Harjai By Iqra Sheikh Readelle50203 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
‘ ” صاحب آپ ایسے اندر نہیں جا سکتیں
رک جائیں …
گارڈ ہاشم خان کے پیچھے پیچھے چلتا ہوا اسکو اندر جانے سے روک رہا تھا
مگر آج تو ہاشم خان نے نہ رکنے کی قسم کھائی ہوئی تھی
آج وہ بس اپنی پری سے ملنا چاہتا تھا
اسکو دیکھنا چاہتا تھا
اپنی پری سے مل کر اس سے اپنی غلطی کی معافی مانگنا تھی
اسکی پری چاہے جو سازا اسکو دیتی
وہ ہنسی خوشی قبول کرنے کو تیار تھا …
صاحب رکے جایں
میری نوکری کا سوال ہے شاہ صاحب ہمیں نوکری سے نکال دیں گے ..
بیچارہ گارڈ پریشانی سے اسکے پیچھے پیچھے بولتا جا رہا تھا …
کون ہیں آپ اور ایسے کیسے چلے آ رہے ہیں میرے گھر میں ‘
سادیہ بیگم جو لان میں ٹہل رہیں تھیں ہاشم خان کو اپنے گھر کے اندر گھستا دیکھ کر اسکے پاس آئی تھی
جبکہ انکا گارڈ بھی ہاشم خان کے پیچھے ہی تھا ..
مجھےمیری پری سے ملنا ہے
پلز بس اک بار مجھے میری پری سے ملوا دو ..
ہاشم خان یکدم سے سادیہ بیگم کے سامنے آں کھڑا ہوا تھا .
وہ دونوں ایک دوسرے سے انجان تھے
نہ سادیہ بیگم نے کبھی ہاشم خان کو دیکھا تھا نہ ہاشم نے سادیہ بیگم کو …
کون ہو تم اور پری سے کیوں ملنا ہے ..
انکے منہ سے پری کا نام سن کر اک پل کے لئے تو وہ حیران ہو گئیں تھیں ..
میں ہاشم خان ہوں پری کا ہاشم .
پلز مجھے بس اک بار ملنے دو اس سے …
انکی بات پر سادیہ بیگم بس انکو دیکھتی ہی رہ گئیں تھی ..
یہ وہ شخص تھا جس نے انکی بہن کی زندگی برباد کی تھی.
انکی آج جو حالت ہے اس شخص کی وجہ سے تھی ..
تمہاری ہمّت کیسے ہوئی میرے گھر میں قدم رکھنے کی
اور اب کیوں ملنا چاہتے ہو ان سے …
یہ آواز وجدان کی تھی جو لان میں اپنی ماں کے پاس آ رہا تھا
مگر اپنی ماں کے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اسکی غصّے سے رگے تن گئی تھی …
مجھے پریشے سے بس معافی مانگنی ہے بس اک بار ملنے دو مجھے
ہاشم خان کے لہجے میں التجا تھی …
جبکہ سادیہ بیگم اور وجدان انکو نفرت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے
آج تمھیں اتنے سالوں بعد اپنا کیا ہوا گناہ یاد آ گیا یا یہ بھی کوئی نئی سازش ہے تمہاری
انکو تقلیف دینے کی …
وجدان کے لہجے میں انکے لئے صرف نفرت تھی
اسکی آواز سن کر سمن بھی باہر آئی تھی ..
میں نے کوئی گناہ نہیں کیا پریشے میری بیوی ہے بس ہمارے درمیان کچھ غلطفہمی ہو گئی تھی
جس وجہ سے میں نے اسکو چھوڑ دیا تھا
لیکن اب مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے
اور میں بس اپنی پری سے معافی مانگنا چاہتا ہوں مجھے بس اک بار ملنے دو …
ہاشم خان کی بات پر ان تینوں کے سر پہ جیسے کسی نے بم سا پھوڑا تھا
آج تک وہ لوگ جو سمجتے آئں تھے ایسا کچھ نہیں ہوا تھا انکی پری کے ساتھ ..
اتنے سالوں میں تو تمھیں کبھی خیال نہیں آیا اپنی بیوی کا کی وہ کیسی ہے
کس حال میں ہے ..
جبکہ تم تو یہ تک نہیں جانتے ہو کہ اس بیوی سے تمہاری کوئی بیٹی بھی ہے ..
اور آج یوں اچانک سے تمہیں اپنی بیوی کا خیال آ گیا..
سادیہ بیگم طنزیہ انداز میں بولی
جبکہ انکے منہ سے اپنی اولاد کے بارے میں سن کر اپنی جگہ جم سے گئے تھے …
..میری بیٹی …
کہاں ہے میری بیٹی ..
میں آپ لوگوں کے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں
مجھے بتاؤ کہاں ہیں دونوں …
وہ کیسا بدنصیب باپ تھا اسکی نظروں کے سامنے اسکی بیٹی کھڑی ہوئی تھی
اور وہ اس بات سے ناواقف تھا …
ماموں جان …
وہ تینوں بےبس باپ کو دیکھ رہے تھے جب حرم دوڑتی ہوئی وہاں آئی تھی …
حرم کی آواز پر ان تینوں نے اک ساتھ مڑ کر دیکھا تھا
حرم میری بیٹی …
حرم کو دیکھ کر انکی آنکھیں نم ہوئی تھی …
تم اپنے کمرے میں جاؤ …
حرم جو انکے پاس جا رہی تھی وجدان نے سختی سے اسکا بازو پکڑ کر اسکو روکا تھا …
پلز مجھے میرے ماموں جان سے ملنے دو
پلیز بس ایک بار ..
اس نے وجدان کی طرف دیکھا مگر وہ تو اسکی طرف دیکھ ہی نہیں رہا تھا ..
تم نے سنا نہیں میں نے کیا کہا
اسکو پھر سے آگے بڑھتا دیکھ کر وہ سخت لہجے میں بولا
مگر جب حرم پھر بھی نہ مانی تو وہ اسکا کھینچتا ہوا اندر لایا تھا ..
سادیہ بیگم کو وجدان کی حرکت بلکل اچھی نہیں لگی تھی.
.ہاشم خان بےبسی سے کھڑا بس اسکو جاتا دیکھتا رہا تھا ….
‘ وجدان اسکو زبردستی اپنے ساتھ کھینچتا ہوا کمرے میں لایا اور غصّے میں اسکو زمین پر پٹخا اور بغیر اسکی طرف دیکھے تیزی سے کمرے سے نکلا تھا .
اسکے جان کے بعد حرم کو کچھ خبر نہیں ہوئی تھی کہ باہر کیا ہوا
وجدان نے اسکے ماما سے کیا کہا ..
وہ بس وہیں بیڈ پر بیٹھی بیٹھی روتی رہی تھی ..
💞💞
‘امی اک بار میری طرف دیکھیں نہ ..
صرف اک بار اپنی بیٹی کو دیکھ لیں ..
میں جانتی ہوں آج تک میں نے آپکو غلط سمجھا .
کبھی آپکی فکر نہیں کی .
صرف اس لئے .
کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ آپ اپنی اس حالت کی خود زمیدار ہیں …
پر میں غلط تھی
غلط تو آپکے ساتھ ہوا تھا ..
سمن آج اپنی ماں کے پاس بیٹھی اپنے آج تک کے رویہ کے بارے میں معافی مانگ رہی تھی ..
آج اسکے سامنے یہ حقیقت آئی تھی کہ وہ جو بھی اپنی ماں کے بارے میں سوچتی تھی سب غلط تھا
..میں مانتی ہوں کہ میں بہت بری بیٹی ہوں
کبھی بھی میں نے آپکا درد سمجھنے کی کوشش نہیں کی ..
کبھی آپکے پاس نہیں آئی …
آپ ہی بتائیں میں کیا کرتی
کتنا مشکل تھا میرے لئے اس بات کو قبول کرنا کہ میں ناجائز اولاد ہوں ..
صرف اس بات سے مجھے غصّہ آتا تھا ..
میں سوچتی تھی کہ کہیں نہ کہیں آپکی بھی غلطی رہی ہوگی …
مگر آج میں غلط ثابت ہو گئی ہوں ..
اس نے انکے دونوں ہاتھوں کو تھام رکھا تھا ..
اسکو تو ٹھیک سے یاد بھی نہیں تھا کہ وہ کب یوں اس طرح سے اپنی ماں کے پاس بیٹھی تھی ..
اگر کوئی انسان غلط ہے تو وہ ہے ہاشم خان
جو بدقسمتی سے میرا باپ ہے …
امی پلیز مجھے معاف کر دینا …
سمن کے بولتے بولتے آنکھوں سے آنسوں بہنا شروع ہو چکے تھے ..
سادیہ بیگم جو پریشے کو دیکھنے آ رہی تھی سمن کی ساری باتیں سن چکی تھی
سمن کو یوں اپنی ماں کے پاس بیٹھا دیکھ کر انکو بہت خوشی ہوئی تھی ..
وہ جس خاموشی سے وہاں آئی تھی اتنی ہی خاموشی سے وہاں سے چلی گئیں تھیں …
💞💞
‘ وہ جب کمرے میں آیا تو اسکی نظر بیڈ پر لیٹی حرم پر پڑی تھی
اسکو اپنے بیڈ پر یوں لیٹا دیکھ کر اسکو حیرانی ہوئی تھی ..
مگر اگلے ہی لمحے اپنی آج کی گئی زیادتی یاد آئی تو وہ کچھ شرمندہ سا ہوا تھا
کیسے اس نے بےدردی سے اسکو کمرے میں لاکر پٹخا تھا ..
اس وقت وہ بہت غصّے میں تھا اس لئے اسکو یہ احساس تک نہ ہوا کہ اسکے اس طرح سے کرنے پر حرم کو چوٹ بھی لگ سکتی تھی …
لیکن ہاشم خان کو اپنے گھر دیکھ کر اس پر اک جنوں سوار ہو گیا تھا ..
اور ہاشم خان کا سارا غصّہ وہ حرم پر نکلتا تھا ..
اسکو تقلیف دے کر ..
جبکہ حرم کو تقلیف میں دیکھ کر وہ خود بھی تو بےسکون ہوتا تھا ..
اسکی تقلیف اور چوٹ کے بارے میں خیال آتے ہی وہ بیڈ پر لیٹی حرم کی طرف بڑھا تھا ..
وجدان بیڈ کے قریب پہنچ کر کچھ لمحے تو یوں ہی کھڑا سوتی ہوئی حرم کو دیکھتا رہا تھا ..
مگر اگلے ہی لمحے اسکی نظر حرم کی پیشانی پر لگی چوٹ پر پڑی تو
اسکی شرمندگی میں اضافہ ہوا تھا ..
وہ بہت ہی آہستگی سے اسکے برابر میں بیٹھا تھا
اسکی نظریں ابھی بھی حرم کی چوٹ پر ہی تھی
چوٹ زیادہ گہری نہیں تھی ہلکا سا خون نکل کر خشک ہو چکا تھا ..
وجدان سے بہت ہی آہستگی سے ہاتھ بڑھا کر اسکے زخم کو چھوا تھا ..
کتنا غلط کرتا تھا وہ اسکے ساتھ
جبکہ اسکا تو کوئی قصور نہیں تھا …
وجدان اسکے چہرے کو دیکھتا ہوا سوچ رہا تھا کہ یکدم سے وہ جھکا اور حرم کی چوٹ پر اس نے اپنے لب رکھ دیے تھے .
کتنی معصوم ہے وہ اور اک وہ تھا جو ہر وقت اسکو تقلیف دینے کے بارے میں سوچتا رہتا تھا ..
وہ اس پر جھکا اسکے چہرے کو دیکھتا اپنے دل میں اتار رہا تھا ..
حرم جو گہری نیند میں تھی اسکے لمس کی شدت اور اسکی گرم سانسوں کی تپیش سے اس نے ہلکا سا کسمسا کر اپنی آنکھیں کھولی تھی
گہری نیند سے اٹھنے کی وجہ سے پہلے تو اسکی کچھ سمجھ نہیں آیا
مگر وجدان کو اپنے اوپر جھکا دیکھ کر اسکی نیند یکدم سے اڑی تھی۔
اس نے ہڑبڑا کر اپنی جگہ سے اٹھنا چاہا
مگر اسکا ارادہ بھانپ کر وجدان نے اسکے ارد گرد اپنے ہاتھ رکھ کر اسکی کوشش کو ناکام کر کے اس پر مزید جھکا تھا .
اسکو خود پر جھکتا دیکھ کر حرم نے ڈر کے اپنی آنکھیں بند کی تھی
دل کی دھڑکنے یکدم سے تیز ہوئی تھی …
اتنی بھی کیا جلدی ہے یہاں سے جانے کی
تم یہاں آئی تو تھی اپنی مرضی سے لیکن
جاوگی تب جب میری مرضی ہوگی …
وہ حرم کی بند آنکھوں کو دیکھ کر بولا تھا ..
اسکی بات پر حرم نے یکدم سے اپنی آنکھیں کھولی تھی …
اس وقت وہ اسکے بہت نزدیک تھا اتنا کہ وہ اسکی سانسوں کی گرماہٹ اپنے چہرے پر محسوس کر رہی تھی ..
ہر بار آپکی مرضی نہیں چلے گی ..
ہٹے مجھے جانے دیں …
حرم اپنی تیز ہوتی دھڑکنوں کو سمبھالتی بامشکل بول پائی تھی …
اسکو وجدان کی شام والی حرکت یاد آئی تھی کتنی بےدردی سے اس نے دھکا دیا تھا اسکو
یہاں تک کہ اسکے ماموں سے بھی ملنے نہیں دیا ..
جب وہ نہ ہٹا تو حرم نے اسکے سینے پر دونوں ہاتھ رکھ کر اسکو خود سے دور کرنا چاہا تھا
مگر وجدان نے اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنی قید میں کر لیا تھا ..
اسکی اس حرکت پر حرم کا حلق تک خشک ہوا تھا ..
شاید تم بھول رہی ہو …
یہ گھر یہ کمرہ …اور یہ بیڈ سب میرا ہے
اور تم بھی اس وقت میرے نکاح میں ہو
جسکا مطلب ہے میں تم پر بھی اپنی مرضی چلا سکتا ہوں
سارے حق ہیں مجھے تم پر ….
وہ اپنی باتوں سے اسکو بہت کچھ سمجھانا چاہ رہا تھا آج حرم کو اسکی آنکھوں میں اک الگ ہی رنگ نظر آ رہا تھا ..
پلیز جانے دو ..
حرم اس سے نظریں چراتی ہوئی بولی تھی
اسکو لگ رہا تھا اگر وہ اسی طرح اسکو دیکھتی رہی تھی خود کو بھی بھول جائے گی …
‘ ” اسکے اس طرح سے نظریں پھیر لینے سے وجدان نے اس پر جھک کر باقی کا فاصلہ بھی ختم کیا تھا .
گھبراو مت میں ابھی کچھ نہیں کر رہا ہوں …
لیکن جس دن میں نے اپنی مرضی چلائی نہ تو تم بھی مجھے روک نہیں پاؤ گی …
وہ جھکا اسکے کان میں سرگوشی کے انداز میں بول رہا تھا
بولتے ہوئے اسکے لب حرم کی کان کی لؤ کو چھو رہے تھے .
اسکے ہونٹوں کا لمس اپنے کان کی لؤ پر محسوس کر کے حرم کی جیسے جان ہی نکل گئی تھی
اس نے سختی سے اپنی آنکھیں بند کی تھی …
تھوڑی دیر بعد اسکو اپنی پیشانی پر اسکا لمس محسوس ہوا تھا
اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو وجدان اسکی پیشانی پر لگی چوٹ پر کریم لگا کر اٹھا تھا ..
وہ اپنی جگہ لیٹی بےیقینی سے اسکی پشت کو دیکھتی رہی تھی
کیا تھا یہ شخص خود ہی زخم دیتا اور خود ہی مرہم بھی لگاتا تھا ..
💞💞
‘ کبھی کبھی انسان زندگی میں ایسی غلطیاں کر دیتا ہے کہ چاہنے کے باوجود بھی وہ اپنی کی گئی غلطیوں کی ٹھیک نہیں کر سکتا ہے
چاہے اس انسان سے وہ غلطی انجانے میں ہی ہوئی ہو …
یہی کچھ حال ہاشم خان کا بھی تھا
انہونے اپنے بھائی کی باتوں میں آکر اس انسان پر شق کیا جس پر وہ خود سے بھی زیادہ بھروسہ کرتے تھے
جو انکا عشق تھی
انکی محبت ..
لیکن انکی صرف اک غلطی نے انکو اپنی محبت سے دور کر دیا تھا .
انکی اک غلطی انکے شق کی وجہ سے صرف اک نہیں دو زندگیاں برباد ہوئی تھی ..
انکا یہ پچھتاوا کسی بھی لمحے انکو سکون نہیں لینے دے رہا تھا
انکی کوئی اولاد بھی تھی اور وہ آج تک اس بات سے انجان رہے تھے .
یہ بات انکو سب سے زیادہ تقلیف پہنچا رہی تھی .
اور اپنی اس حالت کا زمیدار وہ خود ہی تو تھے
نہ وہ اپنے بھائی کی باتوں میں آتے
اور نہ انکی زندگی میں اتنا بڑا طوفان آتا ..
اب صرف پچھتانے کے علاوہ اور وہ کیا کر سکتے تھے ..
کتنی کوشش کی تھی انہونے آج اپنی پری سے ملنے کی .
مگر ہر کوئی انکو انکی پری سے دور کرنے میں لگا ہوا تھا
اس وقت وہ خود کو بہت بےبس محسوس کر رہے تھے .
بھائی آپ کہاں رہ گئے تھے
جانتے ہیں میں کتنا پریشان رہا ہوں آپکے لئے .
نہ آپکا فون لگ رہا تھا
اور آج تو آپ آفس بھی نہیں گئے تھے …
وہ رات کے وقت جیسے ہی گھر میں داخل ہوئے تو صفدر جو پریشانی میں انکا انتظار کر رہے تھے .
ہاشم خان کو گھر آتا دیکھ انکی طرف بڑھے تھے ..
آج انکے لہجے میں اپنے بھائی کے لئے فکرمندی تھی
صفدر خان کی آواز پر ہاشم صاحب بس اک نظر انکی طرف دیکھ کر اپنے کمرے کی بڑھے تھے ..
اس دن کے بعد سے انہونے سب سے مکمل طور پر بات بند کی ہوئی تھی ..
صفدر نے بہت بار اپنے بھائی سے معافی مانگنے کی کوشش کی مگر انکے جواب میں صرف خاموشی ہوتی تھی ..
آخر وہ کیسے اتنی جلدی معاف کر دیتے انھیں اتنی بڑی سازش کی تھی انکے بھائ نے انکے خلاف انکی پری کے خلاف …
بھائی میں جانتا ہوں آپ مجھسے نفرت کرنے لگے ہیں میری کسی بھی بات کا آپ پر کوئی اثر نہیں ہوگا
لیکن میرا یقین کریں بھائی میں بہت شرمندہ ہوں
میں نے بہت غلط کیا …
دولت کی خاطر میں اپنی بہن کی بیٹی کے بارے میں غلط سوچ رہا تھا
آپکے ساتھ غلط کیا ..
میں بہت شرمندہ ہوں اپنی غلطیوں کے لئے
مجھے معاف کڑ دیں بھائ …
وہ اپنے بھائی کی طرف دیکھ کر بہت ہی دکھ سے بولے تھے
انکے لہجے میں ہی نہیں انکی آنکھوں میں بھی شرمندگی تھی …
تم نے میرے ساتھ غلط نہیں کیا صفدر تم نے تو میری زندگی برباد کی ہے .
صرف اس پراپرٹی کی وجہ سے ..
ہاشم خان کی آواز کے ساتھ ساتھ انکی آنکھیں بھی نم ہوئی تھی جسے دیکھ کر صفدر خان کا سر مزید جھک گیا تھا …
بلکہ تم نے میرے ساتھ دو اور لوگوں کی زندگی برباد کی ہے ..
ہاشم خان کی بات پر صفدر نے اپنا سر اٹھایا تھا ..
تم نے میری اور پریشے کے ساتھ ساتھ ہماری بیٹی کی بھی زندگی برباد کی ہے
مجھ سے اسکا بچپن چھین لیا تم نے ..
ہاشم خان نے جیسے انکے سر پر بم پھوڑا تھا …
کیا ہوا حیران ہو گئے نہ یہ سن کر ..
مجھے دیکھو میں کتنا بدنصیب باپ ہوں جسے ابھی کچھ ہی گھنٹوں پہلے ہی معلوم ہوا ہے کہ میری کوئی اولاد بھی ہے ..
اس وقت مجھ پر کیا گزری ہوگی تم کبھی سمجھ بھی نہیں سکو گے …
ہاشم خان خاموش کھڑے اپنے بھائ کی طرف دیکھ رہے تھے .
جسکے پاس اب الفاظ ہی نہیں تھے ان سے کچھ کہنے کے لئے..
معافی چاہئے نہ تمھیں میری ..
تو جاؤ مجھے میری بیٹی کا بچپن لوٹا دو
مجھے میری بیٹی میری بیوی لوٹا دو ..
تب مجھے لگے گا کہ تم سچ میں شرمندہ ھو ..
ہاشم خان اپنی بات کہہ کر وہاں رکے نہیں تھے
اب کچھ بچا بھی نہیں تھا کہنے کے لئے
جبکہ صفدر خان وہیں کھڑے اپنے بھائی کو دور جاتا دیکھتے رہے تھے ….
💞💞
“”””””(جاری ہے )”””””
