No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
تمہارے پاس ہونے سے
تمہارے پاس ہونے سے
میری دھڑکن میں یہ کیسی
عجب سی انتشاری ہے
عجب سی روح میں بیچینیاں ہیں
جانے کیوں ہر دم
تمہارے پاس ہونے سے
میرے لب
مسکراتے ہیں
یہ آنکھیں بولتی ہیں کیوں
صدا دھڑکن کی مجھ کو کیوں
عجب بے ربط لگتی ہے
تمہارے پاس ہونے سے
محبت جاگ اٹھتی ہے
رات کا اندھیرا غائب ہوا تو سورج نے اپنی کرنیں پھیلائیں۔صبح کی روشنی چار سو پھیل گئ۔۔سائیڈ ٹیبل پر پڑا الارم بجا تو اساور آنکھیں ملتے ہوۓ اٹھنے لگا تھا کہ نظر بازو پر سر رکھ کر سوئ دانین پر پڑی۔ہونٹوں پر بےاختیار ایک مسکراہٹ دور گئ۔نرمی سے دانین کے پٹی ہوۓ سر کو اپنے بازو سے ہٹا کر تکیہ پر رکھا۔
نظریں ٹھہر گئ تھیں اس پر وہ سوتے ہوۓ بہت اچھی لگتی ہے اتنے عرصے میں اس نے غور ہی نہیں کیا تھا۔
ٹائم دیکھتا وہ مسکراتا ہوا واش روم میں گھس گیا۔تھوڑی دیر نہا کر نکلا۔گیلے بالوں کو ٹاول سے سکھاتا وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑا تھا۔
شادی کے بعد آج پہلی بار وہ ہلکا پھلکا ہوا تھا آج اس کے دل میں نفرت بدلہ بغص کچھ بھی نہ تھا۔۔۔اور شادی کے بعد آج پہلی بار تھا اس نے دانین کو وخشیانہ انداذ میں نہیں اٹھایا تھا۔۔
آفس کے لیئے وہ تیار ہو چکا تھا۔جاتے جاتے وہ واپس پلٹا اور سوئ ہوئ دانین کے سائیڈ پر بیٹھ گیا۔۔
وہ شرمندہ تھا اس نے کیوں اتنا برا سلوک کیا اس کے ساتھ۔قصور اس کا توکچھ بھی نہ تھا۔۔
ہاتھ بڑھا کر چہرے پر پڑی اس کے بالوں کی لِٹ کو پیچھے کیا۔۔نظریں دانین پر ٹِکی ہوئ تھیں۔۔
کمرے کا سکوت موبائل کی رِنگ ٹون نے توڑا ۔اساور نے دانین سے نظریں ہٹا کر پاکٹ سے موبائل نکالا مگر اس کے موبائل پر کوئ کال نہیں تھی۔
اس نے خیرانی سے اِدھراُدھر دیکھا تو آواز ڈریسنگ کے دراذ سے آ رہی تھی۔۔وہ خیرانی سے ڈریسنگ کی طرف بڑھا۔۔دراز کھول کر موبائل نکالا ۔۔ موبائل کی سکرین پر سعدی کالنگ لکھا آرہا تھا۔۔اساور کے چہرے کے تاثرات پتھر ہوۓ۔لب بھینچتے ہوۓ اس نے کال پِک کر کے موبائل کان سے لگایا۔
ہیلو دانی میری بات سنو بہت ضروری بات کرنی ہے مجھے تم سے۔فوراً پی سی ہوٹل پہنچو جہاں ہم پچھلی بار ملے تھے ۔کال پِک ہوتے سعدی بغیر یہ جانے کے سامنے کون ھے تیزی سے بولتا چلا گیا۔
سعدی کی آخری بات پر اساور نے غصے بھری نظروں سے سوئ ہوئ دانین کو دیکھا۔
تھوڑے دیر پہلے کی مسکراہٹ محبت سب کافور ہوئ۔ہاتھ میں پکڑا دانین کا موبائل زور سے دیوار پر دے مارا۔
آواز سن کر دانین ڈر کر اٹھ بیٹھی تھی اور ناسمجھی سے غصے سے لال پیلے ہوتے اساور کو دیکھ رہی تھی۔
تمہیں پتہ تھا کہ سعدی کہاں ہے۔۔اساور غرایا۔
نن نہیں مم مجھے تت تو نہیں پتہ۔دانین اٹک اٹک کر بولی۔
تمہیں پتہ تھا وہ کہاں ہے پھر بھی میں نے سارے جہاں کی خاک چھانی ہے اسے ڈھونڈنے کو ۔۔اب کی بار اساور زور سے چلایا تھا۔کھینچ کر گلے سے ٹائ کو نکال کر صوفے پر اچھال دیا۔
تو کیا کرتی تمہیں بتاتی کہ جاؤ مار دو میرے بھائ کو۔۔دانین سہمی سہمی سی بولی۔۔
تم میری آنکھوں میں دھول جھونکتی رہی تم مل کر بھی آئ ہو اسے پی سی ہوٹل میں۔۔وہ غصے سے دانی کی طرف بڑھا ۔دانین کے کھلے بالوں کو اپنے ہاتھ کی مٹھی میں جھکڑا۔۔دانی کے سر میں درد کی شدید ٹیس اٹھی۔۔
اساور بخش دو اسے وہ بےچارا اپنی بےگناہی کے ثبوت ڈھونڈنے کو در در بھٹک رہا ہے میرا بھائ ہے وہ بخش دو اسے۔۔بےبسی سے کہتے ہوۓ دانین کی ہلکی سی سسکی نکلی مگر سامنے والے کو کوئ پرواہ نہیں تھی۔
نہیں ہے وہ بےگناہ اور اسے بخش دیا جاۓ اس لیئے کہ وہ تمہارا بھائ ہے جسے اس کمینے نے مارا تھا وہ نہیں تھا بھائ کسی کا اس سے کوئ پیار نہیں کرتا تھا کیا۔؟ہمارا امان تھا وہ دل کا ٹکڑا تھا وہ ہمارے۔۔اساور نے اس کے بالوں پر گرفت بڑھا دی ۔دانین درد کے مارے بےخال ہو رہی تھی۔۔
دانین کو زخم دے کر پھر انہیں زخموں کو ناسور کرنے والا اساور کاظمی تھا وہ۔۔
اساور مجھے درد ہو رہا ہے۔۔درد سے بےخال وہ ہچکیوں کے درمیان بولی۔۔
درد تمہارا درد مائ فُٹ۔۔بےدردی سے اسے دھکیل کر وہ الماری کی طرف بڑھا۔
آج امان کا قاتل مرے گا جس پی سی ہوٹل میں اپنی زندگی بچانے کی پلاننگ کرتا ہے اسی ہوٹل سے اس کی لاش نکلے گی۔الماری سے پسٹل نکالے وہ دروازے کی طرف بڑھا۔۔
نن نہیں اساور نہیں۔۔دانین نے بھاگ کر اس کا راستہ روکا ۔
دانین ہٹو میرے راستے سے. ۔۔وہ چلایا ۔
میں آئ ہوں نا قصاص میں ۔بدلے میں لاۓ ہو مجھے تم نا جو کرنا ہے مجھے کرو ۔مم مجھے مار دو۔۔دانین نے اس کے ہاتھ میں پکڑی پسٹل کا رخ اپنی طرف کیا۔۔جسے اساور نے کھینچ کر پیچھے کر دیا۔۔
مجھے مارو اپنے اندر جلتے اس بدلے کے الاؤ کو ٹھنڈا کرو مگر تمہیں رب کا واسطہ ہے سعدی کو بخش دو۔۔وہ اس کے قدموں میں بیٹھتی چلی گئ۔۔
مجھ پر اب نہ واسطے اثر کرتے ہیں نا تمہارے یہ آنسؤ۔مجھے فرق پڑتا ہے تو اس چیز سے کہ میرے امان کا قاتل ابھی تک زندہ کیوں ہے۔۔پاؤں کی ٹھوکر سے اساور نے اسے دھکیلا۔اور ہاں آنسو بچاؤ بھائ کی میت پر کام آئیں گے تمہارے۔۔جلا دینے والی مسکراہٹ کے ساتھ کہتا وہ باہر نکل گیا۔
دانین کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے کیسے بچاۓ وہ اپنے بھائ کو۔۔وہ خود کو بہت بےبس محسوس کر رہی تھی۔۔
اسے کچھ نہیں سوجھ رہا تھا۔گھٹنوں پر سر رکھ کر وہ بےبسی سے روتی چلی گئ۔۔
زلفیں وہ نرم رات سی بکھری ہیں ناز سے
اور رات میں ستارے نگہ دلنواز کے
تاروں کے آس پاس ہیں چندا سے گال دو
چندا کے درمیان وہ نقطے سے خال دو
اور گال کے کنارے گلابی گلاب سے
دو ہونٹ تو نہیں ہیں، یہ پیالے شراب کے
اور ہونٹ یوں پیوستہ، زمین و فلک ملے
ہونٹوں کے بیچ گویا ہیں چمپا کے گل کھلے
مسکان سے چمن میں بھی پھولوں کے رس پڑے
چھو لے اگر یہ ہونٹ تو شبنم بھی ہنس پڑے
تعریف کیا بیان ہو قامت کی چال کی
موسم بہار چلتی ہوا ہے شمال کی
کیسی کلائی اس کی، چنبیلی کی ڈال سی
کیسی تپش ہے سانس میں، سردی میں شال سی
پیکر کا رنگ ایسا کہ ابٹن میں دودھ ہے
اور اس کی ہر طرف میں سلگتا سا عود ہے
نازک کمر کے خم سے ہواؤں میں بل پڑے
پاؤں کے چومنے کو تو پتھر بھی چل پڑے
سینے کی دھڑکنوں سے طلاطم فضا میں ہے
صندل مثال مہکا تنفس ہوا میں ہے
پلکوں کے زیر وبم سے نظاروں میں نور ہے
دیکھیں اگر وہ آنکھیں تو بڑھتا سرور ہے
ہر پرت کھل چکی ہے یوں پیکر جمال کی
تجسیم ہو رہی ہے وہ صورت خیال کی
اماں کیوں نہیں بتا رہیں آپ مجھے میرا دل بیٹھا جا رہا ہے اماں۔۔ڈی۔جے ہوسٹل میں تھی جب بسے اے۔کے کے ایکسیڈنٹ کی خبر ملی۔تب سے وہ روۓ چلی جا رہی تھی۔۔
بیٹا وہ ٹھیک ہے تھوڑی سی چوٹ آئ ہے اسے بس۔۔راشدہ بھیگم نے اسے تسلی دی۔۔
اماں ٹھیک ہے تو بات کروائیں میری اس سے۔۔ڈی۔جے بضد تھی جب تک اس سے بات نہیں ہوتی وہ روۓ چلی جاۓ گی.
ڈی۔جے پتر ہر بات میں ضد نہیں کرتے وہ دوائیوں کے زیرِاثر ہے ۔آپ کی بچگانہ بات مان کر میں اس کی طبیعت خراب کر دوں کیا۔۔؟؟اس بار راشدہ بھیگم نے ذرا غصے سے کہا۔۔
اماں غصہ کیوں کر رہی ہیں۔۔
غصہ نہیں کر رہی میرا بچہ بس کچھ باتیں آپ سمجھتے ہوۓ بھی نہیں سمجھتیں۔آپ بڑی ہو گئ ہو اب بڑوں کی طرح ری ایکٹ کرنا سیکھو۔۔راشدہ بھیگم نے محبت سے اسے سمجھایا اب۔۔
اماں وہ جاگے تو میری بات کروائیں گی نا۔۔ڈی۔جے نے بچوں کی طرح منہ بنا کر کہا۔۔
ہاں میرا بیٹا ابھی آپ پڑھو وہ جاگتا ہے تو بات کرواتی ہوں ۔۔اس کے بچگانہ لہجے پر راشدہ بھیگم مسکرا کر رہ گئیں۔۔
اللہ خافظ اماں۔۔ڈی۔جے نے موبائل ٹیبل پر رکھا اور پھر سے زور زور سے رونے لگ گئ۔اب جب تک وہ اے۔کے سے مل نہ لیتی بات نہ کر لیتی اسے سکون نہیں ملنا تھا۔۔
ایکسیڈنٹ کے بعد وہاں کے مقامی لوگوں نے انہیں ہسپتال پہنچایا۔۔ایکسیڈنٹ شدید تھا مگر معجزاتی طور پر حیا اور اے۔کے کو ذیادہ چوٹیں نہیں آئیں تھیں۔۔
سر پر چوٹ کے باعث وہ دونوں بےہوش ہو گۓ تھے۔۔
حیا سدوانی کو ڈسچارج کیا جا چکا تھا جبکہ اے۔کے ابھی تک ہسپتال میں ہی تھا۔معمولی سا ہاتھ کا فریکچر تھا۔جس کا علاج ہو رہا تھا۔۔
شام تک اسے بھی ڈسچارج کیا جا چکا تھا۔
آپی دھیان سے گاڑی ڈرائیو کرنی چاہیئے تھی آپ کو دیکھیں کتنی چوٹیں لگوا لیں آپ نے۔۔حیا کی چھوٹی بہن فکرمندی سے بولی۔۔
او پلیز تم چھوٹی ہو تو چھوٹی رھو ماں مت بنو میں ہر شے کو سمجھتی ہوں تم مت سمجھاؤ مجھے۔۔حیا بیڈ پر لیٹتے ہوۓ نخوت سے بولی۔۔
آپی مجھے فکر تھی آپ کی۔۔اس کا لہجہ بھرا گیا تھا۔۔
مجھے ضرورت نہیں ہے تمھاری فکر کی اور تنگ مت کرو دفعہ ہو جاؤ یہاں سے۔۔حیا نے تیز لہجے میں کہا تو وہ بےچاری آنکھوں سے بہتے آنسووں کو صاف کرتی کمرے سے نکل گئ۔۔
وہ حیا سدوانی تھی اپنے سامنے کسی کو ٹِکنے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔تکبر فخر کا ملاپ تھی وہ۔۔
خود سے ہر شخص کو کمتر سمجھا اس نے۔
صرف ایک اے۔کے تھا جس کے سامنے وہ اپنی سیلف ریسپیکٹ تک کو داؤ پر لگا سکتی تھی۔
اے۔کے بقول اس کے محبت تھا اس کی شدید جنوں دیوانگی سے بھی بڑھتی ہوئ محبت. ۔
مگر وہ کسی اور کو چاہے یہ وہ برداشت نہیں کر سکتی تھی تبھی تو خود کو اور اس کو زخمی کر پیٹھی تھی. .
تم میرے ہو اے۔کے صرف میرے تمہیں خاصل کرنے کے لیئے سب کچھ کروں گی سب کچھ۔چاہے مر جاؤں یا مار دوں۔۔وہ خطرناک ارداوں کے ساتھ مسکرائ۔۔
جس سے بات کرتے تمہارے چہرے سے مسکراہٹ غائب نہیں ہوتی اسے ذھونڈوں گی اور پھر تمہاری زندگی سے بہت دور بھیج دوں گی۔۔وہ خودکلامی کرنے لگی۔۔
آنکھوں میں اے۔کے کے لیئے شدت اور دیوانگی صاف دِکھ رہی تھی وہ دیوانگی جو خطرناک سے بھی خطرناک ہوتی ہے۔۔
مسکراتے ہوۓ اس نے سر بیڈ سے ٹِکا کر آنکھیں موند لیں۔۔۔
سومو سومو۔۔وہ گِرتے پڑتے سومو کے روم تک پہنچی۔۔رات بھر کی جاگی سومو اس کے اس طرح ہلانے پر ہربڑا کر اٹھ بیٹھی. ۔
چچی کیا ہوا آپ اتنا گبھرائ ہوئ کیوں ہیں۔۔دانین کو اس حال میں دیکھ کر وہ بھی ڈر گئ تھی۔۔
سومو وہ اسے مار دے گا۔۔دانین خواس باختہ سی بولی۔۔
کون کسے مار دے گا۔۔سومو ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔۔
مجھے اسے بتانا ہو گا۔۔
چچی آپ پہلے پانی پئیں ریلیکس ہوں پھر بتائیں۔۔سومو نے پانی کا گلاس بسے پکڑایا جسے وہ ایک ہی سانس میں پی گئ۔۔
اب بتائیں کیا ہوا ۔شب خوابی کے لباس میں ملبوس سومو نے گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور دانین کے برابر میں بیٹھ گئ۔۔
سعدی پی سی ہوٹل میں ہے۔اس نے مجھے بلایا تھا ملنے شاید ۔فون اساور نے اٹھایا ہے۔۔آنسو پونجتی وہ بولی۔ہچکیاں اب بھی جاری تھیں۔۔
پھر ۔
اساور کو پتہ چل گیا سعدی وہاں ہے۔۔
اوہ میرے خدایا پھر۔۔سومو کو لگا اس کا دل بند ہو جاۓ گا۔۔سر ہاتھوں میں گِرا کر بےبسی سے وہ دانین کو سننے لگی۔۔
اساور پسٹل لے کر گیا ہے۔کہہ رہا تھا آج پی سی ہوٹل سے لاش نکلے گی سعدی کی۔سعدی زندہ نہیں نکلے گا۔۔
واٹ ہمیں سعدی کو انفارم کرنا ہوگا اس سے پہلے کے چکس پہنچ جائیں وہاں۔۔سومو نے تیزی سے موبائل نکالا اور سعدی کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔۔مگر موبائل بند آ رہا تھا۔۔
دانین کے آنسوؤں نے گردن تک بسے بھگو دیا تھا۔۔سومو کے ہاتھ کانپ رہے تھے ماتھے پر گھبراہٹ کے مارے پسینے کے ننھے قطرے چمک رہے تھے۔۔۔
کیا ہوا سومو۔۔
فون بند آ رہا ہے اس کا۔۔
کہیں اساور پہنچ تو نہیں گیا۔۔دانین نے اپنا ڈر ظاہر کیا۔۔
ننن نہیں چچی اچھا اچھا بولیں۔۔میں ریسیپشن پر کال لگاتی ہوں۔سومو جلدی سے ہوٹل کا نمبر ملانے لگی۔۔
دو تین گھنٹیوں کے بعد فون ریسیو کر لیا گیا۔۔
اسلام علیکم۔۔؛!!
جی وہاں کوئ سعدی رانا آئے ہیں۔۔سومو پرامید تھی وہ سعدی کو بچا لے گی۔۔
کیا۔۔۔؟؟
جاری ہے۔۔۔
