No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
اک جذبہ چاہت کا
من میں میرے جاگا ہے
چھوڑ کر دل کی دھڑکن حالی
جب دل لے کے وہ بھاگا ہے. .
میں بیٹھا تھا سوچوں میں گم
زور پہ اس دن بارش تھی
سارے موسم کھل اٹھے تھے
دور کہیں اک سازش تھی
تب جو تم سے پیار ہوا تھا
کیا فرمانا وہ عجب تھا
جب یہ پوچھا نام بتا دو
دل دیا ہے جاں بھی دیں گے
گر یہ احساں تم جتا دو. . . .
میں نے پوچھا کیسے جانا
اس کا کہنا دل نے مانا
خلق پر تیرے مر مٹے ہم
اب نہ کرنا کوئ بہانہ. . .
سوال ہوا اب منزل کا
جواب ملا بہت قریب
رہتے ہیں ہم سانسوں میں
موبائل کی میسج ٹون بجی تو کتابوں میں سر دیئے بیٹھی ڈی۔جے
چونکی. . . . کل ہی وہ ہاسٹل واپس آ گئ تھی۔۔وہ اور آنیہ کل کے ٹیسٹ کی تیاری میں مصروف تھیں۔۔۔ڈی۔جے نے فون اٹھا کر دیکھا سامنے اے۔کے کا نام جھگمگا رہا تھا۔۔۔اک مسکراہٹ بےاختیار اس کے ہونٹوں پر رقص کرنے لگی۔۔
آنیہ نے سر اٹھا کر مسکراتے ہونٹوں اور چمکتی آنکھوں کے ساتھ اسے میسج پڑھتے دیکھا۔۔۔
خیر ہے کیوں مسکایا جا رہا ہے۔۔۔پین کان کے پیچھے لگاتی آنیہ نے اسے چھیڑا۔۔۔
اے۔کے نے نظم بھیجی ہے۔۔۔وہ ہلکا سا شرمائ۔۔آنیہ کی ہنسی چھوٹ گئ۔۔۔
کیا ہے۔۔۔ڈی۔جے چڑ گئ۔۔۔
یار شرما کیسے رہی ہو تم ۔۔۔۔
دفعہ ہو۔۔۔۔انیہ کو دھکیلتی وہ موبائل لے کر بیڈ پر بیٹھ گئ۔۔
ویسے یار رشک آتا ہے تجھ پر اتنا مخبت کرنے والا اوپر سے ڈیشنگ بندہ واہ یار۔۔۔آنیہ نے کھلے دل سے تعریف کی۔۔ڈی۔جے مسکرا دی۔۔واقعی اس نے اپنے آپ کو بہت خوش قسمت تصور کیا۔۔۔
چل تو پڑھ میں بزی ہوں ابھی۔۔۔موبائل کان سے لگاتی ڈی۔جے نے آنکھ دبا کر کہا۔۔آنیہ دوبارہ کتابوں میں گھس گئ۔۔
ڈی۔جے مسکراتی ہوئ فون پر بات کرنے میں مصروف تھی۔۔
ریش ڈرائیو کرتی سومو دانین کو لے کر ہسپتال پہنچی۔۔ڈاکٹر سومو کی دوست کی بہن تھی تو ان کو آسانی سے اپائمنٹ مل گئ۔۔۔
سر پر چوٹ کیسے لگی آپ کے۔۔۔ڈاکٹر اس کا معائنہ کرنے کے بعد اب سر پر پٹی کر رہی تھی۔۔۔
واش روم میں گِر گئ تھی۔۔۔دانین نے جھوٹ بولا۔۔آنکھیں جھکی ہوئ تھیں۔۔۔
تو آپ کو اختیاظ کرنی چاہیئے مس کاظمی۔۔پاؤں بھی زخمی کیا ہوا ہے ہاتھ بھی جلایا ہوا ہے۔۔۔ڈاکٹر اچھی خاصی بھرکی تھی اس پر بھلا ایسی بےپرواہی کون کرتا ہے۔۔۔
تھوڑی بےپرواہ سی ہوں تو لگ گئ۔۔آئندہ خیال رکھوں گی۔۔۔نظریں ابھی تک جھکی ہوئ تھیں جیسے کچھ ڈھونڈ رہی ہوں۔۔۔۔
پٹی کر دی ہے میں نے آپ کی۔۔کچھ دوائیاں لکھ رہی ہوں لے لینا آپ۔۔پریسکریپشن ڈاکٹر نے سومو کی طرف بڑھایا۔۔جسے سومو نے ہاتھ بڑھا کر پکڑ لیا۔۔۔۔
خدیجہ آپی اور تو کوئ مسئلہ نہیں ہے ناں۔۔۔سومو پریشان تھی۔کتنے کیسز ایسے دیکھے تھے اس نے جب چوٹیں بِگڑ کر ناسور بن جاتی ہیں۔۔۔۔۔
نہیں یہ ٹھیک ہو جائیں گی۔۔۔ڈاکٹر خدیجہ نے مسکرا کر جواب دیا۔۔
ٹھیک ہے ہم چلتے ہیں ڈاکٹر۔۔خداخافظ کہتیں وہ دونوں دروازے تک پہنچیں. . جب ڈاکٹر کی آواز سنائ دی۔۔۔
سومو۔۔۔
جی خدیجہ آپی۔۔۔سومو پلٹی۔۔۔
جب تک ان کے زخم ٹھیک نہیں ہو جاتے ان کو گھر کا کوئ کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ڈاکٹر نے ہدایات دیں۔۔۔
شیور۔۔۔سومو نے کہا اور دانین کو لے کر ہسپتال سے نکل آئ۔۔۔۔
رات ہونے کو تھی اور دانین اور سومو کا کچھ اتا پتہ نہیں تھا۔۔۔
کہاں ہوتی ہیں آپ بھابھی اور تم سائرہ روک نہیں سکتی تھی سومو کو۔۔۔۔اساور غصے میں اِدھراُدھر چکر کاٹتا پھر رہا تھا۔۔۔
میں کمرے میں تھی چاچو اور سومو کا پتہ ہے آپ کو کتنی ضدی ہے کسی کی نہیں سنتی۔۔۔سائرہ نے اپنی صفائ پیش کی۔۔اساور کے سامنے اس کی بھی بولتی بند ہو جاتی تھی۔۔۔۔
اور بھابھی آپ. . . . اس کی بات منہ میں ہی رہ گئ. . نظر دروازے پر پڑی۔۔جہاں سے سومو لنگڑا کر چلتی دانین کو سہارا دے کر لا رہی تھی۔۔ان کے ساتھ اک درمیانی عمر کی عورت بھی تھی جو اماں بی کی بیٹی تھی۔. . ۔۔۔
سومو کیا طریقہ ہے یہ بیٹا ہم یہاں پریشان ہو رہے ہیں اور آپ نے بتانا بھی گوارا نہیں کیا۔۔۔اک نظر دانین پر ڈال کر وہ سومو کی طرف مڑا۔۔۔۔۔
دانین آپی کو ہسپتال لے کر گئ تھی۔۔۔اس نے چچی کی جگہ آپی کہا جو وہ پہلے کہا کرتی تھی۔۔پھر اساور سے شادی کے بعد چچی کہنے لگی تھی۔۔۔
کیوں اس ماہرانی کو کیا ہوا ہے۔۔۔سائرہ نے سر تا پیر اس کا جائزہ لیا۔۔وہ سہم گئ۔۔۔
کل آپ کو بھی لے چلوں گی آنکھوں کے ڈاکٹر کے پاس سائرہ آپی۔۔دکھ نہیں رہا کتنی چوٹیں آئ ہیں۔۔۔سومو نے دوبدو جواب دیا ۔ ۔۔اس کی بات پر اساور نے دانین کو دیکھا۔۔جس کے سر پر پٹی بندھی ہوئ تھی۔۔پاؤں کا زخم لنگڑا کر چلنے کی وجہ تھی۔۔۔جلے ہوۓ ہاتھ پر پٹی بندھی ہوئ تھی۔۔۔اس کے دل کو کچھ ہوا۔۔۔دانین نے جھکی پلکیں اٹھا کر بھری آنکھوں کے ساتھ پرشکوہ انداذ میں اسے دیکھا۔۔
اساور نے نظریں پھیر لیں ۔۔۔۔
پھر بھی بیٹا تمہیں بتانا چاہیئے تھا ۔۔۔اساور تھوڑا نرم پڑا۔۔۔
اساور چچا بتاتی تو تب جب آپ نے ان کے گھر سے باہر جانے پر پابندی نہ لگائ ہوتی۔۔۔سومو کے لہجے سے ناراضگی عیاں تھی۔۔وہ جب بہت ذیادہ ناراض ہوتی اسے چچا کہتی تھی۔۔۔
یہ کون ہے۔۔۔رخشندہ بھابھی نے پیچھے کھڑی درمیانی عمر کی عورت کی طرف اشارہ کیا۔۔
یہ اماں بی کی بیٹی ہیں۔۔گئ تو میں اماں بی کو لینے تھی مگر ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔۔تو ان کو لے آئ۔۔۔سومو نے کہا۔۔۔
کیوں۔۔۔سائرہ نے اپنے اذلی بدتمیز انداذ میں سوال کیا۔۔۔
کیوں کہ دانین آپی کو چوٹ آئ ہے ڈاکٹر نے آرام کا کہا ہے۔۔تو یہ اب سے کوئ کام نہیں کریں گی گھر کا جو کام ہو فقیراں بی کو بتا دینا۔۔۔۔۔۔سومو نے کہا تو سائرہ اور رخشندہ کا مارے غصے کے برا خال ہو رہا تھا۔۔۔۔
اتنی بڑی ہو گئ ہو کہ اپنی ماں سے پوچھے بغیر فیصلے لو۔۔۔رخشندہ بھابھی نے آگے بڑھ کر ایک زوردار تھپڑ سومو کو رسید کیا۔۔۔
کیا کر رہی ہیں بھابھی بچی ہے۔۔۔اساور نے سومو کو کھینچ کر ان کے آگے سے ہٹایا۔ورنہ دوسرا تھپڑ بھی تیار تھا۔۔۔
بچی ہے تو بچی بنے میری ماں نہ بنے۔اس گھر کے فیصلےمیں لیتی تھی اور میں ہی لوں گی۔۔۔رخشندہ بھابھی کا غصہ ساتویں آسمان پر تھا۔۔۔۔سائرہ مسکرائ۔۔
ٹھیک ہے آپ چلائیں حکم جس پر چلانا ہے میں چلی جاتی ہوں۔۔۔سومو نے دانین کا ہاتھ پکڑا اور دروازے کی طرف بڑھی۔۔
رکو رکو سومو بیٹا فقیراں بی یہیں رہیں گی آپ کہیں مت جاؤ۔۔اساور نے سومو کا ہاتھ پکڑا۔۔۔رخشندہ اور سائرہ تو خیران تھیں سومو اتنی خودسر کب سے ہوگئ تھی۔۔۔
آپ سب سن لیں دانین پر مزید ظلم نہیں ہونے دوں گی میں۔۔۔سومو تقریباً چیخی ہی تھی۔۔
کتنی چلتر لڑکی ہو تم میرا بیٹا تمہارا بھائ کھا گیا اور اب میری بیٹی کو تم نے میرے ہی خلاف کر دیا۔۔۔رخشندہ بھیگم پھپھری ہوئ دانین کی طرف بڑھیں۔۔۔
ماما پلیز ۔۔۔سومو دانین کے آگے کھڑی ہو گئ۔۔رخشندہ وہی رک گئ۔۔۔نہیں مارا سعدی نے امان بھیا کو اگر مارا ہوا ہے پھر بھی دانین کو سزا دینے کی کیا تُک بنتی ہے۔۔۔سومو غرائ۔۔دانین تو رخشندہ سے سہم کر سومو کے پیچھے چھپ گئ تھی۔۔۔۔
سومو۔اب آپ بدتمیزی کر رہی ہیں۔. اساور کو اس کے لہجے سے ذیادہ سعدی کو بےگناہ کہنا برا لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔
او پلیز بدتمیزی کی بات مت کریں آپ۔وہ کیا ہوتی ہے دانین کا جلا ہاتھ اور پھٹا سر بتا رہا ہے۔۔۔سومو نے سارا لخاظ آج بلاۓ طاق رکھ دیا تھا۔۔اساور کی نظریں جھک گئیں۔۔۔۔۔۔
فقیراں بی دانین آتی کو روم میں لے جائیں۔۔سومو نے فقیراں بی کو کہا جو دانین کا ہاتھ پکڑ کر لنگڑاتی ہوئ دانین کو لیئے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔۔
چچا آپ سے یہ امید نہیں تھی مجھے۔۔۔اساور سے شکوہ کرتی وہ اپنے کمرے میں چلی گئ۔۔
تم نے دیکھا اساور کیسے سومو میرے بیٹے کے قاتلوں کی سائیڈ لے رہی ہے۔۔میرا امان تو مر گیا نا ۔میرا منتوں مانگا بیٹا۔میرا جگر کا ٹکڑا۔۔۔رخشندہ بھیگم کی آہ و پکار شروع ہو چکی تھی۔۔سائرہ اور اساور کے لیئے پھر ان کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا تھا۔۔۔
یہاں ہر طرف ہے عجب سماں
سب ہی خود پسند سبھی خودنما
دل بےسکوں کو نہ مل سکا
کوئ چارہ گر بڑی دیر تک
مجھے زندگی ہے عزیز تر
اسی واسطے میرے ہمسفر
مجھے قطرہ قطرہ پِلا زہر
جو کرے اثر بڑی دیر تک
جاری ہے۔۔
