Ik Pegham e Muhabbat by Mirha Khan

سنسان سڑک پر وہ بےتہاشہ بھاگتی جا رہی تھی۔ اندھادھند بھاگنے سے وہ کئی دفعہ گری تھی جس سے اس کی جینز جگہ جگہ سے پھٹ چکی تھی۔
آنکھوں میں بےانتہا خوف لئے اس نے مڑ کر پیچھے دیکھا۔ اسکا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ وہ آدمی مسلسل اسکا تعاقب کر رہے تھے۔
ہاتھ میں پکڑے بیگ کو اسنے لڑکھڑاتے ہوئے کندھے پر ڈالا اور اپنی رفتار تیز کرتی سامنے نظر آتی ایک گلی میں داخل ہو گئی۔
تعاقب کار اسکا پیچھا کرتے گلی میں داخل ہوئے لیکن سنسان گلی نے ان کا استقبال کیا۔ کسی زی روح کو نہ پاتے وہ بھاگتے ہوئے گلی کا دہانہ عبور کر گئے۔
ان کے جانے کا اطمینان کرتے وہ گہرا سانس لے کر سنسان پڑی عمارت سے باہر نکل آئی۔ اسکے گھٹنے سے خون رسنے لگا تھا۔۔ ہاتھوں پاؤں پر جا بجا خراشوں کے نشان تھے۔
روتے ہوئے اس نے سوجھے چہرے پر ہاتھ رکھا۔ ہونٹ کے کنارے سے بہتے خون کو صاف کرتے اس نے زمین پر رکھا چھوٹا سا بیگ پکڑا اور لڑکھڑاتے ہوئے ایک طرف چلنے لگی۔۔۔
اسکا کرتہ جگہ جگہ سے اس طرح پھٹا ہوا تھا جیسے اسے کھردری زمین پر گهسیٹا گیا ہو۔۔ بالاخر وہ ایک آباد علاقے میں داخل ہوگئی۔۔ اب اسکی ہمت جواب دیتی جا رہی تھی۔۔۔
آگے بڑھ کر اسنے ایک مکان کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ کھو کھولو دروازہ کھولو۔۔ میری مدد کرو،،، اللّه کے واسطے دروازہ کھولو،،
رات کی خاموشی میں اسکی سسکیاں گونجنے لگیں۔ اسے ایک زوردار چکر آیا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر دروازے کے ہینڈل کو پکڑنا چاہا لیکن اسکی بصارت دھندلا گئی اور وہ توازن کھو کر گرتی چلی گئی۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *