No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
او لڑکی بتا کدھر چھپایا ہے اپنے بھائ کو__پولیس کانسٹیبل عورت نے اسے دھکا دیا اور کمرے میں گھس گئ. . وہ سیدھی صوفے پر جا گری . کُہنی صوفے سے لگی تو درد کی ایک تیز لہر اس کے رگ و جاں میں سرائیت کر گئ. . .
نہیں ہے سعدی گھر پر. . کُہنی کو دوسرے ہاتھ سے تھامے وہ پیچھے بھاگی. . . .
او لڑکی ابھی ہم جا رہے ہیں مگر پھر آئیں گے تیرا بھائ آ گیا تو خود ہی بتا دینا. . بچنے والا نہیں ہے وہ. . . . پولیس والا انگلی اٹھا کر تنبیہ کرنے لگا. . وہ ڈری سہمی سی پیچھے کو ہوئ. بازوں ابھی تک درد کر رہا تھا. . .
پولیس والے دروازہ دھڑام سے کھولتے چلے گۓ. . . اس کی رکی سانس بحال ہوئ. . . .
وہ گھٹنوں میں سر دے کر زمین پر بیٹھ گئ. . . آنسؤ روانی سے اس گے گالوں سے ہوتے ہوۓ گردن کو بھگو رہے تھے. . .
دانی. . بیٹا دروازہ کیوں کھلا ہوا ہے. . . . . اس کی ماں جو مارکیٹ گئ ہوئ تھی. واپس آنے پر گیٹ کھلا دیکھ کر چونکی. . . مگر دانی کو یوں روتے دیکھ کر تو ان کی جان ہوا ہوئ. .
دانی میری بچی. . . وہ بھاگتی ہوئ اس کے پاس آ بیٹھیں. .
اماں. . . ماں کو سامنے پا کر وہ ان کے لگے لگ گئ. . ذیادہ رونے کی وجہ سے اس کی ہچکی بند گئ تھی. . . ان کے گلے لگ کر اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی. . . .
اماں وہ پولیس آئ تھی سعدی کو ڈھونڈ رہی تھی. . . وہ ہچکیوں کے درمیان بولی. . .
پھر کیوں آئ تھی سعدی نہیں ہے یہاں. . . . ان کے اپنے آنسو بہہ نکلے تھے. . . .
بتایا تھا اماں وہ مان ہی نہیں رہے تھے. . . وہ یوں ماں سے چپکی تھی کہ جیسے کوئ الگ کر دے گا ان دونوں کو. . . .
بس تم چپ کر جاؤ میرا بیٹا. . بس. . وہ اسے تسلی دیتی تھیں چپ کرواتی تھیں مگر خود رو دیتی تھیں. . . تین ماہ سے سعدی غائب تھا اوپر سے پولیس نے ناک میں دم کر رکھا تھا. . . .
اماں سعدی نے کیوں مارا امان کو. . . . . آنسوؤں سے لبریز سرخ چہرہ اٹھا ماں کو دیکھا. . . . . . . . . .
اس نے نہیں مارا . . میرا بچہ قتل نہیں کر سکتا اور امان تو دوست تھا اس کا وہ ایسا نہیں کر سکتا. . . . وہ پریقین تھیں. . ساری دنیا قصوروار ٹھہرا دے مگر ایک ماں کا دل کبھی اپنے بیٹے کو قصوروار تسلیم نہیں کرتا. . .
اماں مجھے ڈرلگ رہا ہے . . . واقعی وہ سہمی ہوئ تھی. . جب جب پولیس گھر سے ہو کر جاتی تھی وہ ایسے ہی ڈری ڈری سی رہتی تھی. . . . .
میں اساور سے بات کروں گی وہ میری بات نہیں ٹالے گا. . . اس سے ذیادہ خود کو تسلی دی تھی انہوں نے. . . . اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوۓ وہ سوچنے لگیں کہ اساور کو کیسے راضی کریں کیس ختم کرنے پر. . . . . . . .
چچی. . ایک سولہ سترہ سالہ لڑکی بھاگتی ہوئ آ کر اس سے لپٹ گئ. . .
کیا ہوا سومو. . اس کے اس طرح لپٹنے پر وہ مسکرا اٹھی تھی. . اک یہی تو تھی جس سے اس کا دھیان بٹ جاتا تھا اس گھر میں. . ورنہ تو ہر کوئ اس کے خون کا پیاسا بنا پھرتا تھا . . .
چچی جان. . . میری دوستیں آ رہی ہیں کل تو وہی والا کیک بنا دیں گی جو بچھلے مہینے ہوسٹل جاتے ہوۓ بنا کر دیا تھا. . . ٹیبل سے سیب اٹھا بائٹ لیتے ہوۓ بولی. . .
کیوں نہیں ضرور. . . وہ مسکرائ. . . کٹی ہوئ مرچیں فرائ پین میں ڈھلتے ہیں شوں شوں کی آوازیں آنے لگیں. . .
ہاۓ چکس. . . سامنے سے آتے اساور کو دیکھ کر مسکراتے ہوۓ ہاتھ ہلایا. . . . . . .
میری گڑیا گئ نہیں. . . وہ مسکراتے ہوۓ کچن میں ہی چلا آیا۔دانی نے رخ موڑ کر خود کو کام میں مصروف کر لیا. .
کل شام میں جاؤں گی چکس. . وہ چاچو کی جگہ چکس کہتی تھی. . . . ۔۔دانی کے دل کی دھڑکن تیز ہوئ. .
دانین چاۓ لاؤ میرے لیئے. . . وہ کچن سے چلا گیا. . .
دانی کی تیز چلتی دھڑکنیں ٹھہری اور پھر معمول پر آئیں. . .
اچھا چچی آپا نے بلایا تھا نہ گئ کچا چبا جائیں گی جانتی ہیں آپ ان کو. . . سومو سیڑھیاں پھلانگتی ہوئ چلی گئ. . .
دانین نے جلدی سے چاۓ کا پانی چڑھایا کچھ شک نہیں تھا لیٹ ہونے پر وہ شخص چاۓ اس کے اوپر ہی پھینک دیتا. . .
چاۓ لے کر وہ روم میں داخل ہوئ تو وہ جینز اور ٹی شرٹ پہنے گاڑی کی چابی پکڑے کہیں جانے کو تیار تھا. . اک نظر اسے دیکھا اور پھر ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے بال بنانے لگا. . . .
آپ کی چاۓ. . . وہ خوفزدہ سی چاۓ لے کر آئ. . . ڈریسنگ کے سامنے کھڑے کھڑے ہی اس نے چاۓ پکڑی. . اور سپ لیا . . . . . . . . .
اہ تھو. . . چاۓ کا سپ لیتے ہی اسے اچھو لگے. .
چاۓ بنانی نہیں آتی تو مت بنایا کرو. .خالہ لاڈ اٹھاتیں ہوں گی یہاں نہیں چلے گی یہ تباہی . . وہ غصے سے اس کی طرف مڑا کپ ابھی بھی اس کے ہاتھ میں تھا. . . وہ سہمی سی پیچھے کھسکی. .
میں نے تو صیح بنائ تھی. . . اس کا لہجہ کانپ رہا تھا. . چہرہ سے خوف واضح تھا. . . .
صیح بنائ ہے صیح ہاں یہ لو پیو پیو. . . وہ چاۓ لے کر اس کی طرف بڑھا. . زبردستی کپ اس کے منہ سے لگایا. . چاۓ چھلک کر اس کی ٹھوری کو جلا گئ پیو ناں. . . . . پیو خود ہی. . . وہ لمبے لمبے ڈگ بھڑتا کمرے سے نکل گیا. . . . .
وہ سسکیوں میں رونے لگی. . چاۓ کا کپ کارپٹ پر پڑا تھا. . چاۓ چھلک کر اس کی ٹھوری کو جلا گئ تھی جاتے ہوۓ وہ کپ بھی اس کے ہاتھ پر گرا گیا تھا. . . دائیں ہاتھ کا آدھا حصہ جل گیا تھا. . .
وہ وہیں کارپٹ پر بیٹھتی چلی گئ. . . ایسی زندگی تو اس نے نہیں سوچی تھی. . اس کے پاس رونے کے علاوہ اب تھا بھی کیا. . گھٹنوں میں سر دیئے وہ ہچکیوں میں رونے لگی. . . .
ناستہ بنا کر دو. . . . وہ جو ڈسٹنگ کر رہی تھی. . آواز پر چونک کر مڑی. . سامنے اساور کی بڑی بھتیجی سائرہ کھڑی تھی. . جو شادی شدہ ہونے کے باوجود ذیادہ تر وہیں پائ جاتی تھی. . شادی کو تین سال ہونے کے باوجود ابھی تک حالی گود تھی. . . .
میں ڈسٹنگ کر لوں پھر بنا دیتی ہوں. . . . اس کا لہجہ نرم تھا کچھ خوفذدہ سا بھی. . اس کا سارا اعتماد یہاں آ کر ختم ہو گیا تھا. . . . .
لڑکی کتنی بار سمجھایا ہے تجھے میرے آگے زبان مت چلایا کر . . . سائرہ نے اس کی کلائ زور سے مڑوڑ کر اسے اپنی طرف گھمایا. . دانین کے منہ سے سسکی نکلی. . . اس کا ہاتھ پہلے ہی جلا ہوا تھا اسے مزید تکلیف ہونے لگی. . . .
سائرہ میرا ہاتھ چھوڑیں . . . وہ تکلیف سے بلبلا رہی تھی. . . مگر اس گھر میں سفاک لوگ رہتے تھے کسی کے درد سے انہیں کچھ لینا دینا نہیں تھا. . .
جان پیاری ہوئ تو آئندہ اپنی زبان کو منہ کے اندر رکھنا. . . جھٹکے سے اس کا ہاتھ چھوڑا وہ لڑکھڑا کر ٹیبل کے پاس گری پاؤں ٹیبل کی پائنتی سے ٹکرایا انگھوٹے کا ناخن اکھڑ چکا تھا اور خون نکل رہا تھا. . . خون دیکھ کر وہ رو پڑی. . . . .
نوٹنکی ختم ہو گئ ہو میڈم دانین تو ناشتہ بنا دو. . . اس کے زخم کو نظرانداذ کر کے وہ ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھ گئ. . .
درد کو برداشت کرتی آنسوؤں کو پیتی پاؤں گھسیٹتی وہ کچن میں گھس گئ. . .
اساور کا وہ جملہ روز اس کے کانوں میں گونجتا تھا. . .
“ونی میں آئ لڑکیوں کی یہی اوقات ہوتی ہے”اور اس کی تو کوئ اوقات رہی ہی نہیں تھی. . .
اندر باہر سے وہ زحموں سے چور تھی کچھ دِکھتے تھے اور کچھ نہیں دِکھتے تھے۔اور یہ جو زخم دِکھتے نہیں ہے وہئ دُکھتے بہت ہیں. . . . . . .
جاری ہے۔۔۔
