Harjai By Iqra Sheikh Readelle50203 Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
‘ ” میں تم لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ آخر تم سب کہاں تھے اس وقت جب وہ یہاں سے جا رہی تھی ..
” تم میں سے کسی نے اسکو روکا کیوں نہیں .
” جواب دو مجھے ..
” ‘ اسکی دہاڈ اس وقت پورے لاؤنج میں گونج رہی تھی ….
” جبکہ اسکے غصّے سے سارے ملازم ایک کونے میں سہمے کھڑے تھے ..
” ‘ میں تم لوگوں سے کچھ پوچھ رہا ہوں جواب دو مجھے ..
‘” وہ اک بار پھر غصّے میں بولا تھا
اس وقت اسکی رگے تنی ہوئی تھی جبکہ ضبط کی وجہ سے آنکھیں لال ہو چکی تھی …
‘ ” اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ اپنے سامنے کھڑے وہ سارے ملازموں کا قتل ہی کر دیتا ..
ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو وہ آفس سے لوٹا تھا مگر حرم اسکو کہیں نہ ملی پورا گھر ڈھونڈھ لینے کے بعد اس نے سارے ملازموں کو بلایا تھا .
سادیہ بیگم اور سمن پریشے کے پاس تھی اس لئے وہ انکے پاس نہیں گیا تھا ..
کیونکہ وہ ابھی بھی حرم کے بارے میں نہیں جنتی تھی….
‘ ” اسکی دہاڈ پر سارے ملازم اک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے تھے
کسی میں ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی کہ اسکی بات کا جواب دے سکے …
‘ ” میں نے منع کیا تھا ان لوگوں کو کہ اسکو جانے سے کوئی نہ روکے …
‘ ” وہ کھڑا خونخار نظروں سے ان سب کو دیکھ رہا تھا جب اسکو اپنے پیچھے سے صادیہ بیگم کی آواز سنائی دی تھی ..
‘ ” انکی بات سن کر وہ یکدم سے انکی طرف مڑا تھا..
” اس بیچ سادیہ بیگم سبھی ملازموں کو وہاں سے جانے کہ اشارہ کر چکی تھی ..
‘ ” مام آپنے اسکو کیسے جانے دیا یہ جاننے کے باوجود بھی کہ میں اسکے بغیر ادھورا ہوں
نہیں رح سکتا میں اسکے بنا ..
” وہ بےیقینی سے انکی طرف دیکھا ھوا بول رہا تھا..
اسکی بات سن کر وہ حیران ہوئی تھی
یہ کیا کہہ رہا تھا انکا بیٹا ..
اگر اتنی ہی محبت تھی تو کیوں کر رہا تھا یہ سب اسکے ساتھ …
‘ ” تم نے اج تک اسکے ساتھ جو بھی کیا ہے میں خاموشی سے دیکھتی رہی ہوں دانی
.. اور آج اس نے پہلی بار مجھ سے کچھ مانگا تھا میں انکار نہیں کر سکی ..
‘ ” وہ اپنے بیٹے کی طرف دیکھتے ہوئے بول رہیں تھی وہ جانتی تھی کہ انہونے اسکے ساتھ غلط کیا ہے مگر وہ اپنے بیٹے کو اسکی غلطیوں کا احساس دلانا چاہتی تھی
” ‘ اس لئے یہ کرنا بہت ضروری تھا ..
” ‘ مام یہ آپنے اچھا نہیں کیا ہے ..
سادیہ بیگم کی بات پر وہ دکھ سے انکی طرف دیکھتا رہ گیا تھا ..
مگر میں اسکو اتنی آسانی سے جانے نہیں دوں گا ..
آپ مجھے بس اتنا بتا دیں کہاں گئی ہے وہ ..
اس بار وہ نرم انداز میں بولا تھا ..
مجھے نہیں معلوم کہ وہ کہاں گئی ہے کس کے پاس گئی ..
اس نے صرف مجھسے یہاں سے جانے کی اجازت مانگی اور میں اسکو منع نہیں کر سکی تھی ‘ ‘
‘ ” وہ اک شکوہ بھری نگاہ ان پر ڈالتا باہر کی طرف بڑھا تھا …
‘ ” دانی رک جاؤ تم پہلے ہی اسکے ساتھ بہت کچھ غلط کر چکے ہو مگر اب نہیں
اسکو وقت دو وہ شاید خود ہی واپس آ جائے گی ..
‘ ” مگر تم پھر سے اسکے ساتھ زبردستی مت کرو .
‘ ” وہ اسکو باہر کی طرف بڑھتا ھوا دیکھ کر بولی تھی ..
‘ ” جانتی تھی اپنے بیٹے کو جو وہ کہتا ہے اسکو پورا کرکے ہی رہتا تھا .
پھر چاہے سامنے والے کی اس چیز میں مرضی ہو یا نہ ہو ..
‘ ” نہیں مام وہ ایسے نہیں جا سکتی اسکو یہیں واپس آنا ہے
کیونکہ وہ میری ہے صرف میری ..
‘ ” اور جب وہ میری ہے تو اس میں زبردستی کیسی …
” اپنی بات کہہ کر وہ رکا نہیں تھا لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا .
” جبکہ سادیہ بیگم خاموشی سے بس اسکو جاتا دیکھتی رہیں تھیں …
” ‘ وہ تیزی سے اپنی کار کی طرف آیا اور جلدی سے بیٹھ کر کار اسٹارٹ کی تھی ..
‘” ” وہ اسکو اتنی آسانی سے خود سے یوں دور جانے نہیں دیگا …
اسکے دماغ میں بر بار سادیہ بیگم کے الفاظ گونج رہے تھے ..
‘ ” وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہیں تھی
کتنی تقلیف دی تھی اس نے اج تک اسکو
بلکہ وہ اک اور نئی تقلیف اسکو دینے جا رہا تھا ..
” یہ جاننے کے باوجود بھی کہ اسکو کتنا دکھ ہوا ہوگا اسکے اس فیصلے سے ..
” ‘ پانچ ماہ صرف پانچ ماہ پہلے وہ جس لڑکی سے بےپناہ نفرت کا اظھار کرتا تھا مگر ان پانچ مہینوں میں اسکی یہ نفرت کہیں کھو سی گئی تھی ..
” وہ اس سے عشق کرنے لگا تھا .
کبھی کبھی تو وہ سوچتا تھا کہ وہ اسکو یوں اس طرح نا ملی ہوئی ہوتی کاش وہ اسکو الگ جگہ الگ حالات میں ملی ہوتی تو اسکی زندگی کتنی حسین ہوتی …
” مگر ایسا نہیں تھا وہ اسکو غلط وقت پر ملی تھی اور اسی کی سزا وہ اسکو دیتا آیا تھا یہ جاننے کے باوجود بھی کہ وہ بےقصور تھی ..
” ‘ وہ اب صرف پچھتانے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتا تھا ”
سب سے پہلے وہ ہاشم صاحب کے گھر گیا تھا مگر ان لوگوں کو بھی حرم کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا ..
بلکہ اسکے جانے پر وہ لوگ بھی پریشان ہو گئے تھے وہاں سے وہ دیر رات تک وہ اور ولید سڑکوں پر اسکو تلاش کرتا رہا مگر وہ اسکو کہیں نہ ملی تھی
لیکن اس نے سوچ لیا تھا وہ حرم کو ڈھونڈھ کر اسکو اک دن واپس ضرور لے آۓ گا.
💞💞
‘ “بھائی صاحب آپکو کیا لگتا ہے ..
ہم لوگ جو کر رہے ہیں وہ ٹھیک تو کر رہے ہیں نہ ..
اگر وجدان کو معلوم ہو گیا تو کیا ہوگا ..
سادیہ بیگم فکر مندی سے ہاشم صاحب کی طرف دیکھ کر بولی تو انکی بات پر ہاشم صاحب ہولے سے مسکرا دیے تھے …
وہ آۓ تو تھے اپنی پری سے ملنے مگر آج بھی پریشے ان سے ملی نہ تھی ..
سادیہ بیگم کو برا لگتا تھا مگر وہ کر بھی کیا سکتی تھی ..
اس لیے وہ انکی اداسی کم کرنے کے لئے حرم کے بارے میں بات کرنے لگی .
لیکن حقیقت میں وہ بہت فکرمند تھی حرم اور وجدان کے بارے میں سوچ کر ..
آپ مسکرا رہے ہیں اور مجھے وجدان کے بارے میں سوچ کر فکر ہو رہی ہے .
سادیہ بیگم انکو مسکراتا دیکھ کر خفگی سے بولی
‘ اتنا کچھ ہو رہا تھا پچھلے اک ہفتے سے انکا بیٹا پاگلوں کی طرح حرم کی تلاش میں لگا ہوا تھا مگر اسکا کچھ پتہ نہیں چل پا رہا تھا ..
اور وہ لوگ سب جاننے کے بعد بھی اسکے سامنے انجان بنے رہتے تھے اس بات سے …
بس اسکی سامنے حرم کے لئے جھوٹی فکرمندی دیکھاتے رہتے تھے …
‘ کچھ معلوم نہیں ہوگا کہ حرم کہاں ہے .
ویسے بھی میں اور آپ ہی اس بات سے واقف ہیں کہ حرم اس وقت کہاں موجود ہے ..
اور اگر وجدان نے حرم کو ڈھونڈھ بھی لیا تو حرم کبھی نہیں بتاۓ گی کہ ہم لوگ سب جانتے تھے …
اس لئے آپ بےفکر رہو ..
‘ ” اور اسکو حرم کے لئے پریشان ہوتا دیکھتی رہو جب تک اسے اپنی غلطیوں کا احساس نہیں ہو جاتا کہ وہ کیا کچھ کر چکا ہے اور کیا کرنے جا رہا تھا ..
تب تک ہم اسکو کچھ نہیں بتایں گے ..
‘ ‘ اور آپ اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکتی اسکی آنکھوں میں حرم کے لئے تڑپ اور محبت دیکھ کر مجھے کتنا سکون ملا ہے …
آپ دیکھ لینا وہ اپنا فیصلہ بدلنے پر بھی مجبور ہو جائے گا ..
ہاشم صاحب بول رہے تھے اور سادیہ بیگم انکی بات سن کر فکرمندی کم ہوتی جا رہی تھی ..
حرم کو جانے کی اجازت انہونے صرف اس شرط پر دی تھی کہ حرم انہیں بتا کر جائے کہ وہ کہاں جا رہی ہے ..
اور حرم نے بھی ان سے وعدہ لیا تھا کہ وہ وجدان کو بلکل نہیں بتایں گی کہ وہ کہاں ہیں ..
اور انہونے وعدہ کر بھی لیا تھا کیونکہ انکو حرم کا فیصلہ بلکل صحیح لگا تھا .
اگر وجدان کے دل میں حرم کے لئے ذرا بھی قدر ہوگی یا اس رشتے کی تو وہ پریشان ضرور ہوگا اسکے لئے ..
مگر وجدان کی آنکھوں میں حرم کے لئے تڑپ اور محبت دیکھ کر جہاں وہ حیران ہوئی تھیں وہیں بہت خوشی بھی ہوئی تھی انکو ….
بس انہونے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ تب نہیں بتایں گی جب تک وہ اپنا فیصلہ نہ بدل لے …
کیونکہ وجدان کے اس فیصلے سے ان تینوں کی زندگی برباد ہونی تھی ..
انکو سمن کے لئے بھی برا لگ رہا تھا مگر حرم اسکی بیوی تھی
اک رشتے کو جوڑنے کے لئے وہ دوسرے رشتے کو توڑوانا نہیں چاہتی تھیں …
‘ جی بھائی صاحب آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ..
وجدان کی آنکھوں میں حرم کے لئے محبت دیکھ کر سمن بھی سمجھ جائے گی …
اور وہ خود بھی اس رشتے سے منع کر دیگی
یہی ان تینوں کے لئے بہتر ہوگا …
جی بلکل درست کہا آپنے ..
ہاشم صاحب کو بھی انکی بات ٹھیک لگی تھی ..
سمن کی طرح حرم بھی میری بیٹی ہے
اور میں یہ بلکل برداشت نہیں کر سکتا کہ اک بہن دوسری بہن کے گھر ٹوٹنے کی وجہ بنے …
‘ ” جی بھائی صاحب آپ …
اس سے پہلے کہ سادیہ بیگم انکی بات کا کوئی جواب دیتی انکی نظر گھر میں داخل ہوتے وجدان پر پڑی تھی …
‘ ” بیٹا کچھ پتہ چلا میری بیٹی کا ..
وہ ان دونوں کو سلام کرتا اپنے روم کی طرف جا رہا تھا جب ہاشم خان نے اسکو روکا تھا …
نہیں انکل …کچھ معلوم نہیں ہوا پتہ نہیں کہاں چلی گئی ہے …
اسکے لہجے میں حرم کے لئے فکر تھی ..
مل جائے گی بیٹا وہ بچی نہیں ہے
سادیہ بیگم نے ہاشم صاحب کی طرف دیکھا تھا ..
ہاں مام وہ بچی نہیں ہیں لیکن اس نے اس طرح گھر سے جاکر بچوں والی حرکت کی ہے ..
اسکا لہجہ تھکا ہوا سا لگا تھا انہیں …
سادیہ بیگم نے اک نظر اپنے بیٹے کی طرف دیکھا جسکے چہرے پر اس وقت اداسی تھی ..
صرف اک ہفتے میں کیا حالت ہو گئی تھی اسکی ..
ان دونوں کو دکھ ہوا تھا اسکی حالت دیکھ کر مگر یہ سب بھی اسکے لئے ضروری تھا …
وہ کچھ دیر وہاں بیٹھ کر تھاکہ ہارا اپنے کمرے کی طرف بڑھا تھا ..
💞💞
‘ ” وہ نہ جانے کب سے یونہی بیٹھی ہوئی پارک میں بچوں کو کھیلتے اور لوگوں کو ادھر سے ادھر ٹہلتا ہوا دیکھ رہی تھی …
کتنے خوش تھے یہ سب ..
اپنی زندگی میں مطمعین ..
‘ اک وہ تھی پوری فیملی ہونے کے باوجود بھی بلکل تنہا..
لیکن تنہا رہنے کا فیصلہ بھی تو اسکا خود کا تھا ..
اور وہ اپنی جگہ بلکل صحیح بھی تھی
آخر کیوں رہتی وہ وہاں اس شخص کے پاس جسکے دل میں نہ تو اسکے لئے کوئی قدر ہے نہ اس رشتے کی…
اور اک وہ تھی جو کب کا اس رشتے اور اس ظالم شخص کو قبول کر چکی تھی بلکہ اس سے محبت بھی کرنے لگی تھی …
محبت ….ہاں محبت کرنے لگی تھی وہ اس شخص سے جو ہمیشہ ہی اسکی تقلیف کی وجہ رہا ہے .
لیکن وہوہاں رہ کر اپنی محبت کی اور اس رشتے کی توہین ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی تھی …
یہ فیصلہ اسکے لئے بہت مشکل تھا
اس شخص سے دور جانا جس کی محبت میں پوری طرح گرفتار ہو چکی تھی ..
یہ جاننے کے باوجود بھی کہ اس شخص کی نظر میں اسکے احساسات کی شاید کوئی اہمیت ہی نہیں ہوگی…
پر وہ آ گئی تھی وہ گھر چھوڑ کر ..وہ شہر چھوڑ کر..
کبھی واپس نہ جانے کے لئے ..
ایک پورا ہفتہ تو گزر چکا تھا اسکو یہاں آۓ ہوئے بس اب جلد سے جلد یہ شہر بھی بدل دینا چاہتی تھی ..
‘ کیونکہ اسکو ڈر تھا کہ کہیں سادیہ بیگم اور اسکے ماموں وجدان کو بتا نہ دیں وہ کہاں ہیں ..
اور وہ اسکے پاس ضرور آۓ گا وہ یہ بات بہت اچھی طرح سے جانتی تھی ..
‘ لیکن وہ اب کبھی واپس نہیں جائے گی یہ تو اس نے سوچ ہی لیا تھا ..
اپنے ماموں اور سادیہ بیگم کو فلحال تو اس نے بتا دیا تھا کہ وہ کہاں جا رہی ہے ..
تاقی وہ لوگ اسکے لئے پریشان نہ ہو لیکن وہ اب اس جگہ بھی مزید رکنا نہیں چاہتی تھی ..
‘ ” کچھ دیر اور ایسے ہی بیٹھے رہنے کے بعد وہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی اسکا ارادہ تھوڑی سی شاپنگ کے بعد گھر جانے کا تھا …
وہ ابھی جس گھر میں رہ رہی تھی یہ اسکی دوست کا گھر تھا جو لندن میں اسکے ساتھ پڑھ چکی تھی اس لئے اسکو گھر کو لیکر زیادہ پریشانی نہیں ہوئی تھی ..
وہ آہستہ سے قدم اٹھاتی سڑک کی طرف آئی تھی.
💞💞
دانی کیا بات ہے …
میں کچھ دن سے دیکھ رہی ہوں تم بہت پریشان رہنے لگے ہو …
‘ کہیں اسکی وجہ حرم تو نہیں ہے ..
سمن کا لہجہ چبھتا ہوا سا تھا جو وجدان کو بلکل پسند نہیں آیا تھا ..
‘ ویسے بھی اسکو شروع سے ہی سمن کی بہت سی باتیں پسند نہیں آتی تھی ..
لیکن وہ ہر بار برداشت کر لیتا تھا ..
جب وہ حرم کو زبردستی نکاح کر کے لایا تھا .
تو تب بھی وہ اک لڑکی ہونے کے باوجود بھی کچھ نہ بولی تھی حرم کے لئے کہ وہ اک لڑکی کے ساتھ ایسا نہ کرے …
بلکہ وہ تو اس وقت بھی صرف اپنے بارے میں سوچ رہی تھی …
مگر اس وقت وہ خود بدلے کی آگ میں جل رہا تھا تو اسکو سمن کی بات بری نہیں لگی تھی ..
لیکن پھر آہستہ آہستہ اسکو اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا تھا ..
پر وہ جب بھی اپنی آنی کو دیکھتا تھا تو حرم پر غصّہ مزید بڑھتا تھا .
تمہاری اس خاموشی کا میں کیا مطلب سمجھوں ?
وہ اسکو سوچ میں ڈوبا دیکھ کر پھر سے بولی
وہ پچھلے دنوں سے وجدان کی اک اک حرکت کو نوٹ کر رہی تھی …
حرم کے جانے کے بعد سے وہ خاموش اور غصّے میں رہنے لگا تھا ..
ذرا ذرا سی بات پر غصّہ آ جاتا تھا اسکو ..
‘ ” تمھیں جو سمجھنا ہے تم سمجھ لو سمن .
اگر تم یہ سننا چاہتی ہو کہ میں حرم کے لئے فکرمند ہوں تو سنو ..
‘ ہاں ہوں میں اسکے لئے فکرمند
جب تک مجھے معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کہاں ہے تب تک میری پریشانی میری فکر ختم نہیں ہوگی ..
وہ بس مجھے اک بار مل جائے بس اک بار …
میں …
وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا ہوا بولا تھا ..
اسکے ہر انداز سے حرم کے لئے فکر جھلک رہی تھی لیکن فکر کے ساتھ ساتھ کچھ اور بھی تھا جسے محسوس کر کے سمن پوری طرح سے تلملا کر رہ گئی تھی..
تو اس میں اتنی فکر کرنے کی کیا ضرورت ہے ..
بلکہ یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ وہ خود ہی چلی گئی ہے ..
اب ہمیں بھی کسی بات کی فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے …
سمن اپنے اندر کا غصّہ ضبط کرتی ہوئی بولی تھی ..
سمن کی بات سن کر اس نے بہت مشکل سے خود کو کہنے سے روکا تھا
اور غصّے سے اپنی مٹھیاں بھیچ لی تھی ..
سمن تم پلز اس وقت یہاں سے چلی جاؤ ویسے بھی کچھ دیر بعد میری میٹنگ ہے مجھے اسکے لئے بھی تیاری کرنی ہے …
وہ ٹیبل سے فائل اٹھاتا ہوا بولا تو سمن بس اک نظر اسکی طرف دیکھ کر روم سے بہار نکلی تھی ..
سمن کے جانے کے بعد اس نے غصّے میں فائل زور سے ٹیبل پر پٹخی تھی .
💞💞💞
“””””(جاری ہے )””””””:
