Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Pegham e Muhabbat (Episode 13,14)

Ik Pegham e Muhabbat by Mirha Khan

انا نے وائس نوٹ پلے کیا تو ویر کی بھاری آواز پر اس کا دل اچانک دھڑک اٹھا۔۔ اس نے پریشان ہو کر اپنے آپ کو ڈپٹا۔۔

مجھے مردوں کی بھاری آواز پسند ہے بس اس لیے ایسا ہوا اور تو کوئی بات نہیں۔۔اپنے آپ کو تسلی دے کر اس نے عبایا پہنا اور کمر پر لٹکتی بیلٹ کو ڈھیلا کر کے باندھ دیا۔۔

سیاہ حجاب کو اوڑھ کر اس نے چہرے کو نقاب سے ڈھکا۔۔ سیاہ نقاب میں اس کی بھوری گہری آنکھیں دیکھنے سے تعلق رکھتی تھیں۔۔

پاؤں میں سیاہ ہی جوگرز پہن کر اس نے پرس کاندھے پر ڈالا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔۔

ماما میں اپنی دوست کے گھر جا رہی ہوں۔۔۔ تھوڑی دیر تک آ جاؤں گی۔۔

اچھا جلدی آ جانا اور دیہان سے جانا۔۔

حنا کی تاکید پر وہ سر ہلا کر گھر کی دہلیز عبور کر گئی۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

السلام علیکم !! آواز پر انا نے مڑ کر دیکھا تو ویر کو اپنے پیچھے دیکھ کر گڑبڑا گئی۔۔

وعلیکم السلام ! اس نے انگلیاں چٹخاتے ہوئے جواب دیا تو ویر نے پزل ہوئی انا کو دیکھا۔۔

آپ اندر نہیں گئیں۔۔۔؟ میں نے بابا کو انفارم کر دیا تھا۔۔

نہیں وہ بس میں جا ہی رہی تھی۔۔

آئیں ،،، ویر کی ہمراہی میں وہ اندر داخل ہوئی تو اسکی آنکھوں میں ستائش ابھری۔۔ گھر کو بہت قرینے سے ترتیب دیا گیا تھا۔۔

اچانک اسکی نظر میر پر پڑی جو راحم کو گدگدانے میں مصروف تھا۔۔ تُشِی کِنّے شونے او ،، میر نے اس کے گال کو زور سے چوم کر کہا تو راحم نے اس کے چہرے پر ننھے ہاتھوں سے تھپڑ مارا۔۔۔

یار اتنے چھوٹے سے ہاتھوں میں اتنی پاور کیسے لاتے ہو ۔۔؟

راحم نے اس کی طرف دیکھ کر منہ بنایا اور اسکی گود سے اتر کر بھاگا۔۔

فرش پر ایک جگہ ذرا سا پانی گرا تھا جو میر صاف کرنا بھول چکا تھا۔۔۔

او تیری رک جا میرے باپ۔۔۔

راحم کا پاؤں پھسلا اور وہ دھڑام سے پانی میں گرا۔۔

ویر فوراً بڑھا اور راحم کو اپنے مضبوط بازوؤں میں اٹھا لیا۔۔

اسے کہتے ہیں “گئی بهینس واٹر میں ” میر کے تبصرے پر انا کی ہنسی گونجی۔۔۔

تب میر کو اسکی موجودگی کا احساس ہوا۔۔ وہ جهینپ گیا۔۔

السلام علیکم ! انا نے عدیل شاہ کو دیکھ کر سلام کیا۔۔

وعلیکم السلام آؤ بیٹا بیٹھو۔۔ بہت اچھا لگا تمھیں یہاں دیکھ کر۔۔

انا سمٹ کر بیٹھ گئی۔۔

یہ میرا بیٹا ہے ،، شاہ میر۔۔

ویر نے شاہ میر کو دیکھ کر مسکراہٹ دبائی جو انا کے سامنے زمانے بھر کا معصوم بنا بیٹھا تھا۔۔۔

بابا میں آتا ہوں۔۔۔ راحم کی طرف اشارہ کر کے وہ اوپر کی طرف جاتی سیڑھوں میں غائب ہوگیا۔۔

انا نے عدیل شاہ کو دیکھا جو اسکی طرف دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔۔ یا اللّه خیر ہو یہ اتنا مسکرا کیوں رہے ہیں مجھے دیکھ کر۔۔۔

اس نے گلا کھنکارا۔۔ آپ اکیلے رہتے ہیں یہاں،، آئی مِین کوئی لیڈی نہیں ہیں یھاں۔۔؟

نہیں بیٹا ہم باپ بیٹے ہی رہتے ہیں بس۔۔ عائشہ کی ڈیتھ کے بعد سے ایسا ہی ہے۔

عائشہ ۔۔۔؟ انا نے استفسار کیا۔۔

شاہ ویر کی بیوی۔۔ عدیل شاہ نے اداسی سے کہا۔۔

اوہ!! انا نے ترحم سے انہیں دیکھا۔۔۔

اتنے میں شاہ ویر راحم کے ساتھ سیڑھیاں اترتا نظر آیا۔۔ دونوں بلیک پینٹ شرٹ میں ملبوس تھے۔۔ انا کے لئے یہ طے کرنا مشکل ہوگیا کہ کون زیادہ پیارا لگ رہا ہے۔۔

ویر نے راحم کو انا کے پاس زمین پر کھڑا کیا اور خود اس کے بلکل سامنے براجمان ہوگیا۔۔

راحم فوراً خوش ہوتا انا سے لپٹ گیا۔۔ انا نے اسے پکڑ کر گود میں بٹھایا اور نقاب کے اوپر سے ہی اس کے نرم گالوں کو چوم لیا۔۔

کیشا ہے میلا بے بی۔۔؟ انا نے اپنی طرف سے آہستہ آواز میں کہا لیکن خاموشی کی وجہ سے وہ سب کو سنائی دی۔۔

عدیل شاہ اور ویر میں نظروں کا تبادلہ ہوا۔۔ میر بغور ان دونوں کو دیکھ کر شرارت سے مسکرایا۔۔

میں تھیت اُوں ،، اِدل آؤ ۔۔۔ راحم نے انا کی گردن کے گرد دونوں بازو رکھے اور انا کے ڈھکے چہرے کو چوم لیا۔۔

ہممم مٹھی اے نہ ۔۔۔؟

انا نے جهینپ کر ویر کو دیکھا جس نے مسکراہٹ چھپانے کے لیے منہ پر مٹھی کی صورت ہاتھ رکھ لیا تھا۔۔

میر،، آپی کو کمرے میں لے جاؤ ۔۔۔ انہیں خیال تھا کہ ان کے سامنے وہ کچھ بھی کھا پی نہیں سکے گی اور ایسے ہی وہ اسے جانے دینے والے نہیں تھے۔۔ اس لئے انہوں نے اسے ڈرائنگ روم میں لے جانے کا کہا۔۔

نہیں انکل میں یہیں ٹھیک ہوں۔۔ انا نے سمجھ کر شائستگی سے انکار کیا۔۔

ایسے کیسے بیٹا۔۔۔کیا ہم اتنے ارضاں ہیں کہ آپ ہمیں خدمت کا موقع بھی نہیں دیں گی۔۔

ان کی بات پر انا شرمندہ ہو گئی۔۔ نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے مجھے واقعی۔۔۔۔۔

بیٹے ضد نہیں کرتے۔۔ انکے پیار سے کہنے پر وہ میر کے ساتھ چلی گئی۔۔

آ جائیں۔۔۔ میر نے مسکرا کر کہا تو وہ بھی مسکرا دی۔۔

میر کے جانے کے بعد وہ بد دلی سے بیٹھی اور بغیر کسی دوسری چیز کو ہاتھ لگائے کولڈ ڈرنک کا گلاس پکڑ لیا۔۔

نقاب اتار کر وہ آہستہ آہستہ مشروب حلق سے نیچے انڈیلنے لگی۔۔

اچانک راحم زور زور سے رونے لگا ۔۔۔انا نے دہل کر دروازے کو دیکھا۔ اس نے اٹھ کر دروازے

سے باہر جھانکا تو ویر پریشانی سے راحم کو چپ کروا رہا تھا جو صوفے سے گر کر بری طرح رو رہا تھا۔۔

بس میرا بیٹا کچھ بھی نہیں ہوا،، راحم تو بہت بریو ہے۔۔۔

انا سے مزید برداشت نہ ہوا۔۔ لائیں مجھے دیں،، اسکی آواز پر ویر نے ایک لمحے کے لئے اسے دیکھا اور پھر راحم کو لئے روم میں آیا۔۔

انا نے فوراً راحم کو پکڑ لیا اور اسے چپ کروانے لگی۔۔ بس میرا بچہ ،، میری جان ،، اس نے راحم کو چوم کر سینے سے لگا لیا۔۔

اس کے سینے سے لگتے ہی وہ چپ ہوگیا۔۔ راحم کو پکڑے وہ صوفے پر بیٹھ گئی اور اسے گلاس میں سے پانی پلانے لگی۔۔

کا ہوا میری چھوٹی شی جان کو۔۔۔ کش نے مالا۔۔۔؟

جواباً راحم نے اس کے سینے میں پھر سے سر چھپا لیا۔۔ انا نے نرمی سے اسے اپنے حصار میں لے لیا ۔۔

اپنے چہرے پر کسی کی نظریں محسوس کر کے اس نے سر اٹھایا تو ویر اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔

انا کو تب پہلی بار احساس ہوا کہ وہ بغیر نقاب کے ہے۔۔ اس نے فوراً چہرہ ڈھکا تو ویر کو اپنی حماقت کا احساس ہوا۔۔

لائیں مجھے پکڑا دیں ،، بہت معذرت کہ آپ کو تکلیف اٹھانی پڑی۔۔

نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔

انا نے نظریں جھکا کر کہا اور راحم کو اس کے حوالے کیا۔۔

وہ کمرے سے نکلنے ہی لگی تھی کہ راحم نے اسکا دوپٹہ پکڑ لیا۔۔

ماما ۔۔۔۔؟

اسکی پکار پر انا اور ویر اپنی اپنی جگہ ساکت رہ گئے۔۔

نہیں یہ سب نہیں ہونا چاہیے ۔۔ یہ۔۔ یہ غلط ہے۔۔ بغیر مڑ کر دیکھتے وہ تیزی سے دروازہ عبور کر گئی۔۔ راحم مسلسل اسے پکار رہا تھا۔۔ اس کی آنکھ کے گوشے بهیگ گئے۔۔

اچھا انکل میں چلتی ہوں۔۔ کافی وقت ہو گیا ہے۔۔ عدیل شاہ نے اسے سر پر پیار دیا تو وہ خدا حافظ کہہ کر تیزی سے نکل گئی۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

میں اس حالت میں بھی تمهارے ساتھ بہت کچھ کر سکتا ہوں۔۔ آئی سمجھ۔۔؟ اسکے مطلب کو سمجھ کر عین سرخ کانوں کے ساتھ بجلی کی سپیڈ سے کمرے سے نکل گئی۔

تھوڑی دیر بعد وہ ایک باؤل میں كپڑا بگھو کر نمودار ہوئی۔۔ باؤل اور پین کلرز اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھیں اور بیڈ پر دراز جہان کے پاس بیٹھ گئی جو نیم غنودگی کی حالت میں تھا۔۔

اس نے جھک کر اسکے چہرے سے بازو ہٹایا جو بخار کی حدّت سے دہک رہا تھا۔۔

اس کے بال لہرا کر جہان کے کاندھے پر گرے۔۔

جہان نے نیم وا آنکھوں سے اسے دیکھا جو اس پر جھکی فکرمندی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔

عین نے اپنا ٹھنڈا ہاتھ اسکی پیشانی پر رکھا تو اس نے سکون محسوس کرتے آنکھیں موند لیں۔۔

اس نے پٹی پانی میں بھگو کر جہان کے ماتھے پر رکھی اور پھر یہی عمل دوہرانے لگی۔۔

باہر رات گہری ہوتی جا رہی تھی۔۔ چاند پراسرار سا مسکرا کر بادلوں کی اوٹ میں ہو گیا۔۔

عین نے منہ پر ہاتھ رکھ کر جمائی روکی۔۔

مسلسل ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کرنے سے جہان کا بخار اب قدرے کم ہوگیا تھا۔۔

اس نے اسکے بکھرے بال سنوارے تو جہان نیند میں کسمسایا۔۔

عین پیچھے ہونے لگی کہ جہان نے ہلکی سی آنکھیں کھول کر اسے جھٹکے سے اپنے اوپر گرایا اور اپنے مضبوط بازوؤں میں قید کر کے کروٹ کے بل لیٹ گیا۔۔

عین کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا،،، شرم و حیا سے اسکا چہرہ کان کی لو تک سرخ پڑ گیا۔۔

میں نے کہا تھا نہ جاؤ یہاں سے ،،، لیکن تم نہیں گئی۔۔؟ اس نے بوجھل آواز میں اسکے کان کے قریب سرگوشی کی تو عین نے سختی سے آنکھیں میچ لیں۔۔

جہان نے اسکے کپکپاتے ہوئے ہونٹوں کو دیکھا،،، آنکھوں میں خمار لیے وہ اس پر جھکا۔۔

اس کے ہونٹ عین کے ہونٹوں سے ہلکے سے مس ہوئے ہی تھے کہ عین نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں۔۔

یہ ۔۔ یہ ۔۔کیا ۔۔کر ۔۔رہے ۔۔ہیں ۔۔آپ ۔۔ اس نے اسے پیچھے ہٹایا اور دھڑکتے دل سے بمشکل کپكپاتی واز میں کہا۔۔

جہان کے حواس آہستہ آہستہ بحال ہوئے تو اسے اپنی حرکت کا ادراک ہوا۔۔

اس نے سختی سے ہونٹ بھینچے اور غصے سے عین کو دیکھا۔۔

عین نے حیرانی سے اسے دیکھا۔۔ یہ آپ مجھے کیوں اب گھور رہے ہیں ،، یہ تو وہی بات ہوئی کہ “ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری”۔۔ آپ خود وہ ۔۔۔۔

کیا میں وہ ۔۔۔؟ ہاں ۔۔؟ جہان نے غصے سے اسے بازو سے گهسیٹ کر اپنے سامنے کیا۔۔

آپ ایسا کریں میرا بازو توڑ کر نہ اپنے پاس رکھ لیں۔۔ یہ لیں رکھ لیں ،، ویسے بھی جتنی دفعہ آپ مجھے ایسے کھینچ چکے ہیں اگلی دفعہ بازو آپ کے ہاتھ میں ہی آ جانا ہے۔۔ عین نے غصے سے نتھنے پھلا کر کہا تو جہان کا غصہ کہیں غائب ہوگیا۔۔

اس نے اسکے خوبصورت نقوش سے نظریں چرائیں اور بغیر کچھ کہے اس کی طرف سے رخ پھیر کر لیٹ گیا۔۔

ہنہ ۔۔۔ عین نے ہنکارا بھرا اور بیڈ کی دوسری سائیڈ لیٹ گئی۔۔

اس نے دوپٹہ گلے سے نکال کر تکیے کے ساتھ رکھا اور بلینکٹ کھینچ کر اپنے اوپر لے لیا۔۔

جہان نے فوراً گردن موڑ کر اسے دیکھا جو مزے سے اسکے بستر پر اسکا بلینکٹ کھینچ کر سونے کی تیاری کر رہی تھی۔۔

تم ۔۔ اٹھو یہاں سے ،،، چلو اترو۔۔۔

لیکن عین ڈھیٹ بنی لیٹی رہی۔۔

تمہیں سنائی نہیں دے رہا ۔۔ جہان نے دانت پیس کر اسے دیکھا اور بلینکٹ اس کے اوپر سے کھینچ لیا۔۔

عین غصے اور شرمندگی کے ملے جلے تاثرات سے اپنی قمیض ٹھیک کر کے اٹھی۔۔

آپ کو شرم نہیں آتی ایک معصوم نوجوان حسین لڑکی پر سے ایسے بلینکٹ کھینچتے،،، اس نے دانت کچکچا کر کہا۔۔ بس اسے کچا چبانے کی کسر باقی رہ گئی تھی۔۔

تو تم سے کس نے کہا کہ یہاں سو ۔۔ چلو اترو یہاں سے،، جہان کی تیوری چڑھی۔۔

کیوں جاؤں میں،، ایک تو اتنی دیر تک آپ کے لیے جاگتی رہی میں اور ویسے بھی اس کمرے پر آپ کا جتنا حق ہے اتنا ہی میرا بھی ہے کیوں کہ بیوی ہوں میں آپ کی،، آئی سمجھ۔۔۔؟

وہ اسکے بلکل سامنے ایک ہاتھ کمر پر ٹکا کر اور دوسرا ہاتھ نچا نچا کر بولتی ہوئی اسے حقیقی معنوں میں اپنی بیوی ہی لگی۔۔۔

اچھا تو سو پھر یہاں ہی تم ،،، جہان نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور تکیہ دبوچ کر صوفے کی طرف بڑھا۔۔

کھی کھ کھی۔۔۔ عین نے منہ پر دونوں ہاتھ رکھ کر ہنسی روکی۔۔

مجھ سے تو سویا نہیں گیا صوفے پر تو یہ اتنا بڑا جن کہاں سے پورا آۓ گا۔۔

اپنی زبان کے جوہر دکھا کر وہ كمبل میں دبک گئی۔۔ اس نے بتیسی نکال کر ہاتھ کی انگلیاں سامنے کیں،، ایک ، دو ، تین اور یہ بیڈ پر تکیہ پٹخنے کی آواز آئی۔۔

جہان بیڈ پر پھیل کر لیٹ گیا اور كمبل کھینچ کر اپنی طرف کیا۔۔

عین نے زور سے كمبل پکڑ لیا اور اپنے نیچے کر لیا۔۔ جہان کا ضبط اب کی بار جواب دے گیا۔۔

اس نے عین کو اپنی طرف کھینچا جس سے وہ كمبل سمیت اس کے سینے سے آ لگی۔۔

اس نے اسکی ٹانگوں پر اپنی ٹانگیں رکھ لیں اور اسے اپنے حصار میں لے کر آنکھیں موند گیا۔۔

عین بے حد کسمسائی لیکن جب آزاد ہونے کی کوئی امید نظر نہیں آئی تو اس کے کندھے پر زور سے دانت گاڑے اور پٹ سے آنکھیں بند کر گئی۔۔

سس ،، جہان نے خونخوار نظروں سے اس جنگلی بلی کو دیکھا اور بدلے کے طور پر اپنا حصار اس کے گرد تنگ کردیا۔۔

اسی طرح نوک جھونک میں جانے کب دونوں نیند کی وادیوں میں اتر گئے۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

اپنے بے حال ہوتے دل کو سنبهالتی وہ سڑک پر آئی اور ہاتھ دکھا کر رکشہ روکا۔۔

کہاں جانا ہے بی بی ۔۔؟

انا جواب دیے بغیر رکشے میں بیٹھ گئی۔۔

بھائی چلو میں بتا دوں گی کہاں اتارنا ہے۔۔

رکشے والے نے اسکی بھرائی آواز سن کر سامنے نصب شیشے سے ایک نظر اسے دیکھا اور اپنے کاندھے پر کپڑا رکھ کر رکشہ چلا دیا۔۔

انا گود میں سر رکھ کر پھپھک پھپھک کر رو دی۔۔ پتہ نہیں کون کون سے غم یاد آنے لگے تھے۔۔

وہ مجھے ماما کیسے کہہ سکتا ہے۔۔ ایسا نہیں ہو سکتا لیکن اللّه تعالیٰ میرا دل کیوں اس کی طرف ہمکتا ہے۔۔ کیوں مجھے راحم سے محبت ہو گئی ہے۔۔ کیوں مجھے وہ اپنا لگتا ہے۔۔ اللّه یہ مجھے کیا ہورہا ہے۔۔

گود سے سر اٹھا کر اس نے آنسو پونچھ کر باہر دیکھا۔۔ بھائی بس یہیں روک دیں۔۔

رکشے والے کو پیسے پکڑا کر وہ نیچے اتری اور بغیر ارد گرد کا ہوش کیے سیدھ میں چلنے لگی۔۔

ذہن کے پردے پر یادوں کے عکس منڈلا رہے تھے۔۔ وہ اس سے اظہارِ محبّت کررہا تھا۔۔۔اسکی آنکھوں سے آنسو شفاف موتیوں کی مانند گرے اور سیاہ نقاب میں جذب ہو گئے۔۔

“””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””

سب کے ہوتے ہوئے ایک روز وہ تنہا ہوگا۔۔۔!!!

پھر وہ ڈھونڈے گا ہمیں اور نہیں پائے گا وہ۔۔!!!

“””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””

مقام : داتا دربار ۔۔ لاہور !

وہ سسکتی ہوئی چلتی جا رہی تھی ۔۔ پھر داتا سرکار کے دربار کے باہر وہ رک گئی۔۔

چند قدم بڑھا کر وہ رک گئی۔۔ اس نے اپنے پاؤں جوتوں سے آزاد کر دیے۔۔

ننگے پاؤں وہ چوکھٹ پھلانگ گئی۔۔

اس نے مزار پر فاتح پڑھی اور وہاں سے پیچھے صحن کی طرف چلی گئی جہاں قوال بیٹھے طبلے کی تھاپ پر قوالی بول رہے تھے۔۔

عجب سماں بندها تھا۔۔ پیر دھرنے کی جگہ نہ تھی۔۔ جونهی طبلے پر زور کی تھاپ پڑی لوگوں اونچی آوازوں میں قوالی کے بول بولتے انکا ساتھ دینے لگے۔۔

لجپال ،، لجپال ،، لجپال ،، لجپال

لجپال نبیﷺ میرے ،، لجپال نبیﷺ میرے

انا وہیں ایک کونے میں گھٹنوں پر سر رکھ کر بیٹھ گئی۔۔ اسکی سسکیاں لوگوں کے شور میں دب سی گئیں۔۔

“لجپال نبیﷺ میرے ،،

درداں دی دوا دینااااا

جدو وقت نزع آئے اے ،،

جدو وقت نزع آئے اے

دامن دی ہوا دینا آ آ آ آ “

وہ بلک بلک کر رونے لگی۔۔ وہ آج اتنا چیخ چیخ کر رونا چاہتی تھی کہ اس کے اندر پلتے غم اور تکلیفیں ان آنسوؤں میں بہہ جائیں۔۔

ادھر دنیا ہے اور دنیا کے دھندے

اِدھر میرا خدا ہے اور میں ہوں۔۔!!

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

صبح جب اسکی آنکھ کھلی تو عین کو اپنے حصار میں پایا۔۔ اس نے جھٹکے سے اسے اپنے آپ سے دور کیا۔۔

گزری رات کے تمام مناظر اس کی آنکھوں کے سامنے چلنے لگے ۔۔

جھٹکنے سے عین کی آنکھ کھل گئی ۔۔ وہ کسلمندی سے اٹھ بیٹھی اور ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی جو سرخ آنکھوں سے اسے گھور رہا تھا۔۔

کک کیا ہوا۔۔؟

یہ تو تم مجھے بتاؤ کہ کیا ہوا ہے،، کیا کر رہی ہو تم میرے اتنے قریب۔۔؟ وہ اس کے منہ پر داڑھا۔۔

عین نے خوف سے آنکھیں میچ لیں۔

آ آ پ ۔نے۔ خو۔ خود ۔ مجھے ۔ یہاں سل ۔ سلايا تھا ۔۔ میں ۔ تو دور ۔ ہی لیٹی ۔ تھی۔۔۔ .

بکواس بند کرو اپنی ۔۔ دفع ہو جاؤ میری نظروں کے سامنے سے ۔۔ جب سے میری زندگی میں آئی ہو میرا سکون برباد کر دیا ہے،،، کاش اس رات میں نے تم پر ترس نہ کھایا ہوتا۔۔

عین کا دل کرچی کرچی ہوگیا،، اس نے آنسو سے بھری آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔۔

ات اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں مجھ سے۔۔۔؟ اگر آپ چاہیں تو سب ٹھیک ہو سکتا ہے ۔۔ میں اتنی بری تو نہیں ہوں،،، وہ سسکنے لگی۔۔

سوچنا بھی مت ایسا،، میں تم سے کوئی تعلق نہیں قائم کروں گا کیوں کہ میں کسی اور سے محبّت کرتا ہوں۔۔ یہ بات اپنے ذہن میں بٹھا لو تم۔۔ زندگی عذاب بنا دی ہے ،، چلی کیوں نہیں جاتی میری زندگی سے تم ۔۔۔

اس کے دهواں دهواں چہرے پر نظر ڈال کر وہ غصے سے باہر نکل گیا۔۔

عین کا اٹھا ہاتھ نیچے گر گیا،، اس کی آنکھوں سے آنسو قطرہ قطرہ بہنے لگے۔۔ اس نے کچھ کہنے کے لئے وا کیے لب بند کر لیے۔۔

اس نے سر کو نفی میں ہلایا۔۔ اسکے دماغ میں جہان کا کہا جملہ بار بار گونج رہا تھا۔۔ تم چلی کیوں نہیں جاتی،، تم چلی کیوں ۔۔۔۔۔۔

دوپٹہ گلے میں ڈال کر اس نے جوتا پہنا اور بغیر کچھ سوچے گھر کی دہلیز عبور کر گئی۔۔

اب نہیں ،، نہیں اب آپ کی تکلیف کی وجہ نہیں بنوں گی۔۔ اللّه کرے مر جاؤں میں۔۔ کیوں زندہ ہوں اللّه میں۔۔ بلک بلک کر روتی وہ بغیر سمت کا تعین کیے چلتی جا رہی تھی۔۔

راہ چلتے لوگ مڑ مڑ کر اسے دیکھنے لگے لیکن وہ سب سے بے نیاز چلتی جا رہی تھی۔

قسط_نمبر_14

وہ ارد گرد سے بے خبر گھٹنوں پر سر ٹکائے بیٹھی تھی کہ اچانک عجیب سا شور اٹھا اور پھر لوگوں میں بھگدر مچ گئی۔۔

جس کو جہاں جگہ ملی وہ بھاگنے لگا۔۔ دھکم پیل دیکھ کر وہ گھبرا کر اٹھ گئی۔۔

کیا ہوا ،، اتنی افراتفری کیوں مچ گئی ہے یہاں ؟؟اس نے ایک بچے کو روک کر پوچھا جو گھبرایا ہوا تھا۔۔

باجی کچھ لوگوں نے دربار پر حملہ کر دیا ہے،، اپنی جان پیاری ہے تو بھاگ جاؤ یہاں سے ۔۔ یہ کہہ کر وہ ایک طرف کو بھاگ گیا۔۔

انا پریشان ہو گئی۔۔ اس نے چند قدم ہی آگے بڑھائے تھے کہ اسے کسی عورت کی كراه سنائی دی۔۔ اس نے نظرانداز کر کے جانا چاہا لیکن وہ ایسا نہ کر سکی۔۔

اس نے آواز کے تعاقب میں دیکھا تو ایک بوڑھی عورت زمین پر گری ہوئی تھی جو اٹھنے کی کوشش میں ہلکان نظر آ رہی تھی۔۔ اس کے چہرے پر موت کا خوف تھا۔۔

انا کی آنکھوں سے دو آنسو ٹوٹ کر گرے۔۔ اس نے جلدی سے انہیں سہارا دے کر اٹھایا اور رش میں جگہ بناتی تیزی سے قدم اٹھانے لگی۔۔

اچانک فائرنگ کی آوازیں بلند ہوئیں اور لوگوں میں چیخ و پکار مچ گئی۔۔ یا اللّه اپنے حفظ و امان میں رکھ ،، وہ دل میں اللّه سے دعا کرتی دربار کی دہلیز عبور کرنے ہی لگی تھی کہ اپنی کمر پر بندوق کی ٹھنڈی نال نے اسے رکنے پر مجبور کر دیا۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

ویر نے ماتھے کو دو انگلیوں سے سہلایا۔۔

بابا یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں،، میری تو سمجھ میں نہیں آ رہا۔۔

بیٹا بہت آسان اور سادہ لفظوں میں کہہ رہا ہوں کہ شادی کر لو۔۔ راحم کو ماں کی ضرورت ہے،، جس طرح وہ اس کی طرف ہمکتا ہے اور وہ بھی تو کس قدر محبّت سے پیش آتی ہے۔۔ وہی راحم کو سنبهال سکتی ہے۔۔

لیکن بابا وہ بہت چھوٹی ہے مجھ سے ۔۔ اور وہ کیوں ایک شادی شدہ مرد سے شادی پر رضامند ہوگی۔۔ پڑھی لکھی ہے ،، با شعور ہے ۔۔ مجھے نہیں لگتا وہ مانے گی ۔۔

بیٹا تم اس کی فکر نہ کرو۔۔ بس تم مان جاؤ باقی میرا کام ہے ۔۔ عدیل شاہ اسے نیم رضامند دیکھ کر اندر ہی اندر خوش ہوتے ہوئے بولے۔۔

ابھی پوری زندگی پڑی تھی اور وہ اپنے خوب رو بیٹے کو تنہا زندگی گزارتے نہیں دیکھ سکتے تھے اسی لئے انہوں نے شاہ ویر سے انا کی بابت مشورہ کرنا ضروری سمجھا۔۔

بابا میں سوچ کر بتاؤں گا۔۔۔

ویر نے پرسوچ نظروں سے راحم کو دیکھ کر کہا جو اس سے اکھڑا اور ناراض تھا۔۔

راحم ،، میرا چیمپ ادھر آؤ بابا کے پاس۔۔۔ راحم بابا کے ساتھ آئس کریم کھانے جائے گا نہ۔۔ بابا ٹوائز بھی لے کر دیں گے اور کینڈیز بھی۔۔

آخر کب تک ناراض رہتا،، تھا تو وہ ایک بچہ ہی ،، وہ بھاگتا ہوا ویر کے پاس آیا اور اس کی ٹانگوں سے لپٹ گیا۔۔

بابا چیجو بھی اول يم يم بھی ،، اس کے بولنے پر ویر نے اسے اٹھا کر زور سے اسکے گال چومے اور کھڑا ہوگیا۔۔

بابا میں کچھ دیر تک آتا ہوں۔۔ میر کہاں ہے اسے بھی ساتھ لے جاتا ہوں ۔۔۔؟ یاد آنے پر اس نے دريافت کیا۔۔

وہ کمبائن اسٹڈی کے لئے دوست کے گھر گیا ہے ۔۔ ان کے جواب پر وہ اثبات میں سر ہلا گیا۔۔

گاڑی میں بیٹھ کر اسنے اپنی اور راحم کی سیٹ بیلٹ باندھی اور نارمل سپیڈ سے ڈرائیو کرنے لگا۔۔

آئس کریم پارلر کے باہر پہنچ کر اس نے گاڑی ایک سائیڈ پر کھڑی کر دی اور راحم کو پکڑے اندر چلا گیا۔۔

اس نے چار آئس كریمز پیک کروائیں،، اسکا ارادہ گھر جا کر مل کر آئس کریم کھانے کا تھا۔۔ پے منٹ کرنے کے لئے اس نے راحم کو نیچے اتارا۔۔

یہیں کھڑے رہو اوکے ۔۔ سیدھا ہو کر اس نے والٹ سے پیسے نکالے اور پے کر کے جیسے ہی پلٹا تو راحم غائب تھا۔۔ اس کا سانس اٹک گیا۔۔

اس نے ارد گرد موجود لوگوں سے پوچھنا شروع کر دیا۔۔ ایکسکیوز می یہاں میرا بیٹا تھا ایک سال کا کیا آپ نے دیکھا ہے اسے۔۔؟ ایک ایک منٹ میں اس کی پکچر دکھاتا ہوں۔۔ اس نے موبائل آن کیا جس کے وال پیپر پر راحم کی تصویر لگی تھی۔۔

نہیں ! ہم نے نہیں دیکھا۔۔

اس کی پیشانی پر ٹھنڈے پسینے آ گئے۔۔ وہ دیوانہ وار اسے ادھر ادھر ڈھونڈنے لگا۔۔

وہ بے حد تیز دھڑکتے دل کے ساتھ آئس کریم پارلر سے باہر نکلا اور پاگلوں کی طرح اسے ڈھونڈنے لگا۔۔

راحم کہاں ہو تم۔۔؟ بیٹا بابا بلا رہے ہیں کہاں ہو تم۔ ۔۔؟؟ سڑک کے بیچوں بیچ وہ اسے آوازیں دیتا کوئی دیوانہ لگا۔۔

صاحب۔۔۔؟ آواز پر اس نے اپنے دائیں طرف دیکھا جہاں ایک میلا کچیلا بچہ کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ آپ کسی بچے کو ڈھونڈ رہے ہیں۔۔۔ ؟

ہاں میرا بیٹا کھو گیا ہے،، کیا تم نے اسے دیکھا ہے۔۔؟ یہ اسکی تصویر ہے ۔۔ ویر نے بے صبری سے اس سے پوچھا تو وہ ذرا سا چونکا۔۔

یہ وہی بچہ ہے صاحب یہ وہی ہے۔۔ تھوڑی دیر پہلے دو آدمی اسے اٹھائے یہاں سے گزرے تھے۔۔ وہ کسی دربار میں جانے کی بات کر رہے تھے۔۔ صاحب وہاں خطرہ ہے۔۔ سننے میں آیا ہے کہ وہاں حملہ ہوا ہے ۔۔ کئی لوگ مار ۔۔۔۔۔

شاہ ویر اسکی پوری بات سنے بغیر ہی پوری رفتار سے ایک طرف کو بھاگنے لگا۔۔ اس کے ذہن سے یہ بات بھی نکل گئی تھی کہ وہ گاڑی ساتھ لایا تھا۔۔

اسکا رخ داتا دربار کی جانب تھا کیوں کہ اس جگہ واحد یہی دربار تھا جہاں وہ راحم کو لے جا سکتے تھے۔۔

اچانک ایک تیز رفتار موٹر بائیک سامنے سے آئی اور اس سے ٹکرا گئی۔۔۔ وہ اچھل کر دور جا گرا۔۔ بائیک پر سوار شخص گھبرا گیا اور جلدی سے بائیک اڑا لے گیا۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

جب اسکا غصہ ٹھنڈا ہوا تو وہ عین کے ساتھ اپنے رویے پر پشیمان ہوا۔۔ وہ ضرورت سے زیادہ ہی غصہ کر بیٹھا تھا۔۔

اپنی کنپٹی کو دباتے وہ گھر میں داخل ہوا۔۔ دروازه کھلا دیکھ کر اسے اچنبھا ہوا۔۔ اس نے دروازه بند کیا اور اندر آ کر اپنے کمرے میں جھانکا۔۔

اسے وہاں نہ پا کر اس نے باقی کمرے بھی چیک کیے لیکن وہ کہیں نظر نہیں آئی۔۔ اسے تشویش نے آ گھیرا۔۔

عین کہاں ہو تم ۔۔؟ باہر آؤ۔۔؟

وہ اسے آوازیں دینے لگا۔۔

عین تمہیں سنائی نہیں دے رہا باہر آؤ کہاں چھپی ہوئی ہو ۔۔؟

آئی ایم سوری ! مجھے تم سے ایسے بات نہیں کرنی چاہیے تھی پلیز باہر آؤ کہاں ہو تم ۔۔۔

اس کی آواز پورے گھر میں گونج کر دم توڑ گئی۔۔

خالی گھر اس کا منہ چرا رہا تھا۔۔

کسی انہونی کے خوف سے اسکا دل تیز دھڑکنے لگا۔۔

کیا وہ چلی گئی ہے۔۔۔؟ اس سوچ نے اس کے اندر سناٹے بھر دیے۔۔

نہیں میں ڈھونڈ لوں گا تمہیں۔۔ کہاں جاؤ گی تم ۔۔

وہ تیزی سے گھر سے باہر نکلا اور دروازے کو مقفل کر کے جاننے والوں سے اس کے بارے میں دريافت کرنے لگا۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

پیدل چلتے چلتے وہ بہت دور نکل آئی تھی۔۔ اسے خبر نہیں تھی کہ یہ کونسی جگہ تھی۔۔ بس وہ اپنے آپ سے خفا سب سے دور چلی جانا چاہتی تھی۔۔

بیٹا میری مدد کرو ،، میری بیوی ادھر زخمی پڑی ہے اسے یہاں لانے میں میری مدد کرو ۔۔۔ ایک بوڑھا شخص اس کے سامنے گڑگڑا کر مدد کی بھیک مانگ رہا تھا۔۔ وہ غائب دماغی سے اسے دیکھے گئی۔۔

بیٹا اللّه کے واسطے میری مدد کرو ،، بوڑھے نے اسے جھنجھوڑا تو وہ ہوش میں آئی۔۔

ہاں کیا ہوا۔۔؟

بیٹا میری بیوی وہاں زخمی حالت میں پڑی ہے۔۔ کوئی بھی میری مدد نہیں کررہا ۔۔

کہاں۔۔؟ کہاں ہے وہ۔۔؟

میرے ساتھ آؤ،، اپنے آنسو پونچھ کر وہ اسے ساتھ لئے تیز تیز چلنے لگا۔۔ عین اس کی عمر اور اس کے مقابلے میں اتنی تیز رفتار پر غور نہ کر سکی۔۔

وہ اسے لئے قدرے سنسان جگہ لے آیا۔۔ کہاں ہیں وہ۔۔؟ عین نے پیچھے دیکھا ہی تھا کہ اس کے سر پر کوئی زوردار چیز لگی۔۔

اس نے اپنے سر پر ہاتھ رکھا جو خون سے سرخ ہونے لگا تھا۔۔ تکلیف برداشت نہ کرتے وہ وہیں لڑھک گئی۔۔

اس شخص نے نوچ کر اپنی نقلی داڑهی اور سفید بال اتارے اور اپنی کامیابی پر مسکرا دیا۔۔

کب سے وہ اس کا تعاقب کر رہا تھا۔۔ ایسا مال روز روز تو ہاتھ نہیں لگتا يقیناً باس بہت خوش ہوگا۔۔

مکروہ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر وہ اسے کاندھے پر ڈال کر روانہ ہوگیا۔۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

آہ ! کندھے میں اٹھتے شدید درد کو برداشت کرتے وہ ہاتھ زمین پر رکھ کر اٹھا ۔۔ اس نے کنپٹی سے بہتی خون کی لكیر کو ہاتھ کی پشت سے پونچھا اور اور تیز قدم اٹھاتا بائیں طرف جاتی سڑک پر مڑ گیا۔۔

اسے اس وقت صرف راحم کی پرواہ تھی۔۔ وہ اپنے آپ سے مکمل بے نیاز ہوگیا۔۔ چلتے ہوئے وہ ذرا سا لڑکھڑایا اور سامنے تیزی سے آتے لڑکے سے ٹکرا گیا۔۔

جہان نے اسے فوراً کاندھوں سے پکڑ کر سہارا دیا۔۔ آر یو فائن۔۔؟ اس نے انسانیت کے ناطے پوچھا تو ویر نے محض سر ہلایا۔۔

کیا آپ نے اسے یہاں آس پاس دیکھا ہے۔۔؟

کسی راہگیر کو دیکھ کر دونوں نے بیک وقت اس کو موبائل میں تصویر دکھاتے پوچھا جو عجلت میں لگتا تھا۔۔

ویر اور ہان نے ایک دوسرے کو چونک کر دیکھا ۔۔

نہیں بھائی میں نے نہیں دیکھا۔۔۔ اس نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا اور بغیر ان کی طرف دیکھے یہ جا وہ جا۔۔

تم کس کو ڈھونڈ رہے ہو۔۔۔؟ ویر نے استفسار کیا۔۔

میری بیوی ۔۔ وہ پتہ نہیں کہاں چلی گئی ہے ۔۔!اسی کو ڈھونڈ رہا ہوں۔۔

اور تم ۔۔؟ جہان نے پریشانی سے کہہ کر پوچھا۔۔

میرا بیٹا میرے ساتھ تھا پھر اچانک پتہ نہیں کہاں چلا گیا۔۔۔ بہت چھوٹا ہے وہ ۔۔ پتہ نہیں کس حال میں ہوگا۔۔ ویر نے کرب زدہ لہجے میں کہا۔۔

مجھے کسی نے بتایا ہے کہ کچھ لوگ اس کو آس پاس کسی دربار میں لے گئے ہیں ۔۔۔ میں بس وہیں ڈھونڈنے جا رہا ہوں۔۔ ویر نے پیشانی مسل کر کہا تو جہان چونکا۔۔

وہاں تو کوئی حملہ ہوا ہے ۔۔۔دهشت گردوں نے قبضہ کر لیا ہے۔۔ کئی لوگ مارے گئے ہیں۔۔۔وہاں جانا خطرے سے خالی نہیں۔۔ جہان کے فکرمندی سے کہنے پر ویر نے تیکھی نظروں سے اسے دیکھا۔۔

تو کیا کروں ؟؟ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جاؤں۔۔؟ اسے مرنے کے لئے چھوڑ دوں۔۔؟

مجھے تو یہی لگ رہا ہے کہ تمہاری بیوی بھی انہی کے ہتھے چڑھ گئی ہے۔۔

بکواس بند کرو اپنی ۔۔ جہان غصے سے داڑھا۔۔

اپنی حد میں رہو تم ،، میں جا رہا ہوں اپنے بیٹے کو ڈھونڈنے تم مرو یہیں۔۔۔ ویر نے اکڑ کر کہا اور اپنی منزل کی طرف چل پڑا۔۔

رکو ۔۔۔!! جہان کی پکار پر وہ اپنی جگہ رک گیا لیکن مڑا نہیں۔۔ جہان نے سلگ کر اسے دیکھا۔۔ اتنی بھی کیا اکڑ۔۔

ضبط سے وہ اس کے قریب پہنچا ۔۔

میں بھی چلتا ہوں ساتھ لیکن ہم ایسے ہی وہاں

نہیں جا سکتے۔۔ ایسے تو ہم بھی انکے شکنجے میں آ جائیں گے۔۔ ہمیں پوری تیاری کے ساتھ جانا چاہیے۔۔

جہان کی بات ویر کے دل کو لگی ۔۔

ہممم بات تو تمهاری ٹھیک ہے۔۔ چلو میرے ساتھ میں ایک انسان کو جانتا ہوں جو ہمیں اسلحہ فراہم کر سکتا ہے۔۔

ویر اسے ساتھ لئے ٹیکسی میں بیٹھا۔۔ تقریباً پانچ منٹ میں وہ مطلوبہ جگہ پہنچ گئے۔۔ چھوٹا سا ایک کمرے کا مکان جو بہت بوسیدہ ہو چکا تھا۔۔ دیواروں سے سیمنٹ جگہ جگہ سے اکھڑی ہوئی تھی۔۔ اس نے بند دروازه زور سے کھٹکھٹایا۔۔

چند سیكنڈ بعد دروازه کھل گیا۔۔ سیاہی مائل رنگ کا حامل قدرے پستہ قد کا لڑکا نمودار ہوا ۔۔اس نے انہیں اندر آنے کا راستہ دیا۔۔

ویلکم باس!! سب تیار ہے۔۔ ویر اور جہان فوراً اندر داخل ہوئے۔۔ دونوں نے اپنے كسرتی جسم کو قمیض کی قید سے آزاد کیا۔۔

ان کے ورزشی جسم کو دیکھ کر لڑکے کی آنکھوں میں ستائش ابھری۔۔

انہوں نے اپنی کمر کے گرد ایک بیلٹ باندھا۔۔ جہان نے سامنے میز پر دھڑا ریوالور اٹھا کر بیلٹ میں اڑسا۔۔ ویر نے پنڈلی کے ساتھ چاقو بندھا ۔۔

جدید اسلحہ سے پوری طرح لیس ہو کر دونوں اٹھ کھڑے ہوئے ۔۔ ویر نے دو ٹائم بم جہان کی طرف بڑھاۓ جسے اس نے قمیض کے اندر چھپا دیا۔۔

اپنی کالی پینٹ کو پنڈلی سے نیچے کر کے ویر اس حبس زدہ مکان سے باہر نکل آیا۔۔ جہان نے جلدی سے اپنی قمیض کے بٹن بند کیے جس سے اس کا كسرتی سینہ چھپ گیا۔۔ پھر دونوں اپنی منزل کی طرف گامزن ہو گئے۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

وہ دل میں اللّه سے دعا کرتی دربار کی دہلیز عبور کرنے ہی لگی تھی کہ اپنی کمر پر بندوق کی ٹھنڈی نال نے اسے رکنے پر مجبور کر دیا۔۔

اے زیادہ شانی نہ بن ،، چل ادھر ۔۔ بندوق بردار نے اسے بندوق سے پیچھے دھکیلا اور اپنے دوسرے ساتھی کے حوالے کر دیا۔۔

انا نے ان کا چہرہ دیکھنا چاہا تو ایک ساتھی نے اس کے منہ پر پوری قوت سے چمانٹا دے مارا۔۔

نظریں نیچے ۔۔! وہ داڑھا تو انا سر تا پیر کانپ گئی۔۔ تھپڑ اتنا زوردار تھا کہ اس کا ہونٹ پھٹ گیا تھا۔

وہ شخص اسے گهسیٹ کر ایک کمرے میں لے گیا اور جھٹکے سے اسے زمین پر پھینکا جہاں اور بھی لوگوں کو قید کیا گیا تھا۔۔

سس ۔۔۔ سر زمین سے ٹکرانے پر اس کے منہ سے سسکاری نکلی ۔۔ لیکن وہ خود پر ضبط کر کے اٹھ بیٹھی۔۔

نہیں وہ ان لوگوں سے نہیں ڈرے گی ۔۔ چاہے کچھ بھی ہوجائے۔۔ اس نے دل ہی دل میں اللّه کو پکارنا شروع کر دیا۔۔ اسے پورا یقین تھا کہ اللّه ضرور اس کی مدد کرے گا۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کھ کوئی بندہ اتنی شدت سے اپنے رب کو پکارے اور وہ اسکی پکار نہ سنے۔۔

اس نے دیوار سے ٹیک لگا کر اطراف کا جائزہ لیا۔۔ بندوقوں سے مسلح چار نقاب پوش انکی نگرانی پر معمور تھے۔۔

کمرے میں موت کا سا سناٹا تھا۔۔ اچانک اس سناٹے میں ارتعاش پیدا ہوا۔۔ کسی کے بھاری قدموں کی آواز سنائی دی جو لمحہ با لمحہ قریب ہوتی جا رہی تھی۔۔

چرچراہٹ کی آواز سے دروازه کھلا اور اور ایک بھاری قد و قامت کا شخص نمو دار ہوا۔۔ اس نے ایک کمسن وجود کو زمین پر خوف سے کانپتے لوگوں کی طرف دھکیلا اور آنکھ سے اپنے ماتحتوں کو اشارہ کر کے اسی خاموشی سے واپس چلا گیا۔۔

اچانک اس وجود کے رونے کی آواز ابھری ۔۔

اے چپ ،، منہ بند ورنہ گولیوں سے بھون دوں گا۔۔ بندوق بردار کی دھاڑ پر اس نے اپنے دونوں ہاتھ منہ پر رکھ کر سسکیوں کا گلا گھونٹا۔۔

انا چونک کر سیدھی ہوئی۔۔۔ کمرے میں نیم اندھیرے کی وجہ سے وہ اس وجود کو ٹھیک سے دیکھ نہیں پائی تھی۔۔۔

اس نے غور سے دیکھا تو اس کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔۔ نہیں اللّه تعالیٰ پلیز یہ میری آنکھ کا دھوکا ہو۔۔ اس نے آنکھیں جهپک جهپک کر دیکھا ۔۔ وہ عین ہی تھی ۔۔ ہاتھوں کی کپكپاہٹ پر قابو پاتی وہ تھوڑا سا كهسک کر آگے ہوئی اور عین کو اپنی طرف کھینچا۔۔

اے دور ہٹ ،، زاده شانی بنتی اے۔۔ ایک نقاب پوش نے اسے بالوں سے پکڑ کر پیچھے پھینکا۔۔ اسکا نقاب اتر گیا جسے اس نے فوراً درست کیا۔۔

اس نے بے خوفی سے اسکی آنکھوں میں دیکھا اور عین کو اپنے قریب کر کے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔۔

آپی ! عین اس کے سینے سے لگی بلکنے لگی۔۔ شش چپ ۔۔ رو نہیں ورنہ یہ گھٹیا لوگ تمہیں نقصان پہنچائیں گے۔۔

اے آنکھ دکھاتی ہے میرا میٹر گھوما نہ تو تجھے ابھی گولیوں سے بھون دوں گا سالی\*\* ۔۔

تو بھون دے نہ ڈرتی نہیں ہوں میں تجھ جیسے کتوں سے۔۔ وہ پوری قوت سے چلائی تو وہ ضبط کھوتا اس کی طرف بڑھا۔۔

اس نے ہاتھ آگے کیا ہی تھا کہ اس کے ساتھی نے روک دیا۔۔ باس کا آرڈر ہے سب مال صحیح سلامت ہونا چاہیے۔۔

وہ خود پر ضبط کرتا اپنی جگہ جا کر کھڑا ہو گیا۔۔ سب لوگ گردنیں موڑ کر انا کو دیکھنے لگے۔۔ شاید اتنا بہادر ان میں سے کوئی بھی نہیں تھا۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

وقت سست روی سے گزر رہا تھا۔۔ سب لب سئے ان کے رحم و کرم پر پڑے تھے۔۔ فون کی گھنٹی بجی تو اسی نقاب پوش نے جو ان کا سربراه لگتا تھا فون کان سے لگایا۔

یس سر ۔۔ آل رائٹ ۔ یس ایوری تھنگ از فائن۔۔ اوکے اوکے۔۔ اس نے فون کان سے ہٹایا۔۔

ان سب کو باہر لے آؤ۔۔۔ اس کے حکم پر لوگوں میں ہلچل مچ گئی۔۔ نجانے وہ لوگ اب ان کے ساتھ کیا کرنے والے تھے۔۔

چلو سب ایک ایک کر کے باہر نکلو۔۔ جلدی چلو ۔۔ ان میں سے ایک نقاب پوش کی کرخت آواز گونجی۔۔

باہر مزار کے صحن میں انہیں بیٹھا دیا گیا۔۔ تقریباً وہ دس نوجوان تھے جو کالے کپڑے سے اپنے چہروں کو ڈھکے ان پر بندوقیں تانے کھڑے تھے۔۔

باس یہ کسی \*\* کا بچہ ناک میں دم کئے ہوئے ہے۔۔ کہو تو سالے کو اڑا دوں۔۔؟ ان کے ایک ساتھی نے ایک چھوٹے سے بچے کو زمین پر پٹختے ہوئے کہا۔۔ جو تکلیف سے رونے لگا تھا۔۔

بابا بابا ۔۔۔ دو با با ۔۔۔ وہ معصوم اپنی زبان میں ان ظالموں سے فریاد کر رہا تھا جن کے دل پتھر کے تھے۔۔

انا نے دل کے مقام پر ہاتھ رکھا۔۔ اسے سانس لینے میں دشواری محسوس ہونے لگی ۔۔ اللّه کیوں میرے ساتھ کیوں ایسا ۔۔؟؟ وہ جو کب سے خود کو مضبوط ظاہر کر رہی تھی لمحے میں کمزور ہو گئی۔۔

چھچھ چھوڑ دو اسے ،، پلیز ۔۔۔

وہ ایک دم کھڑی ہو کر بولی تو ان کے سربراه نے ناگواری سے اسے دیکھا۔۔

پہلا ساتھی جو بچے کو لے کر آیا تھا اس نے اس ننھی سی جان کو پیر سے ٹھوکر ماری۔۔ انا گرتی پڑتی اس تک پہنچی اور راحم کو پکڑ کر اپنے سینے میں بھینچ لیا۔۔

اللّه کا قہر نازل ہو تم سب پر ۔۔ حیوان ہو تم لوگ۔۔ تمھیں اس معصوم پر ترس نہیں آتا۔۔ وہ بلکتی ہوئی انہیں بد دعا دے رہی تھی۔۔

سیف ۔۔۔؟ ان کے سربراه نے اپنے ماتحت کو اشارہ کیا۔۔ وہ آگے بڑھا اور انا کو پیٹنے لگا۔۔

تیرے کو زادہ ہمدردی ہورہی ہے ری حرام\*\*\* بہت بول لیا تو نے۔۔ وہ کمر کے بل جھکی راحم کو اپنی آغوش میں چھپاۓ پٹتی رہی۔۔

ماما ۔۔۔؟ راحم بھی رونے لگا۔۔

بس میرا بچہ کچھ نہیں ہوا۔۔ میری موت اللّه کے ہاتھ میں ہے ان جاہلوں کے نہیں۔۔ اس نے نفرت سے انہیں دیکھ کر کہا۔۔

وہ اسے مزید مارنے کے لئے آگے بڑھا تو انکے سربراه نے گردن پر ہاتھ پھیرتے اسے منع کر دیا ۔۔ ٹیڑھی کھیر ہے باؤ ،، سمجھ رہے ہو نہ۔۔

ان کی بکواس پر دیہان دیے بغیر وہ راحم کو تھامے اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گئی۔۔

عین جو اس کی حالت دیکھ کر بلک رہی تھی وہ اس سے لپٹ گئی۔۔ انا آپی کتنا مارا انہوں نے آپ کو ۔۔ اللّه غارت کرے انہیں۔۔۔ میں آپ کی طرح بہادر نہیں ہوں۔۔۔آئی ایم سوری۔۔ روتے روتے اسکی ہچکی بندہ گئی۔۔

انا نے بغیر کچھ کہے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔۔ وہ ان دونوں کو اپنے آپ میں یوں چھپاۓ بیٹھی تھی کہ کوئی اب ان کو ہاتھ لگا کر تو دکھاۓ۔۔ اس کی یہ بے خوفی اللّه کی ذات پر پختہ یقین کی وجہ سے تھی۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *