Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Pegham e Muhabbat (Episode 15,16)

Ik Pegham e Muhabbat by Mirha Khan

کُل دس لوگ ہیں ۔۔ ہر ایک کے پاس بندوق ہے۔۔

جہان نے دور بین کی مدد سے دربار کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ۔۔

وہ دونوں اس وقت دربار کے آس پاس قدرے اونچے مقام پر موجود تھے۔۔ یہاں ہونے کا مقصد اندر کی صورتحال کا جائزہ لینا تھا۔۔

ویر نے اس سے دوربین لے کر آنکھوں سے لگائی۔۔

ہممم ۔۔ انکا ساتھی ایک کمرے کے باہر کھڑا پہرہ دے رہا ہے۔۔ ضرور وہاں کچھ ہے۔۔

جہان نے آنکھیں سکیڑیں۔۔

ہمیں دیوار پهلانگ کر اندر جانا ہوگا۔۔ پچھلی طرف سے ۔۔۔ باقی ہر طرف پہرا ہے۔۔

لیکن ایسے تو ہم نظروں میں بھی آ سکتے ہیں۔۔ ویر نے نفی میں سر ہلا کر کہا۔۔

ہم میں سے کسی ایک کو انکی نظروں میں آنا ہوگا۔۔ ایسے ان کا دیهان بٹے گا۔۔ اسی موقع کا فائدہ اٹھا کر دوسرا پوری ہوشیاری سے اندر محفوظ جگہ چھپ جائے گا ایسی جگہ جہاں سے دونوں ایک دوسرے سے اشارتاً بات کر سکیں۔۔

ہمم امپریسو مجھے تو لگ رہا ہے کہ تمہارا تعلق بھی کسی گینگ سے ہے۔۔ جہان نے تیکھی مسکراہٹ سے کہا۔۔

ویر کے ماتھے پر بل پڑے۔۔ اس نے اسکی بات کا جواب دینا ہی ضروری نہ سمجھا۔۔

جہان کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔۔ ہاں اب کلیجے میں کچھ ٹھنڈ پڑ گئی تھی۔۔

ہوا کا زور تیز ہوا تو ویر نے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا۔۔ سیاہ بادلوں نے آسمان کو پوری طرح ڈھک دیا تھا۔۔ ہلکے اندھیرے نے ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔۔

بادل زوردار آواز سے گرجے اور بارش کی ایک بوند جہان کے ماتھے پر گری۔۔

آر یو ریڈی۔۔۔؟ ویر نے جہان کے آگے اپنا ہاتھ کیا۔۔

یس آئی ایم۔۔۔۔ اس نے ویر کے ہاتھ پر اپنا مضبوط ہاتھ رکھا۔۔ دونوں نے عزم سے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا اور ڈھلان سے نیچے اترنے لگے۔۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

دور خلاؤں میں گھورتی انا یک دم چونکی۔۔ اس نے ویر کو دیوار پھلانگتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔۔

فرطِ جذبات سے اس نے اپنے کانپتے ہونٹ بهینچے۔۔ بہت مشکل سے اس نے چہرے پر ابھرنے والے تاثر کو نارمل کیا۔۔

ویر نے زمین پر قدم رکھتے ہی اپنی قمیض میں موجود ہتھیاروں کو اندازے سے چیک کیا۔۔۔

جہان دیوار سے ذرا سا جھانک رہا تھا۔۔ اس نے ویر کو انگوٹھا دکھایا ۔۔۔

ویر نے سر کو خم دیا اور جان بوجھ کر کھمبے سے ٹکرا گیا۔۔ خاموشی میں ارتعاش پیدا ہوا تو نقاب پوش فوراً الرٹ ہوگئے۔۔۔

رابرٹ ۔۔۔! رائٹ ناؤ۔۔۔

یس سر۔۔۔۔!!

باس کے حکم پر ایک نقاب پوش جسکا نام رابرٹ تھا بندوق کی نال سیدھی کیے پچھلی جانب چلا گیا جہاں سے آواز ابھری تھی۔۔

ویر کو دیکھ کر اس نے بندوق اس پر تان لی۔۔

ویر نے ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے فوراً ہاتھ فضا میں بلند کر دیے۔۔

جہان نے اس کی ایکٹنگ کو سراہتے ابرو اٹھایا۔۔

رابرٹ احتیاط سے آگے بڑھا اور ویر کو کندهے سے پکڑ کر آگے دھکیلا۔۔ ایسے سلوک پر ویر نے دانت پیسے۔۔

سر دِس مین واز فاؤنڈ دیئر۔۔ (سر وہاں یہ شخص تھا )

رابرٹ نے اسے زمین پر دھکیل کر کہا۔۔

ویر نے زمین پر دونوں ہاتھ رکھ کر اپنے آپ کو زخمی ہونے سے بچایا۔۔

تم کون ہو بتاؤ ۔۔؟ ایجنسی کے آدمی ہو نا۔۔؟

مائیک نامی انکا سربراه ویر کی طرف جھکا اس سے استفسار کرنے لگا۔۔

نہیں میں ایجنسی کا آدمی نہیں ہوں۔۔

ویر نے پرسکون لہجے میں کہا۔۔

ایک زوردار گھونسا اس کے منہ پر لگا۔۔

گھونسا اتنا زوردار تھا کہ تکلیف سے اس کی آنکھیں سرخ ہو گئیں۔۔

لوگوں کے خوف و ہراس میں اضافہ ہوگیا۔۔ انا نے راحم کا چہرہ اپنی طرف موڑ لیا تا کہ وہ ویر کو دیکھ نہ سکے۔۔ اس کا دل زور و شور سے دھڑک رہا تھا۔۔۔ نجانے اب کیا ہونے والا تھا۔۔

ان سب کا دیہان بٹا دیکھ کر جہان دیوار سے اندر کود گیا اور وہاں نصب کھمبوں کی اوٹ میں ہو کر دبے قدموں آگے بڑھنے لگا۔۔ اس کا ہاتھ بیلٹ میں اڑسی ہوئی پسٹل پر تھا۔۔

بکواس کرتا ہے سالا ۔۔۔ وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہماری خبر گیری کے لیے اپنا بندہ بھیجیں گے اور ہم سمجھ نہیں پائیں گے۔۔ الو نظر آتے ہیں کیا ہم تم کو ۔۔؟ مائیک نے اس کے منہ پر بوٹ کی زوردار ٹھوکر مارتے ہوئے کہا۔۔

ویر کمر کے بل جھک گیا۔۔ اس کے منہ سے خون بہنے لگا تھا۔۔

جھکے جھکے اس کی نظر سیاہ جوتوں پر پڑی۔۔ اس کا دل خوشی سے دھڑک اٹھا۔۔ مطلب وہ صحیح سلامت پہنچ چکا تھا۔۔

اس نے زمین پر دھری انگلیوں کی وکٹری بنائی۔۔ جہان نے اس کا اشارہ سمجھ کر کھمبے کی اوٹ میں ہو کر یکے بعد دیگرے تین فائر کیے۔۔

ہال میں ہڑبونگ مچ گئی۔۔ لوگ اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے۔۔ ویر نے پھرتی سے گن نكالی اور مائیک کے منہ پر زوردار لات مار کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔

نقاب پوشوں نے جواباً حملہ کر دیا۔۔ دربار گولیوں کی آواز سے گونجنے لگا۔۔

جہان نے پھرتی کا مظاہرہ کرتے مائیک کی گردن میں بازو کا شکنجہ تنگ کیا اور پسٹل اس کے سر پر تان کر داڑھا۔۔

خبر دار اگر کسی نے ہم پر گولی چلائی تو میں اسکا بھیجا اڑا دوں گا۔۔

مائیک کے پسینے چھوٹ گئے۔۔ اس نے فوراً اپنے آدمیوں کو اشارہ کیا۔۔ پهینک دو سب بندوقیں نیچے پھینک دو۔۔

اسکے آدمیوں نے حکم کی تكمیل کرتے ہتھیار ڈال دیے۔۔

ویر فوراً مجمع کی طرف بڑھا ۔۔ اٹھو نکلو یہاں سے سب۔۔ بھاگو ۔۔!! جلدی کرو ۔۔ وہ نظریں تیزی سے دوڑاتے راحم کو ڈھونڈنے لگا۔۔

لوگ گرتے پڑتے باہر کی طرف جانے والے راستے کو دوڑنے لگے۔

انا عین کا ہاتھ تھامے تیزی سے ویر کی طرف بڑھی۔۔ راحم کو صحیح سلامت دیکھ کر ویر نے شکر کا سانس لیا۔

جہان جو مستعد سا مائیک پر گن تانے کھڑا تھا اچانک لڑکھڑا گیا۔۔ وہ ابھی سنبهل بھی نہ پایا تھا کہ اس کے سر پر بھرپور ضرب پڑی جس سے وہ حواس کھوتا زمین بوس ہوگیا۔۔

چند سیکنڈ میں صورتحال کا پانسا پلٹ گیا۔۔۔ صرف ذرا سی غلطی ان پر بھاری پڑی۔۔ ان کے مطابق وہ دس لوگ تھے لیکن اصل میں وہ گیارہ تھے۔۔

باہر صورتحال کو بگڑتا دیکھ کر وہ شخص اندر کہیں چھپ گیا تھا۔۔۔ اچانک اس نے تاک کر وار کیا جو ٹھیک نشانے پر لگا۔

نقاب پوشوں میں حرکت ہوئی اور انہوں نے تیزی سے بندوقیں تھام کر باہر نکلتے لوگوں پر فائر کر دیے۔۔

چند لوگ اپنی جان بچا کر بھاگ گئے جب کہ ان میں سے کچھ لوگ لقمہِ اجل بن گئے۔

ربرٹ نے ویر کو گردن سے پکڑ کر جھٹکا اور اسے پے در پے گھونسے مارنے لگا۔۔ اچانک پڑنے والی افتاد پر ویر بوکھلا گیا۔

رابڑٹ نے اسکے بازو کو موڑا اور صحن کے پچھلے جانب بنے تہہ خانے میں لے جانے لگا۔۔ ایک ساتھی نے بے ہوش ہوئے جہان کو کاندھے پر لاد کر اسکی تقلید کی۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

دوسرے دہشتگردوں نے باقی مانده لوگوں پر قابو پا لیا۔۔ انا کا دل دھاڑیں مار کر رونے کو چاہا۔۔ اس نے عین کو اپنے پیچھے چھپا لیا۔۔

اللّه اب کیا ہوگا ۔۔؟ کیا کروں میں ؟ یہ سب کیا ہوگیا ۔۔ پلیز ہم سب کی حفاظت کریں۔۔

پریشانی سے سوچتے ہوئے سرعت سے ایک خیال اس کے ذہن کی سلیٹ پر نقش ہوا۔

عین اس کا دیہان رکھنا ۔۔۔ میں ابھی آئی۔۔ راحم کو اس کے حوالے کر کے وہ کھڑی ہو گئی۔۔۔

مجھے واشروم جانا ہے۔۔۔ اس نے التجائیہ لہجے میں کہا۔

رابرٹ نے مائیک کی طرف دیکھا۔۔۔

چلو ۔۔۔۔ کوئی ہوشیاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس کے کرخت لہجے پر انا نے سوکھا حلق تر کیا۔

اس کی تقلید میں وہ قدرے کونے میں بنے باتھ روم تک آئی۔۔

کتنی دیر لگے گی ۔۔۔؟

بس پانچ منٹ۔۔۔ انا نے جلدی سے جواب دیا۔

اوکے ۔۔۔ اس کو جواب دے کر وہ قدرے دور جا کر کھڑا ہوگیا۔۔ اس کے خیال میں ایک بالشت بھر چھوکری کیا کر سکتی تھی۔

انا نے اسے مڑتے دیکھ کر تیزی سے رخ بدلا۔

وہ نظر بچاتی تیزی سے تہہ خانے کی سیڑھیاں اترنے لگی۔

“ایک منٹ۔۔۔۔”

وہ ابھی آدھی سیڑھیاں ہی اتر سکی تھی کہ اس کی نظر ایک کمرے پر پڑی جسکے کھلے دروازے سے اسلحہ نظر آرہا تھا۔۔ اس نے چند سیكنڈ کی دیر کیے بغیر جو ہاتھ میں آیا اٹھا لیا اور تیزی سے تہہ خانے کی سیڑھیاں اتر گئی

“دو منٹ ۔۔۔۔۔”

نیچے آ کر اس نے واحد کمرے میں جھانکا جہاں ویر اور جہان ادھ موۓ پڑے تھے۔۔۔ ان کے جسم شرٹ کی قید سے آزاد تھے۔۔ جس پر جگہ جگہ زخموں کے نشان تھے۔۔ انہیں بری طرح پیٹا گیا تھا۔۔

وہ آنسو روکتی جلدی سے کمرے میں داخل ہوئی۔۔ ان کے پاس زمین پر بیٹھ کر وہ انہیں پکارنے لگی۔۔۔

ہان۔۔۔؟ شاہ ویر۔۔۔؟ اٹھیں ۔۔۔۔!

“اڑھائی منٹ۔۔۔۔”

جلدی کریں میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔۔ دونوں کے وجود میں جنبش ہوئی۔۔ آنکھیں کھولتے وہ بےیقینی کی کیفیت میں اسے دیکھے گئے۔۔

یقیناً قدرت انکا ساتھ دے رہی تھی ورنہ اب انہیں اپنے بچنے کی کوئی امید نظر نہیں آرہی تھی۔

انا نے ساتھ لائے اسلحہ میں سے چاقو پکڑا اور تیزی سے ان کے ہاتھ پر بندھی رسی کاٹی۔۔

“تین منٹ ۔۔۔۔”

میں اتنا ہی کر سکتی تھی۔۔ میرے پاس وقت نہیں ہے۔۔ اللّه آپ کی مدد کرے۔۔۔

وہ تیزی سے باہر کی طرف بھاگی اور تہہ خانے کی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔

چار منٹ ۔۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

رابرٹ نے وقت دیکھا ۔۔ پانچ منٹ ہونے والے تھے۔۔ اس نے اپنا رخ باتھ روم کی طرف کیا۔۔ اس نے احتیاتاً دائیں بائیں جھانکا ۔۔

وہ دروازے پر دستک دینے ہی لگا تھا کہ باتھ روم کا دروازه کھلا اور انا باہر نکلی۔۔

اسکا دل بلیوں اچھل رہا تھا۔۔۔اسے اب تک یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ وہاں سے صحیح سلامت واپس آ گئی تھی۔۔

آپی آپ کہاں گئی تھیں۔۔؟ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔ ہان کو لے گئے وہ لوگ ۔۔ سب میری وجہ سے ہوا ہے ،، نہ میں آتی اور نہ وہ ۔۔۔

شش ۔۔۔! ٹھیک ہیں وہ ،، میں ابھی ان کو دیکھ کر آئی ہوں ۔۔۔ انا نے سرگوشی میں کہا۔

عین کی آنکھوں کی بجھی جوت پھر سے جلنے لگی۔۔ سچ کہہ رہی ہیں آپ ؟ آپ ان تک پہنچیں کیسے ۔۔؟ اس نے بھی سرگوشی میں پوچھا۔۔

بعد میں بتاؤں گی۔۔ انا نے کہتے ہوئے راحم کو تھام لیا جو روتے روتے سو چکا تھا۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

رابرٹ ۔۔۔؟ مائیک نے خاموش بیٹھے رابرٹ کو پکارا جو عجیب سے انداز میں بیٹھا ہوا تھا۔۔ اس کے جواب نہ دینے پر اس نے اسکا شانہ تهپتهپایا تو وہ ایک طرف کو لڑھک گیا۔۔ مائیک چونک گیا۔۔

اس نے باقی ساتھیوں پر نظریں دوڑائیں تو وہ سب بھی كهمبوں سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے ۔۔ ان کی آنکھوں کی پتلياں ایک ہی نکتے پر جمی ہوئی تھیں۔۔

اس نے تیزی سے آگے بڑھ کر انہیں ہلایا تو سب ایک طرف کو لڑھکتے گئے۔۔

کسی انہونی کا احساس ہوتے اس نے بیلٹ پر بندوق نکالنے کے لیے ہاتھ رکھا ہی تھا کہ ایک گولی اسکی دائیں کنپٹی کو چھوتی بائیں سے نکل گئی۔۔ خون فوارے کی صورت اس کے سر سے نکلا اور وہ کٹی ڈال کی مانند زمین بوس ہوگیا۔۔

اف اف تف ہے ہم پر ۔۔ باس بھی ٹپک گیا ۔۔ اپن لوگ نکلتے ہیں نہیں تو یہ سالے کل کے لونڈے اپن کی بھی اوپر کی فلائٹ کروا دیں گے۔۔

وہ اول جلول حلیے میں باہر سے جھانکتے ہوئے اپنے ساتھی سے بولا۔۔۔ وہ “اوپر” سے ایک اہم پیغام لے کر آیا تھا لیکن یہاں تو کایا ہی پلٹ گئی تھی۔۔ رک تو ادھر ان سالوں کو ایسے ہی تو نہیں چھوڑیں گے۔۔ میں ابھی آیا۔۔

ویر اور جہان جلدی سے ان کے پاس پہنچے۔۔ تم ٹھیک ہو عین۔۔؟ عین کی آنکھیں چھلکنے کو بیتاب ہوئیں۔۔

ساتھ ہی اس کی نظر انا پر پڑی۔۔ انا کو دیکھ کر وہ بہت حیران ہوا۔۔

جہان تم نکلو جلدی یہاں سے ۔۔ ابھی بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔۔ ویر نے راحم کو تھام کر کہا۔۔

جہان نے سر ہلا کر انا کی طرف دیکھا۔۔ تم ۔۔؟

ہاں میں جانتا ہوں ان کو ۔۔ میں ڈراپ کر دوں گا ۔۔

ویر کے کہنے پر جہان نے خاموشی سے انا کی اوڑھ دیکھا جو نظریں چرا گئی۔۔

چلو ۔۔۔! عین کا بازو تھام کر وہ جلدی سے باہر نکلا۔۔

چلیں آپ بھی ۔۔۔ جلدی کریں ۔۔

ویر تفكر سے انا کو دیکھ کر بولا ۔۔

اچانک بیپ بیپ کی آواز پر وہ چونکے۔۔

ایک خیال سرعت سے دونوں کے ذہن میں ابھرا۔۔

اوہ نو۔۔۔ جلدی کریں ۔۔ وہ راحم کو لئے باہر لپکا۔۔

انا کہاں ہے ۔۔؟

جہان کے پوچھنے پر اس نے سرعت سے پیچھے دیکھا ۔۔۔ اسکا دماغ بھک سے اڑ گیا۔۔

اسے پکڑو ۔۔۔ راحم کو عین کے حوالے کر کے وہ اندھا دھند دوڑ کر اندر گیا ۔۔

انا کہاں ہو تم ۔۔؟

وہ پوری قوت سے داڑھا۔۔

“مم مم ۔۔۔” ایک کمرے سے آواز ابھر کر معدوم ہو گئی۔۔

وہ دیوانہ وار دوڑ کر کمرے کے باہر پہنچا جسکا دروازه بند تھا۔۔ وہ اپنے پیر سے دروازے پر ٹھوکریں مارنے لگا۔۔

انا نے اپنے اوپر جھکے شخص کو پیچھے دهکا دیا۔۔۔

شاہ ویر ۔۔۔۔؟ وہ پوری قوت سے چیخی۔۔

اس شخص نے انا کے منہ پر اپنا بھاری ہاتھ رکھا اور اسکا عبایا اس کے بدن سے جدا کر دیا۔۔ وہ تیزی سے نفی میں سر ہلانے لگی۔۔

ویر نے ایک بھرپور ٹھوکر دروازے پر ماری جس سے دروازه ٹوٹ گیا۔۔

وہ اندر آیا اور اس شخص کو انا کے اوپر سے ہٹا کر پیٹنے لگا۔۔۔ اسے ایک کونے میں دھکا دے کر وہ انا کی طرف مڑا۔۔

کم آن،،، سٹینڈ اپ ۔۔ اس نے اپنا ہاتھ انا کی طرف بڑھایا۔۔

انا نے آنسو بھری آنکھوں سے نفی میں سر ہلایا۔۔ اس میں اٹھ کر چلنے کی ہمت نہیں رہی تھی۔۔

جائیں ۔۔۔ جائیں یہاں سے ۔۔ وہ چیخی۔۔

ویر نے ایک سیکنڈ کی دیر کیے بغیر اسے بازوؤں میں اٹھایا اور پوری رفتار سے اسے تھامے باہر کی اوڑھ بھاگا۔۔

اس کا قدم چوکھٹ سے باہر پڑا ہی تھا کہ ایک زور دار دھماکے کی آواز گونجی۔۔ ویر انا سمیت کئی فٹ دور جا گرا۔۔

عین اور جہان دوڑ کر ان کی طرف آئے۔۔ انا تکلیف ضبط کرتی زمین پر سیدھی لیٹ گئی۔۔

جہان نے ویر کو سہارا دے کر بٹھایا جسکا جسم بے حد زخمی ہو چکا تھا۔۔ زخمی وہ خود بھی تھا۔۔ شرٹ کی قید سے آزاد دونوں کے جسموں پر تشدد کے نشان تھے۔۔

آپی اٹھیں ۔۔۔۔ ایسے کیوں لیٹی ہیں۔۔۔

عین اسے دیکھ کر رونے لگی۔۔۔

ماما ۔۔۔۔؟؟ راحم کی معصوم پکار پر وہ ڈھیروں آنسو ضبط کرتی اٹھ بیٹھی۔۔

سس ۔۔ درد کی لہر اس کے پورے جسم میں دوڑ گئی۔۔

انا نے راحم کو تھام کر سینے میں بھینچ لیا۔۔ اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میں کیا کرتی۔۔؟ وہ ارد گرد سے بے نیاز سسکنے لگی۔۔

جہان ایک گہری نظر ویر پر ڈال کر عین کی طرف پلٹا۔۔ تم ٹھیک ہو ۔۔۔؟

اور یہیں اسکا ضبط جواب دے گیا۔۔ وہ جہان کے برہنہ سینے سے لگی بلکنے لگی۔۔

مجھے مارا انہوں نے۔۔ سس سر پر بھی چچ چوٹ لگی ہے۔۔ وہ وہ بہت برے تھے۔۔ انہوں نے میرے منہ پر تھپڑ مارا ۔۔۔وہ وہ ۔۔

وہ اس کے گرد بازو حائل کیے چہرہ اونچا کر کے اسے دیکھتی کرب سے بتانے لگی۔۔

جہان نے اس کے سوجھے گال کو ضبط سے دیکھا۔۔ ارد گرد کی پرواہ کیے بغیر اس نے نیچے جھک کر عین کے گال کو چوم لیا۔۔

عین جھجھک کر دور ہوئی۔۔

انا نے اچنبھے سے ان دونوں کو دیکھا ۔۔۔

دل میں سر اٹھاتے سوالوں کو نظر انداز کر کے وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔

اب ہمیں چلنا چاہیے ۔۔ اس نے ویر کو دیکھ کر کہنا چاہا لیکن اسے شرٹ لیس دیکھ کر نظریں جھکا گئی۔۔

ہمم اوکے ۔۔ تھینکس تمہاری مدد کے لیے۔۔ ویر نے جہان سے مصافحہ کیا ۔۔

تھینکس ٹو یو ٹو ۔۔۔ ہلکی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر وه عین کو لئے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔

انا راحم کو سینے سے لگائے کھڑی تھی۔۔ لائیں مجھے پکڑا دیں میں جانتا ہوں آپ بھی زخمی ہیں۔۔

انا نے نظریں جھکاتے نفی میں سر ہلایا۔۔ وہ بغیر عباۓ اور نقاب کے اس کے سامنے بے حد شرمندگی محسوس کر رہی تھی۔۔

مم میرا عبایا ۔۔۔۔

اس کے کہنے پر ویر بات سمجھ گیا۔۔

چلیں آگے جا کر شاید بندوبست ہو جائے۔۔

انا آہستہ آہستہ چلنے لگی۔۔ ویر اس کے پیچھے اس کے چھوڑے ہوئے قدموں کے نشان پر اپنے قدم رکھنے لگا۔۔

تھوڑی دور جا کر انہوں نے ایک مکان کا دروازه بجايا۔۔

ایک بوڑھی عورت نے دروازه کھولا۔۔ کون ۔۔؟

کیا آپ ہماری تھوڑی مدد کر سکتی ہیں ۔۔؟ ویر نے شائستگی سے کہا ۔۔

بوڑھی عورت نے دونوں کو سر تا پیر گھورا۔۔ یہ کون ہے ساتھ ۔۔۔؟ انہوں نے انا کی طرف اشارہ کیا۔۔

یہ بیوی ہے میری۔۔ اس نے مسکراہٹ دبا کر کہا ۔۔ انا نے چونک کر اسے دیکھا۔۔۔ پھر شرم سے سر جھکا لیا۔۔

آؤ اندر ۔۔۔ انہیں راستہ دے کر وہ ایک طرف کھڑی ہو گئیں ۔۔

ایک کمرے میں انہیں بٹھا کر انہوں نے مدد کے بارے میں پوچھا۔۔

ہم ایک حادثے کا شکار ہوئے ہیں۔۔ ہمیں آپ سے بس اتنی مدد چاہیے کہ آپ انہیں اوڑھنے کے لئے کوئی چادر دے دیں۔۔ ویر نے اسے ایک نظر دیکھ کر کہا۔۔

بوڑھی عورت جا کر چادر لے آئی۔۔ اور ایک شرٹ ویر کی طرف بڑھائی جو قدرے پرانی لگتی تھی۔۔

لو یہ تم بھی پہن لو ۔۔ میرے مرحوم خاوند کی ہے۔۔

ویر نے شکریہ ادا کر کے شرٹ پہن لی۔۔ تب تک انا بھی چادر اوڑھ چکی تھی۔۔

بہت شکریہ آپ کا ۔۔!! اب ہم چلتے ہیں۔۔

ویر کی تقلید میں انا بھی راحم کو تھامے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔

ہاں خیر سے جاؤ اور اپنی بیوی کا خیال نہیں رکھتے تم ۔۔؟ کیسے سوکھی سڑی سی ہے۔۔ میاں کچھ خیال کرو ۔۔

جی ۔۔ ویر نے سر جھکا کر لبوں پر امڈ آنے والی مسكان کو چھپایا۔۔

انا اپنی عزت افزائی پر باہر نکل گئی۔۔

شاہ ویر نے ایک رکشہ روکا اور تینوں اس میں سوار ہو گئے۔۔

کیا ضرورت تھی ان سے جھوٹ بولنے کی ۔۔؟ انا نے اسے تیکھی نظروں سے دیکھ کر کہا ۔۔

ہمم تیکھی بھی ہے ۔۔۔ ویر نے اسکی آنکھوں میں جھانکا۔۔ کونسا جھوٹ ۔۔؟

انا کا پارا چڑھا۔۔ بیوی والا جھوٹ ۔۔۔ وہ سلگ کر بولی ۔۔

ایسا بھی کیا غلط ہے اگر ایسا ہو جائے ۔۔۔ ویر نے گھمبیر آواز میں کہا تو انا سرخ پڑ گئی۔۔

اس نے تیزی سے نظروں کا زاویہ موڑا۔۔ ویر نے محظوظ ہو کر اسے دیکھا ۔۔

بابا بابا ۔۔۔۔ ؟ راحم نے ویر کے گال پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔۔

جی بابا کی جان ۔۔

بابا ،، انکل مالا ۔۔ ماما تو ۔۔۔ جول شے ۔۔۔ ( بابا انکل نے ماما کو مارا زور سے )۔۔۔

انا نے کرب سے آنکھیں بھینچیں۔۔

ویر نے دکھ سے اسے دیکھا ۔۔ آئی ایم سوری میں جلدی نہیں پہنچ سکا۔۔ میری وجہ سے۔ ۔۔

“نہیں آپ کا کیا قصور۔۔” انا نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔۔

آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے راحم کی حفاظت کی ۔۔ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں ۔۔ میں ۔۔۔

اس کی ضرورت نہیں وہ مجھے بھی بہت پیارا ہے ۔۔ اسے جواب دے کر اس نے رکشہ روکنے کا کہا ۔۔

بس یہیں اتار دیں۔۔ انگلی سے نقاب درست کر کے وہ رکشہ سے اتر کر ایک تنگ گلی میں غائب ہو گئی۔۔

چلو ۔۔۔ گہری سانس لے کر ویر نے رکشے والے کو چلنے کا کہا۔۔

قسط_نمبر_16

جونہی وہ دونوں گھر میں داخل ہوئے عین کو جہان کی کہی باتیں یاد آنے لگیں۔۔ اس کی آنکھوں میں نمی چمکی۔۔

نہایت آہستگی سے اس نے جہان کے ہاتھ میں قید اپنا ہاتھ نکال لیا۔۔۔

جہان نے خاموشی سے اپنے خالی ہاتھ کو دیکھا۔۔

ذرا آگے جا کر وہ لڑکھڑائی تو جہان نے اسے تھام لیا۔۔

دور رہیں مجھ سے ۔۔۔ وہ اس کا ہاتھ جھٹک کر گویا ہوئی۔۔

تم روک سکتی ہو مجھے اپنے نزدیک آنے سے۔۔۔؟

اس کے دلکشی سے کہنے پر وہ سرخ پڑ گئی۔۔۔ اس نے چند سیکنڈ جہان کی آنکھوں میں دیکھا اور پھر اس کے سینے پر نرم ہاتھوں کے مکے برساتی زار و قطار رونے لگی۔۔

بہت برے ہیں آپ بہت برے ۔۔۔۔ وہ روتی ہوئی کہتی جا رہی تھی۔۔

جہان نے گہری سانس کھینچ کر اسکی کلائیاں پکڑیں۔۔

“جھوٹ بولا تھا میں نے ۔۔۔۔”

اس کے کہنے پر عین کی بھیگی نیلی آنکھوں میں حیرانگی ابھری۔۔

“کونسا جھوٹ۔۔۔؟” عین نے سپاٹ آواز میں کہا۔۔

یہی کہ میں کسی اور سے محبت کرتا ہوں ۔۔۔

جہان کے کہنے پر اسے اپنے رگ و جاں میں سکون سرائیت کرتا محسوس ہوا۔۔ لیکن بظاہر اس کا چہرہ سپاٹ رہا ۔۔۔

اس نے جہان کے ہاتھ سے اپنی کلائیاں چھڑائیں اور بغیر اس کی طرف دیکھے اپنے اور جہان کے مشترکہ کمرے میں چلی گئی ۔۔

میرے کپڑے تو نانو کے کمرے میں ہیں۔۔۔ یاد آنے پر وہ دوبارہ باہر آئی تو جہان اپنے زخموں کا جائزہ لے رہا تھا۔۔ عین کی آنکھوں میں نرم تاثر ابھرا۔۔

اس نے سوچا جلدی سے کپڑے بدل لے پھر اس کے زخموں کی مرہم پٹی کر دے گی۔۔ اس نے کمرے میں جا کر دروازه بند کر دیا۔۔

گہری نیلی ڈھیلی سی شرٹ اور ٹراؤزر لے کر وہ باتھ روم میں گھس گئی۔۔ جلدی سے شاور لیکر کپڑے بدلتے وہ باہر نکلی۔۔ زخموں پر پانی پڑنے سے ان میں سے ٹیسیں اٹھنے لگی تھیں۔۔

اس نے سر کی پچھلی جانب ہاتھ رکھا۔۔ سس تکلیف سے اس کے منہ سے سسكاری نکلی۔۔ اس نے آہستہ سے بال کھول کر انہیں سنوارا اور ڈھیلے جوڑے میں قید کر لیا۔۔

اب وہ پہلے سے قدرے بہتر لگ رہی تھی۔۔ جب وہ باہر آئی تو جہان کمرے میں جا چکا تھا ۔۔ اس نے جھجھک کر اندر قدم رکھا تو وہ بیڈ پر اوندھا لیٹا ہوا تھا۔۔

عین نے فرسٹ ایڈ باكس سے آئنٹمنٹ نكالی۔۔ وہ ذرا سا جھکی اور روئی کی مدد سے اس کے زخموں کو صاف کرنے لگی۔۔

زخم صاف کر کے اس نے مرہم لگائی اور جہاں ضرورت پڑی بینڈیج کردی۔۔ اس دوران جہان خاموشی سے لیٹا رہا۔۔ اسے اسکا فکر کرنا اچھا لگ رہا تھا۔۔

“سیدھے ہوں” ۔۔۔ اس نے نظر جھکا کر کہا تو جہان بغیر چوں چرا کیے سیدھا لیٹ گیا۔۔

اسکا برہنہ سینہ دیکھ کر وہ نظریں جھکا گئی۔۔ اس کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ دوبارہ نظریں اٹھاتی۔۔۔

کیا ہوا شرم آرہی ہے ۔۔۔؟؟ جہان نے مسکراہٹ دبا کر پوچھا۔۔

نن نہیں تو مجھے کیوں آئے گی شرم ۔۔۔ عین نے دل کرا کر کے جواب دیا اور کانپتے ہاتھوں سے اسے کے سینے سے پر لگی خراشوں کو روئی کی مدد سے صاف کیا جن سے خون رس رس کر جم چکا تھا۔۔۔

جہان نے بلا ارادہ اسے کمر سے تھام کر جھکایا تو عین کے منہ سے سسكاری نکلی۔۔

کیا ہوا ۔۔۔؟ جہان فوراً اٹھ بیٹھا۔۔

کیا کر رہے ہیں آپ ۔۔؟ چوٹ لگی ہے آپ کو ۔۔ لیٹ جائیں ۔۔ میں کر رہی ہوں نہ ۔۔۔۔

اس نے جہان کو ٹالنا چاہا۔۔

مس اعینہ میں آپ سے کچھ پوچھ رہا ہوں ۔۔ اس کے سختی سے پوچھنے پر وہ نظر جھکا گئی۔۔مارا تھا انہوں نے،، بتایا تو تھا۔۔۔

جہان نے غصے سے مٹھی بھینچی۔۔ کاش وہ اس کے سامنے ہوتے تو وہ مار مار کر انکا بھر کس نکال دیتا۔۔

دکھاؤ مجھے۔۔! اس نے اسکی قمیض ہٹا کر دیکھنا چاہا تو عین نے اس کا ہاتھ روک دیا ۔۔

عین مجھے سختی پر مجبور نہ کرو ۔۔۔

میں نہیں دکھانا آپ کو ۔۔۔ وہ ضدی لہجے میں بولی۔

تم ۔۔۔ پاگل ہو ۔۔۔ میں بس زخم دیکھوں گا ۔۔۔ اور کچھ نہیں کروں گا ۔۔۔

اس نے غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا۔۔

آپ کا کیا پتہ ۔۔۔

عین نے زبان کے جوہر دکھائے جو اس کے دل پر ٹھا کر کے لگے،،، اس نے اپنی “پِدّی” بیوی کو دیکھ کر دانت پیسے۔۔

“تمہیں پیار کی زبان سمجھ نہیں آئے گی۔۔”

یہ ابھی پیار کی زبان تھی ۔۔؟ عین نے صدمے سے اسے دیکھا۔۔

جہان نے اسکی اوور ایکٹنگ کو نظرانداز کر کے اسے گهسیٹ کر بیڈ پر لٹایا اور کمر سے قمیض کھسکا دی ۔۔

عین نے شرم سے منہ پر ہاتھ رکھ لئے۔۔

جہان نے اسے ایک نظر دیکھ کر کمر کا جائزہ لیا جہاں نیل پڑے ہوئے تھے۔۔ اس نے ایلو ویرا جیل پکڑی اور نرمی سے نشانوں پر لگانے لگا۔۔

ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔! نہ کریں ۔۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔

عین بے ساختہ ہنسنے لگی۔۔

کیوں کیا ہوا ۔۔؟ جہان نے اسے حیرانی سے دیکھا،، لگتا ہے اسکا دماغ كهسک گیا ہے۔۔

گدگدی ہو رہی ہے ۔۔ نہ کریں ۔۔۔ عین نے آنکھوں سے نکلتے پانی کو ہاتھوں کی مدد سے صاف کرتے ہوئے کہا ۔۔۔

اس کے بچوں کی طرح ہنسنے پر جہان بھی مسکرا دیا۔۔ اس نے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لیا اور اسے مسکراتی نظروں سے دیکھ کر چینج کرنے کی غرض سے باتھروم چلا گیا۔۔

عین سنبھل کر قدرے ایک طرف ہو کر لیٹ گئی۔۔ کمبل چہرے تک اوڑھ کر اس نے آنکھیں بند کر لیں۔۔ آج کے دن کے بارے میں سوچتے وہ نیند کی وادیوں میں اترتی چلی گئی۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

ویر کہاں تھے تم۔۔۔؟ میں کب سے فون کررہا ہوں ۔۔۔

عدیل شاہ جو لاؤنج میں پریشانی سے ادھر ادھر ٹہل رہے تھے ویر کو دیکھ کر اس کی طرف لپکے۔۔ ان کے ذہن میں عجیب وسوسے آرہے تھے ۔۔ویر کو دیکھ کر انہوں نے شکر کا سانس لیا۔۔

ہاں وہ میرا فون کھو گیا ہے ۔۔۔ اس نے پینٹ کی جیب کو ٹٹولتے ہوئے کہا۔۔

یہ تم نے کیا حلیہ بنایا ہوا ہے ۔۔۔ہوا کیا ہے کچھ بتاؤ گے بھی ۔۔۔؟ ان کے پریشانی سے استفسار کرنے پر ویر نے سخت درد کرتے سر کو انگلی سے مسلا۔۔

بابا میں ابھی صرف آرام کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔ ویر نے اکتاہٹ سے کہا ۔۔۔

اوکے بعد میں بات کرتے ہیں ۔۔ وہ اسکا شانہ تهپتهپا کر چلے گئے۔۔

ویر نے راحم کا ہاتھ منہ دھلا کر اسکے کپڑے بدلے اور اسے بیڈ پر لٹا دیا۔۔ راحم اب اچھے بچوں کی طرح سوئے گا ۔۔ اوکے،، بابا ابھی آتے ہیں۔۔ اس کے دونوں گالوں کو باری باری چوم کر وہ فریش ہونے چلا گیا۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

اگلی صبح وہ دیر سے بیدار ہوا۔۔ عدیل شاہ نے بھی شاہ میر کو اس کے آرام کے خیال سے اسے جگانے سے منع کر دیا تھا۔۔

کروٹ بدل کر اس نے ذرا کی ذرا آنکھیں کھولیں۔۔ راحم بستر پر موجود نہیں تھا۔۔ باہر سے اسکی کھلکھلاہٹوں کی آوازیں آرہی تھیں۔۔

رات جیسے تیسے بینڈیج کر کے اس نے پین کلرز لے لیں تھیں۔۔ اب درد قدرے کم ہوگیا تھا۔۔

وہ کسلمندی سے اٹھ بیٹھا۔۔ اس نے زوردار انگڑائی لی جس سے اسکا کسرتی سینا اور نمایاں ہوگیا۔۔

ٹراؤزر میں ملبوس وہ آئینے کے سامنے جا کر کھڑا ہوگیا۔۔ اسے اپنے کاندھوں پر انا کا لمس ابھی بھی محسوس ہورہا تھا۔۔

کل کتنی قریب تھی وہ اس کے۔۔ اس کے جاذب نظر نقوش کو اس نے بہت قریب سے دیکھا تھا۔۔ اب بات صرف راحم کی نہیں تھی۔۔ اسکا اپنا دل بھی بےایمان ہونے لگا تھا۔۔

اس کے تیکھے مغرور نقوش میں دلکش مسکراہٹ نے رنگ پھیلاۓ۔۔۔

ٹھک ٹھک ۔۔۔۔ میں اندر آ گیا ہوں ۔۔۔ کوئی مسئلہ؟ ۔۔ میر بتیسی کی نمائش کرتے نمودار ہوا۔۔

ذرا پاس آؤ تو بتاؤں گا مسئلہ ہے یا نہیں۔۔۔ ویر نے مصنوعی غصے سے کہا۔۔

اوکے آپ کو کوئی مسئلہ نہیں ۔۔ میر نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا۔۔

بابا نے بھیجا ہے کہ دیکھ آؤں آپ اٹھے یا نہیں ۔۔۔ لیکن یہاں تو آپ کسی حسینہ کی زلفوں کے خیالوں میں کھوۓ مسکرا رہے ہیں ۔۔۔ میر کے شرارت سے کہنے پر ویر نے دانت پیس کر اسے دیکھا ۔۔۔

ہاہاہا چوری پکڑی گئی ۔۔۔ یا ہو ۔۔۔۔ میر نے ایک پیر دروازے سے اندر اور ایک پیر باہر رکھتے ہوئے گردن تک آتے سٹائلش بالوں کو جھٹک کر کہا۔۔

ویر اس کو پکڑنے کے لئے بھاگا تو وہ چھپاک سے وہاں سے غائب ہوگیا۔۔

سر جھٹک کر وہ فریش ہونے چلا گیا۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

کیسی لگ رہی ہے ۔۔؟ میر نے اپنے گردن تک آتے بالوں کو پونی میں باندھ کر داد لینے والے انداز میں عدیل شاہ کو دیکھا جو راحم کو آئس کریم کھلا رہے تھے۔۔

بلکل منحوس لگ رہے ہو ۔۔۔! انہوں نے منہ کے زاویے بگاڑ کر کہا۔۔ انکی بات پر راحم کھلکھلا دیا۔۔

دیکھا دیکھا کیسے کھی کھی کر رہا ہے یہ ۔۔۔ ٹڈا کہیں کا ۔۔۔ جل ککڑا۔۔

راحم سے اپنی بےعزتی برداشت نہ ہوئی۔۔

میرو آنٹی ۔۔۔۔ تالياں مار کر اچھلتا وہ اس انداز میں ہنسا کہ عدیل شاہ کے ساتھ ویر کا بھی قہقہہ گونجا جو ابھی فریش ہو کر آیا تھا۔۔

تو ہوگا آنٹی ۔۔۔ میر تو اسکے دیے خطاب پر جل بھن گیا۔۔ اس چھوٹے پیس نے تو میری جینڈر ہی بدل دی۔۔

اچانک وہ چالاکی سے مسکرایا ۔۔وہ راحم کے عین سامنے صوفے پر پھیل کر بیٹھ گیا۔۔ اس کو نظرانداز کر کے اس نے پاکٹ سے چاکلیٹ نكالی اور آرام سے اسکا ریپر اتارنے لگا۔۔ اس وقت وہ دنیا کا مصروف ترین انسان لگ رہا تھا۔۔

راحم نے اپنے مُنّے سے ہونٹوں پر زبان پھیری۔۔ ہمم یمی ۔۔۔۔ وہ عدیل شاہ کی گود سے اترا اور دوڑ کر میر کی ٹانگ سے لپٹ گیا۔۔

چاچو ۔۔۔؟ اس نے بڑی بڑی آنکھیں پٹپٹا کر معصومیت سے کہا ۔۔ میر کو اپنی سماعت پر شبہ ہوا۔۔ اتنی عزت اسے ہضم نہ ہوئی۔۔

کیا کہا تم نے چھوٹے پیکٹ ۔۔۔؟ اس نے آنکھیں سكیڑ کر پوچھا۔۔

چاچو دی (جی) ۔۔۔۔۔ !!

اس کی ناٹنکی دیکھ کر اسے سب سمجھ آ گیا۔چاچو یہ دو پھِل میں مِٹھو دوں دا۔۔۔ اس نے معصومیت کی انتہا کرتے ہوئے کہا ۔۔۔

میر نے اسے گود میں بٹھایا ۔۔ اچھا ایک شرط پر دوں گا یہ چاکلیٹ ۔۔۔ دادا کی پارٹی چھوڑ کر چاچو کی گینگ میں آ جاؤ ۔۔ مزے کریں گے۔۔

عدیل شاہ نے میر کی بات پر ناک سے مكهی اڑانے والے انداز میں اسے دیکھا،، جیسے کہہ رہے ہوں منہ دھو رکھو ایسا نہیں ہونے والا۔۔

تھیت اے،، دو ۔۔!!

راحم کے بولنے پر میر نے فاتحانہ نظروں سے انہیں دیکھا۔۔

یہ لو ۔۔۔ اس نے آدھی چاکلیٹ اسکی طرف بڑھائی تو راحم نے جهپٹ کر پوری چاکلیٹ پکڑ لی اور عدیل شاہ کی طرف دوڑ لگا دی ۔۔۔

ہاہاہا میرا ببر شیر ۔۔ بہت اچھا کیا ۔۔۔ انہوں نے راحم کو دوبارہ گود میں بٹھا لیا ۔۔۔وہ مزے سے ٹانگیں ہلاتا چاکلیٹ کھانے لگا۔۔ ویر انکی شرارتوں پر خاموشی سے مسکرا رہا تھا۔۔

تم نے چیٹنگ کی ہے میرے ساتھ ۔۔؟ میر نے مصنوعی غصے سے کہا ۔۔

ہاں ۔۔۔!!

راحم نے سر زور سے ہلا کر ٹکا سا جواب دیا۔۔

تمہیں تو میں ۔۔۔۔ وہ تیزی سے اسکی طرف بڑھا اور اسے اٹھا کر گدگدانے لگا۔۔

راحم ہنسی سے دوہرا ہوگیا۔۔

میر نے اسے سر سے اوپر اٹھا کر کاندھوں پر بٹھایا اور لان کی طرف دوڑ گیا۔۔

عدیل شاہ انکی کھلکھلاہٹوں پر آسودگی سے مسکرا دیے۔۔ پھر انہوں نے اپنا رخ ویر کی طرف موڑا۔۔

اب بتا بھی چکو۔۔۔ ان کے استفسار پر ویر انہیں کل کے واقعے کے بارے میں بتانے لگا۔۔ خود کے زخمی ہونے کی بات وہ گول کر گیا۔۔

عدیل شاہ نے فکر مندی سے اسے دیکھا۔۔ اللّه کا لاکھ شکر ہے کہ اس نے تم سب کو اپنی امان میں رکھا ۔۔ مجھے اس بھلے آدمی سے ملوانا کبھی جس کی مدد سے تم کامیاب ہوئے۔۔

میں اسے جانتا تو نہیں ہوں ۔۔ نہ ہی موبائل نمبر لینا یاد رہا ۔۔ کبھی ملا تو ضرور ملواؤں گا۔۔ اس نے فرمانبرداری سے کہا۔۔

انا ٹھیک ہے ۔۔۔؟

انا کے نام پر اس نے اک خوبصورت احساس سے خود کو مہکتا محسوس کیا۔۔

وہ انجرڈ تھی بابا ۔۔۔ اس نے راحم کے لئے بہت تکلیف سہی ہے ۔۔ انفیکٹ اس کی مدد کے بغیر ہم کچھ نہیں کر سکتے تھے ۔۔۔ اس نے مجھے اپنا مقروض کر لیا ہے ۔۔۔ آپ نے صحیح کہا تھا کہ اس سے زیادہ راحم کو کوئی پیار نہیں کر سکتا۔۔ بابا عجیب لڑکی ہے وہ جو خود کی پروا نہیں کرتی اور دوسروں کے لئے اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال لیتی ہے۔۔

وہ دھیمے لہجے میں کہتا گیا۔۔

عدیل شاہ اسے دیکھ کر مسکرا دیے۔۔

برخوردار تم پر بھی جادو چل گیا نہ اس کا۔۔!مجھے خوشی ہے کہ تم نے صحیح فیصلہ کیا۔۔

ویر گڑبڑا گیا۔۔۔نہیں تو ۔۔!! “میں نے کب ایسا کہا” ۔۔

باپ ہوں تمہارا ۔۔ گدھا نہ سمجھو مجھے ۔۔۔یہ بال دھوپ میں سفید نہیں ہو گئے۔۔ ایک دنیا دیکھی ہے۔۔ ان کے ڈپٹنے پر ویر سر جھکاۓ کان كهجانے لگا۔۔

چند دن صبر کرلو ۔۔۔ پھر جاؤں گا میں ان کے گھر ۔۔۔۔ انشااللہ سب خیر خیریت سے ہو جائے گا۔۔ میرے بیٹے کو کسی چیز کی کمی تھوڑی ہے۔۔۔ اس کی کمر تهپتهپا کر وہ آرام کی غرض سے اپنے کمرے میں چلے گئے۔۔

ویر نے نیم دراز ہوتے آنکھیں موند لیں۔۔ بند آنکھوں کے آگے ایک دلکش سراپا جگمگانے لگا تھا۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

سفید کوڑے کاغذ پر سیاہی کے دو قطرے گرے۔۔ قلم نے ان قطروں کو خوبصورت شکل میں ڈھال دیا ایسے کہ وہ خوش نما پھول نظر آنے لگے۔۔ خوبصورت تراشیدہ ہاتھوں نے قلم کو پھر سے تھاما۔۔ سفید کاغذ پر ابھرتے سیاہی مائل الفاظ موتیوں کی طرح دمکنے لگے۔۔

میرے پیارے اللّه !!

دل کرتا ہے ایک خط میں تیرے نام لکھوں۔۔!!

“اس میں خود کو مٹی یا پھر گمنام لکھوں”۔۔۔

تجھ کو بتاؤں اپنی تکلیف۔۔۔رنج و غم ۔۔۔!!

کچھ پسِ پرده لکھوں۔۔۔۔ کچھ سرِ عام لکھوں ۔۔!!

کبھی تجھ سے روٹھوں تو کبھی مناؤں تجھ کو ۔۔۔

کبھی خود کو کامیاب اور کبھی ناکام لکھوں۔۔!!

تجھ سے کہوں میرے رب !! “لوگ تکلیف دیتے ہیں”

تو کبھی لفظوں پہ یقین کرنے کا انجام لکھوں۔۔۔!!

کبھی خاموشی لکھوں،،، تو کبھی چیخ کر سناؤں تجھ کو!!

فقط لكهتی رہوں ،،، اور “صبح شام” لکھوں۔۔۔!!

(منقول)

°•°•°•°•°•°°•°°•°•°•°•°•°•°•°

ہوا کے دوش پر اڑتی ایک آوارہ لٹ کو اس نے شہادت کی انگلی کی نوک سے کان کے پیچھے اڑسا۔۔

وہ قلم بند کرتی زمین سے باقی کاغذات اٹھانے کے لئے جھکی تو تیکھی ناک میں پہنی نوز پن پوری آب و تاب سے چمکی۔۔

اس کے چہرے کا سکون دیدنی تھا۔۔ سیڑھیوں سے اپنا سامان سمیٹ کر اس نے اندر جانے کے لئے قدم بڑھائے۔۔

مهندی لگے خوبصورت پیروں سے خراماں خراماں چلتی اپنے کمرے میں آئی اور ہاتھ میں پکڑے سامان کو الماری کے قدرے اونچے خانے میں رکھ دیا۔۔

سامان رکھ کر اس نے کمرے کی حالت کو درست کیا اور زمین پر بچھے قالین پر دیوار سے کمر ٹکا کر بیٹھتی گزرے واقعے کے بارے میں سوچنے لگی۔۔

اس واقعے کو تین ہفتے گزر چکے تھے۔۔ بغیر کچھ چھپاۓ وہ حنا کو سب کچھ بتا چکی تھی۔۔۔ حنا کو یہ فکر کھائے جا رہی تھی کہ اگر کسی کو اس واقعے کی خبر ہوگئی تو لوگ ان کا جینا حرام کر دیں گے۔۔

لیکن ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔۔ جانے کیسے یہ خبر باہر نکل گئی اور محلے والے چسکے لینے کے لیے ان کے گھر آ کر پوچھ گچھ کرنے لگے۔۔

انہوں نے کسی نہ کسی طرح بات گول مول کر کے انہیں بهگا تو دیا لیکن ان کی کہی ایک بات حنا کے ذہن میں اٹک گئی کہ “لڑکی کی عزت سفید چادر کی طرح ہوتی ہے جس پر لگا سیاہ داغ تو لوگوں کو نظر آ جاتا ہے لیکن پوری سفید چادر انہیں نظر نہیں آتی۔۔” بات گہری تھی اور کھری بھی ۔۔

انہیں انا کی شادی کی فکر ہونے لگی تھی۔۔ بھلا وہ لاکھ درست صحیح لیکن جس گھر کی بیٹی کے بارے میں کہانیاں مشہور ہونے لگیں وہاں بھلا کون رشتہ لے کر آتا ہے۔۔

خود کی ذات میں بھلا جتنی بھی خامیاں ہوں ،، کسی کی خامی سننے پر لوگ فوراً فرشتے بن کر کانوں کو ہاتھ لگانے لگتے ہیں۔۔

انہوں نے وقار سے کچھ نہ چھپایا تھا۔۔ انا نے بلا جھجھک سب کچھ اپنے بابا کے سامنے دہرا دیا تھا۔۔ جب وہ غلط نہیں ہے تو جھوٹ کیوں بولے۔۔

جو لوگ اللّه کی ذات پر یقین کر کے سچ بولتے ہین تو چاہے وقتی طور پر انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑے لیکن حقیقتاً وہ سرخرو ہو جاتے ہیں۔۔ اور جو لوگ جھوٹ بولتے جاتے ہیں وہ اپنے ہی گڑے جھوٹوں کے جال میں پھنستے جاتے ہیں ۔۔

وقار کو انا پر پورا یقین تھا۔۔ اس لئے انہوں نے اسے اسکی بہادری پر سراہا جس پر حنا نے ناراضگی کا اظہار کیا کہ بیٹیوں کو اتنی بہادری مہنگی پڑ جاتی ہے۔۔ بات آئی گئی ہو گئی ۔۔

آج اتنے دن بعد اسے سب کچھ پھر یاد آرہا تھا۔۔ راحم کی اس سے انسیت اور ویر کے زو معانی الفاظ۔۔

انا ۔۔۔۔؟ حنا کی آواز پر اس نے تمام سوچوں کو جھٹک کر دروازے کی اوڑھ دیکھا جہاں وہ سوچتی نظروں سے اسے دیکھتی کھڑی ہوئی تھیں۔۔

جی !! کیا ہوا ماما ۔۔۔۔؟ اس نے سادگی سے پوچھا۔۔

کوئی عدیل صاحب آئے ہیں۔۔۔ انہوں نے آنکھیں سكیڑ کر کہا۔۔

ان کے نام پر وہ چونک کر سیدھی ہوئی۔۔

کیوں ۔۔؟ وہ کیوں آئے ہیں ۔۔؟؟ اس نے الجھن زدہ لہجے میں پوچھا۔۔

تمہارے لئے اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر آئے ہیں ۔۔۔

ان کے جواب پر وہ بجلی کی تیزی سے کھڑی ہوئی۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *