Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

‘ ” شام کا وقت تھا وہ گلاس وال کے پاس کھڑی لان میں دیکھ رہیں تھیں .
انکے روم سے لان کا سارا منظر صاف دکھائی دیتا تھا ..
شام کے وقت تو یہ نظارہ اور بھی خوبصورت لگتا تھا
وہ تو جیسے اس منظر میں کہیں کھو سی گئیں تھی .
‘ وہ یوں ہی کھڑی رہتیں جب جب انکے کمرے کا دروازہ کھول کر کوئی اندر داخل ہوا تھا ..
‘ ” آپی اگر آپ یہ کہنے آئی ہیں کہ وہ پھر سے مجھسے ملنے آئے ہیں تو کہ دیجئے ان سے کہ میں فلحال ملنا نہیں چاہتی ہوں ..
وہ واپس لوٹ جائں ۔۔
‘ پریشے بغیر اپنا رخ پھیرے بولی تھی
وہ سمجھی تھیں کہ روز کی طرح آج بھی اسکی آپی یہ ہی خبر دینے آئی ہو گی ..
‘ وہ ابھی ان سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی ..
اسکو یہ سب بھولنے میں تھوڑا وقت چاہیے تھا
ویسے بھی وہ سب تلخ باتیں بھولنا اتنا آسان بھی نہیں تھا…
جب جب وہ لمحے یاد کرتی تو اک درد سا اسکے سینے میں اٹھتا ہوا محسوس ہوتا تھا ..
اور دوسری وجہ ان سے نہ ملنے کی یہ بھی تھی کہ اگر اک بار بھی انکو دیکھ لیتی تو وہ خود پر کیا ہوا ضبط کھو دیتی …
انکی شکل دیکھنے کے بعد تو وہ ان سے زیادہ دن ناراض بھی نہیں رہ سکتی تھی …
‘ لیکن میں تو پھر سے تمہارا پاس لوٹنا چاہتا ہوں پری..
مجھے واپس مت لوٹنے دو …
میں ٹوٹ جاؤں گا …بکھر جاؤں گا …
ہاشم صاحب کا لہجہ ٹوٹا ہوا سا تھا ..
آج انہونے بھی سوچ لیا تھا کہ وہ آج اپنی پری سے بات کرکے ہی واپس جائے گے …
‘ ” سادیہ بیگم کی جگہ ہاشم صاحب کی آواز سن کر پریشے یکدم سے پلٹی تھیں ..
‘ ان کے لہجے میں جتنا درد تھا اس سے کہی زیادہ درد وہ انکے چہرے پر محسوس کر سکتی تھیں .
‘ اس دن کے بعد سے آج انہونے پہلی بار ہاشم صاحب کا مکمل جائزہ لیا تھا .
انکو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ وقت بس انکو چھو کر گزرا ہو ..
‘ جبکہ وہ اپنی بیماری کی وجہ سے کافی کمزور ہو چکی تھی ..
‘ اور میں جو ٹوٹی تھی اسکا کیا ہاشم …
آپکی بےاعتباری نے مجھے مار دیا تھا میری روح تک کو زخمی کیا تھا ..
میرے لئے وہ اذیت بھولنا اتنا آسان نہیں ہے ہاشم
”اپنی بات ختم کرکے انہونے پھر سے اپنا رخ گلاس وال کی طرف کیا تھا ..
‘ میرا حال تم سے مختلف نہ تھا پریشے
میں نے بھی درد میں زندگی گزاری ہے .
ٹوٹا میں بھی تھا ..
میں اپنی غلطی تسلیم کرتا ہو…
مجھے تم پر اعتبار کرنا چاہئے تھا ….
‘ لیکن اب تو تمھیں سب کچھ معلوم ہو چکا ہے ..
کیا پھر بھی معاف نہیں کرو گی مجھے ?
‘ جبکہ تم اسکو معاف کر چکی ہو جسکی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا ہے ..
بس اک میں ہی رہ گیا ہوں جس سے تم ناراض ہو …
‘ بس اب ختم کرو یہ سزا معاف کر دو مجھے .
میں تھک گیا ہوں اکیلے رہتے رہتے ..
بس اب لوٹ آؤ میرے پاس …
‘ ‘وہ پریشے کی پشت کو دیکھ کر بول رہے تھے
وہ چاہتے تھے کہ اک بار پری انکی طرف دیکھ انکی آنکھوں میں جو درد ہے اسکو محسوس کرے ..
لیکن وہ ایسے ہی کھڑی انکو سن رہیں تھیں ..
‘ جبکہ انکے اک اک لفظ سن کر اس میں چھپے درد کو محسوس کر کے پریشے کی آنکھیں نم ہوئی تھی ..
اور جانے کتنے ہی آنسوں بہت خاموشی سے انکی آنکھوں سے گرے تھے …
ہاشم آپ پلیز یہاں سے چلے جائں۔
مجھے اکیلا چھوڑ دیں ..پلیز …..
پریشے نے بہت ہی مشکل سے یہ الفاظ کہے تھے ..
‘ ‘ میں اب تو چلا جاؤں گا پری
لیکن ہر روز میں اسی طرح سے تم سے معافی مانگنے آتا رہوں گا …
جب تک تم مجھے معاف نہیں کر دیتی .
اور دیکھنا تم خود اک دن مجبور ہو جاؤ گی مجھے معاف کرنے کے لئے …
اور وہ دن بھی انشاءلله جلد ائے گا جب تم پھر سے میری زندگی میں لوٹ آؤ گی …
‘ ہاشم صاحب اپنی بات مکمل کر کے وہاں رکے نہیں تھے …
‘ انکے جانے کے بعد پریشے نے بھیگی آنکھوں سے بند دروازے کو دیکھا تھا .
وہ جانتی تھی کہ ہاشم بہت شرمندہ ہیں انکا کہا ایک ایک لفظ میں انکے لئے بےپناہ محبت ہے ..
‘ آج ہاشم خان سے اپنے سارے شکوے کرکے وہ اک سکون سا محسوس کر رہیں تھیں اپنے اندر .
اور یہ بات تو خود بھی جانتی تھیں کہ وہ اپنے ہاشم سے زیادہ دن تک ناراض نہیں رہ سکتی تھیں ..
💞💞
‘ ” دانی بیٹا کیا ہوا آپ کھانا کیوں نہیں کھا رہے ہو
جبکہ آج تو سب کچھ تمہاری ہی پسند کا بنا ہوا ہے ..
‘ سادیہ بیگم فکرمندی سے وجدان کی طرف دیکھ کر بولی تھیں جو کھانا چھوڑ کر بس ایک ٹک اپنے موبائل کو دیکھ رہا تھا ..
جیسے اسکو کسی خاص کال کا انتظار ہو .
یا شاید تھا اسکو کسی کی کال کا انتظار ….
جبکہ سادیہ بیگم کی بات سن کر کھانا کھاتی سمن اور پریشے نے بھی اسکی طرف دیکھا تھا…
‘ ” بس مام میرے فلحال کچھ بھی کھانے کا دل نہیں کر رہا ہے ..
وہ انکو جواب دیکر اپنے موبائل میں کچھ چیک کرنے لگا تھا …
‘ کیوں بیٹا دل کیوں نہیں کر رہا ہے تمہارا
تھوڑا سا تو کھا لو ..
ویسے بھی میں دیکھ رہی ہوں کہ تم کچھ دنوں سے بہت ہی خاموش رہنے لگے ہو .
بلکہ کھانا بھی تم نے بہت کم کر دیا ہے …
‘ اور چھوٹی والے دن بھی تم زیادہ اپنے کمرے میں ہی رہتے ہو ..
کوئی پریشانی ہے تو بتاؤ ہم سب تمہارے اپنے ہی ہے …
‘ ” اس بار پریشے اسکی طرف دیکھ کر بولی وہ جب سے ٹھیک ہوئی تھی وجدان پر بہت غور کر رہیں تھیں.
‘ وہ ان سے بھی زیادہ بات نہیں کرتا تھا ..
‘ ” نہیں آنی ایسی کوئی بات نہیں ہے بس کام کی وجہ سے تھوڑا مصروف رہتا ہوں اس لئے وقت کم ہوتا ہے میرے پاس …
‘ ” پریشے کی بات پر وہ تھوڑا شرمندہ ہوا تھا
حرم کی وجہ سے وہ اپنی آنی کو بھول ہی چکا تھا ..
‘ اسکی بات پر سمن اور سادیہ بیگم بس خاموشی سے اسکی طرف دیکھ کر رہ گئی تھیں ..
کیونکہ وہ دونوں اچھے سے جانتی تھی کہ آج کل اسکی مصروفیت کیا تھی …
وہ انکو جواب دیکر اپنی جگہ سے اٹھ ہی رہا تھا کہ ٹیبل پہ رکھا اسکا فون یکدم سے بجا تھا ..
اسکرین پر احمد کا نام دیکھ کر اس نے اک بھی لمحہ ضائع کیے بغیر کال پک کی تھی …
‘ ہاں بولو احمد ..
اسکے بولنے سے پہلے ہی وہ یکدم سے بولا تھا …
‘ ” تم نے ٹھیک سے پتہ کیا ہے نہ
مجھے کوئی غلطی نہیں چاہئے …
احمد کی بات سن کر اسکو خوشی تو ہوئی تھی مگر وہ پوری طرح سے کنفرم کرنا چاہتا تھا …
‘ ” ٹھیک ہے مجھے ایڈریس سینڈ کرو
میں ابھی نکلتا ہوں ..
وہ جلدی سے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا ..
‘ آخر اتنے دنوں بعد اسکو اچھی خبر ملی تھی اسکو بس جلد سے جلد وہاں جانا تھا ..
‘ ” کیا بات ہے اتنی جلدی میں کہاں جا رہے ہو بیٹا
اسکو تیزی سے وہاں سے اٹھتا دیکھ سادیہ بیگم پریشن ہوئی تھی …
‘ مام میرے پاس فلحال وقت نہیں ہے میں آپکو بعد میں بتا دوں گا …
اور ہاں آپ پریشان نہ ہو پریشانی والی کوئی بات نہیں ہے ..
وہ انکو جواب دیتا تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھا تھا
اور کچھ دیر بعد اپنا کچھ ضروری سامان لئے انکو سلام کرتا اپنی کار کی طرف بڑھا تھا ….
‘ ” اسکی اتنی جلد بازی نے سمن کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا ..
💞💞
‘ ” وہ جب سے پریشے کے پاس سے آئں تھے بس تب سے لاؤنج میں اک ہی پوزیشن میں بیٹھے ہوئے تھے ..
‘ اس وقت انکی سوچوں میں پریشے تھی .
انکی پریشے ..
آج پری کا کہا اک اک لفظ ابھی بھی انکے کانوں میں گونج رہا تھا ”
‘ ” کتنے سالوں بعد آج انہونے اپنی پری کی آواز سنی تھی .
اس سے بات کی تھی …
‘ اب انکو پوری امید تھی کہ پریشے انکو دیکھنے اور انکی بات سن لینے کے بعد ضرور معاف کر دیگی ..
‘ ” پتہ نہیں کیوں لیکن انکو اس بات کا یقین تھا کہ پری کا دل انکو دیکھ کر ضرور پگھل جائے گا ..
‘ ” آج پریشے سے بات کر کے انہیں اور انکے دل کو کچھ سکون ملا تھا ..
‘ تایا جان ..
آپ فکر نہ کریں ہم حرم کو جلد تلاش کر لیں گے ..
وجدان اور میں ہم دونوں اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں ..
‘ انشاءلله ایک دو دن میں حرم کے بارے میں ہمیں معلومات ضرور ملے گی ..
‘ ولید انکو لاؤنج میں اکیلا بیٹھا دیکھ کر انکے پاس آتا تھا ..
‘ ” اسکو لگا کہ وہ حرم کی وجہ سے پریشان بیٹھے ہیں ..
اسکے پیچھے صفدر صاحب بھی انکے پاس آئے تھے۔
‘ ” وہ اپنی طرف سے پوری کوشش کر چکے تھے لیکن ابھی بھی سب کچھ پوری طرح سے ٹھیک نہیں ہوا تھا …
‘ ” اور سب کچھ ٹھیک ہونے میں تھوڑا تو وقت لگنا تھا ..
مگر فلحال تو انکے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ پریشے انکو معاف کر چکی ہے ..
‘ ” بس جب پریشے انکے بھائی کو معاف کر دیگی تو تب شاید انکا بھائی بھی انہیں معاف کر دیں ..
‘ صفدر صاحب کی یہ سوچ تھی جو کچھ حد تک صحیح بھی تھی …
‘ ولید کی بات پر نظریں اٹھا کر انہونے ولید کو دیکھا اسکے پیچھے کھڑے اپنے بھائی کو دیکھ کر انہونے پھر سے اپنی نگاہ ولید کی طرف کی تھی …
‘ نہیں بیٹا میں حرم کے لئے فکرمند نہیں ہوں کیونکہ حرم کوئی چھوٹی بچی نہیں ہے ..
جو یوں اس طرح سے کہیں بھی چلی جائے گی …
‘ کچھ سوچ کر ہی اس نے یہ فیصلہ لیا ہے
اور اگر تم لوگوں کو وہ مل جائے تو اس سے اچھی بات میرے لئے اور کیا ہو سکتی ہے …
‘ وہ ولید کی طرف دیکھ کر ہلکا سا مسکرا مسکرائں تھے ..
جو بھی تھا وہ انکو اپنے بیٹے کی طرح عزیز تھا ویسے بھی اسکی اتنی بھی بڑی غلطی نہیں تھی کہ وہ اسے معاف نہ کرتے …
‘ ” چلیں یہ تو اچھی بات ہے …
اور میں چاہتا ہوں کہ آپ کوئی ٹینشن نہ لیں ۔
میں نے صحیح کہا نہ ڈیڈ …
‘ ” وہ دوسرے صوفہ پہ بیٹھے اپنے ڈیڈ سے مخاطب ہوا تو انہونے اسکی بات پر ہاں میں گردن ہلائی تھی..
‘ “اچھا بیٹا میں اپنے کمرے میں جا رہا ہوں آرام کرنے اور تم بھی جاؤ …
پورا دن کام اور حرم کی وجہ سے پریشان رہتے ہو ..
تم بھی جاکر تھوڑا آرام کر لو …
ہاشم صاحب اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے اور اپنے کمرے کی طرف چل دئے تھے …
وہ جانتے تھے کہ ولید بھی آج کل حرم کے لئے کافی پریشان رہتا ہے ..
اس لئے انکے لہجے میں اسکے لئے فکر تھی ..
انکی بار سن کر ولید بھی وہاں سے چلا گیا تھا …
ان دونوں کے جانے کے بعد صفدر خان لاؤنج میں اکیلے رہ گئے تھے …
💞💞
” وہ تیز تیز قدم اٹھاتی اپنے فلیٹ کی طرف جا رہی تھی ..
اندھیرے کی وجہ سے اب سڑکوں پر لائٹ جل چکی تھی ..
‘ ” آج اسکو پارک میں بیٹھے بیٹھے بہت دیر ہو گئ تھی ..
پھر کچھ ضروری چیزوں کی شاپنگ بھی کرنے کی وجہ سے اسکو واپسی پر آج دیر ہو گئی تھی ..
‘ اب جب وہ یہاں رہ رہی تھی تو بہت سی ایسی چیزیں تھی جنکی اسکو ضرورت ہوتی رہتی تھی اس لئے دھیرے دھیرے سب خرید رہی تھی …
‘ ” اسکو شروع سے ہی اکیلے رہنے کی عادت تھی اس لئے یہاں اسکو کوئی پریشانی نہیں ہوتی تھی …
‘ فلیٹ میں داخل ہوکر اس نے اچھی طرح سے دروازہ لاک کیا اور سامان لیکر کچن کی طرف بڑھی …
‘ سامان کچن میں رکھ کر لاؤنج میں آئی اور اپنی چادر اتار کر وہاں موجود صوفہ پر ڈال کر کمرے کی طرف بڑھی تھی …
‘ ” یہ فلیٹ زیادہ بڑا نہیں تھا لیکن اسکے رہنے کے لئے کافی تھا ..
‘ ” کمرے میں جاکر اسکا ارادہ تھوڑی دیر آرام کرنے کا تھا
کھانا اس نے تھوڑی دیر بعد اٹھ کر بنانے کے بارے میں سوچا تھا …
‘ ” مگر وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی اپنے بیڈ پر بیٹھے شخص کو دیکھ کر اپنی جگہ کھڑی کی کھڑی رہ گئی تھی ..
‘ ” آپ …یہاں کیسے ?
اسکے ہونٹوں سے بہت ہی آہستہ سے صرف یہ لفظ ادا ہوئے تھے..
جس شخص کو کبھی نہ دیکھنے کے بارے میں سوچا تھا …
آج وہ اسکے سامنے موجود تھا …
‘ ” پورے بیس دن پندرہ گھنٹے دس منٹ اور بارہ سیکنڈ ..
صرف اتنے دن میں بھول گئی کہ میں کون ہوں ..
‘ “میرے لئے کچھ بھی ناممکن نہیں ہے …
وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اسکے قریب بڑھ رہا تھا جبکہ اسکی نظریں حرم کے چہرے پر جمی ہوئی تھی..
‘ ” اسکی شکل دیکھ کر کتنا سکون ملا تھا اسکو ..
” آپ کیوں آئے ہیں یہاں ?
اسکو اپنی طرف بڑھتا دیکھ حرم کی دھڑکنے یکدم سے تیز ہوئی تھی ..
‘ ” گھر چھوڑ کر کیوں آئی تم ?
اس نے حرم کے سوال میں اپنا سوال کیا تھا …
‘ ‘ میری مرضی میں کہیں بھی جاؤ آپ مجھے روکنے والے کون ہوتے ہیں ..
وجدان کا سوال اسکو غصّہ دلا گیا تھا …
اس نے ہی تو مجبور کیا تھا اسکو وہ گھر چھوڑنے پر اوپر سے اب انجان بن کر پوچھ رہا تھا کہ وہ کیوں آئی وہاں سے …
‘ ” حرم کی بات اور اسکے چہرے پر غصّہ دیکھ کر وہ مسکرایا اور ہاتھ بڑھا کر اس نے حرم کو بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا …
‘ ” حرم جو آرام سے کھڑی تھی وجدان کے کھینچنے پر سیدھا اسکے سینے سے آں لگی تھی ..
اب چہرے پر غصّے کی جگہ شرم اور گھبراہٹ نے لے لی تھی …
‘ ” میں تمہارا کون ہوں اس بات کا جواب میں تمھیں اپنے طریقے سے دے سکتا ہوں
مگر تمھیں میرا طریقہ شاید پسند نہ آئے ۔
وہ اسکو گہری نظروں سے دیکھتا ہوا بولا ..
‘ اسکا دل تو چاہ رھا تھا کہ اسکو بتا دیں لیکن خود پر ضبط کرنا پڑا تھا ..
‘ ” جبکہ اسکی بات اور وجدان کی گہری بولتی ہوئی نظروں سے حرم کا حلق تک خشک ہوا تھا اسکو اس وقت اپنی ٹانگوں پر کھڑا رہنا مشکل لگ رہا تھا ..
‘ ” کیا ہوا خاموش کیوں ہو گئی ..
ابھی تو میں نے صرف ایک بات ہی بولی ہے ..
وہ اسکی حالت سے لطف لیتا ہوا بولا
اسکی نظریں حرم کے چہرے پر ہی جمی ہوئی تھی اور حرم کا بازو ابھی بھی اسکی گرفت میں تھا ..
‘ ” آپ ابھی اور اسی وقت میرے گھر سے چلے جائے ورنہ میں …
حرم بات پر اپنا بازو اسکی گرفت سے آزاد کراتی ہوئی بولی تھی …
‘ “آج وجدان کی باتیں اسکی حالت خراب کڑ رہی تھی..
‘ ” ورنہ کیا ?
” مجھے گھر سے نکال دوگی ..
اس نے آپنا بازو آزاد کراتی حرم کو دیکھا اور اپنا دوسرا ہاتھ اسکی کمر مین ڈال کر اسکو خود سے مزید قریب کیا تھا…
” ‘جی صحیح لگا آپکو …
اور چھوڑے مجھے یہ سب کر کے آپ آخر ثابت کیا کرنا چاہ رہے ہیں ..
” وہ اسکی پکڑ میں بری طرح مچلتی خود کو آزاد کرانے کی اپنی سی کوشش کر رہی تھی .
مگر وجدان کی مضبوط پکڑ کے آگے اسکی کوشش ناکام ھو رہی تھی …
‘ ” چلو میں تمہاری یہ غلطفہمی بھی دور کر دیتا ہوں کہ اس وقت تم جہاں کھڑی ہو نہ وہ میرا گھر ہے
میں تمہاری دوست سے خرید چکا ہوں ..
اس نے جیسے بم سا پھوڑا تھا حرم کی سر پہ ..
” ہاں وہ وجدان شاہ تھا اسکے لئے تو کچھ بھی ممکن تھا…
‘ ” اور دوسری بات میں فلحال تو کچھ ثابت نہیں کرنا چاہ رہا ہوں ..
جب کروں گا تو تمھیں بتا دوں گا …
” وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ کر جتانے والے انداز میں بولا اور یکدم سے اسکو اپنی پکڑ سے آزاد کیا تھا …
‘ ” اب جاؤ یار جلدی سے کچھ بنا کر لے آؤ بہت بھوک لگی ہے مجھے باقی باتیں کھانے کے بعد کرتے ہیں..
وہ دوستانہ انداز میں بولتا بیڈ پر گرنے کے انداز میں لیٹا تھا ….
‘ ” حرم اسکی حرکت دیکھ رہی تھی
اسکو لگا تھا کہ وہ شاید اس سے معافی مانگنے آیا ہے مگر ی اسکی خوشفہمی تھی جو اس نے دور کڑ دی تھی …
‘ ” اور سنو یار جلدی آنا ..
وہ کمرے سے باہر نکل رہی تھی جب وہ اسکو دیکھ کر بولا …
مگر وہ اسکی بات کا کوئی جواب دئے بغیر کمرے سے نکلی تھی …
💞💞
“”””””””(جاری ہے )””””””””
💞💞💞💞