Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

‘ صبح جب اسکی آنکھ تو سب سے پہلے اسکی نظر اپنے قریب سوئی حرم پر پڑی تھی .
وہ اسکی طرف کروٹ لئے لیٹی ہوئی تھی جبکہ اسکا ایک ہاتھ وجدان کے سینے پہ رکھا ہوا تھا ..
اسکو یوں آرام سے سوتا دیکھ کر وجدان کے ہونٹوں پر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ آئی تھی .
وہ مسکراتے ہوئے مزید اسکے اتنے قریب ہوا کہ حرم کی سانسیں اسکی سانسوں سے ٹکرا رہیں تھی
اسکی سانسوں کی خوشبوں سے اک ہلچل سی ہوئی تھی اسکے دل میں ..
اک لمحے کے لئے تو اسکا دل کیا کہ وہ حرم کی سانسوں کی خوشبوں خود میں اتار لے ..
لیکن وہ اپنے دل کی اس خوائش پر باندھ باندھتا بس خاموشی سے لیٹا اک ٹک اسکے چہرے کو دیکھ رہا تھا ..
کچھ آوارہ لٹے اسکے چہرے کو چھو رہی تھی وجدان نے ہاتھ بڑھا کر بہت ہی نرمی سے انکو اسکے چہرے سے ہٹایا تھا .
اس نے جیسے ہی حرم کے چہرے کو چھوا تو وہ ہلکا سا کسمسائی تھی .
اسکو اٹھتا دیکھ وجدان نے فورا سے اپنی آنکھیں بند کی تھی ..
اسکے چھونے پر حرم نیند سے بےدار ہوئی تھی
مگر اس نے جیسے ہی اپنی آنکھیں کھولی تو اپنے بےحد قریب لیٹے وجدان کو دیکھ کر اسکی آنکھیں یکدم سے پوری کی پوری کھلی تھی ..
اس نے یکدم سے اٹھنا چاہا مگر وجدان کا ہاتھ اسکی کمر پہ رکھا ہوا تھا جس وجہ سے وہ اٹھ نہیں پائی تھی .
.اپنے بیڈ پر موجودگی سے بہت حیران ہوئی تھی جہاں تک اسکو یاد تھا وہ کل رات صوفہ پر لیٹی ہوئی تھی ..
تو کیا وجدان اسکو یہاں لیکر آیا تھا ?
یہ خیال آتے ہی جیسے جسم کا سارا خون اسکے چہرے پر آیا تھا ..
شرم اور گھبراہٹ سے پلکیں یکدم سے جھکی تھی.
اب منظر بدل چکا تھا .
پہلے وہ اسکو سوتا ہوا دیکھ رہا تھا ..
اب وہ اسکے چہرے کو دیکھتی ہوئی کہیں کھو سی گئی تھی ..
اسکا مطلب وہ اسکی فکر کرتا ..
‘ ” اگر میری اتنی ہی فکر کرتے ہیں اگر اتنا ہی خیال ہے میرا تو .
کل فون کرکے کیوں خبر نہیں کی کہ گھر دیر سے آؤں گا ..
کتنا پریشان رہی تھی وہ کل رات اسکے لئے
جب کل وہ سب سچ جان گیا تھا تو کیوں نہیں آیا اسکے پاس معافی مانگنے کے لئے .
کیا اسے احساس نہیں ہوا تھا اپنی غلطی کا
ہر اس زیادتی کا جو وہ ہر لمحہ اسکے ساتھ کرتا آیا تھا ..
وہ اپنے دل میں اس سے بدگمان ہوئی تھی .
اس نے جھٹکے سے اسکا ہاتھ اپنی کمر سے ہٹا کر اٹھنا چاہا تھا ..
اس سے پہلے کہ وہ بیڈ سے نیچے اترتی وجدان نے اسکا بازو پکڑ کر پھر سے اسکو اپنے قریب لیٹایا تھا۔
اسکا جاگتا ہوا دیکھ کر حرم سٹپٹائی تھی اسکو لگا تھا کہ وہ سو رہا ہے مگر وہ غلط تھی …
تم ہمیشہ مجھسے دور کیوں بھاگتی رہتی ہو ..
وہ اسکو پوری طرح سے اپنی قید میں لے چکا تھا
اسکو اتنے قریب دیکھ کر حرم کی دھڑکنے یکدم سے تیز ہوئی تھی …
جو انسان ہمیشہ آپکی تقلیف کی وجہ بنے اس سے دور ہی رہنا چاہئے ..
حرم اپنی حالت پر قابو پاتی ہوئی بولی تھی ..
‘ میں نے کب تقلیف دی تمھیں
وجدان کی نظریں اسکے چہرے کا طواف کر رہی تھی .
اسکی بات پر حرم نے شکوہ بھری نظروں سے اسکی طرف دیکھا تھا مگر اسکی نظروں میں تپیش محسوس کر کے حرم کا حلق تک خشک ہوا تھا …
بتاؤ مجھے کب تقلیف دی ..
اسکو خاموش دیکھ کر وہ پھر سے بولا ..
یہ بات بھی آپ مجھسے بہتر جانتے ہیں ..
حرم نے اسکو جواب دیکر اپنی پوری طاقت لگا کر اسکو خود سے دور کیا .
اور تیزی سے بیڈ سے کھڑی ہوئی تھی …
کتنا ظالم تھا یہ شخص اسکو تقلیف دے کر اسی سے ہی اپنے ظلم کا اس سے پوچھ رہا تھا ..
‘ ‘ پر مجھے تو تمہارے منہ سے سننا تھا
اسکو واشروم کی طرف بڑھتا دیکھ کر اس نے پھر سے اسکو مخاطب کیا تھا مگر حرم نے اس بار کوئی جواب نہیں دیا بلکہ بہت ہی زور سے واشروم کا دروازہ بند کیا تھا …
اسکی اس حرکت پر ناچاہتے ہوئے بھی اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی …
💞💞
‘ ” یہ لو ….یہی سب چاہئے تھا نہ تمھیں .
اب سے یہ سب تمہارا اور تمہارے بیٹے کا ہوا ..
وہ لوگ اس وقت ڈائننگ ٹیبل پہ بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے جب ہاشم خان نے ساری پراپرٹی کے کاغذات انکے سامنے رکھے تھے ..
یہ سب کیا ہے بھائی میں سمجھا نہیں .
صفدر خان کے ساتھ ساتھ ماریہ اور ولید بھی حیرانی سے اپنی جگہ کھڑے ہوئے تھے ..
اس دن کے بعد سے آج پہلی بار وہ ان لوگوں سے مخاطب ہوئے تھے .
اس میں نہ سمجھنے والی کیا بات ہے
یہ وہی سب کچھ تو ہے جو تمھیں چاہئے تھا
جسکے لئے تم نے میری زندگی کی ساری خوشیاں مجھ سے چھین لی
جسکے لئے تم حرم کی شادی اپنے بیٹے سے کروا رہے تھے ..
یہ گھر اور کمپنی میں نے تمہارے اور ولید کے نام کر دی ہے یہاں تک کے اپنے حصّے کا بھی ..
ہاشم صاحب بول رہا رہے تھے جبکہ انکی باتوں سے صفدر کے ساتھ ساتھ ماریہ اور ولید کا سر شرمیندگی سے مزید جھک گیا تھا ..
ہاں بس حرم کی پراپرٹی میں تمہارے نام نہیں کر سکا کیونکہ وہ سب حرم کے نام ہے میرا اس پر کوئی حق نہیں ہے ..
بھائی صاحب ایسا نہ بولیں ہم پہلے ہی بہت شرمندہ ہیں
جانتے ہیں ہم بہت بڑی غلطی پر تھے
اور صفدر نے بھی آپکے ساتھ بہت غلط کیا ہے
یقین مانے ہم آپکے سامنے نظریں اٹھانے کے قبل بھی نہیں رہے ہیں ..
اس بار خاموش کھڑی ماریہ بولی تھی
وہ اپنے شوہر کی گئی حرکت پر بہت شرمندہ تھیں وہ لالچی تھی مگر اتنا برا آج تک انہونے کسی کے ساتھ نہیں کیا تھا …
جی تایا جان ..سب سے بڑا غلط تو میں تھا جو اپنے ماں باپ کی باتوں میں حرم کے ساتھ غلط کرنے کا سوچ رہا تھا ..
اس بار ولید بھی چپ نہیں رہ سکا تھا .
وہ دونوں بول رہے تھے مگر ہاشم صاحب کی نظریں تو سر جھکاۓ کھڑے اپنے چھوٹے بھائی پر تھی ..
انکو اس طرح سے کھڑا دیکھ کر ہاشم صاحب کو تقلیف تو ہو رہی تھی ..
مگر دل تو انکا بھی دکھا تھا بھروسہ انکا بھی ٹوٹا تھا اور اسکی تقلیف اتنی آسانی سے کم نہیں ہونے والی تھی …
آپ سب کو انکا حق دے رہے ہیں ..
میرا حصّہ کا پیار اور مجھے ڈیڈ کہنے کا حق کب دیں گے ..?
‘ وہ لوگ جو خاموش کھڑے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے
کسی کی آواز پر چاروں یکدم سے پلٹے تھے ..
سامنے کھڑی لڑکی سے وہ چاروں ہی انجان تھے
ہاشم اور صفدر تو اسکو وجدان کے ساتھ دیکھ چکے تھے لیکن وہ کون تھی یہ معلوم نہیں تھا انکو ..
اس دن آپ اپنی بیٹی اور بیوی سے ملنا چاہتے تھے نہ تو دیکھیں آج آپکی بیٹی خود آپ سے ملنے آئی ہے
سمن آہستہ سے قدم اٹھاتی انکی طرف آئی تھی
اس نے کل سے اب تک صبح کا کس طرح سے انتظار کیا تھا یہ بس اسکا دل ہی جانتا تھا .
اسکے الفاظ سن کر ہاشم خان کو کچھ سمجھنے کی ضرورت نہیں تھی
انکی بیٹی انکے سامنے کھڑی تھی
خود چل کر انکے پاس آئی تھی اس بات سے انکی آنکھیں یکدم سے نم ہوئی تھی …
ڈیڈ آپ اپنی بیٹی کو سینے سے نہیں لگائے گی ؟
آج اپنے باپ کو سامنے دیکھ کر سمن کی آنکھیں بھی نم ہوئی تھی …
اسکی بات پر ہاشم صاحب آگے بڑھے اور سمن کو اپنے سینے سے لگایا تھا
یہ منظر دیکھ کر صفدر خان کے دل میں اک سکون سا اترا تھا …
مجھے معاف کر دو بیٹی میں ہر بات سے انجان تھا
ورنہ کبھی ایسے حالات نہ ہوتے ..
وہ روتے ہوئے اس سے معافی مانگنے لگے تھے ..
نہیں ڈیڈ آپ معافی مت مانگے میں سب کچھ جان گئی ہوں …
ہمیں اب پرانی باتوں کو بھول جانا چاہئے ..
اس نے اپنے باپ کے آنسوں صاف کئے تھے …
اسکی بات پر ہاشم خان کے دل کو سکون سا ملا تھا صفدر اور ماریہ کا حال ان سے مختلف نہ تھا …
💞💞
وہ دونوں آگے پیچھے ڈائننگ روم میں داخل ہوئے تھے روز کی طرح آج بھی سادیہ بیگم پریشے کو اپنے ہاتھ سے ناشتہ کروا رہیں تھی ..
حرم سادیہ بیگم کو سلام کرتی انکی برابر والی چیئر پہ آں بیٹھی تھی …
کیا بات ہے بیٹا آج کافی دیر سے اٹھی تم
طبیعت تو ٹھیک ہے نہ تمہاری ..
اسکے بیٹھتے ہی وہ حرم کی طرف دیکھ کر فکر مندی سے بولی تھی ..
جی آنٹی رات تو ٹھیک تھی مگر صبح سے سر میں درد تھا اس لئے ہمت نہیں ہو رہی تھی اٹھنے کی ..
حرم اک نظر وجدان کی طرف دیکھ کر انکو جواب دیا تھا .
اسکا جواب سن اس سامنے بیٹھے وجدان نے اسکو گھوری سے نوازا تھا
تم کچھ کھا لو اسکے بعد دوائی لیکر آرام کر لینا ..
اسکے سر درد کے بارے میں سن کر انکو فکر ہوئی تھی ..
جی ٹھیک ہے آنٹی ..
وہ اپنے لئے چاۓ اتاتی ہوئی بولی تھی ..
مام یہ سمن کہاں ہیں آج اسکو ناشتہ نہیں کرنا ہے کیا?
اسکی غیر موجودگی کو محسوس کر کے اس نے اپنی مام سے سمن کے بارے میں پوچھا تھا ..
اسکے منہ سے سمن کا نام اور لہجے میں اسکے لئے فکرمندی محسوس کر کے حرم نے یکدم سے وجدان کی طرف دیکھا تھا .
مگر اسکی نظریں خود پر ہی جمی پاکر وہ اپنی نظریں جھکا گئی تھی ..
اس نے جان بوجھکر سمن کے بارے میں پوچھا تھا وہ بس حرم کا ریعکشن دیکھنا چاہتا تھا جو وہ دیکھ چکا تھا۔۔
اسکے اس طرح سے جلنے پر وہ مسکراۓ بنا نہیں رہ سکا تھا۔
وہ اپنے باپ سے ملنے گئی ہے اسکو یہاں لانے اور ماں کو اپنے باپ سے ملانے کے لئے ..
سادیہ بیگم کی بات پر اسکی مسکراہٹ یکدم سے غائب ہوئی تھی ..
حرم کے ساتھ ساتھ اس نے چونک کر اپنی ماں کی طرف دیکھا ..
آپنے اتنی آسانی سے اسکو جانے دیا مجھسے اک بار بھی پوچھنا ضروری نہیں سمجھا …
وجدان کو سمن کی جلدبازی پر غصّہ آیا تھا .
کیوں پوچھتی وہ تم .
اور کیوں روکتی میں اسکو …
وہ اسکا باپ ہے اپنے باپ سے ملنے گئی ہے ..
اور جب سب سچ معلوم ہو چکا ہے تو کیوں روکتی میں ..
اسکا باپ اک سازش کا شکار ہوا تھا اور اپنے بھائی کی باتوں میں آکر اس سے غلطی ہو گئی …
ویسے بھی سچ معلوم ہونے کے بعد میں اک بیٹی کو اسکے باپ سے ملنے سے نہیں روک سکتی ہوں ..
سادیہ بیگم کو وجدان کی بات بلکل اچھی نہیں لگی تھی .
اس لئے انکا لہجہ تھوڑا سخت ہوا تھا ..
‘ انکے اعتبار نہ کرنے کی وجہ سے آنی کی یہ حالت ہوئی ہے ..
اگر وہ آنی پر بھروسہ کرتے تو ایسا نہ ہوتا …
وجدان بھی کہاں چپ رہنے والوں میں سے تھا فورا انکی بات کا جواب دیا تھا ..
غلطیاں انسان سے ہی ہوتی ہیں بیٹا
اور غلطی تو تم بھی کر چکے ہو اسکے بارے میں کیا خیال ہے تمہارا …
انہونے بھی اسکی کی گئی غلطی یاد دلائی تھی جس پر اس نے اک نظر خاموش بیٹھی حرم کو دیکھا تھا…
پر مام اک بار تو وہ مجھ سے پوچھ لیتی …
یہاں میری بات ہو رہی ہے …
اس سے پہلے کہ سادیہ بیگم کچھ کہتی سمن کی آواز پر تینوں نے اک ساتھ سامنے دیکھا تھا ..
سمن کے ساتھ ہاشم خان کو دیکھ کر وہ تینوں اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تھے …
💞💞
‘ وہ جانے کب سے وہ ہسپتال کے بیڈ پر لیٹی اپنی پری کو دیکھ رہے تھے ..
کیا حالت ہو گئی تھی انکی پری کی ..
لیکن انکی اس حالت کے وہ خود ہی تو زمیدار تھے
اگر وہ اس وقت اپنی پری پر بھروسہ کرتے تو آج حالات کچھ الگ ہوتے …
آج کتنے دنوں بعد وہ خوش تھے وہ اپنی بیٹی سے ملکر ..
انکی یہ خوشی تب دو گنا ہوئی تھی جب سمن انکو انکی پری کے پاس لے جا رہی تھی .
آج انکو ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے دنیا کی ساری خوشیاں مل گئی ہو ..
لیکن جب وہ اپنی پری کے پاس گئے تو اک لمحے کے لئے اپنی جگہ سے ہل ہی نہیں پاۓ تھے ۔
بیڈ پر بیٹھی وہ عورت انکی پری تو بلکل بھی نہیں تھی ..
کیا حالت ہو گئی تھی انکی پری کی
پریشے کی ایسی حالت دیکھ کر ہاشم صاحب کے دل میں اک درد سا اٹھا تھا .
..انہونے جیسے ہی اپنی پری کو مخاطب کیا تو انکی آواز سن کر اتنے دنوں بعد پریشے کی آنکھ سے آنسوں نکلا تھا ..
..اچانک ہی طبیعت خراب ہوئی تھی کہ ان لوگوں کو جلدی سے انکی ہسپتال لانا پڑا تھا ..
اب پچھلے چار گھنٹوں سے وہ سب لوگ ادھر سے ادھر پریشانی میں ٹہل رہے تھے ..
مجھے معاف کر دینا پری .
میں نے بہت برا کیا تمہارے ساتھ …
جانے کتنے ہی آنسوں انکی آنکھوں سے گرے تھے
انکو روتا دیکھ سادیہ بیگم اپنی جگہ سے اٹھ کر انکے پاس آئی اور تسلی کے لئے انکے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا تھا ..
وجدان میری امی ٹھیک تو ہو جائے گی نہ …
دیکھو نہ ابھی تو سب کچھ ٹھیک ہوا تھا اور یہ یکدم سے کیا ہو گیا انکو ..
سمن روتے ہوئے وجدان کی طرف دیکھ کر بولی تھی اسکو روتا دیکھ کر حرم کی بھی آنکھیں نم ہوئی تھی
کچھ نہیں ہوگا آنی کو سب ٹھیک ہو جائے گا ..
بس اللہ سے دعا کرو ..
وجدان نے اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا تھا …
ڈاکٹر صاحب کیا ہوا ہے میری پری کو وہ ٹھیک تو ہو جائے گی نہ .
‘ڈاکٹر کو انکے روم سے نکلتا دیکھ کر ہاشم صاحب کے ساتھ ساتھ سبھی لوگ تیزی سے انکی طرف بڑھے تھے ..
💞💞
‘””””(جاری ہے )
💞💞💞💞