60.6K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

تو مسٹر امان میں کورٹ میرج سے جڑے مسائل پہلے ہی تمہیں بتا دوں بعد میں مت کہنا بتایا نہیں۔شامین راکنگ چیئر کو گول گول گھما رہی تھی۔۔
جی مِس شامین بتائیے اور اپنی چونچ بند رکھیئے پھر۔۔امان نے برا سا منہ بنایا شامین بات کو طول دیئے جا رہی تھی۔۔
پسند کی شادی میں ہوتا یہ ہے کہ لڑکی کے گھر والے لڑکے پر 365 ب کے تخت ایف آئ آر کروا دیتے ہیں۔اس صورتخال میں لڑکے کو چاہیئے فوراً لڑکی کا 164 کا بیان مجسٹریٹ کے سامنے کرواۓ جس میں لڑکی لڑکے کے خق میں بیان دے۔اور اس کے ساتھ ہی لڑکی کو چاہیئے ضمانت قبل از گرفتاری کروا لے۔اور ہائ کورٹ میں Quashment of Fir کے لیئے رجوع کرے۔۔شامین بےپرواہ سی بیٹھی اسے تفصیلات سے آگاہ کر رہی تھی۔۔
اوہ میری ماں سب کچھ کر لوں گا پہلے جس کام کے لیئے تمہارے پاس آۓ ہیں۔۔امان نے اب کی بار تقریباً ہاتھ جوڑے تھے۔سعدی اور شامین اس کی عجلت پر مسکرا رہے تھے۔۔
اچھا ولی کون ہے لڑکی کا۔۔شامین اب کے سیرئیس ہو کر ایک فائل نکال کر اس میں کچھ لکھنے لگی۔۔
میں ہوں۔۔سعدی نے جواب دیا۔۔
مجسٹریٹ تھوڑی دیر تک فارغ ہو جائیں گے پھر میرج پیپرز پر ان کے سگنیچر ہوں گے پھر کچھ فارمیلیٹیز ہوں گی پھر ہو گیا نکاح۔۔شامین نے چٹکیوں میں مسئلہ حل کیا۔۔
پھر واقعی تھوڑی دیر میں ضروری کاراوائیوں کے بعد عینا امان کی ہو گئ۔۔
مینا بعد میں کوئ مسئلہ نہ کرے اس لیئے عینا نے 164 کا بیان بھی مجسٹریٹ کو دیا۔۔
عدالت سے نکل کر وہ چاروں دوبارہ شامین کے چیمبر کی طرف بڑھے۔۔لوگوں کا رش پہلے کی نسبت کافی کم تھا۔۔
اب آ گیا سکون مسٹر کاظمی۔۔چیمبر میں پہنچ کر شامین نے امان سے پوچھا۔۔
آف کورس۔۔امانے سر جھکا کر شرمانے کی ایکٹنگ کی تو شامین کا زوردار قہقہہ چیمبر کی دردودیوار سے ٹکرایا۔۔
اچھا سعدی تو امان کو لے کر پیچھے پیچھے میرے گھر پہنچ میں عینا کو لے کر پہلے نکلتی ہوں۔۔گاڑی کی چابیاں اٹھاۓ کوٹ کو ٹھیک کرتی وہ اٹھی۔۔
ویسے تمہارے پاس کوئ کیس ویس نہیں آتا جو یہ کنوارہ بوتھا لیئے ہمارے ساتھ چل پڑی ہو۔۔امان نے اسے چھیڑا۔۔
ہاں میں تو ہوں ہی ویلی مطلبی انسان اینڈ فار یور کائینڈ انفارمیشن مسٹر کاظمی آئ ایم ناٹ کنوارہ بوتھا میرا ایک عدد منگیتر ہے ترکی میں سرجن ہے بہت جلد میں نے اڑ جانا ہے اس کے ساتھ۔پہلے سخت لہجے اور آخر میں مسکراتے ہوۓ ہاتھ کو اونچا کر کے بولی۔اس کے چہرے پر ایک دم سرخی چھا گئ تھی۔۔
اچھا اچھا ٹماٹر مت بنو اور نِکلو۔۔امان نے کہا تو وہ ایک جھانپر اس کے کندھے پر رسید کرتے عینا کا ہاتھ پکڑے باہر نکل گئ۔۔
افف میرے نازک مانی کو لگی۔۔سعدی نے پچکارتے ہوۓ اسے چھیڑا۔۔چل دفعہ ہو پوری فلم ہے تو۔۔امان نے سعدی کو پکڑ کر دروازے کی طرف دھکا دیا۔چاروں آگے پیچھے باہر نکلے۔
گاڑی کے پاس پہنچ کر شامین نے ایک مسکراتی معنی خیز نظر سعدی پر ڈالی بدلے میں اس نے بھی مسکرا کر انگوٹھا دکھایا۔۔
شامین نے عینا کے بیٹھتے ہی گاڑی فل سپیڈ سے سڑک پر ڈال دی۔۔
سعدی بھی معنی خیزی سے مسکراتا ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔امان کے بیٹھتے ہی وہ بھی گاڑی زن سے بھگا لے گیا۔۔


کوٹ پہن کر اس نے گلے میں ٹائ ڈالی بالوں کو سلیقے سے جیل سے جماۓ وہ آئینے کے سامنے کھڑا آفس جانے کے لیئے تیار تھا۔
کوٹ کے بٹن بندھ کرتے وہ سرسری سی نظر سوئ ہوئ دانین پر ڈال دیتا تھا۔۔
تیاری مکمل کر کے اس نے قدآور آئینے میں اپنا سراپا دیکھا۔
دانین کو دیکھتا وہ چلتا ہوا اس کے سرھانے پہنچا۔کچھ دیر کھڑا وہ اسے دیکھتا رہا۔پھر ہاتھ بڑھا کر بازو سے پکڑ کر اسے زور سے جھنجھوڑا۔۔۔
کیا ہے۔۔دانین کی آنکھیں نیند سے بوجھل تھیں وہ کھا جانے والے لہجے میں بولی تھی ۔۔
آفس جا رہا ہوں ناشتہ بنا کر دو۔۔اساور کہہ کر اپنا فون چیک کرنے لگا۔۔
کون سا جہاد پر جا رہے ہو خیر فقیراں بی سے کہہ دو بنا دیں گے مجھے مت تنگ کرو نیند آ رہی ہے مجھے۔۔تکیہ بازوؤں کے نیچے رکھتے وہ آڑھی ترچھی پھر سے لیٹ گئ۔۔۔۔
دانین اٹھو۔۔!! اس بار اساور نے دونوں بازوؤں سے پکڑ کر اٹھایا اور نیچے کھڑا کر دیا۔۔
کیا بدتمیزی ہے ۔۔۔دانین کا تو مانو دماغ گھوم گیا تھا۔۔
اب تو اٹھ گئ ہو ناشتہ بنا دو اب۔۔اساور نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا تو دانین نے کچھ پل اسے دیکھا اور پھر پیر پٹختی کمرے سے ملحق سٹڈی میں گھس گئ۔۔
بھوکے جاؤ میری بلا سے مجھے نیند آ رہی ہے۔۔منہ پر ہاتھ رکھ کر جمائ روکتے ہوۓ دانین نے کہا اور دھرام سے دروازہ بند کر دیا۔۔
دانین۔!!وہ غصے سے بل کھا کر رہ گیا تھا مٹھیاں بھینچتے وہ سٹڈی کے دروازے کو کھولنے آگے بڑھا مگر دانین اسے اندر سے لاک کر چکی تھی۔۔
اسے دانین پر اس کی ہمت پر غصہ آ رہا تھا جبکہ دانین اسے وہی لوٹا رہی تھی جو سوغات وہ اسے دے چکا تھا۔۔
ایگو اور سیلف ریسپیکٹ ہرٹ ہونا کسے کہتے ہیں دانین اسے اچھے سے باور کروا رہی تھی۔۔
غصے سے اساور کے سر کی رگیں تن گئ تھیں۔مٹھیاں بند کرتے سحتی سے دروازے کو ٹھوکر مارتا وہ باہر نکل گیا۔۔


سنگاپور میں رات نے اپنے پر پھیلا لیئے تھے مگر سنگاپور روشنیوں میں نہایا ہوا تھا۔رات بھی دن کا سماں پیدا کر رہی تھی۔۔اے۔کے کی میٹنگ کامیاب رہی تھی کل کی ان کی واپسی کی فلائیٹس تھیں۔
ان کی رہائش سنگاپور کے ایک بہترین ہوٹل میں تھی جس سے شہر کا ویو بہت اچھا دکھتا تھا۔۔
اے۔کے اور حیا سدوانی اور ان کی سیکٹریز سب ایک ٹیبل کے اردگرد بیٹھے کھانے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔۔
ساتھ میں تھوڑی ہلکی پھلکی گفتگو بھی کر لیتے تھے۔۔
حیا کی نظریں اے۔کے پر ٹِکی ہوئ تھیں۔جنہیں اے۔کے اچھے سے محسوس کر رہا تھا مگر پھر بھی وہ نظر انداذ کرتے ہوۓ مسکرا رہا تھا۔۔
سب باتوں میں مشغول تھے ۔اے۔کے کھانے سے فارغ ہو کر کافی کا کپ اٹھاۓ گلاس وال کے پاس آ کھڑا ہوا جس سے شہر میں جلتی بجتی روشنیاں آتے جاتے لوگ سب نظر آ رہے تھے۔۔
گلاس وال کے عین پیچھے لائیٹیں لگائ گئ تھیں جو ہر پل اپنا رنگ بدل رہی تھیں جس سے گلاس وال پر مختلف رنگ آ جا رہے تھے۔۔
اے۔کے دلچسبی سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔تبھی اپنے کندھے پر اسے دباؤ محسوس ہوا۔اس نے پلٹ کر دیکھا تو حیاسدوانی اپنی ازلی مسکراہٹ کے ساتھ موجود تھی۔وہ مسکراتے ہوۓ اتنی اچھی لگتی تھی کہ سامنے اے۔کے نہ ہوتا کوئ اور ہوتا تو منٹ نہ لگاتا اس کی زلفوں کی گھنی چھاؤں میں کھو جانے سے۔۔
کیا دیکھ رہے ہیں مسٹر اے۔کے۔۔وہ سامنے ہاتھ سینے پر باندھ کر کھڑی ہو گئ۔۔
روشن شہر جسے رات کی تاریکی بھی سیاہ نہیں کرتی۔۔اے۔کے محویت سے گلاس وال کے اس پار دیکھ رہا تھا جب کے حیا کی نظریں اس پر جمی ہوئ تھیں۔۔
ایک بات کہوں۔۔حیا کی محویت ٹوٹنے کو نہ آ رہی تھی۔۔
ہممم۔۔کہو۔””۔۔
حیا کافی دیر چپ رہی تھی پھر ایک جھٹکے سے وہ اے۔کے کے گلے لگ گئ”آئ لو یو اے۔کے””:
۔اس طرح اچانک خود سے چمٹ جانے پر اے۔کے حیران ہوا تھا۔۔ٹیبل کے پاس بیٹھے سب لوگ ان کی طرف متوجہ تھے۔سب دبی دبی سی مسکراہٹ ان پر اچھال رہے تھے۔۔
حیا۔۔!! اے۔کے نے ایک جھٹکے سے حیا کے خود سے الگ کیا اور ایک زوردار تھپڑ اس کے گال پر دے مارا۔۔تھپڑ اتنی شدت سے پڑا تھا کہ حیا کے ہونٹوں کا کنارہ پھٹ گیا جس سے خون کی ایک ہلکی سی لکیر نکلی۔حیا کے گال پر اے۔کے کا ہاتھ نشان چھوڑ گیا تھا ۔
وہاں بیٹھے سب لوگ منجمند ہو گۓ تھے۔حیا کے اتنے کھلے اور بےباک اظہار پر بھی کسی کو اے۔کے سے اس چیز کی توقع نہیں تھی ۔۔
حیا نے بےیقینی سے سامنے کھڑے وجیہہ مرد کو دیکھا جو آنکھوں میں غصے کی چنگاری لیئے اسے بھسم کرنے کو تیار تھا۔۔۔۔
تم نے مجھے تھپڑ مارا۔۔حیا غصے کی شدت کے چلائ۔۔
ہاں کیونکہ تم ڈیزرو کرتی ہو تھپڑ کو ۔اپنی دوسرے کی عزت ساکھ سیلف ریسپیکٹ کسی شے سے کچھ لینا دینا نہیں ہے تمہارا کیسی لڑکی ہو تم حیا سدوانی ۔!!””شیم آن یو”_۔۔اے۔کے بہت غصے میں تھا۔۔
میں نے محبت کی ہے تم سے ۔۔””حیا نے بےبسی سے اس کا ہاتھ تھامنا چاہا۔۔
اور میں تھوکتا ہوں تمہاری تم جیسی تمام لڑکیوں کی محبت پر۔۔اے۔کے نے اپنا ہاتھ جھٹکا اسے خود سے پیچھے دھکیلتا وہ وہاں سے نکل آیا تھا ۔۔””
مگر اس کی آواز اس کو ابھی بھی سنائ دے رہی رھی”تھی۔۔
تم بھگتو کے اے۔کے تم میری نفرت کی آگ میں تاعمر جلو گے میرا انتقام تمہیں جلا کر راکھ کر دے۔۔””
میں تمہیں کہیں کا نہیں چھوڑوں گی۔”مجھے میری محبت کی بھیک کے جواب میں دھتکار ملی ہے تمہیں بھی برباد کر دوں گی میں””
وہ ہسٹریانی انداذ میں چیخ رہی تھی چلا رہی تھی مگر وہ کان لپیٹے اپنے روم میں چلا گیا۔۔


جاری ہے۔۔