No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
دانین کچن میں کھڑی زارا کے لیئے نوڈلز بنا رہی تھی تبھی وہ ٹک ٹک کرتی ہیلوں کے ساتھ منہ پر ڈھیروں میک اپ لگاۓ کچن میں داخل ہوئ۔۔
اک ناگوار نظر دانین پر ڈالی جس نے اس کے آنے کا کوئ حاص نوٹس نہیں لیا تھا۔۔
سنو۔۔!! اس نے دانین کو پکارا تو اک پل کو دانین نے مڑ کر اسے دیکھا اور پھر سے مصروف ہو گئ ۔۔
میں اور اساور لانگ ڈرائیو پر جا رہے ہیں تو مجھے کہیں بھی جانے سے پہلے چاۓ پینے کی عادت ہے تو جلدی سے بنا دو۔۔اس نے حکم صادر کیا تھا۔۔
“اکسکیوزمی۔۔دانین نے آئ برو اوپر کر کے تیکھی نظروں سے اسے دیکھا۔۔
میں نے کہا چاۓ بنا کر دو۔۔مقابل پر اس کی تیکھی نظر کا کوئ اثر نہ ہوا تھا۔۔
میڈم ہاتھ پیر سلامت ہیں تمہارے خود بناؤ مجھ سے بنوانی ہے تو پہلے معذور ہونا پڑے گا ۔اوہ ذرا سمجھاؤ اسے سائرہ مجھ سے جی خضوری کی توقع رکھنے والے کئیں کئیں مہینوں تک چل نہیں پاتے۔۔دانین نے سامنے سے آتی سائرہ کو دیکھ کر طنزیہ انداذ میں کہا۔۔
سائرہ پہلو بدل کر رہ گئ۔۔
چھوڑو اسے تم ملازمہ سے کہہ دو بنا دے گی ویسے بھی تم سے جلن اس کی آنکھوں میں دِکھ رہی ہے اور بھلا سوتن کو بھی کوئ چاۓ بنا کر دیتا ہے۔تم نے اس سے میاں چھینا ہے اس کا چچچ بےچاری ٹوٹی ہوئ ہے۔۔۔سائرہ نے بھی کوئ ادھار نہ رکھا تھا۔۔
افف جو چیز آپ کے استعمال میں رہ چکی ہو بعد میں چاہے کسی کی بھی ہو جاۓ فرق نہیں پڑتا اور یہ انسانی فطرت کی مسلمہ حقیقت ہے جو چیز دسترس میں رہی ہو اس سے حاصل شدہ تسکین ختم ہوتے ہوتے ختم ہو ہی جاتی ہے۔۔
جلنا تو اسے چاہیئے دانین کی اترن ہے اس کے پاس۔
اور ویسے بھی دانین بزدل لوگوں میں انٹرسٹ نہیں رکھتی۔۔۔
جواب دانین کی بجاۓ سومو نے دیا تھا جو اب کچن ٹیبل کے پاس کرسی کھینچ کر بیٹھی سیب کی بائٹس لے رہی تھی۔
آخری بات اس نے سیڑھیوں سے اترتے اساور کو دیکھ کر کہی تھی۔۔
جسے اس نے بآسانی سنا تھا۔۔
سائرہ نے ایک نفرت انگیز نظر دانین اور سومو پر ڈالتی وہاں سے چلی گئ۔۔
چلیں۔۔اساور کا بازو پکڑ کر اس نے پوچھا۔۔دانین رخ موڑ چکی تھی جبکہ دانین آنکھوں میں تمسخر لیئے اساور کو ہی گھور رہی تھی۔۔
ایک اچٹتی نظر رخ موڑے کھڑی دانین پر ڈالتا وہ اپنی بھیگم کا ہاتھ تھامے بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔۔
اساور سمیت سب کو لگتا تھا دانین کو اب بھی فرق پڑتا ہے مگر دانین کو پتھر بنانے والے وہ سب ہی تھی اب تو پتھر دلی کا یہ عالم تھا کہ اگر وہ لوگ اس کے سامنے تڑپ تڑپ کر مر جاتے اسے رتی بھر پرواہ نہ ہوتی۔۔
ماما ماما۔۔!! ایک چھ سالہ بچہ عنودگی میں جاتی اپنی ماں کو پکار رہا تھا۔۔
رو رہا تھا وہی تو اس قید میں اس کا سہارا تھی وہ اسے کیسے کچھ ہونے دے سکتا تھا۔۔
اذان بیٹا . ۔۔۔اس کی آنکھیں نقاہت سے بند ہو رہی تھیں مگر وہ آنکھیں بند نہیں کرنا چاہتی تھی اس کی چھٹی حس کہہ رہی تھی وہ آج سو گئ تو کبھی اٹھ نہیں پاۓ گی۔۔
ماما میں نے باہر کا راستہ تلاش کر لیا ہے اب ہم یہاں سے جا سکتے ہیں۔۔چھوٹے بچے کا سانس پھول گیا تھا جیسے وہ کہیں دور سے بھاگ کر آیا ہو۔۔
سچ۔۔اس کی آنکھوں کی جوت جل اٹھی تھی۔۔
جی ماما آپ خود کو سنبھالیں پھر ہم یہاں سے چلے جائیں گے۔۔اذان اپنی ماں کو سہارا دے کر اٹھا رہا تھا۔۔
وہ اٹھ گئ تو وہ بھاگ کر اس کے لیئے جگ سے پانی ڈال کر لے آیا جو وہ موٹی عورت صبح ہی رکھ کر گئ تھی۔۔
میرا بہادر بیٹا۔۔اس نے اذان کی آنکھوں سے نیچے تک آتے بالوں کو ہاتھ سے پیچھے کرتے اس نے اذان کے ماتھے پر بھوسہ دیا۔۔۔۔
ماما میں موٹی آنٹی کو دیکھتا ہوں پھر ہم نکلتے ہیں یہاں سے۔۔اذان کہتا دروازے سے جھانک کر باہر دیکھنے لگا۔۔
“وہ اسے دیکھ کر نقاہت سے مسکرا دی تھی۔۔وہ اس کا بہادر بیٹا تھا جو راستے کی مشکلوں سے گبھرانے کی بجاۓ راستے تلاش کرتا تھا اور اسے راستے تلاش کرنے آتے تھے۔۔۔
آج کا سورج نکلتے ہی کاظمی خویلی میں معمول سے ذیادہ گہماگہمی تھی۔۔آج رخشدہ بھابھی کی کچھ دوستیں اساور کی نئ نویلی دلہن سے ملنے آنے والی تھیں۔ان کے لیئے بھرپور اہتمام ہو رہا تھا کچن سے اشتہاانگیز خوشبوئیں اٹھ رہی تھیں۔۔
اساور کی شادی کو ایک مہینہ ہو چلا تھا۔۔
رخشندہ بھابھی کو سارے مسئلے دانین سے تھے نئ دلہن پر وہ بچھی چلی جاتی تھیں۔۔
رخشندہ بھابھی کی دوستوں کے آنے میں کچھ وقت تھا تو سب لاؤنج میں بیٹھے گپیں لگا رہے تھے۔۔
اور اکثر ہی ایسی محفلیں کاظمی خویلی کے لاؤنج میں سجتی تھیں بس سومو اور دانین آؤٹ سائیڈر تھیں۔۔
دانین کچن میں گھسی زارا اور سارہ کے لیئے سینڈوچز بنا رہی تھی ۔سومو کچن ٹیبل پر بیٹھی ناشتہ کرتی ترچھی نظر ان ہنستے مسکراتے نفوس پر ڈال دیتی تھی۔۔
ابھی بھی وہ سب کسی بات پر قہقہہ لگا رہے تھے کہ زوردار آواز سے دروازہ کھلا تھا۔۔
بہت سے پولیس اہلکار آگے پیچھے گھر میں داخل ہوۓ ساتھ لیڈیز کانسٹیبل بھی تھیں۔
پولیس کو دیکھتے سب کی ہنسی پر بریک لگی تھی۔سب ایکدم کھڑے ہو گۓ تھے۔۔
ایس۔ایچ۔ او صاحب یہ کون سا طریقہ ہے کسی شریف انسان کے گھر گھسنے کا۔۔اساور کو تو آگ لگ گئ۔۔
سوری مسٹر اے۔کے مگر ہمیں ہماری ڈیوٹی کرنے دیں۔آپ کی وائف کے خلاف قتل اور اغواہ کی ایف آئ آر ہے اور پکے ثبوت بھی ۔اور اریسٹ وارنٹ بھی۔۔ایس۔ایچ۔او نے ایک انویلپ اساور کی طرف بڑھایا۔۔
اساور نے حیرانی سے اسے تھاما۔۔
سب پریشانی سے اساور کے ہاتھ میں پکڑے کاغذ کو دیکھ رہے تھے۔۔
ناشتہ ادھورا چھوڑ کر سومو بھی لاؤنج میں چلی آئ۔دانین نے اشارے سے سارہ اور زارا کو وہاں سے ہٹنے کو کہا تو وہ دونوں کمرے میں چلی گئیں۔۔
کس نے کروائ ہے یہ ایف۔آئ۔آر وارنٹ دیکھ کر اساور نے سوال کیا۔سب ابھی تک سمجھ نہ پا رہے تھے کہ یہ کیا چل رہا ھے۔۔
ہم نے۔۔وہ دونوں ایک ساتھ بولتے اندر داخل ہوۓ۔
سعدی کو دیکھ کر دانین اور سومو کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ گئ جبکہ باقی سب ناسمجھی سے اسے دیکھ رہے تھے۔۔
میرےشوہر امان اللہ کاظمی کو میری آنکھوں کے سامنے قتل کیا تھا اس مکار اور فریبی عورت نے اور پھر مجھے بھی ایک کمرے میں بند کر دیا تھا اسی قید میں میرے بیٹے اذان امان اللہ کاظمی کا جنم ہوا تھا اور آج میرا بیٹا چھ سال کا ھے مجھے پورے سات سال اغواہ کر کے رکھنے والی کوئ اور نہیں میری اپنی بہن حیا سدوانی ہے جو کہ اب حیا کاظمی کہلائ جاتی ہے۔۔۔عینا نے اذان کا ہاتھ مظبوطی سے پکڑے اپنا مکمل تعارف کے ساتھ حیا کا گھناؤنا چہرہ بھی دکھایا تھا۔۔۔
اساور پر تو گویا آسمان ٹوٹا تھا اس نے بےیقینی سے حیا کی طرف دیکھا۔۔
رخشندہ بھیگم اور سائرہ کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا تھا۔۔
اور بہت چالاکی سے تم نے تمام ثبوت میرے خلاف کر کے مجھے امان کا قاتل ٹھہرا دیا جس کی سزا میری پوری فیملی نے ان سات سالوں میں بھگتی ہے اب تمہاری باری ہے حیا سدوانی۔۔۔سعدی نے ٹھنڈے لہجے میں مگر چبا چبا کر کہا تھا۔۔۔
تم تم وہاں سے نکلی کیسے کیسے۔۔حیا ہسٹریانی کیفیت میں عینا کی طرف لپکی۔۔لیڈی کانسٹیبل نے حیا کے دونوں ہاتھ زور سے پکڑے مگر وہ پھر بھی بےقابو ہو رہی تھی کانسٹیبل نے ایک زوردار تھپڑ اسے رسید کیا تو وہ سیدھی صوفے پر جا گِری۔۔
تم نے پورا انتظام کیا تھا مگر میرا اذان میرے امان کی نشانی مجھے وہاں سے نکال لایا تاکہ تمہارا گھناؤنا چہرہ پوری دنیا کو دِکھا سکوں میں۔۔عینا نفرت سے بولی۔۔
یہ سب کیا ہے حیا میں نے تمہیں اس گھر کا فرد بنایا اور تم میرے امان کی قاتل نکلیں۔۔رخشندہ بھیگم کو تو صدمہ لگ گیا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کے قاتل کو سر آنکھوں پر بِٹھا رہی تھیں۔۔
تم نے کیوں کیا یہ سب حیا جواب دو۔۔اساور غصے کی شدت سے چلایا تھا۔۔
مجھے نہیں پتہ تھا امان تمہارا بھتیجا ہے ورنہ مم میں کبھی نہ مرواتی اسے آئ سوئیر اساور میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں سچ میں اساور۔۔حیا ایک دم اساور کی طرف لپکی تھی۔اساور نے زور سے دھکا دے کر اسے خود سے دور کیا۔۔
کیوں کیا تو نے یہ سب بدبخت عورت۔۔اب کے بھڑکنے کی باری سائرہ کی تھی حیا کو بالوں سے پکڑ کر ایک زوردار تھپڑ رسید کیا۔۔۔
آپ نے جو پوچھنا ہے بنا تششد کے جلدی پوچھیں باقی سب پولیس کی ذمہ داری ہے۔۔لیڈی کانسٹیبل نے سائرہ سے حیا کو بچایا ورنہ وہ اسے مار ہی ڈالتی۔۔۔
مجھے نہیں مل سکتی تھی میری محبت تو اور کسی کو کیوں ملتی۔مجھے جب ٹھکرا دیا گیا تھا تو اس میں کون سے ایسے سرحاب کے پر لگے تھے جو اسے اپنایا جاتا اسی لیئے میں نے اس سے خوشیاں چھین لیں اس کی محبت اس کا امان چھین لیا مار دیا اسے۔۔حیا گھٹنوں کے بل بیٹھ کر چلائ تھی وہ اپنے آپے میں نہیں لگ رہی تھی۔۔
اور اس سب کے ذمہ دار تم ہو اساور کاظمی تمہیں یاد نہیں ہو گا ہم ایک ہی کالج میں پڑھتے تھے میں تم سے پاگلوں کی طرح محبت کرتی تھی مگر تم نے میری محبت کے جواب میں مجھے بری طرح سےدھتکار دیا تھا۔۔
ٹھکراۓ جانے کا دکھ سمجھتے ہو ۔۔نہیں میں سمجھتی ہوں کئیں سالوں تک میں خود کو ہی جوڑتی رہی تھی. ۔
میں اس بات کو قبول نہیں کر سکتی تھی کہ مجھے یعنی کہ حیاسدوانی کو ٹھکرا دیا گیا۔۔۔
میں سالوں بعد پھر سے لوٹی تھی تمہیں پانے کے لیئے مگر تم نے پھر مجھے رد کر دیا اس دانین کے لیئے۔میرے اندر اک آگ جل اٹھی جس میں دانین کو جلانا چاہتی تھی میں تمہاری محبت کی میت کی راکھ کرنا چاہتی تھی میں اور دیکھو میں کامیاب رہی اس سب میں۔۔
چلا کر کہتے آخر میں وہ دانین کی طرف دیکھتی فاتخانہ انداذ میں مسکرائ تھی۔۔
اس وقت حیا کوئ شدید پاگل معلوم ہو رہی تھی۔۔
ایک شخص کے لیئے آپ نے اپنے آپ کو کتنا گرا دیا اتنا کہ گندی نالی کا کیڑا معلوم ہوتی ہیں آپ۔۔عینا نے افسوس سے اسے دیکھا۔۔
مجھے برباد کرنے کے لیئے اور آپ کو پانے کے لیئے انہوں نے خود کو گندا کر دیا نومی کی ہوس کی پیاس بجھاتی رہیں یہ افسوس آپ نے کیا کر دیا مینا آپی۔۔
آپ حیا تھیں آپ بےحیائ کی داستاں بن گئیں۔۔
قانون کا مزید وقت برباد نہیں کیا جاسکتا ہمیں انہیں لے کر جانا ہو گا۔۔
پولیس والے چلاتی ہوئ روتی ہوئ حیا کو گھسیٹتے لے کر چلے گۓ تھے۔۔
سعدی میرے بھائ۔۔!! ان کے جانے کے بعد دانین سعدی کی طرف دوڑی اور آکر اس کے سینے سے لگ گئ وہ اس سے چھوٹا تھا مگر اب وہ کافی بڑا ہو گیا تھا۔۔
ان گزرے ماہ و سال میں وہ ایک نوجوان سے مظبوط مرد بن گیا تھا۔۔
ٹھیک ہو تم سعدی اللہ کا شکر ہے۔۔دانین اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیئے رو رہی تھی اور آج برسوں بعد اس کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو نکلے تھے۔۔۔
بہت انتظار کروایا آپ نے سعدی بہت۔۔سومو کی آنکھیں بھی بہنے لگیں تھیں۔۔
رخشندہ بھیگم صوفے پر ڈے گئیں تھیں۔سائرہ کمرے میں بھاگ گئ تھی۔۔
اساور خود سے ہی نظریں چرا رہا تھا۔
سامنے کھڑے تین نفوس ایک دوسرے سے مل کر کتنے خوش تھے۔۔
ایک پچھتاوا سا پچھتاوا تھا جو اساور پر چھا رہا تھا۔۔
اس نے نظر اٹھا کر سامنے کھڑی دانین کو دیکھا ایک پل کو دانین نے بھی اسے دیکھا اور فاتخانہ انداذ میں مسکرا دی۔۔
اس کی یہ ہنسی اساور کو بہت کچھ یاد دلا رہی تھی۔۔
اساور کے کانوں میں ماضی کی آواز گونجی تھی۔۔
جس دن سعدی بےگناہ ثابت ہو گا وہ دن اس گھر میں میرا آخری ہو گا””
ایک تکلیف اس کی رگوں میں اتری تھی۔آنکھیں بہنے کو بےتاب تھیں۔
جاری ہے۔۔
