Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

کیا ہوا ہے آنٹی آپ کچھ ڈھونڈھ رہیں ہیں .
وہ پریشے کے پاس بیٹھی تھی مگر اسکی نظریں سادیہ بیگم پر تھی ..
جو نہ جانے کیا تلاش کر رہیں تھی مگر وہ چیز انکو نظر نہیں آ رہی تھی .
ہاں بیٹا میرا موبائل نہیں مل رہا ہے
سادیہ بیگم نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے انہونے حرم کو جواب دیا تھا .
‘ شاید میں سمن کے روم میں بھول آئی ہوں
بیٹا حرم کیا تم میرا اک کام کر سکتی ہو
وہ اب اسکی طرف دیکھ کر بولی تھی
جی آنٹی بولیں …
بیٹا تم میرا موبائل لاکر دے دو سمن کے روم سے مجھ میں ہمت نہیں ہو رہی ہے اوپر جانے کی …
انکی بات پر حرم کشمکش میں پڑ گئی تھی وہ بھلا کیسے جا سکتی تھی وجدان کے کمرے میں ..
کیونکہ اسکی موجودگی میں وہ اسکے روم میں نہیں جاتی تھی
وجدان اس وقت گھر پر نہیں ہے تم آرام سے اسکے کمرے میں جا سکتی ہو
سادیہ بیگم اسکی پریشان سمجھتے ہوئے بولی تھی..
انکی بات پر وہ سر ہلاتی ہوئی کمرے سے نکلی تھی ..
اسکے جانے پر ہولے سے مسکرائی تھی
ان چند ہی دنوں میں وہ انکو کتنی عزیز ہو گئی تھی
وہ تھی ہی اتنی معصوم سی …
اس نے کمرے کے پاس پہنچ کر ہاتھ بڑھا کر تھوڑا سا دروازہ کھولا اندر سے آتی سمن کی آواز پر وہ وہیں رک گئی تھی …
دانی پلیز مجھے بتاؤ کہ وہ لڑکی اور کتنے دن یہاں رکنے والی ہے
اس لڑکی کی موجودگی میں مزید برداشت نہیں کر سکتی..
سمن بیزاری سے بولی تھی جبکہ اسکی بات پر اپنے کوٹ کے بٹن کھولتے وجدان کے ہاتھ یکدم سے رکے تھے
آج پتہ نہیں کیوں اسکو سمن کا حرم کو یوں اس طرح سے کہنا بلکل پسند نہیں آیا تھا
پتہ نہیں اسے کیا ہوتا جا رہا تھا جب بھی سمن حرم کے بارے میں کچھ کہتی تھی اسکو اسکی بات کا کوئی جواب نہیں دیتا تھا …
اسے برا لگتا تھا سمن کا حرم کو کچھ بھی کہنا…
میں تم سے کچھ کہہ رہی ہوں دانی خاموش کیوں ہو
سمن کو اسکی خاموشی پر غصّہ آیا تھا …
حرم نے تھوڑا سا اندر جھانک کر دیکھا تو سمن واجدن کے قریب ہی کھڑی ہوئی تھی
جبکہ اس نے اپنا اک ہاتھ وجدان کے بازو پر رکھا ہوا تھا …
نہ جانے کیوں یہ اندر کا یہ منظر حرم کو بلکل پسند نہیں آیا تھا
اک جلن سی ہوئی تھی اسکو سمن کو یوں وجدان کے قریب دیکھ کر …
‘ یار بتا تو دیا ہے تمھیں اور کس طرح سے بتاؤں وقت آنے پر بھیج دوں گا اسکو یہاں سے
سمن کے لہجے میں غصّہ محسوس کر وہ بولتا ہوا اسکی طرف مڑا تھا
اور ہماری شادی کے بارے میں کب بات کرو گے خالہ سے
دیکھو تم بھول مت جانا تم نے وعدہ کیا ہوا ہے مجھ سے …
سمن نے اسکو اسکا کیا ہوا وعدہ یاد دلایا تھا
وجدان جو سمن کو غصّے میں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ اسکی نظر دروازے میں کھڑی حرم پر پڑی تھی .
حرم کچھ سوچ رہی تھی اس لئے وہ وجدان کا دیکھنا نوٹ نہیں کر پائی تھی ..
اسکو دروازے میں کھڑا دیکھ کر وجدان کے ہونٹوں پر اک مسکراہٹ آئی اور وہ کچھ تیز آواز میں بولا تھا ..
سمن مجھے بہت اچھے سے یاد ہے میں صرف تم سے ہی شادی کروں گا بس کچھ دن اور برداشت کر لو اس لڑکی کو
پھر بہت جلد میں اسکو یہاں سے چلتا کر دوں گا ..
اسکے بعد میں امی کو منا لوں گا ہماری شادی کے لئے بس تم پریشان نہ ہو ..
وہ اپنی باتوں سے دروازے میں کھڑی حرم کا دل دکھا رہا تھا ..
اور واقعی میں حرم کے دل کو بہت دکھ ہوا تھا یہ جان کر کہ وہ کسی اور سے شادی کا خواہشمند ہے
آنکھوں میں یکدم سے پانی بھر آیا تھا …
تم سچ کہہ رہے ہو نہ
سمن بہت خوش ہوتے ہوئے بولی تھی
ہاں یار کبھی میں نے جھوٹ بولا ہے تم سے
اس نے سمن کو جواب دے کر حرم کی طرف دیکھا تھا جو اپنے آنسوں صاف کر رہی تھی ..
اک پل کے لئے اسکو بہت برا لگا تھا …
سچ میں دانی میں بہت خوش ہوں
سمن خوشی سے اسکے گلے لگی تھی
اب یہ سب دیکھنا اسکی برداشت سے باہر ہو گیا تھا وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھتی تیزی سے وہاں سے ہٹی تھی ..
یہ حرکت تو وجدان کو بھی برداشت نہیں ہوئی تھی اس نے بہت ہی آرام سے سمن کو خود سے دور کیا تھا
اس نے اک نظر دروازے کی طرف دیکھا وہاں اب کوئی نہیں تھا
وہ بس اک گہری سانس بھر کر رہ گیا تھا …
💞💞
سب کچھ ہمارے ہاتھ سے نکل گیا ہے
حرم بھی اسکی ساری پراپرٹی بھی
کیا کچھ نہیں سوچا تھا میں نے پر کچھ بھی حاصل نہیں کر پایا ہوں
کچھ بھی نہیں …
سب کچھ بھائی کا ہی تھا اور بھائی کا ہی رہے گا
بابا نے میرے بارے میں کچھ نہیں سوچا
سب بھائی کے نام کر دیا جیسے میں انکا بیٹا ہی نہیں تھا ..
صفدر ادھر سے ادھر ٹہلتا ہوا غصّے میں سے اپنی بیوی ماریہ سے بول رہا تھا
اور یہ سب جو کچھ ہو رہا ہے نہ اس پریشے کی وجہ سے ہو رہا ہے
پہلے جب یہ ہماری زندگی میں آئی تو میرے بھائی کو مجھ سے دور کر دیا تھا
اتنی مشکل سے میں نے اسکو بھائی کی زندگی سے نکالا تھا
کیا کچھ نہیں کیا تھا میں نے بھائی کے دل میں اسکے لئے نفرت پیدہ کرنے کے لئے
کتنے جھوٹ بولے تھے بھائی کو اس بات کا یقین دلانے کے لئے کہ وہ صرف انکی دولت سے محبت کرتی ہے
جب اسکو کوئی ان سے بھی رئیس زادہ ملے گا تو وہ انکو بھی چھوڑ دے گی ..
بھائی کو اس بات کا یقین دلانا مشکل تو تھا مگر نممکن نہیں تھا
صفدر خان اپنی کی ہوئی چالاکی یاد کر رہا تھا کی کتنی چالاکی سے اس نے پریشے کو اپنے بھائی کی زندگی سے نکال پھینکا تھا ..
آخر اسکو سزا تو ملنی ہی تھی کیونکہ اس نے صفدر خان کی بےعزتی کی تھی
مجھے انکار کیا تھا …
صفدر خان نے ی بات من میں سوچی تھی کیونکہ ماریہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کبھی پریشے کے پیچھے دیوانہ تھا …
مگر اب وہ پھر سے واپس آ گئی میری زندگی میں اور صرف اسکے بدلے کی وجہ سے حرم کے ماں باپ کی پراپرٹی جو ولید کو ملتی اس نے شادی کرنے کے بعد اب ووہ بھی ہاتھ سے نکل گئی ہے ..
اور میں پھر سے خالی ہاتھ رہ گیا ہوں
صفدر خان غصّے میں بولا تھا ماریہ کا بھی حال اس سے کچھ مختلف نہ تھا …
صفدر خان اپنا سالوں پرانا غصّہ نکال رہا تھا اس بات سے انجان کہ ہاشم خان جو کسی کام سے انکے کمرے کی طرف آ رہا تھا
صفدر کہ الفاظ سن کر انکے قدم اپنی جگہ جم کر رہ گئے تھے
وہ بےیقینی سے دروازے میں کھڑے اپنے چھوٹے بھائی کی کارنامے سن رہے تھے
اتنا سب کچھ کرتے وقت تمھیں اپنے بھائی کے احساسات کا بلکل خیال نہیں آیا
تم نے یہ نہیں سوچا کہ میرا کیا ہوگا
ہاشم خان بہت ہی دکھ سے بولا تھا جبکہ انکی بات پر صفدر خان اپنی جگہ کھڑا کا کھڑا رہ گیا تھا .
‘ “” وہ انکی بات سے اتنا اندازہ لگا چکا تھا کہ اسکا بھائی انکی بات سن چکا ہے ..
بھائی میری بات سنے جیسا آپ سوچ رہے ہیں ایسا بلکل بھی نہیں ہے ..
جی بھائی یہ بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں
اس سے پہلے کہ وہ دونوں مزید کچھ بولتے ہاشم خان نے ہاتھ کے اشارے سے انکو مزید بولنے سے روکا تھا …
جو میں نے سنا ہے بلکل ٹھیک سنا ہے
اور اچھا ہوا کہ میں نے سب سن لیا ہے
اگر آج میں نہ سنتا تو ساری زندگی میں اپنی پری کو غلط سمجھتا رہتا …
‘ وہ بہت ہی دکھ سے اپنے بھائی کی طرف دیکھ کر بولے تھے
کیوں کیا تم نے یہ سب ..
صرف پراپرٹی کے لئے یا اپنی جلن کو ختم کرنے کے لئے ..
اک بار تو کہتے مجھسے صفدر کہ تمھیں یہ ساری پراپرٹی چاہئے
یا تمھیں پری پسند تھی
تو میں اسی وقت سب کچھ تمہارے نام کر دیتا
اور رہی بات پری کی اگر مجھے معلوم ہوتا تو میں پہلے ہی تمہارے راستے سے ہٹ جاتا …
میرے لئے ہمیشہ سے تم دونوں پہلے رہے ہو ارم کے جانے بعد تو صرف تم ہی بچے تھے میرے ..
وہ اپنی بہن حرم کی ماں کا ذکر کرتے ہوئے بولے .
ہاشم خان کی باتوں نے صفدر خان کا سر جھکا دیا تھا
پر تم …
تم نے تو اپنی مری ہوئی بہن کی پراپرٹی پر بھی نظر رکھی ہوئی تھی
کیا تمھیں اک پل کے لیے بھی شرم نہیں آئی ..
انہونے ان دونوں کو ایک نظر دیکھا تھا جو شرمندہ سے کھڑے تھے ..
بھائی میری بات سنیں …
صفدر خان نے اک بار پھر بولنا چاہا تھا مگر انہونے پھر سے انکو چپ کروایا تھا …
‘ ” تم نے مجھ سے اک لڑکی کی زندگی برباد کروائی ہے
جانتے ہو وہ میرے نکاح میں تھی
اور تمہاری وجہ سے میں نے اسکو سزا دی تھی طلاق نہ دینے کی ….
نکاح کی بات پر صفدر نے حیرانی سے اپنے بھائی کی طرف دیکھا تھا
وہ تو یہ بات بلکل بھی نہیں جانتا تھا ..
اسکا ندامت سے اب سر ہی نہیں آنکھیں بھی جھک گئی تھی …
وہ اب تک میرے نام پر بیٹھی ہے اور شاید اسی بات کا بدلہ لے رہی ہے وہ ہم سے ہماری حرم چھین کر
پری کے بارے میں سوچتے ہی انکی آنکھیں نم ہوئی تھی …
اک بار تو کہتے مجھسے تم
میں ہنسی خوشی یہ سب تمہارے نام کر دیتا
لیکن یہ سب کر کے تم نے اک بھائی ہونے کا حق بھی کھو دیا ہے …
ہاشم خان گہرے دکھ سے بولے اور اک نظر ان دونوں پر ڈال کر خاموشی سے انکے کمرے سے نکل گئے تھے .
جبکہ انکے جانے کے بعد صفدر ندامت سے سر جھکایں کھڑا رہ گیا تھا ..
💞💞
وہ جب روم میں داخل ہوئی تو وجدان کو جاگتا دیکھ کر حیران ہوئی تھی
وہ روز ہی جان بوجھ کر کمرے میں اس وقت آتی تھی جب وجدان سو چکا ہوتا تھا
اور پھر صبح کو اسکے جاگنے سے پہلے پہلے ہی کمرے سے نکل جاتی تھی ..
اس تھپڑ والے دن کے بعد سے تو حرم نے اسکے سامنے جانا بھی ختم کر دیا تھا
اسکے کمرے میں رہنا اسکی مجبوری تھی
وہ پریشے کے پاس بھی نہیں رہ سکتی تھی کیونکہ انکے پاس سادیہ بیگم رہتی تھی …
وہ اسکو نظر انداز کرتی صوفہ کی طرف بڑھی تھی اس کمرے میں یہ اسکا بستر تھا ..
‘ وجدان بظاہر تو کوئی فائل دیکھ رہا تھا مگر اسکا اسکا دھیان مکمل طور پر حرم پر تھا
اسکو حرم کا اسکو یوں نظرانداز کرکے جانا اچھا نہیں لگا تھا ..
تمھیں دوسروں کی باتیں چھپ کر سننے کا بڑا شوق ہے
یہ نئی بات معلوم ہوئی ہے تمہارے بارے میں
وجدان طنزیہ انداز میں بولا تھا
جبکہ اسکی بات پر حرم اپنی جگہ چور سی بن گئی تھی ..
میں آپکی باتیں نہیں سن رہی تھی
وہ ….تو ..میں بس
حرم سے اپنی صفائی میں کچھ بولا ہی نہیں جا رہا تھا اسکو یہ سوچ کر ہی عجیب لگ رہا تھا کہ وہ اسکو دیکھ چکا تھا …
اسکو شرمندہ سا دیکھ کر وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور اسکی طرف بڑھا تھا
بس اک بات اچھی ہے تم میں کہ جھوٹ بہت آسانی سے بول لیتی ہو
وہ اسکے قریب آں کھڑا ہوا تھا ..
میں کوئی جھوٹ نہیں بولتی اور آج بھی میں آنٹی کا فون لینے آئی تھی مگر …..
اس سے پہلے کہ حرم مزید کچھ کہتی وجدان نے اسکا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا ..
حرم اس اچانک پڑنے والی آفت کے لئے بلکل تیار نہ تھی
وجدان کے کھینچنے پر سیدھا اسکے سینے سے آں لگی تھی ..
اگر فون ہی لینے آئی تھی تو کمرے میں کیوں نہیں آئی
یا ہمیں ساتھ دیکھ کر تمھیں اچھا نہیں لگا ..
حرم جو اسکی پکڑ سے اپنا بازو آزاد کروا رہی تھی وجدان کی بات پر اس نے شکوہ بھری نظروں سے اسکی طرف دیکھا تھا ..
کیا ہوا ?
سچ میں برا لگا تھا ..
وجدان اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولا تھا
پتہ نہیں کیوں لیکن وہ جاننا چاہتا تھا کہ اسکو کسی اور کے ساتھ دیکھ کر حرم کو کیسا لگتا ہے .
مجھے کیسا لگتا ہے
اچھا یا برا
آپکو اس بات کی فکر کیوں ہے ?
آپ تو مجھے چھوڑ دینگے نہ
بھیج دیں گے واپس تو پھر کیوں جاننا ہے آپکو
آپ کریں شادی آرام سے
حرم اپنی بات کہہ کر پھر سے اسکی پکڑ سے اپنا بازو آزاد کروانے لگی تھی .
مگر اسکو کوشش کرتا دیکھ وجدان نے اسکا دوسرا بازو بھی تھام لیا تھا ..
مطلب تمھیں کوئی فرک نہیں پڑے گا میں تمھیں چھوڑ کر دوسری شادی کروں گا …
وجدان کی پکڑ میں سختی تھی مگر اسکی سخت پکڑ سے حرم کو تقلیف نہیں ہو رہی تھی ..
کیونکہ تقلیف تو وہ اسکو اپنی باتوں سے دے رہا تھا..
جب یہ رشتہ بنا ہی تھا ٹوٹنے کے لئے تو اسکے ٹوٹنے سے نہ تو آپکو کوئی فرک پڑے گا اور نہ مجھے ..
حرم نے یہ الفاظ کس طرح بولے تھے یہ بس اسکا دل ہی جانتا تھا …
جبکہ اسکے جواب پر وجدان کو غصّہ آیا تھا
مگر وہ سچ ہی تو کہہ رہی تھی
یہ اسکے خود کے الفاظ تھے مگر اب اسکو برے کیوں لگ رہے تھے …
ہممم …ٹھیک کہا تم نے جو رشتہ بنا ہی ہے ٹوٹنے کے لئے اسکا ٹوٹ جانا ہی بہتر ہوتا ہے ..
اس نے اپنی بات کہہ کر حرم کو صوفہ پر دھکا دیا اور بغیر اسکی طرف دیکھے واشروم میں گھس گیا تھا ..
اسکے جانے کے بعد حرم کتنی ہی دیر بیٹھی واشروم کے بند دروازے کو دیکھتی رہی تھی ..
💞💞
نہیں ہاشم تمھیں ضرور کوئی غلطفہمی ہوئی ہے
پلز میری بات تو سنو.
جو کچھ بھی تم نے دیکھا ہے وہ غلط ہے ایسا کچھ بھی نہیں ہے
پریشے روتے روتے اسکو اپنی بات کا یقین دلانا چاہ رہی تھی
مگر وہ تھا کہ اسکو اک بھی سننے کو تیار نہ تھا
پریشے اگر مجھے کوئی بولتا تو میں اسکی بات کا یقین نہ کرتا کبھی
مگر میں نے خود اس شخص کو اک بار نہیں تین بار آدھی رات کو تمہارے فلیٹ سے نکلتا ہوا دیکھا ہے
کچھ جواب ہے اسکا تمہارے پاس ?
اس وقت ہاشم کی آنکھوں میں پریشے کے لئے بےعتباری تھی
میں تمھیں یہ ہی تو سمجھانے کی کوشش کر رہی ہوں کبھی کبھی آنکھوں دیکھا سچ نہیں ہوتا ہے
یھاں تک کہ میں تو جانتی تک نہیں ہوں کہ کوئی میرے فلیٹ میں آتا ہے …
پلیز میرا یقین کرو میری محبت پر تو تمھیں یقین ہے نہ .
پریشے نے ہاشم کا ہاتھ پکڑنا چاہا تھا مگر ہاشم نے بےدردی سے اسکا ہاتھ جھٹکا تھا ..
‘ ” بہت اعتبار تھا تم پر تمہاری محبت پر …
یہاں تک کہ صفدر نے مجھے کتنی بار تمہارے بارے میں آگاہ کیا تھا
کہ تم صرف میری پراپرٹی سے محبت کرتی ہو ..
مگر نہیں میں نے ہر بار اپنے بھائی کی بات جھوٹلائی ہے
کیونکہ مجھے اپنی پری پر خود سے بھی زیادہ بھروسہ تھا .
میری پری کبھی ایسا نہیں کر سکتی ہے
مگر نہیں تم بھی اور لڑکیوں کی طرح نکلی …
جھوٹی فریبی ..
اسکے الفاظ نہیں تھے تیر تھے جو پریشے کی روح تک کو زخمی کر رہے تھے ..
پریشے تم نے میری محبت کا قتل کیا ہے .
ہاشم خان بہت ہی دکھ سے بولا تھا
نہیں ہاشم پلز ایسا مت بولو میں مر جاؤں گی .
یہ سب جھوٹ ہے تمہاری آنکھوں کا دھوکہ ہے
پریشے اسکے قدموں میں بیٹھ کر اس سے التجا کر رہی تھی …
وہ اسکی محبت تھا اسکا عشق
اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا کہ وہ اسکے بارے میں ایسا سوچ رہا تھا ..
کچھ دھوکہ نہیں ہے پری سب کچھ صاف ہے
بلکہ دھوکہ تو میرے ساتھ ہوا ہے …
تم نے میری محبت کا قتل کیا ہے
میں تمھیں چھوڑ تو رہا ہوں لیکن تمھیں اس رشتے سے آزاد نہیں کروں گا …
جو تم چاہتی ہو نہ وہ کبھی پورا نہیں ہوگا کبھی نہیں وہ اک نظر روتی ہوئی پری کو دیکھتا تیزی سے وہاں سے نکل گیا تھا ..
جبکہ پریشے وہیں بیٹھی بیٹھی چیختی رہی اسکو پکارتی رہی لیکن وہ نہیں پلٹا تھا ..
وہ چلا گیا تھا ہمیشہ کے لئے اسکو چھوڑ کر بلکہ اس نے تو وہ شہر ہی چھوڑ دیا تھا …
پریشے کی روتے روتے حالت خراب ہوتی چلی گئی تھی
اسکی دوست جو اس فلیٹ میں اسکے ساتھ رہتی تھی اس نے سادیہ کو کال کرکے وہاں بلایا تھا ..
اپنی بہن کی ایسی حالت دیکھ کر سادیہ کا دل پھٹا سا گیا تھا
وہ اسکو اپنے ساتھ واپس گھر لے آئی تھی
مگر پریشے تو جیسے خاموش ہو کر رہ گئی تھی ..
وقت گزنے کے ساتھ ساتھ سادیہ کو پریشے کے ماں بننے کی خبر ملی تھی
انکے تو جیسے پیروں کے نیچے سے کسی نے زمین ہی کھینچ لی تھی …
‘ انکو ہاشم پر ہی شق ہوا تھا انہونے ہاشم خان کو بہت تلاش کرنے کی کوشش کی مگر وہ انکو نہ ملا.
پریشے کی حالت کی وجہ سے وہ کوئی دوسرا قدم بھی نہیں اٹھا سکتی تھی
لوگوں کی باتوں سے بچنے کے لئے انہیں وہ شہر بھی چھوڑنا پڑا تھا …
وہ سوچتی تھی کہ انکی بہن کے ساتھ زیادتی کی ہے ہاشم خان نے .
جبکہ وہ انکو ان دونوں کے نکاح کے بارے میں علم نہیں تھا .
سمن کی پیدائش کے بعد تو جیسے وہ بلکل خاموش ہی ہو گئی تھی
مگر جب بھی طبیعت خراب ہوتی تو ایسے ہی شور مچاتی تھی ..
وجدان بچپن سے اپنی آنی کو درد میں تڑپتا ہوا دیکھتا تھا اور بس جب سے ہی اس نے اپنی آنی کے قصوروار سے بدلہ لینی کی سوچی تھی …
وہ اپنا بدلہ تو لے رہا تھا مگر کہیں نہ کہیں اسکے دل میں حرم کی معصوميت نے جگہ بنا لی تھی
اسکا دماغ اس بات سے انکار کرتا تھا مگر اسکا دل کچھ اور ہی کہتا تھا..
دل اور دماغ کی جنگ میں وہ خود کو پھنسا ہوا محسوس کر رہا تھا ..
💞💞(جاری ہے )