Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

وہ چلا گیا تھا اپنی بات کہہ کر .
پھر سے اسکی بات سننے کی اس نے ضرورت بھی محسوس نہیں کی تھی ..
‘ کیا تھا اگر وہ ایک لفظ معافی کے بول دیتا
اتنا کچھ تو کہہ دیا تھا .
اگر یہ بھی بول دیتا کہ وہ اسکو معاف کر دے صرف اک بار تو اسکو سکون مل جاتا ..
اپنی غلطی کا اعتراف تو کر چکا تھا بس اک بار معافی بھی مانگ لیتا تو اسکی ساری شکایات دور ہو جاتی …
لیکن نہیں صرف اپنی کہہ کر چلا گیا …
وہ چلا تو گیا تھا لیکن اسکے پرفیوم کی خوشبوں ابھی بھی کمرے میں پھیلی ہوئی تھی
جو ہمیشہ گھر میں اسکی موجودگی کا احساس دلاتی تھی..
لیکن وہ چلا گیا تھا ..
پتہ نہیں کیوں اسکے جانے سے حرم کا دل بےچین سا ہو رہا تھا ..
وہ نم آنکھوں سے اک نظر خالی کمرے پر ڈالتی بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھی تھی ..
مگر اپنے ہاتھ کے نیچے کوئی چیز محسوس کر کے اسکا دھیان اس چیز کی طرف گیا تھا .
‘ ” وہ اک کارڈ تھا …
حرم اسکو نظرانداز کر دیتی مگر اس پہ بڑے بڑے الفاظ میں لکھے سوری کو دیکھ کر اس نے یکدم سے وہ کارڈ اٹھایا تو اسکے نیچے اک پیپر بھی رکھا ہوا تھا ..
‘حرم نے جلدی سے پیپر کھولا اور پڑھنا شروع کیا
‘ ‘ ” مجھے معاف کر دو حرم ..
آج تک میں نے جو کچھ بھی تمہارے ساتھ کیا اسکے لئے میں بہت شرمندہ ہوں ..
مجھ میں ہمّت ہی نہیں ہوتی تھی کہ میں تم سے کس طرح سے معافی مانگوں …
شروع کی لائن پڑھ کر حرم حیران ہوئی تھی..
یقینن یہ وجدان نے لکھا تھا مگر کب .
اس لیٹر کو لکھنے کا یہ مطلب بلکل نہیں ہے کہ مجھ میں ابھی بھی ہمّت نہیں ہے ..
مجھے پتہ تھا تم میری بات نہیں سنو گی اور وہاں نہیں آؤ گی جہاں میں تمھیں بلانا چاہتا ہوں ..
یہ صرف اس لئے ہے کہ میری بات تم تک پہنچ جائے .
اس لیٹر کو پڑھ کر تم فلیٹ کے سامنے والے پارک میں آ جانا میں تمہارا وہیں انتظار کر رہا ہوں …
حرم جو جو وہ لیٹر پڑھ رہی تھی اسکی آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے تھے .
سب سے پہلا سوال جو اسکے دل میں آیا تھا وہ یہ تھا کہ اس نے یہ کب لکھا ..
اور اگر لکھ بھی لیا تھا تو اسکو کیوں نہیں دیا ..
مطلب یہ لیٹر وہ انکی لڑائی سے پہلے لکھ چکا تھا .
یا اللہ یہ میں نے کیا کر دیا …
انکی بات سنے بغیر کتنا کچھ کہہ دیا انکو …
‘” اسکو اس وقت بہت رونا آ رہا تھا
وہ اس سے معافی مانگنا چاہتا تھا اور اس نے کتنا کچھ کہہ کر یہاں سے جانے دیا ..
کچھ سوچ کر وہ یکدم سے اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی شاید وہ نہ گیے ہو شاید وہ اسکو وہیں اس پارک میں مل جائے …
وہ تیزی سے اپنے فلیٹ سے باہر نکلی تھی ..
وہ اسکو کہنا چاہتی تھی کہ جب وہ اسکے لئے لکھ چکا تھا تو اسکو دیا کیوں نہیں ..
کیوں ہے وہ ایسا کہ اسکو سمجھنا مشکل ہوتا ہے ہر بار …
وہ تیز تیز قدم اٹھاتی پارک کی طرف بڑھی تھی رات ہو چکی تھی مگر اسکو اس بات کی فکر کہاں تھی بس وہ دل میں دعا کر رہی تھی کہ وہ اسکو وہیں مل جائے ..
💞💞
‘ ” حرم سے بات کرنے کے بعد وہ گھر سے نکل کر فلیٹ کے قریب ہی اس پارک میں آ بیٹھا تھا مگر واپس نہیں گیا تھا ..
پتہ نہیں کیوں اسکو اس بات کا یقین تھا کہ حرم ضرور اسکے پیچھے آئے گی ..
‘ ” اتنا تو یقین تھا اسکو اپنی محبت پر کیونکہ وہ حرم کی آنکھوں میں بھی اپنے لئے محبت دیکھ چکا ..
اور اس محبت نے اسے واپس نہیں جانے دیا تھا ..
‘ کتنا کچھ سوچا تھا اس نے کتنی تیاری کی تھی
لیکن سب ایسے کہ ایسے ہی رہ گئی تھی “
” جسکے لئے اس نے یہ پارک سجایا تھا وہ یہاں آئی بھی نہیں تھی .
کیا نہیں سوچا تھا اس نے کہ جب وہ یہاں آئے گی تو وہ اس سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ اپنی محبت کا اظھار بھی کریگا ..
اور آگے حرم کا جو بھی فیصلہ حرم لیتی اسکو قبول تھا ..
مگر اس نے جیسا سوچا تھا ویسا کچھ نہیں ہوا ..
” وہ وہاں سے آ تو گیا تھا مگر اب اسکی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اب آگے کیا کرے …
‘ ” سچ کہتے ہیں انسان جتنی آسانی سے غلطی کر لیتا ہے نہ اتنا ہی مشکل اس شخص سے معافی مانگنے میں ہوتی ہے اسکو ..
‘ ” اور پھر وہ ایسے چیزو کا سہارا لیتا ہے اپنی بات اس تک پہنچانے کے لئے ..
حرم کی آواز پر یکدم سے اس نے اپنی بند آنکھیں کھولی تھی …
‘ ” اسکو اپنے سامنے دیکھ کر اک پل کے لئے تو وہ حیران ہوا تھا ..
اسکو یقین نہیں آیا تھا کہ وہ اس وقت اسکے سامنے کھڑی ہے …
‘ ” یقین تو حرم کو بھی نہیں آیا تھا یہ سب دیکھ کر اس نے پارک کی اس سائیڈ کو بہت ہی خوبصورتتی سے سجا رکھا تھا.
‘ سامنے ہی اک بورڈ رکھا ہوا تھا جس پر بڑے بڑے لفظوں میں سوری لکھا ہوا تھا “
” اتنی ساری تیاری دیکھ کر وہ اک پل کے لئے حیران ہی رہ گئی تھی ..
اس نے تو کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ وجدان اس طرح سے بھی اس سے معافی مانگے گا .
” جو بھی تھا اسکو وجدان کا یہ طریقہ بہت پسند آیا تھا ..
‘ جب یہ کارڈ اور یہ لیٹر میرے لئے لکھا تھا تو اسکو مجھے دینا بھی چاہئے تھا ..
یا اسکو دینے کی بھی ہمت نہیں ہو رہی تھی .
” وہ اسکو کارڈ اور لیٹر دیکھاتی ہوئی بولی تھی .
‘ ” اسکے ہاتھ میں کارڈ اور وہ لیٹر دیکھ کر وہ اسکی یہاں موجودگی کی وجہ سمجھ گیا تھا ..
مطلب اسکو بھی یقین تھا کہ وہ اسکو یہاں ضرور ملے گا اس لئے وہ یہاں آئی بھی تھی …
-” تم نے مجھے کچھ بولنے کا موقع ہی نہیں دیا ورنہ میں بہت کچھ بولنا چاہتا تھا تم سے ..
لیکن اب میں اپنی بات ضرور پوری کروں گا …
‘ ” وہ اسکے قریب آکر دو قدم کے فاصلے پہ رکا تھا
اور زمین پر اپنے گھٹنوں کے بل اسکے قدموں میں بیٹھ گیا تھا ..
اسکے اس طرح سے بیٹھنے پر حرم حیرانی سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی ..
‘ ” یہ کیا کر رہے ہیں آپ اٹھیں یہاں سے …
اسکو یوں اس طرح سے بیٹھا دیکھ حرم کو بلکل اچھا نہیں لگا تھا ..
‘ ” حرم …میں وجدان شاہ تم سے آج اپنی ہر غلطی کی معافی مانگتا ہوں .
آج تک جو کچھ بھی میں نے تمہارے ساتھ کیا .
جتنی بھی تکلیف دی تمھیں ..
اس سب کے لئے مجھے معاف کر دو ..
‘ ” وہ حرم کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھامتا ہوا بولا تھا ..
قسمت نے اسے اک اور موقع دیا تھا اور وہ یہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے سکتا تھا …
پلیز وجدان اٹھ جائے یہاں سے …
اسکی بات پر حرم کی آنکھوں میں آنسوں لئے اسکو دیکھ کر بولی تھی ..
‘ “پہلے تم بتاؤ کیا تم نے مجھے معاف کر دیا ..
اس نے حرم کے ہاتھ پر اپنی پکڑ مضبوط کی تھی ..
‘ ” اسکی بات پر حرم اسکو دیکھتی رہی تھی اس نے اسکو وہ کارڈ دیکھ کر ہی معاف کر دیا تھا اور اب وہ اسکے قدموں میں بیٹھا اس سے معافی مانگ رہا تھا تو وہ کیوں نہ اسے معاف کرتی ..
‘ ” میں آپکو معاف کرتی ہوں وجدان ہر غلطی ہر تکلیف جو اپنے مجھے دی میں اسکے بعد بھی آپکو معاف کرتی ہوں …
” وہ ہلکا سا مسکرائی تھی …
وہ اسکو کیوں معاف نہ کرتی وہ اسکی محبت تھا .
” آج جب وہ چلا گیا تھا تو کتنا بےچین ہو گئی تھی وہ اگر وہ اب اسکو نہ ملتا ..
اس سے آگے تو وہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی ..
‘ “حرم کی بات سن کر وجدان خوشی سے اٹھا اور حرم کو کھینچ کر اپنے سینے سے لگایا تھا ..
اسکے سینے سے لگ کر حرم نے سکون سے اپنی آنکھیں بند کر لی تھی ….
💞
” یہ کیا کر رہی ہو تم سمن دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا کچھ ..
پریشے جیسے ہی سمن کے روم میں داخل ہوئی تو اسکے ہاتھ میں چاقو دیکھ کر گھبرا کر اسکی طرف بڑھی اور اسکے ساتھ سے چاقو لیکر دور پھینکا تھا.
‘ جبکہ سمن ایسے ہی بیٹھی رہی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو .
اسکو یوں اس طرح سے بیٹھا دیکھ کر پریشے کو یکدم سے اس پر غصّہ آیا تھا ..
” کیا پوچھ رہی ہوں میں تم سے
کیا حرکت تھی …
دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا .
کیا کرنے کی کوشش کر رہی تھی تم ?
انہونے اسکو بازو سے پکڑ کر بری طرح جھنجوڑا تھا..
‘ ” دماغ میرا نہیں امی وجدان کا دماغ خراب ہو چکا ہے جو وہ مجھے چھوڑ کر اسکے پاس چلا گیا
اور بےفکر رہیں میں خود کو کوئی نقصان پہنچا رہی ہوں ..
‘ ” اگر کسی کو نقصان ہوگا تو وہ حرم ہوگی
کیونکہ وہ ہمارے بیچ آئی ہے
اور اسکو ہمارے درمیان سے نکلنا ہی ہوگا ..
وہ بولتی ہی اس وقت پریشے کو بلکل ہوش میں نہیں لگ رہی تھی …
‘ ” میں اسکو …ختم ..
اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتی پریشے کا ہاتھ اٹھا اور اسکے رخسار پر اپنا نشان چھوڑ چکا تھا ..
‘ ” سمن اپنے گال پر ہاتھ رکھے بےیقینی سے اپنی ماں کی طرف دیکھ رہی تھی ..
جبکہ پریشے آنکھوں میں غصّہ لئے اسکی طرف دیکھ رہی تھیں …
‘”” دماغ وجدان کا نہیں تمہارا خراب ہو چکا ہے
میری تو یہ سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ تم کیوں سمجھ نہیں رہی ہو کہ وجدان تم سے نہیں حرم سے محبت کرتا ہے ..
” اسے تم سے صرف ہمدردی تھی ..
اور اسی ہمدردی کی وجہ سے اس نے تم سے وعدہ کیا تھا شادی کے لئے …
” “انہونے اسکو پھر سے اپنی بات سمجھانی چاہی تھی ..
” نہیں امی ہم ہمدردی نہیں تھی اسکو مجھسے ..
اور وجدان صرف میرا ہے صرف میرا میں اسکو کسی اور کا نہیں ہونے دوں گی ..
“اس نے غصّے میں اپنی ماں کی بات بیچ میں کاٹی تھی .
” نہیں بیٹا وہ تمہارا نہیں ہے اور نہ کبھی تھا تم جتنی جلدی ہو اس بات کو تسلیم کر لو ..
” تم خود ہی سوچو اگر وہ تمہارا ہوتا تو اسکی شادی تم سے ہوئی ہوتی نہ کہ حرم سے ..
‘ “یا اگر اسکو تم سے محبت ہوتی تو وہ اس وقت یہاں ہوتا تمہارے پاس نہ کہ حرم کے..
‘ ” اس بار انکے لہجے میں نرمی آئی تھی آخر وہ انکی بیٹی تھی اسکا درد بھی اچھے سے سمجھتی تھیں ..
” میں مانتی ہوں کہ وجدان نے تم سے وعدہ کر کے تمہارے ساتھ غلط کیا ہے اسکو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا ..
” لیکن میں وجدان کے احساسات کو بھی سمجھتی ہوں وہ میری وجہ سے تم سے شادی کرنا چاہتا تھا ..
” ‘ اور پھر حرم کے آنے کے بعد وہ اسکی نفرت میں بولتا تھا تم سے ..
اس وقت تو وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ اک دن اسکو اپنے کہے الفاظ پر پچھتانا پڑے گا ..
لیکن تم ہی سوچو اس سب میں حرم کا کیا قصور ہے ..
اسکو کیوں سزا ملے ہر بار ..
“پریشے اپنی بیٹی کو اس حقیقت سے آگاہ کر رہی تھی جسے سمن جاننا نہیں چاہتی تھی ..
‘ ” میں بس تم سے اتنا کہنا چاہتی ہوں سمن کے ان دونوں کے درمیان مت آؤ ..
.. وجدان بارے میں نہ سوچو بس اک بار حرم کے بارے میں سوچو ..
” اسکا تو پہلے ہی اس دنیا میں کوئی نہیں ہے صرف اک وجدان ہے اور اگر تم اسکو بھی حرم سے چھین لوگی تو کیا رہ جائے گا اسکے پاس ..
‘ ” وہ اسکو خاموش دیکھ کر پھر سے بولی تھی ..
” میں اسکے بارے میں کیوں سوچوں اس نے بھی تو میرے وجدان کو مجھسے چھینا ہے .
اسکو میرا خیال نہیں آیا …
وہ بھی کہاں چپ رہنے والی تھی فورا بولی .
” اس نے تم سے کچھ نہیں چھینا ہے بھول گئی وجدان نے خود زبردستی اس سے نکاح کیا تھا .
انہونے اک اور کوشش کی اسکو سمجھانے کی .
” پریشے کی بات پہ وہ خاموش ہو گئی تھی ..
جو میں نے کہا ہے اس سب کے بارے میں اک بار اور سوچنا اور مجھے امید ہے تم خود سمجھ جاؤ گی ..
وہ اک نظر خاموش کھڑی سمن کو دیکھ کر اسکے کمرے سے نکل گئی تھی ..
” انہونے تو اپنی طرف سے پوری کوشش کی تھی اسکو سمجھانے کی پتہ نہیں وہ کامیاب ہوئی تھی یا نہیں یہ بس وقت پر پتہ لگنا تھا …
💞💞
” حرم کیا تم نے سچ میں مجھے معاف کر دیا ہے
تمھیں مجھسے اب کوئی شکوہ نہیں ہے نہ ?
میں نے اتنا کچھ کآ تمہارے ساتھ ..
” وہ بیڈ پر لیٹا حرم کی طرف دیکھ کر بولا تھا ..
‘ ” وجدان کی بات سن کر وارڈراب میں کپڑے رکھتی حرم یکدم سے پلٹی تھی .
” اففف …وجدان آپ کل رات سے اب تک کم از کم پچاس بار پوچھ چکے ہیں .
‘ ” کیا آپکو ہر بار میرے جواب پر یقین نہیں آتا ..
اگر آپکو یقین نہیں آتا ہے تو آپکی یہاں موجودگی اس بات کا ثبوت ہے …
‘ ” وہ کپڑو کو انکی جگہ پر رکھ کر اسکے پاس آئی تھی .
اسکے قریب آنے پہ وجدان اٹھ بیٹھا تھا ..
‘ ” پتہ نہیں میں جتنی بار بھی پوچھتا ہوں مجھے تمہارا جواب سن کر اتنی ہی بار سکون ملتا ہے
ہر بار اک نئی خوشی ملتی ہے مجھے .
“: اس نے حرم کا ہاتھ پکڑ کر اسکو اپنے قریب بیٹھایا تھا..
‘ اچھا یار بتاؤ نہ تم نے مجھے معاف تو کر دیا ہے نہ
اس نے پھر اپنا سوال دوہرایا تو اسکے سوال پر حرم مسکرایں بنا نہ رہ سکی ..
‘ کتنی بار بولا ہے اور اب بھی بولتی ہوں میں آپکو معاف کر چکی ہوں .
اور کس طرح سے یقین دلاؤں میں آپکو اپنی بات کا .
‘ وہ پریشانی سے بولی تو اسکے چہرے پر پریشانی دیکھ کر وجدان کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا “
‘ ” تو تم اپنی محبت کا اظھار کر دو یہ سب سن کر شاید مجھے یقین آ جائے .
وہ آنکھوں میں شرارت لئے اسکی طرف دیکھ کر بولا اور بازو سے پکڑ کر اسکو اپنے مزید قریب کیا تھا..
‘ ” بس رہنے دیں مجھے نہیں دلانا آپکو یقین
آپکی مرضی ہے اب کریں یا نہیں .
حرم اسکی شرارت سمجھ کر اپنا بازو چھوڑا کر کھڑی ہوتی ہوئی بولی تھی .
‘ ” کہاں جا رہی ہو یار بیٹھو نہ اور مجھے یقین دلاؤ.
اس سے پہلے کہ وہ اک قدم بڑھاتی وجدان نے اسکی کلائی پکڑ کر کھینچا تو حرم اپنا بیلنس برکرار نہ رکھ سکی اور سیدھا وجدان کے اوپر آں گری تھی۔
‘ ” حرم نے ہڑبڑا کر اٹھنا چاہا مگر اسکا ارادہ بھانپ کر وجدان نے اسکو کمر سے پکڑ کر بیڈ پر لیٹایا اور خود اس پر پورا جھک گیا تھا ..
” اب وہ مکمل اسکی قید میں تھی ..
” یہ کیا کر رہے ہیں آپ چھوڑے مجھے ..
اسکی اس قدر کی نزدیکی سے حرم کی دھڑکنے تیز ہوئی تھی ..
“چہرا گھبراہٹ اور شرم کی وجہ سے لال پڑ چکا تھا..
” جب تک تم مجھے یقین نہیں دلاتی تب تک نہیں جانا دوں گا …
چاہے کتنی بھی کوشش کر لو ..
” وہ اسکے چہرے پر آئے بالوں کو اسکے کان کے پیچھے کرتا ہوا بولا تھا ..
اسک لمس اپنےی چہرے اور کان کی لؤ پر محسوس کر کے حرم کی گھبراہٹ مزید بڑھی تھی.
” ‘ مجھے نہیں دلانا آپ ہٹیں پیچھے ..
اس نے اپنے دونوں ہاتھ وجدان کے سینے پر رکھ کر اسکو خود سے دور کرنا چاہا تھا .
” مگر وجدان اسکے ہاتھوں کو اپنی قید میں لیکر اسکی اس چھوٹی سی کوشش کو بھی ناکام کر چکا تھا ۔۔
” کیا تم اتنا بھی نہیں کر سکتی ..
میں بس تمہارے منہ سے محبت کا اظھار سننا چاہتا ہوں ..
کیا تم مجھ سے محبت نہیں کرتی حرم ..
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولا تھا ..
اس وقت اسکی آنکھوں میں حرم کے لئے صرف محبت تھی صرف محبت …
” بولو حرم کیا تم مجھسے محبت کرتی ہو ..
بولو نہ ..بس اک بار …
اس نے اپنی پیشانی حرم کی پیشانی سے ٹکا کر اپنی آنکھیں بند کی تھی ..
” اسکی شدت اسکی اپنے لئے تڑپ دیکھ کر حرم کی آنکھیں نم ہوئی تھی ..
” میں بھی آپسے بہت محبت کرتی ہوں وجدان ..
حرم اسکی بند آنکھوں کو دیکھ کر بولی تھی
جب وہ اس سے اتنی محبت کرتا تھا تو وہ کیوں نہ اپنی محبت کا اظھار کرتی .
‘ ” حرم کے اظھار پہ اس نے یکدم سے اپنی آنکھیں کھولی تھی …
‘ ” ہر ظلم کے باوجود ?
” ہاں ہر ظلم کے باوجود ..
” ہر زیادتی کے باوجود ?
وہ اپنی ساری غلطیاں یاد کروا کر اس سے اقرار مانگ رہا تھا ..
‘ ہاں ہر زیادتی کے باوجود میں آپسے محبت کرتی ہوں …
حرم کے جواب پر وجدان کھل کر مسکرایا اور حرم کے چہرے پہ جھکا اور بہت ہی نرمی اور محبت سے اسکے لبوں کو چھوا تھا …
‘ ” وجدان کی اس گستاخی پہ حرم پوری جان سے کانپ اٹھی تھی اس نے وجدان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسکو خود سے دور کیا اور جلدی سے بیڈ سے اٹھنا چاہا تھا …
‘ ” کہاں چلی تم نے تو اظھار کر دیا ابھی میرا اظھار باقی ہے …
اس سے پہلے کے وہاں سے اٹھتی وجدان نے اسکو بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور اسکو کچھ بھی کہنے کا موقع دیے بغیر اس پر جھکتا چلا گیا تھا….
💞💞
====(جاری ہے )===,
💞💞💞