Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Pegham e Muhabbat (Episode 23,24)

Ik Pegham e Muhabbat by Mirha Khan

اے مایوس روح۔۔۔۔۔!!مہربانی کر کے مسکرائیں

(Oh sad soul..!! Please smile)

مسكرائیں۔۔۔!! کیوں کہ اللّه آپ کو دیکھ رہا ہے

(Smile..! Because Allah is watching you)

مسکرائیں۔۔!! کیوں کہ اللّه آپ کے ساتھ ہے

(Smile..!! Because Allah is with you)

مسکرائیں۔۔!!کیوں کہ اللّه ہمیشہ آپ کی حفاظت کرنے والا ہے

(Smile..!! Because Allah is always protecting you)

مسکرائیں۔۔!! کیوں کہ اللّه ہمیشہ آپ کو سنتا ہے

(Smile..!! because Allah is always listening to you)

مسکرائیں۔۔!! کیوں کہ اللّه آپ سے محبّت کرتا ہے

(Smile..!! Because Allah loves you)

مسکرائیں۔۔!! کیوں کہ یہ نیک اعمال میں شمار ہوتا ہے

(Smile..!! Because it is among good deeds)

مسکرائیں۔۔!! کیوں کہ یہ (مسكرانا) سنت ہے

(Smile..!! Because its Sunnah)

………………………………………………………………

دھیمی دل کو چھوتی آواز کے جادو نے ہر شخص کو اپنے طلسم میں جکڑ رکھا تھا۔۔ سکرین کے اس پار موجود لوگ اس کے خاموش ہونے پر بے چین ہوئے۔۔ ہر شخص یہ چاہتا تھا کہ یہ دھیمی پرسکون آواز میٹھے الفاظ کی حلاوت سے ان کے زخمی دلوں پر مرہم رکھتی رہے۔۔

لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھی وہ سكرین کے اس پار موجود سینکڑوں لوگوں کی نگاہوں کا مرکز تھی۔۔ اس نے نقاب درست کرتے ہوئے ہونٹوں کو جنبش دی۔۔

“السلام علیکم !!”

سلام کے جواب میں کئی لوگوں کی ملی جلی آوازیں ابھریں۔۔

“نفسِ امارہ اور نفسِ مطمئنہ” یہ کیسے فروغ پاتے ہیں۔۔؟

اس کی دهیمی آواز گونجی۔۔ سب دم سادھے اسے سننے لگے۔۔

یہ تو ہم سب کو پتہ ہے کہ عقل اور انسانی ضمیر جسمانی خواہشات کے تابع ہوتا ہے۔۔ ایسے مرحلے میں “نفسِ اماره” گناہ کی طرف مائل کرتے ہوئے ہر عقلی اور اخلاقی حد کو پهلانگ جاتا ہے۔۔

انسان سوچتا ہے کہ یہ میرا نفس ہے جو مجھے برائی پر اکساتا ہے۔۔ یہاں یہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ “نفسِ اماره” ہے جو انسان کو ہر ناجائز خواہش کی تكمیل پر اکساتا ہے۔۔

اب “نفسِ مطمئنہ” اسکے برعکس ہے،،، وہ چند سیکنڈ کے لئے رکی۔۔

ہم دونوں کی مثال ایسے لے سکتے ہیں جیسے ایک پنجرے میں “سیاہ کتا” جب کہ دوسرے پنجرے میں “سفید کتا” ہے۔۔

اگر آپ سیاہ کتے کو روز غذا دیں،، وہ جو بھی طلب کرے اسے اسکی خواہش سے بھی پہلے عطا کر دیں جب کہ سفید کتے کو آپ مہینوں کے لئے بھوکا رکھیں تو کون پھلے پھولے گا؟؟ کون زیادہ طاقتور ہوگا؟؟

صحیح،، سیاہ کتا!!

اور یہ “سیاہ کتا” ،، “نفسِ اماره” ہے۔۔

اس کتے کی غذا کیا ہے۔۔؟؟

وہ سامعین سے دريافت کرنے لگی۔۔

جواباً گہری خاموشی چھا گئی۔۔ وہاں ہر کوئی اپنے ضمیر کی عدالت میں شرمنده بیٹھا تھا۔۔

اسکی غذا ہے “گانے” ،،”جھوٹ” ،، “حرام کاری” ،، “والدین کی عزت میں کمی کرنا” ،، “دھوکہ دینا” ،، “اساتذہ کی عزت نہ کرنا” ،، “پورن کی لت لگنا” ڈرگز،، گانے کی محافل جو آج اگر ہماری تقریبات پر نہ سجائی جائیں تو ہمیں “پینڈو” اور پتہ نہیں کیا کیا کہا جاتا ہے۔۔ خصوصاً “پورن گرافی” نے نوجوان نسل کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔۔

اب ۔۔۔ اگر ہم اس “سیاہ کتے” یعنی “نفسِ اماره” کو بھوکا رکھیں اور “سفید کتے” کو کھانا دیں تو وہ طاقتور ہوگا،، مضبوط ہوگا۔۔

اور اس سفید کتے کی غذا کیا ہے۔۔؟؟ “نفسِ مطمئنہ” کی غذا کیا ہے؟؟

نماز ، قرآن، تہجد، خیرات، صدقات، اللّه کا ذکر، اللّه کی بات ماننا۔۔ اگر آپ اسے مضبوط نہیں کریں گے تو وہ سیاہ کتا نشونما پاتا آپ کو اپنا غلام بنا لے گا۔۔ وہ جو چاہے گا آپ کرتے چلے جائیں گے۔۔ اسلئے “نفسِ مطمئنہ” کو اسکی غذا فراہم کریں۔۔

اب کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ وہ برائی میں بہت آگے نکل گئے ہیں۔ گناہوں میں لتھرے ہوئے ہیں۔ اب ان کے لئے واپسی کی کوئی راہ نہیں۔ وہ اللّه سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ استغفار!!!

یہ مایوسی شیطان آپ کے دل میں ڈالتا ہے۔۔ آپ اللّه کی طرف ایک قدم بڑھا کر تو دیکھیں،، وہ آپ کو تھام لے گا ۔۔ آپ کے تمام گناہوں کے باوجود آپکو دھتکار نہیں ملے گی۔۔ بے شک اللّه آپ سے بہت محبت کرتا ہے۔۔

سننے والی ہر آنکھ اشک بار تھی،،، لوگوں کی دبی دبی سسكياں خاموشی کا سینہ چیر رہی تھیں۔۔

اب ایک اہم مسئلے کی طرف آتے ہیں۔۔ “پورن گرافی!!” خصوصاً “نوجوان نسل” اس بری عادت میں مبتلا ہے۔۔ جو کوئی بھی اس میں مبتلا ہوتا ہے وہ پھر اس میں ڈوبتا چلا جاتا ہے۔۔

استغفار!! اس کے آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی اتنے نقصان ہیں کہ اگر آپ سنجیدگی سے غور کریں تو آپ اس عادت سے چھٹکارا پانے کی کم از کم کوشش ضرور کریں۔۔

اب کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم کوشش کرتے ہیں لیکن کامیاب نہیں ہو پاتے۔۔ ان کو چاہیے کے اللّه سے ہدایت طلب کریں۔۔ بے شک ہدایت اسکو ہی ملتی ہے جسکا دل بدل جائے۔۔ اللّه اسے نہیں بدلا کرتا۔۔

آپ نماز کو باقاعدگی سے پڑھیں اور تنہا لمحات گزارنے سے گریز کریں۔ اسکے علاوہ آپ کثرت سے اللّه کا ذکر کریں۔۔ یقین کریں وہ آپ کو اس سب سے نکال دے گا۔۔

یہاں آج کا لیکچر ختم ہوتا ہے۔۔ اللّه مجھے اور آپ سب کو ہدایت دے اور اس ہدایت پر قائم رکھے۔۔ اگلے لیکچر میں حاضر ہوں گے۔۔ خدا حافظ!!

باریک نرم آواز میں وہ انہیں خدا حافظ کہتی لیپ ٹاپ کی سكرین نیچے کر گئی۔۔

زمین پر بچھے قالین پر بیٹھی دو گھنٹے تک لیکچر دینے کے بعد اس کی کمر اکڑ گئی تھی۔۔

اس نے آہستہ سے نقاب اتار کر دوپٹہ ڈھیلا کر کے لے لیا۔۔

سیدھی ہوتی اسکی نظر قدرے کونے میں زمین پر دو زانو بیٹھے شاہ ویر اور راحم پر گئی جو ناجانے کب سے وہاں بیٹھے تھے۔۔ اسے خوشگوار حیرت نے آن گھیرا۔۔

کیسے کر لیتی ہیں آپ یہ سب۔۔؟؟ ویر کے ہونٹوں میں جنبش ہوئی۔۔

انا نے نرمی سے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔

“اپنے ہر انداز سے آپ سامنے والے کو اپنا گرویده بنا لیتی ہیں۔۔”

راحم جو تب سے خاموش بیٹھا تھا،، نا سمجھی سے انہیں دیکھتا انا کی طرف بڑھا۔۔ سفید کاٹن کی شلوار قمیض میں سر پر سفید ہی ٹوپی ڈالے وہ لپک کر اسکی گود میں بیٹھ گیا۔۔

وہ بے اختیار ہوتی اسکا سر چوم گئی۔۔ “میرا بچہ!!”

ماما ۔۔؟؟ اللّه جی ہم سے پار کرتے ہیں نہ۔۔؟؟

اسے پورے لیکچر میں بس یہی بات سمجھ میں آئی۔۔

“ہاں بہت بہت بہت زیادہ۔۔” وہ نرمی سے اس کے ماتھے پر بکھرے بال سنوار کر گویا ہوئی۔۔

کتنا زیادہ۔۔۔؟؟ اتنا ۔۔؟ وہ اپنے ہاتھوں کو پورا کھولتا معصومیت سے پوچھنے لگا۔۔

اس سے بھی زیادہ میری جان!! وہ اسکا گال زور سے چومتی اسے اٹھا کر کھڑی ہو گئی۔۔

اسکی دیکھا دیکھی ویر بھی اٹھ کھڑا ہوا۔۔ وہ اس کے پاس گئی اور راحم کو اسکے حوالے کرتی نظر بچا کر اس کے گال پر بوسہ دے گئی۔۔

“کسی کو بہت شکایت تھی مجھ سے کہ میں بہت ظلم کرتی ہوں اس پہ۔۔”

اسے سمجھنے کا موقع دیے بغیر وہ کہتی کمرے سے جا چکی تھی۔۔

ویر اپنے گال پر ہاتھ رکھے ساکن کھڑا تھا۔۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا اس پر جو ابھی سر زد ہوا تھا۔۔

اچانک اس کے ہونٹ مسكراہٹ میں ڈھلے۔۔ اسکا مطلب وہ۔۔۔۔؟؟

سرشاری سے سوچتا وہ راحم کو لئے اس کے پیچھے کمرے سے نکل گیا۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

السلام علیکم ! وہ مسکرا کر سلام کرتی ان کے سامنے سر جھکا گئی۔۔

وعلیکم السلام !! یاسمین اسے ٹٹولتی نظروں سے دیکھ کر سامنے بیٹھے عدیل شاہ سے مخاطب ہوئیں۔۔

“ماشاءالله سے اب گھر سنبهالنے والی عورت بھی آ گئی ہے” پانی تو نہیں پوچھو گے۔۔؟؟

انا کا دل شرمندگی سے ڈوب مرنے کو چاہا۔ وہ تیزی سے کچن میں چلی گئی۔۔۔

عدیل شاہ نے الجھن سے ان کی طرف دیکھا۔۔ ان کا یہ انداز بلکل نیا تھا۔۔

یاسمین نے بغیر ظاہر کیے موبائل کا کیمرہ کھولا اور اس طرح اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا کہ سامنے کا سارا منظر صاف نظر آنے لگا۔۔

عدیل برا نہ ماننا لیکن تمہیں یہی لڑکی ملی تھی اپنی بہو بنانے کے لئے،، وہ حقارت بھرے لہجے میں گویا ہوئیں۔۔

جوس اور دیگر لوازمات ان کے سامنے رکھتی انا کے ہاتھ کانپ گیے۔ توہین سے اسکا چہرہ سرخ ہو گیا۔۔

انکی آواز سن کر ویر بھی لاؤنج میں آ گیا۔۔ اس کے ماتھے پر پڑے بل اسکے غصے میں ہونے کی چغلی کھا رہے تھے۔۔

کیا مطلب ہے آپ کی اس بات کا؟؟ آپ پہلی بار اس سے مل رہی ہیں پھر کیسے ایسا کہہ سکتی ہیں؟

وہ ماتھے پر بل ڈال کر بولے۔۔

دیکھو عدیل میں تمہارا بھلا ہی سوچ رہی ہوں۔۔ تم اس سے رشتہ طے کرنے سے پہلے ایک دفعہ مجھے تو بتا دیتے۔۔ ایسی چالو لڑکی ہے یہ تمہارے بیٹے کو بھی پھانس لیا جیسے اس سے پہلے جانے کتنوں کو۔۔۔۔۔۔

“بسس !! ایک لفظ اور نہیں،، میں برداشت نہیں کروں گا۔۔” ویر درشتگی سے انگلی اٹھا کر بولا۔۔

اپنی کردار کشی پر وہ منہ پر ہاتھ رکھتی رونے لگی۔۔

ارے تم کیا مجھے چپ کرواؤ گے سچ سنا نہیں جا رہا تم سے۔۔ خوب جانتی ہوں میں ایسی لڑکیوں کو۔۔ ایسی بے غیرت اور بے حیا لڑکی ہے یہ میں تمھیں ثبوت بھی دکھا سکتی۔۔۔۔۔

“بسس !! چپ،، ورنہ میں آپ کے بڑے ہونے کا لحاظ بھی بھول جاؤں گا۔۔” وہ انکی طرف بڑھتا داڑھا۔۔

عدیل شاہ نے فوراً لپک کر اسے پیچھے ہٹایا۔۔

“میری بیوی کے بارے میں بکواس کررہی ہیں آپ،، جو نامحرموں سے پردہ کرتی ہے جو راہ چلتے آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتی میری باحیا بیوی کو بے حیا کہہ رہی ہیں آپ۔۔”

وہ انکے منہ پر داڑھا۔۔ طیش سے اس اسکی آنکھیں سرخ ہو گئی تھیں۔۔ ہاتھوں کی مٹھیاں بھنچے وہ غضبناک نظروں سے انہیں دیکھ رہا تھا۔۔

یاسمین اپنی اتنی توہین اور ویر کے تیور دیکھ کر اندر ہی اندر ڈر گئیں۔۔

“نکل جائیں یہاں سے اس سے پہلے کہ میں کچھ کر ڈالوں۔۔”

اس کے وارننگ دینے والے انداز پر وہ ہاتھ میں پکڑے موبائل کا کیمرہ بند کرتیں پرس ہاتھ میں پکڑ کر اٹھ کھڑی ہوئیں،،، انہوں نے یہاں سے جانے میں ہی عافيت سمجھی۔۔

“ستیاناس ہو منحوس ماری کا!! نا ہی کام ہوا اور رہی سہی عزت بھی گئی۔۔” انہوں نے كلس کر سوچا۔۔

“ایک منٹ!!”

وہ وہاں سے نکلنے ہی لگیں تھی کہ شاہ ویر کی آواز پر ٹھہر گئیں۔۔

وہ انہیں کیمرہ بند کرتے دیکھ چکا تھا۔۔ عجلت میں سر زد ہوئی غلطی انکے سر پڑ چکی تھی۔۔

یہ کیوں آن کیا تھا؟ ریکارڈ کررہی تھیں آپ سب۔۔؟؟

اس نے انکی طرف بڑھتے ان کے ہاتھ سے موبائل جهپٹنے کے انداز میں پکڑا۔۔ وہ ہکا بکا اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھتی رہ گئیں۔۔

ویر نے گیلری کھولی تو سامنے ہی وہ ویڈیو آ گئی۔۔

ہک ہا!! بھلا پاسورڈ ہی لگا دیتی موئے موبائل کو،،، وہ اپنے آپ کو کوسنے لگیں۔۔

بتائیں کس کے کہنے پر آپ نے یہ سب کیا ہے۔۔؟؟ جواب دیں!! وہ اپنے اشتعال پر قابو پاتے ہوئے بولا۔۔

کک کیا کہہ رہے ہو؟؟ اس کے پوچھنے پر انکا حلق سوکھ گیا۔۔

آپ کو ایسے میری بات سمجھ نہیں آئے گی۔۔ میں ابھی پولیس کو کال کرتا ہوں۔۔

اسکی دھمکی پر انہوں نے عدیل شاہ کی طرف دیکھا۔۔ عدیل منع کرو اسے،، مجھ پر الزام لگا رہا ہے۔۔ لیکن وہ منہ پھیر گئے۔۔

“رک۔۔ رکو ۔۔ میں بتاتی ہوں۔۔”

ویر جبڑے بھینچے انکی طرف متوجہ ہوا۔۔ کس کے کہنے پر کیا ہے۔۔؟؟

“میر۔۔میرال کے کہنے پر”

وه اپنی جان بچانے کو اسکا نام زبان پر لے آئیں۔۔

میرال رانا۔۔؟؟ ویر کا دماغ بھک سے اڑ گیا۔۔ اسے اندازه نہیں تھا کہ وہ اتنی گری ہوئی حرکت کرے گی۔۔

اسکو تو میں نہیں چھوڑوں گا۔۔ وہ آندھی طوفان بنا سرخ آنکھوں سے موبائل کان سے لگاتا باہر نکل گیا۔۔ میری میٹنگ ارینج کرو میرال رانا کے ساتھ۔۔ کوئیک!!

اس کے جاتے ہی عدیل شاہ انا کے پاس آ کھڑے ہوئے۔۔ بس میرا بیٹا ہمیں تم پر پورا یقین ہے۔ دل چھوٹا نہ کرو ۔۔

اور آپا!! وہ انکی طرف مڑے۔۔ آپ سے مجھے ایسی گری ہوئی حرکت کی امید نہیں تھی۔۔

وہ اپنی بے عزتی پر تلملاتی ہوئیں بڑبڑا کر گھر کی دہلیز عبور کر گئیں۔۔

بابا ویر ۔۔؟؟ انا اس کے بارے میں سوچ کر پریشان ہوئی۔۔ بہت غصے میں گئے ہیں۔۔

کچھ نہیں ہوتا وہ سمجھدار ہے۔۔ تم پریشان نہ ہو۔۔ دیکھو راحم جاگ نہ گیا ہو۔۔ خوامخواہ اتنا تماشا کر کے چلی گئیں۔۔ وہ بڑبڑا کر اپنے کمرے میں چلے گئے۔۔

انا نے کنپٹی مسلتے اپنے کمرے کا رخ کیا۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

“سر میم بزی ہیں ابھی تھوڑی دیر ویٹ۔۔۔۔”

اسکی زبردست گھوری پر سیکرٹری گھگھیا گیا۔۔

اپنا منہ بند کرو اور دوسری طرف کا راستہ ناپو!! درشتگی سے اسے کہتا وہ بغیر ناک کیے اس کے پرسنل آفس میں داخل ہوا۔۔

سامنے کا منظر اسے اس عورت سے مزید متنفر کر گیا۔۔

وہ کھڑی ہوئی ٹیبل پر جھک کر کچھ لکھ رہی تھی۔۔ اسکا گہرا گلا اسکی زینت کو چھپانے کے لیے ناكافی تھا۔۔

سلیولیس بلیک گلیٹری شرٹ اور ٹائٹ بلیک جینز پہنے وہ اسکی سمت دیکھتی ایک ادا سے مسکرا کر سیدھی ہوئی۔۔

جونہی وہ سیدھی کھڑی ہوئی اس کی عریاں کمر نماياں ہوئی۔۔ سرخ لپ سٹک سے رنگے ہونٹوں پر سیٹی کی دھن بجاتی وہ ایک ادا سے چلتی اس تک آئی ۔۔

اس کے تیکھے نقوش کو پیاسی نظروں سے دیکھتی وہ اس کے قریب ہوتی اسکے اوپر سے ہاتھ گزار کر دروازه لاک کر گئی۔۔

ویر نے اسے خود سے دور دھکیلا۔۔

“ارے ڈارلنگ اتنے غصے میں کیوں۔۔۔۔۔” اس کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے۔۔

وہ خطرناک تیوروں سے اسکی گردن کو اپنے ہاتھ کے شکنجے میں لیتا دیوار سے لگا گیا۔۔

مجھ سے ۔۔۔ میری بیوی سے ۔۔ دور ۔۔رہو ۔۔ اس نے ایک ایک لفظ چبا کر ادا کیا۔۔

وہ اپنی گردن پر موجود اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ پھیرتی مسکرا دی۔۔ “مار دو نا مجھے!! ان مضبوط بانہوں کے حصار میں مرنا بھی قبول ہے میرال کو۔۔”

اٹک اٹک کر بولتی وہ اسکا دماغ گھما گئی۔۔ اس نے پوری قوت سے اسے زمین پر جھٹکا۔۔

وه توازن کھوتی زمین پر گری۔۔ آہ!! یو سٹوپڈ مین!! بٹ اٹس اوکے!! وہ ہاتھ جھاڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔

“آئی لو یور اٹھتیٹود مائی اینگری مین” وہ اسکےبے حد قریب ہوتی اسکی گردن پر اپنے تشنہ ہونٹ رکھ گئی۔۔

چٹاخ!!!

شاہ ویر نے اسے پیچھے دھکیلتے زوردار تمانچہ اس کے منہ پر دے مارا۔۔

وہ منہ پر ہاتھ رکھے ساکت کھڑی رہ گئی۔۔

“تم جیسی لڑکیوں پر میں تھوکنا بھی پسند نہیں کرتا۔۔ ایسی ہزار لڑکیاں راستوں میں گری پڑی مل جاتی ہیں۔۔ تمہیں کیا لگا تھا کہ میرے سامنے میری بیوی کی کردار کشی کروا کر تم مجھے اس سے متنفر کر دو گی۔۔ بہت بڑی بھول تھی تمہاری میرال رانا”

وہ تیکھی مسکراہٹ سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔۔

پوری دنیا بھی اکٹھی ہو کر اسکے خلاف بولے تب بھی میں اپنی بیوی پر بھروسہ کروں گا،،، اتنی شدت سے محبت کرتا ہوں میں اس سے۔۔

میرال کا دل کرچی کرچی ہوا۔۔ ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹپکتا ہوا ٹھوڑی پر ٹھہرا اور پھر نیچے گر گیا۔۔ ایسا تو کبھی نہیں ہوا تھا کہ اسکا بڑھایا ہوا ہاتھ کوئی اس طرح جھٹک دے۔ آج اسکا غرور چھن سے ٹوٹا تھا۔۔

“آئندہ اپنا گندہ وجود مجھ سے دور رکھنا۔۔ تم جیسی لڑکی کو میں اپنی جوتی کی نوک پر رکھتا ہوں۔۔”

اسکی آنکھوں میں آنکھیں گاڑے نفرت میں ڈوبی آواز میں کہتا وہ وہاں سے واک آؤٹ کر گیا۔۔

اسکا سکتہ تب ٹوٹا جب وہ زوردار آواز سے دروازه بند کرتا جا چکا تھا۔۔

نہیں !! وہ پوری قوت سے چیختی میز پر رکھے کاغذات اور دیگر چیزوں کو ہاتھ مار کر نیچے گراتی جنونی کیفیت میں مبتلا ہو گئی۔۔

چھناکے کی آواز سے ڈیکوریشن پیس زمین بوس ہو گئے۔۔

نہیں ایس۔۔ایسا نہیں ہو سکتا۔۔ وہ زمین پر بیٹھتی گھٹنوں میں سر دیتی زار و قطار رونے لگی۔۔

ایک خیال آنے پر اس نے تیزی سے سر اٹھایا۔ موبائل پکڑ کر ایک نمبر پر کال ملاتی وہ فون کان سے لگا گئی۔۔

دوسری طرف سے کال ریسیو کر لی گئی۔۔

بابا۔۔۔!! وہ بلکنے لگی۔۔ میرال ہار گئی آج،، بابا ہار گئی میرال۔۔ میں میں آپ سے سوری۔۔۔ آئی ایم سوری بابا۔۔ میرے پاس اور کوئی آپشن نہیں ہے۔ میرا دم گھٹ رہا ہے۔ میں۔۔

رک رک کر بولتی وہ دوسری جانب موجود شخص کے وجود میں خوف کی سرد لہر دوڑا گئی۔۔

سپیكر سے مسلسل آواز ابھر رہی تھی لیکن وہ کال کاٹ گئی۔۔

اس نے دھندلی آنکھوں سے زمین پر چکنا چور ہوئے ڈیکوریشن پیس کو دیکھا۔۔ ہاتھ بڑھا کر اس نے شیشے کے ایک ٹکڑے کو پکڑ لیا۔۔

کافی دیر تک وہ اسے ہاتھ میں تھامے بیٹھی رہی۔۔ اور پھر ۔۔۔۔۔ اس نے وہ ٹکڑا اپنی كلائی پر زور سے پھیر دیا۔۔

گاڑھا سرخ ماده کلائی سے نکل کر زمین پر گرنے لگا۔۔ وہ نیم وا آنکھوں سے زمین پر اکٹھے ہوتے سرخ خون کو دیکھنے لگی۔۔

نقاہت بڑھتی گئی اور بالاخر وہ ایک طرف کو لڑھک گئی۔

قسط_نمبر_24

رات کی تاریکی ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔۔ آسمان کو دھندلی روشنی بخشتا چاند موسم کے تیور دیکھتا بادلوں کی اوٹ میں چھپ گیا۔۔

زوردار بجلی چمکی اور ساتھ ہی طوفانی بارش برسنے لگی۔۔ اچانک سب گھروں میں تاریكی چھا گئی۔۔ ایسے موقع پر بجلی ہمیشہ کی طرح دغا دے گئی تھی۔۔

اسکی آنکھ بارش کی تیز آواز سے کھلی۔۔ بارش کے قطرے کھڑکی سے ٹکراتے ایک خوشگوار آواز پیدا کر رہے تھے۔۔

آنکھ کھلنے پر بھی اسکی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھایا رہا تو وہ آنکھوں کو دونوں ہاتھوں سے ملتی اٹھ بیٹھی۔۔

اندھیرے میں اسے عجیب خوف محسوس ہوا۔۔

ہان۔۔۔؟؟

اسے پکاڑتی وہ رو دینے کے قریب تھی۔۔

اسکی آواز پر فوراً فلیش لائٹ آن ہوئی۔۔

“میں یہی ہوں ادھر کھڑکی کے پاس۔۔”

آواز کے تعاقب میں اس نے دیکھا تو وہ صوفے پر نیم دراز لیپ ٹاپ گود میں رکھے اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔

وہ اپنے نائٹ سوٹ کو ٹھیک کرتی جلدی سے بیڈ سے نیچے اتری اور دوڑ کر اسکی گود سے لیپ ٹاپ اٹھاتی پورے حق سے بیٹھتی اسکے سینے پر سر رکھتی آنکھیں موند گئی۔۔۔

اسکا رخ جہان کی جانب تھا اطراف سے دونوں پاؤں نیچے زمین کو چھو رہے تھے ۔۔

وہ اس کے بازو پکڑ کر اپنی گردن کے گرد رکھتا اسکے گرد اپنے بازوؤں کا مضبوط حصار باندھتا اسے خود میں بھینچ گیا۔۔

وہ مندی آنکھوں سے اسے دیکھتی کسمسا کر سیدھی ہو بیٹھی۔۔

ہان۔۔؟؟ اسکے گال پر ہاتھ رکھتی وہ اسے پکار گئی۔۔

ہممم ۔۔؟؟ وہ پوری توجہ سے اسے دیکھنے لگا۔۔

“یہ کھڑکی کھول دیں۔۔” اسکی فرمائش پر جی حضوری کرتا وہ اسے تھامے ہی ذرا کا ذرا اٹھتا ایک ہاتھ سے کھڑکی کھول گیا۔۔

ٹھنڈی ہوا کے تیز جھونکے اندر داخل ہوتے دونوں کو ایک خوش نما احساس میں مبتلا کر گئے۔۔

برستی بارش کی چند بوندیں دونوں کے چہرے پر پڑیں۔۔ نرم گرم چہرے پر بارش کی ٹھنڈی بوندیں پڑنے پر وہ آنکھیں بند کر گئی۔۔

وه اسکے قریب ہوتا اسکے چہرے پر چمکتے موتیوں کو لبوں سے چننے لگا۔۔

اسے موڈ میں آتے دیکھ کر وہ پٹ سے آنکھیں کھولتی اسکے لبوں پر اپنا ہاتھ رکھ گئی۔۔

جہان نے مسکراتی نظروں سے اسے دیکھتے اپنے لبوں پر رکھے اسکے ہاتھ کو چوم لیا۔۔

آپ کو پتہ ہے میں بہت ڈر گئی تھی اندھیرے میں،، وہ اسکا دیهان بھٹکانے کو بولی۔۔

تمہیں جب بھی کبھی ڈر لگے تم اسی طرح میری گود میں آ جایا کرنا۔۔ وہ خمار بھرے لہجے میں بولتا اسکے گالوں پر گلال بکھیر گیا۔۔

وہ نظر اٹھا کر اسے دیکھتی پھر نظر جھکا گئی۔۔ وہ اسکی نیلی گہری آنکھوں میں خود کو ڈوبتا محسوس کرنے لگا۔۔

تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات

تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے

وہ اسکے کان کی لو کو چوم کر سرگوشی کرتا اسکی جان ہلکان کر گیا۔۔

جانے کتنی دیر وہ اسکے حصار میں پڑی اسکی دھڑکنیں شمار کرتی رہی۔۔ اچانک اس کے دل میں بارش میں بھیگنے کا شوق پیدا ہوا۔۔

ہان بارش میں چلیں۔۔؟؟ وہ ایکسائٹڈ ہو کر بولی۔۔

بلکل نہیں بیمار ہو جاؤ گی۔۔ وہ فوراً انکار کر گیا۔۔

وه ناراض نظروں سے اسے دیکھتی اسکی گود سے اتر گئی۔۔ “آپ بلکل پیار نہیں کرتے مجھ سے۔۔” وہ بیڈ پر ٹانگیں لٹکا کر بیٹھتی شکوہ کر گئی۔۔

یہ اچھی بلیک میلنگ ہے!!

بڑبڑا کر وہ اسکی طرف بڑھا۔۔

اچھا چلو لیکن بس تھوڑی دیر کے لیے۔۔ وہ خوشی سے اٹھتی اس سے لپٹ گئی۔۔

“جلدی چلیں ہلکی ہوجائے گی بارش” اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچتی وہ تیزی سے چھت کی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔۔

وہ اسکے بچکانہ انداز پر مسکرا کر نفی میں سر ہلا گیا۔۔

اللّه کتنی تیز بارش ہے!! وہ خوشی سے جھومنے لگی۔۔ چند سیکنڈ میں ہی وه بارش میں پوری طرح بھیگ چکے تھے۔۔

طوفانی بارش میں ٹھنڈی ہوا کے تھپیڑے دونوں کے وجود سے ٹکراتے سنسنی خیز لہر دوڑا گئے۔۔

تیز ہوا کا جھونکا آیا تو وہ کانپتی ہوئی جہان سے لپٹ گئی۔۔ وه اسکی کمر پر ہاتھ رکھتا اسے جھٹکے سے اوپر اٹھا گیا۔۔

کیا کہہ رہی تھی تم! میں پیار نہیں کرتا تم سے ہممم؟؟

اپنے لبوں کو اسکے گال سے مس کرتا وه دلکشی سے استفسار کرنے لگا۔۔

آ۔۔ آپ کے یہ انداز کسی دن مار ڈالیں۔۔۔۔۔۔۔ عین کے الفاظ حلق میں ہی رہ گئے۔۔

وہ پوری شدت سے اسکے بھیگے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی گرفت میں لے گیا۔۔ سانس اکھڑتا محسوس کر کے وه اسکے سینے پر ہاتھ مارنے لگی۔۔ لیکن آج اسکا اتنی آسانی سے پیچھے ہٹنے کا ارادہ نہی تھا۔۔

وہ اسے اپنے بازوؤں میں بھرتا زمین پر دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھتا اسکے لبوں کا جام پیتے مدہوش ہونے لگا۔۔

اسکا وجود ڈھیلا پڑتا محسوس کر کے وہ پیچھے ہٹتا اسکے چہرے پر بکھرے حیا کے رنگ دیکھنے لگا۔۔

“آئی ہیٹ یو!!” بکھری سانسوں کے درمیان بولتی وہ اس کے سینے پر مکے برسانے لگی۔۔

وہ خاموشی سے اسے تکتا یکدم اسے سائیڈ پر کرتے اٹھا اور نیچے جانے کے ارادے سے سیڑھیوں کی طرف قدم بڑھانے لگا۔۔

وہ بوکھلا کر اس کے پیچھے بھاگتی اس کا ہاتھ تھام گئی۔۔

“کیا ہوا ہان۔۔؟؟”

اسکا رخ اپنی جانب موڑتی وہ اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔۔ اسکا جوڑا کھل کر اس کی کمر پر گرتا جہان کی توجہ کا مرکز بنا۔۔

گیلے بالوں کی لٹوں کو ہاتھ سے چھوتے وہ خاموشی سے اسکی طرف دیکھنے لگا۔۔

یو ہیٹ میں۔۔؟؟

اسکے سنجیدگی سے پوچھنے پر وہ بے اختیار اسکے قریب ہوتی اسکے گال پر ہاتھ رکھتی گویا ہوئی۔۔

“نو!! آئی ڈونٹ ہیٹ یو۔۔ آئی لو یو سو مچ !!”

وہ اپنے پیر اسکے پیروں پر رکھ کر ایڑھیاں اوپر اٹھاتی اسکے چہرے کو جابجا چومنے لگی۔۔

محبّت ہو گئی ہے آپ سے ،، آپ کے بغیر جینے کا تصور بھی میرے لیے محال ہے۔۔ اسکے کان میں سرگوشی کرتی وہ اس کی گردن میں منہ چھپا گئی ۔۔

عین کے اقرار محبت پر وہ سرشاری سے اسے اپنے بازوؤں میں اٹھا کر نیچے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔

🌿
🌿
🌿

مما کیا ہوا ہے آپ کو۔۔؟؟

راحم اسے اداس دیکھ کر خود بھی اداس سا اسکے مقابل بیٹھ گیا۔۔

کچھ نہیں ہوا میری جان،، مما بلکل ٹھیک ہیں۔۔ وہ نا محسوس انداز میں آنکھ کے کونے پر ٹھہرا آنسو انگلی کی نوک سے صاف کرتی مسکرا کر گویا ہوئی۔۔

“نو!! آپ جھوٹ بول رہی ہیں آپ سیڈ ہیں،، مجھے پتہ ہے،، میں کوئی چھوٹا بے بی تھوڑی ہوں” وہ بے اختیار خفا ہوا۔۔

ارے میری جان آپ ابھی بھی چھوٹو شا بے بی ہو،، وه اس کی بات سے محظوظ ہوئی۔۔

راحم نے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اپنے بال ٹھیک کیے۔۔ نو مما میں اب بڑا ہو گیا ہوں،، وہ سنجیدگی سے بولا۔۔

اسکی باتوں پر انا کو ہنسی آئی۔۔ چہرے کے تاثرات کو نارمل رکھتے وہ اسے دیکھنے لگی جو اڑھائی سال کا ہو چکا تھا۔۔ وہ اپنی عمر کے بچوں سے زیادہ سمجهدار تھا اور ہر چیز پر بہت غور کرتا تھا۔۔

ہمم راحم تو اب بڑا ہوگیا ہے۔۔ اب سکول بھی جایا کرے گا۔۔ ہیں نا۔۔؟؟ وہ مسکراہٹ دبا کر گویا ہوئی۔۔

اسکے چہرے کی سنجیدگی پل میں اڑن چھو ہوئی۔۔

“آ۔۔ نہیں مما میں بہت اچھا بچا ہوں نہ اور اچھے بچے سکول نہیں جاتے۔۔”

وہ تفكر سے کہتے نفی میں سر ہلا گیا۔۔

وہ اسکی عجیب منطق پر حیران ہوئی۔۔ اچھاااا!! ایسی بات ہے تمہارے یہ خیالات تمہارے بابا کو بتاتی ہوں۔۔

وہ اسے شرارت سے مسکراتے دیکھ کر آنکھیں سكیڑ گئی۔۔

بھئی کون سے خیالات ہیں ہمارے شیر کے جو ہمیں نہیں پتہ۔۔؟؟ وہ اسکی بات اچکتا کمرے میں داخل ہوا۔۔

بابا کچھ بھی نہیں۔۔ منہ پر دونوں ہاتھ رکھتا وہ دوڑ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔

اسکے جاتے ہی وه ایک بار پھر سنجیدہ ہو گئی۔۔ سوچ سوچ کر اسکا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا۔۔ آخر کون تھی وہ اور کیا چاہتی تھی۔۔؟؟

دوپہر کا منظر آنکھوں کے سامنے آتے اسکی آنکھیں پھر سے گیلی ہو گئیں۔۔ وہ پلکیں جهپک کر آنکھوں کی نمی چھپاتی خوامخواہ دراز میں رکھی چیزیں الٹ پلٹ کرنے لگی۔۔۔

کیا آپ کو واقعی لگتا ہے کہ آپ اپنے آنسو مجھ سے چھپا سکتی ہیں۔۔ اس کے قریب رکتے وه اسکا رخ اپنی جانب موڑ گیا۔۔

وہ آہستہ سے پیچھے ہٹتی بیڈ کے کنارے ٹک گئی۔۔ وہ اسکے سامنے پنجوں کے بل زمین پر بیٹھا۔۔

“مجھے آپ پر پورا یقین ہے آپ خود کو تکلیف نہ دیں۔۔” اسکے ہاتھ تھامنے پر وہ بھیگی پلکیں اٹھاتی اسے دیکھنے لگی۔۔

وہ کون ہے۔۔؟؟ ایسا کیوں کیا اس نے؟؟ وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔

“ماضی میں ہماری کمپنی نے انکی کمپنی کے ساتھ کچھ ڈیلنگز کی تھیں۔۔ کمپنی کے اونر کی صحت کچھ خراب رہنے لگی تو انہوں نے اپنی بیٹی کو اپنی جگہ میٹنگز کے لیے بھیجنا شروع کر دیا تھا۔۔ اس طرح اس سے کبھی کبھی سامنا ہو جاتا تھا۔۔ اچانک اس۔۔۔”

اس نے اپنے آپ کو کوئی سخت لفظ کہنے سے روکا۔۔

“وہ مجھے حاصل کرنا چاہتی ہے اس لیے اس نے یہ سب کروایا تا کہ مجھے آپ سے بدظن کر سکے لیکن وه مجھے جانتی نہیں تھی۔۔ ویر ایک بار جس کو دل میں جگہ دے دے اسکے علاوہ کسی کو دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا۔۔ آج اس کو اچھی طرح اس کی اوقات بتا آیا ہوں۔۔ دوبارہ کبھی میرے راستے میں آنے کی جرات نہیں کرے گی۔۔”

آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے پہلے ہی آپ کی نازک سی جان ہے۔۔ آخر میں وہ شرارت سے بولتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔

انا جھینپ گئی۔۔

ویر نے چینج کرنے کی غرض سے شرٹ اتاری اور الماری سے ڈهیلی شرٹ ٹراؤزر نکال کر مڑا تو انا چونک کر سیدھی ہوئی۔۔

یہ کیا ہے۔۔؟؟ اس کے قریب ٹھہرتی وہ اسکی گردن کو چھو کر بولی جہاں سرخ لپسٹک کا نشان چمک رہا تھا۔۔

“یہ کسی حسینہ کے نازک ہونٹوں کا لمس ہے!!” اسکی کمر کے گرد بازو حائل کرتے وہ شرارت سے لب دبا گیا۔۔

انا کی تیوری چڑھی۔۔ کس نے کِس (kiss) کیا ہے آپ کو۔۔؟؟ اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس چڑیل کا سر پھاڑ دیتی۔۔

بہت خوبصورت تھی وہ اور اس کے ہونٹ۔۔۔۔۔ اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی وہ اسکے لبوں پر ہاتھ رکھ گئی۔۔

ویر نے دلچسپی سے اسکے غصے سے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا۔۔

آپ جیلس ہو رہی ہیں۔۔؟؟ محظوظ ہو کر کہتے وہ لب کا کونا دانتوں میں دبا گیا۔۔۔

ہاں ہو رہی ہوں جیلس،، میرے علاوہ کوئی بھی آپ کو کِس نہیں کر سکتا۔۔ آپ کے قریب آنے کا آپ کو چھونے کا حق صرف مجھے ہے۔۔ آئی سمجھ ۔۔؟؟ غصے سے نتھنے پھلا کر وہ اسے پیچھے دھکیل کر خفگی سے رخ بدل گئی۔۔

اسے یہ بات ہضم نہیں ہو رہی تھی کہ ویر نے کسی لڑکی کو اپنے اتنے قریب آنے دیا۔۔

ارے سنو نا میری تیکھی مرچی!! وه اسکو جھٹکے سے اپنے سینے سے لگاتا اسکی گردن میں گہرے سانس لینے لگا۔۔

انا آنکھیں بند کرتی اسکے برہنہ سینے پر دونوں ہاتھ رکھ گئی۔۔

“میرال نے کیا تھا میری اجازت کے بغیر،، آپ کے علاوہ یہ حق میں نے کسی کو نہیں دیا۔۔ میں سر تا پا آپ کا ہوں۔۔ میری قربت کی حقدار صرف آپ ہیں۔۔”

بولتے ہوئے اسکے ہونٹ اس کی گردن کو چھو رہے تھے۔۔

ذرا سا پیچھے ہٹ کر وہ اسکے چہرے کے بدلتے رنگوں کو فرصت سے دیکھنے لگا۔۔

اپنے چہرے کو مسلسل اسکی نظروں کے حصار میں پا کر وہ کانپتی پلکوں کو اوپر اٹھاتی اسکی آنکھوں پر ہاتھ رکھ گئی۔۔

“ایسے نا دیکھیں مجھے ،، مجھے شرم آتی ہے۔۔” شرمیلی مسكان چہرے پر سجاتی وہ اسکے سینے میں منہ چھپانے لگی۔۔

آپ کو نہیں تو کسی اور کو دیکھ لوں ایسے۔۔؟؟ اس کی بات پر وہ خفگی سے سیدھی ہوئی۔۔

مجھے دیکھیں ایسے خبردار جو کسی اور کو ایسی نظروں سے دیکھا۔۔ منہ پھلا کر وہ اسکے بازو پر مکا مار گئی۔۔

“آہ!! یہاں لگا ہے سیدھا دل پر” وہ اسکی طرف جھکتے شرارت سے گویا ہوا۔۔

ہٹیں بھی!! اپنی مسکراہٹ چھپاتی وہ اپنے اور اسکے درمیان فاصلہ قائم کر گئی۔۔

ہا!! تم کب سے یہاں کھڑے ہو۔۔؟؟ اپنے پیچھے راحم کو کھڑے پا کر وہ خفت سے گویا ہوئی۔۔

میں نے کچھ بھی نہیں دیکھا سچی!! راحم نے فوراً آنکھوں پر دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔ ویر ڈھٹائی سے مسکرا دیا۔۔

دونوں باپ بیٹا ہی ایک جیسے ہیں،، بڑبڑاتی ہوئی وہ کمرے سے باہر چلی گئی۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

نیم اندھیرے میں وہ زمین پر گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی۔۔ کمرے کا زیرو واڈ کا بلب تاریکی کا سینہ چیرنے کے لئے ناکافی تھا۔۔

ملگجے لباس میں وہ ساکت بیٹھی ارد گرد سے بےنیاز تھی۔۔ جانے کتنے دنوں سے بالوں کو سلجھانے کا تكلف نہیں کیا گیا تھا۔۔

اچانک اس وجود میں ذرا سی جنبش ہوئی۔۔ اس کے دھیرے سے سر اٹھانے پر گال پر ٹھہرے آنسو اندھیرے میں موتیوں کی مانند چمکے۔۔

اس نے آہستہ سے ہاتھ اٹھا کر گال سے نیچے لڑھکتے آنسو پونچھے۔۔ ہاتھ اوپر اٹھانے سے کلائی میں بندھی سفید پٹی نمایاں ہوئی۔۔

ایسا لگتا تھا وه وجود کسی حادثے کی زد میں آیا تھا۔۔ اس حادثے کے گہرے اثرات اسکی ذات کو مسخ کر چکے تھے۔۔

چند دن پہلے:

جب چند منٹ تک انتظار کرنے کے بعد بھی اسکے آفس کا دروازه نہ کھلا تو سیکرٹری ڈرتا ڈرتا ڈور ناک کرتا اندر داخل ہوا۔۔ میرال کی اجازت کے بغیر کسی کو بھی اسکے آفس میں قدم دھرنے کی اجازت نہ تھی اس لئے سیکرٹری کا ڈر تو بجا تھا۔۔

جونہی وہ اندر گیا سامنے کا منظر اسکے اوسان خطا کر گیا۔ وہ زمین پر ایک طرف کو لڑھکی ہوئی تھی۔۔ کلائی سے خون قطرہ قطرہ نیچے گر رہا تھا۔۔ کمرے میں اسکے فون کی بیل کی آواز تواتر سے آ رہی تھی۔۔

اس نے گھبراہٹ پر قابو پا کر ہوش سے کام لیتے پہلے ایمبولنس کو کال کر کے بلایا اور پھر اپنے باس افتخار علی کو فون پر اسکی خودکشی کی کوشش کی اطلاع دی۔۔

آفس میں قہرام مچ گئی۔۔ لوگوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔۔ ہر کوئی اسکی خودکشی کی وجہ جاننا چاہتا تھا۔ اسکے زندہ رہنے یا نہ رہنے سے کسی کو کوئی سروکار نہ تھا۔۔

یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔۔ ہر نیوز چینل پر اسکی خودکشی کی کوشش کی خبر آ چکی تھی۔۔ میڈیا کے ہجوم میں بمشکل جگہ بناتے وہ ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہسپتال کی عمارت میں داخل ہوئے۔۔

ڈاکٹرز کے مطابق بہت زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے اسکا بچنا بہت مشکل تھا۔۔ پورا دن وہ جیسے سولی پر لٹکے رہے اور بالاخر اگلے دن ڈاکٹرز نے انہیں اسکی زندگی کی نوید سنائی۔۔

وه اس سے ملنے کے لئے گئے تو وہ بے ہوشی کی حالت میں تھی۔۔ اسکے چہرے کی ویرانی دیکھ کر ان کا دل بھر آیا۔۔

ایسی تو نہیں تھی میرال۔۔ سوکھے ہونٹوں پر جمی پپریاں، زرد رنگت پر آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکے۔۔ وہ دو دنوں میں ہی صدیوں کی بیمار لگنے لگی۔۔

چند دن بعد اسے ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا اور تب سے وہ خاموش تھی۔۔ اسکی خاموشی تب ٹوٹی تھی جب اسکے دوست ہمدردی کی آڑ میں اسکے جذبات کا مذاق اڑانے چلے آئے تھے۔۔

“دفع ہو جاؤ سب،، میرا کسی سے کوئی واسطہ نہیں ہے چلے جاؤ سب” وہ چیختی چیختی ہانپنے لگی تھی۔۔

افتخار علی اپنی بیٹی کی ایسی حالت دیکھ کر اندر ہی اندر گھٹ رہے تھے۔۔ انہوں نے سب سے معذرت کر کے وہاں سے جانے کے لیے کہہ دیا تھا۔۔ تب سے اس نے اپنے آپ کو کمرے میں قید کر لیا تھا۔۔

حال:

چرر کی ہلکی سی آواز سے دروازہ کھلا اور افتخار علی ہاتھ میں کھانے کی ٹرے پکڑے اندر داخل ہوئے۔۔

میرال بیٹا کب تک یوں اندھیرے میں بیٹھی رہو گی۔۔ میری جان اپنا نہیں تو اپنے بوڑھے باپ کا ہی کچھ خیال کرلو۔۔

جواباً وہ خاموشی سے زمین کو تکنے لگی۔۔

اچھا چلو کھانا کھاؤ میں اپنی بیٹی کو خود کھانا کھلاؤں گا۔۔ انہوں نے نوالا اسکے سامنے کیا۔۔

مجھے بھوک نہیں ہے۔۔ اسکی کمزور سی آواز ابھری۔۔

بیٹا میرا کیا قصور ہے اس سب میں۔۔ نہ تم ٹھیک سے کھانا کھاتی ہو نہ مجھ سے بات کرتی ہو۔۔ ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔۔

میرال بے چارگی سے انہیں دیکھنے لگی۔۔ اس نے ان کے بڑھے ہوئے ہاتھ سے نوالہ پکڑا اور دھیمے دهیمے کھانے لگی۔۔

“آئی ایم سوری ڈیڈ” بہت تنگ کرتی ہوں نہ آپ کو۔۔؟؟ وہ آنکھیں جهپکتی ان سے پوچھنے لگی۔۔

نہیں میرا بچا تم میری بہت اچھی بیٹی ہو۔۔ انہوں نے اسکا سر چوم کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

ٹن ٹنا!! میر ٹائلوں والے فرش پر پاؤں گهسیٹ کر ایک سٹائل سے کچن میں داخل ہوا لیکن ذرا آگے فرش پر گرے پانی سے اسکا پاؤں پهسلا اور یہ گئی اس کی ساری ہیروپنتی ” واٹر ” میں۔۔

ہا!! راحم منہ پر ہاتھ رکھے ہنسنے لگا۔۔ “چاچو کم لگی ہے نہ۔۔؟؟ ایک دفعہ پھر گرو زور سے۔۔”

کھی کھی کھکھ۔۔۔۔ انا کی گھوری پر اسکی کھی کھی کو بریک لگا۔۔

بری بات جاؤ ادھر جا کر بیٹھو کپڑے خراب نا کر لینا۔۔ اس نے ہاتھ کی پشت سے ماتھے پر آتے بال پیچھے ہٹاتے ہوئے کہا۔۔

“میر اٹھو جلدی اور راحم کو لے کر باہر جاؤ۔۔ مجھے سخت غصہ آ رہا ہے تم دونوں پر یہ نہ ہو کہ کھانے کی جگہ تم دونوں کو ہی بھون دوں۔۔”

اسکی غصیلی آواز پر وہ دونوں “بندے کے پتر” بنتے شرافت سے کچن کے کونے میں پڑی چھوٹی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔۔ فلحال ان کا باہر جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔

انا کے برابر کھڑے سلاد کاٹتے ویر نے ہاتھ روک کر چور نظروں سے دونوں بلاؤں کو دیکھا۔ انہیں آپس میں مصروف پا کر وہ دائیں طرف جھکتا انا کے گال پر بوسہ دے گیا۔۔

اللّه اللّه!! وہ خفت سے اسے دیکھنے لگی۔۔ شکر تھا کہ ان دونوں نے نہیں دیکھا تھا۔۔

شرم کر لیں کچھ کہیں بھی شروع ہو جاتے ہیں۔۔ اس نے دانت کچکچا کر ہلکی آواز میں اسے گھرکا۔۔

ہائے! یہ بندہ کیا کرے آپ کے معاملے میں، میں بہت بے شرم ثابت ہوا ہوں۔۔ وہ آنکھ دبا کر شرارت سے گویا ہوا۔۔

آپ نا بس کیا کہوں میں اب ۔۔۔ آہ !! بے دیهانی میں پیاز کاٹتے چھری سے اس کی انگلی کٹ گئی۔۔

حد ہوتی ہے لا پرواہی کی،، وہ اس کا ہاتھ تھامتا اسکی انگلی پر اپنے ہونٹ رکھ گیا۔۔

چھی،، کیا کر رہے ہیں چھوڑیں۔۔ خون لگ گیا ہے آپ کے منہ پر۔۔ وہ ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔۔

یہ ذرا سا خون کیا ہے میں آپ کو پورا کا پورا پی سکتا ہوں۔۔

اہم اہم !! میر کو مصنوعی کھانسی کا دوڑا پرا۔۔ مسکراہٹ چھپاتے ہوئے اس نے انہیں دیکھا تو ویر کو اپنی حماقت کا احساس ہوا۔۔

انا کا شرم کے مارے برا حال ہو گیا۔۔ نکلو دونوں باہر ابھی تک گئے نہیں تم دونوں۔۔ وہ خفت چھپاتی غصے سے گویا ہوئی۔۔۔

جا رہے ہیں جا رہے ہیں۔۔ آؤ چیمپ ہم باہر چلتے ہیں،، وہ راحم کا ہاتھ پکڑ کر اٹھاتے ہوئے بولا۔۔

“آپ لوگ کنٹینیو کریں۔۔”

ویر نے ہاتھ میں پکڑا کھیرا پوری قوت سے میر کی کمر کم کمرے پر دے مارا۔۔

“آہ! ظالم لوگ پہلے ملک بدر کیا اب پتھر برسا رہے ہیں ہم معصوموں پر۔۔”

وہ دہائی دیتا ہوا جلدی سے باہر چلا گیا مبادا اگلی دفعہ چپل ہی نہ آ جائے۔۔

عدیل شاہ کی دیکھا دیکھی ویر نے بھی “لائٹ ویٹ چپل” لے لی تھی۔۔ اس کے خیال میں یہ آئیڈیا برا نہیں تھا۔۔

چلیں آپ بھی باہر کچن کا ستیاناس کر دیا ہے آئندہ میں کسی کو اندر نہیں آنے د۔۔۔۔۔

ویر نے غصے سے بڑبڑاتی انا کو کاندھے سے پکڑ کر اپنی جانب موڑا اور اسکے ہونٹوں کو پوری شدت سے اپنے ہونٹوں میں دبا گیا۔۔

انا نے خود کو گرنے سے بچانے کے لیے سلیب پر دونوں ہاتھ رکھ دیے۔۔

اتنا غصہ نہ کیا کریں ،، آپ کے غصے پر مجھے بہت پیار آتا ہے۔۔ اس کی تیکھی ناک کو ہاتھ سے ہلکا سا دباتا وہ اس کی نوز پن پر اپنے لب رکھ گیا۔۔

بہت بہت وہ ہیں آپ۔۔۔ وہ حیا آمیز سرخ چہرے سے اسے پیچھے دھکیل کر بولی۔۔

ویر کی نظریں اسکے سرخ کانپتے ہونٹوں پر ٹھہر گئیں۔۔

ہرگز نہیں چلیں باہر!! اس کی نظروں کا ارتكاز محسوس کر کے وہ اسے چمچہ دکھا کر بولی۔۔

ویر ہنستا ہوا اس کی طرف جھکا۔۔ کب تک بھاگیں گی آپ مجھ سے۔۔ اب آپ کی خیر نہیں ہے تیار كرلیں خود کو۔۔۔ مسکاتی نظروں سے اسے دیکھتے وہ کچن سے باہر چلا گیا۔۔

اس کے جاتے ہی اس نے اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھا جو اسکی قربت کے خیال سے ہی تیز تیز دھڑکنے لگا تھا۔۔ اپنے آگ اگلتے چہرے کو تھپتهپاتے ہوئے وه کھانے پر اپنی توجہ مركوز کرنے کی کوشش کرنے لگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *