Ik Pegham e Muhabbat by Mirha Khan NovelR50588 Ik Pegham e Muhabbat (Episode 03,04)
Rate this Novel
Ik Pegham e Muhabbat (Episode 03,04)
Ik Pegham e Muhabbat by Mirha Khan
سنسان سڑک پر وہ بےتہاشہ بھاگتی جا رہی تھی۔ اندھادھند بھاگنے سے وہ کئی دفعہ گری تھی جس سے اس کی جینز جگہ جگہ سے پھٹ چکی تھی۔
آنکھوں میں بےانتہا خوف لئے اس نے مڑ کر پیچھے دیکھا۔ اسکا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ وہ آدمی مسلسل اسکا تعاقب کر رہے تھے۔
ہاتھ میں پکڑے بیگ کو اسنے لڑکھڑاتے ہوئے کندھے پر ڈالا اور اپنی رفتار تیز کرتی سامنے نظر آتی ایک گلی میں داخل ہو گئی۔
تعاقب کار اسکا پیچھا کرتے گلی میں داخل ہوئے لیکن سنسان گلی نے ان کا استقبال کیا۔ کسی زی روح کو نہ پاتے وہ بھاگتے ہوئے گلی کا دہانہ عبور کر گئے۔
ان کے جانے کا اطمینان کرتے وہ گہرا سانس لے کر سنسان پڑی عمارت سے باہر نکل آئی۔ اسکے گھٹنے سے خون رسنے لگا تھا۔۔ ہاتھوں پاؤں پر جا بجا خراشوں کے نشان تھے۔
روتے ہوئے اس نے سوجھے چہرے پر ہاتھ رکھا۔ ہونٹ کے کنارے سے بہتے خون کو صاف کرتے اس نے زمین پر رکھا چھوٹا سا بیگ پکڑا اور لڑکھڑاتے ہوئے ایک طرف چلنے لگی۔۔۔
اسکا کرتہ جگہ جگہ سے اس طرح پھٹا ہوا تھا جیسے اسے کھردری زمین پر گهسیٹا گیا ہو۔۔ بالاخر وہ ایک آباد علاقے میں داخل ہوگئی۔۔ اب اسکی ہمت جواب دیتی جا رہی تھی۔۔۔
آگے بڑھ کر اسنے ایک مکان کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ کھو کھولو دروازہ کھولو۔۔ میری مدد کرو،،، اللّه کے واسطے دروازہ کھولو،،
رات کی خاموشی میں اسکی سسکیاں گونجنے لگیں۔ اسے ایک زوردار چکر آیا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر دروازے کے ہینڈل کو پکڑنا چاہا لیکن اسکی بصارت دھندلا گئی اور وہ توازن کھو کر گرتی چلی گئی۔۔۔







آج کا دن بے حد تھکا دینے والا تھا۔ آفس کے کام نے اسے بے حد تھکا دیا تھا۔ تھکا ہارا وہ گھر میں داخل ہوا۔ آج آئمہ اسکے استقبال کے لئے موجود نہیں تھیں۔
اپنا آفس بیگ کمرے میں رکھ کر اس نے ان کے کمرے کا رخ کیا۔ نانو ۔۔۔۔؟ اس نے دهیرے سے پکارا لیکن کوئی جواب نہ ملا۔۔۔ ان کے سونے کے خیال سے وہ دبے قدموں باہر نکل گیا۔
اپنے کمرے میں آ کر اس نے کپڑے بدلے۔ ڈھیلی سی بغیر بازو کے شرٹ اور ٹراؤزر زیب تن کی اور کمرے کی واحد کھڑکی کھول کر اس کے سامنے کھڑا ہوگیا۔۔
موسم بےحد خوشگوار تھا۔ بادلوں کے ٹکڑوں نے آسمان کو ڈهانپ رکھا تھا،، ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اس کے جسم سے ٹکرایا۔ جہان نے مسرور ہو کر آنکھیں بند کر لیں۔۔
اس کے گھنے کالے بال ماتھے پر بکھر گئے۔ اسکا کسرتی جسم ہلکی سی سفید شرٹ میں بہت نمایاں ہورہا تھا۔ اس نے سینے پر بازو باندھے اور آنکھیں موند لیں۔۔
بارش میں بھیگا دلکش سراپا چھم سے اس کی آنکھوں کے سامنے آ گیا۔ پتہ نہیں کب اور کیسے وہ اسے اتنی اچھی لگنے لگی تھی کہ دل کو بےاختیار اس سے محبّت ہو گئی تھی۔۔
شاید تب جب وہ شرارتی آنکھوں سے ہونٹ کا کونہ دانتوں میں دبا کر مسکراہٹ روکتی تھی۔ یا تب جب وہ اپنی نازک سی پتلی کمر پر ہاتھ رکھ کر تیوری چڑھائے غصے سے بول رہی ہوتی تھی۔۔۔
کسی کی سسکیوں کی آواز پر اسکی سوچوں کا ارتكاز ٹوٹا،،اس نے اپنا وہم سمجھ کر سر جھٹکا۔ کمرے کی بتی بھجا کر وہ بیڈ پر دراز ہوگیا۔
دونوں بازو سر کے نیچے رکھے جس سے اسکے مسلز اور بھی نمایاں ہونے لگے۔ اچانک عجیب سی آواز ابھری۔ وہ چونک کر اٹھ بیٹھا۔
اس دفعہ یہ وہم ہر گز نہیں تھا۔ دبے قدموں سے باورچی خانے میں جا کر اسنے چاقو پکڑا اور آہستہ سے جا کر بیرونی دروازہ کھولا۔
اندھیرے میں اس نے غور سے دیکھا تو دروازہ کے عین سامنے ایک لڑکی گری ہوئی تھی۔ جس کے ساتھ اسکا بیگ الٹا گرا اپنی بےقدری پر رو رہا تھا۔
جہان نے نیچے جھک کر اسے سیدھا کیا۔ اٹھو ،، کون ہو تم؟؟ اس کے ہلانے پر بھی اس وجود میں جب جنبش نہ ہوئی تو اسے تشویش نے آ گھیرا۔۔
اس نے احتیاط سے اسے اپنے مضبوط بازوؤں میں اٹھا کر لاؤنج میں رکھے صوفے پر لٹایا۔ آئمہ کے کمرے میں جا کر انہیں صورتحال سے آگاہ کیا۔۔
وہ پریشانی سے باہر آئیں اور اسے اٹھانے کے جتن کرنے لگیں جو شکل سے چودہ پندرہ سال کی لگتی تھی۔۔
ہان،، فرسٹ ایڈ باكس لاؤ جلدی،، بچی بہت زخمی ہے۔۔ وہ جلدی سے باكس لایا اور آئمہ کے ساتھ اسکے ہاتھ پاؤں کے زخموں کو صاف کرنے لگا۔۔
پاؤں کا ناخن بہت بری طرح ٹوٹا ہوا تھا۔ ہان نے ضبط سے اسے دیکھا جسکا چہرہ بھی زخمی تھا۔۔
آئمہ کی نظر اسکے گھٹنے سے پھٹی جینز پر پڑا۔ جہاں سے خون رس رس کر جم چکا تھا۔ اب انہوں نے اسکے پورے جسم کا جائزہ لیا۔ اسکی شرٹ بھی جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی تھی جس سے اسکا زخمی جسم واضح ہورہا تھا۔۔
جہان نے ان کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو فوراً نظریں جھکا لیں۔
ہان،، اسے میرے کمرے میں لے جاؤ۔
اس نے آہستہ سے اس نازک سی جان کو انکے بستر پر لٹا دیا۔۔ نانو میں اسکا بیگ چیک کرتا ہوں شاید اس کے کپڑے ہوں بیگ میں۔۔
آئمہ اسکا گریز سمجھتیں آہستہ سے سر ہلا گئیں۔ جب وہ باہر نکلا تو انہوں نے اس کے جسم کو کپڑوں سے آزاد کیا اور اسکے زخموں پر مرہم لگانے لگیں۔
جہان نے دروازہ ناک کیا تو آئمہ نے ذرا سا دروازہ کھول کر اسکے ہاتھ سے کپڑے پکڑے اور دروازہ بند کر دیا۔ اسکے کپڑے بدلنے کے بعد انہوں نے جہان سے ڈاکٹر بلانے کو کہا۔
تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر اس بچی کا چیک اپ کررہا تھا۔ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ نقاہت اور خوف کی وجہ سے یہ بےہوش ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے اس نے کافی دیر سے کچھ نہی کھایا۔ کچھ دیر تک ہوش آ جائے گا۔ ان کے کھانے کا خیال رکھیں اور کھانے کے بعد یہ دوائیاں دیں ۔ ڈاکٹر نے ایک کاغذ سنجیده کھڑے جہان کی طرف بڑھایا جسے تھام کر وہ ان کے ساتھ ہی باہر نکل گیا۔
آئمہ نے انکے جانے کے بعد اس پر كمبل ٹھیک کیا اور خود بھی لیٹ گئیں۔ فجر کا وقت ہونے والا تھا۔ اب وہ نماز پڑھ کر ہی سونے کا ارادہ رکھتی تھیں۔
جہان دوائیاں ان کو دے کر سونے کے لئے جا چکا تھا۔ اس سب میں وہ بےحد تھک چکا تھا۔ آئمہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئیں تو اسے ہلکا سا كسمساتے ہوئے دیکھا۔۔
وہ اسکے پاس جا کر بیٹھ گئیں۔ اسنے آہستہ سے آنکھیں کھولی۔ اسکی نیلی گہری آنکھیں دو اجنبی آنکھوں سے ٹکرائیں۔ خوف سے وہ ایک دم اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔
کیا وہ لوگ اسے پھر سے قید کر چکے تھے۔۔
چھ۔چھوڑ دو مجھے ،، پلیز مجھے جانے دو۔۔
آئمہ اسکی بات سن کر حیران رہ گئیں۔ انہوں نے نرمی سے ہاتھ اسکی طرف بڑھاۓ۔ اس نے ڈر کر دونوں ہاتھ منہ پر رکھ لئے۔ لیکن چند لمحوں بعد ہی اسے اپنے گرد بے حد نرم گرفت محسوس ہوئی۔
آئمہ نے بہت پیار سے اسے گلے لگایا۔ سب ٹھیک ہے۔ تم محفوظ ہو،، کوئی کچھ نہیں کہے گا۔
اسکا خوف زائل ہوا تو وہ بلک بلک کر رونے لگی۔ آئمہ نرمی سے اسکی کمر سہلانے لگیں۔
رونے کی آواز سن کر جہان آنکھیں ملتا ہوا انکے کمرے میں داخل ہوا۔ جہان کو دیکھ کر وہ آئمہ کے پیچھے چھپ گئی۔ یہ یہ ۔۔؟ اس نے سرگوشی کی۔
ڈرو نہیں یہ میرا نواسا ہے۔ یہی تمھیں گھر میں لے کر آیا تھا۔۔
جہان نے دوستانہ مسکراہٹ سے اسے دیکھا جو اب پہلے سے قدرے بہتر لگ رہی تھی۔ اس نے آئمہ کو آنکھ سے اشارہ کیا اور باہر نکل گیا۔
اسکا اشارہ سمجھ کر وہ اسے ساتھ لئے کچن میں آگئیں،، وہ ڈرتے ڈرتے اطراف کا جائزہ لے رہی تھی۔
تم ادھر بیٹھو میں تم دونوں کے لئے ناشتہ بنا لوں۔ انہوں نے کچن کی کھڑکی جو باہر لان میں کھلتی تھی، کھول دی۔ سنہری صبح طلوع ہو چکی تھی۔ ٹھنڈی ہوائیں خراماں خراماں کچن میں داخل ہونے لگیں،،
اس نے نظریں اٹھائی تو جہان پرسوچ نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اس کے دیکھنے پر دهیمی مسکان چہرے پر سجاتے اپنا ہاتھ اسکی طرف بڑھایا جسے اس نے جھجھکتے ہوئے تھام لیا۔۔
کیا نام ہے تمہارا۔۔؟ اس نے نرمی سے پوچھا۔
اعینہ (aina)۔۔ جوڑے سے نکلتے بالوں کو کان کے پیچھے اڑستے ہوئے اسنے کہا۔
پریٹی نیم لٹل گرل۔ اسکا مطلب کیا ہے؟؟
“خوبصورت آنکھوں والی” اسکے جواب پر جہان نے اسکی نیلی آنکھوں کو دیکھا۔ حزن لئے اداس نیلی آنکھیں۔ اسے یہ نیلی آنکھوں والی گڑیا بہت اچھی لگی۔
میرا نام جہان ہے۔ تم مجھے بھائی بلا سکتی ہو۔ اسکی بات پر اعینہ نے آنکھیں زور سے جهپك کر امڈ آنے والی نمی کو اندر دهكیلا ۔
ناشتہ کرنے کے بعد آئمہ اسے لئے لاؤنج میں آ گئیں جہاں ہان بیٹھا انہی کا انتظار کر رہا تھا۔ دکھتے جسم کو سنبھالتے وہ آہستہ سے آئمہ کے ساتھ بیٹھ گئی۔
کیا ہوا تھا تمہارے ساتھ۔۔؟
جہان کی بات پر وہ خوفزدہ ہو کر رونے لگی۔ آئمہ نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔ دیکھو اعینہ اگر تم ہمیں کچھ بتاؤ گی نہیں تو ہم تمہاری مدد کیسے کریں گے؟
انہوں نے ہمدردی سے اسے دیکھا۔ اس چھوٹی لڑکی پر انہیں بہت ترس آیا۔ اعینہ نے اٹکتے ہوئے بتانا شروع کیا۔
میرے سوتیلے ابو میری امی کو بہت مارتے تھے۔ ایک دن انہوں نے ۔۔ تکلیف سے لفظ ادا کرتے اسے دقت ہونے لگی ۔۔ ان انہوں نے امی کو اتنا مارا کہ وہ مر گئیں۔ وہ تكلیف سے سسکنے لگی۔۔
اسکی آنکھوں میں کرب دیکھ کر جہان ساکت رہ گیا۔ ابب ابو نے ۔۔ مجھے بھی بہت مارا۔ میں گھر سے بھاگ گئی کیوں کہ وہاں گندے انکل آتے تھے جو مجھے جج جان بوجھ کے ٹچ کرتے تھے۔
آئمہ نے بازو اس کے گرد پھیلا لیا۔ جہان نے غصے سے جبڑے بھنچے۔
ابو نے ایک دن مجھے زبردستی انکے ساتھ بھیج دیا۔ وہاں بہت سارے انکل تھے جو مجھے دیکھ کر گندی باتیں کر رہے تھے۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
آئمہ کی آنکھوں میں نمی ابھری۔ میں نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی تو انہوں نے مجھے بہت مارا اور گھ گھسیٹ کر واپس لائے۔ آئمہ اور جہان نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
پھر رات کو ایک آنٹی میرے پاس آئی ۔ انہوں نے مجھے وہاں سے بهگا دیا۔ انکل کو پتہ چل گیا ہوگا اس لئے میرے پیچھے کچھ آدمی لگ گئے۔
پھر پتہ نہیں کیسے میں ان سے بچ گئی۔ اور بھاگتے ہوئے یہاں آ گئی۔ اتنا کہہ کر وہ خاموش ہو گئی۔
جہان آئمہ کی آنکھوں میں تحریر صاف پڑھ سکتا تھا۔ بہت نرم دل خاتون تھیں وہ۔ نانو جیسا آپ کو ٹھیک لگے ویسا کریں۔ جہان نے نرمی سے کہا تو آئمہ کو اس لمحے اس پر فخر محسوس ہوا۔
اعینہ ادھر دیکھو۔ میری جان ۔۔ کیا تم ہمارے ساتھ رہنا چاہو گی۔۔؟؟ اعینہ نے ڈبڈبائی آنکھوں سے انہیں دیکھا۔ ایک پل کو سوچا ۔ اب وہ کہاں جا سکتی تھی۔ اثبات میں سر ہلاتے اس نے سر جھکا لیا۔۔
دیٹس لائق مائی گرل۔۔۔ جہان نے بشاشت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔ آج آفس کے لئے تو لیٹ ہو ہی چکا تھا۔ جانے کا ارادہ کینسل کرتے آج کا دن گھر میں ھی گزارنے کا ارادہ کیا۔۔
دن یوں ہی گزرتے رہے۔ اعینہ کے زخم مندمل ہو چکے تھے۔ وہ آئمہ کے کمرے میں ہی رہتی تھی۔
شاور لے کر وہ باتھروم سے باہر نکلی اور تولیے سے اپنے بالوں کو اچھی طرح خشک کرنے لگی۔ بال خشک کر کے اس نے انہیں اچھی طرح سنوارا۔
کالے گھٹنوں تک آتے گھنگھریالے بال لہرا کر اسکی کمر سے نیچے گرے۔ اس نے اگلے آدھے بال اونچی پونی میں باندھے اور گلاسز اٹھا کر آنکھوں پر ٹکاۓ جو جہان نے اس کے سر درد کی شکایت پر اسکے چیک اپ کے بعد بنوا کر دیے تھے۔
بیزوی فریم لیس گلاسز اسکے چہرے پر بہت جچے تھے اور بقول جہان وہ پہلے سے زیادہ کیوٹ لگتی تھی۔ اس نے بلیو جینز کے ساتھ گھٹنوں تک آتی ریڈ فراک پہن رکھی تھی۔
چھوٹے سے سٹالر کو گلے میں رول کر کے ڈال رکھا تھا۔
جہان کے آفس سے آنے کا ٹائم تھا۔ آئمہ طبیعت خرابی کی وجہ سے آرام کر رہی تھیں۔
لاؤنج میں جا کر وہ اپنی پسندیدہ جگہ بیٹھ گئی جہاں سے ہوا براہِ راست اسکے جسم کو چھوتی اسے سکون بخشتی تھی۔ ہاتھ میں ناول پکڑے وہ اسے پڑھنے میں منہمک ہو گئی۔ شروع میں وہ بہت سنجیدہ رہتی تھی۔ لیکن جہان کی لاکھ کوششوں اور آئمہ کے پیار سے وہ پگھلنے لگی۔
جہان تھکا ہوا داخل ہوا اور گرنے کے انداز میں صوفے پر براجمان ہو گیا۔ اعینہ کچن میں جا کر پانی لے آئی۔
ہان بھائی ۔۔۔۔ اسنے آنکھیں موندے جہان کو کندھے سے پکڑ کر ہلایا۔ جہان نے سیدھا ہو کر مسکراتے اس کے ہاتھ سے پانی کا گلاس پکڑا۔۔
ہاں بھئی میری گڑیا نے آج کیا کیا۔ اعینہ نے منہ بنایا۔ جہان نے مسکراہٹ دباتے اس کے کیوٹ تاثرات دیکھے۔
ہان بھائی میں بہت بور ہوتی ہوں گھر میں۔
چھلو بھئی اس کا بھی کچھ انتظام کرتے ہیں۔ مزید پڑھنا چاہو گی ؟؟
ضرور۔۔ اعینہ نے چمتی آنکھوں سے کہا اور موسم کا لطف لینے لان کی طرف بھاگ گئی۔ جہان نے مسکراتی نظروں سے اسے دیکھا اور آرام کی غرض سے اپنے کمرے کا رخ کیا۔
دلہن کے خوبصورت جوڑے میں بیٹھی شاہ ویر کے انتظار میں وہ تھکنے لگی تھی۔۔ کمر سیدھی کرنے کی غرض سے وہ بیڈ پر نیم دراز ہوئی ہی تھی کہ شاہ ویر دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا۔
اسکا سرد انداز دیکھ کر عائشہ سہم گئی۔
ویر نے اسکی طرف دیکھے بغیر کوٹ اتار کر صوفے پر پٹخا۔
عدیل شاہ کی خوشی کی خاطر وہ ان کی پسند کی لڑکی سے شادی کر چکا تھا۔ ان کے لئے وہ اس رشتے کو آگے بڑھانے کے لئے بھی تیار تھا لیکن اسکا دل بلکل خالی تھا۔ اس کے لئے یہ شادی محض ایک سمجھوتہ تھی۔۔
گہری سانس لے کر وہ کھڑا ہوا اور کپڑے بدلنے کی غرض سے چینجنگ روم میں چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ باہر آیا اور عائشہ کے سامنے بیٹھ کر اسکا گھونگٹ اٹھا دیا،،
دل میں کوئی جذبہ نہ ابھرا۔ یہ اپ کی منہ دکھائی،،، ایک نفیس سا لاكٹ خوبصورت پیکنگ میں اس کی طرف بڑھایا جسے اس نے مہندی لگے کانپتے ہاتھوں سے تھام لیا۔۔
دل اپنے محرم سے اپنے لئے محبت بھرے کلمات سننے کو بیتاب ہوا مگر اس نے کہا تو فقط اتنا کہ ” آپ چینج کر لیں۔ میں آپ کا انتظار کر رہا ہوں”۔
دھڑکتے دل کے ساتھ وہ اٹھی لیکن ایک خیال آنے پر رک گئی،، وہ میرا سامان۔۔۔؟؟ اس نے جھجھکتے ہوۓ پوچھا۔۔
وہ تو نیچے پڑا ہے۔ ایسا کریں میری كبرڈ کھول کر کچھ پہن لیں۔
وہ ہونق بنی اس کی طرف دیکھنے لگی تو ویر نے اٹھ کر اپنی قدرے چھوٹی بلیک شرٹ اور بلیک ہی ٹراؤزر اسے تھما دیا۔
اس کے جانے کے بعد ویر نے اپنی شرٹ اتاری اور بستر پر گرنے کے انداز میں لیٹ گیا۔ عائشہ باتھروم کی لائٹ آف کرتی باہر نکلی تو شاہ ویر کو بغیر شرٹ کے دیکھ کر اسکے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی،، اس نے جلدی سے نظریں جھکائی۔
اسے ایک ہی جگہ پر جما دیکھ کر شاہ ویر نے اسکی طرف چہرہ موڑا۔ گھٹنوں کو چھوتی شرٹ کے بازو فولڈ کیے گئے تھے۔ ٹراؤزر کے پائنچے فولڈ کرنے کے باوجود پاؤں میں آ رہے تھے۔
ادھر آئیں،، شاہ ویر کو وہ بہت ڈری ہوئی لگی۔
چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ اسکے پاس گئی۔ ویر نے کمرے کی بتی بند کر دی۔۔
اگلی صبح جب وہ بیدار ہوئی تو شاہ ویر کو بے حد قریب سوتے ہوئے پایا۔ دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے نرمی سے اسکی داڑھی پر ہاتھ رکھا۔ ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجاتی وہ شاور لینے چلی گئی۔







بھاؤ ۔۔۔ ایڑھیاں اونچی کر کے دبے قدموں کچن میں جاتی اعینہ نے دہل کر پیچھے دیکھا۔ اسے ڈرتا دیکھ کر جہان بہت محظوظ ہوا،، عین نے اسکے بازو پر دھموکا جڑا،، بھائی آپ نے میری جان ہی نکال دی تھی،، حد ہے۔۔
کیا ہورہا تھا۔۔؟ یہ چوروں کی طرح کچن میں کیوں گھسا جارہا ہے۔۔
شش آہستہ بھائی،، عین نے سر پیٹنے والے انداز میں کہا۔ نانو نے کچن میں میری چاکلیٹس چھپا دی ہیں،، وہی ڈھونڈنے جارہی ہوں۔
اوہ تو یہ بات ہے۔۔۔
ہاں نہ۔۔ عین نے نیلی آنکھوں کو گھماتے ہوئے کہا۔
یہ بعد میں ڈھونڈتی رہنا،،چلو شاپنگ کرنے چلتے ہیں۔
شاپنگ کا سن کر وہ بہت ایکسائٹڈ ہوئی۔ اوکے،، آپ رکیں میں ایک منٹ میں آئی۔۔
وہ شاپنگ مال میں کب سے سر کھپا رہے تھے۔ جو چیز جہان کو پسند آتی وہ عین کو پسند نہ آتی اور جو عین کو پسند آتی جہان اس پر ناک بھوں چڑھانے لگتا۔
نہیں بھائی باربی جیسے ڈریس چاہیے مجھے۔ اور منی کوٹس وغیرہ۔ میں آپ کو کیسے سمجھاؤں اب۔
دکاندار نے ان کی مشکل آسان کرتے ایسے بےشمار ڈریسز ان کے سامنے پھیلا دیے ۔ جہان کی آنکھوں میں ستائش ابھری۔ اس نے بلیو جینز کی جیکٹ کے ساتھ میرون فلور لینتھ فراک سائیڈ پر رکھی۔ سفید، کالی، سرمئی رنگوں کے منی کوٹس، شرٹس اور جینز کے ساتھ پیک کرواۓ۔۔
اسکی نظر ایک بہت خوبصورت ہلکے گلابی رنگ کی باربی فراک پر پڑی جس کے نیٹ کے بازو پھولے ہوئے تھے جو کلائیوں سے تنگ ہو جاتے تھے۔ گھٹنوں تک آتی نیٹ کی پھولی فراک،، پرفیکٹ۔۔
جہان کے ریماركس پر عین نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو اسکی نیلی خوبصورت آنکھیں چمک اٹھی۔۔
ایکسکیوز می،، یہ بھی پیک کر دیں۔ ساری پےمنٹ کرنے کے بعد واپسی پر آئسکریم پیک کروائی اور هنستے ہوئے گھر میں داخل ہوئے۔
لاؤنج میں آئمہ کے ساتھ بیٹھی انا کو دیکھ کر جہان کی آنکھیں جگمگا اٹھیں۔ عین جلدی سے یہ سارے بیگز رکھ کر آؤ۔۔
السلام علیکم! بھاری آواز میں سلام کرتا وہ انا کے سامنے بیٹھ گیا۔
وعلیکم السلام ہان بھائی۔۔ کیسے ہیں آپ؟
جہان کا منہ تک کڑوا ہو گیا۔ آئمہ نے مسکراہٹ دبائی۔
ٹھیک ہوں۔ تم کیسی ہو؟؟ نرم نگاہوں سے اسے دیکھتے دريافت کیا۔۔
انا کے حلق میں آنسوؤں کا گولا اٹکا۔ بعض سوال اتنے مشکل کیوں ہوتے ہیں اور ان کا جواب اس سے بھی مشکل؟؟
میں بھی ٹهیك ہوں،، بدوقت مسکراتے ہوئے اس نے جواب دیا۔
آؤ عین رک کیوں گئی ہو۔۔؟ آئمہ نے پیار سے اسے بلایا اور اپنے ساتھ بٹھا لیا۔ انا نے دلچسپی سے نیلی آنکھوں والی خوبصورت گڑیا کو دیکھا جو گلابی نازک ہونٹوں پر شرمیلی مسکان سجاۓ ہوئے تھی۔
یہ اعینہ ہے، میری پیاری بیٹی۔
آئمہ نے پیار سے اسکے پونی میں مقید لمبے گھنگھریالے بالوں کو سنوارتے ہوئے کہا۔ انا کو وہ سب کچھ بتا چکی تھیں۔
انا نے اس سے ہاتھ ملایا اور اپنے پاس بٹھا لیا۔۔
عین،، میں اب سے تمہاری بڑی بہن ہوں۔ ٹھیک ہے کوئی بھی بات ہو مجھے بتانا اور مجھ سے ملنے آتی رہنا۔ اب تو میں بھی اکثر تم سے ملنے آتی رہونگی۔۔
آخر آنا تو تمھیں یہاں ہی ہے،، جہان کے بے دیهانی میں کہنے پر انا نے نہ سمجھی سے اسے دیکھا۔
ہان کا مطلب ہے کہ عین اتنی پیاری ہے کہ جو بھی مل لے وہ بار بار ملنا چاہے گا۔ آئمہ نے بات سنبهالتے ہوئے کہا۔۔
ہاں یاد آیا جس کام کے لئے میں آئی تھی وہ تو بھول ہی گئی۔ انور چچا کے بڑے بیٹے کی شادی ہے۔ یہ کارڈ انہوں نے آپ کے لئے دیا تھا۔
انویٹیشن کارڈ ان کی طرف بڑھاتے ہوئے اس نے کہا۔۔ عین کو بھی ضرور لائیے گا ساتھ۔ میں چلتی ہوں۔ کافی وقت ہوگیا ہے۔ بابا ناراض ہوں گے۔
وقار کو بھی ناراض ہونے کے علاوہ آتا کیا ہے۔۔ اپنی ماں کو سلام دینا میرا۔۔ آئمہ نے کہا تو وہ جانے کے لئے کھڑی ہو گئی۔
چلیں آپ کو گھر ڈراپ کر دوں۔ نہیں اٹس اوکے میں چلی جاؤں گی۔۔
میں بھی ڈراپ ہی کروں گا۔ کھا نہی جاؤں گا آپ کو۔
انا نے سنجیدگی سے اسے دیکھا اور آئمہ اور عین سے مل کر باہر نکل گئی۔۔







میر دروازہ کھٹکھٹا کر ویر کے کمرے میں داخل ہوا،، وہ عائشہ کو دیکھ کر مسکرایا۔ جواباً وہ بھی مسکرائی۔
ویر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا بالوں میں برش کر رہا تھا۔ بھائی بابا آپ دونوں کا ناشتے پر انتظار کر رہے ہیں۔۔
ہم تھوڑی دیر تک آتے ہیں۔ عائشہ نے نرمی سے کہا۔ میر کے جانے کے بعد وہ آہستہ سے ویر کے سامنے کھڑی ہو گئی اور اس کی شرٹ کے بٹن بند کرنے لگی۔۔
میں کر لیتا ہوں،، ویر کے سنجیدگی سے کہنے پر وہ نرمی سے اسے دیکھ کر مسکرائی۔
وہ پہلے دن سے ہی اس کا کھچا سا رویہ محسوس کررہی تھی۔ ہاں ایک بات پر وہ مطمئن تھی کہ وہ اس کے سارے حقوق پورے کر رہا تھا۔۔
ویر نے اسے دیکھا جو سرخ شلوار قمیض میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔ کھلے بالوں کو دوپٹے سے ڈھانپتے وہ ویر کی ہمراہی میں ڈائننگ ہال میں داخل ہوئی۔
السلام علیکم بابا،، سربراہی کرسی پر بیٹھے عدیل شاہ کو سلام کر کے وہ ویر کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی۔
چلو کھانا شروع کرو۔ عائشہ بیٹے آپ نے اب اپنا خاص دیهان رکھنا ہے اور زیادہ کام نہیں کرنا۔ اس حالت میں زیادہ سے زیادہ آرام ہی بہتر ہے۔ اور ویر تم بھی میری بیٹی کا خیال رکھا کرو۔
ویر نے سر جھکا کر مسکراتی اپنی بیوی کو دیکھا۔ جی بابا آپ پریشان نہ ہوں۔
میر گھر میں نئے آنے والے مہمان سے ملنے کے لئے بیتاب تھا۔۔
کھانا کھا کر وہ میر کے ساتھ مل کر ناشتے کے برتن سمیٹنے لگی۔ ان کی شادی کو دو ماہ ہو چکے تھے۔ شادی کے دو ہفتوں بعد ہی اسکی طبیعت بہت خراب ہو گئی۔ ویر فوراً اسے ڈاکٹر کے پاس لے گیا جہاں ڈاکٹر نے انہیں خوشخبری سنائی۔ جو ویر کے لئے تو خوشخبری بلکل نہیں تھی۔
وہ چاہ کر بھی اس سے محبت نہ کر سکا۔۔ زبردستی رشتے جوڑنے سے دل نہیں جڑا کرتے۔ اس کے رویے میں اتنی تبدیلی ضرور آئی تھی کہ وہ اسکا تھوڑا بہت خیال رکھنے لگا تھا اور عائشہ کے لئے یہی کافی تھا۔







ہان بھائی جلدی کریں انا آپی کی كالز آ رہی ہیں۔ دیر ہو رہی ہے۔۔ اعینہ لاؤنج میں کھڑی جہان کو کب سے آوازیں دے رہی تھی جو آنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔
آج جہان کے چچا زاد بھائی کی مہندی تھی۔ مہندی کا انتظام ان کی حویلی میں کیا گیا تھا۔ انا پہلے ہی حنا اور وقار کے ساتھ حویلی جا چکی تھی۔ عین اور جہان نے مہندی سے کچھ وقت پہلے حویلی پہنچنا تھا۔
ہان بھائی ۔۔۔۔؟؟
آگیا آگیا تم نے تو آسمان سر پر اٹھا لیا ہے بندری۔۔
وائٹ پینٹ شرٹ اور جوگرز میں ملبوس ہاتھ میں کپڑوں سے بھرا بیگ پکڑے وہ عجلت میں کمرے سے نکلا۔۔ نانو سے مل لیا۔۔؟
جی ان کو بتا آئی ہوں میں،، مل بھی لیا ہے۔ اپنی گھٹنوں تک آتی وائٹ فراک کو سیدھا کرتے اس نے جہان کا ہاتھ تھاما اور اس کے ساتھ بائیک پر بیٹھ کر حویلی کے لئے روانہ ہو گئی۔
آئمہ نے جہان کے اصرار پر بھی جانے سے معذرت کرلی تھی۔ ان کی طبیعت کچھ ناساز تھی ۔۔ جہان نے بھی جانے کا ارادہ ملتوی کر دیا لیکن آئمہ نے کہا کہ اب اتنی بھی خراب نہیں۔ اور کسی کو تو جانا ہے نہ ۔۔ چار و ناچار وہ جانے کے لئے مان گیا۔ انا نے عین کو ساتھ لانے کی خاص تاكید کی تھی لہٰذا وہ بھی اس کے ساتھ جا رہی تھی۔
تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ دونوں حویلی پہنچے۔ شاندار حویلی اپنی پوری آب و تاب سے سجی، روشنیوں میں نہائی آنے والوں کو خوشآمدید کہہ رہی تھی۔۔
جہان مہمانوں سے بھری حویلی میں بمشکل جگہ بناتا عین کا ہاتھ پکڑے چچا کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
رخسانہ چچی نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور ملازم کی ہمراہی میں دوسری منزل پر موجود قدرے پرسکون کمرے میں بھیج دیا۔۔
ایک قطار میں بنے کمرے بلکل ایک جیسے لگتے تھے۔ ملازم کونے والے کمرے میں سامان رکھ کر چلا گیا۔
بھائی آئی ایم سو اکسائیٹڈ ۔۔ کتنا مزہ آۓ گا،، ارے انا آپی سے تو ملے ہی نہیں۔۔
اتنے میں انا انہیں ڈھونڈتی ہوئی یہیں آ گئی۔ السلام علیکم ! آخر کار آپ ہی گئے۔ اور جہان کا وعلیکم السلام سنے بغیر ہی عین کا ہاتھ پکڑتی جلدی میں کمرے سے باہر نکل گئی۔۔
اسکو جہان سے ایک کمرہ چھوڑ کر اگلا کمرہ ملا تھا۔۔ درمیان والا کمرہ ڈریسنگ روم کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔۔
عین چلو جلدی سے کپڑے بدلو۔ مہمان آ بھی گئے ہیں اور ہم ابھی تک تیار نہیں ہوئے۔ اس نے سوچا پہلے اسے تیار کر لے پھر آرام سے خود تیار ہو جائے گی۔۔
عین بلیک لہنگے کو بمشکل سنبهالتی باتھروم کا دروازہ کھول کر باہر نکلی۔ آپی یہ دیکھیں پاؤں میں آرہا ہے۔ میں تو گر جاؤں گی اس میں۔
ادھر آؤ میں ٹھیک کرتی ہوں۔ انا نے اسکا لہنگا اونچا کر کے پنز لگا دیں اور اسکی گولڈن کرتی کی ہک بند کی۔۔
پھر جلدی ہاتھ چلاتے اسے لائٹ سا میکپ کیا۔ کاجل کی باریک لكیر سے عین کی نیلی آنکھیں اور بھی خوبصورت لگنے لگیں۔ اسکے کالے لمبے بالوں کو سٹائلش سے جوڑے میں باندھ کر پھولوں سے بنی نازک بالیاں اس کے کان میں ڈال دیں۔
انا نے پیچھے ہٹ کر ایک بھرپور نظر سے اسکا سر تا پیر جائزہ لیا تو اسے عین پر بے انتہا پیار آیا۔ وہ لگ ہی اتنی پیاری رہی تھی۔
انا نے آگے بڑھ کر اسکے گالوں کو چوم لیا۔ یار کتنی پیاری لگ رہی ہو تم۔ میں لڑکا ہوتی تو ضرور تم پر دل ہار جاتی۔ عین بلش کرنے لگی۔
چلو اب تم نیچے جاؤ۔ میں تھوڑی دیر میں تیار ہو کر آتی ہوں۔ انا نے اس کا دوپٹہ سیٹ کرتے ہوئے کہا۔
عین کے جانے کے بعد انا نے اپنا میرون رنگ کا نیٹ کا لہنگا کرتی پکڑی اور ساتھ والے کمرے میں جو ڈریسنگ روم کے طور پر استعمال ہوتا تھا داخل ہو کر دروازہ بند کر دیا۔
لائٹ بند کر کے اس نے میرون پاؤں کو چھوتا لہنگا زیب تن کیا۔ چھوٹی سی بمشکل کمر تک آتی بند کُرتی پہن کر اس نے کمر پر موجود زپ بند کرنی چاہی لیکن زپ بند ہونے کا نام ھی نہیں لے رہی تھی۔
غصے میں اس نے زور سے زپ کھنچی جو ٹوٹ کر اس کے ہاتھ میں آ گئی۔ بلکل اسی وقت جہان ڈریسنگ روم سے ملحقہ چھوٹے سے کمرے سے باہر نکلا۔ کمرے میں اندھیرا دیکھ کر اسے اچنبھا ہوا۔
اپنے پیچھے کسی کی موجودگی محسوس کر کے انا اپنی جگہ ساکت رہ گئی۔ جہان اپنی ہینگ کی ہوئی قمیض پکڑنے کے لئے آگے بڑھا تو کسی نرم وجود سے ٹکرایا۔
توازن کھو کر وہ انا سمیت زمین پر جا گرا۔ جلدی سے اٹھ کر اس نے لائٹ جلائی۔ جہان کو اپنے سامنے بغیر شرٹ کے دیکھ کر انا کا شرم سے برا حال ہوگیا۔۔
وہ برا پھنسی تھی۔۔ ٹوٹی زپ کے ساتھ وہ کمرے سے باہر بھی نہیں جا سکتی تھی۔ جہان نے فوراً قمیض پہنی اور دوپٹے سے بےنیاز زمین پر گری انا کو اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ اس نے خود پر کس طرح ضبط کیا تھا یہ بس وہی جانتا تھا۔
انا نے اس کا ہاتھ دیکھ کر نفی میں سر ہلایا۔ وہاٹ ہیپنڈ ؟؟ تم ٹھیک ہو ؟؟ انا نے بےبسی سے اسے دیکھا۔
میری شرٹ کی زپ ٹوٹ گئی ہے۔ آنکھوں میں آنسو لئے اس نے ہلكی سی آواز میں کہا۔ جہان نے مسکراہٹ دبائی۔
اب کیا ؟ کوئی دوسرا ڈریس لا دوں؟ انا نے نفی میں سر ہلایا۔
اگر آپ کسی کو بلا دیں تو وہ میری ہیلپ کر دے۔
انا سب اپنی تیاری میں مصروف ہیں۔ اچھا اٹھو تو صحیح۔۔ تمہارے پاس کوئی پن ہے؟؟
جی وہاں اس باكس میں ہیں۔ آپ کیا کرنے لگے ہیں؟؟
جہان نے دو سیفٹی پنز پکڑیں اور انا کے بلکل سامنے کھڑا ہو گیا۔ انا کو اس سے بے انتہا شرم محسوس ہوئی۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ یہاں سے غائب هو جاتی۔
جہان نے انا کو کمر سے پکڑ کر پاس کیا اور بیک گلے کو پنز لگا کر بند کر دیا۔ دونوں کے دل بے تہاشہ دھڑک رہے تھے۔
جہان کے پیچھے ہٹتے ہی انا بھاگتی ہوئی ڈریسنگ روم سے باہر نکل گئی۔ جہان نے بالوں پر ہاتھ پھیرا اور گہرے سانس لینے لگا۔ یہ لڑکی تو ابھی سے اسکا نشہ بنتی جارہی تھی۔
اپنے کمرے میں آ کر انا نے جلدی سے دروازہ بند کیا۔۔ اف ڈوب مرو انا تم۔ کیا ضرورت تھی وہاں بت بن کر کھڑے ہونے کی اور جہان بھائی کی نظریں اف،، کس طرح دیکھ رہے تھے وہ۔
جھرجھری لے کر وه جلدی سے تیار ہونے لگی۔ براۓ نام میک اپ کر کے اس نے اپنے بھورے بال سٹریٹ کر کے کمر پر ڈالے اور میرون نیٹ کا دوپٹہ گلے میں ڈال لیا۔۔
کانوں میں ایئررنگز ڈال کر وہ اپنے کمرے کا دروازہ لاک کر کے ہال کی طرف بڑھ گئی جہاں فنکشن کا انتظام کیا گیا تھا۔
