436.8K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deewangi (Episode 20) 2nd Last Episode

Deewangi By Zeenia Sharjeel

صبح درید کی آنکھ کھلی تو کل رات والے تمام منظر ایک ایک کر کے اس کی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے۔۔۔ اپنے منہ زور جذبات پر بےقابو ہونا جس کی وجہ سے زمل کا بار بار شرم وحیا سے آنکھیں بند کرلینا، اپنی بڑھتی ہوئی وارفتگی پر زمل کا گھبرا جانا۔۔۔ پھر اپنی مدھوشی پر زمل کا بدحواس ہوجانا۔۔۔ آخر میں اپنی دیوانگی پر زمل کا ہلکی پھلکی مزاحمت۔۔۔۔ جسے وہ کل رات خاطر میں نہ لا کر اپنی ملکیت کو مکمل طور پر اپنا بنا چکا تھا۔۔۔ درید نے زمل کی طرف کروٹ لے کر اس کی طرف اپنا رخ کیا تو درید کو اپنے بازو میں کوئی چیز چبھتی ہوئی محسوس ہوئی دوسرے ہاتھ سے ٹٹولنے پر معلوم ہوا وہ اس کا خریدا ہوا نیکلیس تھا جو کل رات اس نے زمل کو کیک کاٹنے کے بعد پہنایا تھا، اور بعد میں کمرے میں آکر خود ہی اتار بھی دیا کیو کہ بعد میں وہ نیکلس اس کے کام میں خلل ڈال رہا تھا۔۔۔ نیکلیس کو سائیڈ ٹیبل پر رکھتا ہوا وہ دوبارہ زمل کا چہرا دیکھنے لگا جو بے خبر سوئی ہوئی تھی

“کیا آج اٹھنے کا ارادہ نہیں ہے میری جان”

درید زمل کے گال کو اپنی انگلیوں سے ہلکے سے چھوتا ہوا پوچھنے لگا۔۔۔ مگر درید کا لمس زمل کی نیند میں خلل ڈالنے میں ناکام رہا

“ایسی کون سی نیند ہے جو پوری نہیں ہو رہی، کل رات تمہاری حالت دیکھ کر بہت جلدی بخش دیا تھا تمہیں تمہارے دید نے اب جلدی سے جاگ جاؤ اس سے پہلے میرے سوئے ہوئے جذبات جاگ جائیں”

درید نے کمفرٹر کے اندر زمل کے پاؤں پر اپنا پاؤں پھیرتے ہوئے اس کے کان میں سرگوشی کی، تو زمل اپنا رخ پھیر کر درید کی طرف پشت کر کے لیٹ گئی

“یعنیٰ کہ تم بھی چاہ رہی ہو میں کل رات کی طرح دوبارہ سے۔۔۔

درید نے آدھا جملہ ادا کرکے جیسے ہی زمل. کو اپنے حصار میں لیا ویسے ہی زمل نے نیند میں اس کا ہاتھ اپنے اوپر سے ہٹایا جس پر درید زمل کی پشت کو گھورتا ہوا بیڈ سے اٹھا اور اپنی شرٹ پہننے لگا

کل رات کی بانسبت آج زیادہ ٹھنڈ تھی، کل رات کچھ موسم میں، کچھ جذبوں میں گرمائش تھی کہ درید کو ہیٹر بند کرنا پڑا تھا، شرٹ پہننے کے بعد وہ بیڈ سے اترتا ہوا دوبارہ ہیٹر آن کر چکا تھا تاکہ زمل کی نیند میں بے سکونی نہ آئے۔۔۔ درید خود آفس جانے کی تیاری کرنے لگا کیوکہ آج شام وہ زمل کو اپنے ساتھ واپس لے کر جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔۔ درید سیڑھیوں سے نیچے اتر رہا تھا تب اسے زرقون بی نظر آئیں

“کتنے سالوں بعد دیکھ رہی ہو آپ کو، کتنے بڑے ہوگئے ہیں آپ درید بابا”

درید کے سلام کا جواب دینے کے بعد زرقون بی خوش دلی بولی جس پر درید ہلکا سا مسکرایا

“وقت گزرتے معلوم نہیں ہوتا زرقون بی اور وقت گزرنے کے ساتھ انسان بڑا ہو جاتا ہے لیکن یہ بہت غلط بات ہے کہ پھر بھی اس انسان کو چھوٹا سمجھ کر اس سے بڑی بڑی باتیں چھپا لی جائیں۔۔۔۔ یہاں اتنے سالوں سے کیا کچھ ہوتا رہا ہے جس سے مجھے بےخبر رکھا گیا تھا وہ سب باتیں اب میرے علم میں آچکی ہیں، آپ نے مجھے ان باتوں سے آگاہ کیوں نہیں کیا زرقون بی”

درید بات کو طول دیئے بغیر کام کی بات پر آیا جس پر زرقون بی تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہوگئیں

“ہمیں اعظم صاحب نے اس کوٹیچ کی رکھوالی کے لیے رکھا تھا، میں اور میرے دونوں بچے یہاں پر بطور ملازم اپنی نوکری سر انجام دیتے ہیں اعظم صاحب کے حکم سے یہ بات آپ سے ہی نہیں بلکہ سب لوگوں سے چھپائی گئی تھی۔۔۔۔ اعظم صاحب کے انتقال کے بعد بیگم صاحبہ (تابندہ) نے سختی سے اس راز پر سے پردہ ہٹانے کو منع کیا تھا کہ یہاں پر خاور صاحب کو قید میں رکھا گیا ہے۔۔۔۔ میں برسوں سے یہاں ملازمت کر رہی ہو، اعظم صاحب کے کئی احسانات ہیں مجھ پر ان کا کوئی بھی راز میں آپ کو یا کسی دوسرے کو بتا کر میں ان سے غداری نہیں کر سکتی تھی”

زرقون بی کی بات سن کر درید کچھ پل خاموشی کے بعد دوبارہ بولا

“کیونکہ خاور انکل کی قید کے بارے میں مجھے معلوم ہو چکا ہے اب یہ راز نہیں رہا ہے تو بہتر یہی ہے کہ آپ مجھے ساری سچائی بتا دیں کہ ڈیڈ نے خاور انکل کو یہاں پر کس “وجہ” سے قید کر کے رکھا تھا”

درید “وجہ” یعنی تابندہ اور اعظم کے بارے میں جاننے کے باوجود زرقون بی سے سارا معاملہ پوچھنے لگا اس کا دھیان اوپر بیڈ روم میں سوئی ہوئی زمل پر بھی تھا جبھی وہ بہت محتاط انداز میں بات کر رہا تھا۔۔۔۔ لیکن درید کا سوال سن کر ذرقون بی کچھ پریشان ہوگئیں

“بیٹا میں اس گھر کی معمولی سی ملازمہ ہو، صاحب لوگوں کی باتوں کا مجھے کیا علم، کہ کیو اعظم صاحب نے اپنے اتنی قریبی دوست کو یہاں اتنے سال قید میں رکھا”

زرقون بی خود بھی اپنے آپ کو حقیقت سے بےخبر ظاہر کرتی ہوئی درید سے بولی یہاں آنے سے پہلے خادم اور شارقہ نے انہیں خاور کی موت کے بارے میں بھی بتا دیا تھا

“یعنی آپ مجھے حقیقت نہیں بتائیں گی جبکہ آپ کے لہجے اور انداز سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ آپ بہت کچھ جانتی ہیں،

درید زرقون بی کو جتانے والے انداز میں بولا جس پر زرقون بی تھوڑی دیر کے لئے خاموش رہیں پھر بولی

“آپ بڑی بیگم صاحبہ سے ہر طرح کا سوال کر سکتے ہیں آپ کو سارے سوالات کے جواب مل جائیں گے درید بابا”

زرقون بی درید سے نظریں ملائے بغیر بولی۔۔۔ تو درید کمرے میں لگی ہوئی ثمن کی تصویر دیکھنے لگا،، زرقون بی کی نظریں بھی اب ثمن کی تصویر پر مرکوز تھی

“آنٹی کو تو اب سارے جوابات دینے پڑیں گے اور وہ جواب ضرور دیں گی لیکن میرے ایک سوال کا جواب مجھے آپ ہی دیں گیں اور وہ بھی بالکل سچ۔۔۔ زرقون بی آپ جانتی ہیں میں نے کبھی بھی آپ کو ملازم کی حیثیت سے نہیں دیکھا آپ ہمیشہ میرے لئے قابل احترام ہستی رہی ہے پلیز مجھے سچ بتائیں میری ماما کی موت کیسے واقع ہوئی تھی”

درید نے جتنی سنجیدگی سے سوال کیا تھا ایک بار پھر زرقون بی پریشان ہو کر درید کا چہرہ دیکھنے لگی

“میں آپ کی زبان سے بالکل سچ سننا چاہوں گا زرقون بی، بالکل سچ پلیز مجھے بتائیں”

درید زرقون بی کے چہرے کے تاثرات سے اندازہ لگا چکا تھا ثمن کی موت اتنی بھی حادثاتی نہیں تھی جتنی اسے یا پھر دوسری جاننے والوں کو بتائی گئی تھی مگر آج وہ یہ راز جاننے کا ارادہ رکھتا تھا

“اُن دنوں آپ اپنے اسکول کی چھٹیوں میں یہاں اعظم صاحب اور ثمن بی بی کے ساتھ آئے تھے،، اس رات کو آپ جلدی سو گئے تھے۔۔۔ اعظم صاحب اور ثمن بی بی کی لڑائی کی تیز آوازوں سے بھی آپ کی آنکھ نہیں کھل پائی۔۔۔۔ ویسے بھی آپ کافی چھوٹے تھے شاید آپ کو بہت سی باتوں کا علم نہ ہو بہرحال ان دونوں کی لڑائی کی آوازیں کمرے سے باہر آ رہی تھی میں سارے کاموں سے فارغ ہوکر گھر کے لیے نکلنے والی تھی جب اعظم صاحب اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر باہر نکلے۔۔۔ وہ شدید غصے میں تھے اور سیڑھیوں سے نیچے اتر رہے تھے تب ثمن بی بی ان کے پیچھے آتی ہوئی بار بار انہیں کسی بات سے منع کر رہی تھی یا پھر انہیں روک رہی تھی مگر آعظم صاحب ان کی بات نہیں سن رہے تھے وہ سیڑھیاں اترتے ہوئے باہر جانے کا ارادہ رکھتے تھے پھر ثمن بی بی نے آپکی قسم کھائی، جس پر اعظم صاحب کو شدید غصہ آیا اور اعظم صاحب نے ثمن بی بی کا ہاتھ زور سے جھٹکا جس کی وجہ سے وہ سیڑھیوں سے نیچے گر گئیں اس وقت ان کے سر پر کافی گہری چوٹ آئی تھی”

زرقون کی بات سن کر درید کو عجیب سی وحشت نے آ گھیرا تھا،، اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا اسے تو یہ معلوم تھا کہ ثمن کی ڈیتھ سیڑھیوں سے گرنے کی وجہ سے ہوئی تھی یہ نہیں معلوم تھا کہ اعظم بھی اس وقت سیڑھیوں پر موجود تھا یا اس سے پہلے اس کے ماں باپ میں کسی بات کو لے کر لڑائی ہوئی تھی لیکن اس کی گرینی غصے میں اعظم کو ثمن کا قاتل بولتی تھی آج اسے اپنی گرینی کی بات بالکل سچ لگ رہی تھی

“ایسی کون سی بات تھی جس کی وجہ سے ڈیڈ اور ماما میں لڑائی ہوئی تھی”

درید غائب دماغی میں ذرقون بی سے پوچھنے لگا

“شوہر اور بیوی کے درمیان کی بات کا مجھے کیا علم درید بابا”

زرقون بی اپنے دوپٹے سے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کرتی ہوئی درید سے بولی

“خدارا پہلیاں مت بجھائے زرقون بی جو بھی بات ہے مجھے سچ سچ بتا دیں۔۔۔ ابھی آپ نے خود کہا ان دونوں کی لڑائی کی آوازیں باہر تک آرہی تھی”

زرقون بی بات سن کر درید جھنجنھلاتا ہوا ان سے پوچھنے لگا۔۔۔ جس پر زرقون بی فیصلہ نہیں کر پائی کہ اسے سچائی بتانی چاہیے یا نہیں

“اور مجھے کسی بات کا کچھ بھی علم نہیں ہے درید بابا،، بس مجھے یہ معلوم ہے سیڑھیوں سے گرنے کی وجہ سے ثمن بی بی کے سر پر مسلسل خون بہہ رہا تھا اور اعظم صاحب نے غصے کے باوجود اپنے دوست ڈاکٹر کو فون کر کے یہاں بلایا اور خود وہ باہر نکل گئے”

زرقون بی گھبراہٹ میں جلدی سے بولتی ہوئی وہاں سے جانے لگی

“اس رات ڈیڈ نے صرف ڈاکٹر کو ہی فون کیا تھا یا پھر تابندہ آنٹی کو بھی فون کیا تھا”

درید کی آواز نے ذرقون بی کے قدم روک لئے،، وہ چلتا ہوا زرقون بی کے سامنے کھڑا ہوا۔۔۔ یہ بات چند سال پہلے اس نے ثمن کا ذکر آتے ہوئے تابندہ کے منہ سے سنی تھی کہ ثمن کے سیڑھیوں سے گرنے پر سب سے پہلے اعظم نے اس کو کال کرکے بتایا تھا

“میں اتنا بھی لاعلم نہیں ہو زرقون بی جتنا آپ مجھے سمجھ رہی ہیں۔۔۔۔ بس میں یہ سمجھتا رہا کہ اس رات میری ماما کی موت حادثاتی تھی۔۔۔ انہیں تو مارا گیا تھا اور خاور انکل کو یہاں قید میں رکھا گیا تاکہ ڈیڈ اور تابندہ آنٹی کے رشتے کے بیچ کوئی رکاوٹ نہ آئے”

درید کی بات سن کر اس سے پہلے ذرقون بھی کچھ بولتی سیڑھیوں سے نیچے اترتی ہوئی زمل پر ان دونوں کی نظر پڑی جو ان دونوں کی باتوں سے انجان مسکراتی ہوئی ان دونوں کے پاس ہی آ رہی تھی

“کہاں غائب تھیں آپ زرقون بی کیسی ہیں آپ”

زمل شرمیلی سی ایک نگاہ درید پر ڈال کر ذرقون بی کے پاس آ کر ان سے پوچھنے لگی۔۔۔ وہ یہاں ہر سال ایبٹ آباد آتی تھی اس کی شارقہ کی بانسبت زرقون بی سے اچھی سلام دعا تھی

“میں بالکل ٹھیک ہوں،، مجھے شارقہ سے آپ کی اور درید بابا کی شادی کے بارے میں معلوم ہوا ہے، بہت خوشی ہوئی سن کر،، اللہ تعالی آپ دونوں کو خوش اور آباد رکھے،، میں آپ دونوں کے لیے ناشتہ بناتی ہوں”

ذرقون بی زمل سے بولتی ہوئی، گہری سوچ میں خاموش کھڑے درید کو دیکھ کر وہاں سے کچن میں چلی گئی۔۔۔ زمل درید کی طرف متوجہ ہوئی جس نے سرسری سی نگاہ ہی زمل پر ڈالی تھی

“مجھے جگایا کیوں نہیں آپ نے دید،، مجھ سے بات کیے بناء آپ آفس جا رہے تھے”

زمل درید کو آفس جانے کے لیے تیار دیکھ کر اس کے پاس آتی ہوئی درید سے پوچھنے لگی۔۔۔

درید زرقون بی کے وہاں سے جانے کے بعد اب خاموشی سے زمل کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ درید کے دیکھنے کے انداز میں کل رات والے والہانہ پن نہیں تھا۔۔۔ وہ بے تاثر انداز میں خاموش کھڑا اس کو دیکھ رہا تھا

“کیا ہوا آپ کو، ایسے کیا دیکھ رہے ہیں”

زمل نیچی نگاہیں کرکے درید کی شرٹ کا کالر ٹھیک کرتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی، کل رات وہ اپنے لیے درید کی دیوانگی دیکھ کر اس وقت مشکل سے ہی اس سے نظریں ملا کر بات کر رہی تھی۔۔۔ درید اس کے گال کو اپنی انگلیوں سے چھو کر، اپنا انگوٹھا اس کے ہونٹوں پر پھیرتا ہوا زمل سے پوچھنے لگا

“آگے زندگی گزارنے کے لیے اگر تمہیں اپنی ماں اور مجھ میں سے کسی ایک کو چننا پڑے تو تم کس کا انتخاب کرو گی”

درید زمل سے سوال کرتا ہوا اپنا ہاتھ اس کی تھوڑی سے نیچے گردن پر لے جانے لگا۔۔۔ جبکہ درید کا دماغ ابھی بھی ماضی میں کہیں بھٹکا ہوا تھا

“یہ کیسا سوال ہے دید، آپ جانتے ہیں آپ اور مما دونوں ہی میرے لئے اہم ہیں”

زمل درید کے اس عجیب و غریب سوال کا جواب دیتی ہوئی اس سے بولی،، درید جو اس کی گردن پر اپنی انگلیاں پھیر رہا تھا۔۔۔۔ اسکے جواب پر آہستہ سے اس کی گردن پکڑتا ہوا بولا

“یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے زمل، اب تمہاری زبان سے صرف وہی ایک نام نکلنا چاہیے جس کے ساتھ تم اپنی آگے کی زندگی گزارنا چاہتی ہو”

درید کا انداز کل رات سے بالکل مختلف تھا ساتھ اس کا لہجہ بھی وارننگ دینے والا تھا،، درید کا ہاتھ ابھی بھی زمل کی گردن پر تھا۔۔۔ وہ درید کے چہرے کے سرد تاثرات کو دیکھنے لگی، درید زمل کے جواب کا منتظر اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔ کل رات درید اس سے اپنا رشتہ مضبوط کرنے کے بعد،، آج اس کا امتحان لے رہا تھا مگر کیو؟؟

“میں اپنی مما کو اکیلا کیسے”

ابھی زمل کا جواب مکمل بھی نہیں ہوا تھا درید کے ہاتھ کی سختی زمل کی گردن پر بڑھنے لگی۔۔۔۔ وہ خاموشی سے درید کا چہرہ دیکھتی ہوئی اس کا ہاتھ اپنی گردن سے ہٹانے لگی

“تم اچھی طرح جانتی تھی ناں تمہیں کس کا نام لینا تھا”

درید کے چہرے کے سرد تاثرات کی طرح اب اس کا لہجہ بھی سرد تھا۔۔۔۔ زمل نے ذرا سی مزاحمت کی تو درید کے ہاتھ میں مزید سختی آگئی

“دید۔ ۔۔۔ پپ پلیز”

زمل بمشکل بول پائی تو درید نے ایک دم سے اس کی گردن چھوڑی

“یہی ایک نام میں تمہارے منہ سے سننا چاہوں گا زندگی بھر، اس نام کو اچھی طرح ذہن نشین کرلو۔۔۔ جیسے میری ماں اس دنیا میں نہیں رہی میرا باپ مر گیا سمجھ لو کہ اب تمھاری ماں بھی مر چکی ہے”

درید زمل کے سرخ چہرے اور آنکھوں میں آئی نمی کو دیکھتا ہوا بولا اور باہر نکل گیا

زمل درید کے عجیب وغریب رویے پر شاکڈ نہیں تھی۔۔۔۔ وہ انکھوں میں آئی نمی کو صاف کر کے کمرے میں جانے لگی تب اس کی کچن کے دروازے پر نظر پڑی جہاں زرقون بی خاموش کھڑی اسی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ اس سے پہلے بھی وہ ماضی میں اس گھر میں بہت کچھ دیکھتی آئی تھیں مگر ہمیشہ ہی خاموش رہی۔۔۔ زمل زرقون بی کو دیکھ کر بناء کچھ بولے سیڑھیاں چڑھتی ہوئی کمرے میں چلی آئی۔ ۔۔ وہ واپس اسلام آباد جانا چاہتی تھی اپنی مما کے پاس، درید دے دوری کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتی تھی لیکن وہ اپنی ماں کو بھی نہیں چھوڑ سکتی تھی۔۔۔۔ زمل نے سوچ لیا تھا وہ درید کو یہاں سے اپنے جانے کا فون کر کے بتا دے گی

*****

“یعنیٰ زمل نے تمہیں کال کرکے میرے بارے میں یہ بولا ہے کہ میں اس کی لائف میں آنٹرفیئر کرکے اس کو ٹیس کر رہا ہو”

کیف بگڑے ہوئے موڈ کے ساتھ ہاتھ میں پکڑے ہوئے موبائل سے بات کرتا ہوا واصف سے پوچھنے لگا

“تم میری بات کا غلط مطلب مت نکالو کیف۔۔۔ میرا تمہیں سمجھانے کا مقصد یہی ہے کہ اس وقت زمل ایبٹ آباد میں اپنے ہسبنڈ کے ساتھ موجود ہے اگر وہ اپنی لائف اپنے ہسبنڈ کے ساتھ گزارنا چاہتی ہے تو تم کیوں ان دونوں کے بیچ میں مداخلت کرکے ان کی لائف ڈسٹرب کر رہے ہو۔۔۔۔ اب پلیز یہ مت کہنا کہ تم ایبٹ آباد سیر و تفریح کے لیے آئے ہو اور وہاں تمہاری زمل سے اتفاقیہ ملاقات ہوگئی ہے”

واصف طنزیہ انداز میں کیف کو بولا

“اتفاقیہ تو کچھ بھی نہیں ہوتا، تم ٹھیک کہہ رہے ہو مجھے اب زمل اور اس کے ہسبینڈ کے بیچ نہیں آنا چاہیے۔۔۔۔ میں تمہاری بات اچھی طرح سمجھ چکا ہوں۔۔۔۔ اب کال رکھو مجھے ایک ضروری کام ہے اور پھر میں کل ہی واپسی کرتا ہوں۔۔۔ بعد میں بات کرتے ہیں”

کیف نے واصف سے بولتے ہوئے خود ہی رابطہ منقطعہ کردیا واصف کو تھوڑا تعجب بھی ہوا کہ کیف اتنی آسانی سے اس کی بات کو سمجھ گیا جبکہ دوسری طرف کیف بشیر کی آتی ہوئی کال ریسیو کر چکا تھا

“سر ہم کو اس گھر کا پتہ اور لڑکی کا تصویر مل گیا ہے۔۔۔ فکر مت کرو آج شام تک وہ لڑکی آپ کے پاس ہوگا”

بشیر سے کیف کل رات کو ہی ملا تھا۔۔۔۔ اِس وقت کیف نے بشیر کو ملنے سے منع کردیا اس لیے بشیر کیف کو کال کرتا ہوا بولا کہ وہ اس کا کام آج ہی کر دے گا

“ٹھیک ہے کام بہت ہوشیاری سے ہونا چاہیے اور آج شام کو ہی ہو جانا چاہیے کیونکہ شام کے وقت وہ لڑکی گھر میں اکیلی ہوتی ہے۔۔۔ جب تم اس لڑکی کو میرے گھر کے ایڈریس پر پہنچا دو گے تو تمہیں باقی کی رقم مل جائے گی”

بشیر کو رقم کا اطمینان دلا کر کیف اپنے موبائل میں زمل کی مسکراتی ہوئی تصویر دیکھتا ہوا اس سے مخاطب ہوا

“اتنے آرام سے پیچھا چھوڑ دوں گا میں تمہارا۔۔۔ اب تمہارا پیچھا چھوڑنے سے پہلے تمہیں بہت بھاری قیمت دینا پڑے گی زمل۔۔۔ تمہیں تو میں اب منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑو گا۔۔۔۔ پھر بےشک تم اپنا داغدار وجود لے کر اپنے دید کے پاس چلی جانا اگر وہ ایک داغدار لڑکی کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوجائے تو اور مجھے پورا یقین ہے اتنا ظرف تمہارے دید میں ہرگز نہیں ہوگا۔۔۔ تمہیں معلوم ہے ابتداء میں، میں تمہارے قریب بدلہ لینے کے لیے آیا تھا،، بدلہ۔۔ ۔ تم سے اور تمہارے دید سے۔۔۔۔

اس درید اعظم سے جس نے چار سال پہلے میرے بھائی جیسے کزن کو بری طرح زخمی کیا تھا۔۔۔۔ ایسا کیا کردیا تھا ہمایوں نے تمہارے ساتھ؟ ؟ اور اگر تم اتنی پاک بی بی تھی تو اس کے ساتھ بند کمرے میں کر کیا رہی تھی بولو”

کیف زمل کی تصویر سے باتیں کرتا ہوا بولا پھر اپنے موبائل کی اسکرین پر زمل کی تصویر کو اپنی انگلیوں سے چھوتا ہوا دیکھنے لگا

“ویسے ہمایوں کی بھی اتنی غلطی نہیں تھی،، تمہارا حسن ہی ایسا ہے کہ ہر کوئی تمہارا دیوانہ ہوجائے۔۔۔ جیسے تمہارے حسن کی کشش نے مجھے تمہارا دیوانہ بنا دیا اور میں بدلہ ودلہ سب بھول کر تمہیں اپنا بنانے کا سوچنے لگا۔۔۔ ایسے ہی درید اعظم بھی تو تمہارا دیوانہ ہے۔۔۔ سالا شاطر نکلا ہے پہلے ہی اس نے نکاح کر کے تم سے اپنا مضبوط رشتہ بنا لیا، کتنی محنت کرنا پڑی تھی مجھے تمہاری توجہ حاصل کرنے کے لیے مگر سب بےسود رہا۔۔۔ اور بےچارہ ہمایوں،، وہ تو مفت میں پٹ گیا اور ہاتھ کچھ نہیں آیا مگر میں ہمایوں نہیں ہوں”

کیف زمل کی تصویر کو دیکھ کر غصہ کرتا ہوا بولا

“سنا ہے جس سے محبت کی جائے اس کا احترام بھی کیا جاتا ہے۔۔۔ لیکن تمہیں پانے کے لئے اب مجھے اپنی محبت کے ساتھ وحشی جانوروں جیسا سلوک کرنا پڑے گا آج شام تمہاری کیف سے نہیں بلکہ کیف کے روپ میں جانور سے ملاقات ہو گی۔۔۔ اس کے بعد تمہاری لٹی پٹی حالت دیکھ کر تمھارا دید تمہیں خود قبول نہیں کر سکے گا۔۔۔۔ کیا کرو گی تم،، رو پیٹ کر تمہیں میرے پاس آنا پڑے گا اور میں ٹہرا تمہارا دیوانہ تمہیں حاصل کرلوں گا”

کیف آگے کی پلاننگ کرتا ہوا سوچنے لگا اور آنے والے وقت کا انتظار کرنے لگا جب شام میں زمل کو اغواء کرکے اس کے پاس لایا جاتا

*****

افس آنے کے بعد اس کا دماغ بری طرح الجھا رہا،، آج سے اپنے مرے ہوئے باپ پر بہت غصہ آرہا تھا جس کی وجہ سے وہ بچپن میں ہی اپنی ماں کی محبت سے محروم ہوگیا تھا۔۔۔ نہ جانے کیوں اسے یقین تھا کہ ثمن کو سیڑھیوں سے دھکا دینے کی غلطی جان بوجھ کر کی گئی تھی تاکہ وہ ہمیشہ کے لئے راستے سے ہٹ جائے،، جیسے خاور کو قید کر کے راستے سے ہٹایا گیا تھا

اگر واقعی ثمن کو راستے سے ہٹانا اعظم اور تابندہ کی چال تھی تو درید نے سوچ لیا تھا وہ تابندہ کو ایسے نہیں بخشے کا،، اس کے اختیار میں ہوتا تو وہ اپنے مرے ہوئے باپ کو بھی قبر سے نکال کر اسے اس کے کیے کی سزا دیتا۔۔۔۔ انہی سوچوں میں درید کو وقت گزرنے کا احساس نہیں ہوا۔ ۔۔ تھوڑی دیر پہلے اسے زمل کا مسیج اپنے نمبر پر موصول ہوا تھا جس میں زمل نے اسے اپنے واپس جانے کے بارے میں بتایا تھا، یقیناً وہ صبح والے رویے کو ذہن میں رکھ کر درید سے خفا ہو کر واپس جانے کی بات کر رہی تھی۔۔۔ درید زمل کے بارے میں سوچتا ہوا کرسی سے اٹھا اور آفس سے گھر جانے کی تیاری کرنے لگا کیوکہ ابھی اس کے نکلنے میں ٹائم تھا درید اس سے پہلے ہی زمل کے پاس پہنچنا چاہتا تھا

“تم واپس نہیں گئے،، ابھی تک یہی موجود ہو”

درید اپنے کمرے سے باہر نکلا تو خادم کو افس میں دیکھتا ہوا پوچھنے لگا

“صاحب جی آپ نے ہی تو مجھے تھوڑی دیر پہلے کال کر کے یہاں آنے کو کہا تھا”

خادم اپنی جگہ سے اٹھ درید کو اس کی کال کا یاد دلانے لگا

“ارے ہاں ایسا کرو مجھے گھر ڈراپ کرکے گاڑی کو سروس کے لیے لے جاؤ پیٹرول وغیرہ بھی اچھی طرح چیک کر لینا رات میں مجھے اسلام آباد کے لیے نکلنا ہوگا”

وہ رات میں زمل کو اپنے ساتھ واپس لے جانے کا ارادہ رکھتا تھا

درید خادم سے بات کرتا ہوا پارکنگ آیریا میں پہنچا ہی تھا کہ اچانک سامنے سے ایک آدمی بھاگتا ہوا اس کے قریب آنے لگا ابھی درید سوچ ہی رہا تھا کہ اس آدمی کو اس نے پہلے کہاں دیکھا ہے اچانک سے اس آدمی نے اپنی چادر میں چھپے ہوئے چھرے سے درید پر وار کرنا چاہا۔۔۔۔ درید جوکہ اس حملے کے لیے تیار نہیں تھا مگر اس آدمی کو پہچاننے کے ساتھ ہی درید نے اپنے پیٹ کی طرف بڑھتے ہوئے چھرے کو پکڑنا چاہا۔۔۔

اس آدمی کے ہاتھ کو پکڑنے کے باوجود وہ آدمی درید کو بری طرح زخمی کر چکا تھا

“او یہ کیا کر دیا تم نے،، خانہ خراب ہو تمہارا۔ ۔۔ پکڑو کوئی اس خبیث کو۔۔۔ ہمارے صاحب کو مار دیا اس نے”

خادم ایک دم چیختا ہوا بولا دو سے تین آدمی جو پہلے سے اس جگہ پر موجود تھے۔۔۔ اس آدمی کے بھاگنے سے پہلے اسے قابو کر چکے تھے

مگر درید تکلیف برداشت نہ کرتے ہوئے اپنے پیٹ کو ہاتھ سے دبائے فرش پر گرچکا تھا

“اس کا خون روکو۔۔۔۔ جلدی سے ہسپتال لے جاؤ اسے”

اپنی آنکھیں بند ہونے سے پہلے درید کے کانوں سے مختلف آوازیں ٹکرائی۔۔۔ اس نے اپنی طرف تین سے چار آدمیوں کو بڑھتے دیکھا۔۔۔ بس اتنی ہی دیر وہ اپنے حواس قائم رکھ سکا تھا

****