Ik Pegham e Muhabbat by Mirha Khan NovelR50588 Ik Pegham e Muhabbat (Episode 19,20)
Rate this Novel
Ik Pegham e Muhabbat (Episode 19,20)
Ik Pegham e Muhabbat by Mirha Khan
عین میرے کپڑے دو۔۔۔ عین میرا جوتا نہیں مل رہا۔۔ یار میری واچ کہاں گئی۔۔؟ کمرے سے مسلسل جہان کی پکار پر تنگ آ کر اس نے برتن ٹھا کی آواز سے سنک میں رکھے اور کڑے تیوروں سے وہ اندر گئی۔۔
فنکشن میں وقت ہی کتنا رہ گیا تھا اور ابھی تک وہ برتن دھو رہی تھی۔۔اسے رونا آنے لگا۔۔
غصے سے اس نے الماری میں ہینگ کیا سیاہ کرتا پاجامہ نکالا،، نچلے خانے سے سیاہ پشاوری جوتا نکالا اور پٹخنے کے انداز میں صوفے پر رکھے۔۔
تیکھی نظروں سے اس نے ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی واچ کو ایک نظر دیکھا اور ایک نظر جہان کو۔۔
اس کے تیور دیکھ کر جہان چپ چاپ کپڑے پکڑ کر واش روم کی طرف کھسک گیا۔۔
اس نے کچن میں جا کر جلدی جلدی برتن دھوئے۔۔ شاور وہ پہلے ہی لے چکی تھی۔۔ آئمہ کے کمرے میں جا کر اس نے سیاہ پاؤں کو چھوتا انتہائی خوبصورت فراق زیب تن کیا جس کی باڈی پر خوبصورت سکے لٹک رہے تھے۔۔
اس نے جلدی سے چُوڑی دار بازوؤں کو ٹھیک کیا اور بال کھول کر ڈرائیر کی مدد سے خشک کرنے لگی۔۔ کرلی بالوں کو اس نے سٹریٹ کر لیا جس سے بال گھٹنوں سے بھی نیچے تک آنے لگے۔۔ برابر کٹے ہوئے سیاہ خوبصورت بال ناگن کی بل کھاتی کمر سے سیاہ چمکدار آبشار میں بدل گئے۔۔
اس نے آئینے میں دیکھ کر آنکھوں میں كاجل لگایا جس سے اسکی نیلی آنکھیں اور بھی نماياں ہو گئیں۔۔ ہلکے گلابی گالوں کو اس نے بلش آن کی مدد سے مزید سرخ کر دیا۔۔ ہونٹوں کو سرخ لپسٹک سے ہلکا سا رنگتے اس نے ہونٹ ہلکے سے مس کیے۔۔ مطمئن ہو کر وہ سیدھی ہوئی۔۔
عین جلدی کرو نہیں تو تمہیں یہیں چھوڑ جاؤں گا میں۔۔ جہان کی جھنجهلائی ہوئی آواز پر عین کو پتنگے لگ گئے۔۔
پاؤں میں بلیک نازک سی ہیل پہن کر وہ دوپٹہ کاندھے پر ڈالے کچھ سخت کہنے کے لئے وہ کمرے سے باہر نکلی تھی کہ جہان کو دیکھ کر سارے الفاظ منہ میں رہ گئے۔۔
کسرتی جسم پر زیب تن سیاہ کرتے پاجامے کے ساتھ کاندھوں پر بل دے کر ڈالی سکن مردانہ شال۔۔ اس نے گھنے بالوں کو جیل کی مدد سے پیچھے کی طرف سیٹ کر رکھا تھا۔۔ بڑھی ہوئی داڑھی پہلے کی نسبت تراشیدہ نظر آرہی تھی۔۔ تیکھے مغرور نقوش سے اسے دیکھتا وہ اس کا دل دھڑکا گیا۔۔
کچھ یہی حال جہان کا ہوا۔۔ ہمیشہ سادہ رہنے والی سنگھار کیے اس کے سامنے آئی تو اس کے دل کی دنیا تہہ و بالا کر گئی۔۔ موقع کی نزاقت کو دیکھ کر اس نے دل کو ڈپٹ دیا۔۔
ہو گئی تیار۔۔؟ اس کی بھاری آواز پر عین چونکی۔۔
جی ہو گئی ہوں۔۔ اس نے بلا اراده کان پر ہاتھ رکھا،، ارے جھمکے تو میں نے پہنے ہی نہیں۔۔
ایک منٹ۔۔!! جہان کہہ کر چند قدم آگے بڑھا اور ہتھیلی اس کے سامنے کی جس میں سلور خوبصورت جھمکے دھرے ہوئے تھے۔۔
میرے لیے لائے ہیں آپ۔۔؟ اس کے بے تکے سوال پر جہان نے سلگ کر اسے دیکھا۔۔ نہیں ساتھ والی پڑوسن کے لئے۔۔
لا کر تو دکھائیں میرے علاوہ کسی اور کے لئے،، آپ سمیت دونوں کو کِک مار کر میں نے “مریخ” پر پہنچا دینا ہے ۔۔۔
اول فول بول کر اس نے جھمکے پہنے اور جہان کو دیکھے بغیر دوپٹہ سر پر ڈالے باہر نکل گئی۔۔
آؤچ!! دروازے کے قریب اسکا پیر مڑا تو وہ لڑکھڑائی۔۔۔ جہان نے مسکراہٹ دبائی۔۔
ہونہہ!! ہنکارا بھر کر وہ دہلیز عبور کر گئی۔۔
یا اللّه کیا پیس مجھے دان کیا ہے آپ نے۔۔ آسمان کی طرف دیکھ کر دل ہی دل میں بولتا اس کے پیچھے چل دیا۔۔







انا کیا کر رہی ہو پیچھے کرو ہاتھ۔۔! ابیحہ نے اس کے ہاتھ پر تھپڑ مارا تو اس نے رونی صورت بنا کر عائزہ کو دیکھا۔۔
یار نہ کرو آج اس کا اسپیشل ڈے ہے اور تم اسے مار رہی ہو۔۔ عائزہ نے اسے گلے سے لگاتے ہوئے کہا۔۔
تو اسکی حرکتیں بھی تو دیکھو۔ اتنی محنت سے بیوٹیشن نے تیار کیا ہے اور یہ میک اپ کا بیڑا غرق کر رہی ہے۔۔
اتنی الجھن ہو رہی ہے مجھے،، کبھی اتنا میک اپ نہیں کیا اور اس پاگل بیوٹیشن نے میرے منہ پر پینٹ کر دیا ہے۔۔ اللّه اتنے ہیوی ڈریس میں، میں سٹیج پر کیسے بیٹھوں گی اتنی دیر۔۔۔ اس نے دہائی دیتے ہوئے کہا۔۔
کہو تو تمہاری جگہ میں بیٹھ جاؤں؟ ابیحہ کی گوہر افشانی پر دونوں کی ہنسی چھوٹ گئی۔۔
دیکھو کیسی بے شرم دولہن ہے اپنے بياه پر کھی کھی کر رہی ہے ارے ہم تو اپنے زمانے میں اتنے شرمیلے ہوتے تھے کہ ایسے موقع پر کمبل میں چھپ کر بیٹھ جاتے تھے۔۔
ابیحہ نے بوڑھی بیبیوں کے انداز میں کہا تو انا اور عائزہ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہونے لگیں۔۔
کیا ہورہا ہے لڑکیوں؟ ماشاءالله کسی کی نظر نہ لگے ۔۔ جهلملاتے سوٹ میں حنا ہال کے برائیڈل روم میں داخل ہوئیں تو انا کو دیکھ کر بے ساختہ ماشاءالله کہتیں اسکا سر چوم گئیں۔۔
آف وائٹ گھٹنوں سے اوپر آتی شرٹ جس پر لائٹ گولڈن کام ہوا تھا کے ساتھ آف وائٹ ہی پھولا ہوا شرارا پہنے بالوں کا درمیان کی مانگ نکال کر جوڑا کیے جس سے ایک لٹ نکال کر دائیں گال پر چھوڑ دی گئی تھی۔۔ گہری میرون لپسٹک سے سجے تراشیدہ ہونٹوں سے ناک میں پہنی نتھ مس ہو رہی تھی۔
مہندی لگے خوبصورت ہاتھوں سے اس نے دوپٹہ ٹھیک کیا تو اس کے ہاتھ میں پہنے سرخ گلابوں کے گجرے نماياں ہوئے۔۔۔ ان کی خوشبو اسے مسحور کر رہی تھی۔۔
ماشاءالله،، ماشاءالله!!
عین جہان کے ساتھ نمو دار ہوئی اور انا سے لپٹ گئی۔۔ اللّه، کتنی پیاری لگ رہی ہیں آپ۔۔
اس کے تبصرے پر انا مسکرا دی۔۔
السلام علیکم ! جہان کے سلام کرنے پر سب نے اسے دیکھا۔۔۔
وعلیکم ! یہ کون ہیں؟ ابیحہ کے پوچھنے پر عائزہ نے اسے چٹکی کاٹی۔۔
میرے ہزبینڈ ہیں۔۔!! عین کے مسکرا کر کہنے پر ابیحہ کا صدمے سے منہ کھل گیا۔۔ بس میں ہی کسی کو نظر نہیں آتی۔۔ یہ ٹڈی سی لڑکیوں کو بھی کیا حسین بندے مل جاتے ہیں۔۔ میری باری کب آئے گی۔۔؟ اسے حقیقتاً صدمہ پہنچا تھا۔۔
ارے اداس کیوں ہو رہی ہیں اللّه کرے اگلا نمبر آپ کا ہو۔۔ عین نے شرارت سے کہا۔۔
ماں صدقے !! ابیحہ خوشی سے اٹھی اور عین کا ماتھا چوم کر بیبیوں کے انداز میں بولی۔۔۔ جہان سمیت سب کا قہقہہ گونجا۔۔
ہان بھائی اندر آ جائیں۔۔ انا کے بلانے پر اس نے نفی میں سر ہلایا۔۔ آپ لوگ بیٹھیں میں باہر ہوں۔۔ عین کو دیکھ کر کہتا وہ پلٹ گیا۔۔
اس کی نظر سب نے محسوس کی۔۔
اوہ ہو ۔۔۔!! ملی جلی آوازیں ابھری تو عین نے شرم سے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔۔
انا بے حد نروس ہو رہی تھی۔۔۔یہ سب اتنا آناً فاناً ہوا تھا کہ اسے کچھ سمجھنے کا موقع ہی نہ ملا۔۔
تھوڑی دیر بعد اسے سٹیج کی طرف لے جایا گیا۔۔ وہ گھونگھٹ نکالے نہایت آہستگی سے چل رہی تھی۔۔جب وہ سٹیج کے قریب پہنچی تو کیمرہ مین حرکت میں آ گئے۔۔
آف وائٹ کرتے پاجامے میں پیروں میں کھسہ پہنے شاہ ویر انا کی اوڑھ بڑھا اور اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔۔ اس وقت وہ دونوں سب کی نگاہوں کا مرکز تھے۔۔ وقار اور عدیل شاہ ایک ساتھ کھڑے دونوں کی دائمی خوشیوں کے لئے دعا گو ہوئے۔۔
انا نے دھڑکتے دل کے ساتھ اپنے سامنے پھیلی مضبوط چوڑی ہتھیلی کو دیکھا۔۔ نوجوانوں کی ہوٹنگ پر ویر کے مغرور چہرے پر مسکراہٹ نے چھب دکھائی۔۔
بے حد نروس ہوتے اس نے اپنا کانپتا ٹھنڈا ہاتھ شاہ ویر کے ہاتھ میں رکھ دیا۔۔ اس نے انا کو سہارا دے کر سٹیج پر اپنے مقابل کھڑا کیا۔۔ البتہ ہاتھ اس نے ابھی تک نہ چھوڑا۔۔
کھچا کھچ کی کئی آوازیں ابھریں اور ان یادگار لمحات کو اپنے اندر محفوظ کرتی گئیں۔۔
آپ اتنی ٹھنڈی کیوں ہو رہی ہیں۔۔؟؟ اس کے قریب براجمان ہو کر اس نے سرگوشی کی تو انا کے دل کی دھڑکن یکلخت تیز ہو گئی۔۔۔
پتہ نہیں !! اس نے دهیمی آواز میں کہا۔۔۔
میں بتاؤں کیوں ہو رہی ہیں۔۔؟؟ شاہ ویر مسکرا کر بولا تو انا کا دل رونے کو چاہا۔۔
سٹیج پر راحم کا فوٹو شوٹ کرتا میر کھنکارا۔۔ اہم اہم اتنی بھی کیا جلدی برو، حوصلہ ، صبر، تحمل۔۔
ویر نے اسے ایسے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو “وہاٹ ایور”۔۔
کیوں تنگ کر رہے ہیں آپ مجھے۔۔؟؟
اسے رونے کے لیے تیار دیکھ کر شاہ ویر نے اسے مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کر دیا مبادا وہ آنکھوں کے سمندر کو یہیں بہا دے۔۔
نکاح پہلے ہی ہو چکا تھا۔۔ انا کی فرمائش پر محض نکاح کا فنکشن رکھا گیا تھا۔ بقول اس کے باقی سب فضولیات ہیں۔۔
سٹیج سے نیچے اترتی عین کی نظر کچھ فاصلے پر کھڑے جہان پر پڑی جو اسے اپنے پاس آنے کا اشارہ کر رہا تھا۔۔
عین نے گھبرا کر نظروں کا رخ بدل لیا۔۔ آج اسے اپنی خیر نہیں لگ رہی تھی۔۔ جہان کی نظریں اسے جو پیغام دے رہی تھیں وہ اسے گھبراہٹ میں مبتلا کر رہا تھا۔۔
اسے وارن کرتی نظروں سے دیکھ کر وہ سٹیج کی طرف بڑھا تو عین وہاں سے کھسک گئی۔۔
جہان آگے بڑھ کر ویر سے ملا۔۔ ویر کی آنکھوں میں شناسائی کی رمق ابھری۔۔ تم وہی ہو نہ ۔۔؟
اس نے حیران مسکراہٹ سے اسے دیکھا تو جہان دھیما سا مسکرا دیا۔۔
ہاں وہی ہوں،، جہان !! انا کا کزن ہوں۔۔ ویر مزید حیران ہوتا اس سے گرم جوشی سے بغل گیر ہوا۔۔ اس نے عدیل شاہ کو بھی جہان سے ملوایا۔۔ وہ بہت خوش ہوئے۔۔
کھانے کے بعد رخصتی کا شور اٹھا تو گھبراہٹ کے مارے انا کے ہاتھ پیر کانپنے لگے۔۔ شاہ ویر کی ہمراہی میں وہ گاڑی تک آئی۔۔ شاہ ویر نے چادر میں ڈھکی اپنی ملکیت کو پورے استحقاق سے دیکھا۔۔
گاڑی کے قریب کھڑی حنا آگے بڑھ کر اس سے ملیں تو اس کے ضبط کا بندهن ٹوٹ گیا۔۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔ باری باری سب سے ملتے وہ آخر میں ابیحہ سے ملی۔۔
بس کر دے یار اتنا رو گی تو تمہارا پھیلا ہوا میک اپ دیکھ کر بھائی کی چیخیں نکل جانی ہیں۔۔
انا نے روتے روتے اس کی کمر میں دھموکا جڑا۔۔
آؤچ جنگلی عورت!!
پھر وہ شاہ ویر کی طرف مڑی۔۔ بھائی اپنا خیال رکھئے گا۔۔ سنجیدگی سے کہہ کر وہ سائیڈ پر کھڑی ہو گئی۔۔۔
ویر نے مسکراہٹ دبا کر انا کو دیکھا اور گاڑی کا دروازه کھول دیا۔۔ دونوں گاڑی میں بیٹھے تو ڈرائیور نے گاڑی چلا دی۔۔ ان کے جانے کے بعد باقی سب بھی اپنی منزل کی جانب گامزن ہو گئے۔۔







گھر پہنچ کر عین جلدی سے کمرے کی طرف بھاگی۔۔۔ اسکا اراده جلدی سے کپڑے بدل کر
سونے کا تھا۔۔
اس نے دوپٹہ بیڈ پر پھینک کر پیروں کو جوتوں کی قید سے آزاد کیا۔۔ اس نے باتھ روم کے دروازے پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ جہان نے اسے اپنی طرف کھینچا۔۔
ڈریسنگ ٹیبل کے آگے آ کر اس نے عین کو اپنے سامنے کھڑا کیا ایسے کہ دونوں کا رخ آئینے کی طرف تھا۔۔
اس نے کرتے کے اوپرے دو بٹن کھول کر کلائی سے گھڑی اتاری اور قدرے جھک کر ڈریسنگ پر رکھی۔۔ اسکے جھکنے سے نظریں جھکا کر کھڑی عین پر دباؤ پڑا۔۔ اسکا دل حلق میں آ گیا۔۔
کیا کہا تھا میں نے ہمم ۔۔؟ اس کے بالوں کو ایک کاندھے پر ڈال کر اس نے اس کی کمر کو بازو کے حلقے میں لیا۔۔
عین کا دل اتنی زور سے دھڑکنے لگا کہ جہان کو بھی اس کی آواز سنائی دی۔۔
کک کچھ بھی نہی ۔۔۔ کہا تھا ۔۔
تھوک نگل کر وہ گویا ہوئی۔۔
میرے بلانے پر آئی کیوں نہیں۔۔؟
وہ بوجھل آواز میں استفسار کرنے لگا۔۔
وہ وہ آنٹی ، ہاں آنٹی بلا رہی تھیں۔۔
جہان دوسرا ہاتھ اس کے پیٹ پر رکھ کر اس کی گردن پر جھکا اور ہلکا سا کاٹ گیا۔۔
سس۔۔ اس کے لمس پر بے حال ہوتی عین نے اس کے بازو پر ہاتھ رکھ دیا۔۔
سس سوری۔۔ آ آئندہ۔۔ نہیں ۔۔ کروں گی۔۔ جہان نے اس پر ترس کھاتے اسے اپنی گرفت سے آزاد کر دیا۔۔
عین چھپاک سے وہاں سے بھاگی اور باتھروم میں گھس کر دروازه بند کر لیا۔۔ اس نے اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھا جو تیز تیز دھڑک رہا تھا۔۔ گزرے لمحات یاد کرتے اس کے چہرے پر شرمیلی مسكان بکھر گئی۔۔







ویر کے آنے تک وہ بیڈ پر سمٹ کر بیٹھ گئی۔۔ سائیڈ ٹیبل پر کھانا رکھا تھا جسے شدید بھوک کے باوجود اس نے ہاتھ تک نہیں لگایا تھا۔۔ اس کی عجیب کیفیت ہو رہی تھی۔۔
کھڑاک کی آواز پر وہ مزید خود میں سمٹ گئی۔۔ ویر خوشبو میں نہایا ہوا اندر داخل ہوا اور آہستہ سے دروازہ بند کر گیا۔۔ پاؤں کو کھسے سے آزاد کر کے وہ انا کے سامنے براجمان ہو گیا۔۔
چند لمحے وہ اسے دیکھتا رہا اور پھر اس نے انا کا گھونگھٹ الٹ دیا۔۔ کئی لمحے وہ بے حس بیٹھا اسے دیکھے گیا۔۔
کوئی بیک وقت اتنا حسین اور معصوم کیسے ہو سکتا ہے۔۔
اس کے لبوں سے ادا ہوئے الفاظ پر انا کی دھڑکنوں نے “دل کے دربار” میں رقص شروع کر دیا۔ اس نے کپكپاتے لبوں کو بھینچ لیا۔۔
شاہ ویر نے اسکے حنائی ہاتھ کو تھاما اور ڈائمنڈ کا بریسلیٹ اس کی کلائی میں ڈال دیا۔۔ انا نے ہاتھ کو ذرا سا اونچا کیا تو بریسلیٹ کے ساتھ لٹکتے موتی اور ستارے چمکنے لگے۔۔
بہت خوبصورت ہے۔۔ ہلکے سے لب وا کرتے اس نے اسکی پسند کو سراہا۔۔
آپ سے زیادہ نہیں!! ویر کی بوجھل آواز پر انا کو وقت کی نزاکت کا احساس ہوا۔۔ جانے کیا ہوا کہ اسکی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔۔
ارے یہ کیا۔۔؟ کیا ہوا ؟ کیوں رو رہی ہیں آپ۔۔؟ شاہ ویر بوکھلا گیا۔۔
مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔ اس نے شوں شوں کرتے ہوئے کہا۔۔
آپ کمفرٹیبل نہیں ہیں۔۔؟ شاہ ویر نے پوچھا تو انا نفی میں سر ہلا گئی۔۔
اٹس اوکے! کوئی بات نہیں۔۔ میں ایسا مرد نہیں ہوں جو زبردستی اپنے حقوق وصول کرے۔۔ جب آپ چاہیں گی ہم اپنے رشتے کو آگے بڑھا لیں گے۔۔
انا نے کچھ کہنا چاہا لیکن زبان نے ہلنے سے انکار کر دیا۔۔
چینج کر لیں ۔۔ نرمی سے کہہ کر وہ ڈریسنگ روم میں چلا گیا۔۔
انا کی آنکھوں سے آنسو تیزی سے بہنے لگے۔۔ کیا اس نے ویر کے ساتھ غلط کیا تھا ۔۔؟؟ شرارے کو مشکل سے سمیٹ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور کونے میں رکھے بیگ سے اپنے لئے آرام ده كپڑے نکال کر وہ باتھ روم میں گھس گئی۔۔
چہرہ صاف کر کے جب وہ باہر نکلی تو شاہ ویر بغیر شرٹ کے بیڈ کے بیچوں بیچ لیٹا ہوا تھا۔۔ اس وقت انا کو اس سے بے حد حیا محسوس ہوئی۔۔
بالوں کو جوڑے کی قید سے آزاد کر کے اس نے ڈهیلی چوٹی میں مقید کر لیا۔۔ اب وہ بیڈ کی اوڑھ دیکھ کر انگلیاں چٹخانے لگی۔۔
چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر وہ بیڈ کے قریب آ کر رک گئی۔۔
آ جائیں جھجھک کیوں رہی ہیں۔۔؟؟ شاہ ویر نے سیدھے ہو کر کہا تو انا کا چہرہ شرم سے سرخ پڑ گیا۔۔
ویر نے اسکے چہرے کے بدلتے رنگ کو دلچسپی سے دیکھا۔۔ اسے اپنی جگہ جما دیکھ کر شاہ ویر نے ہاتھ بڑھا کر نرمی سے اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔۔ وہ کٹی ڈال کی مانند ویر کے سینے پر آ گری۔۔
ویر نے کروٹ بدلی اور اس کی کمر کے گرد بازو حائل کرتا اس کی گردن میں گہرا سانس بھر گیا۔۔
انا نے زور سے آنکھیں میچ لیں۔۔
شرمیلی بھی ہیں آپ۔۔ اور کیا کیا ہیں آپ ؟ ہر بار نیا روپ دیکھنے کو ملتا ہے۔۔ اسکی بھاری آواز پر انا گہرے گہرے سانس لینے لگی۔۔
آ ۔آ ۔پ ۔۔نے ۔کہا تھا ۔کہ ابھی ۔ نہیں۔۔۔ انا نے اٹک کر کہا۔۔
مسز اب اتنا بھی اچھا نہیں ہوں میں۔۔ تھوڑی بہت گستاخی تو کر ہی سکتا ہوں۔۔ اس نے زور سے انا کا گال چوما تو وہ اس سے شرما کر اسی کی گردن میں منہ چھپا گئی۔۔
ویر کا قہقہہ گونجا۔۔ اسے مزید بھینچ کر اس نے سونے کے لئے آنکھیں موند لیں لیکن اب نیند بھی کس کافر کو آنے والی تھی۔۔
اذان کی پہلی آواز پر وہ بیدار ہو گئی۔۔ رات دیر سے سونے کی وجہ سے سر بھاری ہو رہا تھا۔۔ اسنے بہت مشکل سے درد کرتی آنکھوں کو ذرا کا ذرا کھولا۔۔ دل میں دوبارہ سونے کا خیال ابھرا۔۔
“الصلوٰۃ خیر من النوم”
(نماز نیند سے بہتر ہے۔۔!!)
اس کی آنکھیں پوری کھل گئیں۔۔ ذہن بیدار ہوتے ہی اس نے آس پاس دیکھا۔۔ اپنا بازو آہستہ سے شاہ ویر کے نیچے سے نکال کر وہ اٹھ بیٹھی۔۔
دوپٹہ سر پر ڈال کر وہ وضو کے لئے غسل خانے چلی گئی۔۔ الحمدللّٰه! اسکا دل شکرگزار ہوا کہ اللّه نے اسے اپنے سامنے حاضر ہونے کی توفیق دی۔۔
چادر سے سر اور بازوؤں کو ہاتھوں تک ڈهانپ کر وہ اللّه کے حضور نماز کی ادائیگی میں مشغول ہو گئی۔۔
شاہ ویر کی آنکھ مسلسل آتی دهیمی سی آواز پر کھلی۔۔۔عجب سوز تھا اس آواز میں۔۔ اس نے دائیں اوڑھ دیکھا تو اسے نماز ادا کرتے ہوئے پایا۔۔ اب اسے سمجھ آئی کہ وہ آواز کہاں سے آ رہی تھی۔۔
اس نے دوبارہ سونے کی کوشش کی لیکن وہ سو نہ پایا۔۔ لیٹے لیٹے وہ اسے نماز ادا کرتے دیکھنے لگا۔۔
انا نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔۔ اسکے آپس میں پیوست ہونٹوں پر دهیمی ملكوتی مسکراہٹ تھی جبکہ آنکھوں سے آنسو شفاف موتیوں کی مانند گر رہے تھے۔۔
وه ٹرانس کی سی کیفیت میں اٹھا اور انا کے پاس جائے نماز کے قریب بیٹھ گیا۔۔ اسکی سرخ آنکھیں انا کے ہاتھ میں گرتے آنسوؤں سے الجھ گئیں۔۔
انا نے دعا مکمل کرتے چہرے پر دونوں ہاتھ پھیرے۔۔ آنکھیں کھولتے ہی اسکی نگاہ شاہ ویر پر پڑی۔۔
آپ نماز نہیں پڑھیں گے۔۔؟
وہ بغیر کچھ بولے اسکی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا۔۔ میں نے کب کی۔۔ پڑھنی چھوڑ ۔۔دی ہے۔۔ اب میں نہیں پڑھ سکتا۔۔ مجھے ۔۔مجھے ۔۔بہت ۔۔عجیب لگتا ہے۔۔ اتنی۔۔ دیر اللّه ۔۔سے دور ۔۔۔ رہا ہوں۔۔ اب ۔۔ کیسے ۔۔ سامنے ۔۔ جاؤں۔۔ اس نے انا کی گود میں سر چھپاتے اٹک اٹک کر کہا۔۔
انا نے نرمی سے اس کے بالوں کو سہلایا۔ شاہ ویر اللّه تعالیٰ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔۔ اس کے دھیمے لہجے میں کہے الفاظ پر شاہ ویر نے سر اٹھا کر بے يقینی سے اسے دیکھا۔۔
میرا ؟۔۔ میرا انتظار کر رہے ہیں۔۔؟
ہممم اللّه کو آپ کی واپسی کا انتظار ہے۔۔ اللّه تعالیٰ آپ سے بہت محبت کرتے ہیں۔۔
مجھ سے محبت کرتے ہیں ؟
لہجے میں بے يقینی تھی۔۔
ہاں اللّه آپ سے اتنی محبّت کرتے ہیں کہ آپ بائی چانس مسلمان پیدا نہیں ہوئے بلکہ اللّه نے آپ کو چوز کیا۔ وہ آپ سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ روز آپ کو پانچ بار اپنی طرف بلاتے ہیں۔۔ اللّه پاک ہر رات پہلے آسمان پر آ کر ہمارا انتظار کرتے ہیں کہ کب ہم اٹھیں۔ وہ ہماری نیند میں بھی ہمارے منتظر ہیں۔ پھر ہم کیوں نہیں جاتے۔۔؟؟
نرمی سے ادا ہوئے گہرے لفظ شاہ ویر کے دل و دماغ میں نقش ہو گئے۔۔
اٹھیں نماز ادا کریں۔۔ اس نے جھک کر اسکا ماتھا چوما تو وہ اٹھ بیٹھا۔۔
چند منٹوں کے بعد وہ مسجد جا چکا تھا۔۔
وہ پرسکون سی تسبیح کے دانوں پر اللّه کی حمد بیاں کرتی کمرے سے باہر نکل آئی۔۔ ارد گرد کا جائزہ لیتی وہ لان میں نکل آئی جہاں عدیل شاہ پہلے سے موجود تھے۔۔
السلام علیکم بابا !! صبح بخیر۔۔!! وہ ان کے سامنے جا کر گویا ہوئی۔۔
وعلیکم السلام ! صبح بخیر میرا بیٹا۔۔ انہوں نے دوپٹے کے ہالے میں اسکا شفاف چہرہ دیکھ کر کہا۔۔
آئیں واک کرتے ہیں۔۔ ماشاءالله کتنی خوبصورت صبح ہے۔۔ اور لان میں تو یہ سب اور بھی اچھا لگ رہا ہے۔۔ وہ بچوں کی طرح خوش ہو کر انہیں بتانے لگی۔۔
عدیل شاہ دهیمی مسکان چہرے پر سجائے اسکے ساتھ قدم بڑھانے لگے۔۔ پتہ ہے مجھے بہت شوق تھا کہ ہمارے گھر میں بھی لان ہو،، پھولوں کی خوشبو اور ۔۔۔۔ خراماں خراماں چلتے وہ ایک دوسرے سے باتیں کرتے گرد و پیش سے بیگانہ ہو گئے۔۔







اہم! بڑی دوستی ہو گئی ہے سسر بہو میں۔۔ جانے کب ویر ان کے پیچھے آ کھڑا ہوا۔۔
سسر نا کہو میاں بیٹی کہو۔۔ عدیل شاہ پلٹ کر بولے تو وہ مسکرا دی۔۔
ویر نرم نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ برخوردار تمہاری ہی ہے ذرا حوصلہ رکھو۔۔ انکے طنز پر ویر کا دلکش قہقہہ گونجا۔۔
انا نے وہاں سے جانے میں ہی عافيت سمجھی۔ اندر داخل ہوتے ہی اسکے کانوں میں راحم کی ریں ریں کی آواز پڑی۔۔
ایک کمرے سے میر راحم کو اٹھائے نیند میں جھولتا برآمد ہوا اور سامنے سے آتی انا کو تهما کر چہرے کے زاویے بگاڑتا واپس ہو لیا۔۔
ارے میرا بیٹا کیوں رو رہا ہے؟ مما پاس ہے نا۔۔ اس نے اب پورے حق سے اسے سینے میں بهینچ لیا۔۔ بش بش چپ میرا بیٹا۔۔ وہ چکر لگاتی راحم کو تهپکنے لگی۔۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ خاموش ہوگیا۔۔
انا نے اسکا چہرہ سامنے کیا۔ معصوم چہرے پر آنسوؤں کے نشان تھے۔۔ وہ بے ساختہ جھکی اور اسکے گالوں اور ماتھے کو نرمی سے چوم گئی ۔۔
اب میں آ گئی ہوں نا اب میں اپنے بیٹے کو رونے نہیں دوں گی۔۔
کوئی بیٹے کے باپ کو بھی پوچھ لے۔۔
ویر سر گوشی کرتا اسکے پاس سے گزر گیا۔
اس کی بات پر انا جھینپ گئی۔۔
بیٹا بھابھی اور وقار آنا چاہ رہے تھے ناشتہ لے کر لیکن میں نے انہیں منع کر دیا کہ اس تكلف کی ضرورت نہیں۔۔ ٹھیک کیا نا۔۔؟
انہوں نے اخبار تہہ کر کے میز پر رکھتے ہوئے کہا۔۔
جی بابا آپ جیسا مناسب سمجھیں۔۔ اس نے فرمانبرداری سے جواب دیا۔۔
بابا ناشتے میں کیا بناؤں سب کے لئے۔۔؟؟ راحم کو کاندھے سے لگاتے اس نے کچن کی جانب دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔۔
ارے ارے کوئی ضرورت نہیں تمہیں یہ کھانا وانا بنانے کی۔۔ ہم کیا ایک دن کی بياہی دلہن کو باورچی خانے میں گھسا دیں گے۔۔ہرگز نہیں! انہوں نے قطعی انداز میں کہا تو انا نے بے چارگی سے شاہ ویر کی جانب دیکھا جو کندھے اچکا گیا۔۔
ویر ناشتہ لے آیا ۔۔ میر کو اٹھانے کے بعد انا کچن سے برتن لے آئی البتہ برتن ڈھونڈنے میں اسے کافی مشکل کا سامنا کرنا پڑا ۔۔ اس دوران راحم اس سے ایک منٹ کے لئے بھی جدا نہ ہوا۔۔ میر کے آنے پر وہ راحم کو گود میں لے کر بیٹھ گئی۔۔
راحم بات بات پر کھلکھلا رہا تھا ۔۔ میرو جے میری ماما ہیں،، اب مجھے تنگ کیا تو تم کو جے ماریں گی، ہائے!!
بری بات بیٹا ،، چاچو ہیں۔۔ انا کے پیار سے سرزنش کرنے پر میر مسکرا دیا۔۔
چلو کوئی بندہ تو میری سائیڈ ہوا۔۔
ناشتے سے فارغ ہو کر وہ چھوٹے موٹے کاموں میں مصروف ہو گئی۔۔ اس نے سوچا چند دن بعد گھر کی سیٹنگ بھی تبدیل کرے گی۔۔اب یہ اسکا گھر تھا تو یہ کام اسے ہی کرنے تھے۔۔
آج اس نے عدیل شاہ کے نہ نہ کرنے کے باوجود گھر کی تینوں الماریاں سیٹ کردی تھیں۔۔ شاہ ویر کی الماری سیٹ کرتے اسے کافی وقت لگ گیا۔۔
اس نے جگہ بنا کر اپنے کپڑے بھی الماری میں رکھ دیے۔۔ راحم کی چیزوں کو ترتیب دیتے شام ہو گئی۔۔
راحم آج الگ ہی موڈ میں تھا اس لئے سوائے انا کے سب کی ناک میں دم کر رکھا تھا۔۔
شاہ ویر انتظار ہی کرتا رہا کہ کب اس کے ساتھ تنہا وقت گزار نے کو ملے لیکن وہ مصروف رہی۔۔ رات کو وہ تھکی ہاری کمرے میں آئی تو ویر آنکھوں پر ہاتھ رکھے لیٹا ہوا تھا۔۔
اسکے کمرے میں داخل ہونے پر اسنے ہاتھ ہٹا کر دیکھا اور پھر سے ہاتھ رکھ گیا۔۔ انا نے راحم کو سلا کر بیڈ پر لٹا دیا۔ ایک شرمنده نظر ویر پر ڈال کر وہ آرام دہ لباس بدلنے چلی گئی۔
بھورے سلكی بالوں کو ڈھیلے جوڑے میں باندھ کر وہ بیڈ پر اس کے قریب جھجھک کر بیٹھ گئی۔۔
ویر ۔۔؟؟ اس نے پكارا لیکن جواب ندارد۔۔
مجھے پتہ ہے آپ جاگ رہے ہیں۔۔ اس نے جھجھک کر اس کے بازو پر ہاتھ رکھا اور اسکے چہرے سے ہٹا دیا۔۔
اس کو چھونے پر اسکا دل تیز دھڑکنے لگا تھا۔۔ مضبوط مردانہ ہاتھ جن کی نسیں ابھری ہوتی ہیں اسے بہت پسند تھے۔۔ شاہ ویر کے مضبوط بازوؤں کو دیکھ کر اسے عجیب سے تحفظ کا احساس ہوا۔۔
شاہ ویر نے اسے ایک نظر دیکھ کر نظروں کا زاویہ بدل لیا۔۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ اسکی ناراضگی پر اسکا کیا رد عمل ہوتا ہے۔۔
انا کو آنکھوں میں آنسو جهلملانے لگے۔۔ آئی ایم سوری ویر! اس نے ویر کی داڑھی پر ہاتھ رکھ کر اسکا رخ اپنی طرف کیا۔۔ مجھے نہیں پتہ آپ کیوں مجھ سے ناراض ہیں لیکن پھر بھی سوری! وہ بھرائی آواز میں بولی تو ویر زیادہ دیر اس سے ناراض نہ رہ سکا۔۔
اس نے اسے اپنی طرف جھکایا تو انا نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ دیے۔۔ اسکی کمر میں بازو حائل کرتا وہ اسے شرمانے پر مجبور کر گیا۔۔
جب کوئی اس طرح منائے گا تو کون کافر ناراض رہ سکتا ہے۔۔ اسکے جوڑے کو کھول کر وہ بھاری آواز میں بولا۔۔
لیکن آپ ناراض کیوں تھے۔۔ وہ جاننے کے لئے بضد ہوئی۔۔
میں آپ کی اگنورنس برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔مجھے آپ کی پوری توجہ چاہیے۔۔ میں آپ کو ہر لمحہ اپنے قریب محسوس کرنا چاہتا ہوں۔۔ ویر کے پرشدت لہجے پر انا کپكپا گئی۔۔
کک کیوں۔۔؟؟ اس کے کپكپاتے ہونٹ ویر کی توجہ اپنی جانب مبزول کر گئے۔۔ اس نے دونوں کے مابین فاصلے کو ذرا سا سمیٹا۔۔ اتنا کہ دونوں کی سانسیں آپس میں الجھنے لگیں۔۔
“کیوں کہ محبّت ہو گئی ہے آپ سے۔۔”
بوجھل لہجے میں کہہ کر وہ اسکے ہونٹوں پر جھک گیا۔۔
اسکے پہلے پرشدت لمس پر انا کو اپنی سانسیں رکتی محسوس ہوئیں۔۔ اس نے ویر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے ہٹانا چاہا لیکن وہ اس کے سر کے نیچے ہاتھ رکھتا ہونٹوں پر گرفت مزید سخت کر گیا۔۔
وہ اس کی پیٹھ پر ناخن مارنے لگی تو وہ ذرا سا پیچھے ہٹا۔۔
مم ۔۔ میں ۔۔۔مر۔ ۔ ہا ۔۔ جاؤں ۔۔ گی۔۔
اس نے گہرے سانس لیتے ہوئے کہا۔۔
اوں ہوں میں مرنے تھوڑی دوں گا آپ کو۔۔ اس کی ٹھوڑی کو چوم کر وہ اسے اپنے آپ میں بهینچ گیا۔۔






وہ اداس سی لاؤنج میں بیٹھی تھی۔۔ سامنے کتاب پڑی تھی لیکن اسکا ذرا دل نہیں چاہ رہا تھا پڑھنے کو۔۔
ہا! اتنے دن ہو گئے ہیں نانو کو گئے ہوئے۔۔ لگتا ہے انہیں میری ذرا یاد نہیں آ رہی۔۔ اس نے خفگی سے سوچا۔۔
جہان آج آفس سے لیٹ ہو گیا تھا۔۔ وہ اکیلی ادھر ادھر پھرتی رہی۔۔۔ تھک کر اس نے تند نظروں سے فون کی طرف دیکھا اور جهپٹنے والے انداز میں پکڑتے جہان کا نمبر ملایا۔۔
ہیلو!! دوسری طرف سے خاصے شور میں اس کی آواز ابھری۔۔
آج آپ کو گھر آنے کی بلکل ضرورت نہیں ہے آپ باہر ہی رات گزارنا۔۔ اچھا !! وه غصے سے نتھنے پھلا کر بولی۔۔
لگتا ہے بیوی کا فون ہے۔۔ پیچھے سے کسی کی آواز ابھری اور ساتھ ہی قہقہہ گونجا۔۔
جہان نے خفت سے لاؤڈ سپیکر آف کیا اور قدرے دور ہٹ کر کھڑا ہوگیا۔۔
ہاں کیا کہہ رہی تھی تم ۔؟؟ گھر نا آؤں آج ؟ مطلب تم مجھے خوشی سے کسی اور کے ساتھ رہنے کی اجازت دے رہی ہو۔۔ اس نے تپانے والے انداز میں کہا تو دوسری طرف سے کال کاٹ دی گئی۔۔
یہاں غصے سے عین کا برا حال تھا۔۔ اس نے غصے سے دیوار پر لات ماری۔۔ آؤچ !! اس نے رونی صورت بنا کر اپنا پیر پکڑ لیا۔۔
منہ بنا کر وہ سیدھی ہوئی اور تن فن کرتی اپنے کمرے میں جا کر ادھر ادھر چکر لگانے لگی۔۔
جہان آہستہ سے چابی کی مدد سے دروازه کھول کر اندر داخل ہوا اور ادھر ادھر دیکھتا اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔۔
ایک منٹ ! میں پہلے چینج کر لوں۔۔
عین خونخوار تاثرات سے اسکی طرف بڑھی تو جہان نے اسے روک دیا۔۔
آفس بیگ سائیڈ پر رکھتا وہ شوز اتار کر سلیپر پہنتا باتھ روم میں گھس گیا۔۔ نیلی جینز اور سفید ٹی شرٹ میں وہ باتھ روم سے نمو دار ہوا۔۔
اب کیوں آئے ہیں گھر۔۔ جائیں کسی۔۔ کسی ۔۔ “حسینہ” کے پاس ۔۔ اس نے حسینہ پر زور دے کر دانت کچکچا کر کہا۔۔
ہوا کیا ہے ۔۔؟؟ کچھ بتاؤ بھی۔۔ جہان نے اس کے خونخوار تاثرات دیکھ کر دریافت کیا۔۔
میں اتنا اکیلا محسوس کر رہی تھی خود کو۔۔ نانو بھی نہیں ہیں اور آپ ۔۔۔ آپ کی تو بات ہی نہیں کرنی میں نے ۔۔۔
آخر میں وہ پھر ناک بھوں چڑھا کر بولی۔۔
تو کیا تم مس کر رہی تھی مجھے ، ہممم ۔۔؟ اس نے اس کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے پوچھا۔۔ ماتھے پر بکھرے بال اسکی وجاہت میں اضافہ کر رہے تھے۔۔
ہا ! توبہ،، خوش فہمی ہے آپ کی۔۔ کیوں مس کروں گی میں آپ کو۔۔ میں تو سوچ رہی تھی کہ اپنے پروفیسر کو کال کر لوں۔۔ اس نے تپانے والے انداز میں کہا تو جہان کا حلق تک کڑوا هو گیا۔۔
اس نے غصے سے اسکے تیز حرکت کرتے ہونٹوں کو دیکھا ۔۔ اسکی کہی بات نے اسکے دل میں آگ ہی لگا دی تھی۔۔
چپ بلکل چپ۔۔ خبردار اب ایک لفظ بھی بولی۔۔ لیکن وہ عین ہی کیا جو آسانی سے ہان کی بات مان لے۔۔
کیوں میں کیوں چپ رہوں ۔۔ میں تو ۔۔۔۔۔
یہی، یہی ،، اسی بات پر غصہ آتا ہے مجھے! اسکی بے تکی بات پر عین نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔۔
کس بات پر ۔۔؟
تمهارے تیز تیز بولنے پر ۔۔۔
جہان نے اسکی طرف قدرے جھک کر کہا۔۔
کیوں۔۔؟ عین نے سر اٹھا کر اپنے چھوٹے گلابی ہونٹوں کو گول کرتے ہوئے کہا تو اس پر جھکے جہان کی آنکھوں میں خمار اترا۔۔
کیوں کہ جب تمھارے ہونٹ تیز تیز حرکت کرتے ہیں تو میرا دل کرتا ہے انکو اپنے ہونٹوں میں قید کر کے ساکن کر دوں۔۔
اسکے بوجھل لہجے پر عین کو اپنے کانوں سے دھواں نکلتا محسوس ہوا۔۔
اس نے پیچھے قدم لے کر بھاگنا چاہا تو ہان نے تیزی سے اسکا بازو پکڑ لیا۔۔
چھوڑیں میرا ہاتھ ورنہ نانو کو بتاؤں گی۔۔ اسنے وارن کرنے والی نظروں سے کہا۔۔
مثلاً کیا بتاؤ گی ۔۔؟ وہ اس کی بات سے محظوظ ہوا۔۔
یہی ۔۔یہی کہ آپ مجھے تنگ کرتے ہیں۔۔ اس نے اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوئے کہا۔۔
جہان نے گرفت مظبوط کرلی۔۔ وہ کہیں گی روز ایسا تنگ کیا کرو تا کہ چنوں منوں اس دنیا میں آئیں۔۔
اس کے بے باک لہجے پر وہ رو دینے کو ہوئی ۔۔
بہت ہی مطلب بہت ہی زیاده “۔۔۔۔۔” ہیں آپ۔۔!! اس نے ہونٹ پھیلا کر کہا۔۔
وہ کیا ۔۔؟ وہ مزید شرارت پر آماده ہوا۔۔
خالی جگہ خود پر کریں۔۔!! اس نے شوں شوں کرتے ہوئے کہا تو جہان کا زبردست قہقہہ گونجا۔۔
مطلب “بہت رومینٹک” ہوں ۔۔
ہاااااان۔۔۔!!
اوکے اوکے !! اسکے چلانے پر وہ پیچھے ہٹ گیا۔۔
کھانا ملے گا آج کہ نہیں ۔۔؟؟
اس کے معصومیت سے کہنے پر عین نظریں گھماتی باہر نکل گئی۔۔
ہا ! کتنے معصوم بن رہے ہیں جیسے میں تو جانتی ہی نہیں اور روز تو کھانا جیسے کوئی ہوتی سوتی دیتی ہے نا۔۔!! ہنہ !
اسکی بڑبڑاہٹ پر جہان مسکراہٹ دباتا اسکے پیچھے چل دیا۔۔ بیٹا اب چھیڑا ہے تو بھگتو بھی۔۔







نانووووو !! جہان کے ہمراہ آئمہ کو اندر داخل ہوتا دیکھ کر کچن سے نکلتی عین خوشی سے چیختی ان سے لپٹ گئی۔۔ جانے پھر کیا ہوا وہ رونے لگی۔۔
ارے ارے کیا ہوا میری جان کو۔۔؟؟ اس کے گرد حصار باندھ کر وہ پیار بھرے لہجے میں پوچھنے لگیں۔۔
ان کے تھکے ہونے کا احساس کرتے وہ پیچھے ہٹی اور ایک پرشکوہ نگاہ جہان پر ڈال کر آئمہ کو لیے ان کے کمرے میں چلی گئی۔۔
نانو میں نے بہت مس کیا آپ کو ۔۔ ان کے قریب بیڈ پر بیٹھ کر وہ انکے کاندھے پر سر ٹکا گئی۔۔
آئمہ تو نہال ہو گئیں۔۔ میں نے بھی بہت مس کیا تمہیں۔ وہ اسکا سر چوم کر گویا ہوئیں۔۔
نانو ہان نے مجھے ڈانٹا بہت بہت زیادہ ۔۔ اور ۔۔۔۔ وہ بغیر سوچے سمجھے انہیں ہر بات بتا گئی کہ کیسے وہ گھر سے گئی اور پھر جو جو ہوا۔۔ انا کی بابت بھی بتا دیا۔
آئمہ حیران پریشان سی اسے دیکھنے لگیں۔۔ اتنا سب کچھ ہو گیا اور تم مجھے اب بتا رہی ہو۔
غضب خدا کا اس نے غصے میں کچھ کہہ دیا تو تم منہ اٹھا کر چل دی۔۔ خدانخواستہ کچھ ہو جاتا تو۔۔؟ ان کا غصہ کم ہونے میں ہی نہیں آ رہا تھا۔۔
انا کی کلاس تو میں کل لوں گی۔۔ میں تو جیسے مریخ پر چلئ گئی تھی جو مجھے کچھ بتانا ضروری نہ سمجھا۔۔
ہان ۔۔؟ ہان ۔۔؟ اندر آؤ ۔۔ اسکے اندر آنے پر انہوں نے خفگی سے اسے دیکھا۔۔
کیا ہوا ۔۔؟ اسے گڑبڑ کا احساس ہوا۔۔
عین آئمہ کے پیچھے چھپ گئی۔۔
یہ کیا سن رہی ہوں میں۔۔؟ انہوں نے جہان کی کلاس لینی شروع کردی۔۔ عین کی بے وقوفی پر اس نے غصے سے اسے دیکھا۔۔۔ آئمہ کے قریب بیٹھ کر وہ انہیں وضاحت دینے لگا۔۔
