Deewangi By Zeenia Sharjeel NovelR50394 Deewangi (Episode 2)
No Download Link
Rate this Novel
Deewangi (Episode 2)
Deewangi By Zeenia Sharjeel
“اتنا پریشان کیوں ہو رہی ہو مجھے امید ہے انکل کی طبیعت ٹھیک ہو جائے گی”
کل اُس نے کیف کو اپنے یونیورسٹی نہ آنے کی وجہ بتائی تھی اِس لئے آج کیف اُسے اُس کے انکار کرنے کے باوجود یونیورسٹی کے قریب کیفے ٹیریا میں لے آیا تھا اور اس وقت ٹیبل پر اس کے سامنے بیٹھا ہوا اس کے اداس چہرے کو دیکھ کر اُسے دلاسہ دے رہا تھا
“میرے پاس پریشان ہونے کی ایک یہی وجہ نہیں ہے کیف، کل رات میں نے تمہیں کال پر اپنا خدشہ ظاہر تو کیا تھا اگر ڈیڈ کی طبیعت کا سن کر وہ واپس آگئے تو۔۔۔”
پریشان چہرہ لیے اِس سے آگے وہ کچھ بول نہیں پائی بس خاموش ہوکر سوالیہ نظروں سے کیف کا چہرہ دیکھنے لگی
“فار گاڈ سے یار وہ انسان ہے کوئی بھوت نہیں جو تم اُس کی آمد کا سوچ کر اتنی خوفزدہ ہو رہی ہو اگر وہ واپس پاکستان آجاتا ہے تو یہ اچھا ہی ہے کم ازکم تمہارا اُس کا یہ قصہ تو ختم ہو جائے گا”
کیف اُس کے خوبصورت چہرے پر خوف کی پرچھائیاں دیکھ کر بولا وہ کیف کی یونیورسٹی فیلو ہونے کے ساتھ ساتھ تمام دوستوں میں اُس کے لئے اسپیشل تھی اور یہ بات کیف ایک ماہ پہلے ہی اُس سے شیئر کر چکا تھا
“تمہارے لئے یہ بات بولنا بہت آسان ہے کیونکہ تم ان کو جانتے نہیں ہو۔۔۔ ان کی واپسی کا مطلب ہے میرا کہیں پر بھی آنا جانا، سونا، جاگنا، ہنسنا، بولنا سب کچھ ان کی مرضی پر ہوگا یہاں تک کہ میرا سانس لینا بھی،،، تم نہیں جانتے کیف میں ہر بات کے لیے ان کی پابند ہو جاؤ گی”
بولتے ہوئے اُس کی آنکھوں میں خوف کے ساتھ ساتھ بےبسی بھی نظر آ رہی تھی اُس کے وحشت بھرے لہجے کو محسوس کر کے کیف نے ٹیبل پر رکھے ہوئے اُس کے مومی ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا
“ریلیکس یار تم نے اُس کے خوف کو کچھ زیادہ ہی اپنے حواسوں پر سوار کر لیا ہے،، اب ویسا کچھ بھی نہیں ہوگا جیسا وہ کرتا آیا ہے، میرا یقین کرو میں ہو ناں تمہارے ساتھ”
کیف اُس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھے پُر اعتماد لہجے میں بولا۔۔۔ وہ کیف کے ہاتھ کے نیچے دبا ہوا اپنا ہاتھ دیکھنے لگی۔۔۔۔ اگر یہ منظر اُس کی زندگی کا ولن دیکھ لیتا تو یقیناً وہ کیف کے ہاتھ کے ساتھ اس کو بھی ہاتھوں سے محرم کر ڈالتا
“تم شاید ٹھیک کہہ رہے ہو چار سال اُن کی غیر موجودگی میں، میں ان کے خوف کو اپنے حواسوں پر سوار کر چکی ہوں۔۔۔۔ مجھے اتنا نہیں سوچنا چاہیے اس بارے میں، تم ہو تو میرے پاس”
وہ مسکرا کر بولتی ہوئی اپنے مائنڈ کو ریلیکس کرنے لگی اس کی مسکراہٹ دیکھ کر کیف بھی مسکرایا
“میں تمہارے پاس ہوں اور بہت جلد تمہیں اپنے پاس بلا لوں گا”
کیف کی معنیٰ خیری سے کہی ہوئی بات پر وہ بے ساختہ مسکراتی ہوئی اس سے بولی
“تم میرے ہی ہم عمر ہوں، مجھے اپنے پاس بلانے کے لئے تمہیں پہلے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا پڑے گا”
وہ مسکرانے کے ساتھ جتاتی ہوئی کیف سے بولی، اس نے کیف کے ہاتھ کے نیچے دبا ہوا اپنا ہاتھ نکالا مگر اس سے پہلے کیمرے کی آنکھ اس منظر کو اپنے پاس محفوظ کر چکی تھی جس سے وہ دونوں ہی بےخبر تھے
“میم میں آپ کو یاد دلادو کہ میں یہاں اپنے پیروں پر چل کر ہی آیا ہوں۔۔۔ رہی بات میری تعارف کی تو میرا فیملی بیگراونڈ تم اچھی طرح جانتی ہوں،، تمہیں حاصل کرنے کے لئے مجھے کوئی جاب ڈھونڈنے کی یا پہلے سیٹل ہونے کی ضرورت نہیں ہے”
کیف کے لہجے میں تھوڑا غرور بھی تھا کیف اس کو جتاتا ہوا بولا جس پر اس نے مسکرا کر آنکھیں بند کرتے ہوئے اپنے سر کو ہلکا سا خم کیا وہ تسلیم کر چکی تھی کیف کو اس کو پانے کے لیے کوئی مشکل درپیش آنے والی نہیں ہے
“میرے خیال میں اب مجھے چلنا چاہیے کیف، مما ہاسپٹل میں ڈیڈ کے پاس اکیلی ہو گیں”
وہ اپنا بیگ کندھے پر لٹکاتی ہوئی چیئر سے اٹھی تو کیف بھی اس کے ساتھ اٹھ گیا
“فرسٹ ٹائم ہم دونوں بغیر کسی اپنے فرینڈ کے ایک ساتھ کہیں باہر آئے ہیں اور تمہیں واپس جانے کی جلدی ہے، نیکسٹ ٹائم میں تمہیں اپنے ساتھ ڈیٹ پر لے جانا چاہتا ہوں اور ہر بار کی طرح تم مجھے انکار نہیں کروں گی اور نہ ہی ہر بار کی طرح میں تمہاری کوئی بات مانوں گا”
کیف برا سا منہ بنا کر اس کے ساتھ چلتا ہوا بولا
“دیکھتے ہیں”
وہ کیف کو دیکھ کر مسکراتی ہوئی بولی
کیف اسلام آباد کے مشہور بزنس مین کا بیٹا تھا۔۔۔ جوکہ خاصی جذباتی طبیعت کا مالک تھا،، یونیورسٹی میں اس کے دوسرے فرینڈز اس کی نیچر سے واقف تھے چھ ماہ پہلے کیف نے “اس” کے آگے اپنا حالِ دل بیان کیا تھا۔۔۔ مگر “اس” کے انکار پر کیف نے بالکل ہمت نہیں ہاری بلآخر “اس” کے انکار کی وجہ جاننے کے بعد بھی کیف اپنے ارادوں سے پیچھے نہیں ہٹا تب کیف کی ثابت قدمی کو دیکھ کر “وہ” کیف کی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔ وہ کیف کو اپنے متعلق مکمل سچائی بتاچکی تھی جس سے کیف کو خاص فرق نہیں پڑا۔۔۔ ایک ماہ سے وہ دونوں ایک ساتھ تھے یہ بات ان کے گروپ میں ثمرن کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا
****
درید نے اپنے روم کی کھڑکی کھولی جو کہ بیک یارڈ کی طرف کھلتی تھی، اس کی نظریں سوئیمنگ کرتی ہوئی زمل پر پڑی۔۔۔۔ درید روم کی کھڑکی کے پاس کھڑا اسموکنگ کرتا ہوا سوئمینگ کرتی ہوئی زمل کو دیکھنے لگا۔ ۔۔۔ دو سال پہلے ہی گھر کے بیک یارڈ پر درید کے کہنے پر اعظم نے پول بنوایا تھا اور چند دنوں پہلے زمل نے اپنے ڈر کو مات دیتے ہوئے سوئمنگ سیکھنے کا فیصلہ کیا تھا ابھی وہ تیرنے میں زیادہ مہارت نہیں رکھتی تھی جبھی گہرے پانی میں جانے کی بجائے پول کے آگے کے حصے کی طرف سوئمینگ کر رہی تھی۔۔۔ اس کی نظریں درید کے کمرے کی کھڑکی پر گئی جہاں درید کھڑا اُسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ زمل مسکراتی ہوئی ہاتھ کے اشارے سے اُسے بلانے لگی وہ زمل کو پول میں پڑے، لائیو گارڈ کی طرف اشارہ کرتا ہوا بیک یارڈ کی طرف جانے لگا۔۔۔۔ لائیو گارڈ کی طرف اشارہ کرنے کی وجہ یہی تھی کہ زمل احتیاط کے ساتھ سوئمینگ کر سکے۔۔۔۔ مگر درید کے وہاں پہنچنے سے پہلے درید کی نظرہں لان میں کھڑے ہوئے ڈرائیور پر گئی جوکہ لان کی دیوار کی آڑھ میں کھڑا ہوا بیک یارڈ میں جھانک رہا تھا یقیناً وہ زمل کو سوئمنگ کرتا ہوا دیکھ رہا تھا درید کے ماتھے پر بل نمایاں ہونے لگے
“کیا دیکھ رہے ہو”
درید ڈرائیور کے پاس پہنچ کر اس سے پوچھنے لگا ڈرائیور نے درید کی آواز پر فوراً پلٹ کر اسے دیکھا
“کک۔۔۔ کچھ نہیں درید سر بس یونہی”
وہ درید کے سامنے اپنی چوری پکڑے جانے پر تھوڑا شرمندہ ہوکر گھبرائے ہوئے لہجے میں بولا۔۔۔ ڈرائیور کا چہرہ دیکھ کر درید کا مزید خون کھولنے لگا۔۔۔ جبھی اس نے ڈرائیور کی عمر کا لحاظ کیے بنا ڈرائیور کے منہ پر زور دار تھپڑ مار کر اس کا گریبان پکڑا
“یونہی کیا، جواب دو۔۔۔۔ ہمت کیسے ہوئی تمہاری اُس پر غلیظ نگاہ ڈالنے کی۔۔۔ گھر کے اس پورشن میں تمہارا کیا کام ہے، کیوں آئے تم یہاں پر۔۔۔ میں پوچھتا ہوں کب سے تم چھپ چھپ کر اس کو دیکھتے ہو جواب دو”
درید نے ایک کے بعد دوسرا تیسرا سوال کرتے ہوئے اس کا منہ تھپڑوں سے سُجھا دیا۔۔۔ ڈرائیور شرمندہ ہوتا ہوا درید کے قدموں میں گرا، اپنی نوکری جانے کے ڈر سے اس سے معافی مانگنے لگا
“تم معافی مانگنے کے لائق نہیں ہو، آئندہ اگر تم مجھے اس ایرئیے میں دوبارہ نظر آئے تو میں تمہیں اریسٹ کروا دوں گا۔۔۔ اپنا سارا حساب آج ہی کلیئر کرو اور دفع ہو جاؤ اس گھر سے ہمیشہ کے لئے”
درید اُس کا گریبان پکڑ کر اپنے قدموں سے اٹھاتا ہوا غصے میں بولا اُسے گھر کے دروازے کی طرف دھکا دیتا ہوا خود بیک یارڈ کی طرف آگیا
“زمل میں نے تمہیں یہ لائیو گارڈ یوز کرنے کو بولا تھا، سمجھ میں نہیں آئی تمہیں میری بات”
وہ سوئمینگ پول کے پاس آکر اپنا بگڑا موڈ درست کرتا ہوا بولا کیوکہ اب زمل بڑی ہو رہی تھی درید کے غُصے کو اور سختی کو محسوس کرنے لگی تھی
“او کم ان دید سوئمنگ کرنے میں صرف آپ ہی چیمپیئن نہیں ہیں میں بھی آپ کی طرح پرفیکٹ سوئمنگ کر سکتی ہو اس لائیو گارڈ کی ضرورت نہیں ہے مجھے۔۔۔ دیکھتے جائیں بس اب”
زمل درید کو بولتی ہوئی پول میں آگے کی طرف جانے لگی
“آگے پانی گہرا ہے زمل واپس آؤ فوراً”
اب کی بار درید تھوڑا سخت لہجے میں بولا یقیناً وہ درید سے داد وصولنے کے لئے اسے گہرے پانی میں سوئمنگ کرکے دکھانا چاہتی تھی اس لیے وہ درید کے وارننگ دینے کی پرواہ کیے بغیر بولی
“مجھے بچہ سمجھنا چھوڑ دیں دید، میں اب بچی نہیں ہو اور گہرے پانی میں آسانی سے سوئمنگ کر سکتی ہو”
زمل درید کو جتاتی ہوئی بولی تو درید اس کی بات سن کر وہی خاموشی سے کھڑا اسے سوئمنگ کرتا ہوا دیکھنے لگ گیا
یہ بات وہ ٹھیک ہی کہہ رہی تھی کہ وہ اب بچی نہیں رہی تھی۔۔۔۔ اس کی بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ جسم کے خوبصورت خدوخال اب نمایاں ہونے لگے تھے۔۔۔۔ وہ اس وقت سوئمنگ کاسٹیوم میں موجود تھی، جو حد درجہ قابل اعتراض تو نہیں تھا مگر پھر بھی اس کے عریاں بازو اور گھٹنے تک چھلکتی ہوئی سفید پنڈلیاں دیکھ کر کوئی بھی مرد اس کی طرف متوجہ ہو سکتا تھا۔۔۔۔ درید کو ایک بار پھر اس ڈرائیور پر غصہ آنے لگا جو آنکھوں میں غلاظت لیے زمل کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ خود بھی اس وقت زمل کو غور سے دیکھ رہا تھا مگر اس کی نظروں میں غلاظت نہیں تھی،، اگر زمل کو دیکھ کر اس کی نظروں کا زاویہ یا ذہن بہک بھی جاتا تو اپنے آپ کو بری طرح جھڑکتا۔۔۔ وہ بچپن سے اسی کی تھی اور ہمیشہ اسی کی رہے گی یہ بات وہ اپنے دل کو اچھی طرح سمجھا چکا تھا۔۔۔ باقی بچتا تھا اس کا باپ، زمل کی ماں اور خود زمل،، تو ان تینوں سے وہ ہمیشہ ہی اپنی منواتا آیا تھا۔۔۔ تابندہ اگر کسی بھی معاملے میں آڑ جاتی تو بھی ہوتا وہی تھا جو وہ چاہتا تھا
“دید۔۔۔ دید پلیز ہیلپ می”
زمل کی چلاتی ہوئی آواز پر درید اپنی سوچوں سے ایک دم باہر نکلا
“زمل”
وہ زمل کو گہرے پانی میں ہاتھ پاؤں چلاتے ہوئے اور ڈوبتا ہوا دیکھ کر ایک پل کے لیے ڈر گیا، اس لیے زمل کے چیخنے پر بنا سوچے سمجھے درید نے پول میں چھلانگ لگا دی
درید اسے بازووں میں اٹھا کر سوئمنگ پول کے باہر لے کر آیا اور پول سے باہر بنے ٹائلز پر زمل کو لٹا کر زور زور سے اس کے گال تھپتھپانے لگا
“زمل آنکھیں کھولو پلیز جلدی سے آنکھیں کھولو”
وہ درید کے پکارنے پر بھی آنکھیں بند کیے بے سدھ لیٹی رہی تب درید نے اس کی سانسوں کی رفتار چیک کی، وہ خود زمل کی حالت دیکھ کر اتنا گھبرا گیا تھا کہ سمجھ ہی سکا زمل کی سانسوں کی رفتار مدھم چل رہی ہے یا اسے ایسا محسوس ہو رہا ہے۔۔۔ درید اسے نقلی سانس دینے کے لیے جیسے ہی زمل کی طرف جھکا زمل نے جلدی سے اپنی آنکھیں کھول دی، درید حیرت ذدی سا زمل کو دیکھنے لگا
“سوری دید میں نے مذاق کیا تھا آپ سے، میں نے محسوس کیا تھا آپ کی توجہ میرے اوپر نہیں بلکہ آپ کچھ سوچ رہے تھے اس لیے ڈوبنے کا ڈراما کرنے لگی”
زمل اٹھکر بیٹھی ہی تھی اس کی بات جیسے ہی مکمل ہوئی تو درید نے زور دار تھپڑ اس کے منہ پر مارا
“کیا سوچ کر یہ فضول قسم کا ڈرامہ کیا تم نے،، تمہیں احساس ہے ذرا بھی اس بیہودہ مذاق کا۔۔۔ کہاں سے بڑی ہو گئی ہو تم بتاؤ مجھے،، عقل تمہاری ابھی تک گھٹنوں میں ہے ایڈیٹ”
اسے زمل کے مذاق پر شدید غصہ آیا تھا کیو کہ اس کے مذاق سے درید کی سچی میں جان نکل گئی تھی۔۔۔ درید زمل پر غصہ نکالتا ہوا وہاں سے جانے لگا
“تھپڑ کیوں مارا آپ نے مجھے”
درید ہمیشہ اس کی شرارتوں پر یا کہنا نہ ماننے پر اس کو پنش کرتا آیا تھا آج پہلی بار زمل پر اس کا ہاتھ اٹھا تھا۔۔۔ جس پر زمل پہلے تو صدمے سے درید کو دیکھ کر اس کی باتیں سنتی رہی پھر درید کو جاتا ہوا دیکھ کر وہی کھڑی تیز آواز میں چیختی ہوئی درید سے پوچھنے لگی۔۔۔۔ زمل کی بات پر درید پلٹ کر واپس زمل کے پاس آیا اور غصے میں اس کی گردن دبوچتا ہوا بولا
“اگلی بار اگر تم نے کوئی احمقانہ حرکت کی یا پھر اس طرح کا مزاق کیا تو تھپڑ کی بجائے تمہاری جان لے لوں گا میں،، دل تو چاہ رہا ہے تمہیں واپس اٹھا کر اس پول میں پھینک دو”
درید نے زمل کی گردن دبوچ کر صرف بولنے پر انحصار نہیں کیا تھا بلکہ زمل کو گردن سے پکڑے وہ اپنے بازو کی طاقت سے شاید اسے پیچھے پول میں دھکیل بھی دیتا
“دید کیا ہوگیا ہے آپ کو”
زمل نے جلدی سے اپنی گردن پر اس کے ہاتھ پر رکھا ہوا اپنا ہاتھ ہٹا کر درید کی شرٹ مضبوطی سے پکڑ لیتی ہوئی بولی۔۔۔ درید اس کی گردن کو چھوڑ کر غصے میں زمل کو دیکھنے لگا جو آنکھوں میں آنسو بھرے اسی کو دیکھ رہی تھی
“پہنو اسے”
ریلیکسنگ چیئر پر رکھا ہوا زمل کا باتھ گاؤن اٹھا کر وہ زمل کی طرف بڑھاتا ہوا بولا جسے زمل درید کے ہاتھوں سے لے کر ایک بار میں ہی درید کے کہنے پر خاموشی سے پہننے لگی جس کے بعد وہ زمل کو بازو سے پکڑ کر اسے اس کے کمرے میں لایا
زمل خاموشی سے درید کو وارڈروب سے ٹاؤل نکالتا ہوا دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ چپ چاپ کھڑا ٹاول کی مدد سے زمل کے بال خشک کرنے کے بعد اس کے بالوں کو ڈرائیر کر رہا تھا۔۔۔ اسکے بالوں میں برش کی مدد سے سلجھاتا ہوا درید زمل کو آئینے سے دیکھنے لگا، زمل خود بھی انکھوں میں ناراضگی لیے آئینے میں سے درید کو دیکھ رہی تھی
وہ زمل کو اس کے بال نہیں کٹوانے دیتا تھا کیوکہ اسے زمل کے لمبے بال بےحد پسند تھے۔۔۔۔ زمل اکثر اپنے الجھے ہوئے بالوں کے ساتھ الجھ کر انہیں سلجھانے کے لیے تابندہ کے پاس یا پھر زیادہ تر درید کے پاس ہی آتی تھی
“ایسے ناراض ہو کر دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے مجھے، اگر تم یہ سمجھتی ہو کہ میں تمہاری اس فضول حرکت کے بعد تمہیں مناؤ گا تو بھول جاؤ”
زمل کی آنکھوں میں ناراضگی دیکھ کر درید اس سے بولا جبکہ وہ خود جانتا تھا ایسا ممکن نہیں ہے وہ زیادہ دیر خود اس سے بناء بات کیے نہیں رہ سکتا
“میں فریج میں رکھی ہوئی ساری اسٹبیریز کھا جاؤ گی اور رات کو سونے سے پہلے اورنج جوس بھی پیو گی، کوئی ذرا روک کر تو دکھائے مجھے”
کھٹی چیزیں فوراً زمل کا گلے پر اثر انداز ہوتی تھی، جو وہ درید کی نظر سے بچ کر کبھی کبھی کھا لیتی تھی۔۔۔۔ زمل غصے میں آئینے سے درید کو دیکھ کر دھمکی دیتی ہوئی بولی۔۔۔ وہ زمل کی دھمکی سن کر ہیئر برش کو ڈریسنگ ٹیبل پر رکھتا ہوا زمل کا رخ آئینے سے اپنی طرف کر چکا تھا
“اگر تم بیمار ہوئی تو جانتی ہو ناں تمہارا دید تمہیں کیسے اپنے ہاتھوں سے دوا کھلائے گا”
درید کی بات سن کر زمل نے روتے ہوئے درید کے سینے پر غصے میں اپنے ہاتھ زور زور سے مارنا شروع کردیئے
“زمل بس ہوگیا، اب تم اوور ہوچکی ہو۔۔۔ اسٹاپ اٹ یار”
درید اس کے دونوں ہاتھوں کو قابو کرتا ہوا بولا تو زمل دوبارہ غصے میں درید کو دیکھنے لگی درید کی نظر اس کے گال پر پڑی۔۔۔ اس نے زمل کا ہاتھ چھوڑ کر اس کے گال پر اپنا ہاتھ رکھا ہی تھا جسے زمل نے بری طرح جھٹکا دیا
“آپ بہت بدتمیز ہیں دید”
زمل درید کو دیکھتی ہوئی بولی
“ہاں مجھے معلوم ہے۔۔۔۔ جاؤ چینج کر آؤ،، اور ایک بات میری کان کھول کے سن لو آج کے بعد تم سوئمنگ نہیں کروں گی”
درید اس کو بولتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا
****
