60.6K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

۔
محبت وہ پنجرہ ہے
جس میں ایک محبت زدہ
کو دنیا قید کر کے رکھتی ہے
جن شکاریوں کی فہرست میں
سرِفہرست سنو جاناں۔!!
ہمارے کچھ اپنے آتے ہیں
مجھے کوئ نکالو یہاں سے موم ڈیڈ پلیز۔۔وہ تین دن سے کمرے میں قید تھی اس کی ماں میں اتنی ہمت نہیں تھی بڑی بیٹی کے خلاف جا کر چھوٹی کی مخافظ بنتی۔۔
وہ رو رہی تھی چلا رہی تھی۔مگر سب بےسود تھا۔اس کی فریادیں سنتے اس کے ماں باپ بھی ہلکان ہو رہے تھے۔۔
مجھے نکالو میں مر جاؤں گی یہاں۔۔دروازہ پیٹتے پیٹتے وہ تھک گئ تھی دروازے کے ساتھ لگ کر بیٹھتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔
مجھے یہاں سے نکلنا کچھ بھی کر کے۔امان سے کیسے کانٹیکٹ کروں میں۔۔وہ مسلسل بڑ بڑا رہی تھی۔۔
کہاں جا رہی ہو مینا۔۔سوٹ کیس دھکیلتی وہ ایک ہاتھ سے ہینڈ بیگ پکڑے جینز کے ساتھ سلیولیس بازوؤں والی شرٹ پہنے ٹک ٹک کرتی ہیلوں کے ساتھ کہیں جانے کو تیار تھی۔۔
بزنس میٹنگ ہے موم سنگاپور جا رہی ہوں تین دن کے لیئے۔۔رک کر ماں پر ایک نظر ڈال کر وہ باہر کی ظرف بڑھی۔۔
مینا سنو۔!! ماں کی آواز پر بےزاری سے منہ بناتی پلٹی۔۔کتنی بار کہا ہے موم مت جاتے ہوۓ پیچھے سے آواز دیا کریں۔۔
اتنے دور جا رہی ہو تو دل ڈر گیا تھا۔۔وہ ماں تھیں اور اولاد جیسی بھی ہو ماں کا پریشان ہونا اولاد کے لیئے فکر مند ہونا فطری ہے۔۔
پہلی بار نہیں جا رہی میں موم اور ڈیڈ اس سب کو سنبھالنے کے قابل ہوتے تو میں نہ جاتی۔۔اور تیسری بات عینا کو باہر کسی نے نکالا تو مجھ سے برا کوئ نہیں ہو گا۔۔انتہائ بدتمیزی سے کہتی وہ ٹک ٹک کرتی باہر نکل گئ۔۔
کچھ دیر بعد مینا کی گاڑی کی آواز آئ گیٹ کھلنے پر زن سے گاڑی باہر نکلی۔۔
اس کی ماں نے اسے جاتے ہوۓ دیکھا اور بھاگ کر عینا کے روم کے پاس پہنچی۔ڈوبلیکیٹ چابی سے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئیں۔۔
سامنے عینا بکھرے بالوں اور ملگجے حلیے کے ساتھ بیڈ کے پاس نیچے گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھی تھی ۔دروازے کی آواز پر سر اٹھا کر اس نے دیکھا۔اس کی آنکھیں شدتِ گریہ زاری کی وجہ سے سرخ ہو کر سوجھ گئ تھیں۔اس کی ماں کا دل کٹ کر رہ گیا تھا اپنی لاڈلی کی حالت پر۔۔
عینا میرا بچہ۔۔وہ روتی ہوئ اس کی طرف بڑھیں عینا بھی ماں کی آغوش پا کر ان میں سمٹ گئ تھی۔۔
ماں مجھے نکالیں یہاں سے ۔میرا دم گھٹ رہا ہے۔۔ماں کے سینے سے لگی وہ سسکیاں لے رہی تھی۔۔
کیسے بیٹا مینا کو جانتی ہوں کہرام مچا دے گی۔۔وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہیں تھیں۔۔
ماں پھر مار دیں مجھے اس کے ڈر سے۔۔ماں سے دور ہوتی وہ پھٹ پڑی تھی۔میری کوئ زندگی نہیں ہے ماما۔۔؟؟ہر فیصلے پر میں نے آپی کی طرف دیکھا مگر اب بس ہو گیا میری زندگی میں اپنی مرضی سے جینا چاہتی ہوں۔۔
جاؤ جی لو اپنی مرضی سے میرا بچہ۔۔وہیل چیئر دھکیلتے اس کے ڈیڈ روم میں داخل ہوۓ۔۔۔
ڈیڈ۔۔وہ بھاگ ان کے گھٹنوں سے لگ کر بیٹھ گئ۔۔
جاؤ بیٹا مینا لوٹ آئ تو تم نہیں جا سکو گی وہ قیامت ہے تمہیں برباد کر دے گی تمہیں آباد نہیں ہونے دے گی۔۔تم چلی جاؤ اس کا کہرام ہم دیکھ لیں گے۔۔ڈیڈ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا ۔عینا نے حیرانی سے ماں کی طرف دیکھا جنہوں نے مسکرا کر سر کو خم دیا۔۔
تھینکس موم ڈیڈ یو آر بیسٹ پیرنٹس اِن ورلڈ۔۔ماں کے گلے لگ کر باپ کے سر پر بھوسہ دیتی وہ واش روم کی طرف بڑھی۔۔
منہ ہاتھ دو کر وہ باہر نکلی بالوں میں برش کر کے کیچر میں جھکڑا جوتے پہنے اور دروازے کی طرف بڑھی۔۔
عینا۔۔باپ کی آواز پر وہ پلٹی۔۔جی ڈیڈ. . وہ ان کے پاس زمین پر آ بیٹھی۔۔
یہ فون اور پیسے رکھو ضرورت پڑیں گے اور کہیں سیف جگہ پر پہنچ کر ہمیں انفارم کرنا۔۔انہوں نے عینا کا گال تھپتھپایا۔۔آئ لو یو موم اینڈ ڈیڈ۔۔مسکرا کر کہتے وہ فون اور پیسے اٹھا کر جینز کی جیب میں رکھتی باہر نکل گئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔


رات کی تاریکی ختم ہوئ تو صبح کے سورج نے چاروں طرف روشنیاں پھیلا دیں۔۔
اساور کی آنکھ کھلی تو وہ لاؤنج کے صوفے پر ہی سویا ہوا تھا۔آنکھیں ملتا وہ اٹھا ٹیبل سے موبائل اٹھا کر ٹائم دیکھا۔۔
آفس کے لیئے بہت دیر ہو گئ اتنی دیر میں کیسے سوتا رہ گیا۔۔منہ پر ہاتھ ملتے وہ اٹھا تب ہی اس کی گود سے بوتل نیچے گِری تب اسے اپنے اتنی دیر تک سونے کی وجہ سمجھ آئ۔۔
یہ کیا کر دیا میں نے ڈرنک اوہ گاڈ۔۔ماتھے پر آۓ پسینے کے ننھے کو صاف کرتا وہ پشیمان لگ رہا تھا۔فرش پر پڑی بوتل کو اٹھا کر دیوار کے ساتھ پڑے ڈسٹ بن میں پھینکا۔۔
گھر کافی خاموش تھا سومو لوگ ابھی واپس نہیں آۓ تھے۔آفس جانے کے لیئے تیار ہونے کے ارادے سے وہ کمرے میں آیا۔مگر چاروں طرف پھیلی خاموشی کو دیکھ کر چونکا دانی کمرے میں نہیں تھی۔۔
کندھے اچکاتے وہ باتھ روم میں گھس گیا فریش ہو کر باہر نکلا تب بھی دانی کو نہ پا کر پرن ھوا۔۔
دانین دانین۔۔!!! وہ پورے گھر میں اسے پکار رہا تھا مگر جواب ندارد تھا۔۔کہاں چلی گئ۔۔کہاں ڈھونڈوں۔شائد سومو کے کمرے میں ہو۔۔وہ سومو کے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔سامنے بیڈ پر سوئ دانین پر نظر پڑی تو اس نے سکون کا سانس لیا. ۔۔
دانین دانین اٹھو۔۔اساور نے بازو سے پکڑ کر دانین کو جھنجھورا۔وہ ذرا سا کسمسائ۔ایک آنکھ کھول کر اساور کو دیکھا اور کروٹ بدل کر پھر سے آنکھیں بند کر دیں۔۔
دانین تم سے کہہ رہا ہوں اٹھو ناشتہ بنا کر دو۔۔اساور نے اب کی بار ذرا زور سے اس کا بازو کھینچا۔۔
کیا تکلیف ہے تمہیں۔وہ اٹھتے ہی زور سے چیخی۔اساور نے حیرانی سے اسے دیکھا۔۔مینرز نہیں ہیں تمہیں۔۔
ناشتہ بنا کر دو آفس جا رہا ہوں میں۔۔
یہاں سے سیدھے جاؤ دروازہ کھولو آگے سیڑھیاں ہیں انہیں پھلانگ کر جاؤ تو نیچے دروازہ ہے اسے کھولو دائیں ہاتھ پر فقیراں بی کا کواٹر ہے وہ جھاگ گئ ہوں گی ان کو بولو بنا دیں گی۔۔کہہ کر وہ کمبل سر تک تان کر پھر سے سو گئ۔جبکہ اساور حیران پریشان کھڑا تھا اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ دانین ہی ہے۔۔
اسے آفس سے دیر ہو رہی تھی اس لیئے ضبط سے مٹھیاں بھینچتا وہاں سے نکل گیا۔۔
دروازہ بند ہونے کی آواز پر دانین سے کمبل سے چہرہ نکال کر دروازے کی طرف دیکھا۔۔
بہت ہو گیا مسٹراساور اور نہیں اب تم نے حد حتم کر دی ہے۔ میں سب کچھ سہتی گئ کیونکہ تم سے مخبت کرتی تھی۔۔
ایک لڑکی اپنے سپنوں کے قاتل سے کبھی محبت نہیں کرتی۔میں تم سے نفرت نہیں کر سکتی مگر اب محبت بھی نہیں۔۔
بدلے کے قائل ہو تم لوگ اب میں بھی یہی کروں گی۔۔مظلوم نہیں ہوں میں ظلم نہیں سہوں گی بس. ۔۔منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے وہ دوبارہ سے آنکھیں موند گئ۔۔۔
میں نے تو صرف یہ چاہا تھا
کہ کوئ لمبی مسافت ہم دونوں
ایک دوسرے کے سنگ
ہنستے کھیلتے طے کریں
راستے میں کہیں مجھے ٹھوکر لگے تو
تم آگے بڑھ کر مجھے نہ تھامو
اور وہیں پاس بیٹھ کر ہنستے چلے جاؤ
اور میں تم سے روٹھ جاؤں
تو تم گلاب میرے بالوں میں لگا کر
میرا ہاتھ تھامے مجھے کھینچتے ہوۓ
اپنے ساتھ لے چلو
اور پھر ایک لمبی مسافت یوں ہی
ہنستے کھیلتے طے کر لیں
میں نے تو صرف یہ چاہا تھا
تم اور میں ایک دوسرے پر ہنسیں
راستے کے کانٹے میرے بالوں کو
خراب کر کے رکھ دیں تو
تم میرا مذاق اڑاؤ
میں نے یہ تو نہیں چاہا تھا کہ
تم یوں سرِعام میرا مذاق اڑاؤ
مجھے اذیت کے سمندر میں دھکیل دو
میں نے صرف یہی تو نہیں چاہا تھا
تم ہاتھ تھامتے میرا
میرے آنسوؤں کو اپنی انگلیوں
کی پوروں پر نرمی سے چن لیتے
میں نے تو صرف یہ چاہا تھا۔۔


اماں میری پیاری اماں۔۔امان رخشندہ بھیگم کے گلے میں بانہیں ڈالتا ہوا پیار سے بولا۔۔
کیوں اتنا پیار آ رہا ہے ماں پر دال میں کچھ کالا ہے۔۔رخشندہ بھیگم نے مسکرا کر اس کے سر پر بھوسہ دیا۔۔وہ ان کا لاذلا بیٹا تھا جس کے لیئے انہوں نے ہزاروں منتوں کے بعد پایا تھا۔
اماں شادی کروا دیں میری۔۔وہ کان کجھاتا بولا تو رخشندہ بھیگم ہنستی چلی گئیں۔۔کیوں ہنس رہی ہیں ماما۔۔وہ برا مان گیا تھا۔۔
عمر دیکھی ہے تم نے شادی کے خواب دیکھ رہے ھو ۔ ۔۔۔انیس کا ہو گیا ہوں اماں پڑھائ میں پیچھے ہوں اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ شادی کے قابل نہیں ہوں۔۔۔
پڑھائ میں پیچھے تو دوستی کے چکر میں رھ گۓ تم۔۔ہلکی سی چپت اس کے سر میں لگاتے انہوں نے کہا۔۔
اب دوست دو سال چھوٹا ہے اس میں میرا تو کوئ قصور نہیں ہے سعدی کے بابا کا قصور ہے جلدی شادی کرتے تو وہ میرا ہم عمر ہوتا۔۔شرارت سے کہتے اس نے سر رخشندہ بھیگم کی گود میں رکھ دیا ۔۔
جو بھی ہے شادی کا حیال دل سے نکال دو سائرہ کی شادی طے کر دی ہے اس پر دھیان دو۔۔۔
اماں۔۔وہ شکوہ کناں تھا۔۔
بس امان اور کوئ بخث نہیں۔۔وہ سختی سے بولیں تھی۔وہ جتنا اس سے پیار کرتی تھیں اتنی ہی سختی بھی وہ اسے بگاڑنا نہیں چاہتی تھیں۔اور وہ بھی ڈر جاتا تھا ان کی سختی سے جیسے اب ڈر گیا تھا۔۔
جی ماما۔۔مایوس چہرے کے ساتھ وہ ان کے کمرے سے باہر نکلا۔۔اس کے فون نے رِنگ کیا۔ان نون نمبر تھا۔۔وہ اگنور کرتا ہوا گھر سے نکل آیا۔۔
گاڑی میں بیٹھا تھا کہ موبائل دوبارہ رِنگ کرنے لگا۔۔
کون ہے۔۔؛؟؟فون کان سے لگاتے وہ بیزاری سے بولا تھا۔۔
اچھا کہاں ہو تم ۔۔۔پہنچتا ہوں میں۔کال منقطع کرتے اس نے گاڑی فل سپیڈ سے گیٹ سے باہر نکالی۔۔۔


گاڑی ائیر پورٹ کے باہر رکی تھی۔ڈرائیور نے دوڑ کر اس کی طرف کا دروازہ کھولا۔پینسل ہیل پہنے ایک پاؤں اور پھر دوسرا پاؤں گاڑی سے باہر رکھتی بالوں کو اک ادا سے جھٹکتی وہ گاڑی سے باہر نکلی۔
اردگرد پر ایک سرسری نگاہ ڈالتے بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں پر سن گلاسز لگاۓ وہ تکبر سے چلتی ائیرپورٹ کی طرف بڑھی۔۔
اسلام علیکم میم۔۔!! اس کی سیکٹری اس سے پہلے ہی پہنچ چکی تھی۔۔اب کھڑی اس کا انتظار کر رہی تھی۔۔
مسٹر اے۔کے نہیں پہنچے ابھی تک۔۔وہ پرغرور انداذ میں بولی۔۔
میڈم ان کو انفارم کیا تھا ان کی سیکٹری کہہ رہی تھی ان کو تھوڑی دیر ہو جاۓ گی۔۔
ہمم رائٹ۔۔وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گئ۔سیکٹری اس کے رویے پر حیران ہوئ۔حیاسددوانی نے کبھی کسی کا انتظار کیا ہو بغیر ہنگامہ کیئے۔۔
میم میں انہیں بتا دوں آپ کو انتظار کرنا بلکل پسند نہیں۔۔
تم سے جتنا کہا جاۓ اتنا کرو ورنہ فارغ ہو تم۔گلاسز اتار کر ہاتھ میں پکڑتے تیز نظروں سے سیکٹری کو دیکھا جو گھبرا کر اب چپ چاپ کھڑی تھی۔۔
ٹھیک آدھے گھنٹے بعد اے۔کے آتا ہوا دکھائ دیا۔حیا بےحود سی اسے دیکھے گئ۔۔بلیک تھری پیس سوٹ میں بالوں کو ہمیشہ کی طرح خوبصورت سٹائل سے موڑے بیلک سن گلاسز پہنے ہمیشہ کی طرح کلائ میں پڑی رسٹ واچ کو دوسرے ہاتھ سے گھماتا وہ بہت ڈیشنگ لگ رہا تھا۔حیا تو کھو گئ تھی اس میں۔۔
اکسکیوزمی مس حیا۔۔اے۔کے نے اس کے چٹکی بجائ تو وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئ۔۔
اوہ سوری مسٹر اے۔کے ہاۓ۔۔معزرت کرنے کے بعد اس نے جلدی سے ہاتھ مصافحے کے لیئے بڑھایا۔۔
ہاۓ ۔۔!! ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اے۔کے نے اس کا بڑھا ہوا ہاتھ سرسری سا تھام کر چھوڑ دیا۔۔۔
تھوڑا لیٹ ہو گیا میں سوری۔فلائیٹ کا اعلان ہوا تو وہ سوٹ کیس ٹرالی میں ڈالے آگے بڑھ گۓ۔۔۔


جاری ہے۔۔