60.6K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

او لڑکی بتا کدھر چھپایا ہے اپنے بھائ کو__پولیس کانسٹیبل عورت نے اسے دھکا دیا اور کمرے میں گھس گئ. . وہ سیدھی صوفے پر جا گری . کُہنی صوفے سے لگی تو درد کی ایک تیز لہر اس کے رگ و جاں میں سرائیت کر گئ. . .
نہیں ہے سعدی گھر پر. . کُہنی کو دوسرے ہاتھ سے تھامے وہ پیچھے بھاگی. . . .
او لڑکی ابھی ہم جا رہے ہیں مگر پھر آئیں گے تیرا بھائ آ گیا تو خود ہی بتا دینا. . بچنے والا نہیں ہے وہ. . . . پولیس والا انگلی اٹھا کر تنبیہ کرنے لگا. . وہ ڈری سہمی سی پیچھے کو ہوئ. بازوں ابھی تک درد کر رہا تھا. . .
پولیس والے دروازہ دھڑام سے کھولتے چلے گۓ. . . اس کی رکی سانس بحال ہوئ. . . .
وہ گھٹنوں میں سر دے کر زمین پر بیٹھ گئ. . . آنسؤ روانی سے اس گے گالوں سے ہوتے ہوۓ گردن کو بھگو رہے تھے. . .
دانی. . بیٹا دروازہ کیوں کھلا ہوا ہے. . . . . اس کی ماں جو مارکیٹ گئ ہوئ تھی. واپس آنے پر گیٹ کھلا دیکھ کر چونکی. . . مگر دانی کو یوں روتے دیکھ کر تو ان کی جان ہوا ہوئ. .
دانی میری بچی. . . وہ بھاگتی ہوئ اس کے پاس آ بیٹھیں. .
اماں. . . ماں کو سامنے پا کر وہ ان کے لگے لگ گئ. . ذیادہ رونے کی وجہ سے اس کی ہچکی بند گئ تھی. . . ان کے گلے لگ کر اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی. . . .
اماں وہ پولیس آئ تھی سعدی کو ڈھونڈ رہی تھی. . . وہ ہچکیوں کے درمیان بولی. . .
پھر کیوں آئ تھی سعدی نہیں ہے یہاں. . . . ان کے اپنے آنسو بہہ نکلے تھے. . . .
بتایا تھا اماں وہ مان ہی نہیں رہے تھے. . . وہ یوں ماں سے چپکی تھی کہ جیسے کوئ الگ کر دے گا ان دونوں کو. . . .
بس تم چپ کر جاؤ میرا بیٹا. . بس. . وہ اسے تسلی دیتی تھیں چپ کرواتی تھیں مگر خود رو دیتی تھیں. . . تین ماہ سے سعدی غائب تھا اوپر سے پولیس نے ناک میں دم کر رکھا تھا. . . .
اماں سعدی نے کیوں مارا امان کو. . . . . آنسوؤں سے لبریز سرخ چہرہ اٹھا ماں کو دیکھا. . . . . . . . . .
اس نے نہیں مارا . . میرا بچہ قتل نہیں کر سکتا اور امان تو دوست تھا اس کا وہ ایسا نہیں کر سکتا. . . . وہ پریقین تھیں. . ساری دنیا قصوروار ٹھہرا دے مگر ایک ماں کا دل کبھی اپنے بیٹے کو قصوروار تسلیم نہیں کرتا. . .
اماں مجھے ڈرلگ رہا ہے . . . واقعی وہ سہمی ہوئ تھی. . جب جب پولیس گھر سے ہو کر جاتی تھی وہ ایسے ہی ڈری ڈری سی رہتی تھی. . . . .
میں اساور سے بات کروں گی وہ میری بات نہیں ٹالے گا. . . اس سے ذیادہ خود کو تسلی دی تھی انہوں نے. . . . اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوۓ وہ سوچنے لگیں کہ اساور کو کیسے راضی کریں کیس ختم کرنے پر. . . . . . . .


چچی. . ایک سولہ سترہ سالہ لڑکی بھاگتی ہوئ آ کر اس سے لپٹ گئ. . .
کیا ہوا سومو. . اس کے اس طرح لپٹنے پر وہ مسکرا اٹھی تھی. . اک یہی تو تھی جس سے اس کا دھیان بٹ جاتا تھا اس گھر میں. . ورنہ تو ہر کوئ اس کے خون کا پیاسا بنا پھرتا تھا . . .
چچی جان. . . میری دوستیں آ رہی ہیں کل تو وہی والا کیک بنا دیں گی جو بچھلے مہینے ہوسٹل جاتے ہوۓ بنا کر دیا تھا. . . ٹیبل سے سیب اٹھا بائٹ لیتے ہوۓ بولی. . .
کیوں نہیں ضرور. . . وہ مسکرائ. . . کٹی ہوئ مرچیں فرائ پین میں ڈھلتے ہیں شوں شوں کی آوازیں آنے لگیں. . .
ہاۓ چکس. . . سامنے سے آتے اساور کو دیکھ کر مسکراتے ہوۓ ہاتھ ہلایا. . . . . . .
میری گڑیا گئ نہیں. . . وہ مسکراتے ہوۓ کچن میں ہی چلا آیا۔دانی نے رخ موڑ کر خود کو کام میں مصروف کر لیا. .
کل شام میں جاؤں گی چکس. . وہ چاچو کی جگہ چکس کہتی تھی. . . . ۔۔دانی کے دل کی دھڑکن تیز ہوئ. .
دانین چاۓ لاؤ میرے لیئے. . . وہ کچن سے چلا گیا. . .
دانی کی تیز چلتی دھڑکنیں ٹھہری اور پھر معمول پر آئیں. . .
اچھا چچی آپا نے بلایا تھا نہ گئ کچا چبا جائیں گی جانتی ہیں آپ ان کو. . . سومو سیڑھیاں پھلانگتی ہوئ چلی گئ. . .
دانین نے جلدی سے چاۓ کا پانی چڑھایا کچھ شک نہیں تھا لیٹ ہونے پر وہ شخص چاۓ اس کے اوپر ہی پھینک دیتا. . .


چاۓ لے کر وہ روم میں داخل ہوئ تو وہ جینز اور ٹی شرٹ پہنے گاڑی کی چابی پکڑے کہیں جانے کو تیار تھا. . اک نظر اسے دیکھا اور پھر ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے بال بنانے لگا. . . .
آپ کی چاۓ. . . وہ خوفزدہ سی چاۓ لے کر آئ. . . ڈریسنگ کے سامنے کھڑے کھڑے ہی اس نے چاۓ پکڑی. . اور سپ لیا . . . . . . . . .
اہ تھو. . . چاۓ کا سپ لیتے ہی اسے اچھو لگے. .
چاۓ بنانی نہیں آتی تو مت بنایا کرو. .خالہ لاڈ اٹھاتیں ہوں گی یہاں نہیں چلے گی یہ تباہی . . وہ غصے سے اس کی طرف مڑا کپ ابھی بھی اس کے ہاتھ میں تھا. . . وہ سہمی سی پیچھے کھسکی. .
میں نے تو صیح بنائ تھی. . . اس کا لہجہ کانپ رہا تھا. . چہرہ سے خوف واضح تھا. . . .
صیح بنائ ہے صیح ہاں یہ لو پیو پیو. . . وہ چاۓ لے کر اس کی طرف بڑھا. . زبردستی کپ اس کے منہ سے لگایا. . چاۓ چھلک کر اس کی ٹھوری کو جلا گئ پیو ناں. . . . . پیو خود ہی. . . وہ لمبے لمبے ڈگ بھڑتا کمرے سے نکل گیا. . . . .
وہ سسکیوں میں رونے لگی. . چاۓ کا کپ کارپٹ پر پڑا تھا. . چاۓ چھلک کر اس کی ٹھوری کو جلا گئ تھی جاتے ہوۓ وہ کپ بھی اس کے ہاتھ پر گرا گیا تھا. . . دائیں ہاتھ کا آدھا حصہ جل گیا تھا. . .
وہ وہیں کارپٹ پر بیٹھتی چلی گئ. . . ایسی زندگی تو اس نے نہیں سوچی تھی. . اس کے پاس رونے کے علاوہ اب تھا بھی کیا. . گھٹنوں میں سر دیئے وہ ہچکیوں میں رونے لگی. . . .


ناستہ بنا کر دو. . . . وہ جو ڈسٹنگ کر رہی تھی. . آواز پر چونک کر مڑی. . سامنے اساور کی بڑی بھتیجی سائرہ کھڑی تھی. . جو شادی شدہ ہونے کے باوجود ذیادہ تر وہیں پائ جاتی تھی. . شادی کو تین سال ہونے کے باوجود ابھی تک حالی گود تھی. . . .
میں ڈسٹنگ کر لوں پھر بنا دیتی ہوں. . . . اس کا لہجہ نرم تھا کچھ خوفذدہ سا بھی. . اس کا سارا اعتماد یہاں آ کر ختم ہو گیا تھا. . . . .
لڑکی کتنی بار سمجھایا ہے تجھے میرے آگے زبان مت چلایا کر . . . سائرہ نے اس کی کلائ زور سے مڑوڑ کر اسے اپنی طرف گھمایا. . دانین کے منہ سے سسکی نکلی. . . اس کا ہاتھ پہلے ہی جلا ہوا تھا اسے مزید تکلیف ہونے لگی. . . .
سائرہ میرا ہاتھ چھوڑیں . . . وہ تکلیف سے بلبلا رہی تھی. . . مگر اس گھر میں سفاک لوگ رہتے تھے کسی کے درد سے انہیں کچھ لینا دینا نہیں تھا. . .
جان پیاری ہوئ تو آئندہ اپنی زبان کو منہ کے اندر رکھنا. . . جھٹکے سے اس کا ہاتھ چھوڑا وہ لڑکھڑا کر ٹیبل کے پاس گری پاؤں ٹیبل کی پائنتی سے ٹکرایا انگھوٹے کا ناخن اکھڑ چکا تھا اور خون نکل رہا تھا. . . خون دیکھ کر وہ رو پڑی. . . . .
نوٹنکی ختم ہو گئ ہو میڈم دانین تو ناشتہ بنا دو. . . اس کے زخم کو نظرانداذ کر کے وہ ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھ گئ. . .
درد کو برداشت کرتی آنسوؤں کو پیتی پاؤں گھسیٹتی وہ کچن میں گھس گئ. . .
اساور کا وہ جملہ روز اس کے کانوں میں گونجتا تھا. . .
“ونی میں آئ لڑکیوں کی یہی اوقات ہوتی ہے”اور اس کی تو کوئ اوقات رہی ہی نہیں تھی. . .
اندر باہر سے وہ زحموں سے چور تھی کچھ دِکھتے تھے اور کچھ نہیں دِکھتے تھے۔اور یہ جو زخم دِکھتے نہیں ہے وہئ دُکھتے بہت ہیں. . . . . . .


جاری ہے۔۔۔