Deewangi By Zeenia Sharjeel NovelR50394 Deewangi (Episode 7)
No Download Link
Rate this Novel
Deewangi (Episode 7)
Deewangi By Zeenia Sharjeel
وائٹ کلر کی قمیز شلوار میں کندھوں پر دوپٹہ ٹکائے وہ اپنا نازک اور حسین سراپے لئے آئینے کے سامنے کھڑی تھی،، آج اسے اسکول کی طرف سے منعقد کردہ میلاد کی تقریب میں شرکت کرنا تھی جس کے لیے اسے اعظم اور تابندہ نے پرمیشن دی تھی، کیوکہ مہینے بھر سے درید نے اس پر سے روک ٹوک یا ہر قسم کی پابندی ختم کر دی تھی، ناراضگی کے باوجود درید اس سے بول چال ختم نہیں کر سکتا تھا اس سے بات چیت ختم کر کے آخر وہ گھر میں کیسے رہ سکتا تھا
زمل کو اپنے بال بنوانے کے لئے درید کے کمرے میں آنا پڑا وہ ہمیشہ کی طرح دروازہ ناک کیے بغیر درید کے کمرے میں داخل ہوئی
“کیا کام کر رہے ہیں تھے دید،، یار ذرا میرے بال تو باندھ دیں جو بھی اس ڈریس پر سوٹ کریں”
درید کو لیپ ٹاپ میں مصروف دیکھ کر زمل اس کے پاس آتی ہوئی بولی، درید نے اس پر سرسری نظر ڈالی تو اپنی نگاہیں زمل کے چہرے سے ہٹانا بھول گیا وہ وائٹ کلر کے قمیض شلوار میں بےحد پیاری لگ رہی تھی مگر کچھ اس کے چہرے پر نیا پن بھی تھا اس لیے درید غور سے زمل کو دیکھے گیا
“کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہے ہیں اچھی نہیں لگ رہی ہوں میں آپ کو”
زمل درید کو اپنی طرف دیکھتا پا کر اس سے پوچھنے لگی، درید لیپ ٹاپ سائیڈ میں رکھ کر اس کے پاس آیا
“صرف اچھی نہیں بہت اچھی لگ رہی ہو اتنی زیادہ کہ دل کر رہا ہے دیکھتا ہی جاؤ”
درید زمل کے چہرے پر نظر ٹکائے پوری ایمانداری سے سچ بولا تو زمل مسکرا دی
“آج اسکول کی طرف سے میلاد کا فنکشن ہے، میں اس میں جانا چاہتی ہوں جبھی اپنے بال بنوانے کے لئے آپ کے پاس آئی تھی، اگر مما کے پاس جاتی تو وہ بال بنانے کے ساتھ ساتھ طعنے دینے بھی بیٹھ جاتیں”
زمل آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر درید کو بتا رہی تھی درید اس کی بات پر مسکرانے لگا اور زمل کی پشت پر آکر کھڑا ہوا
“دید میرے میلاد اٹینڈ کرنے پر آپ خوش ہیں ناں”
زمل جھجھکتی ہوئی آئینے میں سے درید کو دیکھ کر پوچھنے لگی
“تم خوش ہو”
درید زمل کا رخ اپنی طرف کرتا ہوا پوچھنے کے ساتھ ہی اس کی آئی برو پر اپنی انگلی پھیرتا ہوا غور کرنے لگا جس کا شیپ چینج تھا،، یہی نیا پن تھا جو اسے زمل کے چہرے میں محسوس ہوا
“اف دید کتنی نظر رکھتے ہیں آپ میری ساری چیزوں پر، فرسٹ ٹائم اپنی آئی برو کو شیپ دیا ہے اور آپ کی نظروں سے یہ بھی نہیں چھپ سکا”
زمل حیرت زدہ ہو کر آنکھیں دکھاتی ہوئی درید سے بولی اور دوبارہ آئینے کی طرف مڑ گئی
“پہلے والا شیپ بھی برا نہیں تھا”
درید اس کی پشت پر کھڑا ہیر برش اٹھاتا ہوا بولا تو زمل دوبارہ اس کی طرف مڑی
“یعنی آپ کو پسند نہیں آیا میرا آئی برو بنوانا، آپ کو اچھا نہیں لگا نہ سچ بتائیں”
زمل درید کو دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“تمہارا دل چاہتا ہے کہ تم اپنے دید کو اچھی لگو”
درید زمل کے ہونٹوں کو غور سے دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“آف کورس جیسے میں ڈیڈ اور مما کو اچھی لگتی ہوں ویسے ہی میرا دل چاہتا ہے کہ میں آپ کو بھی اچھی لگوں”
وہ درید کی نظروں کو تھوڑی کنفیوز ہو کر دیکھتی ہوئی بولی جو کہ اس کے ہونٹوں پر ٹکی ہوئی تھی، زمل کے بولنے پر درید نے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے ٹشو باکس میں سے ٹشو نکالا اور اس کی ہونٹوں پر لگا ہوا پنک گلوس آئستہ سے صاف کرنے لگا۔۔۔ وہ نہیں چاہتا تھا جیسے زمل کا یہ روپ اس کو دیوانہ کر رہا ہے کوئی دوسرا اس کی طرف مائل ہوتا۔۔۔ یہ اس لڑکی کے لیے درید اعظم کی دیوانگی تھی یا پھر جنوں،، وہ نہیں جانتا تھا وہ کبھی کبھی اس کے لیے زیادہ سے زیادہ ہی حساس ہو جاتا تھا جیسے اس وقت درید کی شدت سے خواہش ہوئی تھی کہ زمل کو اس روپ میں اس کے علاوہ اور کوئی دوسرا نہ دیکھے
“آئی برو کا شیپ پہلے بھی برا نہیں تھا، اب بھی اچھا لگ رہا ہے مگر یہ گلوس۔ ۔۔۔”
وہ ٹشو کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا
“ان مصنوعی سہاروں کی ضرورت انہیں ہوتی ہے جنہیں لگتا ہے ان میں کوئی کمی ہے،، میری ایک بات یاد رکھنا۔۔۔ نہ تم میں کوئی کمی ہے نہ تمہیں ان مصنوعی سہاروں کی ضرورت پیش آنی چاہے تم ہر لحاظ سے پرفیکٹ اور مکمل ہو اور ہاں درید اعظم کو تم کبھی بھی بری نہیں لگ سکتی ہو ایسی سوچ بھی اپنے دل میں مت لانا کبھی۔۔۔ یہ میرا دل جب تک دھڑکتا رہے گا تمہیں ہر حال میں چاہتا رہے گا چاہے میں جہاں بھی موجود ہو”
درید نے بولنے ہوئے اس ٹشو کو ڈسٹ بن میں پھینکنے کی بجائے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ کر، زمل کا رخ دوبارہ ڈرسنگ ٹیبل کی طرف کیا اور اس کے بالوں میں برش پھیرتا ہوا،، اس کے بالوں میں تین سے چار بل دے کر بینڈ لگا دیا زمل دوبارہ پلٹ کر درید کو دیکھنے لگی
“آپ کو لندن جانا ضروری ہے دید اپنی گرینی کے پاس، آپ روز ویڈیو کال پر بات تو کرتے ہیں ناں ان سے”
زمل کو جب سے معلوم ہوا کہ درید اپنی گرینی کے پاس جا رہا ہے تب سے درید سے دوری کا سوچ کر وقفے وقفے سے اس کا دل اداس ہو جاتا تھا
“تمہیں تو میرے جانے پر خوش ہونا چاہیے، روک ٹوک کرنے والا اور پابندی لگانے والا انسان تمہاری زندگی سے جا رہا ہے”
درید مزاقاً زمل کا چہرہ دیکھ کر ہنستا ہوا بولا مگر درید کی بات سن کر زمل کی آنکھوں میں نمی اتر آئی وہ ایک دم درید کے سینے پر اپنا سر ٹکا کر رونے لگی جس سے درید کے ہونٹوں پر ہنسی خود بخود غائب ہو گئی
“آپ کو تو بس یہی لگتا ہے آپ ہی مجھ سے پیار کرتے ہیں، میں کیسے رہو گی دید آپ کے بغیر “
وہ درید کے سینے سے سر ٹکاتی ہوئی بولی، وہ بچپن سے ہی درید کو اپنی نظروں کے سامنے دیکھتی آئی تھی اس لیے درید کا یوں اچانک اتنی دور جانا اسے ہضم نہیں ہو رہا تھا
“ارے یار یہ بچوں کی طرح کیو رو رہی ہو ہمیشہ کے لئے تھوڑی جا رہا ہوں میں، خود کہاں زیادہ دنوں تک تمہارے بغیر رہ سکتا ہوں میں،، مگر گرینی کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے ناں۔۔۔ انہوں نے پہلی بار مجھے اپنے پاس آنے کے لیے کہا ہے اور میں ان سے وعدہ کر چکا ہوں، بہت جلد واپس آ جاؤں گا۔۔۔ وہاں پہنچ کر ڈیلی تم سے بات کیا کروں گا”
وہ زمل کو خود سے الگ کرتا ہوا اس کے آنسو صاف کرکے بولا تو زمل اداسی سے مسکرا کر اس کے کمرے سے چلی گئی
زمل کے جانے کے بعد درید خود بھی ہوٹل جانے کی تیاری کرنے لگا جہاں اس کے دوست ڈنر پر اس کا ویٹ کر رہے تھے۔۔۔ دو دن بعد اس کو لندن چلے جانا تھا۔۔۔ آج اس کے دوستوں کی طرف سے اس کے لیے ڈنر تھا، ڈریسنگ ٹیبل سے پرفیوم اٹھاتے ہوئے اس کی نظر ٹشو پر پڑی جس پر زمل کے ہونٹوں کے نشان تھے وہ اس ٹشو کو دراز میں رکھتا ہوا اپنے کمرے سے باہر نکل گیا
*****
وہ صبح کا الارم لگا کر جلدی اٹھ چکی تھی اس سے پہلے تابندہ یا درید میں سے کوئی بےدار ہوتا وہ گھر سے یونیورسٹی کے لیے نکل جانا چاہتی تھی۔۔ کیپری کے اوپر شورٹ اسٹائل ٹاپ پہنے وہ جلدی جلدی اپنے بالوں کو فولڈ کرکے سن گلاسس اپنی شرٹ کے گلے میں اٹکاتی ہوئی بیک کو کندھے پر ڈالے اپنے کمرے سے باہر نکلی مگر ڈائننگ ہال میں قدم رکھتے ہی اس کی ساری پھرتی رفوچکر ہو چکی تھی۔۔۔ سست انداز میں چلتی ہوئی وہ ڈائینگ ٹیبل کے پاس آئی جہاں درید کرسی پر بیٹھا ہوا منتظر نگاہوں سے اسی کو دیکھ رہا تھا
“آپ اتنی جلدی کیوں جاگ گئے” وہ اپنی جھنجھلاہٹ ظاہر کیے بنا آہستہ آواز میں درید سے بولی۔۔ ٹیبل کے پاس آنے پر درید نے اسے اشارے سے کرسی پر بیٹھنے کا کہا
“دیر تک سونے کی عادت مجھے شروع سے ہی نہیں ہے اور لندن میں رہ کر بھی میں نے اپنی عادتیں نہیں بدلی، تم بتاؤ ایسے گھر سے چوروں کی طرح بھاگ کر کہاں جارہی تھی”
درید اوپر سے نیچے تک زمل کے سراپے کا مکمل جائزہ لینے کے بعد اس سے پوچھنے لگا
“مجھے کیا ضرورت ہے کہیں چوروں کی طرح جانے کی، پہلی کلاس میری جلدی ہوتی ہے اس لیے یونیورسٹی کے لیے نکل رہی تھی”
زمل اس کی بات پر برا مانتی ہوئی درید سے بولی
“کس کی پرمشن سے”
اب کی بار درید اس کو سنجیدگی سے دیکھتا ہوا پوچھنے لگا، اسی بات کا تو زمل کو ڈر تھا اور وہی ہوا۔۔ اب زمل کو یقین ہوگیا کہ وہ اسے یونیورسٹی نہیں جانے دے گا
“آپ جاگ گئے درید صاحب، ناشتے میں آپ کے لئے کیا بناؤ اور زمل بی بی آپ بھی بتا دیں ناشتہ کریں گیں یا صرف دودھ پی کر جائے گیں یونیورسٹی”
نگہت ہال میں آتی ہوئی درید کے ساتھ ساتھ زمل سے بھی پوچھنے لگی۔۔۔ زمل نم آنکھوں کے ساتھ ملازمہ کی بجائے درید کو دیکھ رہی تھی، درید زمل کے چہرے سے نظریں ہٹا کر ملازمہ کو دیکھتا ہوا بولا
“ابھی فی الحال میں کافی لوں گا اور وہ میرے لئے تمہاری زمل بی بی بنا دیں گیں، تم ایسا کرو اپنی زمل بی بی کا یہ سامان ان کے کمرے میں رکھ آؤ”
درید نگہت کو زمل کا بیگ فائل اور شرٹ کے گلے میں اٹکے ہوئے گلاسس نکال کر ملازمہ کو تھماتا ہوا بولا۔۔۔ زمل بغیر کچھ بولے ضبط کیے درید کو دیکھنے لگی
“نگہت اب کچن کے اندر کوئی بھی نہیں آنا چاہیے”
درید ملازمہ کو کہتا ہوا کرسی سے اٹھا اور زمل کو دیکھتا ہوا بولا
“تمہیں کیا اٹھنے کے لیے کہنا پڑے گا کچن میں آجاؤ فوراً”
وہ زمل کو بولتا ہوا وہ خود بھی کچن میں جانے لگا۔۔۔ زمل ضبط کرتی ہوئی کچن میں درید کے پیچھے آئی جہاں درید کیبنٹ سے مگ اور کافی کے دوسرے کے لوازمات نکال کر شلف پر رکھتا ہوا زمل کو دیکھنے لگا
زمل فرج سے فریش کریم نکال کر شیلف کے پاس آئی جہاں کافی کا مگ موجود تھا۔۔۔ زمل درید کے لئے کافی بنانے لگی جبکہ درید اس کی پشت پر کچن کی دیوار سے ٹیک لگائے دوبارہ اس کا جائزہ لینے میں مگن ہوگیا۔۔۔ وہ زمل کے بالوں میں باندھا ہوا جوڑھا دیکھنے لگا اسے معلوم تھا اب اس کے بالوں کی لمبائی پہلے جیسی نہیں ہے وہ مختلف تصویروں میں یہ بات نوٹ کر چکا تھا،، وہ زمل کے زیب تن کیے ٹاپ کو دیکھنے لگا جو صرف اس کی کمر کو ہی کور کر پا رہا تھا۔۔۔ اس کے بعد درید اس کے لائٹ پنک کلر کے کیپری جینز کو دیکھنے لگا جس میں سے اس کی سفید چمکتی ہوئی پنڈلیاں جھانک رہی تھی۔۔۔ ان چار سالوں میں درید نے اسے کھلی چھوٹ دی تھی مگر وہ زمل سے غافل ہرگز نہیں ہوا تھا،، زمل کی ایک ایک حرکت پر درید کی نظر تھی
ان چار سالوں میں جہاں درید کی شخصیت میں کافی بدلاؤ آیا تھا پہلے کی بانسبت اس کا جسم تغوڑا بہت بھر چکا تھا،، اپنی شیو کو اس نے لوز چھوڑا ہوا تھا وہی زمل بھی ان چار سالوں میں پہلے کی بانسبت کافی خوبصورت ہو چکی تھی اس کے چہرے کی معصومیت ابھی تک برقرار تھی،،۔۔ لیکن اگر کچھ نہیں بدلا تھا تو زمل کا اپنے آپ سے لاپروا انداز۔۔۔ درید چلتا ہوا زمل کے قریب آیا تو اپنی پشت پر درید کی موجودگی کے احساس سے، کافی کا پیسٹ بناتے ہوئے گھبراہٹ کے مارے زمل کے ہاتھوں کی رفتار سست ہونے لگی۔۔۔ جب زمک کی کمر درید کے سینے کو چھونے لگی تو زمل شیلف سے چپک کر کھڑی ہو گئی، مگر درید کے اور زیادہ نزدیک ہونے پر زمل کا فرار ہونے کا راستہ مکمل بند ہوچکا تھا۔۔۔ وہ اس کے وجود سے چپکا کھڑا تھا، کافی کا پیسٹ بناتے ہوئے زمل کے ہاتھوں کی حرکت وہی ساکت ہوگئی
“کافی بناتے ہوئے اگر تمہارے ہاتھوں کی حرکت تھمی تو تم میرے ہاتھوں کی حرکت سے پریشان ہو جاؤ گی، اپنا کام جاری رکھو”
درید زمل کے کان کی طرف جھگتا ہوا سنجیدگی سے بولا تو زمل کے ہاتھوں میں ایک دم تیزی آگئی وہ جلدی جلدی کافی کا پیسٹ بنانے لگی
وہ اپنے کندھے پر درید کی سانسوں کو گرمائش کو بخوبی محسوس کر سکتی تھی جو اسے کندھے سے لے کر اس کی گردن تک کو جھلسا رہی تھی
“خوبصورت تم شروع سے تھی، لیکن اب اور زیادہ ہو گئی ہو، خاص طور پر تمہارا یہ فگر، بہت پرکشش ہو گیا ہے”
درید اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے زمل کی کمر کی لمبائی کو ناپتے ہوئے اس کے پیٹ کے گرد اپنا بازو حائل کر چکا تھا۔۔۔ زمل کو لگا درید کا اس طرح اس کو چھونا،، زمل کی جان نکال دے گا مگر وہ ضبط کیے ہوئی کافی کے پیسٹ میں چمچہ چلا رہی تھی
“اتنے سالوں بعد بہت برا محسوس کر رہی ہوگی تم یوں میری دسترس میں آکر، بالکل اس دن کی طرح جب لندن جانے سے ایک رات پہلے میں تمہارے کمرے میں آیا تھا۔۔۔
درید کے لفظ زمل بہت کچھ یاد دلا گئے جبکہ درید کا بازو جو اس کے پیٹ پر لپٹا ہوا تھا سرکتا ہوا اوپر آنے لگا
“دید پلیز آپ کیو کر رہے ہیں ایسے، میں آپکی ہر بات مان تو رہی ہو”
زمل اس کا ہاتھ پکڑنے کی جرت نہیں کر سکی تھی جو آئستہ سے فاصلہ عبور کر کے اس کی گردن پر آ ٹھہرا تھا
“بہت برا لگ رہا ہے میری بات مان کر، یونیورسٹی جانے کو دل کر رہا ہے تمہارا”
درید اس کی گردن پر اپنی انگلیاں پھیرتا ہوا اپنے ہونٹوں کو زمل کی گردن کے پاس لاتا ہوا پوچھنے لگا
“نہیں مجھے یونیورسٹی نہیں جانا”
ٰزمل جلدی سے اپنا سر نفی میں ہلاتی ہوئی بولی درید کا ہاتھ اسکی گردن سے سرکتا ہوا زمل کے کندھے اور پھر بازو پر آکر رکا جبکہ درید اپنے دوسرا ہاتھ سے پہلے ہی زمل کا دوسرا بازو پکڑے ہوئے تھا
“جانا بھی نہیں چاہیے تمہیں یونیورسٹی کیوکہ آج کا سارا دن، تمہارا دید بس تمہیں دیکھ کر گزارنا چاہتا ہے”
وہ اپنے ہاتھوں سے زمل کے دونوں بازوؤں پر دباؤ ڈالتا ہوا سرگوشی کے انداز میں بولا۔۔۔ درید کے ہونٹ زمل کی گردن کو چھو رہے تھے اور زمل کا سانس لینا مشکل ہوا جا رہا تھا وہ درید کے اس روپ سے بہت خوف زدہ تھی یہ بات درید اچھی طرح جانتا تھا لیکن پھر بھی وہ اس کے ساتھ ایسا کیو کر رہا تھا۔۔۔ زمل کو اپنی غلطی سمجھ میں نہیں آرہی تھی
“کل تم نے بتایا نہیں کہ ان گزرے ہوئے سالوں میں تم نے اپنے دید کو یاد کیا کہ نہیں”
درید اس کی گردن سے اپنا سر اٹھاتا ہوا زمل کا منہ جبڑے سے پکڑ کر، رخ اپنے چہرے کی طرف کرتا ہوا زمل سے پوچھنے لگا
“یاد کیا”
زمل دل پر پتھر رکھ کر آہستہ آواز میں بولی تبھی درید نے اس کا زور سے دبوچا ہوا منہ چھوڑ کر، شیلف پر رکھا ہوا کافی کا مگ ہٹایا۔ ۔۔ اپنے دوسرے ہاتھ سے زمل کے جوڑھے کے بالوں کو مٹھی میں بھر کر اس کا چہرہ شیلف پر ٹکا دیا
“دید کیا ہوگیا ہے آپ کو، آپ کیوں کر رہے ہو میرے ساتھ ایسے”
زمل پوری کی پوری شیلف کے اوپر اندھی جھکی ہوئی تھی اس کا دایاں گال اور دونوں ہتھیلیاں شیلف پر جمی ہوئی تھی، وہ درید کی جارحانہ انداز پر خوف کے مارے چیختی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“اب میری کسی بھی بات کے جواب میں تم مجھ سے جھوٹ نہیں بولوں گی، اور نہ ہی تم میری پرمیشن کے بغیر گھر سے باہر نکلو گی سنا تم نے”
درید خود بھی زمل کی کمر پر جھکتا ہوا اسے تنبھہی کرتا ہوا بولا۔۔۔ زمل اس کے انداز پر بری طرح خوفزدہ ہوچکی تھی
“کل جس لڑکے کے ساتھ تم واپس گھر لوٹی تھی اس لڑکے کے ساتھ پہلے کبھی اکیلے میں ملی ہو۔۔۔ زمل یاد رکھنا مجھے صرف سچ سننا ہے بالکل سچ”
درید کو شاید غصہ بھی اسی بات پر تھا جبھی وہ زمل کے ساتھ جارحانہ رویہ اختیار کر رہا تھا اور درید کی بات سن کر زمل کی روح فنا ہونے لگی لیکن حقیقت بنا کر وہ آج ہی اپنی جان کا خاتمہ نہیں چاہتی تھی
“وہ یونیورسٹی میں میرے ساتھ پڑھتا ہے دید، دوسرے دوستوں کے جیسا ہے میں اس سے اکیلے نہیں ملی پلیز مجھے چھوڑ دیں”
خوف کے مارے زمل روتی ہوئی اپنی جھوٹی صفائی دینے لگے جس پر درید کو اس پر اور بھی زیادہ غصہ آیا۔۔ وہ نیچر کے حوالے سے کافی بدل چکی تھی، اس سے اپنی ہر بات چھپانے لگی تھی درید اس کے اوپر سے اٹھا، اس کا ارادہ زمل کو اپنے کمرے میں لے جانے کا تھا تبھی اسے اپنی پشت سے آواز آئی
“درید یہ کیا کر رہے ہو تم”
تابندہ کی آواز پر نہ صرف درید نے پلٹ کر دروازے پر کھڑی ہوئی تابندہ کو دیکھا بلکہ خوف کے مارے روتی ہوئی زمل بھی اٹھ کر بھاگتی ہوئے تابندہ کے گلے لگ گئی
“کچھ جاننا چاہ رہا تھا میں اس سے، میرے خیال میں آپ کو ہم دونوں کے بیچ میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے تھی اس وقت”
درید زمل کو تابندہ کے گلے لگ کر روتا ہوا دیکھنے کے بعد بغیر شرمندہ ہوئے تابندہ سے بولا
“شٹ اپ، یہ کون سا طریقہ ہے کچھ پوچھنے کا، زمل کمرے میں جاؤ اپنے”
تابندہ اپنی بیٹی کی حالت دیکھ کر کل والے درید پر رحم دلی بھلائے اس کو بولی اور ساتھ ہی زمل کو منظر سے ہٹنے کے لیے کہا تاکہ وہ صحیح سے درید کا دماغ درست کر سکے
“وہ کافی بنائے بغیر نہیں جائے گی کافی بناؤ میرے لیے زمل”
درید تابندہ کا لحاظ کیے بناء زمل کو آرڈر دینے والے انداز میں بولا
“زمل درید کے لئے کافی بنا کر میرے کمرے میں لے آنا، تم چلو میرے کمرے میں بات کرنی ہے مجھے تم سے کچھ”
تابندہ زمل کے ساتھ ہی درید سے بھی مخاطب ہو کر بولی اور اپنے کمرے میں چلی گئی
*****
“چند سال پہلے مجھے محسوس ہوتا تھا تم مجھ سے لاکھ بدتمیزی کر لو مگر زمل کے لیے تم کافی ٹچی ہو مگر آج تمہارا اپنی بیٹی کے ساتھ ایسا سلوک دیکھ کر مجھے احساس ہو رہا ہے جیسے تم نے میری بیٹی کو ہرٹ کرنے کے لیے یا پھر مجھ سے بدلہ لینے کے لیے اسے اپنایا تھا”
درید کے کمرے میں آتے ہی تابندہ درید کو دیکھتی ہوئی اس سے بولی
“بوکس فلاسفی ہے آپ کی، آپ سے بدلہ لینے کے لیے میں آپ کی بیٹی کو اپنی عزت ہرگز نہیں بناتا۔۔۔ ہرٹ میں نے نہیں کیا اسے، جتنا اس نے کیا ہے مجھے۔۔۔ شاید وہ ہمارا رشتہ تک بھول چکی ہے”
درید ہمیشہ کی طرح چڑتا ہوا تابندہ سے بولا
“اچھا تو پھر تم ایسی حرکتوں سے زمل کو اپنا اور اس کا رشتہ یاد کرواؤ گے”
تابندہ اپنے دونوں ہاتھ باندھ کر درید سے پوچھنے لگی تو وہ ایک پل کے لیے خانوش ہوگیا
“یاد کروانے کا کیا فائدہ وہ تو اپنے اور میرے رشتے کو شاید دل سے ایکسپٹ ہی نہیں کرتی”
درید اپنا سر جھٹک کر تابندہ کے سامنے شکوہ کرتا ہوا بولا تو تابندہ درید کو غور سے دیکھنے لگی
“جس طرح تم اپنا اور زمل کا رشتہ اس سے ایکسیپٹ کروانا چاہ رہے ہو، اس طرح سے تو تم اس کے دل میں اپنے لیے صرف اور صرف ڈر پیدا کرو گے، وہ کبھی بھی اپنے اور تمہارے رشتے کو ایکسپٹ نہیں کرسکے گی بلکہ زور زبردستی سے آج کل کے دور میں کوئی بھی لڑکی ایسے اپنا رشتہ ایکسپٹ نہیں کرتی”
تابندہ بول رہی تھی تب دروازہ ناک کیا گیا۔۔ درید نے دروازہ کھولا تو زمل ہاتھ میں کافی کا مگ لیے کھڑی تھی
“اپنے کمرے میں جاکر مت بیٹھ جانا۔۔۔ میرے کمرے میں جا کر ہینڈ کیری سے میرا سامان نکالو اور وارڈروب میں سیٹ کرو”
درید اس سے اپنی کافی لیتا ہوا بولا تو وہ شکوہ بھری نگاہوں سے درید کو دیکھ کر وہاں سے چلی گئی درید کمرے کا دروازہ بند کرکے تابندہ کی طرف متوجہ ہوا
“میرے یہاں سے جانے کے بعد اگر تھوڑی بہت سختی آپ اپنی بیٹی پر کر لیتی تابندہ اعظم، یا پھر سختی نہ سہی صرف نظر ہی رکھ لیتی تو آج مجھے اس کے ساتھ ایسا رویہ اختیار نہیں کرنا پڑتا”
درید تابندہ کے جواب میں طنزیہ لہجہ اختیار کرتا ہوا بولا تو تابندہ حیرت سے اس کو دیکھنے لگی
“مطلب کیا ہے تمہارا،، تمہاری اس بات کا”
تابندہ ناگوار لہجے میں درید سے پوچھنے لگی تب درید نے ہاتھ میں موجود کافی کا مگ ٹیبل پر رکھ کر اپنی پاکٹ سے موبائل نکالا اور تابندہ کی طرف بڑھایا اسکرین پر موجود زمل جو اپنے یونیورسٹی کے لڑکے کے ساتھ ریسٹورینٹ میں بیٹھی ہوئی تھی تابندہ الجھی ہوئی نظروں سے درید کو دیکھنے لگی
“ان چار سالوں میں، میں دور ضرور رہا ہوں مگر بے خبر نہیں رہا ہو آپ کی بیٹی سے،، اس لڑکے کے بارے میں جاننا چاہ رہا تھا میں زمل سے کیا وجہ ہے جو اس لڑکے نے زمل کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا ہوا ہے اور آخر زمل اس کے ساتھ اکیلی کیو ریسٹورنٹ بیٹھی ہے”
درید تابندہ سے اپنا موبائل واپس لے کر پاکٹ میں رکھتا ہوا بولا تو ایک پل کے لیے وہ خاموش ہوگئی
“ٹھیک ہے میں بات کرتی ہو زمل سے اس بارے میں” تابندہ کے بولنے پر کافی تھامتا ہوا درید تابندہ کو دیکھتا ہوا بولا
“کوئی ضرورت نہیں ہے آپ کو زمل سے کوئی بھی بات کرنے کی،، مطلب کوئی بھی بات۔۔ آپ سمجھ رہی ہے نا میری بات۔۔ میں خود ہینڈل کر لوں گا اس معاملے کو”
وہ کافی کا سپ لیتا ہوا بولا تو تابندہ خاموش کھڑی ہوئی زمل کے بارے میں سوچنے لگی۔۔۔۔ زمل نے یہ سب کب شروع کیا، اسے معلوم کیسے نہیں ہوا تابندہ سوچنے لگی
“کیا میں یہاں بیٹھ کر تھوڑی دیر آپ سے ڈیڈ کی باتیں کر سکتا ہوں”
درید کی آواز پر تابندہ چونک کر اس کو دیکھنے لگی
“بیٹھو”
اس کو صوفے پر بیٹھنے کا بول کر تابندہ خود ہی بیٹھ گئی
****
