Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Pegham e Muhabbat (Episode 09,10)

Ik Pegham e Muhabbat by Mirha Khan

جہاں زاد !

اب نہ آنا۔۔

کوئی دوست داری کرنے !

میرا حالِ درد سننے۔۔

میری غم گساری کرنے !

کہ جو ذات پہ گراں تھا۔۔

وہ سمے گزر گیا ہے !

وہ جو دريائے فغاں تھا۔۔

تہہ جاں اتر گیا ہے !

تیری غفلتوں کے پیچھے۔۔

میرے دن بدل گئے ہیں !

سو یہ دوست داری کرنے۔۔

میری دل آزاری کرنے ۔۔

جہاں زاد !

اب نہ آنا ۔۔۔

“””””””””””””””♥️♥️

وقت کا کام ہے گزرنا اور وہ گزر جاتا ہے۔۔ کسی کی یادوں کے مینار کو پیچھے چھوڑے،، کسی کی گھٹی سسکیوں کو اپنے اندر قید کر کے،، کسی کو نئے جہان سے متعارف کر کے اور کسی کی کھلکھلاہٹوں کی بلائیں لیتے یہ گزرا وقت آنے والے خوشگوار دنوں کی نوید سنا رہا تھا۔۔

“شاہ ہاؤس” میں جھانکو تو وہاں ایک طوفانِ بدتمیزی مچا ہوا تھا۔۔ لاؤڈ سپیكر پر کوئی فاسٹ بیٹ سونگ لگا کانوں کے پردے پھاڑ رہا تھا۔۔

لاؤنج کی سیٹنگ تبدیل ہو چکی تھی۔۔ فرش پر قالین بچھا کر اس کے چاروں طرف نئے طرز کے صوفے رکھ دیے گئے تھے۔۔

جن کے درمیان کھڑا راحم پیمپر پہنے گانے کی دھن پر نچلے دھڑ کو دائیں بائیں ہلا رہا تھا۔۔

اس کے سامنے کھڑا لمبے سے قد کا لڑکا اس کے سامنے جھکا تالیاں پیٹتا اسے ناچنے پر اکسا رہا تھا۔ ساتھ ساتھ وہ ہوٹنگ کرتا جاتا جس سے راحم اس کے بال پکڑ کر کھلکھلانے لگتا۔۔

اس نوجوان نے اپنے گردن تک آتے سٹائلش بالوں کو ہاتھ کی مدد سے سیٹ کیا اور خود بھی بھنگڑے ڈالنے لگا۔۔

او میلا حم حم ،، او میلا حم حم ۔۔۔

راحم کا نام بگاڑ کر اسے بڑا مزہ آتا تھا کیوں کہ وہ اس نام سے چڑتا تھا۔۔

مِیلو کِیلو۔۔۔۔ راحم اسکا نام بگاڑنے کے ساتھ اس کے چہرے پر ننھے ہاتھوں سے تھپڑ مارتا جا رہا تھا۔۔

بھائیییی۔۔۔ اپنی بلا کو سنبھالیں،، کسی دن میں نے اسے کوڑے میں پھینک دینا ہے۔۔۔ شاہ میر نے چلاتے ہوئے شاہ ویر سے کہا جو اوپن کچن میں ایپرن باندهے کھانا بنا رہا تھا۔۔

تم پر ہی گیا ہے،، بھگتو اب۔۔

میر نے صدمے سے کانوں کو ہاتھ لگائے،، اس بلا کا کوئی مقابلہ ہے۔۔؟ ابھی تو ڈیڑھ فٹ بھی نہیں ہے،، جب اگ لے گا تو پتہ نہیں کیا کرے گا۔۔

ویر نے مسکراہٹ دبا کر اپنے لاڈلے کو دیکھا جو ایک سال کا ہونے والا تھا۔۔ جب سے اس نے چلنا شروع کیا تھا سب کو ناکوں چنے چبوا دیے تھے۔۔

عدیل شاہ اسے پکڑنے کے لیے جاتے تو وہ “نیواں نیواں” ہو کر بھاگ لیتا جسے بهاگنا تو بلکل نہیں کہتے۔۔ ہاہاہاہا۔۔

ننھی سی ٹانگوں سے وہ سہارا لے کر سارے گھر میں منڈلاتا رہتا۔۔ میر اور راحم کی بلکل نہیں لگتی تھی۔۔ دونوں ایک دوسرے کو تنگ کرنے سے بعض نہ آتے تھے۔۔

راحم نے سب سے پہلی اپنی توتلی زبان سے میر کا نام بگاڑ کر “مِیلُو” بولا تھا۔۔ میر تو اندر تک جل گیا تھا۔۔ پھر اس نے بابا کہنا سیکھا۔۔۔

اب بھی وہ توتلی زبان سے بابا کا ورد کرتا ہاتھ پاؤں گندے کر کے ویر کی ٹانگ سے لپٹا کھڑا تھا۔۔ با۔۔با ،، با۔۔با،، با با با با با ۔۔۔۔۔

جی بابا کی جان میرا چیمپ! ویر نے ایک ہاتھ سے اسے اٹھا لیا اور اس کے دونوں پھولے گلابی گالوں پر زور سے بوسہ دیا۔۔

راحم اس کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔۔ ویر نے اسکے دونوں ہاتھ چوم لیے۔۔ اسے راحم کے ہاتھ بہت پسند تھے۔۔ ننھے سے گلابی نرم و ملائم ہاتھ۔۔

چولہا بند کر کے اس نے راحم کو سینے سے لگایا اور ٹیپ کھول کر ہاتھ دھونے لگا۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

راحم کو نہلا کر ویر نے اسے کپڑے پہناۓ۔۔ بلیک شرٹ اور بلیک ہی پینٹ میں ننھا راحم نظر لگ جانے کی حد تک پیارا لگ رہا تھا۔۔

ویر نے اس کے بال سیٹ کیے اور اسے لاؤنج میں تیار بیٹھے عدیل شاہ اور میر کے پاس چھوڑ کر خود چینج کرنے چلا گیا۔۔

آج موسم بے حد خوشگوار تھا۔۔ تیز ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں اس لیے انہوں نے آؤٹنگ کا پلین بنایا۔۔

آ جا میرا شیر اپنے دادُو کے پاس۔۔ عدیل شاہ نے اسے اچک کر گود میں بٹھا لیا۔۔

دااااا۔۔۔دوووو ۔۔۔ داا دا۔۔ راحم کی توتلی زبان میں گردان شروع ہو چکی تھی۔۔

بابا ۔۔۔! ہفتے کو کالج میں “کلچر فیسٹیول” ہے۔۔ آپ چلیں گے۔۔؟ اس سال آؤٹ سائیڈرز کو بھی آنے کی اجازت ہے۔۔

میر نے سٹائلش نیلی جینز کو ٹخنوں سے فولڈ کیا اور فلور لنتھ مرر میں اپنا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے عدیل شاہ سے استفسار کیا۔۔

دیکھیں گے موڈ بنا تو چلیں گے۔۔۔

بابا آ جائیے گا نا۔۔ میں نے بھی پرفارم کرنا ہے۔۔

اچھا چلو چلے جائیں گے۔ ہم بھی دیکھیں اپنے سپوت کے کارنامے۔۔۔

ارے ہمارے کارنامے تو ایک دنیا دیکھتی ہے۔۔ میر نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے ایک ادا سے کہا تو عدیل شاہ کا ہاتھ اپنے جوتے کم چپل کی طرف گیا۔۔

ارے بابا آپ کب اپنا یہ ” لائٹ ویٹ چِھتّر” بدلیں گے۔۔ ویسے وجہ کیا ہے جو آپ ہر دفعہ ایسی ہی چپل پہن کر کہیں بھی چل پڑتے ہیں۔۔ ؟

بیٹا میں نے یہ “لائٹ ویٹ چھتر” اس لیے رکھا ہوا ہے کبھی میرا کسی ایسے شخص سے سامنا ہو جائے جسے چھتر مارنے کا میرا دل کرے تو میں اسے یہ اڑا کر دے ماروں۔۔

لائٹ ویٹ کا یہ فائدہ ہے کہ سامنے والے کو چوٹ بھی نہیں پہنچے گی اور میری خواہش بھی پوری ہو جائے گی۔۔

تو آپ کو کوئی ایسا ملا۔۔؟؟ میر نے ٹیڑھی نظروں سے انکی چپل کو دیکھتے ہوئے کہا اور آہستہ سے کھسکنے لگا۔۔

ہاں،،، میرے سامنے کھڑا ہے،، رکو ذرا انکا ہاتھ چپل تک گیا ہی تھا کے میر وہاں سے اڑنچھو ہو گیا۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

دوپہر کا وقت تھا۔۔ آئمہ اپنے بستر پر لیٹیں آرام کر رہی تھیں جب کہ عین کمرے کے کونے میں رکھے اسٹڈی ٹیبل پر اپنی کتابیں پھیلاۓ بیٹھی تھی۔۔

ایف ایس سی کے پہلے سال میں اسکی سیكنڈ پوزیشن آئی تھی۔۔ اب دوسرے سال کا آغاز تھا۔۔

بے انتہا اسائنمنٹس، ٹیسٹ، اسٹڈی کمپیٹیشنز۔۔۔ اس سب میں اسے اپنی ہوش تک نہیں تھی۔۔ وہ دن رات پڑھتی رہتی تا کہ اس دفعہ پہلی پوزیشن پر آ سکے۔۔

ابھی بھی وہ گرے كیپری شرٹ میں ملبوس فزکس کی اسائنمنٹ بنانے میں بری طرح غرق تھی کہ دروازہ زور سے پیٹا جانے لگا۔۔

عین نے ڈر کر آئمہ کو دیکھا جو خود بھی دروازہ پیٹنے کی آواز سن کر اٹھ گئی تھیں۔۔

ایسا لگتا تھا کہ جو کوئی بھی تھا وہ دروازہ توڑ کر ہی دم لے گا۔۔

عین کو ریلیکس ہونے کا کہہ کر انہوں نے دھڑکتے دل کے ساتھ بیرونی دروازہ کھولا۔۔

سلام خالہ جی۔۔ ہمیں خوش آمدید تو کہیے،، توصیف اپنے ماں باپ کے ساتھ نازل ہو چکا تھا۔۔

آئمہ کا دل بےاختیار گھبرانے لگا۔۔ چند مہینے سکون رہا تو انہیں لگا کہ اس نے اپنی ضد چھوڑ دی ہوگی۔۔ لیکن اب پھر وہ نازل ہوگیا تھا اور اس دفعہ اپنے ماں باپ کو بھی ساتھ لے آیا تھا۔۔

کیوں ہمیں دیکھ کر سانپ سونگھ گیا کیا۔۔؟ ارے اندر تو آنے دو۔۔۔ ہاتھ سے انکو ایک طرف ہٹا کر وہ اپنے ماں باپ سمیت اندر داخل ہوگیا۔۔

یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔؟ جب تمہیں ایک دفعہ کہہ دیا تو کیوں بار بار منہ اٹھا کر چلے آتے ہو۔۔ اور انور تم تو سمجھدار ہو اس کی فضول ضد میں اس کا ساتھ دے رہے ہو۔۔؟

دیکھیں ہمارے بیٹے کی یہ خواہش ہے اور اس میں کوئی برائی بھی تو نہیں۔۔

ہم عزت سے رشتہ مانگنے آئے ہیں۔۔ اچھے کھاتے پیتے گھرانے کے ہیں۔۔ اور آپ کو کیا چاہیے۔۔؟

رخسانہ خاموش بیٹھیں انکا منہ تک رہی تھیں۔۔ اگر ان کی مرضی چلتی تو وہ اس وقت یہاں موجود نہ ہوتیں۔۔

شوہر اور بیٹے کے مجبور کرنے پر وہ یہاں آئی تھیں۔۔ بھلا وہ جانتی نہیں تھیں کہ ان کے نشہ کرنے والے بیکار بیٹے کو کون لڑکی دے گا۔۔

دیکھو انور میں کوئی بحث نہیں کرنا چاہتی۔۔ تم ابھی اور اسی وقت یہاں سے چلے جاؤ۔۔ میں اعینہ کا رشتہ کہیں اور طے کر چکی ہوں۔۔

دروازہ کے پیچھے سے جهانكتی عین نے جلدی سے جہان کا نمبر ملایا جو اس وقت آفس میں تھا۔۔

ہیلو ہان بھائی۔۔۔ نہیں خیریت نہیں ہے۔۔ وہ پھر آ گیا ہے۔۔ وہ توصیف،، اپنی ماما بابا کے ساتھ۔۔

نہیں نانو نے نہیں آنے دیا وہ زبردستی گھس گئے۔۔ اب باہر وہ بحث کر رہے ہیں نانو سے۔۔

مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے آپ جلدی آ جائیں۔۔ دوسری جانب سے کچھ کہا گیا جسے سننے کے بعد اس نے کال بند کر دی۔۔

جہان تشویش سے اٹھا اور ایمرجنسی لیو لے کر جلدی سے گھر کے لیے روانہ ہوا۔۔

میرے پہنچنے تک بس کچھ نہ ہو۔۔ دل میں دعا کرتے اس نے بائیک گھر کے سامنے کھڑی کی اور تیزی سے ڈپلیکیٹ چابی سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔۔

جہان کو دیکھ کر پریشانی سے کچھ کہتیں آئمہ کے چہرے پر اطمینان چھا گیا۔۔

جب کہ توصیف کے چہرے پر خوف کا شائبہ تک نہ تھا البتہ انور صاحب تھوڑا گھبرا گئے تھے،،

کیوں کہ ان کے سامنے ہی ایک دفعہ جہان نے پانچ لڑکوں کو بری طرح پیٹا تھا جو لڑکیوں پر فقرے کس رہے تھے۔

وہ جانتے تھے کہ جہان غصے کا بہت تیز تھا خاص کر ایسے معملوں میں۔۔

توصیف اس بات سے ناواقف تھا۔۔ وه کچھ اس لیے بھی پرسکون تھا کہ اس کی جیكٹ کی جیب میں ریوالور پڑی تھی۔۔ جسکا علم اس کے ماں باپ کو بھی نہیں تھا۔۔

جہان اس کے قریب پہنچا اور اسے گریبان سے پکڑ کر کھینچا۔۔

لگتا ہے پچھلی دفعہ کی مار تم بھولے نہیں۔۔

جہان چھوڑو اسے،، ہٹو پیچھے۔۔ انور صاحب، توصیف کو چھڑانے کے لیے بڑھے تو جہان نے غصے میں انہیں پیچھے کی طرف دھکا دیا جس سے وہ لڑکھڑا گئے۔۔

تیری اتنی ہمت میرے باپ کو دھکا دیتا ہے سالا**** ابھی تیری ہیروپنتی نکالتا ہوں سالا حرا*** توصیف نے پوری قوت سے جہان کو دھکا دیا جس سے وہ اپنی جگہ سے تھوڑا سا پیچھے ہٹا۔۔

جلدی سے جیب میں ہاتھ ڈال کر اس نے ریوالور نکالا اور جہان پر تان لیا۔۔

نانو اندر جائیں اور دروازہ بند کر لیں۔۔ جہان چیخا تو آئمہ روتی ہوئیں نفی میں سر ہلانے لگیں۔۔

تمھیں چھوڑ کر کیسے جاؤں۔۔۔

انور كمینگی سے مسکرا کر پیچھے کھڑے تماشا دیکھ رہے تھے۔۔ انہوں نے توصیف کو روکنے کے لیے جاتی رخسانہ کو بازو سے پکڑ کر روک دیا۔۔

نانو آئی سیڈ گو۔۔ وہ دوبارہ چیخا تو آئمہ نہ چاہتے ہوئے بھی کمرے کی طرف بڑھیں جہاں عین آنکھیں میچے ڈری سہمی کھڑی تھی۔۔

وہ ابھی دروازے کے قریب پہنچی ہی تھیں کہ

توصیف نے انکا بازو پکڑ لیا۔۔

ارے اتنی بھی کیا جلدی ہے۔۔۔ اس نے ریوالور ان پر تان لیا تا کہ جہان کو خوفزدہ کر سکے۔۔

اسکا دیہان ذرا سا ہٹا کہ جہان بجلی کی سی تیزی سے اس کے ریوالور تانے ہاتھ پر جھپٹا۔۔

توصیف نے ریوالور پر گرفت مضبوط کرلی۔۔ دونوں گتھم گتھا ہو گئے۔۔ اسی کھینچا تانی میں ریوالور چل گیا۔۔

لاؤنج میں نصب ایل سی ڈی کی سکرین چھناکے سے ٹوٹ گئی،، جہان نے اسکے پیٹ میں گھٹنا مارا جس سے وہ دوہرا ہو گیا۔۔

اسی موقع کا فائدہ اٹھا کر اس نے ریوالور جھپٹا اور اس کے منہ پر پے در پے گھونسے مارنے لگا،، مارتے مارتے اس کے ہاتھ کی جلد پھٹ گئی تھی اور خون نكلنے لگا تھا۔۔

سیدھا ہو کر اس نے ڈری ہوئی کھڑی آئمہ کو کمرے میں بھیج کر ریوالور اندر پھینکا اور دروازہ باہر سے بند کر دیا۔۔

واپس مڑتے اس نے ماتھے سے بکھرے بال ہٹاۓ اور نیچے گرے توصیف کو ٹھوکریں مارنے لگا۔۔

کہا تھا نہ کہ دوبارہ اپنی شکل بھی نہ دکھانا۔۔ اب کی بار تم اچھی طرح میری بات سمجھ جاؤ گے۔۔

جہان نے اسے گریبان سے پکڑ کر اٹھایا اور دور دبکے کھڑے انور اور رخسانہ کی طرف دھکا دیا۔۔

آؤٹ ،، انگلی سے دروازے کی طرف اشارہ کرتے اس نے درشتگی سے کہا۔۔

اسکے تنے ہوئے جبڑے اور لہو رنگ آنکھوں کو دیکھ کر انور خوفزدہ ہو گئے۔۔

توصیف کا بازو تھام کر وہ کھسکنے لگے کہ توصیف نے انکا ہاتھ جھٹک دیا۔۔

اے ایس پی مختیار کو تو جانتے ہو گے۔۔ اپنی پہچان کے بندے ہیں۔۔

چند گھنٹے،، صرف چند گھنٹے بعد میں دوبارہ آؤں گا۔۔

مجھے یہ ثابت کرتے کوئی مشکل نہیں ہوگی کہ میری ہونے والی بیوی کو تم لوگوں نے قید کر رکھا ہے۔۔

اور افسوس تمہارے پاس کوئی ثبوت نہیں کہ وہ تمہاری بہن ہے۔۔ کیسے ثابت کرو گے۔۔؟

استہزا سے اسے دیکھ کر وہ لڑکھڑاتے قدموں سے دروازہ عبور کر گیا۔۔ انور اور رخسانہ بھی جلدی سے اس کے پیچھے ہو لیے۔۔

پہلی بار جہان کے چہرے پر تفکرات کے سائے منڈلانے لگے۔۔ اس اے ایس پی کی شہرت وہ بہت بار سن چکا تھا۔۔ اور یہ شہرت اچھے کے زمرے میں نہیں آتی تھی۔۔

قدم واپس موڑتے اس نے آئمہ کے کمرے کا دروازہ کھولا جو جانے کب سے دروازہ بجا رہی تھیں۔۔

اندر کمرے میں دونوں کی گفتگو کی آواز باآسانی پہنچ گئی تھی۔ عین کب سے روۓ جا رہی تھی۔۔

آئمہ نے تفكر سے جہان کو دیکھا۔۔ ہان وہ تھوڑی دیر تک پھر آ جائے گا۔۔ دیکھو ،، میری بات غور سے سنو۔۔

میں جو بھی کہنے جا رہی ہوں اس وقت وہی بہتر ہے،، میں نے ایک فیصلہ کیا ہے۔۔

تم تم۔۔۔ جلدی سے مولوی کو بلا کر لاؤ۔۔ جاؤ جلدی۔۔۔

لیکن کیوں نانو۔۔ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔۔۔

میں کہہ رہی ہوں مولوی کو بلا کر لاؤ ابھی۔۔ابھی اور اسی وقت عین کا نکاح ہوگا۔۔

جہان نے حیرت سے انہیں دیکھا۔۔ کس کے ساتھ۔۔؟

“تمہارے ساتھ”۔۔۔۔ آئمہ نے زور دیتے ہوئے کہا۔۔

جہان کا دماغ بھک سے اڑ گیا۔۔ کئی لمحے وہ بےيقینی سے انہیں دیکھتا رہا۔۔

اس کو اپنی سماعت پر یقین نہیں آیا۔۔ عین بھی روتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگی۔۔

کیا کہا آپ نے؟؟ آپ ہوش میں تو ہیں۔۔؟

جہان نے آواز کو اونچا ہونے سے روکا۔۔

جہان میں نے کہا کہ ابھی اور اسی وقت تمہارا اور عین کا نکاح ہوگا۔۔

نانو آپ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہیں۔۔؟ آپ سب کچھ جانتے ہوئے بھی ایسا کیسے کر سکتی ہیں۔۔؟ جہان کی آواز غم و غصے سے پھٹنے لگی۔۔ ابھی تو پچھلے زخم نہیں بھرے تھے۔۔

اگر تم نے میری بات نہ مانی تو میرا مرا ہوا منہ دیکھو گے۔۔

انکے کاندھے کے گرد دھرا اس کا ہاتھ بےجان ہو کر گر پڑا،، اس کی آنکھ سے ایک آنسو بےمول ہو کر گال پر پهسلتا چلا گیا۔۔

اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ نانو اس کے ساتھ ایسا کریں گی۔۔

گھٹی گھٹی سسکیاں لیتی عین پر ایک نفرت بھری نگاہ ڈال کر وہ غصے سے باہر نکل گیا۔۔

نانو آپ ایسا کیوں کر رہی ہیں۔۔ آپ بہت ظلم کر رہی ہیں ۔۔۔

چپ کرو تم،، یہی تم دونوں کے لیے بہتر ہے۔۔ آج کے بچے بڑوں کو بتائیں گے کہ کیا کرنا ہے۔۔ میں نے یونہی نہیں لے لیا یہ فیصلہ۔۔ بہت سوچ سمجھ کر لیا ہے۔۔

اگر میری ذرا سی بھی پرواہ ہے تو خاموشی سے نکاح نامے پر دستخط کر دینا۔۔

عین نے بےبسی سے انہیں دیکھا اور ہتھیار ڈال دیے۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

شیخوپورہ،، مقام “ہرن مینار”۔۔۔۔۔

پانی کے بیچ و بیچ پوری شان سے بنی “بارہ دری” کے سامنے کئی فٹ لمبی چوڑی سیڑھیوں پر وہ دونوں ہاتھ سفید پینٹ کی جیب میں ڈالے آنکھیں موندے ہوئے کھڑا تھا۔۔

اسکی سفید ہلکی شرٹ ہوا کے زور سے پھرپھرا رہی تھی۔۔ اوپر کے کھلے دو بٹن اس کے کسرتی سینے کو واضح کر رہے تھے۔۔

ہوا کا ایک شریر جھونکا آیا اور اس کے بالوں سے اٹھکیلیاں کرتا گزر گیا۔۔

دھیمی مسکان چہرے پر سجا کر اس نے ماتھے پر بکھرے بال سمیٹے۔۔

اسکے گال میں ہلکے سے ابھرتے ڈمپل پر وہاں موجود کئی لڑکیاں دل ہار گئیں۔۔

وہ ایسا ہی کچھ دلکش لگ رہا تھا۔۔ سب کی نظروں کو محسوس کرنے کے باوجود وہ لا تعلق کھڑا تھا۔۔

بھائی سنبهالیں اسے،، ناک میں دم کر دیا ہے اس چھوٹے پیکٹ نے۔۔ میر جھنجھلاتا ہوا نمودار ہوا اور راحم کو اسے تھما کر نو دو گیارہ ہو گیا۔۔

قسط_نمبر_10

ابھے یار یہ تو شادی شدہ پلس ایک بچے کا باپ ہے،، اپنے پیچھے کسی لڑکی کی سرگوشی سن کر ویر نے امڈ آنے والی مسکراہٹ کو لب کے کنارے دبايا۔۔۔

اس نے راحم کو اچھی طرح ساتھ لپٹا کر واپس گراؤنڈ کی طرف قدم بڑھاۓ جہاں میر اور عدیل شاہ گھاس پر پکنک میٹ بچھاۓ اس پر کھانے پینے کی چیزیں ساتھ لائے بیگ سے نکال کر رکھ رہے تھے۔۔

فروٹس،، آئسکریم، چیزی پاستا، بریانی اور ایسی کئی چیزیں دیکھ کر پاس لیٹے میر کے منہ میں پانی آ گیا۔۔

اس نے جلدی سے پاستا کی طرف ہاتھ بڑھایا تو عدیل شاہ نے اس کے ہاتھ پر تهپڑ مارا۔۔

صبر نہیں ہے،، ویر کو تو آنے دو،، ندیدے کہیں کے۔۔ میر نے منہ بنا کر ادھر ادھر دیکھا کہ کہیں کوئی حسین متوجہ تو نہیں،،

سب کو اپنے آپ میں مگن پا کر اس نے سکون کا سانس لیا نہیں تو اسکی ساری پرسنالٹی کا بیڑا غرق ہوجانا تھا ان حسیناؤں کے سامنے۔۔

پتہ نہیں تم کس پر چلے گئے ہو ،، نہ میں ایسا نہ تمہاری ماں ایسی تھی اور نہ ہی ویر ایسا۔۔

وہ تو اتنا سوبر ہے، تم پتہ نہی کس پر چلے گئے،، انہوں نے مزید گوہر افشانی کی تو میر بھی جواباً بول اٹھا۔۔

وہ جو سامنے سے ایک آنٹی آرہی ہیں ان پر تو نہیں چلا گیا ۔۔؟

میر نے سنجیدگی سے دريافت کیا تو عدیل شاہ نے فوراً اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا۔۔

بالوں کی دو پونیاں کیے ایک قدرے فربہہ خاتون اپنے ساتھ ایک نوجوان کو پکڑے کم گھسیٹتے آرہی تھی۔۔

میر اور عدیل شاہ میں نظروں کا تبادلا ہوا۔۔

میر نے ہاتھ کی انگلیوں پر ایک ، دو ، تین گنا اور پھر دونوں کا چھت پھاڑ قہقہہ گونجا۔۔۔

اُپس چھت تو تھی ہی نہیں۔۔۔۔ لوگوں کے کان پھاڑ قہقہہ گونجا۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

انا نے ابیحہ کا بازو پکڑ کے کھینچتے اسے درخت کے نیچے بیٹھی عائزہ کے پاس پٹخا۔۔

شرمندگی سے اس کا برا حال تھا۔۔ تم پاگل ہو؟؟ کیا ضرورت تھی اس کے بارے میں کچھ کہنے کی۔۔

وہ شادی شدہ ہو یا نہ ہو تم نے ضرور ان صاحب کی ذات پر تبصرے کرنے تھے۔۔۔؟ انا نے غصے سے کہا۔۔

اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ابیحہ کا گلا دبا دیتی۔۔ اس نے انکی باتیں سن لی تھیں تبھی تو مسکراہٹ دبا رہا تھا۔۔

تمہیں فرق ہی نہیں پر رہا ڈیٹھھ عورت اس نے سن لیا تھا۔۔

ہیں سچی ۔۔۔۔؟ ابیحہ خوشی سے چیخی تو انا اسے مارنے کے لیے بڑھی لیکن عائزہ درمیان میں آ گئی۔۔

ہوا کیا ہے۔۔؟ کچھ مجھے بھی تو بتاؤ۔۔ بس جنگلیوں کی طرح لڑ رہی ہو۔۔۔

یار اس پاگل نے۔۔۔۔

رکو میں بتاتی ہوں،، تم نے تو رنگین کہانی کا ستیاناس کر کے رکھ دینا ہے۔۔

انا نے بتانا شروع کیا ہی تھا کہ ابیحہ نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا۔۔ انا نے ایک مکا اس کی کمر میں جڑ دیا۔۔۔

انا رکو تو صحیح،، ہاں اب بتاؤ مجھے تم،،

یار بس کیا بتاؤں ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی بھٹکا ہوا شہزادہ راستہ بھول کر زمین پر آگیا ہے۔۔

ایسے حسین تو کسی اور سیارے پر پائے جاتے ہوں گے۔۔۔ میں اس میں کھوئی ہوئی تھی اور وہ مجھ میں۔۔۔۔

میرا مطلب ہے خود میں کھویا ہوا تھا۔۔۔ عائزہ کے اپنی کمر پر دھموكا جڑنے پر اس نے اپنے الفاظ میں ذرا سی تبدیلی کی۔۔

ہوا سے اس کے بال۔۔۔۔۔۔ عائزہ اسے چپ کروا لو ورنہ آج میں نے اس کا منہ توڑ دینا ہے۔۔۔

انا کا غصہ دیکھ کر اس نے مسکراہٹ دباتے جلدی سے ساری روداد سنا دی۔۔

عائزہ نے مصنوعی غصے کا اظہار کرتے اسے ڈپٹا تو ابیحہ نے ٹھنڈی آہ بھری۔۔

مزید چوں چراں کیے بغیر تینوں کھانے میں مگن ہو گئیں کیوں کہ بھوک سے پیٹ میں چوہوں نے دھرنا دے دیا تھا۔۔

عائزہ اور ابیحہ عباۓ اور حجاب میں درخت کے ساتھ بیٹھی تھیں جب کہ انا رخ موڑ کر ان کی طرف منہ کیے بیٹھی تھی۔۔۔اس نے نقاب ہلکا سا سركا لیا تھا۔۔

یار وہ دیکھو وہی ہے۔۔جس کے بارے میں بتا رہی تھی۔۔۔ ابیحہ نے پاس سے گزرتے شاہ ویر کی طرف اشارہ کر کے عائزہ کو ٹہوکا دیا۔۔

ہاں ہے تو پیارا۔۔ یار اس کا بےبی کتنا پیارا ہے۔۔۔ اس نے ستائش سے کہا تو انا نے نظر کی نظر اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر نظروں کا زاويہ بدل لیا۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

ویر اتنی دیر کر دی آنے میں ،، کھانا ٹھنڈا ہورہا ہے۔۔

سوری بابا۔۔۔ راحم کو اپنے برابر بٹھا کر اس نے معذرت کی۔۔

چپس کا ٹکڑا منہ میں ركهتے میر نے پرسوچ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔

ویر نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا۔۔ میر تم نے اگر کوئی فضول بات کی تو ارد گرد کا لحاظ کیے بغیر تمہاری عقل ٹھکانے لگا دوں گا۔۔

اوکے اوکے میں کب کچھ کہہ رہا ہوں۔۔ میر نے دونوں ہاتھ کھڑے کر کے کہا ۔۔۔

راحم بہت بوریت محسوس کر رہا تھا،، ان کو آپس میں الجھے پا کر وہ وہاں سے کھسک گیا۔۔

سب سے پہلے میر کی نظر اس پر پڑی۔۔ بھائی وہ دیکھیں آپ کا “چھوٹا ڈون” حسینوں کے چنگل میں پهنسا ہوا ہے۔۔۔

ویر نے اپنے آپ کوش کوستے فوراً اس طرف دیکھا جہاں میر دیکھ رہا تھا۔۔ وہ جلدی سے اپنے “ڈیڑھ فٹ ” کو پکڑنے کے لئے گیا۔۔۔

کسی نے انا کا دوپٹہ کھینچا۔۔ انا نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو راحم شرما کر پیچھے ہٹ گیا۔۔

انا کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا۔۔ اس نے اسے گود میں بٹھا لیا اور نقاب کے اوپر سے ہی اس کے گول مٹول گالوں کو چومنے لگی۔۔

ابیحہ اورعائزہ نے بھی اسے پیار کیا۔۔ ابیحہ نے اسے پکڑنا چاہا لیکن وہ انا کی گود سے اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔

اس نے دونوں بازو اس کی گردن کے گرد پھیلا لیے اور انا کے سینے پر سر رکھ دیا۔۔

انا نے نرمی سے اسکا سر چوم کر اس کے گرد بازو پھیلا لیے۔۔ یار کتنا پیارا بےبی ہے یہ،، لیکن یہ یہاں کر کیا رہا ہے اور اسکے پیرنٹس کتنے غیر ذمہدار ہیں۔۔۔

او تیری۔۔۔۔۔ انا اس پیارے بےبی کے ابا صاحب تیوری چڑھاۓ ہماری طرف ہی آرہے ہیں۔۔

انا نے فوراً مڑ کر دیکھا۔۔ ویر ان کے سر پر پہنچ چکا تھا۔۔ اکسکیوزمی ہی از مائی چائلڈ۔۔ پلیز لیو ہِم۔۔

انا نے اسے اپنے آپ سے الگ کرنا چاہا لیکن وہ پھر سے اس کے ساتھ چمٹ گیا۔۔

راحم یہاں آؤ۔۔۔ بابا کے پاس۔۔۔ ویر نے راحم کے سامنے ہاتھ پھیلاۓ لیکن وہ کسی اور ہی موڈ میں تھا۔۔

راحم جاؤ بابا پاس۔۔۔ انا نے زبردستی اسے اپنے آپ سے الگ کیا ۔۔۔ ویر کے پکڑتے ہی اس نے رونا شروع کر دیا۔۔

بس بس ہم میلو کے پاس جا رہے ہیں۔۔ وہ دیکھو میلو بلا رہا آپ کو لیکن وہ مسلسل روتا جارہا تھا۔۔

بابا بابا۔۔۔ دو ۔۔۔ وہ انگلی انا کی طرف کیے روتے ہوئے بولتا جا رہا تھا۔۔

انا نے اداسی سے اسے روتے ہوئے دیکھا۔۔ اس کا بلکل دل نہیں چاہ رہا تھا کہ اسے اپنے سے دور جانے دے،،، ایک عجیب سے احساس نے اسے گھیر لیا۔۔۔

تھوڑی دیر گزری تھی کہ ویر عدیل شاہ کے ہمراہ انہیں اپنی طرف آتا دکھائی دیا۔۔

وہ بس واپسی کے لیے اٹھی ہی تھیں کہ عدیل شاہ نے انہیں پکارا۔۔

السلام علیکم بیٹا ۔۔۔ آپ سے ایک درخواست کرنی تھی،،، انہوں نے انا کی طرف دیکھ کر کہا تو انا گڑبڑا گئی ۔۔

ابیحہ اور عائزہ نے صورتحال کا جائزہ لے کر مسکراہٹ دبائی۔۔۔

وعلیکم السلام جی کہیے۔۔

راحم پھر سے انا کی طرف ہمکنے لگا۔۔ انا نے ویر کے سنجیدہ اور مغرور چہرے کو دیکھا۔۔ ہنہ کتنی اکڑ ہے اس میں۔۔ اٹھتیتوڈ ایسے دکھا رہا ہے جیسے ہم اس کے پیچھے آئے ہیں۔۔ دل میں تلملاتے ہوئے اس نے راحم کو پکڑ لیا۔۔

اس کے پاس آتے ہی راحم نے اسکی گردن میں منہ چھپا لیا۔۔ انا نے اس کے گرد بازو حمائل کر دیے۔۔

بیٹا راحم کو اچانک پتہ نہیں کیا ہوگیا ہے۔۔ وہ بار بار آپ کے پاس آنے کی ضد کر رہا ہے۔۔ اصل میں اسکی ماں نہیں ہے۔۔۔ اسکے پیدا ہونے کے اگلے دن ہی دنیا سے چلی گئی تھی۔۔

انا کی آنکھوں میں اداسی اتر گئی۔۔ یہ بھی میری طرح اکیلا ہے۔۔۔ اس نے افسردگی سے سوچا۔۔

ماں کا پیار کیا ہوتا ہے اسے نہیں پتہ۔۔ آپ سے شاید اسے انسیت ہو گئی ہے۔۔ یہ کب سے روۓ جا رہا ہے۔۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو اپنا موبائل نمبر دے دیں۔۔۔ تا کہ آئندہ آپ سے رابطہ کرنا چاہیں تو کر لیں۔۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو۔۔

انا کا دل راحم کے لیے نرم پر چکا تھا۔۔ اس نے صورتحال کو سمجھتے اپنا موبائل نمبر انہیں نوٹ کروا دیا۔۔

راحم کو بمشکل بہلا پھسلا کر ان کے حوالے کر کے وہ معذرت کرتیں نکل گئیں کیوں کہ شام کا اندھیرا پھیلنے لگا تھا۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

آئمہ کے کمرے میں اس وقت گہری خاموشی تھی۔۔ اتنی خاموشی کہ سوئی گرنے سے بھی آواز پیدا ہوتی۔۔

کئی دفعہ زندگی میں ایسا مقام بھی آتا ہے کہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جانے کو جی کرتا ہے۔۔ کمرے میں موجود چاروں گواہوں میں نظروں کا تبادلا ہوا۔۔

کیا آپ کو اعینہ ولد عبدالرحمان سے نکاح قبول ہے۔۔؟ مولوی نے دوبارہ دوہرایا تو جہان نے آنکھوں کی نمی چھپاتے اثبات میں سر ہلایا۔۔

دونوں کے اقرار اور نکاح ناموں پر دستخط کے بعد انہیں مبارک دی گئی۔۔ جہان کے دوست جو ایمرجنسی نکاح میں بطور گواہ کے پیش ہوئے تھے اٹھ کر اسے گلے لگا رہے تھے۔۔

آئمہ نے عین اور جہان دونوں کو پیار دیا اور زندگی بھر کے ساتھ کی دعا دی۔۔

جونہی سب وہاں سے نکلے جہان بھی ایک نفرت بھری نگاہ عین پر ڈال کر ان کو باہر تک چھوڑنے گیا۔۔۔

وه لوگ ابھی نکلے ہی تھے کہ پولیس کی گاڑی کا سائرن سنائی دیا۔۔ جہان نے اندر جا کر بیڈ سائیڈ ٹیبل پر دھرا نکاح نامہ اٹھایا اور اپنے ہاتھ میں پکڑے باہر نکل گیا۔۔

آئمہ پریشانی سے آیت كریمہ کا ورد کرنے لگیں۔۔ اللّه خیر کرے۔۔

توصیف نے دروازے کی بیل بجانے کے لیے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ جہان نے دروازہ کھول دیا۔۔

پیچھے ہٹو گھر کی تلاشی لینی ہے۔۔ پولیس انسپکٹر نے انتہائی بدتمیزی سے کہا تو جہان نے غصے سے مٹھی بھینچی۔۔

کیوں لینی ہے گھر کی تلاشی۔۔ کچھ پتہ بھی تو چلے،، کسی بھی راہ چلتے کتے کو ساتھ لیے آپ ایسے کیسے شریفوں کے گھر گھس سکتے ہیں۔۔

اپنی بےعزتی پر توصیف تلملا گیا۔۔ او لونڈے سیدھی بات کرتا ہوں،، اسکی ہونے والی بیوی کو تم لوگوں نے قید کر رکھا ہے۔۔ شرافت سے کہے دیتا ہوں،، اسے ہمارے حوالے کر دو۔۔

آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے،، یہاں میرے علاوہ صرف میری نانو اور میری بیوی ہے۔۔

بکواس کر رہا ہے یہ۔۔ اعینہ اندر ہی ہے۔۔۔ آپ اندر چل کر دیکھیں۔۔

توصیف نے انسپکٹر کو دیکھ کر کہا تو جہان نے غصے سے ایک گھونسا اس کے منہ پر جڑ دیا۔۔

آئندہ اپنی گندی زبان سے میری بیوی کا نام بھی مت لینا۔۔ انسپکٹر نے جہان کا ہاتھ جھٹکا۔۔

توصیف نے جو صورتحال انہیں بتائی ایسا کچھ ہوتا نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔ضرور کوئی گڑبڑ تھی۔۔

کک کیا مطلب تمہاری بیوی کیسے وہ تو تمہاری بہن تھی۔،، جبڑے میں اٹھتی تکلیف کو نظرانداز کیے وہ حیرت سے پوچھنے لگا۔۔

انسپکٹر نے کھا جانے والی نظروں سے توصیف کو دیکھا۔۔ مطلب وہ اسے الو بنا گیا تھا۔۔

انسپکٹر میں مزید کوئی تماشا نہیں چاہتا۔۔ لوگ جمع ہونے لگے ہیں۔۔ یہ ہمارا نکاح نامہ ہے۔۔ اعینہ کے ساتھ میرا نکاح ہو چکا ہے۔۔

اس نے نکاح نامہ ان کی طرف بڑھایا تو انسپکٹر غور سے دیکھنے لگا۔۔۔

لونڈا ٹھیک کہوے ہے۔۔ یقیناً کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔

انسپکٹر نے توصیف کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ کر اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا جیسے کہہ رہا ہو کہ تو نے مجھے الو بنایا اب دیکھ میں تجھے کیسے لَلُّو بناتا ہوں۔۔

توصیف تھوک نگل کر اس کے پیچھے چل دیا۔

جہان نے غصے سے دروازہ بند کیا اور آئمہ کے کمرے میں جا کر نکاح نامہ ٹیبل پر پٹخ دیا۔۔

ہان میری بات سنو۔۔۔ آئمہ نے اسے بازو سے پکڑ کر روکا تو اس نے اپنا بازو چھڑا لیا۔۔

نانو اب کیا رہ گیا کہنے سننے کو۔۔ سردمہری سے کہہ کر وہ بغیر ان کی طرف دیکھے اپنے کمرے میں چلا گیا اور زوردار آواز سے دروازه بند کیا۔۔

عین افسردہ کھڑی آئمہ کے پاس آئی۔۔ نانو وہ ٹھیک ہو جائیں گے آپ پریشان نہ ہوں۔۔

عین نے اپنے آپ پر ضبط کرتے ہوئے کہا نہیں تو جس طرح جہان نے نفرت بھری نگاہ سے اسے دیکھا تھا اس معصوم کا تو دل ہی چھلنی ہو گیا تھا۔ بھلا اس سب میں میرا کیا قصور۔۔۔؟

مجھے پتہ ہے تم دونوں مجھ سے بہت ناراض ہو لیکن ایک وقت آئے گا جب تم لوگ سمجھ سکو گے کہ میرا یہ فیصلہ صحیح تھا،، آئمہ نے اس کے گال پر ٹھہرے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔۔

نانو میں آپ سے ناراض نہیں ہوں۔۔ میری سگی ماں نے مجھے اتنا پیار نہیں دیا جتنا آپ نے دیا،،

مجھے ہان بھائی کے رویے سے بہت تکلیف ہو رہی ہے۔۔۔ میرا کیا قصور اس سب میں۔۔؟ عین پھپھک پھپھک کر رو دی۔۔

ہش پگلی اب وہ تمہارا شوہر ہے ۔۔ کچھ خیال کرو تم اب بھی اسے بھائی کہہ رہی ہو،،،

آئمہ نے اسے ڈپٹ کر کہا تو پہلی دفعہ اسے ان دونوں کے مابین رشتے کا احساس ہوا۔۔

وہ غلطی سے ۔۔۔۔۔ عین نے آنسو صاف کرتے ہوئے معصومیت سے کہا تو آئمہ نے اسکا سر چوم لیا۔۔۔

🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿
🌿

رات کی تاریکی ہر سو چھا چکی تھی۔۔ عین نے الماری سے آرام دہ کالی سادہ شلوار قمیض نكالی اور شاور لینے چلی گئی۔۔

غسل خانے سے باہر آ کر اس نے گیلا چہرہ تولیے سے پونچھا اورچہرے کے گرد دوپٹے کو اچھی طرح لپیٹ کر نماز ادا کرنے کے لیے کھڑی ہوگئی۔۔

نماز کی ادائیگی کے بعد اس نے اپنے الجھے بالوں کو سلجها کر ڈھیلے سے جوڑے میں باندھ لیا اور لائٹ بند کر کے بستر پر لیٹیں آئمہ کے برابر لیٹنے لگی تھی کہ آئمہ نے بازو چہرے سے ہٹا کر اسے دیکھا۔۔

عین اب تم ہان کے کمرے میں سویا کرو ۔۔۔ چلو شاباش جاؤ۔۔ اب وہی تمہارا کمرہ ہے۔۔

نانو نہیں پلیز،، میں کیسے وہاں،، میں نہیں ادھر،، نہیں جانا،، عین نے بے ربط لہجے میں کہا۔۔

وہ جہان سے بے حد خوفزدہ ہو چکی تھی۔۔

عین کچھ نہیں کہے گا وہ۔۔ میرا نام لے لینا۔۔ آج نہیں تو کل تمھیں اس کے ساتھ ہی رہنا ہے۔۔۔چلو شاباش میرا پیارا بیٹا۔۔۔ آئمہ دور کا سوچ رہی تھیں،، اگر دونوں ایسے ہی الگ رہے تو کبھی ٹھیک نہیں ہوں گے۔۔ جہان کو وہ جانتی تھیں ،، انا کے بعد وہ کسی سے بھی شادی پر آمادہ نہ ہوتا۔۔ عین کا جو مسئلہ سامنے آیا تھا اس سے انہیں یہی بہتر لگا کہ ان دونوں کا نکاح کر دیں۔۔۔کسی کے نہ ملنے سے زندگی تو نہیں رک جاتی۔۔ عین کو بھی کبھی نہ کبھی تو بیاہنہ تھا نہ۔۔ وہ انہیں اتنی پیاری ہو چکی تھی کہ وہ اسے کسی باہر والے کو سونپنے سے ڈرتی تھیں۔۔ اس لیے انہوں نے بہت سوچ بچار کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا تھا۔۔

عین آنکھیں جهپک کر آنسو اندر دھکیلتی کھڑی ہو گئی۔۔ سرہانے سے دوپٹہ اٹھا کر اس نے گلے میں ڈالا اور دھڑکتے دل سے باہر نکل کر کمرے کا دروازہ آہستگی سے بند کر دیا۔۔۔

لاؤنج میں آ کر وہ انگلیاں چٹخانے لگی۔۔ وہ جہان کے کمرے میں جانے کی بجاۓ پانی پینے کچن میں آگئی۔۔

اندر قدم رکھتے ہی اسکا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔۔

سامنے جہان سلیو لیس شرٹ اور ٹراؤزر میں ملبوس سلیب پر رکھے گلاس میں بوتل سے پانی انڈیل رہا تھا۔۔

اس کے بکھرے بال اور سرخ آنکھوں کو دیکھ کر وہ خوف زدہ ہو گئی۔۔ وہ تیزی سے واپسی کے لیے موڑی لیکن تب تک جہان اسے دیکھ چکا تھا۔۔۔

بجلی کی سی تیزی سے وہ اس کے سر پر پہنچ گیا۔۔ اس نے عین کے بازو میں بےدردی سے اپنے مظبوط ہاتھوں کی انگلیاں گاڑ کر جھٹکے سے اپنی طرف موڑا۔۔

سی،، عین کے منہ سے تکلیف کی وجہ سے سسکی نکلی۔۔۔

سکون مل گیا تمہیں ہاں۔۔؟ اب خوش ہو تم۔۔۔ تم سے نکاح تو کر لیا ہے میں نے لیکن یہ مت سمجھنا کہ تمھیں اپنی بیوی بھی تسلیم کر لوں گا۔۔ اس کو اپنی طرف کھینچ کر وہ اس کے منہ ور غرایا۔۔

عین تکلیف اور خوف سے آنکھیں میچے رونے لگی۔۔

ہہہ ہاا۔نن بھائی مجھے درد ہو رہا ہے۔۔۔ عین کے رونے اور ابھی بھی بھائی کہنے پر اسے مزید تپ چڑھی۔۔

وہ اس رشتے کو تسلیم کرنے پر تیار بھی نہیں تھا اور اس کے بھائی کہنے پر غصہ بھی ہو رہا تھا آخر وہ چاہتا کیا تھا۔۔

تمہارا دماغ خراب ہے تمہارا ؟ کیا بکواس کی ہے تم نے۔۔؟ میں بھائی ہوں تمہارا۔۔۔؟

اس کی گرفت میں ہراساں عین نے تیزی سے نفی میں سر ہلایا۔۔

بھبھ بھا۔ئی نہیں۔۔۔ شش۔ شو۔ہر ہیں آ۔ آپ۔۔۔

جہان نے جھٹکے سے اسے پیچھے دھکیلا تو وہ گرتے گرتے بچی۔۔ اس کا جوڑا کھل گیا اور کالے گھٹنوں تک آتے گھنے بال لہرا کر اسکی کمر کو ڈهانپ گئے۔۔

جہان تیز قدموں سے اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔۔ عین بھی جلدی سے اس کے پیچھے گئی مبادا وہ دروازہ ہی نہ بند کر دے۔۔

جہان نے چلتے چلتے قدم روکے اور پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔ اس کے پیچھے تیزی سے آتی عین کے پاؤں کو بھی بریک لگے۔۔

جہان سر جھٹک کر کمرے میں داخل ہو گیا اور دروازہ بند کرنے کے لئے ہاتھ اٹھاۓ تو عین نے فوراً آگے بڑھ کر دروازے کے درمیان ہاتھ رکھ کر اسے روکا۔۔۔

وہ نانو کہہ رہی ہیں کہ میں اب سے آپ کے کمرے میں رہوں گی،، كانپتی ٹانگوں سے اس نے آہستگی سے کہا تو جہان کا دماغ گھوم گیا۔۔۔

اتنا سب ہونے کے بعد بس یہی کسر رہ گئی تھی۔۔ ابھی کے ابھی یہاں سے دفع ہو جاؤ۔۔ تمھیں اپنے کمرے میں برداشت نہیں کر سکتا میں۔۔

لیکن میں کہاں۔۔۔۔ عین کی بات ابھی مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ جہان نے دروازہ اس کے منہ پر بند کر دیا۔۔

آہ۔۔۔ ! عین کے حلق سے چیخ نکل گئی۔۔۔

اسکا ہاتھ دروازے میں آ کر بری طرح کچلا گیا تھا۔۔ خون کے قطرے فرش پر گرنے لگے۔۔

وہ بلک بلک کر روتی وہیں زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔۔

جہان کمرے میں بےچینی سے یہاں وہاں ٹہل رہا تھا۔۔۔اس نے ایک سگرٹ سلگايا اور منہ میں دبا کر گہری سانس کھینچی،،، لیکن کسی صورت سکون نہیں مل رہا تھا۔۔۔

رات کا ایک بج چکا تھا۔۔ عین دروازے کے سامنے زمین پر سکڑی بیٹھی سسک سسک کر بالاخر سو گئی تھی۔۔ ہاتھ سے بہتا خون جم چکا تھا۔۔

تنگ آ کر جہان نے دروازہ کھولا تو پہلی نظر عین پر پڑی۔۔۔

اس کے ماتھے پر بل پڑے۔۔ یہ ابھی تک یہاں کیا کر رہی ہے؟ انگلی سے آنکھوں کو مسل کر اس نے جھک کر عین کو ہلایا۔۔۔

عین ہڑبڑا کر اٹھ گئی۔۔ جہان نے اسکی نیلی سوجھی آنکھوں سے نظریں چرائیں۔۔ اسکے چہرے پر آنسوؤں کے مٹے مٹے نشان تھے۔۔

اٹھو یہاں سے،، گئی کیوں نہیں ابھی تک۔۔

عین اپنے زخمی ہاتھ کو کمر کے پیچھے چھپا کر اٹھ کھڑی ہوئی اور خاموشی سے سر جھکاۓ اپنے پاؤں کو تکنے لگی۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *