Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Pegham e Muhabbat (Episode 17,18)

Ik Pegham e Muhabbat by Mirha Khan

انا ۔۔۔۔؟ حنا کی آواز پر اس نے تمام سوچوں کو جھٹک کر دروازے کی اوڑھ دیکھا جہاں وہ سوچتی نظروں سے اسے دیکھتی کھڑی ہوئی تھیں۔۔

جی !! کیا ہوا ماما ۔۔۔۔؟ اس نے سادگی سے پوچھا۔۔

کوئی عدیل صاحب آئے ہیں۔۔۔ انہوں نے آنکھیں سكیڑ کر کہا۔۔

ان کے نام پر وہ چونک کر سیدھی ہوئی۔۔

کیوں ۔۔؟ وہ کیوں آئے ہیں ۔۔؟؟ اس نے الجھن زدہ لہجے میں پوچھا۔۔

تمہارے لئے اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر آئے ہیں،،، ان کے جواب پر وہ بجلی کی تیزی سے کھڑی ہوئی۔۔

اس خبر پر اس کے چودہ طبق روشن ہو گئے۔۔

اسے لگا تھا کہ ویر نے محض مذاق میں وہ بات کہی تھی لیکن یہ تو ۔۔۔؟؟

تمہیں کچھ علم تھا کہ ایسا ہوگا ۔۔؟ حنا کے استفسار پر اس نے خاموش نظروں سے انہیں دیکھا،،، ماما اس سب میں میرا کوئی ہاتھ نہیں نہ ہی میں انہیں ٹھیک طرح جانتی ہوں۔۔ اگر آپ کو نہیں یقین کرنا تو میں کچھ نہیں کر سکتی۔۔

اس کا چہرہ سپاٹ ہوگیا۔۔۔ ایک وہ دور تھا جب وہ سب کو اپنی ذات کی صفائیاں دیتی رہتی تھی لیکن اب وہ اتنی مظبوط ہو چکی تھی کہ اسے فرق نہیں پڑتا تھا کسی بھی بات سے،، جس کو جو سوچنا ہے سوچتا رہے۔۔

میں تم پر شک تھوڑی کر رہی ہوں پاگل لڑکی ۔۔۔میں تو بس پوچھ رہی ہوں،، اچھا میں ان کو دیکھتی ہوں تمهارے بابا بھی آ گئے ہیں۔۔

ان کے جانے کے بعد اس نے تیزی سے موبائل پکڑا اور شاہ ویر کو کال ملائی۔۔۔ کڑے تیوروں سے وہ اسکے کال اٹھانے کا انتظار کرنے لگی۔۔

شاہ ویر جو میٹنگ میں مصروف تھا مسلسل فون کی روشن ہوتی سكرین کو دیکھ کر ایکسکیوزمی کہہ کر کال اٹینڈ کر گیا۔۔

دوسری طرف سے آتی تیز آواز پر اس نے منہ پر ہاتھ پھیر کر مسکراہٹ چھپائی۔۔ فون کان سے لگائے ہوئے اس نے اپنے خاص آدمی کو اشارہ کیا۔۔ دو منٹ میں آفس خالی ہوگیا۔۔

جی اب بولئے ،، میں سن رہا ہوں،، اس نے ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے کہا۔۔

آپ انتہائی بد تمیز انسان ہیں۔۔ میں صرف راحم کی وجہ سے آئی تھی آپ کے گھر۔۔ آپ نہ جانے کیا سمجھ بیٹھے،، آپ۔۔۔آپ کی ہمت کیسے ہوئی میرے گھر رشتہ بھیجنے کی۔۔؟ ہاں۔۔؟

وہ غصے سے ناک بھوں چڑھا کر بولی۔۔

اتنی عزت پر ویر نے گہری سانس لے کر ایک ہاتھ سے اپنا کندھا تهپتهپایا۔۔

ہمت تو بہت ہے مجھ میں۔۔۔ یہ آپ شادی کے بعد دیکھ ہی لیں گی،، اس نے کہہ کر نچلا لب دانتوں میں دبايا۔۔

اسکا مطلب سمجھ کر چند سیکنڈ کے لیے انا کی بولتی بند ہو گئی۔۔ اس نے فون کان سے ہٹا کر آگ اگلتا چہرہ تهپتهپایا۔۔

آپ کو شرم نہیں آتی مجھ سے ایسی بات کرتے،، میں۔۔۔۔

ویر نے اسکی بات کاٹ دی۔۔

نہیں اپنی فیوچر وائف سے کیسی شرم۔۔ اسے تپانے میں اسے بہت لطف آ رہا تھا۔۔ بائی دا وے مجھے نہیں پتہ تھا کہ آپ اتنی تیکھی بھی ہیں۔۔ ویسے تیکھا ذائقہ پسند ہے مجھے۔۔

انتہائی بے شرم ہیں آپ ۔۔۔۔

یہ کہہ کر انا نے کھٹاک سے کال کاٹ دی۔۔

اسکا چہرہ لال ٹماٹرکی طرح ہورہا تھا۔۔ بدتمیز انسان!!

ہونے والے شوہر کو ایسے نہیں کہتے،، اندر سے آواز ابھری۔۔

چپ اے۔۔!! جهنجهلا کر بے دیهانی میں آگے بڑھتی وہ دیوار سے ٹکرا گئی۔۔ اف اللّه !!

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

بہن اس تكلف کی کیا ضرورت تھی۔۔۔

حنا کو لوازمات کے ساتھ ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے دیکھ کر عدیل شاہ بے ساختہ بول اٹھے۔۔

سر پر دوپٹہ اوڑھے یہ وضح دار خاتون انہیں بہت بهلی لگیں۔۔

ارے تكلف کی کیا بات ہے،، لیجئے نہ!! وقار بے تکلفی سے ان سے مخاطب ہوئے۔۔

حنا دونوں کو دیکھ کر مسکرا دیں،، بڑی دوستی ہو گئی ہے آپ دونوں میں ۔۔۔

ان کی بات پر دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔۔۔

بیگم یہ ہمارے دوست ہی ہیں۔۔ پچھلے سال جب ہمارا بزنس ڈوب رہا تھا تو انہی صاحب نے ہماری بہت مدد کی تھی ۔۔

اچھا اچھا ۔۔۔!! وقار کے بتانے پر حنا فوراً سنبهل کر بیٹھ گئیں۔۔

کیا پرانی باتیں لے کر بیٹھ گئے ہو۔۔ چھوڑو انہیں،، آج میں یہاں کسی اور مقصد سے حاضر ہوا ہوں۔۔ بہن سے مختصر بات ہوئی تھی،، ویسے ایک بات ہے کہ مجھے علم نہیں تھا یہاں میں تم سے ملوں گا۔۔

انکی بات پر وقار نے سوالیہ نظروں سے حنا کو دیکھا۔۔

وقار ہماری ہر بات تمہارے سامنے ہے۔۔۔ میں نے اپنے بیٹوں کی پرورش پر بہت محنت کی ہے۔۔ آج کے لڑکوں جیسی کوئی برائی ان میں نہیں پائی جاتی۔۔ سمجھ رہے ہو نہ ۔۔۔

ہاں ہاں !! بہت شریف بچے ہیں۔۔ انہوں نے سر ہلا کر تائید کی۔۔

آج میں یہاں اپنے بڑے بیٹے شاہ ویر کے لیے تمہاری بیٹی کا رشتہ مانگنے آیا ہوں۔۔ عدیل شاہ نے انکے تاثرات دیکھتے ہوئے کہا۔۔

ہمم ہمم! شاہ ویر جو آجکل تمہارا بزنس سنبهال رہا ہے نہ۔۔۔؟

ہاں وہی۔۔۔ میں ایک بات پہلے ہی واضح کر دوں کہ شاہ ویر کی شادی ہو چکی ہے۔۔ پہلی بیوی ایک سال بعد ہی حادثے میں اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔۔ بیٹا ہے شاہ ویر کا ایک سال کا۔۔ میں کوئی بات تم سے چھپانا نہیں چاہتا۔۔ دیکھو یار مجھے علم ہے شادی شدہ مرد کو اپنی بیٹی دینا بہت مشکل امر ہے۔۔ لیکن میرا بیٹا بھی لاکھوں میں ایک ہے۔۔ آج بھی اس کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک رشتے ہیں لیکن میرے بیٹے کو تمهاری بیٹی کی “حیا” بھا گئی ہے۔۔ نہ یہ نہ سوچنا کہ انا کا اس سب میں کوئی ہاتھ ہے۔۔ وہ بہت معصوم اور پیاری لڑکی ہے۔۔

اس ساری بات میں پہلی دفعہ وقار ہلکا سا مسکراۓ۔۔ انہیں فخر تھا اپنی بیٹی پر۔۔

میں بہت امید سے یہاں آیا ہوں۔۔ میرے بیٹے نے پہلی بار مجھ سے کچھ مانگا ہے۔۔۔ تم پر کوئی دباؤ نہیں ہے ۔۔ اچھی طرح سوچ سمجھ لو۔۔

وقار نے انکے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔۔ میں سوچ کر بتاؤں گا۔۔۔ زندگی تو بچوں نے ہی بسر کرنی ہے۔۔

ان کے رسان سے کہنے پر عدیل شاہ کو ایک گونہ اطمینان ہوا۔۔

حنا پر سوچ نظروں سے وقار کو کھوجتی رہیں۔۔ تھوڑی دیر گفتگو کرنے کے بعد عدیل شاہ جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔ اب ہمیں اجازت دیں۔۔ کافی وقت ہو گیا ہے۔۔ ان کو خدا حافظ کہہ کر وہ گھر کے لیے روانہ ہو گئے۔۔

ان کے جانے کے بعد حنا وقار کی طرف متوجہ ہوئیں۔۔ کیا سوچ رہے ہیں آپ۔۔؟

ہمم میں سوچ رہا ہوں رشتہ برا نہیں ہے۔۔ اچھے لوگ ہیں۔۔ لڑکا بھی دیکھا بھالا ہے۔۔۔بس اسکے شادی شدہ ہونے والی بات کچھ اچھی نہی لگی مجھے۔۔ اور ایک بیٹا بھی ہے اس کا۔۔ انہوں نے سگریٹ ایش ٹرے میں مسلتے ہوئے کہا۔۔

ایک دفعہ انا سے بھی پوچھ لیں۔۔ انہوں نے جھجھک کر کہا۔۔ دروازے کے پیچھے چھپ کر کھڑی انا نے تھوک نگلا۔۔ ان کے کھڑے ہوتے ہی وہ وہاں سے كهسک گئی۔۔

ہاں پوچھیں گے اپنی بیٹی سے بھی ہم۔۔ ہم زبردستی تھوڑی کریں گے۔۔ انکی بات پر حنا نے اطمینان کا سانس لیا۔۔

حنا جونہی انا کے کمرے کے سامنے گزرنے لگیں انا نے انہیں آواز دے کر روک لیا۔۔ ماما کیا کہہ رہے تھے پاپا۔۔؟ اس نے دھڑکتے دل سے پوچھا۔۔

ابھی کچھ کہہ نہیں سکتی۔۔ وہ سوچ کر ہی بتائیں گے۔۔

اچھا ۔۔۔ ماما آج میں عین سے ملنے چلی جاؤں۔۔؟ کافی دن ہو گئے ملاقات نہیں ہوئی۔۔ اس نے لجاجت سے کہا تو حنا کو مانتے ہی بنی۔۔

اچھا چلی جاؤ لیکن جلدی آ جانا۔۔

جی ماما ۔۔۔!! اجازت ملنے پر وہ خوش ہوتی فریش ہونے چلی گئی۔۔ چاکلیٹ براؤن چیک کیپری شرٹ میں ملبوس اس نے بال سنوارے اور عباۓ سے اپنا جسم ڈھک کر نقاب کرنے لگی ۔۔۔ ہینڈ بیگ پکڑ کر وہ موبائل اس میں ڈالتی خدا حافظ کہہ کر گھر کی دہلیز عبور کر گئی۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

بابا کیا کہا انہوں نے ۔۔۔؟ عدیل شاہ کے لاؤنج میں قدم رکھتے ہی میر ان سے چمٹ گیا۔۔

پرے ہٹو نالائق کہیں کے تم تو ایسے بے صبرے ہو رہے ہو جیسے تمہارے رشتے کی بات کرنے گایا تھا میں۔۔

انہوں نے شاہ ویر کا بڑھایا پانی کا گلاس تھامتے ہوئے کہا۔۔

شاہ میر شرما گیا۔۔ کیا بابا ابھی میری اتنی عمر تھوڑی ہے۔۔ میں تو ابھی چھوٹا سا بچہ ہوں۔۔

ہک ہا! تم جیسے بانس جیسے بچے ہونے لگے تو اس دنیا کا اللّه ہی مالک ہے۔۔

انکی بات پر میر کو پتنگے لگ گئے۔۔ اس نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا تو ویر نے گھوری سے اسے خاموش کروا دیا۔۔

وہ جو وقار صاحب ہیں نہ اپنے جاننے والے۔۔؟ انہوں نے ویر کو دیکھ کر پوچھا۔۔۔

جی جی جانتا ہوں میں انہیں۔۔

ان کی بیٹی ہے انا۔۔۔ انہوں نے اپنے تئیں دهماكا کیا۔۔

ویر نے حیرت سے انہیں دیکھا۔۔

عدیل شاہ اسکی حیرت سے محظوظ ہوئے۔۔

اچھا پھر ۔۔؟ جلدی بتائیں نا۔۔۔ میر نے بےصبری سے کہا۔۔

عدیل شاہ نے اسے تیکھی نظروں سے دیکھا۔۔ سوچ کر بتائیں گے وہ۔ انا سے بھی پوچھیں گے۔۔ امید تو اچھی ہے۔۔ انہوں نے ویر کا شانہ تھپتهپا کر کہا۔۔ ویر سر ہلا کر اپنے کمرے میں آگیا ۔۔

موبائل تھام کر اس نے انا کو کال ملائی۔۔۔ دل شرارت پر آماده ہوا۔۔ دوسری طرف سے موبائل بند ہونے کی اطلاع پر اس کے ارادوں پر پانی پھر گیا۔۔ بستر پر گرنے کے انداز میں لیٹ کر وہ سوئے ہوئے راحم کے گرد حصار قائم کر گیا۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

اس نے ذرا سا اونچا ہو کر بیل بجائی۔۔ غالباً لائٹ گئی ہوئی تھی۔۔ پیچھے ہٹ کر اس نے ایک پل کو سوچا اور پھر پرس سے ڈپلیکیٹ چابی نکال کر دروازه کھول دیا۔۔ یہ چابی اسے جہان نے بنوا کر دی تھی تا کہ اسے کوئی پریشانی نہ ہو۔۔

اندر داخل ہوتے ہی اس کے کانوں میں عین کی چیخ و پکار پڑی۔۔ وہ سٹول پر کھڑی چلا رہی تھی۔۔۔ جہان زمین پر اس کے سامنے کھڑا سخت عاجز دکھائی دے رہا تھا۔۔

نیچے اترو عین! کھا نہیں جائے گا وہ تمہیں۔۔ جہان کے بولنے پر اس نے فوراً کافی بڑے سائز کے چوہے کو دیکھا جو ان سے قدرے فاصلے پر بڑے اطمینان سے بیٹھا لائیو شو دیکھ رہا تھا۔۔

کھا جائے گا وہ مجھے ،، مجھے پتہ ہے۔۔ اس نے تھوک نگل کر کہا۔۔

اسکی بات پر جہان کا دل سر پیٹنے کو چاہا۔۔ عین گر جاؤ گی نیچے ات۔۔۔۔ اس کی بات ابھی پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ عین کا پاؤں مڑا اور وہ توازن کھوتی نیچے گری۔۔

جہان نے فوراً اسے تھام لیا۔۔ چوہے صاحب دھڑام کی آواز سے بالاخر اٹھے اور داخلی دروازے کی طرف دوڑ لئے۔۔

اب کہ انا کی چیخیں بلند ہوئیں۔۔ عین بھی خوفزدہ ہوتی بغیر سوچے چیخنے لگی۔۔ اس نے جہاں کی گردن کے گرد پکڑ مضبوط کرلی جس سے اس کے ناخن اسکی گردن پر بری طرح چبھے۔۔

چپ!!! وہ داڑھا تو دونوں کی زبانوں کو بریک لگا۔۔ اللّه کہاں پھنس گیا میں دو عورتوں میں۔۔۔ اس نے عین کو پٹخنے والے انداز میں نیچے اتارا اور گردن گھما کر دروازے کی اوڑھ دیکھا جہاں انا شوز ریک پر ایک پیر رکھے کھڑی ہوئی تھی۔۔

سوری!! وہ فوراً نیچے پیر رکھ کر سیدھی کھڑی ہو گئی۔۔۔

جہان نے اپنی اپنی جگہ شرمندہ کھڑی انا اور عین کو دیکھ کر اپنی گردن پر ہاتھ رکھا جہاں جلن ہونے لگی تھی۔۔۔

وہ نیل کٹر لے آیا اور عین کا ہاتھ کھینچ کر سامنے کیا۔۔

نہیں میں نہیں ۔۔۔۔ عین منمنائی تو جہان نے بری طرح اسے ڈپٹ دیا۔۔ چپ آواز نہ نکلے تمہاری۔۔

ایک ایک کر کے اس نے عین کے سارے ناخن کاٹ دیے۔۔ تب تک انا ان کے قریب آ گئی۔۔

السلام علیکم ! اس کے سلام پر جہان نے سر ہلایا۔۔۔ وعلیکم السلام ! جب کہ عین آگے بڑھ کر اس سے گلے ملی۔۔

کیسی ہیں آپ ؟؟ میں نے بہت مس کیا آپ کو۔۔اس نے اپنے “گنجے ہاتھوں” کو دیکھ کر شوں شوں کرتے ہوئے کہا۔۔

آپ آجائیں اندر ۔۔ جہان کے طرز تخاطب پر انا کی آنکھوں میں دکھ ابھرا۔۔ اتنا تكلف ۔۔۔؟ اس نے سوالیہ نظروں سے جہان کو دیکھا تو وہ خاموش ہوگیا۔۔

آؤ ۔۔!! وہ تینوں لاؤنج میں آ گئے۔۔۔ جہان ریفریشمنٹ کا سامان لانے چلا گیا۔۔ اس کے جاتے ہی انا کڑے تیوروں سے عین کی طرف مڑی۔۔ یہ کیا چل رہا ہے تم دونوں کے بیچ۔۔؟

اس کی بات پر عین کا چہرہ سرخ ہوگیا۔۔ کیا انکو سب پتہ چل گیا۔۔؟

انا نے اس کے چہرے کی سرخی کو بغور دیکھا۔۔ کیا چھپا رہی ہو تم مجھ سے ۔۔؟ مجھ سے بھی باتیں چھپاؤ گی اب۔۔ ؟

نہیں آپی ایسی بات نہیں بس وہ سب کچھ اتنا اچانک ہوا۔۔۔ مم میرا نکاح ہوگیا ہے ہان کے ساتھ۔۔

سچ ۔۔۔؟؟ اس کے بتانے پر وہ اتنی زور سے چیخی کہ عین دہل گئی۔۔

جج جی سچ کہہ رہی ہوں ۔۔ عین اس کی ایکسائٹمنٹ دیکھ کر بوکھلا گئی۔۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا انا اتنا خوش کیوں ہو رہی ہے۔۔

یاااااررر آئی ایم سو سو ہیپی ۔۔ مجھے یقین نہیں آرہا تمہارا اور ہان کا نکاح ہو گیا۔۔ وہ مان گئے ؟؟ میرا مطلب مشکل تو ہوئی ہوگی۔۔ وہ سب کچھ جاننے کے لیے بیتاب ہوئی۔۔

عین نے الف تا یے سب کچھ اسے بتا دیا۔۔

ہمم اچھا اچھا تبھی اس دن تم ان سے ۔۔۔۔۔ اہاں اب سمجھ آ رہا ہے سب ۔۔ اہم اہم ۔۔۔

آپی تنگ نہ کریں نہ ،، عین نے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا۔۔

آلے آلے میلے بےبی کو شما آ رہی ہے۔۔؟ اس نے شرارت سے کہہ کر عین کو گلے لگا لیا۔۔ اللّه کرے تم دونوں بہت بہت خوش رہو ۔۔

اتنے میں جہان آ گیا۔۔ عین اٹھ کر کچن میں چلی گئی۔۔ بیٹھ جائیں میں کاٹوں گی نہیں سچی! جہان وہاں سے جانے لگا تو انا بول اٹھی۔۔

گہرا سانس بھر کے وہ اسکے سامنے بیٹھ گیا۔۔ انا اٹھ کر اس کے پاس گئی اور گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔۔

سوری!! اس نے ایک کارڈ اپنے چہرے کے آگے کیا جس پر بڑا سا سوری لکھا ہوا تھا۔۔

جہان نے بغیر کچھ کہے کارڈ تھام لیا۔۔

اس کے بعد انا نے ایک چاکلیٹ اس کی طرف بڑھائی جس پر “سوری انگری برڈ” لکھا ہوا تھا۔۔ ایک ہاتھ سے چاکلیٹ اس کی طرف بڑھاتے دوسرے ہاتھ سے اس نے کان پکڑ لیا۔۔

کچھ دیر سنجیدگی سے اسے دیکھنے کے بعد اس کے دیے خطاب پر وہ ہنس پڑا۔۔ اوکے !!

اس نے تمام باتیں بھلانے کا فیصلہ کر لیا۔۔

فرینڈز ۔۔؟؟ انا نے جوش سے ہاتھ اس کے آگے کیا۔۔

ہممم !! جہان اس کے بڑھے ہاتھ کو تھام کر دلکشی سے مسکرا دیا۔۔

انا فوراً سے اس کے برابر بیٹھ گئی اور چاکلیٹ واپس لینے کے لئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ جہان نے فوراً ہاتھ پیچھے کیا۔۔

او ہیلو !! یہ تو میری ہے نہ ۔۔

نہیں میری ہے یہ وہ تو بس منانے کے لئے دی تھی ۔۔ اس نے اچک کر چاکلیٹ پکڑنی چاہی۔۔

جہان نے ہاتھ مزید اوپر کر لیا۔۔

اب یہ میری ہوئی ،، عین دبے قدموں جہان کے پیچھے آ کھڑی ہوئی اور آہستہ سے ہاتھ بڑھا کر چاکلیٹ چھین لی۔۔

ٹن ٹنا!! وہ کولڈ ڈرنک اور سنیکس میز پر رکھتی مزے سے چاکلیٹ کھول کر کھانے لگی۔۔۔

انا اور جہان نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر مسکرا پڑے۔۔

سو فائنلی آپ کی پھر فرینڈشپ ہو گئی۔۔ عین کے خوشی سے کہنے پر انا نے اثبات میں سر ہلایا۔۔

ویسے ہان بھائی تنگ تو نہیں کرتی یہ آپ کو ۔۔؟ انا کے پوچھنے پر جہان نے عین کو گہری نظر سے دیکھا۔۔ بےبی پنک كیپری شرٹ میں ملبوس وہ جہان کی نظروں سے اپنے آپ میں سمٹ گئی۔۔ گزری رات کے مناظر یاد آتے اس کے گال دہک گئے۔۔

بہت تنگ کرتی ہے ۔۔۔ لیکن میرے پاس بہت طریقے ہیں اسے سیٹ کرنے کے۔۔ اس کے بےباکی سے کہنے پر عین مزید سرخ ہوتی وہاں سے بھاگ گئی۔۔

کچھ بےشرم نہیں ہو گئے آپ ۔۔۔؟ اس کے شرارت سے کہنے پر ہان نے مسكراہٹ دبا کر گردن پر ہاتھ پھیرا۔۔

بے شرم کہتے ہوئے اسے “اپنا بے شرم بندہ” یاد آ گیا۔۔

ہاں یاد آیا وہ کون تھا ۔۔؟ انا اس کا اشارہ سمجھ گئ

ہان بھائی وہ اصل میں ایک دن پارک میں۔۔۔۔۔۔ اس نے مختصراً اسے ساری بات بتا دی۔۔۔ آپ جیسا سمجھ رہے تھے ویسا کچھ نہیں ہے ۔۔ میں صرف راحم کے لئے گئی تھی۔۔۔ بہت پیارا بچہ ہے وہ۔۔

ہمم اوکے تم ایسا کچھ نہیں سوچتی لیکن وہ بندہ تمہیں پسند کرتا ہے میں شیور ہوں۔۔ اس کے اندازے پر انا گڑبڑا گئی۔۔۔

جج جی پتہ نہیں۔۔

انا مجھے بتاؤ کیا بات ہے۔۔ جہان کے نرمی سے پوچھنے پر انا کی آنکھوں میں الجھن ابھری ۔۔

اس نے انگلیاں چٹخا کر اسے دیکھا۔۔ وہ۔۔ شاہ ویر نے رشتہ بھیجا ہے۔۔!!

اوکے شاہ ویر نام ہے اس لڑکے کا۔۔؟

جی!!

تو تم کیا چاہتی ہو ؟؟

مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی ۔۔ میں راحم کے ساتھ رہنا بھی چاہتی ہوں اور یہ سب مجھے عجیب بھی لگ رہا ہے۔۔ آپ سمجھ رہے ہیں نہ!!

میرے لئے بہت مشکل ہے یہ۔۔ اس نے نم آنکھوں کو جهپکتے ہوئے کہا ۔۔۔

جہان نے نرمی سے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔۔ دیکھو انا زندگی میں سب کچھ ویسا تو نہیں ہوتا جیسا ہم چاھتے ہیں۔۔ لیکن ٹرسٹ می جو ہوتا ہے وہ ہماری کی گئی خواہش سے بہت بہتر ہوتا ہے۔۔ ہمیں لگتا ہے کہ مشکل ہوگی لیکن ایک دفعہ قدم بڑھانے پر سب کچھ ٹھیک ہونے لگتا ہے۔۔ ماضی کو بھول جاؤ۔۔ اپنی طرف بڑھے مخلص ہاتھوں کو تھام لینا چاہئے۔۔ تم جو بھی فیصلہ کرو میں تمهارے ساتھ ہوں۔۔ ٹھیک ہے۔۔

وہ اسے بچے کی طرح ٹریٹ کرتے ہوئے سمجھا رہا تھا۔۔ انا نم آنکھوں سے مسکرا دی۔۔

تھینک یو!!

اپنے پاس رکھو ۔۔ جہان نے آنکھیں چھوٹی کر کے کہا۔۔

انا ہنس پڑی۔۔ اچھا میں عین کو دیکھتی ہوں۔۔ پتہ نہیں کیا بنے گا اس لڑکی کا ۔۔۔

لڑکی او لڑکی!! وہ اسے آوازیں دیتی لاؤنج سے چلی گئی۔۔ جہان نے آسودہ سانس بھری۔۔ بالاخر دل پر دھڑا بوجھ ہٹ گیا تھا۔۔۔

قسط_نمبر_18

کتابوں کا ڈھیر اٹھائے وہ احتیاط سے چلتی اپنے اور جہان کے مشترکہ کمرے میں آئی۔۔ بیڈ پر نیم دراز جہان نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر موبائل پر مصروف ہوگیا۔۔

اپنا نظرانداز کیا جانا عین کو تپا گیا۔۔ اس نے سلگ کر اسے دیکھا اور بیڈ پر قدرے زوردار آواز سے کتابیں پھینکیں ۔۔۔

جہان نے اسے دیکھ کر بھنویں اچکائیں۔۔ سرخ رنگ کی پرینٹڈ گھٹنوں سے اوپر تک آتی چنٹ فراق جس پر دیدہ زیب گلاب کے پھول بنے ہوئے تھے کے ساتھ جدید طرذ کی كیپری زیب تن کیے وہ ناک بھوں چڑھا کر اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔

ہونہہ !! اس کے دیکھنے پر وہ ایک ادا سے مڑ گئی۔۔ گھٹنوں تک آتے کالے گھنگھریالے گیلے بالوں کو اس نے جھٹک کر کمر پر ڈالا تو پانی کی ننھی بوندیں جہان کے منہ پر گریں۔۔

جہان نے دانت پیس کر منہ پر ہاتھ پھیرا۔۔ وہ کمال بے نیازی سے کھڑکی کے قریب آئی اور ذرا فاصلے پر رکھی رائٹنگ ٹیبل کو کھینچ کر دیوار سے لگایا۔۔

اس کے سامنے اس نے اپنی پسندیدہ صوفہ نما کرسی کو ٹکا دیا ۔۔ ایسے کہ یہاں بیٹھنے سے کھڑکی سے باہر کا منظر باآسانی دیکھا جا سکتا تھا۔۔

جہان ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھے کروٹ کے بل لیٹا اسکی کاروائی فرصت سے ملاحظہ کررہا تھا۔۔

عین اسے نظر انداز کیے بیڈ تک آئی اور کتابیں اٹھا کر ترتیب کے ساتھ میز کے ایک کونے پر رکھ دیں۔۔ ان کے ساتھ اس نے ناولز کا ڈیڑھ لگا دیا۔۔

سب ترتیب دینے کے بعد اس نے سٹیشنری باكس دوسرے کونے پر رکھ دیا۔۔۔ اپنی کاروائی سے مطمئن ہو کر اس نے کالج بیگ سے اسئنمنٹ پیپر نکال کر باہر رکھے۔۔

بیگ میں اسکا ہاتھ ایک چیز پر پڑا۔۔ اس نے باہر نکالی تو وہ ایک بہت خوبصورت قلم تھا جس پر بہت خوبصورت ڈیزائن نقش ہوا تھا۔۔۔

اس نے مسکرا کر احتیاط سے اسے تھاما اور ہلکا سا چوم کر میز پر رکھا۔۔ جہان ذرا سا چونکا۔۔

یہ کس نے دیا ہے ؟ لگتا ہے بہت اسپیشل ہے۔۔ جہان کے پوچھنے پر عین مسکرائی،، اب آیا نہ مزہ۔۔

“جی بہت اسپیشل ہے یہ” میرے پروفیسر نے دیا ہے،، جہان کے ماتھے پر لكیر ابھری۔۔

اور آپ کو پتہ ہے وہ بہت بہت پیارے ہیں ۔۔۔ پورے کالج کی لڑکیوں کا کرش ہے ان پر ۔۔ انہوں نے سب کو چھوڑ کر مجھے یہ گفٹ دیا کیوں کہ میں ان کے بقول سب سے زیادہ بریلیئنٹ سٹوڈنٹ ہوں،،، وہ نان اسٹاپ بولتی جا رہی تھی۔۔

کون سے پروفیسر ہیں کوئی تصویر ہے تمهارے پاس؟ وہ اٹھ کر اس کے پاس آ کھڑا ہوا۔۔

عین نے جلدی سے موبائل آن کیا اور گیلری کھول کر اسے ایک گروپ فوٹو دکھائی۔۔

ہمم بس ٹھیک ہے مجھے تو کچھ خاص نہیں لگا بندر کہیں کا۔۔۔ جہان کے جیلس ہونے پر عین نے بہت مشکل سے قہقہہ روکا۔۔

ایویں بندر!! اچھے خاصے ہینڈسم بندے کو آپ نے بندر بنا دیا ہے۔۔ اس کے خفگی سے کہنے پر جہان کو پتنگے لگ گئے۔۔

آئندہ تم “اس” سے کوئی گفٹ نہیں لو گی آئی سمجھ ؟

کیوں نہ لوں ویسے آپ کو کیوں فرق پڑ رہا ہے۔۔

چند سیکنڈ لگے تھے جہان کو اسکے سامنے نارمل ظاہر ہونے میں۔۔

مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔ کندھے اچکا کر اس نے دیوار میں نصب الماری سے ٹراؤزر کھینچ کر نکالا اور باتھ روم میں گھس گیا۔۔

اندر جا کر اس نے گہرا سانس لیا۔۔ اور پھر دیوار پر زور سے مکا مارا۔۔ شاور کھول کر وہ اس کے نیچے کھڑا ہوگیا۔۔ اس کا غصہ کسی صورت کم نہیں ہو رہا تھا۔۔

کافی دیر بعد جب اسکا غصہ ٹھنڈا ہوا تو وہ خالی ٹراؤزر زیب تن کیے باہر نکلا۔۔ اس کے بالوں سے پانی کی بوندیں ٹپک کر اسکے کسرتی سینے کو بھگو رہی تھیں۔۔

ادھر ادھر ٹہل کر سبق یاد کرتی عین نے اسے شرٹ لیس دیکھا تو فوراً آنکھوں کے آگے کتاب کرلی ۔۔ انتہائی بد تمیز ہیں آپ! وہ بند آنکھوں سے چلائی ۔۔

ابھی تو کوئی بدتمیزی کی ہی نہیں میں نے،، اس کے بلکل قریب سے آواز ابھری تو وہ بے ساختہ کتاب چہرے کے آگے سے ہٹا گئی۔۔

اسے اپنے اوپر جھکا دیکھ کر وہ چند قدم پیچھے ہٹی۔۔ اس سے پہلے کہ اسکا سر پیچھے موجود کھڑکی سے لگتا جہان نے اس کے سر کے پیچھے اپنا مضبوط ہاتھ رکھ لیا۔۔

عین نے نیلی آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا اور گھبرا کر اس کے حصار سے نکلتی کرسی پر بیٹھ کر کتاب میز پر رکھتی اسائنمنٹ بنانے لگی۔۔

جہان کتنے لمحے یونہی کھڑا رہا ۔۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ یہ “نیلی آنکھوں والی بلی” اسے یوں گھائل کرے گی۔۔

او ویکھ دا اے بُھل جاندا اے۔۔۔!!

اگلا بندہ ۔۔۔۔ رُل جاندا اے۔۔۔!!

سر جھٹک کر اس نے میز پر قدرے جھکی عین کو دیکھا۔۔ عین سے ہوتی اس کی نظر میز کے کونے میں رکھے ناولز پر پڑی۔۔

وہ ناولز کے ٹائٹلز پڑھنے لگا۔۔ تقریباً سب ہی رومینٹک تھے۔۔ تمہیں رومینٹک ناولز پسند ہیں۔۔ ؟

جی!! اس نے مصروف سے انداز میں جواب دیا۔۔

جہان نے گہری نظر اس پر ڈالی۔۔ رومینٹک ناولز پڑھنا زیادہ انٹرسٹنگ ہے یا رومینس کرنا؟ اس نے مسکراہٹ دبا کر استفسار کیا۔۔

مجھے کیا پتہ میں نے کونسا رومینس۔۔۔۔۔۔ اس کی ٹر ٹر کرتی زبان کو اچانک بریک لگا۔۔ اسکا دل کیا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔۔

کمرے کی فضا میں جہان کا جاندار قہقہہ گونجا۔۔

اتنی دیر بعد اسے یوں ہںستے دیکھ کر عین بے خود سی اسے دیکھے گئی۔۔ کتنا وجیہہ لگتا تھا وہ ہنستے ہوئے۔۔

بڑھی سیاہ داڑھی میں چھپی جان لیوا مسکان، گہری دل میں اترتی دلکش آنکھیں، مغرور نقوش کا مالک وہ شاندار شخص اس کا تھا۔۔ ایک انوکھے احساس نے اس کے اندر بسیرا کر لیا۔۔ ایسا خوش نما احساس تو اس نے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔۔

انت الحُبّ…!!

(تم محبت ہو..!! )

زیرا خندہ ات عشق است… !!

(کیونکہ تمہارا ہنسنا محبت ہے..!! )

بے ساختگی میں وہ کہہ گئی۔۔ احساس ہونے پر وہ فوراً نظریں جھکا گئی۔۔

جہان نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔۔ کیا کہا ہے تم نے ؟

کک کچھ نہیں ! کچھ بھی تو نہیں ۔۔ اب سر اٹھانے کی غلطی اس نے نہ کی۔۔

نہ بتاؤ میں خود ڈھونڈ لوں گا اس کا مطلب۔۔ اس نے عین کے جھکے سر کو دیکھ کر کہا۔۔

“تم میری طرف دیکھ کر بات کیوں نہیں کر رہی؟”

آخر آپ کیا سننا چاہتے ہیں میرے منہ سے۔۔؟ پہلے شرٹ پہن کر آئیں آپ پھر بات کریں۔۔ اللّه اللّه کیسے میرے سامنے کھڑے ہیں۔۔ موٹے کہیں کے۔۔!

اسکی بڑبڑاہٹ جہان کے دل میں ٹھا کر کے لگی۔۔

کہاں سے موٹا لگتا ہوں میں تمہیں؟ اس نے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے کسرتی جسم کا جائزہ لیا۔۔ سکس پیکس ، بازو کے پھولے ہوئے مسلز۔۔ دراز قد کا مالک وہ ایک انتہائی پرکشش مرد تھا۔۔

ہنہ ۔۔! عین نے عینک نیچے کھسکا کر اسے سر تا پیر دیکھا ۔۔۔ شروع سے آخر تک موٹے ہی ہیں آپ ۔۔۔

عین کی بات پر جہان کو اپنے کان سے دھواں نكلتا محسوس ہوا۔۔ اسے اندازه نہیں ہوا کہ وہ لا پرواہی سے کتنی بڑی بات کہہ گئی تھی۔۔

اچھا اگر موٹا ہوں نہ تو پھر بھی تمہی نے برداشت کرنا ہے۔۔ اب کہ عین کے پسینے چھوٹے۔۔

اعوذ بالله پڑھ کر وہ کتابیں اٹھاتی نو دو گیارہ ہو گئی۔۔ اس کے اعوذ باللہ پڑھنے پر جہان کی ہنسی چھوٹ گئی۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

بیٹا بات سنو ،، انا کچن کے کام سے فارغ ہو کر اپنے کمرے میں جا ہی رہی تھی کہ وقار نے اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔۔

انا دھڑکتے دل کے ساتھ ان کے پیچھے چل دی۔۔ آؤ بیٹا بیٹھو،، تم سے کچھ بات کرنی تھی۔۔

جی بابا! انا نے کپكپاتے ہاتھوں کو گود میں رکھ لیا۔۔ اسکی حالت عجیب ہو رہی تھی۔۔

بیٹا تمہیں علم تو ہو ہی گیا ہوگا تمہارے لیے رشتہ آیا ہے۔۔ اچھے لوگ ہیں۔۔۔ جان پہچان کے ہیں۔ میں نے بہت سوچا ہے اس بارے میں لیکن میرے لئے تمہاری مرضی بھی اہم ہے۔۔

اتنی محبت پر انا کی آنکھوں میں آنسو چمکے،،، اسے لگا اسے اسکے پرانے بابا واپس مل گئے ہیں۔۔

ارے ارے یہ کیا ادھر آؤ رو کیوں رہا ہے ہمارا بیٹا، انہوں نے انا کو اپنے حصار میں لے لیا،، انا نے ان کے گرد بازو حمائل کر لئے۔۔

بابا جیسا آپ چاہیں میں آپ سے بہتر تو نہیں سوچ سکتی اپنے بارے میں،، اس نے فیصلہ قسمت کے حوالے کر دیا۔۔ اب جو ہو سو ہو۔۔۔

شاباش میرا بیٹا مجھے فخر ہے تم پر،، انہوں نے اس کا سر چوما تو وہ آسودگی سے مسکرا دی۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

نیم اندھیرے کمرے میں اس کے ہونٹوں پر مدھم مسکراہٹ تھی ایسی دل موہ لینے والی مسکراہٹ، جو کسی بہت اہم راز کو خود میں قید کیے ہوئے ہو۔۔

اس کا اللّه کی ذات پر “یقین کا سفر” کب شروع ہوا تھا۔۔؟ بند آنکھوں کے پردوں پر ایک منظر لہرایا۔

ایک چھوٹے سے کمرے میں کھڑکی سے دن کی روشنی اندر آتی اندر بیٹھے چار نفوس کو واضح کررہی تھی۔ وہ آٹھ سال کی چار بچیاں تھیں جو دنیا کی رونقوں سے پرے اپنی مختصر سی محفل سجائے ہوئے تھیں۔

ان کے ہاتھ میں ایک ایک تسبیح تھی جس پر وہ اللّه کا کلام پڑھ رہی تھیں۔۔ تسبیح مکمل ہوئی تو اب سوال اٹھا کہ “دعا” کون مانگے گا۔

انا تم مانگ لو، ایک بچی گویا ہوئی۔۔ انا ذہن میں تشویش زدہ ہوئی۔ شام پڑ گئی تھی اور ابھی سکول کا کام بھی کرنا تھا۔ عام طور پر وہ اس وقت تک اپنا سکول کا سارا کام کر چکی ہوتی تھی۔۔

اس نے دل ہی دل میں پریشان ہوتے جیسے تیسے ٹوٹی پھوٹی دعا مانگی ویسی ہی دعا جیسی اس عمر میں عموماً بچے مانگا کرتے ہیں۔۔

گھر آتے تھوڑا وقت اور گزر گیا۔۔ اس نے جلدی سے بستہ پکڑا اور آسمان تلے بچھی چار پائی پر بیٹھ گئی۔۔

اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب سارے دن میں مکمل ہونے والا کام ایک گھنٹے میں مکمل ہوگیا۔۔ اس نے دوبارہ سبق دوہرایا جو اس کو پہلے کی نسبت زیادہ اچھی طرح ذہن نشین ہوگیا تھا۔ ہوم ورک کو دوبارہ چیک کر کے اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور مسکرا دی۔۔

اللّه تعالیٰ آپ نے کیا ہے نہ یہ۔۔ میں بہت خوش ہوں۔۔ خوشی سے اسکا چہرہ دممک رہا تھا۔۔ یہ خوشی اس بات کی تھی کہ اس نے اللّه تعالیٰ کی ذات کو پہلی بار اس انداز میں جانا تھا۔۔

اس سے پہلے وہ بس یہ سنتی اور پڑھتی آئی تھی کہ ہمارا رب “اللّه تعالیٰ” ہے اور اسکی عبادت فرض ہے۔۔ مگر یہ کسی نے نہیں بتایا تھا کہ اللّه بغیر کہے سن لیتا ہے، پریشانی دور کر دیتا ہے، جب وہ بغیر کہے سنتا اور مدد کرتا ہے تو کیا پکارنے پر خالی ہاتھ لوٹاۓ گا؟؟

اس نے نم آنکھیں آہستہ سے وا کیں۔۔ اللّه جی ہمیں یہ کیوں بتایا جاتا ہے کہ نماز نہ پڑھنے پر اللّه سزا دے گا۔ یہ کام کرو گے تو اللّه گناہ دے گا۔ ہمیں یہ کیوں نہیں بتایا جاتا کہ اللّه تم سے بہت محبّت کرتا ہے۔ ایسی محبّت جو کوئی کسی سے نہیں کر سکتا۔ ہمیں آپ سے محبت کرنا کیوں نہیں سکھایا جاتا۔ ایسی محبت جو ہمیں ہر گناہ سے دور کر دے۔ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ آپ نے مجھے خود سے قریب کر لیا۔ اتنی محبّت کرتے ہیں آپ مجھ سے اور میں اب بھی نہ جانے کتنی دفعہ آپ کی نافرمانی کر جاتی ہوں۔۔ پھر بھی اتنی محبت کیوں کرتے ہیں آپ مجھ سے؟ سب مجھے چھوڑ دیتے ہیں بس آپ ہر پل میرے ساتھ رہتے ہیں۔۔

ایسی مہربان محبّت پر وہ بلکنے لگی۔۔ ضروری نہیں آنسو صرف تکلیف کے ہوں۔۔ کچھ آنسو تشکر کے بھی ہوا کرتے ہیں۔۔ اور جو آنسو اللّه کے لئے بہیں وہ “نایاب موتی” ہیں۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

بیپ بیپ !! بیپ بیپ !!

جائے نماز تہہ کر کے رکھتے اس نے موبائل پکڑا جس پر شاہ ویر کا پیغام جگمگا رہا تھا۔۔ چہرے کو حجاب کی گرفت سے آزاد کر کے وہ بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔

اس نے میسج کھولا۔ کیا میں آپ کو کال کر سکتا ہوں۔۔؟؟

انا نے انگلی دانت میں دباتے سكرین کو دیکھا۔۔

جی نہیں ! ٹائپ کر کے اس نے سینڈ کا آپشن دبا دیا۔۔

اوکے! اسکا مطلب ہے کر سکتا ہوں۔۔ ساتھ ہی اس نے پوری بتیسی کی نمائش کرتی ایموجی سینڈ کردی۔۔

انا کو ہنسی بھی آ رہی تھی اور حیرت بھی ہو رہی تھی کہ اتنا سنجیده نظر آنے والا بندہ ایسی حرکتیں بھی کر سکتا ہے۔۔ آخر کیا چیز ہے یہ۔۔؟ وہ محض سوچ سکی۔۔

چیز نہیں ہوں میں ایک جیتا جاگتا معصوم سا بندہ ہوں۔۔ اس کے میسج پر انا بھونچکا رہ گئی۔۔ آپ کو کیسے پتہ میں نے ایسا سوچا؟

میسج فوراً سین ہوا۔۔

ہک ہا! در فٹے منہ انا!! اس نے تكا لگایا ہوگا تم نے كنفرم کر دیا۔۔

مجھے پتہ چل جاتا ہے آپ میرے بارے میں کیا سوچتی ہیں۔۔ ایسے تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ میرے لئے آسانی ہے لیکن آپ کے لیے مشکل ہو سکتی ہے شادی کے بعد۔۔

اسکا میسج پڑھتے اسے ایسا لگا جیسے وہ اس کی بات سے محظوظ ہوا ہو۔۔

ہائے اگر یہ واقعی میری سوچ پڑھ سکتا ہے تو میرا کیا ہوگیا۔۔ میں تو ایسا ویسا کچھ سوچ بھی نہیں سکتی۔۔

ان فضول سوچوں پر لعنت بھیج کر اس نے “کرارا” سا میسج لکھا جو یقیناً تیکھا پسند کرنے والے کو بہت تیکھا لگے گا۔۔

ہنہ!! اپنے کارنامے سے مطمئن ہو کر وہ بستر پر دراز ہو گئی۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

اہم اہم سر فرہاد کیندے ۔۔۔۔!!

اپنا نام سن کے ماڈرن سے سر فرہاد الرٹ ہو گئے۔۔

کی کیندے۔۔۔؟

حاضرین میں سے نوجوان لڑکوں کا بھرپور شور اٹھا۔۔

سر فرہاد کیندے میں ایڈا سوہنا کیوں آں ۔۔؟

آئے ہائے ہائے !!

لوکی ویکھ کے دُور و ای جاندے نس اے۔۔۔!

اے چنگی چس اے۔۔!!

میر کے ایک انداز سے بولنے پر حاضرین میں زبردست قہقہہ پڑا۔۔

شوخے ہوتے سر فرہاد شرمنده سے ہو گئے۔۔

اگلا شعر۔۔۔!! عرض کرتا ہوں ۔۔

ارشاد ارشاد ۔۔۔! شور بلند ہوا۔۔

سر افنان کیندے میرے وال نئی بن دے۔۔!! کنگھی پھیر پھیر جاندی گھس اے !!

اے چنگی چس اے۔۔!!

گراؤنڈ میں موجود تمام طالب علم ہنس ہنس کر دوہرے ہو گئے۔۔

گنجے سر افنان نے اپنے سر پر ہاتھ پھیرا اور ارد گرد دیکھتے چہرے پر پھیکی مسکراہٹ سجا لی۔۔

آج میر ان سب پروفیسر سے گن گن کر بدلے لے رہا تھا جنہیں اس سے خدا واسطے کا بیر تھا۔۔

عدیل شاہ کی گود میں کھڑا راحم میر کو اپنی طرف آتا دیکھ کر اچھلنے لگا۔۔

بلیک پینٹ شرٹ میں شرٹ کے بازو کہنیوں تک موڑے کلائی میں سمارٹ واچ پہنے وہ صنفِ مخالف کی نگاہوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔۔

برخوردار دل کے پھپھولے تو پھوڑ آئے وہاں اب آئندہ کے لیے اپنی خیر مناؤ ۔۔ عدیل شاہ نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔۔

ان کو تو اس سے بھی زیادہ ۔۔۔

اوں ہوں ! استاد ہیں۔۔ ایسے نہیں کہتے۔۔ اسکی بات کاٹ کر انہوں نے سرزنش کی۔۔

سوری ! منہ بنا کر اس نے راحم کو تھاما۔۔

فنکشن ختم ہوگیا تھا۔۔ سب اپنے گھروں کو لوٹنے لگے تھے۔۔ ہاں چیمپ مزا آیا ۔۔؟

وہ عدیل شاہ کے ہمراہ کالج کے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے اس سے استفسار کرنے لگا۔۔

ہمم ہمم مجا آیا، چیجو کھائی۔۔

راہ چلتی ایک ٹیچر نے راحم کا گال کھینچا تو وہ بات کرتا ہوا رک گیا اور شرما کر میر کی گردن میں منہ چھپا گیا۔۔

اس ٹیچر کا مدھم قہقہہ گونجا۔۔

“ہی از سو کیوٹ۔۔”

مس آپ کے سامنے ہی شرما رہا ہے ورنہ بہت بڑی چیز۔۔۔ آہ !!

راحم نے اس کی گردن پر دانت گاڑ دیے۔۔

کیا ہوا ؟ ان کے حیرت سے پوچھنے پر عدیل شاہ نے گہرا سانس بھرا۔۔

“وہی جو ہونا تھا”۔۔!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *