Deewangi By Zeenia Sharjeel NovelR50394 Deewangi (Episode 14)
No Download Link
Rate this Novel
Deewangi (Episode 14)
Deewangi By Zeenia Sharjeel
“کوئی کام تو نہیں تھا آپ کو اس وقت یا پھر میں بعد میں آجاؤں”
درید تابندہ کے کمرے کے دروازے کے پاس کھڑا اسے دیکھتا ہوا پوچھنے لگا جو کہ ابھی نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تھی
“نہیں میں فری ہوں، تم کمرے کے اندر آ سکتے ہو۔۔۔ کیا کوئی ضروری کام ہے”
تابندہ درید کے ہاتھ میں موجود فائل دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“ہاں کام تو ضروری تھا دراصل اس فائل پر آپ کے سگنیچر چائیے تھے”
درید کمرے میں آ کر صوفے پر بیٹھتا ہوا تابندہ سے بولا تو تابندہ اس کے برابر میں بیٹھ گئی اور درید کی طرف ہاتھ بڑھا کر اس سے فائل اور پین لینے لگی
“بغیر ان پیپرز کو پڑھے ہی آپ ان پر سائن کر دیں گیں”
تابندہ سائن کرنے والی تھی ایک دم درید تابندہ سے بولا تو تابندہ اس کو دیکھنے لگی
“تم نے تو پڑھے ہوگے پیپرز پھر مجھے پڑھنے کی کیا ضرورت ہے”
تابندہ درید کو دیکھتی ہوئی بولی درید اسی کو دیکھ رہا تھا تابندہ کے جواب پر بولا
“چیک کر لیں ایک دفعہ، کہیں یہ نہ ہو ڈیڈ نے ففٹی پرسنٹ پراپرٹی کا جو حصہ آپ کے نام کیا ہے اِن پیپرز پر سائن کرنے کے بعد میں اس کا بھی مالک بن بیٹھو”
درید سنجیدگی سے بولا تو تابندہ اس کی بات سن کر مسکرانے لگی
“میں جائیداد سے زیادہ رشتے کو اہمیت دینے کی عادی ہوں، اعظم وصیت میں ہم دونوں کو برابر کا شریک بنا کر چلے گئے۔۔۔ تم اور زمل ایک ساتھ خوش رہو مجھے اور کچھ نہیں چاہیے”
تابندہ نے بولتے ہوئے دوبارہ پیپرز پر سائن کرنے چاہے
“پہلے تو میں آپ کو بتا دو کہ آپ ڈیڈ کی لائف پاٹنر رہی ہیں، بیس سال تک آپ کا اور ان کا ساتھ رہا ہے۔۔۔ آپ کانونی اور شرعی لحاظ سے ان کی ہر چیز پر حق رکھتی ہیں اور اب دوبارہ ان پیپرز کو پڑھے بغیر سائن مت کریئے گا پہلے ان کو اچھی طرح پڑھیں اور پھر سائن کریں”
تابندہ کو معلوم تھا اب جب تک وہ پیپرز نہیں پڑے گی تو درید اسے سائن نہیں کرنے دے گا اسلئے وہ پیپرز پڑھنے لگی
“فیکڑی کی ایک مشین بالکل ناکارہ ہو چکی ہے دو کی مرمت کروانی ہے جس کی لاگت 98 لاکھ۔۔۔ تو ٹھیک ہے ناں اس میں پیپرز پڑھنے والی کیا بات ہے یہ سب کام تو تم خود ہی دیکھ لیا کرو”
تابندہ پیپرز پر سائن کرتی ہوئی درید سے بولی
“آپ کو بھی ان ساری باتوں کا علم ہونا چاہیے اتنی لا پرواہی اور لاتعلقی برتنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ میں چاہتا ہوں تھوڑا بہت آپ بھی آفس سے ریلیٹڈ چیزوں میں دلچسپی ظاہر کریں اور جلد سے جلد آفس جوائن کریں یوں خالی بیٹھنے کی ضرورت نہیں ہے”
درید تابندہ کو دیکھتا ہوا بولا تابندہ درید کو دیکھ کر مسکرانے لگی لندن سے آنے کے بعد وہ بالکل بچپن والا درید بن گیا تھا جو ثمن کے دور میں تابی آنٹی کے گھر آنے پر بہت خوش ہوتا تھا
“اگر یہ تمہاری خواہش ہے تو میں تمہاری خواہش کا احترام لازمی کروں گی لیکن ساتھ ہی میری بھی خواہش ہے تم اور زمل ایک ساتھ ہمیشہ خوش رہو۔۔۔ زمل بالکل بھی میچور نہیں ہے تمہیں اندازہ ہے ناں درید وہ بہت نادان ہے اس کی غلطیوں کو نظرانداز کر دیا کرو”
تابندہ درید کو دیکھتی ہوئی بولی درید بناء کچھ بولے اسمائل دے کر صوفے سے اٹھ کر کمرے سے باہر جانے لگا
“دیکھ کر آتا ہو اُسے، شام سے نظر نہیں آئی”
درید بولتا ہوا وہاں سے زمل کے کمرے میں جانے کا ارادہ رکھتا تھا جبھی تابندہ سے بولا
“اگر زمل کے کمرے میں جا رہے ہو تو اسے ڈائینگ ہال میں لے آؤ اور خود بھی ڈنر کے لیے آجاؤ۔۔۔ اس لڑکی کے بھی موڈ کا نہیں پتہ جب سے یونیورسٹی سے آئی ہے منہ پھلا کر اپنے کمرے میں بیٹھی ہے”
تابندہ خود بھی صوفے سے اٹھ کر درید کو بتانے لگی وہ خود کچن میں جانے کا ارادہ رکھتی تھی
“وہ پہلے ہی مجھ سے ناراض تھی، اور آج صبح آپ نے بھی اس کو اچھا خاصا ڈانٹ دیا وہ بھی بلاوجہ میں، موڈ تو خراب ہوگا ہی اس کا۔۔۔۔ میں اس کو منا لاتا ہوں اور ہم دونوں کا ڈنر تو آج احمر کے گھر ہے”
درید تابندہ کو بولتا ہوا اس کے کمرے سے باہر نکل گیا جبکہ تابندہ صبح والی بات یاد کر کے پریشان ہوتی ہوئی کچن میں جانے کی بجائے اپنے موبائل پر زرقون بی کو کال ملانے لگی
*****
“مجھے دیکھ کر سوتا بننے کی عادت گئی نہیں تمہاری،، فوراً اٹھ جاؤ ورنہ تم جانتی ہو میں تمہیں کیسے جگاؤں گا”
درید سمجھ چکا تھا زمل کمرے کا دروازہ کھولنے پر سوتی ہوئی بن گئی ہے اس لئے وہ زمل کے پاس بیڈ پر بیٹھ کر اسے دھمکی دینے والے انداز میں بولا
“چلے جائیں دید یہاں سے میرا موڈ نہیں ہو رہا ہے آپ سے یا پھر مما سے بات کرنے کا۔۔۔ آپ دونوں ہی ایک جیسے ہیں اپنے اپنے موڈ کے اور اپنی مرضی کے مالک…. جب دل چاہا پیار کیا جب دل چاہا ڈانٹ دیا”
زمل ویسے ہی آنکھوں پر ہاتھ رکھے بیڈ پر لیٹی ہوئی درید سے بولی۔۔۔ درید اس کی آنکھوں پر رکھا ہاتھ ہٹاتا ہوا پوچھنے لگا
“مجھ سے کل رات والی بات پر خفا ہو، تم جانتی ہو ناں میری عادت کو۔۔۔ جتنی شدت سے مجھے غصہ آتا ہے تو پھر میرے پیار میں بھی اتنی ہی شدت ہوگی یہ سب تو تمہیں برداشت کرنا پڑے گا”
درید کی بات سن کر زمل اس کو گھور کر دیکھنے لگی
“یہ حالت کر دیں گے آپ میری پیار میں۔۔۔ اسے کہتے ہیں محبت۔۔ یہ محبت نہیں ہے یہ پاگل پن ہے دیوانگی ہے اور میں یہ سب بالکل بھی برداشت نہیں کرنے والی”
زمل اٹھ کر بیٹھتی ہوئی درید پر اچھا خاصا بگڑتی ہوئی بولی درید اس کی گردن پر اپنے جذباتی پن کا مظاہرہ دیکھ کر زمل کا ناراض چہرہ دیکھنے لگا
“کل رات کچھ زیادہ ہوگیا تھا مگر غلطی میری بھی کہا تھی یار تم کل رات باتھ گاؤن میں میرے بالکل قریب تھی تو تمہارا یہ دیوانہ اگر پاگل نہیں ہوتا تو پھر کیا ہوتا”
درید کل رات کا منظر ذہن میں لاتا ہوا ایک بار پھر زمل کے اوپر جھکا۔۔۔ درید کے جھکنے سے وہ پیچھے ہوتی ہوئی دوبارہ تکیہ پر لیٹ گئی
“دید۔۔۔۔ پلیز نو”
درید اسکے ہونٹوں کے قریب اپنے ہونٹ لایا جس کی وجہ سے زمل بامشکل بول پائی
“کل رات کی طرح ڈریک کولا نہیں بنو اس ٹائم پرامس”
درید زمل کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا اور زمل کے کچھ بولنے سے پہلے نرمی سے اس کے ہونٹوں اپنے ہونٹ رکھ دیئے جس سے زمل کے پورے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی
“دید پلیز اب پیچھے ہٹ جائے”
چند سیکنڈ بعد جب اس نے زمل کے ہونٹوں کو آزاد کیا تو زمل اس کی قربت سے گھبراتی ہوئی بولی
“پیاس نہیں بجھی میری خاموشی سے یونہی لیٹی رہو”
درید اس کی گھبراہٹ کو نظر انداز کرتا ہوا زمل کی گردن پر جھک گیا مگر کل رات کی بانسبت آج اس نے جذباتی انداز نہیں اپنایا ہوا تھا اس کے باوجود زمل چند سیکنڈ بعد درید کو پیچھے ہٹا کر اٹھ بیٹھی
“چار سال تک آپ اپنی پیاس کیسے بجھاتے رہی ہیں لندن میں اپنا دیوانہ پن کس پر نکالتے رہے، جیک کی گرل فرینڈ پر وہ بھی ڈانس سکھانے کے لیے آپ کے اتنے ہی قریب آتی ہوگی۔۔ تو کیا اس کے ساتھ بھی آپ”
زمل چاہتی تھی کہ درید اس کے کمرے سے چلا جائے جبھی وہ درید سے بولی۔۔۔ زمل کی بات پر صحیح معنوں میں درید کو آگ لگا گئی جبھی اس نے زمل کو بیڈ پر دھکا دیا اور خود بیڈ سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا
“تم مجھے نرم پڑتا دیکھ کر اب میری نرمی کا فائدہ اٹھا رہی ہو زمل، بہت غلط کر رہی ہو میرے ساتھ۔۔۔ کیا سمجھا ہوا ہے تم نے مجھے جواب دو۔۔۔ کمزور نفس کا مرد نہیں ہوں میں جو کسی بھی لڑکی کے قریب آنے پر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ پاؤ۔۔۔ ہمارے نکاح سے پہلے تم پر کتنی بار یوں اپنی دیوانگی ظاہر کی ہے میں نے جواب دو مجھے، یا بچپن میں کتنی مرتبہ اپنی پیاس بجھانے کے لیے تمہارے قریب آیا ہوں میں۔۔۔ اگر میں اب تم پر اپنے جذبات عیاں کرتا ہوں تو یہ مت بھولو کہ تم اب بیوی میری ہو، آئندہ اگر تم نے کوئی بھی الٹی سیدھی بات اپنے منہ سے نکالی تو پھر مجھ سے کبھی کوئی اچھی توقع مت رکھنا”
درید زمل کو اچھی طرح سنا کر وہی صوفے پر بیٹھ کر اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے لگا۔۔۔ زمل بیڈ پر خاموشی سے بیٹھی ہوئی دل ہی دل میں اپنی بات پر گلٹی فیل کرنے لگی مگر وہ بھی کیا کرتی درید کے قریب آنے پر وہ کیف کا سوچ کر دل ہی دل میں شرمندگی محسوس کرتی تھی۔۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد درید صوفے سے اٹھا اور چلتا ہوا زمل کے پاس آیا
“چلو ریڈی ہوجاؤ آج ہم احمر کے گھر ڈنر پر انوائیٹڈ ہیں، میں آنٹی کو ہمارے پروگرام کا بتا چکا ہوں”
درید کے بولنے پر بیڈ پر بیٹھی ہوئی زمل سر اٹھا کر درید کو دیکھنے لگی جو اب غصے کو بھلائے نارمل انداز میں اسے احمر کے گھر لے جانے کی بات کر رہا تھا
“دید میرا کہیں جانے کا موڈ نہیں ہو رہا مجھے بہت سارا پڑھنا ہے پلیز”
زمل دوبارہ طنز کرنے کی بجائے بیڈ سے اٹھتی ہوئی درید کے سامنے کھڑی ہو کر ارام سے بولی تو درید نے زمل کے دونوں ہاتھوں کو تھاما
“یاد ہے ایک دفعہ جب تمہارا باہر جا کر ڈنر کرنے کا موڈ ہو رہا تھا اور اگلے دن میرا پیپر تھا پورے صبح کے پانچ بجے تک تم نے مجھے اپنے ساتھ مصروف رکھا تھا اور ابھی تمہارے پیپرز میں پورے دو ہفتے باقی ہیں۔۔۔ میں احمر کے گھر سے واپس آنے کے بعد تمہیں اپنے ساتھ مووی دیکھنے کی بھی فرمائش نہیں کروں گا اس لیے جلدی سے تیار ہو جاؤ”
درید نرم لہجے میں بہت پیار سے بولا تو زمل انکار نہیں کر سکی وہ سر اقرار میں ہلا کر خاموشی سے ڈریس چینج کرنے کے لیے وارڈروب کی طرف بڑھنے لگی تو درید اس کے کمرے سے جانے لگا۔۔۔ تب زمل کے موبائل پر آچانک کیف کی کال آنے لگی
“ثمرن ہم تھوڑی دیر میں بات کرتے ہیں میں تھوڑا بزی ہو ابھی”
کیف کی کال ریسیو کر کے وہ جلدی سے بولی اور کال ڈسکنکٹ کر کے موبائل کو سوئچ آف کرتی ہوئی درید کو دیکھنے لگی۔۔۔ درید کے روم میں آنے سے پہلے وہ کافی دیر سے کیف کو کال ملا رہی تھی مگر اس وقت کیف کال ریسیو نہیں کر رہا تھا لیکن اب درید کی موجودگی میں وہ کیف سے بات کرکے کوئی تماشا نہیں کرنا چاہتی تھی
“میں تمہارا باہر ویٹ کر رہا ہوں”
درید زمل سے بولتا ہوا اس کے کمرے سے چلا گیا
****
“کیف تم بلاوجہ میں بات کو بڑھا رہے ہو ایسا کچھ نہیں ہے میں بھلا تمہیں اگنور کروں گی۔۔۔ پرسوں رات کو میں یارڈ میں تھی اور اتفاق سے میرا موبائل بیڈ روم میں موجود تھا اور کل رات دید مجھے اپنے ایک فرینڈ کے ہاں ڈنر پر لے گئے تھے اس وجہ سے تمہاری کال آنے پر میں نے موبائل آف کر دیا تھا”
صبح یونیورسٹی میں کیف کی کال آنے پر زمل کیف کو وضاحت دینے لگی کیونکہ وہ اس سے بری طرح خفا تھا
“دید دید دید میرے کان پک چکے ہیں، تمہارے منہ سے یہ نام بار بار سن کر۔۔۔ میں نوٹ کر رہا ہوں زمل اس کے آنے کے بعد تم مجھے نظر انداز کرنے لگی ہو”
کیف ابھی بھی زمل سے ناراض لہجے میں اپنے نظر انداز ہونے کا شکوہ کرتا ہوا بولا
“کیف میں تمہیں نظر انداز کہا کر رہی ہو لیکن اگر تم یہ چاہتے ہو کہ ایک گھر میں رہتے ہوئے میں دید کو نظر انداز کرو تو ایسا ممکن نہیں ہے میرے لیے۔۔۔ میں خود سے بھی اگر چاہو تو درید اعظم کو نظر انداز نہیں کر سکتی کیونکہ دید مجھے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ میرا ان سے ایک رشتہ جڑا ہے اور اس رشتے کی ساری حقیقت میں تمہیں پہلے ہی بتا چکی ہوں”
زمل کوریڈور میں لوگوں کے رش اور موجودگی کے احساس سے آئستہ آواز میں کیف کو جھنجھنلا کر سمجھاتی ہوئی بولی۔۔۔ وہ درید اور کیف کے درمیان بری طرح پھنس چکی تھی اور اپنے آپ کو بےبس محسوس کر رہی تھی
“درید اعظم تمہیں اپنا آپ اگنور کرنے کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ تمہارا اسے مضبوط رشتہ جڑا ہے اور بقول تمہارے ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے اسے نظر انداز کرنا آسان نہیں ہے تو کیا میں تم سے یہ پوچھ سکتا ہوں درید اعظم تم سے اپنا رشتہ کس حد تک مضبوط کر چکا ہے”
کیف چھبتے ہوئے لہجے میں زمل سے بولا تو سیڑھیوں سے اترتی ہوئی زمل کے قدم ایک پل کے لئے رکے
“سچ سننا چاہتے ہو تو سن لو، دید مجھ پر مکمل اختیار رکھتے وہ جب چاہے میرے اور اپنے تعلق کو مزید مضبوط کر سکتے ہیں،،، میں انہیں کیسے روک سکتی ہو کیف،، میں ان کی دسترس میں اپنے آپ کو بےبس تو محسوس کرسکتی ہوں مگر چاہنے کے باوجود میں کچھ نہیں کرسکتی کیوکہ میں ان کے نکاح میں ہوں، کیف میں ذہنی طور پر بہت پریشان ہو چکی ہوں میرے خیال میں ہم دونوں کو یہ حقیقت کو قبول کر لینا چائیے کہ۔ ۔۔
سیڑھیاں اترتی ہوئی زمل کی آواز روندھنے لگی مگر وہ کیف کو حقیقت سے انجان بھی نہیں رکھ سکتی
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہ بےہودہ بکواس کرنے کی،، تم ایسا کیسے کہہ سکتی ہو کہ درید اعظم تمہارے ساتھ کچھ بھی کر لے اور تم اسے نہیں روک سکتی، تم نے کبھی مجھے تو خود کو چھونے بھی نہیں دیا۔۔۔ پھر تم مجھ سے محبت کرنے کے باوجود اس شخص کے بے بس کرنے پر کیسے بےبسی کا اظہار کرسکتی ہو۔۔۔۔ اس کا مطلب ہے وہ تمہارے نزدیک آیا ہوگا جبھی تم یہ سب بول رہی ہو۔۔۔ تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی زمل،، میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا۔۔۔ بہت زیادہ دل دکھا ہے میرا تمہاری ان باتوں سے اگر آج میں سوسائڈ کرنے میں کامیاب ہوتا ہوں تو میری موت کی ذمہ دار صرف اور صرف تم ہو گی”
کیف غصے کی شدت میں زور سے چیختا ہوا بولا اور اپنا موبائل کھینچ کر دیوار پر دے مارا
“کیف۔ ۔۔ کیف میری بات سنو”
کیف کی سوسائیڈ والی بات پر زمل ڈرتی ہوئی بولی مگر جب تک لائن کٹ چکی تھی دو تین بار کال ملانے کے بعد زمل کو گھبراہٹ ہونے لگی وہ بھاگتی ہوئی پارکنگ لاٹ میں آئی
“اس وقت ہم گھر نہیں جا رہے ہیں جو ایڈریس میں بتا رہی ہوں جلدی وہاں چلو”
زمل کار کے اندر بیٹھتی ہوئی ڈرائیور سے بولی جو اسے معمول کی طرح اس وقت گھر لینے کے لئے آیا تھا اسے کیف کی بات سن کر ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں وہ جذباتی انسان جذبات میں آ کر غلط قدم نہ اٹھا لے اس لیے وہ اس وقت کیف کے گھر جانے کا ارادہ رکھتی تھی
“پر میڈم درید صاحب نے کہا ہے کہ آپ کو سیدھا گھر لے کر آؤ وہ ناراض ہوجائے گے”
ڈرائیور درید کا دیا ہوا حکم زمل کو سناتا ہوا بولا
“شٹ آپ جیسا میں کہہ رہی ہوں تم ویسے ہی کرو، نہیں تو روکو کار کو میں خود چلی جاؤں گی”
زمل سخت لہجے میں ڈرائیور سے بولی تو وہ خاموشی سے زمل کے بتائے ہوئے ایڈریس پر کار کو لے جانے لگا
*****
وہ کیف کے گھر پہلی بار نہیں آئی تھی ثمرن نشاہ اور واصف کے ساتھ پہلے بھی آ چکی تھی اس لئے نہ صرف کیف کے گھر میں موجود ملازم زمل کو دیکھ کر پہچان چکے تھے بلکہ زمل خود ہی گھر میں داخل ہوتی ہوئی گھبراہٹ کے مارے بغیر ملازموں سے کچھ پوچھتی خود ہی کیف کے کمرے کے اندر آگئی۔۔۔۔ جہاں کیف بیڈ پر بیٹھا ہوا ہاتھ میں پکڑی پوائزن کی شیشی کو گھور رہا تھا جو اس نے کمرے کی کھڑکی سے زمل کو آتا دیکھ کر دراز سے نکال لی تھی
“کیف تم پاگل تو نہیں ہو گئے ہو کیا کر رہے ہو یہ”
کیف کی حرکت پر زمل پریشان ہوتی ہوئی بولی مگر کیف اس کی بات کے جواب میں ہاتھ میں پکڑی ہوئی بوتل کا کیپ ہٹا کر اسے پینے لگا۔۔۔۔ زمل نے جلدی سے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے بوتل چھین کر ڈسٹ بن میں پھینک دی
“تمہیں اب اس سے فرق نہیں پڑنا چاہیے کہ میں کیا کر رہا ہوں جہاں تم نے اپنے ہسبنڈ کو خود سے تھوڑا بہت فری ہونے دیا ہے وہی مکمل اختیارات اور ساری حقوق اس کے حوالے کر دو۔۔۔ بن جاؤ اس کی بیوی اور لعنت بھیج تم مجھ پر اور میری محبت پر”
اپنے پاؤں پر چڑھے پلستر کی وجہ سے وہ بیڈ سے اٹھ نہیں سکتا تھا اس لیے دکھی دل کے ساتھ زمل کو دیکھتا ہوا بولا تو زمل خاموشی سے اس کو دیکھتی رہی
“تم ہر بات سے اگاہی رکھتے ہو کیف،، میں تمہیں بتا چکی ہو کہ کن حالات میں میرا دید سے نکاح ہوا تھا۔۔۔ تم سب کچھ اچھی طرح جانتے ہو اس کے باوجود۔۔۔ تھوڑی دیر کے لئے اپنے آپ کو میری جگہ تصور کر کے دیکھو کیف کہ میں کس قدر لاچار اور بے بس ہو۔۔۔ میرے خیال میں تمہاری جگہ سوسائڈ تو مجھے کر لینا چاہیے تاکہ یہ سارا قصہ ہی ختم ہو جائے”
زمل کیف کو بولتی ہوئی رونے لگی تو کیف سے اس کا رونا برداشت نہیں ہوا۔۔۔۔ وہ اسٹک کا سہارا لیتا ہوا بیڈ سے اٹھا اور چلتا ہوا زمل کے پاس آیا
“زمل پلیز ایسے مت رو میرے سامنے، تمہارے منہ سے ایسی باتیں سن کر میں ذرا بھی برداشت نہیں کر پایا اور سوسائیڈ کرنے کا بول دیا۔۔۔ تم پلیز کسی بھی طرح اس درید اعظم سے ڈائیورس لینے کی کوشش کرو۔۔۔ میں فوراً تمہیں اپنا لوں گا یار مگر اس انسان کے ساتھ میں تمہیں بالکل بھی برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔ دیکھو پلیز میری طرف زمل بس اب تمہارا ٹارگٹ یہ ہونا چاہیے کہ تمہیں جلد سے جلد درید اعظم سے ڈائیورس لے کر اپنی جان چھڑانی ہے،، باقی کا کام تم مجھ پر چھوڑ دو”
کیف خود اپنے سہارے پر مشکل سے کھڑا ہو پا رہا تھا اس وجہ سے وہ آگے ہاتھ بڑھا کر زمل کے آنسو صاف نہیں کر پایا اور کیف زمل کو نہ چھونا ہی کیف کے لئے خوش قسمتی ثابت ہوا کیوکہ اس کے کمرے میں طوفان کی طرح آتے ہوئے درید نے زوردار لات کیف کی اسٹک پر ماری، اسٹک کے نیچے گرنے سے کیف خود بھی اپنا توازن برقرار نہ رکھ پایا اور فرش پر گر گیا
“دید آپ یہاں”
زمل گھبراہٹ بھرے لہجے میں درید کو دیکھ کر بولی
“کس کی پرمیشن سے تم اس لنگڑے سے ملنے یہاں آئی ہوں،، ہمت کیسے کی تم نے بغیر میری اجازت کے یہاں آنے کی”
درید غصے سے سرخ ہوتی آنکھیں اور غضبناک تیور لیے زمل کا منہ دبوچ کر اس سے پوچھنے لگا
“زمل کو چھوڑ دو درید اعظم،، تم اس کے ساتھ اتنا برا رویہ اختیار نہیں کر سکتے”
زمل کے کچھ بولنے سے پہلے فرش پر گرا ہوا کیف غصے میں درید کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔۔ درید نے پلٹ کر نیچے گرے ہوئے کیف کو دیکھا اور زمل کے گال سے اپنا ہاتھ ہٹاکر غصے میں جبڑے بھیجتا ہوا کیف کے پاس آیا اور اس کو گریبان سے پکڑ کر اٹھاتا ہوا اپنے سامنے کھڑا کیا
“دید اس کو چھوڑ دیں پلیز۔۔۔ اس کی کوئی غلطی نہیں ہے”
زمل جلدی سے درید کے پیچھے آ کر درید کا بازو پکڑتی ہوئی اس سے بولی۔۔۔ جس پر درید نے زوردار طریقے سے زمل کو دھکا دیا وہ پیچھے جاگری
“اس کے ساتھ میں جو بھی کرو گا وہ تو بات کی بات ہے لیکن آج میں تمہیں تمہارے ہی گھر میں یہ بات اچھی طرح سمجھا کر جاؤ گا کہ کسی دوسرے کی بیوی پر نظر رکھنے کا انجام کیا ہوتا ہے”
درید نے کیف کو بولنے کے ساتھ ہی اس کے منہ پر زور دار مکا رسید کیا جس سے وہ بیڈ پر جا گرا
“دید سوری۔۔۔ پلیز کیف کو چھوڑ دیں پلیز اس کے ساتھ یہ سب مت کریں”
زمل ایک بار پھر اٹھ کر درید کے پاس آئی اور روتی ہوئی درید کے آگے گڑگڑا کر بولی اسے درید کے غصے سے سے خوف آ رہا تھا درید زمل کو بازو سے کھینچتا ہوا اسے ڈریسنگ روم کی طرف لے گیا جو کہ کمرے کے اندر ہی موجودہ اور زمل کو ڈریسنگ روم میں بند کر دیا
“میری شکل کیا دیکھ رہے ہو کمینے، جاؤ جا کر ڈیڈی کو فون کرو اور یہاں بلاؤں انہیں”
شور شرابے کی آواز پر کمرے میں آتے ہوئے ملازم کو کیف چیختا ہوا بولا۔۔۔ ملازم کے وہاں سے جانے کے بعد درید کمرے کا دروازہ بند کرتا ہوا کمرے میں موجود ٹیبل کی طرف بڑھا جہاں فروٹ باسکٹ کے ساتھ تیز دہار کی چھری بھی موجود تھی
“یہ، یہ کیا کر رہے ہو تم۔۔۔ دیکھو تم جانتے نہیں ہو درید اعظم اگر تم نے مجھے ذرا سا بھی نقصان پہنچایا تو تم خود بھی بچ نہیں پاؤ گے اتنی آسانی سے”
کیف بیڈ پر لیٹا ہوا درید کو چھری لے کر اپنی طرف بڑھتا ہوا دیکھ کر اس سے بولا۔۔۔ زمل زور زور سے دروازہ بجا رہی تھی جس کا درید اثر لیے بغیر بیڈ پر لیٹے ہوئے کیف کے پاس آیا۔۔۔ کیف سے تکلیف کے مارے اٹھا تو دور سرکا تک نہیں جا رہا تھا
“میرے آنے سے پہلے میری بیوی کو کیا مشورہ دے رہے تھے تم ذرا پھر سے دوہرانا اپنے الفاظ”
درید کیف کی دھمکی کو خاطر میں نہ لاتا ہوا اس کی پلسٹر والی ٹانگ کو پکڑتا ہوا آرام سے کیف سے پوچھنے لگا
“وہ تم سے پپ۔ ۔۔ پیار نہیں کرتی ہے۔۔۔ نہیں رہنا چاہتی ہے وہ تمہارے ساتھ”
کیف سنبھلتا ہوا درید کو دیکھ کر بولا اور متلاشی نگاہوں سے کوئی ایسی چیز ڈھونڈنے لگا جس سے وہ درید کو زخمی کر کے اپنا بچاؤ کر سکے۔ ۔۔ اب نہ جانے وہ اس کی پہلے سے ٹوٹی ہوئی ٹانگ کے ساتھ کیا کرنے والا تھا
“وہ مجھ سے پیار کرے گی،، میں سکھا دوں گا اسے خود سے پیار کرنا،، تم یہ بتاؤ میری بیوی کو ڈائیورس لینے کا مشورہ دے کر تمہارا آگے کا کیا پلان تھا”
درید اس کی پلسٹر شدہ ٹانگ کو، چھری کی مدد سے پلسٹر کاٹتا ہوا پوچھنے لگا
“دیکھو تم میرے ہی گھر میں گھس کر میرے ساتھ ایسا سلوک نہیں کر سکتے،، میں کہتا ہوں مجھے چھوڑ دو۔۔۔۔ تم نہیں جانتے ہو کہ تم کس کے ساتھ دشمنی مول رہے ہو”
وہ کیف کی ٹانگ سے پلسٹر اتار کر اب اس کے کندھے پر باندھی ہوئی بیلٹ کھول رہا تھا۔۔۔ کیف نے دوسرے ہاتھ سے درید کا گریبان پکڑنا چاہا تو درید نے زوردار مُکا اس کے گال پر جڑا
“میں نے تمہیں اچھی طرح سمجھایا تھا اگر تم چاہتے ہو تمہاری باقی کی ہڈیاں سلامت رہے تو تم زمل سے دور رہنا مگر تم ٹھہرے ایک نادان بچے،، اب تم اپنی نادانی کی سزا بھگتنے کے لئے تیار ہو جاؤ”
درید اس کے کندھے پر بندھی ہوئی بیلٹ کھولنے کے بعد فرش پر گری ہوئی کیف کی اسٹک اٹھا کر اس کے پاس آیا
“اب بتاؤ کون سی ہڈی زیادہ اچھی طرح اور جلدی جڑی ہے کندھے والی یا پھر ٹانگ والی چلو آج چیک کر کے دیکھتے ہیں”
کیف جو کہ آنے والے وقت سے پہلے ہی ڈر کر اپنی آنکھیں بند کر چکا تھا کندھے پر پڑنے والی زوردار اسٹک پر وہ بری طرح تڑپ اٹھا۔۔۔ وہ خوش تھا کہ وہ جلدی ری کور کر رہا ہے دوبارہ سے اپنے بازو اور ٹانگ پر پڑنے والی اسٹک کی ضربیں برداشت نہیں کر پایا اور بے ہوش ہو گیا۔۔۔ درید نے بیڈ پر اس کے پاس ہی اسٹک اچھالی اور ڈریسنگ روم کا دروازہ کھولا
“یا میرے خدا۔۔۔ کیف”
درید زمل کا بازو پکڑ کر اسے باہر لا رہا تھا تب زمل بیڈ پر بے ہوش پڑے کیف کی حالت دیکھ کر رونے لگی جس پر درید غصے میں زمل کا بازو کھینچتا ہوا اسے کمرے سے باہر لے آیا
“سر میرے لیے کیا حکم ہے”
ڈرائیور گاڑی کے پاس کھڑا ہوا زمل سے نظریں چراتا ہوا درید سے پوچھنے لگا۔۔۔ اس کے نظریں چرانے سے زمل سمجھ چکی تھی کہ درید کو اسی نے انفارم کر کے یہاں بلایا تھا
“تم گھر جاؤ”
درید ڈرائیور کو بولتا ہوا اپنی گاڑی میں زمل کو بھٹا کر خود بھی گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکل گیا
*****
