو اور اس کا سر پھوڑ دیں۔۔ سومو کہیں گئ ہوئ ہے بھابھی۔“اساور ان کے آگ بھگولہ ہونے کی وجہ سمجھ نہ پا رہا تھا۔۔ آپ کی بیوی صاحبہ سیرسپاٹے کو ساتھ لے گئ ہے تین گھنٹے ہو گۓ واپس نہیں آئیں۔۔“پاؤں گھسیٹتی سائرہ صوفے پر بیٹھ گئ۔۔ کیا تین گھنٹے ہو گۓ ہیں آپ نے کال کی سومو کو۔” اساور بھی ایک دم پریشان ہو اٹھا۔۔ تبھی گاڑی کے ٹائروں کی چڑچڑاہٹ گونجی” کچھ پل بعد سومو اور دانین اندر داخل ہوئیں۔سومو اور دانین کے چہروں پر ایک دلکش مسکراہٹ تھی۔“‘ مل گئ آوارگی سے فرصت میری بیٹی کو بھی آوارہ کر دیا ہے تو نے آوارہ لڑکی۔“‘ رخشندہ بھیگم دیکھتے ہی شروع ہو گئ تھیں۔ ماما کیا ہو گیا ہے اتنی غلط باتیں کیوں کر رہی ہیں۔“‘ ۔سومو کو صدمہ ہوا تھا اس کی ماں کی زبان کتنی غلط ہو گئ تھی۔ دانین کی مسکراہٹ بھی سمٹ گئ تھی۔۔ کہاں تھی تم منع کیا تھا جب میں نے ایک قدم گھر سے باہر نہیں نکالو گی تو کیوں گئ تم۔۔”اساور غصے سے دانین کی طرف بڑھا تھا۔۔ تم باپ بننے والے ہو اساور۔” اس کا ہاتھ تھام کر دانین نے بہت مان اور مخبت سے کہا تھا۔“، اساور ساکت ہوا تھا پل بھر کو ہونٹ مسکراۓ اور پھر وہی معمول کی سنجیدگی۔” رحشندہ بھیگم کی تو مارے حیرت کے آنکھیں باہر نکل آئ تھیں۔” سائرہ ناگواری سے منہ بناتی تیزی سے ذہن میں کچھ تانے بانے بن رہی تھی۔“‘ سومو نے اپنے چچا کو دیکھا کہ باپ بن کر چنگیز خان پگھل جاۓ وہ کیا چیز تھا۔“‘۔ بکواس کر رہی ہے چاچو۔۔کچھ تانے بانے بنتی سائرہ کچھ فسادی سا سوچتے ہوۓ ایک دم بولی۔۔ آپی یہ رپورٹس گواہ ہیں۔“سومو نے رپورٹس دکھائیں۔۔ یہ پچہ سعدی کا ہے۔“‘ سائرہ نے سب کے سروں پر دھماکہ کیا تھا۔اساور تیزی سے پلٹا تھا سومو نے دکھ اور دانین نے صدمے سے اس کی طرف دیکھا۔۔ سائرہ زبان سنبھال کر سعدی بھائ ہے میرا۔“، دانین کی آنکھ سے آنسو نکلا تھا۔۔۔ سگا تو نہیں ھے نا جیسے وہ چاچو کا کزن ہے ویسے ہی تمہارا بھی کزن ہے۔“؛ سائرہ دل جلا رہی تھی اس کا۔۔ اور آپ خود بتائیں چاچو سعدی سے ملنے آپ سے چھپ کر نہیں جاتی رہی اور سوچیں اس کو سزا ہو جاۓ گی اس بات پر اس کے دل کو کیوں تکلیف ہو رہی ہے۔“‘ سائرہ ایک کے بعد ایک پتہ پھینک رہی تھی۔” اساور تم میرے اور سعدی کے رشتے کی پاکیزگی کے گواہ ہو تم کچھ بولتے کیوں نہیں۔” دانین نے اساور کے بازوؤں تھامے،دانین کی آنکھوں میں آس امید مان سب کچھ تھا۔” صیح تو کہہ رہی ھے سائرہ تمہارا کزن ھے وہ بھی اور کزن بھائ نہیں ہوتا “‘ دانین نے ایک دم اساور کے بازوؤں سے ہاتھ ہٹاۓ وہ ساکت سی اسے دیکھے جا رہی تھی آنسو سیلاب بن کر اس کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔“، کچھ تو خدا کا خوف کریں چاچو۔“، سومو نے باقائدہ ہاتھ جوڑے تھے۔۔ سومو تم جاؤ یہاں سے تم نہیں سمجھتی “،رخشندہ بھیگم نے غصے سے کہا۔۔ سب سمجھتی ہوں میں سب کچھ۔” آپ سب نے مجھ سے کیوں نہیں پوچھا میں سعدی کی اتنی طرفداری کیوں کرتی ہوں اس دن پی۔سی ہوٹل کال کر کے سعدی کو وہاں سے چلے جانے کا میں نے کیوں کہا تھا۔“سومو روتے ہوۓ چلّا رہی تھی۔اساور نے بےیقینی سے اسے دیکھا وہ تو سمجھا تھا یہ دانین نے کیا ہے۔“، سب نے دانین کو ہی کٹہرے میں کیوں کھڑا کیا مجھ سے سوالات کیوں نہیں کیئے گۓ ہاں ۔انصاف چاہیئے تو انصاف کرنا بھی سیکھو مگر افسوس امان بھائ کے علاوہ کاظمی خون میں مخلصی نہ دیکھی میں نے۔۔“، کہنا کیا چاہتی ہو تم سومو۔“،اساور نے اس کی طرف دیکھا۔۔ محبت کرتی ہوں میں سعدی سے اور اتنی محبت کہ وہ جو کہے میں آنکھیں بند کر کے مان لو اس طرح ٹکے ٹکے کے لوگوں کی باتوں پر کان نہ دھروں۔ میری محبت بچپن کی نہیں ہے کچھ سال ہی پرانی ھے مگر آپ کی برسوں پرانی کھوکھلی محبت سے بہت مظبوط ہے۔ سومو کے لہجہ آنسوؤں سے بھرایا مگر مظبوط تھا۔ سومو وہ قاتل ہے تمہارے بھائ کا۔۔سائرہ بھی چلّائ تھی۔۔ سنا نہیں اتنی محبت کرتی ہوں اس سے کہ ٹکے ٹکے کے لوگوں کی باتوں کو سیرئیس نہیں لیتی۔۔سومو نے خقارت سے سائرہ کی طرف دیکھا سائرہ کو تو گویا آگ ہی لگ گئ تھی۔۔ فِٹے منہ تیری اس محبت کا جو میرے بیٹے کے قاتل سے ھے تجھے رخشندہ بھیگم نے ایک زوردار تھپڑ سومو کو مارا وہ لڑکھڑا کر فرش پر گِری تھی۔۔ چاہے تمہیں اس سے محبت ہو سومو پر پھر بھی مجھ پر اس کا قتل فرض ہے اس کی سانسیں میرے ہاتھوں ہی حتم ہوں گی آئ سوئیر۔۔اساور سفاکی سے بولا۔ اور میں اسے بچا لوں گی آپ کی قسم اساور کاظمی ۔۔سومو نے زخمی مسکراہٹ کے ساتھ سارے لخاظ بالاۓ طاق رکھے۔۔ مرے ہوۓ سے اتنی محبت کہ زندوں کو جلا دیتے ہو واہ!! اساور کاظمی کمال کرتے ہو ۔۔سومو کو سہارا دے کر اٹھے دانین دکھی لہجے میں بولی۔۔ اسے چھوڑو بی بی اس گناہ کی پوٹلی کا کچھ کرو۔قاتل کے اولاد اس گھر میں نہیں پلّے گی۔” سائرہ اپنی بھراس نکال رہی تھی۔۔ اساور کی اولاد ہے یہ۔۔دانین تیزی سے بولی۔۔ نہیں ہے یہ اساور کی اولاد سمجھی تم۔۔:! رخشندہ بھیگم بھی اسی تیزی سے بولیں۔۔ آپ کو پتہ ہے اساور کے جانے کا کاظمی خویلی کو بہت نقصان ہوا ہے چچچچچ۔! دانین نے افسوس سے گردن ہِلائ۔ کاظمیوں کا ونچ آگے نہ بڑھ پاۓ گا کیوں کہ وہ اکیلا مرد تھا اس کے بعد تو کوئ مرد بچا نہیں اور نامردوں سے نسلیں نہیں چلتیں۔دانین نے جلا دینے والی مسکراہٹ اساور کی طرف اچھالی۔۔ دانین۔۔!! اساور نے تھپڑ مارنے کو ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ ہاتھ ہوا میں ہی رک گیا۔۔
انصاف چاہنے والو۔۔!! فار یوؤر کائینڈ انفارمیشن وومین وائیلینس از کرائم ۔ابھی پولیس کو بلا لوں گی تین چار ماہ کو اندر نام پیسہ شہرت سب پھر ٹائیں ٹائیں فِش ۔لوگ ہنسیں گے کہ دیکھو کیسا بندہ ہے دکھتا کچھ اور ہے اور ہے کچھ اور۔۔سومو نے اس کا ہاتھ پکڑ کر جھٹکا تھا۔۔اساور نے حیرانی سے اپنی لاڈلی کو دیکھا تھا۔۔
“_
چلو دانین۔۔!! دانین کا ہاتھ تھامے سومو کمرے میں چلی گئ۔۔
سائرہ کا تو غصے سے برا حال تھا سومو کے آج کے رویئے نے اساور کو تو صدمہ لگا دیا تھا۔۔
اور رخشندہ بھیگم سوچ رہی تھیں ایک قتل واجب ہوتا تو وہ دانین کا پتہ صاف کرتیں۔۔ ‘_


موم میں نے کہا بتائیں عینا کہاں ہے۔۔وہ جب سے لوٹی تھی عینا کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گئ تھی مگر وہ نہ ملی۔۔
بیٹا آپ کیوں انٹرفئیر کر رہی ہو اس کی لائیف میں اس نے جہاں جانا تھا چلی گئ بات ختم۔۔”اس کا باپ اسے سمجھاتے ہوۓ بولا مگر وہ سمجھنے والوں میں سے نہ تھی۔۔ جب میں نے کہا تھا اسے روم سے باہر مت نکالیئے گا تو کس نے نکالا۔۔اس کا غصہ شانت ہونے کو نہ تھا۔۔ میں نے نکالا اور بھگا دیا اسے آؤ مار دو اپنی ماں کو۔۔ اس کی ماں آنسو صاف کرتے بولیں۔۔ اِنف۔۔۔مینا نے ایک زوردار ٹھوکر صوفے کو ماری تھی پاؤں میں درد کی شدید لہر اٹھی مگر درد پر غصہ غالب آ گیا۔۔ بیٹا ٹھنڈے دماغ سے سوچو وہ بہن ہے تمہاری وہ اچھی زندگی اپنے شوہر کے ساتھ گزارے تو تمہے خوشی ہونی چاہیئے۔۔ باڑ میں گئ خوشی کسی سے بھی کرتی بس محبت کر کے شادی نہ کرتی تو بہت خوشی ہوتی مجھے لیکن لو میرج ماۓ فٹ۔۔وہ جنونی ہو رہی تھی۔۔ بیٹا بھول جاؤ وہ سب ختم کرو سب زندگی کو نۓ ڈنگ سے گزارو خوش رہو بیٹا۔۔ نۓ ڈنگ سے گزاروں اگنور کیئے جانے ریجیکٹ کیئے جانے کا دکھ سمجھتے ہیں آپ۔۔ میں سمجھتی ہوں یہ دکھ سولہ سال کی عمر میں سہا میں نے اس دکھ نے اس آگ نے میرے دل کو دہکتا لاوا بنایا ہوا ہے جس میں ہر محبت زدہ کو جدائ کا دکھ سہنا ہو گا میرے دل میں لگی آگ محبتوں کو بھسم کرے گی۔۔وہ ہسٹریانی انداذ میں چیخ رہی تھی۔۔ مجھے نہیں ملی محبت تو محبت کسی کو بھی راس نہ آنے دوں گی میں۔۔ بیٹا اس یک طرفہ محبت کے بوجھ سے خود کو آزاد کرو دیکھو دنیا خوبصورت ہے بہت۔۔۔ کیا کمی تھی مجھ میں جو مجھ سے محبت نہیں کی گئ اور کیا ہی خاص بات ہے عینا میں جو کوئ اس سے محبت کر بیٹھا۔۔ میں بھی تو خوبصورت ویل ایجوکیٹڈ ہوں پھر مجھے کیوں ٹھکرایا گیا میری کاسہ محبت کی بھیک سے کیوں محروم رکھا گیا۔۔وہ سر پکڑ کر صوفے پر ڈھے گئ تھی۔۔ مینا میری بچی محبت دلوں کا سودہ ہے زبردستی کا نہیں ۔اس شخص کے علاوہ اور بھی بہت سے لوگ ھیں دنیا میں تم اِدھر اُدھر دیکھو تو صیح ۔ اور میں نے اس شخص کے علاوہ کسی کو ایک نظر دیکھنا بھی تو نہیں چاہا۔وہ ایسا شخص تھا جو زندگی سے چلا تو گیا مگر اس کے بعد بھی مجھے کوئ اور نظر ہی نہیں آیا میں کبھی نہیں نکل سکتی اس شخص کی محبت سے۔ وہ شخص وہ تھا جس کی وجہ سے مجھے دنیا میں مردوں کی کمی لگتی تھی کہ ایک ھی مرد کے سوا میری آنکھوں نے کبھی کسی کو دیکھا ہی نہیں۔۔وہ بےبسی سے بول رہی تھی درد اس کے لہجے میں نمایاں تھا۔۔ اس کے ماں باپ اس کی تکلیف محسوس کر رہے تھے۔مگر وہ ایسا ہی دکھ جو بڑی بیٹی کو کھا رہا تھا چھوٹی کو نہیں دینا چاہتے تھے۔۔ چلیں ہمیں یہاں سے جانا ہو گا میں لوگوں کو فیس نہیں کر سکتی جلدی جلدی پیکنگ کریں۔۔وہ کہتی تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بھاگی تھی۔۔ _ آج پھر ایک بار انہیں اپنا گھر چھوڑ دینا تھا صرف اور صرف مینا کے لیئے۔۔


سعدی بیٹھا نوٹس بنا رہا تھا اگلے ہفتے سے ان کے ایگزام ہو رہے تھے۔
امان تو عینا کے ساتھ انجواۓ کر رہا تھا مگر سعدی ہمیشہ کی طرح محنت کر رہا تھا۔۔
امان اللہ لوگوں کا فیملی بزنس تھا جو کئیں دوسرے ممالک تک پھیلا ہوا تھا مگر سعدی کو محنت کر کے اپنے لیئے ایک مقام خاصل کرنا تھا۔۔
گریجوئیشن کے بعد وہ سی۔ایس۔ایس کرنا چاہتا تھا اس کے باپ کی یہ خواہش تھی جو سعدی پوری کرنا چاہتا تھا۔۔
ابھی بھی بیٹھا وہ ایگزام کی تیاری کر رہا تھا جب اس کا موبائل فون بجا۔۔
اس نےنمبر دیکھا تو unknown تھا۔۔
کندھے اچکاتے اس نے موبائل کان سے لگا۔ہاتھ تیزی سے کاپی پر چل رہے تھے جس پر بال پین سے وہ کچھ لکھ رہا تھا۔۔
کیوں تنگ کر رہے ہیں مجھے۔۔؟؟ معصوم سے لہجے میں سوال کیا گیا۔۔ “سعدی نے موبائل کان سے ہٹا کر حیرانی سے دیکھا کاپی پر لکھتا ہاتھ رکا تھا۔موبائل اس نے دوبارہ کان سے لگایا۔۔
میں نے کب تنگ کیا تمہیں۔۔وہ اس آواز کو لاکھوں میں پہچانتا تھا۔۔
آپ کر رہے ہیں مجھے تنگ۔۔سومو منہ پھلاۓ ایک ہی بات کیئے جا رہی تھی۔۔
اچھا کیسے تنگ کیا میں نے تمہیں۔۔وہ کرسی سے ٹیک لگا کر کاپی بند کرتا مسکرایا تھا۔۔
کتاب کھولتی ہوں تو اس میں آپ نظر آ رہے ہو۔ مِرر دیکھتی ہوں تو آپ دکھتے ہو سوتی ہوں تو آپ خواب میں آ جاتے ہو اسے تنگ کرنا ہی تو کہتے ہیں۔۔سومو کا معصوم منہ پھولا ہوا تھا جیسے وہ بےبس ہو کر فون کر بیٹھی ہو۔۔
اسے محبت کا آشکار ہونا کہتے ہیں جو تم پر ہو رہی ہے۔۔سعدی ہولے سے بولا۔۔
کیا مم محبت۔۔وہ ہکلائ تھی شائد گھبرائ تھی یا شرمائ تھی سعدی انداذہ نہ لگا پایا تھا۔۔
ہاں محبت کا نزول ہو رہا ہے تم پر چاہے آہستہ آہستہ ہی سہی ۔اور مقدس چیزیں آہستہ آہستہ نازل ہوتی ہیں۔۔سومو کی طرف حاموشی چھا گئ تھی۔۔
سومو سن رہی ہو۔۔!! اس کی خاموشی وہ محسوس کر رہا تھا۔۔
تو آپ کہہ رہے ہیں مجھے آپ سے محبت ہو گئ ہے۔۔_؟؟ یہ تو تم بتاؤ گی نا۔۔بتاؤ ہو گئ ہے۔۔ وہ سائرہ آپا اِدھر ہی مجھے آوازیں دیتی آ رہی ہیں سعدی میں آپ سے بعد میں بات کرتی ہوں۔۔سومو نے عجلت میں فون کاٹ دیا۔۔
سعدی کتنی دیر تک فون کو تکتا اس کی آخری بات کو سوچتا رہا تھا آج وہ نہ کہتے ہوۓ بھی کہہ گئ تھی۔
سعدی بھائ کی جگہ صرف سعدی کہا گیا تھا محبت اثر دکھا رہی تھی۔۔


جاری ہے۔