436.9K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deewangi (Episode 17)

Deewangi By Zeenia Sharjeel

“تم آ گئے آفس سے، میں تمہارا ہی ویٹ کر رہی تھی۔۔۔ یہ پلانٹس میں نے خاص اس جگہ کے لئے منگوائے ہیں بالکل خالی سا لگ رہا تھا یہ پورشن۔۔۔ اب کیسا لگ رہا ہے”

درید کے یارڈ میں آنے پر تابندہ اس کو دیکھتی ہوئی بولی، سوئمنگ پول سے تھوڑے فاصلے پر دائیں جانب جہاں پر میز اور کرسیاں رکھی ہوئی تھی اسی کونے پر چار سے پانچ بڑے گلملوں کا اضافہ ہوا تھا

“نائس، اچھے لگ رہے ہیں۔۔۔ نگہت بتا رہی تھی کہ آپ نے کوئی بات کرنا تھی مجھ سے”

درید وہی تابندہ کے سامنے والی کرسی پر بیٹھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا۔۔ وہ ابھی تابندہ کے کمرے میں موجود اس کے سیل فون سے شارقہ کی کالز ڈیلیٹ کرکے آرہا تھا

“ہاں تمہیں بتانا تھا کہ آج صبح ثوبیہ کی کال آئی تھی وہ ہمارے پاس کل رات کی فلائٹ سے پاکستان آ رہی ہے اور اب کی بار اس نے طے کیا ہے کہ وہ ہفتے دس دن یہی ہمارے پاس اسٹے کرے گی، ہمارے گھر پر”

تابندہ درید کو خوشی خوشی بتانے لگی۔۔۔ ثوبیہ ثمن اور تابندہ، تینوں کی دوستی اسکول کے وقت سے تھی۔۔۔ ثوبیہ شادی کے بعد مستقل طور پر کینیڈا چلی گئی تھی مگر تابندہ اور ثمن سے اس کا ہمیشہ کانٹیکٹ رہا وہ ثمن کی موت کے علاوہ بھی تین چار بار پاکستان آئی تھی وہ جب بھی پاکستان آتی تابندہ سے ضرور ملتی لیکن اب کی بار تابندہ اس لیے خوش تھی کہ اس کی سہیلی کا قیام اس کے گھر پر ہوگا

“یہ تو خوشی کی بات ہے ثوبیہ آنٹی پاکستان آ رہی ہیں مگر میں اور زمل ان سے فوری طور پر نہیں مل پائیں گے کیونکہ کل دوپہر زمل پیپر دے کر آئے گی تو ہمیں ایبٹ آباد کے لیے نکلنا ہوگا”

درید ریلکس انداز میں بیٹھا ہوا تابندہ کو اپنے پروگرام سے آگاہ کرتا ہوا بولا تو تابندہ کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی

“کیا مطلب اس بات کا کہ تمہیں اور زمل کو ایبٹ آباد جانا ہے۔۔۔ مطلب یہ پروگرام کب ڈیسائیڈ ہوا”

تابندہ حیرت ذدہ سی ہوکر درید سے پوچھنے لگی

“آج صبح وہاں کے آفس سے مینیجر کی کال آئی تھی، ایک دو چھوٹے موٹے مسائل ہیں تو رضی صاحب کہہ رہے تھے کہ میں وہاں ایک دو دن کے لئے آ جاؤ”

درید تابندہ کے چہرے کے تاثرات جانچتا ہوا اسے بتانے لگا وہ اب پہلے کی بانسبت تھوڑی پریشان دکھائی دے رہی تھی

“مگر زمل۔۔۔ اس کو ساتھ لے جانے کی کیا ضرورت ہے ایسے اچھا تو نہیں لگتا کہ گھر میں گیسٹ آنے والے ہو اور گھر کے افراد ہی گھر پر موجود نہ ہو بلکہ میں تو کہتی ہو تمہیں بھی وہاں جانے کی ضرورت نہیں ہے، جو بھی مسئلے مسائل ہیں یہی بیٹھے بیٹھے سالو کرلو انہیں”

تابندہ اعتراض کرتی ہوئی درید سے بولی اور ساتھ ہی درید کو بھی رکنے کا مشورہ دیتی ہوئی بولی یقیناً اس کا خوشگوار موڈ اب پہلے جیسا نہیں تھا

“اگر یہاں بیٹھے ہوئے مسلئے مسائل حل ہو جاتے تو رضی صاحب ان مسائل کو خود ہی نبٹا لیتے نہ کہ مجھے کال کر کے آنے کو کہتے اور رہی بات زمل کو اپنے ساتھ کے جانے کی آپ کو معلوم تو ہے مجھے وہاں اکیلے عجیب سی گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے میرے ساتھ زمل ہوگی تو وقت سہولت سے گزر جائے گا۔۔۔ زیادہ نہیں صرف تین سے چار دن کا اسٹے ہے پھر ہم دونوں واپس آکر مل لیں گیں ثوبیہ آنٹی سے”

درید تابندہ کو بات کی مکمل وضاحت دیتا ہوا بولا

“ایسے اچھا تو نہیں لگے گا درید ابھی زمل کی رخصتی نہیں ہوئی ہے یوں وہ اکیلے تمہارے ساتھ جائے گی تو ثوبیہ کیا سوچے گی”

تابندہ کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ کیا بول کر درید کو وہاں جانے سے روکے اگر زمل درید کے ساتھ وہاں پر جاتی تو درید اور زیادہ دنوں تک وہاں اسٹے کرتا جو تابندہ بالکل نہیں چاہ رہی تھی اس لیے وہ ایک اور اعتراض اٹھاتی ہوئی درید سے بولی

“ثوبیہ آنٹی تو ایسا کچھ نہیں سوچیں گیں جیسا آپ سوچ رہی ہیں۔۔۔ میں اپنے ساتھ کسی غیر لڑکی کو یا اپنی کوئی گرل فرینڈ کو لے کر تو نہیں جا رہا ہوں۔۔۔ زمل اور میں ایک ہی گھر میں رہتے ہیں ایک دوسرے کے روم میں بنا اجازت کہ بناء ہچکچائے بچپن سے آتے جاتے تھے جب ہمارا نکاح نہیں ہوا تھا تب سے۔۔۔ اور میری زمل سے بچپن سے اٹیچمینٹ ہے جس کا اندازہ نہ صرف آپ کو اچھی طرح ہے بلکہ ثوبیہ آنٹی کو بھی ہے تو مجھے نہیں لگتا آپ کو یا ثوبیہ آنٹی کو اس بات پر کوئی خاص اعتراض ہونا چاہیے۔۔۔ اگر آپ پھر بھی مطمئن نہیں ہیں تو میں زمل کو آج ہی رخصت کر کے اپنے کمرے میں لے آتا ہوں پھر اس کے بعد تو ساری ٹینشن مسلئے ہی ختم ہوجائے گے”

درید کے نان اسٹاپ بولنے پر تابندہ گھور کر اس کو دیکھنے لگی۔۔۔ وہ درید ہی کیا جو اپنی بات سے پیچھے ہٹ جاتا اس لیے تابندہ ہار مانتی ہوئی بولی

“اچھا اچھا درید اب خاموش بھی کر جاؤ۔۔۔ لے جاؤ زمل کو اپنے ساتھ میں زرقون بی کو فون کرکے بول دو گی کہ تم دونوں وہاں آرہے ہو”

تابندہ درید کو خاموش کرواتی ہوئی بولی

“زرقون بی کو کال کرنے کی ضرورت نہیں ہے، میں انہیں کال کر کے اپنے آنے کا بتا چکا ہو۔۔۔ آپ وہاں کی ٹینشن لینے کی بجائے آپ یہاں ثوبیہ آنٹی کے رہنے کے لیے روم ڈیسائیڈ کریں”

درید تابندہ کو مطمئن کرتا ہوا بولا

“یہ تو مجھے کہنے کی ضرورت نہیں ہے میں جانتی ہو تم زمل کا خیال اچھی طرح سے رکھو گے، لیکن اگر وہ کوئی نادانی میں غلطی کر بیٹھے تو پلیز بھڑک مت جانا پیار سے ہینڈل کر لینا اسے”

تابند دبے لفظوں میں درید کو سمجھاتی ہوئی بولی

“میں نے آپ سے کہا تھا ناں جو چند دنوں پہلے ہوچکا ہے آگے ویسا کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ زمل میری لائف میں بہت معنیٰ رکھتی ہے میں بچپن سے اس کا خیال رکھتا آیا ہوں اور آگے بھی رکھو گا۔۔۔ آپ اپنے دل سے سارے خدشات نکال کر مطمئن ہوجائے اور یہاں ریلکس ہوکر ثوبیہ آنٹی کو ٹائم دیں”

درید کے بولنے پر تابندہ خاموش رہی کیوکہ نگہت وہاں چائے لے کر آگئی تھی

****

“زمل کہاں جارہی ہو آج تو پیپرز ختم ہوئے ہیں تھوڑی دیر ٹھہر کر گھر چلی جانا”

زمل پیپر دینے کے بعد کلاس روم سے نکلی تو ثمرن اس کے پیچھے آتی ہوئی بولی

“ڈرائیور ویٹ کر رہا ہے۔۔۔ 20 منٹ بھی لیٹ ہوگئی تو پھر تم جانتی ہو گھر میں مما اور دید کو ٹینشن شروع ہوجائے گی، کہ میں کہاں بھاگ گئی ہو اور میرے گھر نہ آنے پر وہ دونوں ہی کئی طرح کی باتیں خود ایزیم کرلیں گے”

زمل چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر پارکنگ ایریا کی طرف جاتی ہوئی ثمرن سے بولی

“اپنی مما اور ہسبینڈ سے اتنی بد دل مت ہو یار، وہ دونوں یہ سب تمہاری فکر میں، تم سے محبت میں کرتے ہیں۔۔۔ میرے حساب سے تو تمہیں اس دن یوں کیف کے گھر جانا ہی نہیں چاہیے تھا جب تمہیں خود اپنے ہسبنڈ کی نیچر کا اندازہ تھا اور یوں نکاح کے بعد کیف کے ساتھ تمہاری انڈرسٹینڈنگ کہاں سے مناسب ہے زمل”

ثمرن اس کے ساتھ چلتی ہوئی ایک بار پھر زمل کو سمجھاتی ہوئی بولی جس پر زمل کے قدم رکے اور وہ ثمرن کی طرف رخ کرتی ہوئی اس سے بولی

“تم بار بار میرے نکاح کی بات بیچ میں لاکر کیوں مجھ پر یہ ثابت کرنا چاہتی ہو کہ میں کوئی غلط لڑکی ہو جبکہ میں تمہیں بتا چکی ہوں دید سے میرا نکاح میری چوائس پر نہیں ہوا تھا۔۔۔ کانٹیکٹ ختم کر تو دیا ہے کیف سے اب اور کیا کرو میں۔۔۔ وہ میرے اس رویہ کو لے کر کتنا دکھی ہوا ہوگا۔۔۔ ناجانے میرے بارے میں کیا سوچ رہا ہوگا،، مگر میں اس کو اپنے اس بی ہیویر کی وضاحت بھی نہیں دے سکتی کیوکہ دید کو اگر کہیں سے معلوم ہوا کہ میں نے کیف سے بات کی ہے تو دید اپنے آپ کو نقصان پہنچا لے گیں اور ان کو میری وجہ سے کچھ ہوجاتا ہے تو میں یہ بوجھ لے کر ساری زندگی خود بھی نہیں جی پاؤں گی۔۔۔ میں چند دنوں سے کس کشمکش میں مبتلا ہو میری فیلینگز کوئی بھی نہیں جان سکتا”

زمل روہانسی لہجے نے ثمرن کو اپنی دلی کیفیت بتانے لگی

“میں تمہیں غلط لڑکی نہیں سمجھ رہی ہو زمل۔۔۔ اگر تم کوئی غلط لڑکی ہوتی تو میری اور تمہاری دوستی برقرار نہیں رہتی، میں تمہاری فیلنگز کو بھی سمجھ رہی ہوں اور تمہاری مخلص دوست ہونے کی حیثیت سے تمہیں یہ مشورہ دو گی کہ دو کشتوں میں سوار مسافر کبھی بھی اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکتا۔۔۔۔ تم زبردستی ہی سہی مگر اپنے اور درید اعظم کے رشتے کو جب قبول کر ہی چکی ہو تو خوش ہوکر اپنی نئی زندگی کی شروعات کرو۔۔۔ اگر تم اپنے دل میں کیف کی یادوں کو بسائے یا پھر درید اعظم کے لیے دل میں غصہ رکھ کر، آنے والی زندگی کا آغاز کرو گی تو یہ درید اعظم سے بھی منافقت ہوگی اور تم خود بھی اس طرح کبھی خوش نہیں رہ پاؤ گی۔۔۔ میں سمجھ سکتی ہو تمہاری فیلینگز کو، اپنے دل کو زبردستی اُس راہ پر چلانا نہایت دشوار ہوجاتا ہے جس راستے پر آپ چلنا نہیں چاہتے ہو مگر تم یہ تصور کرلو اس راستے پر ہی اوپر والے نے تمہارے لیے بھلائی اور بہتری رکھی ہے،، تمہارے ہسبینڈ کو میں نے اور نشاہ نے دیکھا ہے ہم دونوں نے ہی محسوس کیا ہے درید اعظم تمہارے لیے فیلینگز رکھتا ہے اور رہی بات تمہاری فیلینگز کی تو جب تم درید اعظم کو مکمل شوہر کے روپ میں دیکھو گی تو پھر فیلینگز خود پیدا ہوجائے گیں۔۔۔۔ اب اگر تم کیف کی فیلینگز کا سوچ رہی ہو تو میں مانتی ہو وہ بھی تمہارے لیے پیور فیلینگز رکھتا ہوگا مگر اس بات کو اُسے شروع میں ہی قبول کر لینا چاہیے تھا کہ تم کسی دوسرے سے منسوب ہو۔۔۔ اِس وقت وہ تمہارے لیے ضد کر سکتا ہے لڑ سکتا ہے غصہ کر سکتا مگر وقت گزرنے پر خود ہی آہستہ آہستہ سمجھ جائے گا کہ اس کی اور تمہاری منزلیں الگ الگ ہیں۔۔۔ زمل تم میری بہت پیاری دوست ہو میں تمہیں کبھی بھی غلط مشورہ نہیں دوں گی اپنے دل اور دماغ کو ایک طرف کرلو جو فیصلہ تمہارے لیے تمہاری قسمت چار سال پہلے کر چکی ہے۔۔۔ آجاؤ تھوڑی دیر کیفے ٹیریا میں بیٹھتے ہیں نشاہ اور واصف بھی آتے ہوگے۔۔۔ آنٹی یا درید اعظم میں سے کوئی بھی تمہیں کچھ نہیں کہے گا، میں بات کر لیتی ہو آنٹی سے کہ زمل ہم لوگوں کے ساتھ ہے”

ثمرن زمل کو سمجھاتی ہوئی بولی۔۔۔ زمل خاموشی سے ثمرن کی ساری باتیں سن رہی تھی پھر بولی

“تم میری مخلص دوست ہو ثمرن۔۔ میں تمہاری ان ساری باتوں پر غور کرو گی مگر دید سب کچھ بہت جلدی چاہتے ہیں آخر سب کچھ اتنی جلدی کہا نارمل ہو سکتا ہے اس لیے مزید الجھی ہوئی ہو۔۔۔ تمہارے، واصف اور نشاہ کے ساتھ وقت گزارتی مگر کل شام ہی دید نے آج ایبٹ آباد جانے کا پروگرام بنا لیا تھا وہ آفس سے آگئے ہوگے میرا ہی ویٹ کر رہے ہو گے،، اس لئے مجھے گھر جانا چاہیے”

زمل ثمرن کو بتاتی ہوئی وہاں سے چلی گئی کار میں بیٹھی ہوئی وہ مسلسل ثمرن کی باتوں کو سوچنے لگی

****

تین گھنٹے سے وہ مسلسل کار ڈرائیو کر رہا تھا جبکہ اس کے برابر میں بیٹھی ہوئی زمل بے خبر سو رہی تھی آج صبح آفس کا ضروری کام نمٹا کر مینیجر کو آفس کا تین سے چار دن کا چارج دے کر وہ زمل کو اپنے ساتھ لیے ایبٹ آباد کے لیے نکلا تھا تاکہ اصل معاملے کی تہہ تک پہنچ سکے درید نے کل رات اور آج صبح شارقہ کا کو کال کی تاکہ موجودہ صورتحال معلوم کر سکے۔۔۔۔ وہ چاہتا تو تابندہ سے سیدھے سیدھے خود ہی کل شارقہ کی کال کا بتا کر اس سے حقیقت پوچھ سکتا تھا لیکن اس بات کی گارنٹی نہیں تھی کہ تابندہ اس کو حقیقت ہی بتاتی۔۔۔ زمل کے سونے سے پہلے چند ایک دو سوالات گھما پھرا کر اس نے زمل سے بھی پوچھے تھے مگر زمل کے چہرے کے الجھے ہوئے تاثرات سے وہ اندازہ لگا چکا تھا کہ زمل اس معاملے میں بھی جانکاری نہیں رکھتی

اس وقت شام کے چھ بج رہے تھے جس کی وجہ سے ملگجاہ سا تھا اندھیرا ماحول میں پھیل چکا تھا آبادی کا سلسلہ ختم ہو کر گاڑی پہاڑوں کے راستے پر رواں تھی جہاں کا ایریا کافی سنسان تھا۔۔۔ اعظم کا کاٹیج پہاڑی کے رستے پر، آبادی سے کافی دور تھا۔۔۔ اچانک گاڑی ایک جھٹکے سے رکی، تو درید سوئی ہوئی زمل کو دیکھنے لگا گاڑی کے رکنے سے اس کی نیند میں کوئی خلل نہیں پڑا تھا وہ ابھی بھی ویسے ہی گہری نیند سو رہی تھی۔۔۔ شام کے سائے ڈھلنے کی وجہ سے اس وقت خنکی کافی حد تک بڑھ چکی تھی درید گاڑی کی بیک سیٹ سے گرم چادر اٹھا کر سوئی ہوئی زمل پر ڈالنے لگا ویسے تو وہ گرم کپڑوں میں موجود تھی مگر درید نہیں چاہتا کہ موسم کے تیور اس کی بیوی کی نازک مزاج طبیعت پر اثر انداز ہو۔۔۔ وہ گاڑی سے نیچے اتر کر بونٹ کھول کر چیک کرنے لگا جہاں کار کا انجن گرم ہو چکا تھا

اف پانی بھی ختم ہو گیا۔۔۔ گاڑی میں رکھی ہوئی پانی کی بوتل کو دیکھ کر وہ دل میں اپنے آپ سے بولا، ایک نظر سوئی ہوئی زمل پر ڈال کر وہ گاڑی کو لاک کر کے پیچھے راستے پر چل پڑا جہاں تھوڑی دیر پہلے ایک چھوٹی سی جیل اس کو نظر آئی تھی

زور دار آواز پر زمل کی آنکھیں ایک دم کھلی اسے محسوس ہوا جیسے کسی نے گاڑی کے شیشے پر زور سے ہاتھ مارا ہو

“دید”

اپنے اوپر سے گرم چادر ہٹا کر وہ خالی ڈرائیونگ سیٹ کو دیکھ کر ایک دم پریشان ہوگئی کہ درید اسے اس ویران جگہ پر اکیلا چھوڑ کر آخر کہاں چلا گیا ہے۔۔۔۔ چار سو اندھیرا پھیلا ہوا تھا آندھیرہ دیکھ کر اسے احساس ہوا کہ شام کے سائے اب رات میں تبدیل ہو چکے ہیں۔۔۔ کل جب وہ پیپر دے کر آئی تھی تو کافی دیر تک یونیورسٹی سے آنے کے بعد سوتی رہی تھی جس کی وجہ سے پچھلی پوری رات اس نے جاگ کر گزاری اور آج پیپر دینے کے بعد اسے درید کے ساتھ ایبٹ آباد کے لیے نکلنا تھا اس لیے اس نے نیند پوری کرنے کا کام راستے میں ہی کیا تھا۔۔۔ زمل اپنا موبائل نکال کر درید کو کال ملانے لگی

“آپ کہاں پر ہیں دید مجھے یوں اکیلا چھوڑ کر کہاں چلے گئے ہیں”

کال کنیکٹ ہوتے ہی زمل درید کی آواز سنے بغیر اس سے پوچھنے لگی

“گاڑی کا انجن گرم ہوچکا تھا اور راستے میں سارا پانی تم پی گئی تھی اس لئے پانی بھرنے گیا تھا ڈونٹ وری بس پہنچ رہا ہو”

درید پانی بھر کر گاڑی کی طرف آ رہا تھا تب زمل کی کال ریسیو کر کے اس سے بولا

“پہنچ نہیں رہا ہوں جلدی پہنچے یہاں، میں بری طرح تھک چکی ہوں دید، اس بورنگ سفر سے”

زمل کچی نیند سے جاگی تھی اس لیے بےزار سے انداز میں درید سے بولی

“اس سفر کو بورنگ تمہاری نیند نے بنایا ہے ڈارلنگ ہم اس سفر کو اچھا خاصہ یادگار اور رومینٹک بھی بنا سکتے تھے، اچھا کال رکھو بس پہنچ گیا ہوں میں”

درید زمل سے بولتا ہوا کال کاٹ چکا تھا اور گاڑی کی طرف لمبے لمبے قدم اٹھانے لگا جبکہ زمل جو کافی دیر سے بیٹھے بیٹھے تھک گئی تھی اس لیے گاڑی کا دروازہ کھول کر نیچے اتر گئی

پچپن نے اس نے درید کو مختلف روپ میں دیکھا تھا لیکن اب اس کی باتیں اور اس کا انداز بالکل مختلف ہوچکا تھا یہی وہ چینج تھا جو زمل قبول نہیں کر پا رہی تھی کہ اب درید اس کا شوہر بن چکا ہے۔۔۔ اپنے گرد دونوں ہاتھوں کو لپیٹ کر پتھریلی سڑک پر چلتی ہوئی وہ دوبارہ سے ثمرن کی باتیں سوچنے لگی جب اچانک گاڑی کے پیچھے چھپا ہوا کوئی آدمی زمل کا بازو پکڑ کر اس کو کھینچنے لگا

“اے کون ہو تم کہاں لے جا رہے ہو مجھے چھوڑ میرا ہاتھ”

زمل اچانک اس آدمی کو دیکھ کر ڈر گئی تھی مگر اس کی جرت پر زور سے چیختی ہوئی اسے اپنا بازو چھڑواتی ہوئی بولی جو اس کو کھینچ کر گاڑی سے دور جھاڑیوں کی طرف لے جا رہا تھا

“خاموشی سے چل میرے ساتھ ورنہ یہی مار کر پھینک ڈالوں گا تجھے”

وہ آدمی باقاعدہ زمل کا بازو کھینچ کر اسے جھاڑیوں کی طرف لے جاتا ہوا ساتھ ہی دھمکی دیتا ہوا بولا۔۔۔ زمل کے مزاحمت کرنے پر وہ زمل کو پتھریلی سڑک پر دھکا دے چکا تھا

“جان چھڑا کر بھاگنا چاہتی ہے مجھ سے، درندہ معلوم ہے کیا ہوتا ہے نہیں ناں، آج میں تجھے بتاؤں گا”

اس سے پہلے وہ آدمی زمل کی طرف غلط ارادے سے بڑھتا پیچھے سے بھاگ کر آتا ہوا درید بری طرح اس آدمی پر جھپٹ پڑا

“کیا بتائے گا۔۔۔ بول”

درید نے اس آدمی کا گریبان پکڑ کر اس کے منہ پر پے در پے مُکے رسید کرنا شروع کردیئے۔۔۔ نیچے گری ہوئی زمل درید کو دیکھ کر شکر ادا کرتی ہوئی جلدی سے کھڑی ہو گئی

“درندگی دکھانی ہے تجھے، چل مجھے دیکھا آج اپنی درندگی”

درید نے غصے میں اس آدمی کو خود پر حملے کرنے کی مہلت دیئے بغیر اس کے پیٹ میں گھونسے مارنے لگا وہ آدمی اپنا بچاؤ کرتا ہوا نیچے پتھریلی زمین پر گر پڑا

“دید چھوڑ دیں اس کو وہ خود بھی معافی مانگ رہا ہے اب”

درید شدید غصے میں اس آدمی کو لاتوں سے مارنے لگا تب زمل درید سے بولی وہ آدمی اپنے بچاؤ کے لئے درید سے معافی مانگنے لگا

“ان گندے ہاتھوں سے چھوا تُو نے اِس کو بول۔۔۔۔ میرا بس نہیں چلتا اِس کو چھونے والے کے میں ہاتھ اُس کے جسم سے الگ کردوں”

وہ آدمی مار کھا کھا کر اب ادھ مرا ہو چکا تھا۔۔۔۔ اپنی طرف درید کو بھاری پتھر لاتا ہوا دیکھ کر وہ زمین سے اٹھنے کی کوشش کرنے لگا مگر درید نے اس کے سینے پر لات مار کر اسے دوبارہ نیچے گرا دیا

“کیا ہوا نکل گئی ساری درندگی چل میں تجھے بتاتا ہوں درندگی کیا ہوتی ہے”

درید بولتا ہوا بھاری پتھر کو باری باری اس کے دونوں ہاتھوں پر مارنے لگا

“وووہ، وہ مر جائے گا دید چھوڑ دیں اس کو پلیز”

زمل درید کو بازو سے پکڑ کر پیچھے ہٹاتی ہوئی خود بھی رونے لگی۔۔۔ وہ درید کا غصہ اور جنونی انداز دیکھ کر خود بھی ڈر گئی تھی

“میری جان تم کیو رو رہی ہو۔۔۔ جسٹ ریلکس کہیں چوٹ تو نہیں لگی تمہیں”

درید زمل کی طرف پلٹنے کے بعد فکرمند لہجے میں بولتا ہوا اس کے آنسو پونچھنے لگا جبکہ وہ آدمی سڑک پر پڑا ہوا درد سے کراہ رہا تھا درید نے بہت برے طریقے سے اس کے دونوں ہاتھ کچل کر خونم خون کر ڈالے تھے

“دید یہاں سے چلیں۔ ۔۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے”

زمل اس آدمی کی حالت دیکھنے کے بعد چاروں طرف سنسان علاقے میں نظر دوڑاتی ہوئی درید سے بولی

“ڈرنے کی کیا ضروت ہے جان میں ہو تو تمہارے ساتھ۔۔۔ چلو چل کر کار میں بیٹھو”

درید زمل کے کندھے کے گرد اپنا بازو رکھ کر اسے گاڑی کی طرف لے جانے لگا

****

زمل کو وہ وقت یاد آنے لگا جب دو ماہ پہلے یونیورسٹی میں ایک لڑکے کے بدتمیزی کرنے پر زمل نے اس لڑکے کے گال پر تپھڑ مارا تھا۔۔۔۔ تب الٹا کیف نے اسی کو باتیں سنائی تھی اور غصہ بھی کیا تھا ساتھ ہی کیف نے اس لڑکے سے سوری بھی کہا تھا۔۔۔ بعد میں کیف نے زمل کو سمجھایا تھا کہ اگر اس لڑکے نے زمل کو ذرا سا ٹچ کر بھی دیا تھا تو اس بات پر اسے اتنا اوور ری ایکٹ نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔ وہ لڑکا اس تپھڑ کے بدلے میں اور بھی کچھ کر جاتا تو وہ کیا کرلیتی۔۔۔ تب زمل نے کیف سے پوچھا

“اگر وہ لڑکا واقعی میرے تپھڑ کے بدلے کچھ بھی غلط کرتا تو تم کیا کرتے کیف”

کیوکہ جب اس لڑکے نے بدتمیزی کی تھی کیف اس وقت زمل کے ہی ساتھ تھا وہ دونوں ہی واصف، نشاہ اور ثمرن کا انتظار کررہے تھے

تب کیف زمل سے اپنائیت بھرے لہجے میں بولا۔۔۔ کہ اسی لیے تو اس نے اس لڑکے سے سوری بولا تاکہ وہ زمل کے ساتھ کچھ غلط نہ کرے۔۔۔

گاڑی کاٹیچ کے راستے پر رواں تھی اور زمل کی سوچیں جانے کہاں سے کہاں پہنچ چکی تھی۔۔۔۔ واپس لوٹ کر وہ حال میں تب آئی جب اسے درید کے ہاتھ کی گرمائش اپنے سرد ہاتھ پر محسوس ہوئی

زمل درید کو دیکھنے لگی جو ایک ہاتھ سے ڈرائیونگ کرتا ہوا اپنے دوسرے ہاتھ سے زمل کا ہاتھ تھاما ہوا تھا

“چادر سے کور کرو اپنے آپ کو زمل، سردی بڑھ رہی ہے اب”

درید جانتا تھا زمل کو سردی زیادہ لگتی ہے اس لیے گاڑی میں ہیٹر آن ہونے کے باوجود وہ زمل کی فکر کرتا ہوا بولا ساتھ ہی زمل کے ہاتھ پر رکھا اپنا ہاتھ ہٹاتا ہوا ڈرائیونگ کرنے لگا۔۔۔۔ درید کے لہجے سے اس کی فکر ہمیشہ کی طرح چھلک رہی تھی زمل بغیر کچھ بولے خاموشی سے خود کو چادر سے لپیٹتی ہوئی اپنا سر درید کے کاندھے پر رکھ چکی تھی۔۔۔ جس پر درید نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے ایک دم اپنے کندھے پر ٹکا ہوا زمل کا سر دیکھا، نرم مسکراہٹ کے ساتھ زمل کے سر پر ہونٹ رکھتے ہوئے اس نے اپنی توجہ دوبارہ ڈرائیونگ کی طرف کردی

****