No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
وہ گاڑی بھگاتا ہوا عینا کے بتاۓ ایڈرس پر پہنچا تھا۔۔گاڑی پارک کرتے وہ ریستوران کی طرف بھاگا۔۔عینا کے آنسوؤں نے اسے پریشان کر دیا تھا فون پر وہ بہت رو رہی تھی۔۔
وہ ریستوران کا ڈور اوپن کر کے اندر داخل ہوا۔۔نظریں گھما کر عینا کو ڈھونڈنا چاہا۔۔
کونے میں پڑی ٹیبل کے پاس اسے عینا نظر آئ۔وہ دور تھی مگر اتنے دور سے بھی اس نے دیکھ لیا تھا اس کے آنکھوں کے پپوٹے بہت سوجھے ہوۓ تھے۔۔آنکھوں کے نیچے حلکے بھی پڑ چکے تھے۔۔وہ انتہائ کمزور نظر آ رہی تھی۔۔
وہ پریشانی سے تیز تیز قدم اٹھاتا اس کے پاس پہنچا۔۔عینا ۔۔۔وہ جو خیالوں میں کھوئ ہوئ تھی اس آواز کو سن کر فوراً ہوش کی دنیا میں آئ۔۔
امان۔۔امان کو دیکھ کر رکے آنسو پھر سے بہہ نکلے تھے۔۔
عینا میری جان کیا ہوا ہے اتنا رو کیوں رہی ہو اور اتنی ایمرجنسی میں کیوں ہو۔۔۔ٹیبل کے گرد ترتیب سے چار کرسیاں رکھی ہوئ تھیں۔امان نے ایک کرسی گھسیٹی تو پرسکون ماخول میں تھوڑی ہلچل ہوئ۔۔سب نے مڑ کر اسے دیکھا۔۔مگر وہ سب سے بےپرواہ کرسی عینا کے پاس رکھ کر بیٹھ گیا۔۔
سب ختم ہو گیا امان۔۔وہ روۓ چلی جا رہی تھی۔۔
پھر بھی پتہ تو چلے کیا ہوا ہے۔اور یہ خلیہ کیا بنایا ہوا ہے۔امان کا اشارہ اس کے رف سے کپڑوں کی طرف تھا جو تین دن سے اس نے نہیں بدلے تھے۔۔
شادی کرو گے مجھ سے۔۔اس کے سوال کو نظرانداذ کرتی بولی۔۔
آف کورس کروں گا یار اور تم سے ہی کروں گا اس میں رونے والی کیا بات ہے۔۔اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیئے وہ اسے بچوں کی طرح پچکارنے لگا۔۔
آج ہی کرو گے مجھ سے شادی۔۔
واٹ۔۔اسے شاک لگا۔۔
امان ہاں یا نا۔۔عینا نے اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے نکالا تھا ۔۔
مگر آج کیوں یار ہم میں ڈیسائیڈ ہوا تھا کہ. . . .
وہ تب کی بات تھی میں آج کی بات کر رہی ہوں۔۔عینا نے اس کی بات کاٹی۔۔
ہاں بابا کروں گا آج ہی کروں گا پتہ تو لگے ہوا کیا ہے۔۔امان نے پھر سے اس کے ہاتھوں کو اپنی مظبوط گرفت میں لیا👍🏾۔۔عینا کے ہاتھ ہولے ہولے کانپ رہے تھے۔۔ایک ہاتھ سے عینا نے آنسو پونجتے ساری بات اس کے گوش گزار کر دی۔۔
یار تمہاری بہن کیا چیز ہے ایک مرتبہ بات سننے میں کیا خرج ہے۔۔عینا کے آنسو بہتے جا رہے تھے۔۔امان نے اپنی انگلیوں کی پوروں پر اس کے آنسو چنے۔۔
میرے پاس واپسی کا راستہ ہے نا ارادہ تم مجھ سے شادی کرو گے یا نہیں بس یہ بتاؤ ورنہ لاسٹ اوپشن پر سوسائیڈ ہے میرے پاس۔۔
شٹ اپ یار۔۔امان کا تو دل دہل گیا تھا اس کی بات پر ۔امان نے شاکی نظروں سے اسے دیکھا۔۔
میں سعدی کو بلاتا ہوں تم آنسو صاف کرو اپنے رونا نہیں ہے اب تم نے۔۔ویٹر جوس لے کر آیا تو امان نے گلاس اٹھا کر عینا کو پکڑایا اس کا گال تھپتھپاتے وہ موبائل لیئے ریستوران سے باہر نکل گیا۔۔۔
کاظمی حویلی کا بڑا گیٹ کھلا تو ایک سفید گاڑی تیزی سے اندر داخل ہوئ۔۔گاڑی آ کر پورج میں رکی تو سومو سائرہ اور رخشندہ بھیگم گاڑی سے نکلیں۔
کل دن کی گئیں وہ آج دن میں لوٹیں تھیں۔
اماں آپ نے خالہ کو جو آسرا دیا ہے مجھے سمجھا بجھا کر بیجھ دیں گی تو میں بتا رہی ہوں میں اس غربت میں نہیں جاؤں گی ۔گٹر سے بھی بدتر جگہ ہے وہ۔۔گاڑی سے اترتے ہی سائرہ شروع ہو گئ تھی وہ کسی حال میں واپس نہیں جانا چاہتی تھی۔۔
تو وہ شوہر ہے تمہارا بہلا پھسلا کر یہی لے آؤ۔اتنا بھی نہیں ہو سکتا تم سے۔۔رخشندہ بھیگم نے ایک چپت اس کے ہاتھ پر لگاتے ہوۓ کہا۔۔
اماں ایسے مت بولیں آپی کو جانا چاہیئے اپنے سسرال۔بیاہی لڑکیاں اپنے سسرال میں ہی اچھی لگتی ہیں۔ویسے بھی عروج اور زوال ساتھ ساتھ چلتے ہیں آج طیب بھائ کے مالی حالات ٹھیک نہیں کل ہو سکتا ہے بہتر ہو جائیں۔۔سومو نے نرم لہجے میں بہت پیار سے انہیں سمجھانا چاہا۔۔
اماں اس کو بولیں میرے معاملات میں مت بولا کرے۔۔سائرہ نخوت سے بولی۔سومو اور اس کی سمجھداری اسے زہر لگتی تھی ہمیشہ۔۔سومو اس کی بات کو نظر انداذ کرتی ان کے آگے چلتی ہوئ لاؤنج کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئ۔۔
تمہیں پا کر کہاں خوش تھے
تمہیں کھو کر کہاں روۓ
ہیں زندہ ہم اگر تم میں
دیا دکھ تو تم نے نہیں تھوڑا
بہت خوش ہیں تیرے بارے
میں جب سے سوچنا چھوڑا۔
لاؤنج میں اونچی آواز میں گانا گونج رہا تھا سامنے صوفے پر ہاتھ میں گاجر کا حلوہ کھاتے ہوۓ دانین بہت غور سے ٹی۰وی کو دیکھ رہی تھی۔سومو کو خوشگوار سی حیرت ہوئ۔دانین کا چہرہ آج باقی دنوں کی نسبت ریلکس لگ رہا تھا۔سومو کو خوشی ہوئ کہ شائد اساور اور دانین کے تعلقات بہتر ہو گۓ ہوں۔۔
سومو کے پیچھے پیچھے سائرہ اور رخشندہ بھی اندر داخل ہوئیں۔سامنے کا منظر دیکھ کر سائرہ نے ناگوار سی شکل بنائ۔رخشندہ بھیگم کا تو غصے سے برا حال ہو رہا تھا دانین کو اتنا ریلیکس دیکھ کر۔۔
یہ میرا گھر ہے کہ کلب۔۔رخشندہ بھیگم نے آگے بڑھ کر دانین کے ہاتھ سے ٹی۔وی ریموٹ کھینچ کر زور سے فرش پر پھینکا۔حلوے کا باؤل سے حلوہ اس کے منہ پر گِرا دیا۔۔
اسلام علیکم بھابھی۔۔!! دانین نے مسکرا کر ٹیبل پر پڑے ٹشو بکس سے ٹشو اٹھا کر منہ سے خلوہ صاف کیا۔۔
کیا سمجھ رکھا ہے تم نے میرے گھر کو ہاں۔حد میں رہو تمہارے باپ کا گھر نہیں ہے۔۔اس کی مسکراہٹ نے رخشندہ بھیگم کو اور تپا دیا تھا۔۔
آئ نو بھابھی وہ تو میں بڑے گھر کی فیل لے رہی تھی ۔میرے باپ کا گھر ایسا کہاں۔۔سومو کے گلے لگتے اس نے ایک آنکھ سومو کی طرف ماری۔سومو مسکرا کر رہ گئ۔۔
کھانا نکالو ہمارے لیئے بخث مت کرو بھوک لگی ہے ہمیں۔۔سائرہ نخوت سے بولی۔۔
کھانا تو نہیں بنایا۔وہ کیا ہے نا کہ آپ سب تھے نہیں ۔رات کا کھانا رکھا ہوا تھا فقیراں بی نے وہ کھا لیا میں نے خلوہ بنا لیا تھوڑا سا بچا ہوا ہے سومو کا کام ہو جاۓ گا۔ویسے وہ کون سا وقت ہے جب تم بھوکی نہیں ہوتی۔۔دانین آج آپ سے تم پر آ گئ تھی۔سائرہ نے حیرت سے اسے دیکھا کہ وہ گھونگھی آج کیسے بول پڑی۔۔
جاؤ کھانا بناؤ اور اوقات میں رہو اپنی۔۔رخشندہ بھیگم دبے دبے غصے سے بولیں۔۔
آئ۔ایم۔سوری۔میرا موڈ نہیں ہے۔۔آرام سے کہتی وہ باؤل اٹھا کر کچن کی طرف بڑھنے لگی۔۔
بہت زبان چل رہی ہے تمہاری۔۔سائرہ نے اسے ہلکا سا دھکا دیا تو وہ لڑکھڑاتے گرنے لگی تھی لیکن سائرہ کابازو پکڑ کر اس نے گرنے سے بچایا خود کو۔۔
یہ تشدد وغیر آئندہ نہیں چلے گا۔یو نو وائیلنس اس کرائم۔۔سائرہ کے بازو کو پکڑ کر گھما کر کمر پر موڑ کر اس کے کان میں سرگوشی کے انداذ میں کہا۔۔
چھوڑو سائرہ کو۔۔رخشندہ بھیگم نے تھپڑ کے لیئے ہاتھ اٹھایا جسے فوراً سے پہلے دانین نے گھٹنے سے سائرہ کے ٹانگ پر ٹھوکر مار کر گرایا اور پکڑ لیا۔۔
بس مسزرخشندہ ناظم کاظمی بس۔۔اور نہیں میں وہ نہیں تھی جو میں یہاں آ کر بن گئ تھی۔میں یہ ہوں نڈر سی دانین جمشید علی آئ سمجھ۔آئندہ آپ میں سے کسی نے چالاکی کی تو دو اور دو کو پانچ کرنا مجھے اچھے سے آتا ہے۔۔زور سے ان کے ہاتھ کو جھٹکتی وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی تو اک پل کو رخشندہ بھیگم کانپ کر رہ گئیں تھیں۔۔
اماں میری ٹانگ۔۔فرش پر گری سائرہ تکلیف سے چلائ۔۔
چھوٹا سا فریکچر ہوا ہو گا دوبارہ یہ زبان اور ہاتھ ذیادہ چلا نہ تو پرمنٹ وہیل چیئر پر آ جاؤ گی۔ویسے ایک لحاظ سے اچھا ہی ہے بےچارے طیب بھائ کی جان چھوٹے گی۔۔کیوں سومو۔۔ایک آنکھ دباتی مسکرا کر کہتے ہاتھ میں پڑے باؤل کو رخشندہ بھیگم کے پاؤں کے پاس زور سے پٹختی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئ۔
باؤل گرنے سے ایک شور پیدا ہوا اور کانچ بکھر گۓ۔رخشندہ بھیگم ڈر کر پیچھے ہوئیں۔۔سائرہ نے تکلیف سے ماں کی طرف دیکھا۔۔
دانین کا یہ روپ دیکھ کر وہ دونوں ماں بیٹی صیح معنوں میں ڈر گئیں تھیں۔رخشندہ بھیگم نے سائرہ کو پکڑ کر اٹھایا اور کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔۔
جبکہ پیچھے کھڑی سومو مسکرا کر رہ گئ تھی۔۔
امان کا فون آتے ہی سعدی بائیک لے کر تیزی سے ریستوران کی طرف روانہ ہو گیا تھا۔۔
ریستوران کے پاس پہنچ کر اسے امان باہر کھڑا ہی دکھ گیا تھا۔۔بائیک سائیڈ پر کھڑی کرتا وہ امان کی طرف بڑھا۔۔
کیا ہوا یار اتنی جلدی میں بلایا تو نے مجھے۔۔سعدی امان کی طرف بڑھا۔۔
ہاں یار وہ مسئلہ ہو گیا ہے ۔۔۔امان نے کان کجھاتے اس کی طرف دیکھا ۔۔
بول بھی کیوں سسپینس کرئیٹ کر رہا ہے۔۔سعدی نے مکہ اس کے کندھے میں مارا۔۔
شادی کرنی ہے مجھے ۔۔
تیری تان پھر وہیں آکر ٹوٹتی ہے تھوڑا صبر کر لے میرے باپ۔۔سعدی نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے۔۔
یار تو سمجھ نہیں رہا ۔۔۔
تو سمجھا نا مجھے۔۔۔
دیکھ عینا کی بہن یہ محبت وغیرہ کی سخت دشمن ہے۔اسےعینا اور میرے بارے میں پتہ چل گیا تھا تو اس نے عینا کو کمرے میں بند کر دیا تھا۔بڑی مشکل سے اس کے موم ڈیڈ نے اسے وہاں سے نکالا ہے اب مجھے اس سے شادی کرنی ہے۔اماں نے صاف انکار کر دیا ہے کہ وہ نہیں کروائیں گی ابھی میری شادی کسی بھی صورت۔۔تو کچھ کر یار۔۔امان اللہ ایک ہی سانس میں بولا۔۔
واٹ عینا گھر چھوڑ کر آ گئ ہے۔۔سعدی اچھلا۔۔
یار کیا کرتی ظالم بہن کے ہاتھوں مر جاتی۔۔امان نے برا منایا۔۔
تو اب یہ کہ میری مدد کرو شادی کرواؤ جب مناسب وقت ملا میں اماں کو بتا دوں گا۔۔
یو مین کورٹ میرج۔۔
ہاں۔۔امان نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
یار دیکھ لینا کوئ لفرا نہ ہو جاۓ۔۔
نہیں ہوتا۔۔
چل پھر عینا سے بات کر لیں پھر کچھ ارینج کرتے ہیں۔۔سعدی نے کہا تو دونوں ریستوران کا گلاس ڈور دھکیلتے اندر داخل ہوۓ جہاں گم صم سی عینا سوجھی آنکھوں کے ساتھ بیٹھی تھی۔۔
جاری ہے۔۔۔
