Harjai By Iqra Sheikh Readelle50203 Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
‘ ” پری پلیز اک بار آنکھیں کھولو نہ ..
دیکھو ..
تمہارا ہاشم لوٹ آیا ہے تمہارے پاس ..
پلیز اک بار آنکھیں کھولو …
وہ پریشے کے بیڈ کے قریب انکا ہاتھ تھامے ہوئے بیٹھے تھے .
جبکہ انکی آنکھوں سے مسلسل آنسوں بہ رہے تھے
‘ میں مانتا ہوں کہ میں نے بہت بڑی غلطی کی .
میں نے اپنی محبت کا اعتبار نہیں کیا
یہی میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی
وہ جانے کب سے بیٹھے ہوئے بس اپنی غلطی کی معافی مانگ رہے تھے ..
لیکن انکی پری بس خاموش آنکھیں بند کیے ہوئے لیٹی تھی .
جیسے کبھی آنکھیں نہ کھولنے کی قسم کھائی ہوئی ہو ..
آج پورے تین دن ہو گئے تھے انکو ہسپتال میں رہتے ہوئے .
ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ جس طرح کسی بڑے صدمے کی وجہ سے انکی یہ حالت ہوئی تھی ..
پھر سے کچھ ایسا ہوا ہے انکے ساتھ ..
یہ شاق انکو ٹھیک بھی کر سکتا ہے اور یہ انکے لئے خطرہ بھی ہو سکتا ہے …
کیونکہ اگر وہ ہوش میں نہ آئی تو کوما میں بھی جا سکتی تھیں ..
اس لئے سب بس انکے ہوش میں آنے کی دعا کر رہے تھے ..
سب تو گھر چلے بھی جاتے تھے مگر ہاشم صاحب اک پل کے لئے بھی اپنی پری کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتے تھے …
وہ بس روز یوں ہی انکے بس بیٹھے گھنٹوں ان سے باتیں کرتے رہتے تھے .
اور وہ بس یوں ہی خاموش لیٹی انکی باتیں سنتی رہتیں تھیں ..
لیکن اب ہاشم صاحب کی ہمّت ٹوٹنے لگی تھی
انکا بس نہیں چل رہا تھا کہ کس طرح سے اپنی پری کو ہوش میں لے آئں ۔
پری تم سن رہی ہو نہ …
بس اب جلدی سے اٹھ جاؤ مجھے انتظار ہے تمہاری سزا کا ..
بس ایک بار اٹھ جاؤ ..
انکے آنسوں ٹوٹ ٹوٹ کر پریشے کے ہاتھ پر گر رہے تھے ..
‘ ” پتہ نہیں انکی پکار میں اتنی شدت تھی یا انکے انکے ہوش میں آنے کا وقت آ چکا تھا …
پریشے نے دھیرے دھیرے اپنی آنکھیں کھولنا شروع کی تھی ..
پہلی بار تو سب کچھ دھندھلا لگا تھا مگر بعد میں سب صاف دکھائی دینے لگا تھا ..
سب سے پہلے نظر انکی اپنے بیڈ کے قریب بیٹھے ہاشم خان پر پڑی تھی ..
اتنے سالوں بعد اس شخص کو اپنے سامنے دیکھ کر انکی آنکھیں نم ہوئی تھی ..
پری تمھیں ہوش آ گیا ہے ..
پری ….
انکو ہوش میں آتا دیکھ کر ہاشم خان کو جیسے ایک نئی زندگی ملی تھی …
ہاشم خان کے دیکھنے پر پریشے سے اپنا منہ موڑ لیا تھا ..
سب کچھ یکدم سے یاد آیا تھا انکو …
پری تم نہیں جانتی مجھے کتنی خوشی ہوئی ہے
انکے منہ موڑ پر ہاشم صاحب کو برا نہیں لگا بلکہ انکو خوشی ہوئی تھی کہ انکی پری بلکل ٹھیک ہو گئی ہے ..
وہ بنا ان سے کچھ بولے روم سے باہر نکلے تھے اور سب کو فون کر کے یہ خوشخبری دی تھی .
انکے فون کرنے کے تھوڑی دیر بعد ہی سب لوگ خوشی خوشی ہسپتال میں موجود تھے .
ہاشم صاحب نے پری سے بات کرنی چاہی تھی مگر انکی طبیعت کی وجہ سے انکو خاموش رہنا پڑا تھا ..
ڈاکٹر کی اجازت سے وہ لوگ پریشے کو گھر لے آۓ تھے
ہاشم صاحب پریشے کو اپنے ساتھ گھر لے جانا چاہتے تھے مگر سادیہ بیگم نے فلحال منع کر دیا تھا …
انکے لئے بس اتنا کافی تھا کہ انکو پری ٹھیک ہو گئی ہے ..
اور وہ آج نہیں تو کل اپنی پری کو منا لیں گے انکو اس بات کا یقین تھا .
💞💞
سب کچھ ٹھیک ہو گیا .
میرے بابا مجھے مل گئے ہیں
امی بھی اب نارمل ہو گئی ہیں ..بس ڈیڈ سے ناراض ہیں تھوڑا..
لیکن اک دن انکی ناراضگی بھی ختم ہو جائے گی .
اب تم بتاؤ آگے کے بارے میں کیا سوچا ہے تم نے .
سمن وجدان کی طرف دیکھ کر بولی
وہ جو کوئی فائل دیکھ رہا تھا سمن کی بات پر چونک کر اسکی طرف دیکھا تھا ..
کس بارے میں سوچنے کی بات کر رہی ہو تم
میں کچھ سمجھا نہیں ..
اس نے فائل ٹیبل پر رکھی اور اب مکمل طور پر اسکی طرف متوجہ ہوا ۔
” شاید تم بھول گئے ہو خیر کوئی بات نہیں نہ تو میں بھولی ہوں اور نہ تمھیں بھولنے دوں گی .
سمن کچھ جتانے والے انداز میں بولی تو وجدان اسکی طرف ناسمجھی سے دیکھنے لگا تھا .
وہ اسکی بات سمجھ نہیں پایا تھا ..
کس بارے میں بات کر رہی ہو سمن کھل کر بتاؤ .
کیا بھول گیا ہوں میں ..
وہ الجھا تھا اسکی باتوں سے ..
تم نے وعدہ کیا تھا کہ تم سب ٹھیک ہو جانے کے بعد مجھسے شادی کروگے ..
کیونکہ حرم سے شادی تم نے صرف اپنے بدلے کے لیے کی تھی …
جب اب کوئی بدلہ نہیں رہا تو یہ شادی بھی نہیں رہنی چاہئے .
اب تو کوئی مقصد نہیں رہا ..
سمن دو ٹک انداز میں بولی تو اسکی بات سن کر وجدان کچھ لمحوں کے لئے تو خاموش ہی رہ گیا تھا.
وو تو واقعی میں اپنا کیا ہوا وعدہ بھول ہی چکا تھا اگر اسکو کچھ یاد تھا تو بس حرم …
ابھی بھی کچھ دیر پہلے وہ حرم کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا ..
کہ کس ترح سے حرم سے اپنی غلطیوں کی تلافی کرے ۔
مگر وہ جو کچھ بھی سوچے بغیر سمن سے وعدہ کر چکا تھا
اب کیا کرے گا وہ ..
کس مشکل میں پھسا لیا تھا اس نے خود کو ..
وجدان کیا ہوا .
کہاں کھو گئے ہو ..میں تم سے بات کر رہی ہوں ..
اسکو خاموش دیکھ کر سمن نے پھر سے اسکو مخاطب کیا تھا …
ہاں …کہیں ..نہیں ….
مجھے تم سے کیا ہوا وعدہ اچھی طرح سے یاد ہے .
وجدان کی آواز بہت آہستہ تھی …
اچھی بات ہے …
کیونکہ صرف تمہارے وعدے کی وجہ سے میں نے آج تک کسی کو اپنی زندگی میں آنے نہیں دیا ..
میں نے اپنا فرض پورا کیا ہے اب تمہاری باری ہے …
مگر جب آنی کو اس سب کے بارے میں معلوم ہوگا تو کیا کریں گے …
وہ بول تو رہا تھا مگر اس وقت اسکو اپنے دل پہ ایک بوجھ سا محسوس ہو رہا تھا …
امی کی فکر مت کرو تم دانی ویسے بھی ہم نے انکی طبیعت کی وجہ سے تمہارے اور حرم کی نکاح کی بات چھپا رکھی ہے ..
اک بار سب ٹھیک ہو جائے انکی صحت بھی
پھر کچھ دن گزر جائے تو ہم بتا دیں گے انکو ..
آگے تمہاری اور حرم کی مرضی ہے ..
تمھیں اس سے رشتہ رکھنا ہے یا نہیں یہ میں تم پر چھوڑ رہی ہوں …
وہ لاپروہی سے بولتی ہوئی اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی …
تمھیں کیا لگتا ہے یہ سب کرنے کے بعد کیا سب کچھ ٹھیک رہے گا ..
اس نے بھی اپنی اک کوشش کی تھی سمن کو آگے آنے والے وقت کے بارے میں آگاہ کرنے کی .
‘ ” میں فلحال آگے کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتی ہوں اور تم بھی مت سوچوں …
وہ اپنی بات کہہ کر رکی نہیں تھی جبکہ اسکے جانے کے بعد وجدان کتنی ہی دیر حرم کے بارے میں سوچتا رہا تھا …
💞💞
‘ ” یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم وجدان
ہوش میں تو ہو ?
وجدان کی پوری بات سن لینے کے بعد سادیہ بیگم جیسے غصّے میں اسکی طرف دیکھ کر تیز آواز میں بولی تھی .
اس نے بات ہی ایسی کہی تھی کہ انکو اتنا شدید غصّہ آنا لازمی تھا.
میں کوئی بکواس نہیں کر رہا ہوں مام
اور اس وقت میں بلکل اپنے ہوش و حواس میں آپسے بات کر رہا ہوں ..
وہ ان سے بات تو کر رہا تھا مگر اس میں اس وقت ان سے نظریں ملانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی ..
لیکن میرے لیے تمہاری یہ بات کسی بکواس سے کم نہیں ہے
آخر تم نے حرم کے ساتھ ایسا کرنے کے بارے میں سوچ بھی کیسے لیا …
اور کتنی تقلیف دوگے تم اس معصوم کو ?
پہلے جو بھی کچھ تم کر چکے ہو کیا وہ کم تھا ..
سادیہ بیگم نے بہت ہی دکھ سے سامنے کھڑے اپنے بیٹے کو دیکھ تھا .
انکو بلکل امید نہیں تھی کہ وجدان پھر سے کچھ غلط کرنے کا سوچ رہا تھا ..
مام میں سمن سے وعدہ کر چکا ہوں کہ میں اس سے شادی کروں گا ..
ویسے بھی اب جب سب ٹھیک ہو گیا ہے تو میں سمن سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کرنا چاہتا ہوں .
وہ یہ بات کس طرح بول رہا تھا یہ بس اسکا دل ہی جانتا تھا
جبکہ وجدان کے الفاظ سن کر سادیہ بیگم کے کمرے میں آتی حرم کے قدم وہیں جم گئے تھے ..
اسکو لگا تھا کہ وہ اب اک قدم بھی نہیں چل پاۓ گی۔۔
کیا اسکے ظلم میں کچھ کمی رہ گئی تھی جو وہ پھر سے اسکو تقلیف دینے کے بارے میں سوچ رہا تھا ..
تم نے مجھ سے پوچھ کر سمن کو وعدہ نہیں کیا تھا دوسری بات میں تمھیں حرم کو یوں اس طرح سے تقلیف دینے کی اجازت بلکل بھی نہیں دوں گی ۔
وجدان کی بات سن کر انکا ارادہ اسکو زوردار تھپڑ مارنے کا تھا مگر وہ خود پر ضبط کیے ہوئے کھڑی تھی…
کتنی خوش تھی وہ اپنی بہن کے ٹھیک ہونے پر انکے بیٹے نے صحیح سے انکو خوش ہونے بھی نہیں دیا تھا ورنہ انکا ارادہ تھا کہ وہ اب حرم کے بارے میں انکو بتا دیں گی ….
مگر انکے بیٹے نے اب انکو خاموش رہنے پر مجبور کر دیا تھا ..
مام میں نے جو کہنا تھا میں کہہ چکا ہوں بہتر ہے آپ بھی سمجھ جائے …
اب وہ مزید وہاں کھڑا نہیں رہ سکتا تھا ..
اسکا دکھ ہو رہا تھا اپنی ماں کو یوں تقلیف دے کر
وہ بغیر انکی طرف دیکھے کمرے سے نکلا دروازے میں کھڑی حرم کو دیکھ کر وہ اک پل کے لئے رکا اور اک نظر اسکے چہرے پر ڈالی تھی ..
اسکا چہرہ دیکھ کر پہلی بار اسکو خود پر بےانتہا غصّہ آیا تھا ..
حرم نے صرف اک نظر اسکی طرف دیکھا تھا ..
کیا کچھ نہیں تھا اسکی ایک نظر میں ..
غصّہ ….درد ….نفرت ….
حرم بس اک نظر اسکو دیکھ کر وہاں سے تیزی سے اپنے روم کی طرف بھاگی تھی ..
وہ بس کھڑا اسکو خود سے دور جاتا دیکھتا رہا تھا ..
💞💞
سمن بیٹا یہ سب میں کیا سن رہا ہوں ..
جو کچھ بھی میں سن رہا ہوں کیا سچ ہے سب ?
ہاشم صاحب آج پھر سے پریشے سے ملنے آئں تھے مگر انہونے ہر بار کی طرح آج بھی ان سے ملنے سے انکار کر دیا تھا ..
جبکہ کل صفدر صاحب انکے پاس معافی مانگنے کے لئے آۓ تو انہونے انکو تو معاف کر دیا تھا
لیکن وہ ہاشم صاحب کو معاف کرنا تو دور ان سے مل بھی نہیں رہیں تھی .
ہر روز کی طرح وہ آج بھی واپس اداس لوٹ رہے تھے مگر جو خبر انہونے سادیہ بیگم سے سنی .
اس خبر کو سن کر انکی اداسی مزید بڑھ گئی تھی
صرف انکی وجہ سے حرم کو کتنا کچھ برداشت کرنا پڑ رہا تھا ..
انکو خود پر پہلے سے بھی زیادہ غصّہ آنے لگا تھا
حرم کے دکھ کا قصوروار وہ خود کو ہی مان رہے تھے ..
وہ پہلے ہی بہت کچھ سہ چکی تھی انکی وجہ سے
اب وہ اسکو مزید تقلیف میں نہیں دیکھنا چاہتے تھے .
جی ڈیڈ آپنے بلکل ٹھیک سنا ہے ..
سمن بےزاری سے بولی تھی
آج سادیہ بیگم اسکو صبح سے سمجھانے کی کوشش کر رہیں تھی ..
مگر اس نے ساری بات وجدان پر ڈال دی یہ کہہ کر کہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے سب وجدان کی مرضی سے ہو رہا ہے ..
جبکہ یہ بات الگ تھی کہ وہ جو کچھ بھی کر رہا ہے صرف اسکے کہنے پر کر رہا تھا
اس نے مجبور کیا تھا وجدان کو اپنی باتوں سے ..
‘ تو بیٹا تم منع کرو نہ اسکو …
حرم اسکے نکاح میں ہے اور تم کیسے ی سب جاننے کے بعد اس سے نکاح کر سکتی ہو ..
‘ انہونے اک اور کوشش کی تھی اسکو سمجھانے کی ..
شاید وہ انکی بات سن لے مگر ایسا نہیں تھا ..
‘ ” ڈیڈ آپ اور ہم سب بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ یہ نکاح کن حالاتو میں ہوا ہے .
جب وجدان ہی ی رشتہ رکھنا نہیں چاہتا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں بولنے والے ..
یہ صرف سمن کی سوچ تھی وہ اس وقت اتنی خودغرض بنی ہوئی تھی
اسکو صرف اپنی خوشی کی فکر تھی ..
‘ سمن کی بات پر ہاشم صاحب بس خاموشی سے اسکو دیکھتے رہ گئے تھے ..
کیا ہو رہا تھا انکی دونوں بیٹیوں کے ساتھ “
‘ اگر اک کو خوشی مل رہی تھی تو دوسری کی خوشیاں اسکی زندگی برباد ہو رہی تھی ..
اس وقت سب کچھ انکی بس سے باہر تھا وہ اور سادیہ بیگم خود کو بےبس محسوس کر رہے تھے ..
وہیں دوسری طرف حرم تھی ..
اسکی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ ہو رھا تھا اور کسی نے اس سے پوچھنا بھی ضروری نہیں سمجھا تھا ..
وہ کیا چاہتی ہے اسکی کیا مرضی ہے ..
کسی کو کوئی فکر نہیں تھی .
اس وقت حرم کی بس یہ ہی سوچ تھی.
اور کہیں نہ کہیں اسکی ی سوچ غلط بھی نہیں تھی..
نہیں میں اپنی زندگی کا فیصلہ اب خود کروں گی
بس بہت ہو گیا ..
جس نے مجھ جتنی اپنی مرضی چلانی تھی چلا لی ..
اب اور نہیں …
میں یوں اس طرح سے اپنی زندگی کا مذاق نہیں بننے دوں گی …
وہ کچھ سوچتے ہوئے اپنے بیڈ سے اٹھی تھی ..
چند لمحے لگے تھے اسکو فیصلہ کرنے میں
اور اس نے فیصلہ کر لی تھا جو اسکو اپنے لئے بہتر لگا تھا ….
💞💞
“”””””””””(جاری ہے )”””””””
