Harjai By Iqra Sheikh Readelle50203 Last updated: 30 August 2025
No Download Link
Rate this Novel
Harjai By
Iqra Sheikh
وہ بہت خوش تھی ابھی چند دن پہلے ہی تو اس نے ہاشم خان کی بات ماں کر اس سے نکاح کر لیا تھا شروع میں تو وہ بہت ڈر رہی تھی اسکا دل اس طرح سے نکاح کرنے کے لئے راضی نہیں ہو رہا تھا مگر ہاشم کے حوصلہ دینے پر وہ کچھ پرسکون ہوئی تھی دن یوں ہی گزر رہے تھے نکاح کے بعد بھی وہ اسی فلیٹ میں رہ رہی تھی جس میں پہلے رہتی تھی اسکے ساتھ جو لڑکی وہ فلیٹ شیئر کرتی تھی وہ اپنے کچھ دن کے لئے اپنے گھر گئی ہوئی تھی جس وجہ سے ہاشم اسکے پاس رہنے آ جاتا تھا ... دونوں اپنی زندگی میں بہت خوش تھے ایک دوسرے کو پاکر پریشے کو اپنی بہن کی فکر بھی ہوتی تھی مگر اسکو اس بات کا بھی پورا یقین تھا کہ وہ انکو راضی کر لے گی ... جب بھی وہ ہاشم کو دیکھتی اسکو اپنی قسمت پر یقین ہی نہیں آتا تھا کہ کوئی اسکو اتنا پیار کرنے والا بھی ہے ... وہ اللہ کا جتنا شکر کرتی اتنا کم تھا ابھی وہ کچن میں کھڑی ہاشم کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی کہ جب دروازے پر دستک ہوئی تھی وہ اپنا دوپٹہ ٹھیک کرتی دروازے تک آئی تھی اسکو لگا کہ ہاشم ھوگا مگر صفدر کو سامنے دیکھ کر اسکے ماتھے پر بل پڑے تھے ... جو صفدر سے بھی پوشیدہ نہ رہ سکے تھے .. ہاشم نے صفدر کو بھی اپنے نکاح کے بارے میں نہیں بتایا ہوا تھا اور اسکو بتانے سے پریشے نے ہی منع کیا تھا کیونکہ وہ اپنی آپی سے پہلے کسی سے بھی اس رشتے کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی تھی .. ویسے بھی اسکی بہن کی طرح ہاشم نے ہی اپنے بہن بھائی کو سمبھالا تھا اپنے ماں باپ کے بعد .. کیا ہوا تم یہاں اس طرح اچانک میرے گھر کیوں آۓ ہو پریشے اسکے بولنے سے پہلے ہی خود بول اٹھی تھی وہ تھا تو ہاشم کا ہی بھائی مگر اسکو شروع سے ہی خاص پسند نہیں آیا تھا وجہ صفدر کی نظریں تھی جو ہر وقت اسکو اپنے حصار میں لئے رہتی تھی . اسی بات پر پریشے کو پسند نہیں تھا سب کچھ جاننے کے بعد بھی وہ ایسی حرکتیں کرتا تھا .. تم یونی نہیں آ رہیں تھی تو میں سوچا کیوں نہ تمہاری خیریت معلوم کر لوں .. صفدر اپنی بات کہہ کر اندر کی طرف بڑھا تھا میں ٹھیک ہوں ہم کل یونی میں بات کر لیں گے فلحال یہاں سے چلے جاؤ .. پریشے کو اسکا یہاں آنا اور اسکی باتیں کچھ عجیب سی لگی تھی کیا یار تم اندر تو آنے دو ایسی بھی کیا بات ہے ہاشم بھی تو آتا رہتا ہے اسکا لہجہ کچھ چبھتا ہوا سا تھا وہ ہاشم اور اسکے بارے میں سب جانتا تھا مگر جان بوجھ کر اس نے ایسی بات کہی تھی .. " صفدر تم پلز جاؤ ھم کل بات کرتے ہیں اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتا پریشے نے تیزی سے دروازہ بند کیا تھا ' " اسکے اس طرح سے اسکے منہ پر دروازے بند کرنے سے صفدر کو یکدم سے بہت غصّہ آیا تھا تم نے میرے منہ پر اس طرح سے دروازہ بند کرکے بلکل اچھا نہیں کیا ہے پریشے .. بہت غرور ہے نہ تمھیں اپنی محبت پر اب دیکھنا میں کیسے تمھیں ہاشم کی زندگی سے نکالتا ہوں صفدر دروازے کے باہر کھڑا نفرت سے سوچ رہا تھا وہ بھی ہاشم کی طرح پریشے کو پسند کرتا تھا مگر پریشے شروع سے ہی ہاشم کو پسند کرتی تھی اور یہ ہی بات صفدر کو غصّہ دلاتی تھی وہ ان دونوں کو ساتھ دیکھ کر جلتا رہتا تھا اور اب اسے اک اور وجہ مل گئی تھی اس سے نفرت کرنے کی.. 💞💞💞
