Ik Pegham e Muhabbat by Mirha Khan NovelR50588 Ik Pegham e Muhabbat (Episode 07,08)
Rate this Novel
Ik Pegham e Muhabbat (Episode 07,08)
Ik Pegham e Muhabbat by Mirha Khan
تولیے سے بال پونچھ کر اس نے ڈریسنگ ٹیبل پر بکھری چیزیں سمیٹیں۔۔ شرٹ پہنی اور آہستہ آہستہ بٹن بند کرنے لگا۔۔
کسی کی بہت شدت سے یاد آئی تھی۔ اداس مسکراہٹ لبوں پر سجا کر اس نے عدیل شاہ کے کمرے کا رخ کیا جہاں میر آج کل رہ رہا تھا۔۔
اس کی تکلیف کے خیال سے عدیل شاہ نے اسے اپنے کمرے میں ہی شفٹ کر لیا تھا،، کھلے دروازے سے وہ اندر داخل ہوا تو میر نے اسے دیکھا اور پھر نظریں جھکا لیں۔۔
اب ان آنکھوں میں ناراضگی نھیں تھی بلکہ اداسی نے ڈیرے جماۓ ہوئے تھے،، ویر ایک گھٹنا موڑ کر میر کے پاس بیٹھ گیا۔۔۔
کیسی طبیعت ہے اب۔۔؟ ہممم،،، ویر نے نرمی سے پوچھا۔۔
آئی ایم سوری بھائی،، میں نے آپ سے بہت بدتمیزی کی تھی۔۔ میر نے اس کے سینے سے لگتے ہوئے کہا تو ویر نے اسے اپنے مظبوط حصار میں لے لیا۔۔
اٹس اوکے۔۔ میں ناراض نہیں ہوں۔۔ ڈاکٹر نے کیا کہا ہے کب تک زخم ٹھیک ہوں گے۔۔ اسے اپنے آپ سے الگ کرتے پوچھا۔۔
زخم کافی حد تک ٹھیک ہو چکے ہیں۔۔ ٹانگ میں درد ہے۔۔ ڈاکٹر نے کہا ہے تین چار دن تک چلنے کے قابل ہو جاؤں گا۔۔
آئی سی۔۔ اتنے میں عدیل شاہ کمرے میں داخل ہوئے،، ویر کو پہلے سے بہتر دیکھ کر انہیں دلی سکون پہنچا۔۔
پھر اچانک انہیں لاڈ صاحب کا خیال آیا۔۔ ویر راحم کہاں ہے۔۔؟ ویر کا دماغ بھک سے اڑ گیا۔۔ اپنے “ایک فُٹ پِیس” کو تو وہ کمرے میں ہی بھول گیا تھا۔۔
بغیر کوئی جواب دیے وہ اپنے کمرے کی طرف دوڑا۔۔ تیزی سے سیڑھیاں عبور کرتے اسے زبردست ٹھوکر لگی،، بمشکل گرنے سے سنبهلتے وہ جلدی سے کمرے میں پہنچا۔۔
اور ادھر لاڈ صاحب بیڈ پر الٹے لیٹے کھلکھلا رہے تھے۔۔ ویر ہونق بنا اسے دیکھنے لگا جس میں کسی ہنںستے جن کی روح آ گئی تھی۔
“ایک فٹ” میں کوئی چیز ویز تو نہیں آ گئی۔۔؟ اس نے بےاختیار سوچا پھر اپنی سوچ پھر لعنت بھیجتے اس نے آرام سے اسے اٹھایا اور اپنے سینے سے لگا لیا۔۔
راحم نے کھلکھلا کر اس کی گردن میں منہ چھپا لیا۔۔ ویر اسے دیوانہ وار چومنے لگا،، میرا ایک فٹ،، میرا چیمپ۔۔۔ ویر نے پیار سے اسے پکارا تو راحم نے رونے کے لیے مُنّے سے ہونٹ پھیلا لیے۔۔
نہیں نہیں،، ہش ہش! سوری یار میں نے تو ایسے ہی بول دیا،، لیکن اب دیر ہو چکی تھی۔۔
لاڈ صاحب نے وہ رونا شروع کیا کہ ویر گڑبڑا گیا۔۔
وہ اس کو ہاتھ میں لیے پورے کمرے میں چکر لگانے لگا۔۔ کبھی یہاں سے وہاں اور کبھی وہاں سے یہاں۔۔ ابھے یار بس کردے میرے باپ،، ویر نے روہانسا ہو کر کہا لیکن وہ تو جیسے شرط لگا کر رویا تھا۔۔
لاڈ صاحب کے سریلے راگوں کی تاب نہ لاتے ہوئے عدیل شاہ فوراً کمرے میں داخل ہوئے لیکن ویر کی حالت دیکھ کر ان کی ہنسی چھوٹ گئی۔۔
کیا ہوا ہے۔۔؟؟ اتنا کیوں رو رہا ہے ہمارا شیر۔۔۔۔ یہ تو آپ اپنے شیر سے خود ہی پوچھ لیں،، ویر نے عاجز آ کر کہا۔۔۔
تم نے اسکا ڈائیپر چیک کیا۔۔؟ جواباً ویر نے صدمے سے انہیں دیکھا۔۔ میں۔ ۔؟؟ میں ۔۔؟ میں اب یہ کام کروں گا۔۔۔ ؟؟
تو کیا ساتھ والی پڑوسن آ کر کرے گی۔۔۔؟ انہوں نے خاص طور پر اس پڑوسن کا حوالہ دیا جس سے ویر بہت چڑتا تھا۔۔
لاحول ولا قوت،،، ویر کا چہرہ ایسا ہوگیا جیسے کسی نے کڑوا بادام اس کے منہ میں ڈال دیا ہو۔۔ نہیں کہتے ہو تو بلا لیتا ہوں۔۔ عدیل شاہ نے شرارت سے کہا۔۔
ضرورت نہیں میں خود ہی کچھ کر لوں گا۔۔ سمجھنے والے انداز میں سر ہلا کر عدیل شاہ یہ جا وہ جا۔۔
راحم کی مسلسل ریں ریں سے تنگ آ کر ویر نے غصے سے اسے گھورا تو وہ اور زیادہ رونے لگا۔۔ ویر نے میسنی سی شکل بنائی۔۔
سوری سوری میرا بے بی۔۔ ہش، بس چپ چپ ۔۔۔ویر نے اسے بیڈ پر لٹا کر اسکا ڈائپر اتارا تو یہ دیکھ کر اسے تسلی ہوئی کہ لاڈ صاحب نے کوئی “کسب” نہیں کیا تھا۔۔
ڈائپر اترنے کی دیر تھی کہ راحم خاموش ہو گیا اور ٹکر ٹکر ویر کا چہرہ دیکھنے لگا۔۔ ویر نے بھی اطمینان کا سانس لیا کہ چلو چپ تو ہوا لیکن نہ جی لاڈ صاحب سے کہاں اس کا اطمینان دیکھا گیا اور بھرپور انگرائی لے کر انہوں نے “کام” کر دکھایا۔۔۔
جی جی وہی کام جو انہیں ڈائپر میں کرنا چاہیے تھا وہ قدرے جھکے شاہ ویر کے منہ پر دھار کی صورت انجام پا گیا۔۔
اپنے کار نامے سے راحم بہت خوش ہو کر قلقاریاں مارنے لگا۔۔ ویر نے صدمے سے اپنے آپ کو دیکھا۔۔ اس کا دل کیا ایک چماٹ اس ” ایک فٹ” کو لگاۓ لیکن پھر اسے کھلکھلاتے دیکھ کر وہ خود بھی ہنس دیا۔۔
واش روم جا کر اپنا حلیہ ٹھیک کیا اور راحم کو نیا ڈائپر باندھنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔ اللّه یہ خواتین اتنا مشکل کام کیسے کرتی ہیں،، تھک ہار کر اس نے نیٹ سے ڈائپر پہنانے کا طریقہ دیکھا اور کافی کوششوں کے بعد آخر وہ کامیاب ہو ہی گیا۔۔
گہرا سانس خارج کر کے وہ سیدھا ہونے ہی لگا تھا کہ راحم کی ننھی سی ٹانگ اس کی آنکھ میں جا لگی۔۔ اپنی ایک آنکھ پر ہاتھ رکھے اس نے ” ایک فُٹ ” کو گھورا۔۔
پھر اسکی آنکھیں شرارت سے چمكیں۔۔ اس نے راحم کا ننھا سا پاؤں پکڑ لیا اور انگلی کی پور سے اسکے پاؤں کے تلے کو گدگدانے لگا۔۔
اب لاڈ صاحب آۓ تھے قابو میں۔۔ ویر نے اسکا پاؤں چوما اور اسے اچھی طرح سے کور کر کے لان میں لے گیا جہاں عدیل شاہ اور شاہ میر پہلے سے بیٹھے تھے۔۔







سنتے ہیں کہ مل جاتی ہے ہر چیز دعا سے۔۔!!
اک روز تمھیں مانگ کر دیکھیں گے خدا سے۔۔!!
جب کچھ نہ ملا ہاتھ دعاؤں کو اٹھا کر۔۔!!
پھر ہاتھ اٹھانے ہی پڑے ہم کو دعا سے۔۔!!
دنیا بھی ملی ہے،،،غمِ دنیا بھی ملا ہے۔۔!!
وہ کیوں نہیں ملتا جسے مانگا تھا خدا سے۔۔!!
اے دل تو انہیں دیکھ کر کچھ ایسے تڑپنا۔۔!!
آجائے ہنسی ان کو جو بیٹھے ہیں خفا سے۔۔!!
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰![]()
وہ کھلی کھڑکی کے سامنے کھڑا خالی نظروں سے گھنے درختوں کو دیکھ رہا تھا جن کے پتے ہوا کے زور سے ہل رہے تھے۔۔
ایک پتہ ٹوٹ کر نیچے گرا۔۔ جہان کی نظروں نے اسکے ساتھ زمین تک سفر کیا۔۔ کسی راہگزر نے اس پر پاؤں رکھ دیا اور اپنے دیہان میں گزر گیا۔۔
جہان کو اپنا آپ بلکل اس پتے جیسا لگا۔۔ جو پہلے ٹوٹا اور پھر کچل دیا گیا۔۔ اس کی آنکھوں میں نمی چمکنے لگی۔۔
اگر آپکا محبوب آپ کو رد کر دے تو اتنی تکلیف نہیں ہوتی جتنی یہ جان کر ہوتی ہے کہ وہ کسی اور سے محبّت کرتا ہے۔۔ اسکا دل اپنی بےبسی پر خون کے آنسو رونے لگا۔۔
گیلی سانس اندر کھینچتے اس نے اپنی معمول سے بڑھی داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور کھڑکی کے پاس رکھے صوفے پر نیم دراز ہوگیا۔۔
تھوڑی دیر پہلے آئمہ اسے انا کے آنے کی اطلاع دے کر گئی تھیں جو جہان سے کوئی بات کرنا چاہتی تھی۔۔ تو آخر اتنے دنوں بعد اس دشمنِ جاں کو میرا خیال آ ہی گیا۔۔
وہ ان کے بلانے پر بھی باہر نہیں گیا تھا۔۔ بہت مشکل سے خود پر ضبط کر رکھا تھا اگر اس کے سامنے جاتا تو شاید ضبط کھو دیتا،، وہ مزید اپنی محبت کی توہین نہیں چاہتا تھا۔۔
آئمہ نے انا کو بےچارگی سے دیکھا۔۔ انا انہیں سب کچھ بتا چکی تھی۔۔ آئمہ سمجھتی تھیں۔۔ ایسی باتوں پر انسان کا کہاں اختیار ہوا کرتا ہے۔۔وہ ہمیشہ کی طرح بہت محبت سے اس سے ملی تھیں۔۔۔
اب جب کہ وہ اتنی دیر سے لاؤنج میں بیٹھی جہان کا انتظار کر رہی تھی لیکن وہ تھا کہ آنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔
آئمہ سے اجازت لے کر اس نے جہان کے کمرے کی طرف قدم بڑھاۓ۔۔۔ دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے دروازہ دھکیلا۔۔
جہان نے دروازے کی سمت دیکھا جہاں وہ سیاہ عباۓ اور حجاب میں جھجھکی ہوئی کھڑی انگلیاں چٹخا رہی تھی۔۔
وہ آہستہ سے اٹھ بیٹھا۔۔ انا جھجھکتی ہوئی اس کے سامنے رکھے صوفے پر بیٹھ گئی اور خاموشی سے اسے دیکھنے لگی جو سر جھکاۓ بیٹھا تھا۔۔
اس نے رف سی ٹی شرٹ ٹراؤزر پہن رکھا تھا۔۔ بکھرے بالوں میں اسے وہ بہت ٹوٹا ہوا لگا۔۔ اتنا پیارا شخص یہ سب تو ڈیزرو نہیں کرتا اس نے اداسی سے سوچا۔۔
میں آپ سے معافی مانگنا چاہتی تھی۔۔ اٹک اٹک کر اس نے کہنا شروع کیا۔۔ مجھے آپ سے اس طرح بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔۔ میں نے آپ کو تھپڑ مار دیا،، مجھے ۔۔مجھے بہت برا لگتا ہے ابھی تک،، میں۔۔ میں آپ کا دل نہیں دکھانا چاہتی تھی لیکن میں کیا کروں۔۔۔؟ ایسا ۔۔۔ایسا کچھ بھی ممکن نہیں۔۔۔ لیکن ہم دوست بھی تو تھے۔۔ کیا اب۔۔اب۔۔ ہم۔۔ دوست۔۔ نہیں۔۔ ہیں۔۔؟؟ اس نے جھجھکتے ہوئے نظر جھکا کر کہا۔۔
جہان نے نظریں اس کے چہرے پر گاڑ دیں۔۔ انا نے خاموشی محسوس کر کے جھکا سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔ جہان نے اسکی آنکھوں میں اپنی سرخ آنکھیں گاڑتے بھاری آواز میں کہا
یونہی اک تہمت ہے دشمنوں سے ملتے ہیں۔۔۔۔!!!
دل کو زخم زیادہ تر دوستوں سے ملتے ہیں۔۔۔!!!
انا کی آنکھوں سے آنسو لڑیوں کی صورت بہنے لگے۔۔ اپنی وجہ سے کسی کو اذیت میں دیکھنا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔۔
آپ ۔۔مجھے۔۔ بہت۔۔ برا ۔۔سمجھ۔۔ رہے ہوں گے۔۔ لیکن آپ۔ مجھے۔ نہیں سمجھ ۔ سکتے۔ آپ کی اذیت اب شروع ہوئی ہے لیکن میں تو یہ اذیت کب سے سہہ رہی ہوں۔۔ اس نے بلکتے ہوئے کہا۔۔
میں آپ کو دکھ نہیں دینا چاہتی تھی لیکن میں کیا کروں۔۔ یہ میرے بس میں نہیں ہے۔۔ آپ کے لیے میں نہیں ہوں۔۔ مجھ سے بہت بہتر آپ کو مل جائے گی۔۔
بہتر چاہیے کسے ہے۔۔؟ جہان نے اسے ٹوک کر کہا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔۔
ہو سکے تو مجھے معاف کر دیں۔۔ میں چاہتی تھی ہم پہلے کی طرح دوست بن جائیں لیکن اب کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا۔۔ اپنے آنسو پونچھ کر وہ کمرے سے نکلتی چلی گئی۔۔
جہان نے اسے روتے دیکھ کر زور سے دیوار پر مکا مارا۔۔ میں اسے کیسے رلا سکتا ہوں۔۔ اپنی محبّت کے ساتھ کوئی ایسا کرتا ہے۔۔۔ سر ہاتھوں میں تھامے اس نے کرب سے آنکھیں بند کر لیں۔۔







انا نے اچھی طرح اپنے آنسو صاف کئے اور خود کو نارمل ظاہر کرتی لاؤنج میں بیٹھی عین کے پاس بیٹھ گئی جو ابھی ابھی کالج سے آئی تھی۔ جہان نے کالج میں ایف ایس سی میں اسکا ایڈمیشن کروا دیا تھا۔۔ وہ ابھی ایف ایس سی کے پہلے سال میں تھی۔
سفید یونیفارم میں بالوں کی اونچی پونی کیے وہ تھکی ہوئی لگ رہی تھی،، السلام علیکم انا آپی۔۔ عین خوشی سے اس سے ملی۔۔
جواباً انا نے بھی گرم جوشی سے جواب دیا۔۔آئمہ نے پانی کا گلاس عین کو پکڑاتے انا کی سوجھی آنکھوں کو بغور دیکھا تو انا نظریں چرا گئی۔۔
ہو گئی بات۔۔؟ انہوں نے استفسار کیا تو انا نے جھوٹی مسکان چہرے پر سجاتے سر اثبات میں ہلایا۔۔
اتنے میں جہان کمرے سے نکلا اور عین کے برابر بیٹھ گیا۔۔ انا کو نظرانداز کر کے اس نے عین کو مخاطب کیا۔۔ کیسا رہا آج کا دن۔۔؟ کوئی پروبلم تو نہیں ہوئی۔۔؟
جواباً وہ اسے آج کی روداد سنانے لگی۔۔ انا نے اداس مسکراہٹ سے اسے دیکھا۔۔ شاید وہ یہی سب ڈیزرو کرتی تھی۔۔
اچھا نانو اب میں چلتی ہوں۔۔
ارے اتنی جلدی کیا ہے میں کھانا بنا رہی ہوں کھا کر جانا،، آئمہ نے کچن سے جھانک کر خفگی سے کہا۔۔
نہیں پھر کبھی صحیح،، نرمی سے معذرت کرتی وہ جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
اچھا اگلی دفعہ کوئی بہانہ نہیں چلے گا۔۔ ان سے مل کر وہ جانے لگی تو آئمہ نے کہا رکو ہان تمھیں چھوڑ آتا ہے۔۔
نہیں نانو وہ خود چلی جائے گی۔۔اسے میری ضرورت نہیں۔۔ جہان نے تلخی سے کہا تو انا آنکھیں جھپک کر آنسو روکتی تیزی سے نکل گئی۔۔
ہان یہ کیا تھا۔۔؟
کیا؟ میں نے کیا کیا۔۔؟؟ جہان نے بیگانگی سے کہا اور اٹھ کر کمرے میں چلا گیا۔۔ عین نے سوالیہ نظروں سے آئمہ کو دیکھا جیسے پوچھ رہی ہو کہ انہیں کیا ہوا۔۔ آئمہ نے بیچارگی سے کندھے اچکاۓ۔۔۔







رات کا وقت تھا۔۔ حنا اور وقار سونے جا چکے تھے۔۔ انا پانی کا جگ لینے کچن میں آئی تو ٹھا کی زوردار آواز گونجی۔۔
ایک پل کے لیے تو جیسے اس کی جان ہی نکل گئی۔۔ اس نے لائٹ آف کی اور جلدی سے اپنے کمرے میں آ کر دروازہ بند کر دیا۔۔
باہر طوفانی بارش ہو رہی تھی۔۔ وقفے وقفے سے بادل خوفناک آواز سے گرجتے۔۔ انا نے زور سے بجتی کھڑکی کو جلدی سے بند کیا۔۔
بارش کی کچھ بوندیں اس کے چہرے پر گریں۔۔ اسے بارش بہت زیادہ پسند تھی لیکن رات کے اس پہر اتنی تیز بارش نے اسے خوفزدہ کر دیا۔۔
جلدی سے کمرے کا چھوٹا بلب جلا کر اس نے لائٹ بند کی اور چادر تان کر لیٹ گئی۔۔ آیات کا ورد کر کے اپنے اوپر پھونک ماری۔۔ جب سے وہ ڈرنے لگی تھی اس نے معمول بنا لیا تھا۔ وہ روز سونے سے پہلے کچھ قرآنی صورتیں اور آیات پڑھتی۔۔
وہ گہری نیند میں سو رہی تھی کہ اچانک اسکی آنکھ کھل گئی۔۔ اس نے وقت دیکھا تو گھڑی رات کے 2:00 بجا رہی تھی۔۔
آج پھر پورے دو بجے اس کی آنکھ کھل گئی تھی۔۔ ایسا پچھلے کئی دنوں سے ہورہا تھا۔۔ نیند اس کی آنکھوں سے ایسے اڑ گئی جیسے دوبارہ کبھی آئے گی ہی نہیں۔۔
اب وہ پہلے کی طرح اتنا ڈرتی نہیں تھی۔۔ وہ ان عجیب آوازوں کی عادی ہوتی جا رہی تھی۔۔ کبھی ایسی آواز ابھرتی جیسے کوئی سیڑھیاں چڑھ رہا ہو ۔۔ کبھی زور سے کچھ بجانے کی آواز آتی۔۔
ایسا تب ہوتا جب وہ جاگنے کے بعد دوبارہ سونے کی کوشش کرتی تو وہ آواز اسے پھر جگا دیتی۔۔ ایسا لگتا تھا کہ کوئی چاہتا تھا کہ وہ رات کے اس پہر جاگتی رہے۔۔
اس سب میں وہ اندر سے عجیب بےحس ہو گئی تھی۔۔ درد، تکلیف، خوف، بےرخی، دھوکہ سب،، کیا کچھ نہیں تھا جو وہ سہہ چکی تھی۔۔
اتنا سہنے کے بعد انسان اندر سے مضبوط اور بےحس ہوجاتا ہے اور وہ اکثر اپنے آپ سے کہتی کہ وہ “ڈِھیٹ” ہو گئی ہے۔۔
رات کے اس پہر جب سب نیند کی وادیوں میں گم ہوتے تھے۔۔۔ کون تھا اس کے ساتھ۔۔؟ کوئی بھی تو نہیں۔۔ کوئی بھی تو نہیں تھا اس کے پاس جب وہ خوف سے راتوں کو روتی تھی۔۔
بس ایک اللّه تھا جو ہر پل اس کے ساتھ تھا۔۔ خوف میں اسے حوصلہ دیتا۔۔ اس کے دل کو سکون دیتا۔۔ اب وہ بس اللّه پر یقین کرنے لگی تھی پہلے سے کہیں زیادہ۔۔
راتوں کو اپنے آپ کو کھوجتی رہتی اور اللّه سے باتیں کرتی۔۔ وہ اکثر سوچتی کہ ایک ہی وقت پر کیوں اسکی آنکھ کھلتی ہے۔۔ کچھ بھی تو بلاوجہ نہیں ہوتا۔۔
سوچوں میں گھری وہ میکانکی انداز میں اٹھی اور کمرے سے ملحقہ غسل خانے میں بیسن پر جھکی وضو کرنے لگی۔۔
“اللّهھم فاطر السمٰوٰت والعرض”
\[Oh Allah, Creator of the Heaven and Earth]
اس نے بازو کہنیوں تک گیلے کیے ۔۔۔
“عالم الغیب والشہادت”
\[Knower of the Unseen and Seen]
اب وہ جھکی اپنے پیروں پر پانی ڈال رہی تھی۔۔
“اشھد ان لا الہ الا اللہ”
\[I bear Witness that none is Worthy of Worship Except You]
اب وہ گیلے چہرے کو خشک کر رہی تھی۔۔
“وحدہ لا شریک له”
\[HE has no Partner]
اب وہ تہہ کیا جاۓ نماز کھول کر بچھا رہی تھی۔۔
“وَ انّ محمٌدﷺ عبدہ وَ رسول”
\[And the Muhammad (S.A.W) is your Man and Messenger]
تہجد کی نیت کر کے اس نے ہاتھ سینے پر باندھے۔۔
“اعوذبک من شر نفسه و من شرالشیطان”
\[I seek refuge in You from the Evil of my Soul and from the Evil from his Helpers]
اب وہ سجدہ کر رہی تھی۔۔۔
اور بےشک اللّه جسے چاہتا ہے توفیق دیتا ہے۔
اتوار کا دن تھا۔ عین کسلمندی سے آنکھیں ملتی جمائی روک کر آئمہ اور اپنے مشترکہ کمرے سے نمو دار ہوئی اور بےدیہانی میں جاگنگ سے واپس آتے جہان سے ٹکرا گئی۔۔
جہان نے اسے سیدھا کھڑا کیا۔۔ نیند میں تو نہیں چل رہی تم۔۔؟ عین نے بغیر جواب دیے برا سا منہ بنایا۔۔
صبح کے آٹھ بج رہے تھے۔۔ آئمہ کچن میں ناشتہ بنانے میں مصروف تھیں۔ عین کو کچن میں دیکھ کر مسکرائیں۔
یہ صبح صبح تمہارے منہ پر بارہ کیوں بج رہے ہیں۔۔؟
نانو ساری رات صحیح نیند نہیں آئی۔۔ جسم سارا اکڑ گیا ہے۔۔ سر بھی درد ہورہا ہے۔۔
چلو منہ ہاتھ دھو لو،، ناشتے کے بعد اچھی سی چائے پیتے ہیں،، سر درد بھاگ جائے گا۔
وہ سستی سے کچن شلف سے اٹھی اور فریش ہونے چلی گئی۔۔ جب وہ واپس آئی تو آئمہ ناشتہ ٹیبل پر لگا رہی تھیں۔۔ جہان پہلے سے ہی وہاں موجود تھا۔۔
عین نے اس کے ساتھ جگہ سنبهالی۔ جہان نے اسکی ناک دو انگلیوں میں دبا دی۔ تنگ آ کر عین نے اس کے ہاتھ پر تھپڑ مارا۔
نانوووو بھائی تنگ کر رہے ہیں۔۔۔
جہان! نہ چھیڑو اسے۔۔۔ آئمہ نے گھوری ڈالی تو وہ مسکرا کر سر جھٹک گیا۔۔ اب آپ اس بندری کی کچھ زیادہ سائیڈ نہیں لیتیں۔۔؟
ہاں تو ۔۔۔ آپ جل رہے ہیں کیا۔۔؟ عین نے شرارتی مسکراہٹ سے کہا تو جہان نے اس کے سر پر ہلکی سی چپت لگائی۔۔ خوشگوار ماحول میں ناشتہ کیا گیا۔۔
عین نے برتن اٹھا کر سنک میں رکھے۔ دوپٹہ گلے سے نکال کر سائیڈ پر رکھا اور برتن دھونے میں مصروف ہو گئی۔۔
ہان بھائی اب آپ نے تنگ کیا تو میں آپ کے اوپر پانی پھینک دوں گی،، کچن میں آہٹ محسوس کر کے اس نے بغیر دیکھے کہا۔۔
اجی ہم دل و جان سے پٹنے کو بھی تیار ہیں۔۔ شرط یہ ہے کے مارنے والے آپ کے نازک ہاتھ ہوں۔۔ توصیف اسکو گہری نگاہ سے دیکھتا کہہ رہا تھا جو اس وقت وائٹ ہاف سلیوز شرٹ اور وائٹ ہی منی سکرٹ ٹائٹس میں ملبوس بالوں کو رف جوڑے میں باندھے ہمیشہ کی طرح بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔
نانووووو ۔۔۔۔۔۔۔ کوئی گھر میں گھس گیا ہے جلدی آئیں۔۔۔ اسے ناگواری سے دیکھ کر کندھے پر دوپٹہ ڈال کر اس نے چلا کر کہا تو آئمہ فوراً دوڑی چلی آئیں۔۔۔
کچن کے دروازے پر توصیف کو دیکھ کر انہوں نے بمشکل ناگواری چھپائی۔۔۔ خیر تھی اتنی صبح صبح آ گئے۔۔ اسے لیے وہ لاؤنج تک آئیں اور سنجیدگی سے پوچھا تو وہ كمینگی سے ہنسا۔۔
ارے آپ تو بھول ہی گئیں۔۔ پھر سے دوہرا دیتے ہیں۔۔ اس نازک بلبل پر میرا دل آ گیا ہے۔۔ اب آپ کے لیے بہتر یہ ہے کہ اسے میرے حوالے کر دیں۔۔ بھئی کبھی تو بياہنہ ہے نہ۔۔
تم اپنی بکواس بند رکھو میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ تم جیسے انسان سے میں اپنی بیٹی کا رشتہ ہرگز نہیں کروں گی۔۔ اور ابھی وہ بہت چھوٹی ہے۔۔ جہان کو ابھی اس بات کا نہیں پتہ۔ ورنہ تمہارا وہ حشر کرے گا کہ۔۔۔
اتنے میں جہان ہاتھ میں کچھ پلاسٹک بیگز پکڑے گھر میں داخل ہوا۔۔ حیرت سے اپنے چچا زاد کو دیکھا اور بیگز کچن میں رکھتے اس سے مصافحہ کیا۔۔
لیجیے بھائی صاحب بھی آ گئے۔۔ اب ان کے سامنے ہی بات ہو جائے تو اچھا ہے۔۔ بات کرتے اس کی نظریں کچن کی طرف تھی۔ جہان نے کچھ نہ سمجھتے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو غصے سے مٹھی بھینچ لی۔۔
کچن میں عین نیچے جھکی فرش سے کچھ اٹھا رہی تھی جس سے اسکی ٹی شرٹ کمر سے تھوڑا سا کھسک کر اسکی کمر کا کچھ حصہ دکھا رہی تھی۔۔
عین ۔۔۔۔؟ جاؤ اپنے کمرے میں۔۔۔ جہان غصے سے دهاڑا تو توصیف ہڑبڑا گیا۔۔۔
عین جلدی سے کچن سے نکلتی کمرے میں گھس گئی۔۔
ہاں تو کیا کہہ رہے تھے تم۔۔؟ جہان نے اسے تیکھی نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔
جہان یہ عین کا رشتہ مانگنے آیا ہے۔۔ ایک دفعہ پہلے بھی آیا تھا۔۔ میں نے منع بھی کیا لیکن یہ پھر آ گیا۔۔
جہان ضبط کھو کر اٹھا اور اسے گریبان سے پکڑ کر کھینچا۔۔ بے غیرت انسان تمہاری ہمت کیسے ہوئی ہمارے گھر آنے کی۔۔ تم جیسے نشئی کے ساتھ میں اپنی بہن کا رشتہ کروں۔۔؟ جہان اس کے منہ پر دهاڑا تو توصیف نے بہت مشکل سے اپنا آپ اس سے چھڑایا۔۔
جہان مارپیٹ مسئلے کا حل نہیں ہے۔۔ آئمہ نے اسے ٹھنڈا کرنا چاہا۔۔۔ نانو آپ بیچ میں مت بولیں۔۔
جہان نے اسے دروازے کی طرف دھکا دیا اور کہا ” آئندہ اپنی شکل بھی نہ دکھانا ورنہ بھول جاؤں گا کہ تم میرے کچھ لگتے ہو۔۔”
سالے صاحب ویسے ایک بات سمجھ میں نہیں آئی وہ آپ کی بہن کیسے ہوگئی۔۔؟ منہ سے کہہ دینے سے کوئی بہن تو نہیں بن جاتی نہ۔۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کا دل اس پر آگیا ہے اس لیے آپ میری بات پر اس طرح بھڑک رہے ہیں۔۔ توصیف نے كمینگی سے مسکراتے ہوئے کہا تو جہان نے ایک زوردار گھونسا اس کے جبڑے پر دے مارا۔۔
نکلو یہاں سے۔۔۔ جہان نے دھاڑتے ہوئے کہا اور اسے دروازے کی طرف دھکا دیا۔۔
یاد رکھوں گا میں یہ سب اور اگلی دفعہ اپنے ماں باپ کے ساتھ آؤں گا۔۔ دیکھتا ہوں کیسے نہیں اسے میرے حوالے کرتے تم لوگ۔۔ بکتے ہوئے وہ نو دو گیارہ ہوگیا۔۔۔
واپس لاؤنج میں آ کر اس نے ناراضگی سے آئمہ کو دیکھا۔۔ آپ مجھے بتا نہیں سکتی تھیں جب وہ پہلی دفعہ آیا تھا۔۔ میں تب ہی اس کا منہ توڑ دیتا۔۔
ہان کیا فائدہ تمھیں بتانے کا۔۔؟ مارپیٹ سے مسئلے حل نہیں ہوا کرتے۔۔وہ عین کو خدانخواستہ کچھ کر ڈالے تو پھر۔۔؟ بیٹیوں کی عزت پر ایک بار حرف آ جائے تو ساری زندگی کے لیے اس کے لیے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔۔ تم ان باتوں کو نہیں سمجھتے۔۔
کم آن نانو کس دور میں رہ رہی ہیں آپ ۔۔؟ اچھا اب زیادہ پریشان نہ ہوں کچھ نہیں ہوگا۔۔
کیوں کچھ نہیں ہوگا۔۔؟ کل کلاں کو وہ دو چار آدمیوں کو ساتھ لے آیا تو کیا عزت رہ جائے گئی ہماری اور عین۔۔؟ اسکے بارے میں سوچا وہ کس قدر متاثر ہوگی اس سب سے۔۔
مجھے اب اس کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔۔ ماشاءالله جوان ہوگئی ہے۔۔ اور بات چاہے جتنی بھی کڑوی ہو حقیقت تو یہی ہے کہ وہ تمہاری سگی بہن نہیں ہے۔۔ کل کلاں کو کوئی اونچ نیچ ہو گئی تو۔۔۔
جہان نے بےيقینی سے انہیں دیکھا۔۔ نانو آپ مجھ پر شک کر رہی ہیں۔۔؟؟
نہیں میری جان میں تم پر شک نہیں کر رہی۔۔ لیکن ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں ایسی باتوں پر لوگ جینا حرام کر دیتے ہیں۔۔ خیر میں کچھ سوچتی ہوں اس بارے میں کیا کرنا چاہئے۔۔
کمرے کے دروازے سے لگی کھڑی عین کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔ وہ بہت ڈر گئی تھی۔۔ کیا نانو مجھے یہاں سے کہیں اور بھیج دیں گی۔۔
جہان نے پرسوچ نظروں سے دروازے کی سمت دیکھا جہاں سے اس کا دوپٹہ نظر آرہا تھا۔۔
عین باہر آؤ۔۔ جہان کے بلانے پر وہ آنکھیں صاف کرتی آہستہ قدم اٹھاتی اس کے سامنے کھڑی ہو گئی۔۔
اس نے تمھیں کچھ کہا تو نہیں۔۔؟ عین نے نفی میں سر ہلایا اور پلکیں جھپک کر آنسو روکنے کی کوشش کرنے لگی۔۔ جہان نے اسے دیکھ کر لب بھینچ لیے۔۔
پریشان نہ ہو سب ٹھیک ہو جائے گا ،، آئمہ نے اسے ساتھ لگایا تو وہ ان کے گرد بازو حمائل کرتی رو پڑی۔۔ نانو میں نے کہیں نہیں جانا آپ کو چھوڑ کر۔۔ پلیز مجھے کہیں مت بھیجیے گا۔۔
بس بس کس نے کہا ایسا۔۔ میں اپنی عین کو اپنے سے دور کیوں کروں گی۔۔ انہوں نے اسکا سر تهپکتے ہوئے کہا۔۔
چلو بس،، رونا دھونا ختم کرو۔۔۔ ایک بہت اچھی فنی مووی ریلیز ہوئی ہے۔۔ چلو دیکھتے ہیں۔۔ وہ عین کا بازو پکڑ کر اسے اپنے کمرے میں لے گیا۔۔
زمین پر بِچھے قالین پر انہوں نے دو تکیے دیوار کے ساتھ لگائے۔ جہان فریج سے کولڈ ڈرنک لے آیا۔ عین نے پلاسٹک بیگ سے کچھ سنیکس نکالے اور جلدی سے اپنی جگہ کشن رکھ کر بیٹھ گئی۔۔
جہان نے لیپ ٹاپ پر مووی پلے کی اور لائٹ آف کر کے اس کے برابر کشن پر بیٹھ گیا۔۔ کولڈ ڈرنک ہاتھ میں پکڑ کر وہ گھونٹ گھونٹ پینے لگے۔۔
عین نے لیپ ٹاپ کی سكرین کو دیکھتے جہان کے ہاتھ میں موجود چیٹوز کے پیکٹ کی طرف ہاتھ بڑھایا تو جہان نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔۔
عین نے بغیر اس کی طرف دیکھے ہاتھ کا مکا بنا کر اسے مارا جو اسکے منہ کی طرف جاتے ہاتھ پر لگا جس سے اس کے ہاتھ میں پکڑے چیٹوز منہ میں جانے کی بجاۓ ناک پر جا لگے۔۔
ہاہاہاہاہاہا،،، عین کی ہنسی چھوٹی۔۔ اب مزہ آیا ہنہ۔۔ اس نے پیکٹ جہان سے کھینچا اور مزے سے کھانے لگی۔۔
جہان منہ جھاڑ کر مووی کی طرف متوجہ ہوا۔۔ ہاہاہا،، یہ تو تم لگ رہی ہو۔۔ جہان نے چلتے منظر میں اڑے بالوں والی لڑکی کو دیکھ کر کہا۔۔ بجاۓ غصہ کرنے کے عین کی بھی ہنسی چھوٹ گئی۔۔
بہت مشکل سے اس نے حلق میں پھنسی ڈرنک کو حلق سے نیچے اتارا۔۔ اب منظر کچھ یوں تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو مذاق کا نشانہ بناتے “چپیریں” مارتے پاگلوں کی طرح ہنستے جا رہے تھے۔۔
وہاں سے گزرتی آئمہ دونوں کو پاگلوں کی طرح ہنستا اور جھگڑتا دیکھ کر خود بھی ہنس دیں۔۔۔ لیکن پھر ان کے ماتھے پر گہری سوچ کی لكیریں چھا گئیں۔۔







اب وہ اکثر كالج سے جلدی نکل جاتی تھی۔۔ پیپر سر پر تھے اس لیے کلاسز نہیں ہو رہی تھی۔۔ طالب علموں کی مرضی تھی کہ وہ کالج آئیں یا نہ۔۔
وہ پیپرز کی تیاری کے لیے تھوڑی دیر کے لیے چلی جاتی تھی۔۔ اور واپسی پر کالج کے قریب واقع پارک میں چلی جاتی۔۔ موسم خوشگوار ہوتا تھا۔۔ وہاں وہ ایک تنہا گوشے میں بیٹھ کر اسلامی بیان سنا کرتی تھی۔۔
اس کے دماغ کی بہت سی گرہیں کھلنے لگی تھیں۔۔ افسوس انا تم نے زندگی کے اتنے سال گمراہی میں گزار دیے۔۔
اس نے اپنے نقاب کو انگلی کی مدد سے درست کیا اور موبائل نکال کر یوٹیوب پر “youth club” سرچ کرنے لگی۔۔ یہ پانچ چھ افراد پر مشتمل ایک گروپ تھا جو لوگوں کو خصوصاً نوجوان نسل “youth” کو راہِ راست پر لانے کے لیے کوشاں تھے۔۔
وہ اسلامی حقائق اتنی خوبصورتی سے بیان کرتے کہ بات سننے والے کے دل میں اتر جاتی۔۔ اور ان کی کوششوں سے بالاخر بہت سے نوجوان بدلنے لگے تھے۔۔
حقیقتاً اللّه پاک لوگوں کو ہدایت دیتے ہیں لیکن اسکا وسیلا بھی اس کے تخلیق کیے بندے ہی بنتے ہیں۔۔
ایک دن “ٹک ٹاک” جیسے پلیٹ فارم پر سكرول کرتے اس کے سامنے “طٰہ ابن جلیل” کی ایک ویڈیو آئی جو “یوتھ کلب” ہی کے ایک ركن ہیں۔۔
وہ بہت انہماک سے ان کو سننے لگی۔۔ ان کا اندازِ بیاں اسے اس قدر بھایا کہ وہ باقاعدگی سے انہیں سننے لگی۔۔ پھر یہ سلسلہ چل پڑا اور وہ باقیوں کو بھی سننے لگی۔۔
خصوصاً محمد علی کی باتیں بہت موٹیویشنل ہوتیں۔۔ وہ بہت دھیمے انداز میں اپنا مدعا دوسروں تک پہنچا دیتے۔۔
اب بھی وہ اسی گروپ کے ایک ممبر کی ویڈیو کھولے ارد گرد سے بےخبر بیٹھی تھی۔۔ ویڈیو چلنے لگی تھی۔۔
قيامت کے دن ایک مسلمان کو لایا جائے گا ،، اس کے ننانوے صحیفے ہوں گے۔۔ جو گناہوں سے بھرے ہوں گے۔۔ حدیث میں ہے کہ” جب ان صحیفوں کو کھولا جائے گا تو جہاں تک بندے کی نگاہ جائے گی وہاں تک وہ صحیفے پہنچے ہوئے ہوں گے۔۔” اس کے اتنے گناہ ہوں گے۔۔ پھر اللّه تعالیٰ فرمائیں گے کہ اے میرے بندے کیا تو انکار کرتا ہے کہ یہ گناہ تو نے نہیں کئے۔۔ کیا تجھے کوئی شک ہے۔۔؟ پھر بندہ کیا کرے گا۔۔ پھر اللّه پاک مزید فرمائیں گے کہ کیا میرے “لکھنے والوں” نے کوئی غلطی تو نہیں کر دی لکھنے میں۔۔؟ بندہ کہے گا آج میں گیا۔۔۔ وہ کہے گا کہ یہ سب میری ہی کرتوت ہے،، میں نے ہی کیا ہے۔۔ پھر اس سے کہا جائے گا کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے جو گناہ تو نے کیے یا تو نے کوئی ایک نیکی کی ہے۔۔؟ اس وقت بندہ اتنا پریشان ہوگا کہ اسے یاد نہیں آئے گا کہ اس نے کوی نیکی کی بھی ہے یا نہیں۔۔ اللّه اس کو یاد کروائیں گے کہ کیوں نہیں،، تیری ایک نیکی ہمارے پاس ہے جو تو نے دنیا میں کی تھی اور پھر اسے کہا جائے گا کہ دیکھ میرے بندے تجھ پر آج ظلم نہیں کیا جائے گا اور پھر کیا ہوگا،، ایک کارڈ نکالا جائے گا جس پر لکھا ہوگا “لا الہ الا اللّٰہ” پھر اللّه پاک فرمائیں گے میزان لگاؤ۔۔ آج وزن کیا جائے گا۔۔ ایک پلڑے میں اسکے ننانوے صحف رکھو اور دوسرے میں یہ کارڈ رکھو۔۔ بندہ پریشان ہوگا اور کہے گا اے میرے رب جہاں ننانوے گناہ سے بھرے صحیفے ہیں وہاں ایک کارڈ کیا کرے گا۔۔ اللّه فرمائیں گے کہ میزان سیٹ کرو۔۔ حدیث شریف میں ہے کہ نہ صرف کارڈ کا پلڑا بھاری ہوگا بلکہ وہ صحیفوں کو اڑا پهینکے گا۔ “سبحان اللّه” پھر اسے کہا جائے گا جنت میں داخل ہو جاؤ اور ایسا صرف تب ہوگا جب بندے نے دنیا میں “لا الہ الا اللّه” کو توبہ کے ساتھ جوڑا ہو گا۔۔ تو میرے بہن بھائیوں لا الا الا اللّه کو ہلکا مت لیں۔۔ توبہ کے دروازے کھلے ہیں۔۔اللّه آپ کا منتظر ہے۔۔ اللّه کی طرف لوٹ جائیں اس سے پہلے کہ موت آپ کو آ دبوچے۔۔
انا سسکیوں سے رونے لگی۔۔ کتنا مہربان ہے رب۔۔ اللّه انسان سی کتنی محبّت کرتا ہے۔۔ اور ہم کیا کرتے ہیں۔۔؟ اس کی نافرمانی کرتے ہیں۔۔
کیا انسان کو اس دن سے خوف نہیں آتا کہ جب وہ سوئے گا اور جاگنے پر اپنے آپ کو مرا ہوا پائے گا۔۔ کیا قبر میں وہ کہہ سکے گا کہ میں نے فلاں حکم کو نہیں ماننا۔۔
تب بندہ گڑگڑاۓ گا فریاد کرے گا اے اللّه مجھے دنیا میں واپس بھیج دے بس کچھ وقت کے لیے۔۔ میں کبھی تیری نافرمانی نہیں کروں گا۔ میں اپنی زندگی سجدے میں پڑے گزار دوں گا لیکن تب بہت دیر ہو چکی ہوگی۔۔
لوگ کہتے ہیں کہ دیکھا جائے گا۔۔ جب قیامت کا وقت ہوگا تو دیکھا جائے گا۔۔؟ جب ہتھوڑے پڑیں گے تو دیکھا جائے گا۔۔؟ جب جہنم کی آگ میں جلنا پڑے گا تو دیکھا جائے گا۔۔؟
افسوس ہے ایسے لوگوں پر جنہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے اور پتہ ہے دنیا کیسے دھوکے میں ڈالتی ہے۔۔؟ جب انسان اللّه کو بھول کر دنیا کی رنگینیوں اور عیش و عشرت میں کھو جاتا ہے۔۔
کبھی سوچو تو صحیح کہ کیا تمہارے پاس ایسے عمال ہیں جو روزِ قیامت تمھیں اللّه کے غضب سے بچا سکیں۔۔ ابھی بھی وقت ہے لوٹ جاؤ۔۔ اللّه کو تمہاری واپسی کا انتظار ہے۔۔ وہ تمہارے گناہوں کو اس طرح صاف کر دے گا جیسے تم نے کبھی کیے ہی نہیں۔۔
وَفِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ
“میں تمہارے اندر ہوں تم کیوں نہیں دیکھتے”
\[And In Yourself, Then Why You Not See]
اپنے بہتے آنسوؤں کو پونچھ کر اس نے تشکر سے آسمان کی جانب دیکھا۔۔ اسکے دل کے گرد جمی گرد ہٹنے لگی تھی۔ اسکے دل کا مرض بھی ختم ہونے لگا تھا۔ بالاخر سب ٹھیک ہونے لگا تھا۔۔
بیشک اللّه تو نے ہی مجھے ہدایت دی۔ میں تو کسی قابل نہیں تھی۔ مجھے ہدایت پر قائم رکھنا۔۔
موبائل کو پرس میں ڈال کر وہ اٹھی اور نظریں جھکاۓ پارک کے گیٹ سے نکلتی چلی گئی۔۔
اور بیشک اللّه جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے۔۔
میری رات دن میں چھپی چھپی۔۔!!
میرا دن چھپا کسی رات میں۔۔!!
میری زندگی اک راز ہے۔۔!!
کوئی راز ہے میری بات میں۔۔!!
میں جہاں کہیں بھی الجھ گئی۔۔!!
وہیں گرتے گرتے سنبهل گئی۔۔!!
مجھے ٹھوکروں سے پتہ چلا۔۔!!
میرا ہاتھ ہے کسی کے ہاتھ میں۔۔!!
