436.8K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deewangi (Episode 18)

Deewangi By Zeenia Sharjeel

کوٹیج کے پاس جیسے ہی گاڑی آکر رکی ویسے ہی زمل نے سکون کا سانس لیا۔۔۔ درید اسے دیکھنے لگا جو کہ تھوڑی دیر پہلے ہوئے واقعے کی وجہ سے اب تک سہمی ہوئی بیٹھی تھی

“ریلکس ہو جاؤ جان اب ہم گھر پہنچ گئے ہیں”

درید زمل کو دیکھتا ہوا کہنے لگا ساتھ ہی ریسٹ واچ میں ٹائم دیکھنے لگا جہاں رات کے آٹھ بج رہے تھے

“آپ مجھے ڈرا دیتے ہیں دید، مجھے بہت زیادہ خوف آنے لگتا ہے آپ کے ایسے ری ایکشن پر”

زمل درید کو دیکھ کر دل میں موجود سچ بیان کرنے لگی جو وہ درید کو ڈرائیونگ کے وقت نہیں بول پائی۔۔۔ جس طرح درید اس آدمی پر اپنا غصہ نکال رہا تھا زمل کو درید سے ہی ڈر لگنے لگا تھا

“اس نے تمہیں چھوا، ہاتھ لگایا۔۔۔ یہ بات مجھے غصہ دلا گئی۔۔۔ مجھے پسند نہیں ہے میرے علاوہ اور کوئی دوسرا تمہیں ہاتھ بھی لگائے”

درید بھی زمل کو اپنے دل میں موجود سچ بیان کرکے زمل کے کندھے سی ڈھلکی ہوئی چادر ٹھیک کرتا ہوا گاڑی سے نیچے اترا اور اپنا اور زمل کا بیگ گاڑی سے نکالنے لگا

“شکر ہے آپ دونوں پہنچ گئے بڑی بیگم صاحبہ کا تین بار فون آچکا ہے، وہ آپ دونوں کا پوچھ رہی تھی”

درید اور زمل داخلی دروازے سے کوٹیچ میں داخل ہو رہے تھے تب خادم (زرقون بی کا بیٹا)درید کے ہاتھ سے دونوں بیگز لیتا ہوا بولا

“ہہہم راستے میں بات ہوگئی تھی آنٹی سے، بتا چکا ہوں میں انہیں یہاں پہنچنے کا۔۔۔ اس کے علاوہ اور کیا پوچھ رہی تھی آنٹی”

درید غور سے خادم کا چہرا دیکھتا ہوا پوچھنے لگا

“جج۔ ۔۔ جی اور تو کچھ خاص بات نہیں کر رہی تھی”

خآدم ہچکچاتا ہوا درید سے بولا۔ ۔۔ وہ جان گیا تھا جو بات اتنے عرصے سے اب تک سب سے چھپی ہوئی تھی،، وہ باب اب اس کی بہن کی کم عقلی کی بدولت اس کے بڑے صاحب کا یہ بیٹا جان گیا ہے،، جو شاید اس کو جاننی نہیں چاہیے تھی۔۔۔ خادم نے یا شارقہ نے اپنی شامت کے ڈر سے تابندہ کو بھی علم نہیں ہونے دیا کہ درید کو قید والے آدمی کا پتہ چل گیا ہے

“اور تم نے بڑی بیگم صاحبہ کو کیا کہا”

درید روعب دار لہجے میں ایک بار پھر خادم سے پوچھنے لگا

“میری کیا مجال جو میں بڑی بیگم صاحبہ کو کچھ کہتا۔ ۔۔ اب بڑے صاحب کے بعد آپ ہی تو ہمارے صاحب ہیں جی”

خادم درید کے سامنے کھڑا گھبراتا ہوا بولا

“کیا ہوا دید، کچھ ہوا ہے کیا”

زمل درید اور خادم کی باتیں سن کر کنفیوز ہوتی ہوئی درید سے پوچھنے لگی

“کچھ نہیں ہوا چلو اندر چلیں”

درید زمل کا ہاتھ پکڑتا ہوا اسے اندر لے آیا وہ خادم کی باتوں سے جان گیا تھا،، تابندہ کو ان دونوں بہن بھائیوں نے کسی بات کی ہوا نہیں لگنے دی ہوگی کیوکہ اگر ایسا ہوتا تو درید کی تھوڑی دیر پہلے جو تابندہ سے بات ہوئی تھی درید اس سے اس بات کا اندازہ لگا لیتا

کوٹیچ کے اندر پہنچ کر شارقہ زمل سے سلام دعا کرتی رہی تھی جبکہ درید خاموش کھڑا ان بے رحم سیڑھیوں کو دیکھ رہا تھا جس پر سے گرنے کی وجہ سے اس کی ماں کی موت واقع ہوئی تھی۔۔۔ اس وقت وہ چھوٹا تھا اور اپنے کمرے میں گہری نیند سو رہا تھا جب یہ درد ناک واقعہ ثمن کی جان لینے کی وجہ بنا تھا

“دید آپ ٹھیک ہیں”

زمل درید کی آنکھوں میں اداسی محسوس کر کے درید کے پاس آ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتی درید سے پوچھنے لگی وہ جانتی تھی وہ یہاں آکر بالکل چپ ہو جاتا تھا اس لیے وہ شروع سے ہی بہت کم یہاں آتا تھا

“ہہہم۔۔۔ ٹھیک ہوں”

درید زمل کو اس کی بات کا مختصر سا جواب دے کر خاموش ہو گیا اور اپنے دائیں جانب دیوار کو دیکھنے لگا جس پر نو سال پہلے تک ثمن کی تصویر ہوا کرتی تھی اسے یاد پڑتا تھا وہ یہاں وہ آخری بار نو سال پہلے سے صرف دو دن کے لیے یہاں آیا تھا

“ماما کی تصویر کس نے ہٹائی اس دیوار سے”

درید خادم کی طرف دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا جو کہ سیڑھیوں سے اوپر موجود بیڈ رومز میں بیگز رکھنے کے بعد نیچے آتا ہوا ہلکی آواز میں اپنی بہن کو کچھ بول رہا تھا

“وہ جی بڑی بیگم صاحبہ (تابندہ) کے کہنے پر ہٹائی تھی میں نے”

خادم درید کو بتاتا ہوا اس کے ساتھ خاموش کھڑی زمل کو دیکھنے لگا پھر جلدی سے بولا

“بیگم صاحبہ کا کہنا تھا کہ بڑے صاحب جی تصویر میں بی بی جی کو دیکھتے ہیں تو پریشان ہوجاتے ہیں اس لیے ان کے کہنے پر وہ تصویر اسٹور روم میں رکھ دی تھی میں نے”

خادم باقی کی بات درید کو بتانے لگا زمل درید کو دیکھ رہی تھی کہ جس کے ماتھے پر اب شکنیں موجود تھی لازمی اسے یہ بات پسند نہیں آئی تھی

“جاؤ اسٹور روم سے تصویر لے کر آؤ اور فوراً اسے دیوار پر دوبارہ لگاؤ۔۔۔ اگر اب کسی کو کوئی بھی پریشانی ہوئی تب تھی وہ تصویر اس دیوار سے ہٹنی نہیں چاہیے”

درید کی بات سن کر خادم سر ہلاتا ہوا اسٹور روم کی طرف چلا گیا جبکہ اس کی بہن شارقہ کچن میں چلی گئی

“مما نے وہ تصویر ڈیڈ کے کہنے پر یہاں سے ہٹائی تھی دید، اس وقت میں بھی روم میں موجود تھی جب ڈیڈ نے مما سے تصویر ہٹوانے کا بولا تھا”

خادم کے وہاں سے جاتے ہی زمل درید کو وضاحت دیتی ہوئی بولی۔۔۔ وہ نہیں چاہتی تھی درید کے دل میں تابندہ کی طرف سے کوئی بدگمانی آئے۔۔۔ درید کے واپس پاکستان آنے کے بعد جو سب سے اچھی بات زمل کو لگی تھی وہ یہی تھی کہ درید اور تابندہ کے تعلاقات پہلے کی بانسبت اب بہتر ہوگئے تھے اور وہ چاہتی تھی درید اور تابندہ اب ہمیشہ ایسے ہی رہیں

“میں جانتا ہو ایسا ڈیڈ نے ہی کہا ہوگا، انہیں تو کبھی زندگی میں قدر ہوئی میری ماں کی مرنے کے بعد وہ کیا قدر کرتے”

بولتے ہوئے درید کے لہجے میں تلخی گھل گئی جسے محسوس کر کے زمل خاموش ہوگئی وہ بہت کم ہی ثمن کا ذکر زمل سے کرتا تھا

“کیا ہوا سفر کی تھکن زیادہ ہوگئی ہے اتنی ڈل کیو لگ رہی ہو”

درید پچھلی ساری باتوں کو ذہن سے نکال کر مکمل طور پر زمل کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔ اس کا چہرہ غور سے دیکھتا ہوا پوچھنے لگا جو کہ درید کو تھکا ہوا محسوس ہو رہا تھا

“میں واقعی بہت زیادہ تھکن محسوس کر رہی ہو اب صرف ریسٹ کرنا چاہتی ہوں کھانے کے لئے مجھے مت بلائیے گا پلیز”

زمل درید کو دیکھتی ہوئی بولی کیوکہ اب اسے واقعی تھکن محسوس ہو رہی تھی وہ صرف نیند لینا چاہتی تھی

“اوکے مگر ایسے خالی پیٹ نہیں سونا تم روم میں جاؤ میں شارقہ کو کہہ دیتا ہوں وہ تمہارے لیے وہی روم میں کھانا لے آئے گی”

درید پیار سے زمل کا چہرہ تھام کر بولا جس پر زمل اقرار میں سر ہلا کر سیڑھیاں چڑھتی ہوئی بیڈروم میں چلی گئی جبکہ خادم ثمن کی تصویر اسٹور روم سے لا کر دیوار پر لگانے لگا۔۔۔ درید خادم کو دیکھتا ہوا کچن میں چلا آیا جہاں شارقہ موجود تھی

“تہہ خانے کا راستہ بتاؤ”

درید کی آواز پر شارقہ پلٹ کر درید کو دیکھنے لگی جو کہ کچن میں موجود سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا

“صاحب جی اگر بڑی بیگم صاحبہ کو معلوم ہوگیا کہ میں نے آپ کو کچھ بھی بتایا ہے تو وہ بہت زیادہ ناراض ہو گیں”

شارقہ ڈرتی ہوئی درید سے بولی۔۔۔ خادم بھی کچن کے دروازے پر آ کر کھڑا ہو گیا درید ایک دم بولا

“جتنا تم سے پوچھا گیا ہے اتنا بتاؤ”

درید کے سختی سے بولنے پر خادم ایک دم بول اٹھا

“آئیے میں آپ کو لے چلتا ہوں وہاں”

خادم کے بولنے پر درید نے مڑ کر خادم کو دیکھا پھر شارقہ کی طرف دیکھتا ہوا اسے تنبہی کرنے والے انداز میں بولا

“چھوٹی بی بی کو کسی بھی بات کا علم نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی بڑی بیگم صاحبہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ میں یہ سب جان چکا ہوں سمجھ میں آرہا ہے تمہیں”

درید کی بات سن کر شارقہ نے جلدی سے اقرار میں سر ہلایا

“جاؤ چھوٹی بی بی کا کھانا اوپر کمرے میں لے جاؤ”

درید شارقہ کو بولتا ہوا خادم کے ساتھ کاڑیچ کے باہر جانے لگا

****

رات بارہ بجے کے قریب جب وہ سیڑھیاں چڑھ کر بیڈ روم میں پہنچا تو بیڈ پر زمل کو سوتا ہوا پایا۔۔۔۔ یہ کوٹیچ جو کہ دو بیڈ رومز پر مشتمل تھا، درید کو یاد پڑتا تھا وہ جب بھی یہاں آتا تھا دوسرے والے بیڈ روم میں اعظم اور ثمن کا قیام ہوتا تھا جبکہ یہ والا کمرہ درید کہ حصے میں آتا تھا۔۔۔ بچپن میں وہ اکثر اعظم اور ثمن کے ساتھ یہاں چھٹیاں گزارنے آتا تھا مگر ثمن کی موت کے بعد سے اس نے یہاں آنا چھوڑ دیا مشکل سے وہ تین سے چار بار ہی یہاں آیا ہوگا جبکہ اعظم اور تابندہ ہر سال زمل کے ساتھ ایبٹ آباد کا ضرور چکر لگاتے یقیناً اب اس کمرے میں ہر سال زمل ہی ٹہرتی ہوگی جبھی وہ بالکل بے فکر ہو کر لاپرواہ انداز میں بیڈ پر لیٹی ہوئی گہری نیند سو رہی تھی۔۔۔ درید کمرے کا دروازہ لاک کر کر زمل کے قریب بیڈ پر بیٹھ گیا لیکن وہ جو کچھ درید بیسمینٹ میں دیکھ کر آیا اس پر اس کا دماغ الجھ کر رہ گیا تھا۔۔۔ پاکٹ سے سگریٹ کا پیکٹ اور لائٹر نکالنے کے بعد وہ اسموکنگ کرتا ہوا تھوڑی دیر پہلے ہوئے عجیب سے اتفاق کو سوچنے لگا

اسے ذرا سا بھی اندازہ نہیں تھا کہ کوٹیچ سے باہر بنے ہوئے اسٹور روم کے اندر کوئی ایسی خفیہ جگہ بھی ہو سکتی ہے جس میں ایک تہہ خانہ موجود تھا یا پھر یہ تہہ خانہ کسی خاص مقصد کے لئے بعد میں بنوایا گیا تھا جب خادم درید کو اس تہہ خانے میں لے کر گیا تو درید وہاں پر زنجیروں میں بندھے ہوئے شخص کو دیکھ کر شاکڈ میں مبتلا ہوگیا تھا۔۔

بڑھاپے، خستہ حالی اور بیماری کے باوجود وہ اس شخص کو پہچان گیا تھا

“زنجیریں کھولو”

درید اس شخص کو دیکھتا ہوا خادم سے بولا

“مگر صاحب جی”

خادم درید کی بات پر پریشان ہوتا ہوا بولا تو درید غصے میں خادم کو گھورنے لگا

“سنائی نہیں دے رہا تمہیں زنجیریں کھولو فوراً”

اب کی بار درید کے سختی سے بولنے پر خادم اس شخص کے پاؤں کی بندھی ہوئی زنجیریں کھولنے لگا۔۔۔ فرش پر بچھے ہوئے گدے پر بے سود لیٹا ہوا شخص ہوش میں آیا

“خاور انکل۔۔۔ آپ خاور انکل ہیں ناں تابندہ آنٹی کے ہسبینڈ زمل کے فادر”

درید اس شخص کے پاس بیٹھتا ہوا بولا اس کی آنکھیں ہرگز دھوکا نہیں کھا سکتی تھی وہ خاور کو پہچان چکا تھا جس کے بارے میں سب کو یہ معلوم تھا کہ وہ تابندہ کو طلاق دینے کے بعد، زمل اور تابندہ کو چھوڑ کر ملک سے باہر جا چکا تھا

“تم۔۔۔ کون ہو تم”

اس بوڑھے شخص کے چہرے پر شناسائی کی رمق تک نہ تھی وہ درید کو نہیں پہچان سکا تھا تبھی حیرت سے پوچھنے لگا اور اتنا بولنے کے ساتھ ہی اس کا سانس اکھڑنے لگا

“میں درید، آپ کے دوست اعظم کا بیٹا پہچانا آپ نے مجھے”

درید خاور سے اپنا تعارف کرواتا ہوا بولا خاور بہت غور سے درید کو دیکھنے لگا اور پہچاننے کی کوشش کرنے لگا

“اعظم اور ثمن کا بیٹا درید۔۔۔ تم درید ہو ہاں یاد آگیا مجھے”

خاور درید کو پہچان گیا تھا جبھی اس سے بولا وہ بمشکل اپنے یہ جملہ ادا کر پایا کیونکہ اس کو سانس لینے میں تکلیف ہونے لگی تھی

“آپ یہاں پر کب سے موجود ہیں انکل اور کس نے آپ کے ساتھ یہ سب کچھ کیا۔۔۔ کون ہے آپ کی اس حالت کا ذمہ دار”

درید کے دماغ میں بہت سارے سوالات ایک دم سے اٹھنے لگے جو وہ خاور سے جاننے کے لیے بےتاب تھا

“اعظم نے۔۔۔ تمہارے باپ نے مجھے یہاں پر قید کیا تھا 19 سال پہلے۔۔ وہی ہے میری اس حالت کا ذمہ دار”

بولتے ہوئے نہ صرف خاور کی آنکھوں میں آنسو نکلنے لگے بلکہ اس کی حالت بھی بگڑنے لگی جبکہ درید خاور کے منہ سے اعظم کا نام سن کر ایک دم سکتے میں آگیا

“آنکل کیا ہو رہا ہے آپ کو انکل۔۔۔ خادم جاؤ کار نکالو ہمہیں ہسپتال جانا ہوگا ابھی”

درید خاور کی بگڑھتی ہوئی حالت کو دیکھ کر جلدی سے خادم سے بولا تو خاور تکلیف سے سانس لیتا ہوا نفی میں سر ہلانا لگا۔۔۔ بس درید نے اسے اپنے تکلیف سے کراہ تے اور انکھیں بعد کرتے دیکھا پھر اس کا جسم ساکت ہوگیا۔۔۔۔ درید حیرت ذدہ ہوکر خاور کے بےجان وجود کو دیکھنے کے بعد خادم کو دیکھنے لگا

“صاحب جی مجھے لگتا ہے اس کی موت ہوگئی”

خادم کی بات سن کر درید بستر پر لیٹے ہوئے خاور کو دیکھنے لگا۔۔۔ خاور بہت سے ضروری سوالات کے جوابات اپنے ساتھ ہی لے کر دنیا سے جا چکا تھا۔ ۔۔ جس کے جوابات یہاں کے ملازمین نہیں جانتے تھے جس کے جوابات جاننے کے لیے درید کو تجسس تھا جس کے جوابات اب اسے صرف تابندہ سے ہی مل سکتے تھے

اگر اس کے باپ نے 19 سالوں سے اپنے دوست کو قید کر کے رکھا ہوا تھا تو اس کے باپ کے ساتھ تابندہ بھی اعظم کے جرم میں برابر کی شریک تھی کیونکہ وہ سب باتوں سے واقف تھی۔۔۔ سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ اس کے باپ نے اپنے دوست کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟؟؟ درید سیگریٹ پیتا ہوا سوچنے لگا

تابندہ کو حاصل کرنے کے لئے۔۔۔ دریس کو خود ہی جواب مل گیا۔۔۔ یہ قدم اعظم نے تابندہ کو حاصل کرنے کے لیے اٹھایا تھا کیونکہ وہ بچپن میں اپنی آنکھوں سے جو منظر دیکھ چکا تھا وہ اس بات کی اہم کڑی تھی۔۔۔ درید اسموکنگ کرتا ہوا خود سے نتیجہ اخذ کرنے لگا،، اچانک اس کا دماغ ثمن کی طرف چلا گیا

اگر اس کا باپ اپنے دوست کو راستے سے ہٹانے کے لیے اسے قید کر سکتا تو پھر اپنی پہلی بیوی کو۔۔۔ کیا اس کی ماں کی موت حادثاتی تھی یا پھر پری پلان؟؟؟

یہ بات درید کے ذہن میں آتے ہی اس کو گھبراہٹ سی ہونے لگی اسے محسوس ہونے لگا کہ اس کے اندر دھواں سا بھر گیا ہے مگر یہی حالت کمرے کی بھی تھی اسموکنگ کرنے کی وجہ سے پورے کمرے میں دھواں بھرنے لگا تھا۔۔۔ درید کو اٹھ کر کمرے کی کھڑکی کھولنا پڑی۔۔۔ ٹھنڈی ہوا میں سانس لیتا ہوا وہ خود کو پُر سکون کرنے لگا۔۔۔ ایسا ضروری بھی نہیں تھا جو سلوک اعظم نے اپنے دوست کے ساتھ کیا ہو وہی سلوک وہ اپنی بیوی کے ساتھ کرتا۔۔۔۔ ایسا بھی ہوسکتا تھا کہ اس کی ماں کی موت واقعی سیڑھیاں گرنے کی وجہ سے واقع ہوئی ہو۔۔۔ اب وہ کھڑکی سے باہر دیکھتا ہوا مثبت انداز میں سوچنے لگا

پوری سچائی اب وہ واپس جانے کے بعد تابندہ سے جاننے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔ کیونکہ اصل حقیقت اب اسے تابندہ سے ہی معلوم ہو سکتی تھی۔۔۔

زمل کے کروٹ لینے پر درید نے مڑ کر بیڈ پر سوئی ہوئی زمل پر نظر ڈالی کھڑکی کھولنے کی وجہ سے کمرے میں ٹھنڈ بڑھ رہی تھی شاید وہ اس وجہ سے نیند میں بےچین ہو رہی تھی درید نے کھڑکی کا دروازہ بند کر دیا اور اپنی جیکٹ کو اتار کر زمل کے برابر میں بیڈ پر لیٹتا ہوا زمل کو دیکھنے لگا،، حقیقت چاہے کچھ بھی ہو۔۔۔ درید کی محبت اس لڑکی سے کم نہیں ہوسکتی تھی نہ وہ اس سے محبت کرنا بند کر سکتا تھا درید اپنے اور زمل کے بارے میں سوچتا ہوا سونے کی کوشش کرنے لگا

****

صبح کے وقت زمل کی آنکھ کھلی تو وہ بائیں جانب کروٹ لیے بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی اس کا سر تکیہ کی بجائے اپنی پشت پر سوئے ہوئے درید کے پھیلے ہوئے بازو پر ٹکا ہوا تھا۔۔۔ زمل کو درید سے پوری توقع تھی کہ وہ رات میں اسی روم میں آ کر اُسی کے پاس سوئے گا کیونکہ یہاں آ کر وہ اداس ہوجاتا خود کو اکیلا محسوس کرتا تھا۔۔۔ وہ زمل کو لایا بھی اپنے ساتھ شاید اسی وجہ سے تھا تاکہ اپنی اداسی اور اکیلے پن کا علاج کر سکے

کمفرٹر کے اندر موجود ہو کر بھی زمل کو اس وقت سردی محسوس ہو رہی تھی وجہ ہیٹر کا بند ہونا تھا جو کہ درید نے لازمی رات کو سونے سے پہلے بند کر دیا ہوگا۔۔۔ زمل کمفرٹر سے اپنا ہاتھ باہر نکال کر سائیڈ ٹیبل پر ریموٹ کنٹرول ڈھونڈنے لگی جو کہ درید سونے سے پہلے نہ جانے کہاں رکھ چکا تھا۔۔۔ کمفرٹر سے باہر نکل کر ہیٹر آن کرنا اس وقت زمل کو دنیا کا سب سے مشکل کام لگا مگر کمرے کے ٹمپریچر کو دیکھ کر یہ کام کرنا ضروری تھا، اس لیے کمفرٹر سے باہر نکلنے سے پہلے وہ اپنے اوپر سے درید کا ہاتھ ہٹانے لگی۔۔۔ زمل کو پتہ بھی نہیں لگا کہ اس کے چھونے سے درید کی آنکھ کھل چکی تھی

زمل نے کمفرٹر سے باہر نکل کر ٹھنڈے فرش پر پاؤں رکھے تو اس کے دانت بجنے لگے وہ اس وقت ٹراؤزر کے اوپر ہالف سلیو شرٹ پہنی ہوئی تھی جلدی سے قدم بڑھاتی ہوئی وہ دیوار پر نسب ہیٹر کو آن کرکے وہی سے بھاگ کر واپس آتی ہوئی دوبارہ کمفرٹر میں چھپ گئی

“اف دید کو تو بہت ہی زیادہ گرمی لگتی ہے ہیٹر بند کرنے کی کیا ضرورت تھی”

زمل آہستہ آواز میں بڑبڑائی تو اس کی پشت پر لیٹے درید نے زمل کو اپنی طرف کھینچا جس پر زمل کے منہ سے زور دار چیخ نکلی ساتھ ہی اس کی کمر درید کے سینے سے چپک گئی

“بی کوز آئی ایم ہاٹ بلاڈڈ مین”

درید زمل کو اپنے اندر چھپائے اس کے کان میں سرگوشی کرتا ہوا بولا۔۔۔ وہ رات والے واقعے کو دل اور دماغ سے نکال کر صرف اس وقت زمل کو محسوس کرنا چاہتا تھا

“کیا کر رہے ہیں آپ۔۔۔ مجھے اس وقت بہت سردی لگ رہی ہے پلیز دید چھوڑ دیں مجھے”

درید کے بازوؤں کے تنگ گھیرے میں زمل گھبراتی ہوئی اس سے بولی اور اس کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی

“تمہاری سردی کا ہی علاج کر رہا ہوں میں، اس ہیٹر سے زیادہ گرمائش رکھتا ہوں آزما کر دیکھ لو”

درید نے بولنے کے ساتھ ہی زمل کو مزید اپنی گرفت میں جکڑا

“کیا ہوگیا ہے دید آپ کو، کیا توڑ ڈالے گے آج آپ مجھے ہٹیں ناں پیچھے”

زمل درید کی گرفت میں پریشان ہوتی ہوئی بولی تو درید نے سیدھے لیٹتے ہوئے زمل کے نازک وجود کو اپنے اوپر جھکا لیا اب وہ درید کے سینے پر جھکی ہوئی اسے گھور رہی تھی تو درید بولا

“تمہاری یہ نازک مزاجی دیکھ کر تو میں خود بھی ٹینشن میں آجاتا ہوں کہ کیسے برداشت کرو گی تم اپنے اِس دیوانے کی دیوانگی کو”

درید سنجیدہ انداز میں زمل کا چہرہ دیکھ کر بولا تو زمل نے اپنی نظروں کا زاویہ درید کے چہرے سے ہٹاتے ہوئے پلکوں کو جھکالیا

“کیا ضروری ہے اپنی دیوانگی دکھانا۔۔۔ مجھے تو اب ویسے بھی آپ سے ڈر لگنے لگا ہے”

زمل درید سے بولتی ہوئی اس کے سینے سے سر ہٹا کر بیڈ پر بیڈ گئی

“مجھ سے ڈر،، وہ کیوں”

درید خود بھی بیڈ پر بیٹھتا ہوا حیرت سے زمل کو دیکھ کر پوچھنے لگا

“بتایا تو تھا آپ کو کہ اب آپ پہلے جیسے شریف نہیں رہے ہیں”

زمل نے بولنے کے ساتھ ہی جلدی سے بیڈ سے اترنا چاہا مگر اس سے پہلے درید اس کو بازوؤں میں بھرتا ہوا بیڈ پر دوبارہ لیٹ گیا

“ابھی تک تو میں نے شرافت کا ہی مظاہرہ کیا ہوا تھا۔۔۔ مگر اب آگے تمہارا ڈرنا جائز ہوگا اسلیے صحیح سے ڈرنے کے لیے ابھی سے تیار ہوجاؤ”

درید مسکراہٹ چھپا کر مصنوعی گھوری سے اس کو نوازتا ہوا زمل کے چہرے پر جھکا تو زمل نے اپنی آنکھیں بند کرلی

“دید کیا ہوگیا ہے آپ کو۔۔ آپ تو سیریس ہوگئے پلیز ابھی تو ہٹیں”

اپنی گردن پر درید کے ہونٹوں کا لمس محسوس کر کے وہ ایک دم بوکھلاتی ہوئی بولی کیوکہ زمل جان گئی تھی درید اب لمحہ بھر ہی لگائے گا اس پر اپنی شدتیں لٹانے میں

“میرے خیال میں اب تمہیں بھی سیریس ہوجانا چاہیے، بس اب کوئی آرگیو نہیں”

درید زمل کی مدخلت پر اس کا چہرہ دیکھ کر بولا وہ اس وقت بالکل سنجیدہ تھا پھر بھی زمل کی زبان سے جانے کیسے پھسل گیا

“کل ڈرائیونگ کے دوران آپ رضی انکل کو اپنے صبح آفس آنے کا بتا رہے تھے۔۔۔ رضی انکل آپ کا ویٹ کر رہے ہوگیں دید”

زمل درید کی گرفت میں اسے مینجر کی کال کا یاد دلانے لگی

“لیکن وہ مجھ سے لیٹ آنے کی وجہ نہیں پوچھیں گے۔۔۔ اب بتاؤ تم کیا چاہ رہی ہو میں یہی موجود رہو یا دوسرے روم میں چلا جاؤ”

درید اٹھ کر بیٹھتا ہوا زمل سے پوچھنے لگا۔۔۔ زمل نچلا ہونٹ دانتوں سے دباتی ہوئی بےچارگی سے درید کو دیکھنے لگی۔۔۔ درید بیڈ سے اٹھ کر دوسرے روم سے جانے لگا تب زمل نے فوراً درید کی کلائی پکڑی

“میں نہیں چاہتی کہ آپ مجھ سے ناراض ہوکر جائے۔۔۔ مگر آپ کا آفس جانا بھی ضروری ہے تو کیا کیا جاسکتا ہے”

وہ اتنی جلدی کیسے یہ سب کچھ۔۔۔ مگر درید کی ناراضگی ااففف۔۔۔ زمل سچ میں کنفیوز ہو چکی تھی مگر اپنی بات مکمل ہونے پر درید کو اپنے اوپر دوبارہ جھکتا ہوا دیکھ کر اس کی سانسیں رک گئی

“کہا تو ہے آفس لیٹ بھی چلا جاؤ تو کوئی پرابلم نہیں”

درید زمل کے گھبرائے ہوئے چہرے کو دیکھ کر بولا وہ زمل کے ہونٹوں پر جھکنے لگا مگر اس سے پہلے زمل نے کانپنا شروع کردیا

“تم نے پھر اس دن کی طرح کانپنا شروع کردیا۔۔۔ حیرت ہے مجھے نہیں لگتا کوئی لڑکی اس طرح بھی ایکٹ کرتی ہوگی”

درید غور سے زمل کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا جوکہ بند آنکھوں کے ساتھ درید کے بےحد قریب لیٹی ہوئی باقاعدہ کانپ رہی تھی

“آپ نے اگر اپنا برف جیسا ہاتھ میرے اوپر سے نہیں ہٹایا تو میں ایسے ہی کانپتی رہو گی”

زمل کے بولنے پر درید کی نظر اپنے ہاتھ پر گئی جو زمل کی شرٹ سے تھوڑا اندر اس کے پیٹ پر موجود تھا۔۔۔ درید مسکراتا ہوا اپنا چہرا زمل کے قریب لایا

“وجہ یہی ہے یا بن رہی ہو میرے سامنے”

درید مسکراتا ہوا زمل سے پوچھنے لگا جس پر زمل اپنی آنکھیں کھلتی ہوئی درید کو دیکھنے لگی

“سس”

درید کا ہاتھ سرکتا ہوا اوپر گیا تو زمل کے منہ سے سسکی نکلی

“آپ کو اس روپ میں امیجن کیا تھا تب بھی یہی کنڈشن ہوگئی تھی میری پلیز اب دور ہٹ جائے”

زمل کی بات پر درید کے لب بےساختہ مسکرائے

“اور ایسا امیجن کب کیا تم نے”

اب درید کا ایک ہاتھ زمل کے گال پر تھا جبکہ دوسرے ہاتھ کی انگلیاں زمل کے ہونٹوں کو نرمی سے چھو رہی تھی

“کل رات”

زمل اپنی آنکھیں بند کیے بولی تو درید اس کے سانسوں میں اپنی سانسیں اتارتا ہوا مدہوش ہوا مگر پھر زمل کی حالت پر ترس کھاتا ہوا اٹھ بیٹھا

“سوچ رہا ہو آفس کا چکر لگا آتا ہو ورنہ تمہارا دماغ میرے آفس جانے میں اٹکا رہے گا اور آج رات ہی تمہاری اس سردی کا اور کانپنے کا صحیح سے علاج کرتا”

درید زمل سے بولتا ہوا اپنی جیکٹ صوفے سے اٹھا کر کمرے سے باہر نکل گیا

****