Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

‘ ” مجھے پوری امید ہے کہ تم آج کوئی اچھی ہی خبر دوگے مجھے
‘ ” وہ ویٹنگ روم میں داخل ہوتے ہی صوفہ پر بیٹھے احمد سے مخاطب ہوا تھا ..
‘ ” جی سر آج آپکے لئے اچھی ہی خبر لایا ہوں
وہ وجدان کی آواز سن کر یکدم سے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا ..
‘ ” اسکی بات سن کر وجدان کے ہونٹھوں پر ایک خوبصورت مسکراہٹ آئی تھی ..
‘ ” وہ چلتا ہوا وہیں قریب رکھے دوسرے صوفہ پر بیٹھا تھا ساتھ ہی ہاتھ کے اشارے سے احمد کو دوسری سائیڈ بیٹھے کا اشارہ کیا تھا ..
‘ ” سر آپکو جس وقت کا انتظار تھا وہ آ چکا ہے انکی بھانجی واپس آ چکی ہے
اسکو زیادہ وقت نہیں ہوا ہے …
‘ ” احمد اسکے اشارے پر بولنا شروع ہوا تھا
وہ بول رہا تھا پاس بیٹھے وجدان کی آنکھوں میں چمک بڑھتی جا رہی تھی ..
‘ ” مطلب صاف تھا اسکے بدلے کی شروعات کرنے کا وقت آ چکا ہے
وقت آ چکا تھا اپنی آنی کے ایک ایک دکھ کا بدلہ لینے کا …
‘ ” مگر سر ایک بہت ضروری بات ہے ..
‘”” ” احمد اسکی طرف دیکھ کر کچھ پل کے لئے رکا تھا ..
‘ ” ہاں بولو خاموش کیوں ہو گئے ہو ..
‘ ” احمد کی بات پر وہ سیدھا ہو کر بیٹھا تھا ..
‘ ” سر اسکی شادی ہونے والی ہیں صفدر خان کے بیٹے سے بلکہ اسکو واپس صرف اس لئے ہی بلایا ہے ان لوگوں نے ..
‘ “” احمد نے تفصیل سے اسکو ساری بات بتائی تھی..
‘ ” تو کیا ہوا اب شادی ہوئی نہیں ہے ہونے والی ہے تم بس اپنا وہ کام کرو جو میں نے تمھیں بولا تھا باقی میں سب خود دیکھ لوں گا …
‘ ” احمد کی بات پر وہ کندھے اچکا کر بولا تھا ..
‘ ” جی سر ٹھیک ہے ..
احمد اسکی بات پر اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا ..
‘ ” اور ہاں سر یہ کچھ تصویرے ہیں جو میں نے کل لی تھی جب وہ صفدر خان کے بیٹے کے ساتھ تھی ..
‘ ” احمد اپنے کوٹ کی پاکٹ سے ایک لفافہ نکالتا ہوا بولا اور اور اسکو صوفہ پر بیٹھے وجدان کی طرف بڑھایا تھا …
‘ ” ٹھیک ہیں میں دیکھ لونگا تم اب جا سکتے ہو ..
اس نے احمد کے ہاتھ سے لفافہ لیکر اسکو جانے کی اجازت دی تھی …
‘ ” وجدان کا حقم ملتے ہی وہ تیزی سے وہاں سے نکلا تھا ..
‘ ” احمد کے جانے کے بعد وجدان نے اپنے ہاتھ میں موجود لفافہ کھول کر ایک ایک تصویر دیکھنی شروع کی تھی ..
‘ ” وہ جو جو تصویر دیکھتا جا رہا تھا اسکی آنکھوں میں حیرانی اور غصّے سے ملے جلے تاثرات تھے .
‘ ” تصویر میں موجود وہ اس چہرے کو کیسے بھول سکتا تھا
آنی کی طبیعت خراب کی وجہ سے وہ تو اس بیچ اسکو بھول ہی گیا تھا ..
میرا تو پہلے ہی تم پر ایک اور حصاب نکلتا ہے حرم خان …اور اب تم میرے دشمن کی کمزوری بھی ہو ..
‘ ” بہت برا کیا تم نے وجدان شاہ کو تھپڑ مار کر
‘ ” اب تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگا …
‘ ” وہ تصویر کو دیکھتا ہوا زہر خند لہجے میں بولا تھا…
‘ ” وجدان یار میں یہاں تم سے تمہارے آفس ملنے آئی ہوں اور تم مجھے وہاں اپنے روم میں اکیلا چھوڑ کر یہاں بیٹھے ہو …
‘ ” وہ تصویر لئے بیٹھا تھا جب سمن اسکو تلاش کرتی یہاں آئی تھی ..
‘ ” اسکی آواز پر وجدان سے تیزی سے ساری پکس کو اس پیکٹ میں ڈالا تھا .
‘ ” اسکے گھر میں کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا کرنے والا ہے اور کیا کر رہا ہے ..
‘ ” اس نے یہ بات سب سے چھپا کر رکھی ہوئی تھی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اسکی ماں کبھی اسکا ساتھ نہیں دیگی ..
‘ ” کچھ نہیں میں بس آنے ہی والا تھا تمہارے پاس ..
وہ جلدی سے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا ..
‘ ” سمن اسکی جلد بازی نوٹ تو کر چکی تھی مگر چاہ کر بھی اس سے کچھ پوچھ نہیں سکی …
‘ ” کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ کبھی اسکو بتاۓ گا نہیں اس لئے اس نے خاموش رہنا بہتر ہی سمجھا تھا..
‘ ” چلو آؤ میرے آفس میں چلتا ہیں
وہ اسکو اپنے پیچھے آنے کا بول کا روم سے نکلا تو وہ بھی سر ہلا کر اسکے پیچھے چل دی تھی ..
💞💞
‘ ” ولید کہاں جا رہے ہو بیٹا .
‘ ” یہاں آؤ مجھے اور تمہارے ڈیڈ کو تم سے ضروری بات کرنی ہیں ..
‘ ” وہ کار کیز اپنی انگلی پر گھماتا باہر کی طرف جا رہا تھا جب ماریہ کی آواز پر اسکے تیزی سے چلتے قدم رکے تھے …
‘ ” بس مام اپنے دوست کے پاس جا رہا تھا
کوئی ضروری بات کرنی ہے آپکو .
‘ ” وہ ان دونوں کے پاس جاکر سوالیہ نظروں سے ان دونوں کی طرف دیکھ کر بولا تھا …
‘ ” ہاں یہاں بیٹھو ضروری بات ہے
انہونے اسکو اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا ..
‘ ” انکے کہنے پر وہ انکے ساتھ والے صوفہ پر جا بیٹھا تھا ..
” ” میں اور تمہارے ڈیڈ چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد تمہاری اور حرم کی شادی ہو جانی چاہئے …
‘ ” اور اس لیے ہم دونوں نے یہ فیصلہ لیا ہے کہ اگلے ہفتے تمہارا اور حرم کا نکاح ہے …
‘ ویسے بھی ہمیں اس کام میں اب مزید دیر نہیں کرنی چاہئے ..
‘ ” ماریہ بول رہی تھی مگر اس وقت اسکے شاتر دماغ میں بہت کچھ چل رہا تھا .
جو انکے پاس بیٹھے صفدر صاحب اچھے سے جانتے تھے کہ وہ اس وقت کیا سوچ رہیں ہیں .
‘ ” ہاں بیٹا تمہاری مام بلکل ٹھیک کہہ رہی ہے جتنی جلدی تمہاری شادی حرم سے ہوگی اتنی جلدی اسکی ساری پراپرٹی تمہارے نام ہو جائے گی ..
‘ ” صفدر شاتر مسکراہٹ کے ساتھ اپنی بیوی اور بیٹے کی طرف دیکھ رہا تھا ..
‘ ” مام ڈیڈ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے آپ جب چاہے گے میں نکاح کے لئے تیار ہوں ..
‘ ” اور ویسے بھی بہت نخرے برداشت کر لئے اسکے اب اسکو میں سبک سکھانا چاہتا ہوں …
ولید زہریلے لہجے میں بول رہا تھا ..
‘ ” نہیں ولید تم فلحال کوئی غلط حرکت نہیں کرو گے بہت سالوں سے انتظار کیا ہے ہم لوگوں نے اس وقت کا ..
‘ ” تمہاری کوئی بھی بےوقوفی سے بات بگڑ سکتی ہے..
بس اس لیے تم ایسا کرو ہم جیسا تم کو بول رہے ہیں.
‘ ” ماریہ اسکی بات سن کر اس بار تھوڑا غصّے میں بولی تھی ..
‘ ” میں میں کچھ نہیں کر رہا ہوں اب تک میں آپ لوگوں نے جو کہا ہے وہ ہی کر رہا ہوں اور آگے بھی وہی کروں گا ..
‘ ” آپ دونوں بےفکر رہیں …
‘ ” ماریہ کے غصّہ ہونے پر وہ تھوڑا سمبھل کر بولا تھا ..
‘ ” ٹھیک ہے تم جاؤ اب باقی کا ہم دونوں دیکھ لیں گے اسکے جواب پر وہ اب نرم انداز میں بولی تو وہ انکی بات سن کر تیزی سے باہر کی طرف بڑھا تھا ..
💞💞
” ‘ وہ آئنے کے سامنے کھڑی بال بنا رہی تھی جب اسکو اپنے کمرے میں کسی اور کی موجودگی کا احساس ہوا تھا
” یہ احساس ہوتے ہی اسکے تیزی سے چلتے ہاتھوں کو یکدم سے بریک لگا تھا ..
‘ “اس نے جیسے ہی مڑکر دیکھا تو اپنے بیڈ پر بیٹھے اس شخص کو دیکھ کر اسکا سانس اوپر کا اوپر نیچے کا نیچے ہی رہ گیا تھا “
‘ ” کیا ہوا ڈر گئی ڈارلنگ ?
‘ ” وہ بیڈ سے اٹھ کر آہستہ سے قدم اٹھاتا اسکی طرف بڑھا تھا
‘ ” اسکے ہونٹھوں پر اک دل جلانے والی مسکراہٹ تھی
جبکہ اسکی آنکھیں اسکو مسکراہٹ کا ساتھ نہیں دے رہی تھی ..
‘ ” اسکی بات پر حرم پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسکو اپنی طرف بڑھتا ہوا دیکھ رہی تھی “
“‘ وہ کیسے اس شخص کو نہ پہچانتی
ابھی دو دن پہلے ہی تو اس نے تھپڑ مارا تھا اس شخص کو اور آج یہ ہی شخص رات کے اس پہر اسکے کمرے میں موجود تھا..
‘ ‘اسکا مطلب صاف تھا وہ اس سے اپنی اس دن کی بات کا بدلہ لینے آیا تھا ‘
‘ یہ سوچ دماغ میں آتے ہی اسکے پورے بدن میں کپکپاہٹ دوڑ گئی تھی …
‘ ” دیکھو یہاں سے چلے جاؤ ورنہ میں !!
‘ ” حرم اپنے خشک پڑتے حلق کو تر کرتی ہوئی بولی تھی
جبکہ اسکی نظریں بیڈ پر پڑے اپنے دوپٹہ پر تھی ..
‘ ” اسے اس وقت کچھ غلط ہونے کا احساس ہو رہا تھا ‘
‘ ” ورنہ کیا ?
کیا کروگی تم
چلاؤ گی”
” چلاؤ مجھے اس سے کوئی فرک نہیں پڑتا ہے کیونکہ اس میں صرف تمہارا ہی نقصان ہوگا ..
‘ ” وہ اسکی غیر ہوتی حالت سے مزا لے رہا تھا
‘ ” اسکی بات پر حرم نے اسکی طرف دیکھا تھا جو اب اسکے نزدیک آں کھڑا ہوا تھا
‘ “اس نے تیزی سے وہاں سے ہٹنا چاہا تھا مگر اس سے پہلے کہ وہ وہاں سے ہٹتی اس نے اتنی ہی تیزی سے اسکو بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا .
‘ ” خود کو اسکی پکڑ میں پاکر حرم نے جیسے ہی چیخنے کے لئے اپنا منہ کھولا ہی تھا کہ اس شخص نے اسکی منہ پر ہاتھ رکھ کر اسکی چیخ کا گلا گھونٹ دیا تھا “”
‘ ” ششش …
خاموش بلکل خاموش ….
وہ اسکو دیوار سے لگا کر اسکے منہ پر اپنا ہاتھ سختی سے رکھتا ہوا بولا تھا..
‘ ” اسکی پکڑ کے ساتھ ساتھ اسکا لہجہ بھی سخت تھا
گہری کالی آنکھیں اس وقت ضبط کی وجہ سے لال ہو چکی تھی …
‘ ” اسکی سرد آواز اور سخت لہجے پر حرم کی ریڈ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی تھی ..
ڈر سے اسکی آنکھیں بھیگی تھی …
” ‘ اپنے لئے تمہاری آنکھوں میں یہ ڈر دیکھ کر یقین مانو اس وقت مجھے بہت اچھے لگ رھا ہے ..
‘ ” وہ اسکو اپنی باتوں سے ڈرا رہا تھا …
‘ ” اسکی بات پر حرم کا خوف مزید بڑھا تھا ڈر کی وجہ سے اسکی آنکھ سے آنسوں ٹوٹ کر اسکے منہ پر رکھے وجدان کے ہاتھ پر گرا تھا …
‘ ” کیا ہوا رونا آ رہا ہے …
رو اور رؤ بلکہ تمھیں تو اب میں ساری زندگی اسی طرح روتا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں …
‘ ” اسکے لہجے میں حرم کے لئے نفرت ہی نفرت تھی
جبکہ وہ یہ سوچ رہی تھی کہ صرف ایک تھپڑ کی وجہ سے کیا کوئی کسی سے اتنی نفرت کر سکتا ہے ..
‘ ” ویسے میں تمھیں یہاں ڈرانے نہیں صرف اتنا بتانے آیا ہوں کہ تیار ہو جاؤ ..
وجدان شاہ پر ہاتھ اٹھایا تھا نہ تم ..
بہت جلد تم اسکا انجام دیکھنے والی ہو بہت جلد …
‘ ” وہ اپنی بات کہہ کر اس پر مزید جھکا تھا
حرم اسکے جھکنے پر ڈر سے اپنی آنکھیں زور سے بند کر گئی تھی ..
‘ ” اس وقت وہ اتنی ڈری ہوئی تھی کہ اسکو اپنے منہ پر سے اسکا ہاتھ ہٹنے کا احساس تک نہ ہوا تھا ..
کچھ دیر بعد جب اس نے ڈرتے ڈرتے اپنی آنکھیں کھولی تو وہ اب کمرے میں بلکل اکیلی کھڑی تھی ..
‘ ” وہ حیران ہوئی تھی اور پاگلوں کی طرح پورے روم کو تلاش کرنے لگی تھی
وہ اسکے روم میں ہوتا تو نظر آتا نہ ..
‘ ” وہ جس خاموشی کے ساتھ اسکے روم میں آیا تھا اتنی ہی خاموشی سے وہاں سے نکل گیا تھا ..
‘ ” حرم نے جلدی سے اپنے روم کی کھڑکی اچھی طرح بند کی اور بیڈ پر آکر بیٹھ گئی تھی ..
ڈر کی وجہ سے اسکا پورا بدن کانپ رہا تھا ..
‘ ” آخر وہ شخص کیا کرنے والا تھا
وہ تو اسکی شکل کے علاوہ اسکے بارے میں کچھ جانتی بھی نہیں تھی ..
‘ ” اور اس نے اسکے گھر تو کیا اسکے کمرے کے بارے میں بھی پتہ لگا لیا تھا ..
‘ ” یہ سب باتیں دماغ میں آتے ہی اسکے ڈر بڑھتا ہی جا رہا تھا ..
مگر اس وقت کوئی نہیں تھا اسکے پاس جو اسکا ڈر کم کرتا …
💞💞
” ‘ دن اپنی رفتار سے گزر رہے تھے
گھر میں شادی کی تیاریاں پورے زور شور سے چل رہی تھی ..
‘ ” شادی کے دن جتنے قریب آ رہے تھے اسکی پریشانی اور گھبراہٹ میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا .
‘ ” اک طرف تو اسکو سب ٹھیک ہی لگتا تھا
اپنی یہ بےچینی اور پریشانی بلا وجہ کی لگتی تھی ..
‘ ” اور دوسری طرف وہ اس شخص اور اسکی باتیں نہیں بھول پا رہی تھی .
کبھی کبھی تو اسکو خود پر بھی بہت غصّہ آ رہا تھا کہ آخر اس نے تھپڑ مارا ہی کیوں تھا .
‘ ” اپنی خود کی ٹینشن کیا کم تھی جو مزید ایک اور بڑھا لی تھی ..
‘ ” اسکو اسکی کہی ایک ایک بات سے ڈر بھی محسوس ہو رہا تھا
وہ اسکے گھر اور اسکے کمرے تک آ گیا تھا
مطلب صاف تھا وہ کچھ بھی کر سکتا تھا …
‘ ” حرم کی کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے
وہ چاہ کر بھی یہ بات ہاشم ماموں سے نہیں بتا سکی تھی ..
‘ ” وہ انکو بتا کر اپنی وجہ سے پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی ..
‘ ” اور کوئی دوسرا تھا بھی نہیں جسکو وہ اپنی پریشانی بتاتی ..
ویسے بھی اس دن کے بعد سے وہ واپس نہیں آیا تھا اور یہ بات اسکو سکون دے رہی تھی ..
‘ ” شاید وہ اس سے بدلہ نہ لے بس ایسے ہی اسکو ڈرا رہا ہو ..
یہ سوچ آتے ہی وہ کچھ مطمعین ہو گئی تھی ..
‘ ” اسی کشمکش میں نکاح کا دن بھی آ گیا تھا .
‘ ” وہ اس وقت دلہن بنی بیٹھی
آج وہ ولید خان کی ہونے جا رہی تھی مگر اس وقت اسکے دل میں کوئی ہلچل کوئی جذبات نہیں تھے ..
‘ “بس دل میں اک عجیب سی بےچینی ہو رہی تھی .
اسکو بار بار گھبراہٹ سی ہو رہی تھی جیسے کچھ غلط ہونے والا ہو ..
‘ ” مگر وہ اپنی ان سوچوں کو جھٹک کر دعا کرنے لگی تھی اپنے سکون اور اپنی شروع ہونے والی زندگی کے لئے …
‘ “مگر وہ یہ بات نہیں جانتی تھی کہ یہ سکون تو اب اسکی زندگی سے ہمیشہ کے لئے ختم ہونے والا تھا ..
💞💞
(جاری ہے )