Deewangi By Zeenia Sharjeel NovelR50394 Deewangi (Episode 15)
No Download Link
Rate this Novel
Deewangi (Episode 15)
Deewangi By Zeenia Sharjeel
“چھوڑیں دید۔ ۔۔ میں کہتی ہوں چھوڑیں میرا ہاتھ”
درید زمل کی کلائی پکڑتا ہوا گھر کے اندر داخل ہوا نگہت یہ منظر دیکھ کر فوراً تابندہ کے کمرے کی طرف بھاگی تاکہ اسے آنے والے طوفان کے بارے میں آگاہ کر سکے جبکہ درید نے زمل کو اس کے کمرے میں لا کر زوردار طریقے سے بیڈ پر دھکا دیا
“کیا سوچ کر تم اس اُلو کے پٹھے سے ملنے اس کے گھر چلی گئی تھی، پیار کی زبان تمہیں سمجھ میں نہیں آتی ہے اب مجھے بتاؤ میں تمہاری اس حماقت پر تمہیں کون سی سزا دوں”
درید غصے میں بیڈ پر اوندھے منہ گری ہوئی زمل کے پاس آتا ہوا اس سے پوچھنے لگا زمل درید کی بات سن کر بیڈ سے اٹھ کر اس کے سامنے آکھڑی ہوئی
“سمجھتے کیا ہیں آپ اپنے آپ کو دید۔۔۔ ہوتے کون ہیں آخر آپ مجھے یا پھر کیف کو ہماری غلطیوں اور حماقتوں کی سزا دینے والی۔۔۔ ایسا کوئی حق نہیں رکھتے آپ کسی بھی انسان پر، کہ اس کے ساتھ ایسا ظالمانہ سلوک کریں”
زمل کیف کا حشر دیکھنے کے بعد درید سے ڈرنے کی بجائے اس کے مقابل بے خوف ہو کر غصے میں چیخ کر بولی۔۔۔ وہی درید نے زمل کے بالوں کو اپنی مٹھی میں جکڑ کر اس کا چہرہ اپنے چہرے سے قریب کیا
“کسی دوسرے انسان پر بےشک حق نہ ہو مگر تم پر میں مکمل حق رکھتا ہوں سنا تم نے۔۔۔ اس وقت میں تمہاری یہ دونوں ٹانگیں بھی توڑ سکتا ہوں اور یہ تمہاری زبان بھی کاٹ سکتا ہوں جو غلطی کرنے کے باوجود تم میرے آگے چلا رہی ہو”
درید ایک ہاتھ سے زمل کے بالوں کو مٹھی میں جکڑے دوسرے ہاتھ سے اس کا منہ دبوچتا ہوا غصے بھرے لہجے میں بولا۔۔۔ تکلیف کی شدت سے زمل نے درید کی شرٹ مٹھی میں دبوچ لی
“یہ کیا کر رہے ہو درید چھوڑو زمل کو”
تابندہ زمل کے کمرے میں آ کر حیرت زدہ ہو کر درید کو دیکھنے لگی پھر اس کو ٹوکتی ہوئی بولی۔۔۔ درید نے تابندہ کی آواز پر مڑ کر اسے دیکھا، زمل تابندہ کو دیکھ کر رونے لگی تو درید نے اپنی مٹھی سے اس کے بالوں کو آزاد کیا اور اس کا چہرہ جھٹک کر تابندہ کے پاس آیا
“مجھے تم سے ایسے رویے کی امید نہیں تھی”
تابندہ درید کے بات کرنے سے پہلے افسوس بھرے لہجے میں اس سے بولی
“مجھے بھی اِس سے ایسی حرکت کی توقع نہیں تھی پوچھیں اس سے۔۔۔ یہ اُس لڑکے کے گھر کیا کرنے گئی تھی وہ بھی اکیلی۔۔۔ جس لڑکے کی تصویر میں نے آپ کو اپنے موبائل پر دکھائی تھی، وہ لڑکا آخر کون ہوتا ہے اِسے یہ مشورہ دینے والا کی یہ مجھ سے ڈائیورس لے، پوچھیں آپ اس سے آخر اس کے دماغ میں کیا چل رہا ہے میرے اور اپنے رشتے کو لے کر”
درید اپنا غصہ ضبط کیے بغیر اونچی آواز میں زمل کی طرف اشارہ کرتا ہوا تابندہ سے بولا۔۔ تابندہ افسوس بھری نگاہوں سے زمل کی طرف دیکھنے لگی جو کہ حیرت ذدہ ہوکر درید کی باتیں سن رہی تھی یعنی درید اس کی اور کیف کی جاسوسی بھی کرتا آیا تھا اور وہ اس پر نظر بھی رکھے ہوئے تھا
“کیوں ملنے گئی تھی تم کیف کے گھر۔۔۔ زمل تم جو بھی بولو گی میرے سامنے بالکل سچ بولو گی،، بتاؤ مجھے تم پہلے بھی کیف سے اکیلی ملتی رہی ہو”
تابندہ زمل کے پاس آ کر اس سے سخت لہجے میں پوچھنے لگی درید وہی خاموش کھڑا زمل کو دیکھ رہا تھا اسے اس وقت زمل پر شدید غصہ تھا
“پسند کرتا ہے کیف مجھے۔۔۔ شادی کرنا چاہتا ہے وہ مجھ سے”
خاموش رہنے سے بہتر زمل کو سچائی بیان کرنا لگی تھی اس لیے وہ آہستہ آواز میں تابندہ سے بولی۔۔۔ جس سے تابندہ کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئی مگر زمل کی بات سن کر درید کے تن بدن میں چنگاریاں بھر گئی وہ اپنے ہاتھوں کی دونوں مٹھیوں کو بند کیے اپنا غصہ ضبط کرنے لگا
“اور کیف کے خیالات جان کر بھی تم اس سے ملتی رہی، کیو برقرار رکھی تم نے کیف سے دوستی۔۔۔ شرم نہیں آ رہی تمہیں کسی دوسرے مرد کے نکاح میں ہونے کے باوجود تم کس ڈھٹائی سے یہ سب میرے سامنے بول رہی ہو”
تابندہ غصے میں سے زمل کو دونوں بازوؤں سے پکڑ کر جھنجھوڑتی ہوئی پوچھنے لگی جبکہ درید تابندہ لحاظ کرکے ضبط کئے ہوئے کھڑا تھا
“مما میں خود بھی کیف سے شادی کرنا چاہتی ہوں”
زمل کو سمجھ میں نہیں آیا بہت آہستہ سے مگر کیسے اس کے منہ سے یہ لفظ نکل گئے جسے سن کر تابندہ ایک دم اس کے دونوں بازو چھوڑتی ہوئی پیچھے ہٹی وہ بے یقینی سے اپنی بیٹی کو دیکھنے لگی اتنی ہی بےیقینی سے درید زمل کو دیکھ رہا تھا مگر اس نے تابندہ کی طرح حیرانگی سے زمل کو دیکھنے سے کام نہیں لیا تھا بلکہ زمل کی طرف بڑھ کر زوردار تپھڑ اس کے منہ پر رسید کیا جس سے تابندہ ایک دم حواس میں آئی
“اب دوبارہ بولو کس سے شادی کرنا چاہتی ہو تم”
درید نے غصے میں زمل کے چہرے کا رخ اپنی طرف کرتے ہوئے اس سے جارہانہ انداز میں پوچھا
“آپ اس طرح سے اپنے لئے میرا انکار اقرار میں نہیں بدل سکتے ہیں دید۔۔۔ میرا جواب اب بھی وہی ہے میں کیف سے شا”
اس سے پہلے زمل اپنا جملہ مکمل کرتی درید اپنے دونوں ہاتھوں کو زمل کی گردن پر رکھ کر اس کا گلا دبانے لگا
“درید۔ ۔۔۔ درید چھوڑ دو اس کو وہ تو پاگل ہو چکی ہے۔۔۔ تم کیوں پاگل پن کر رہے ہو۔۔۔ خدا کے لیے چھوڑ دو اسے”
تابندہ یوں اچانک درید کے ردعمل پر گھبرا گئی اور اس کے دونوں ہاتھوں کو زمل کی گردن سے ہٹانے لگی مگر ناکام رہی
“ایک بار پھر نام لو اس کمینے کا اپنی زبان سے پھر دیکھنا میں تمہارا کیا حشر کروں گا”
وہ تابندہ کی بات سنے بغیر زمل پر غصے میں ڈھاڑتا ہوا بولا۔۔۔ تکلیف سے زمل کا چہرہ سرخ ہونے لگا اس نے درید کے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے ہٹانا چاہا۔۔۔ تابندہ بھی مسلسل کوشش میں لگی ہوئی تھی درید زمل کی گردن سے اپنے ہاتھ ہٹا دے اس لیے روتی ہوئی بولنے لگی
“درید کیا کر رہے ہو وہ مر جائے گی خدا کے لیے اس کو چھوڑ دو۔ ۔۔ وہ اب یہ نام کبھی بھی اپنی زبان پر نہیں لائے گی تمہیں ثمن کی قسم ہے پلیز زمل کو چھوڑ دو”
تابندہ درید سے زمل کو چھڑواتی ہوئی رو پڑی تب درید نے اپنے دونوں ہاتھ زمل کی گردن سے ہٹائے زمل نڈھال انداز میں فرش پر بیٹھتی چلی گئی جبکہ تابندہ اب بیڈ پر بیٹھی دونوں ہاتھوں سے سر کو پکڑے رو رہی تھی
“سنا آپ نے یہ کیا چاہ رہی ہے کہ میں اپنی بیوی کا ہاتھ خود اس کے چاہنے والے کے ہاتھ میں دے دو، کس طرح کا مرد سمجھتی ہے یہ مجھے۔۔۔ کیسے میرے ساتھ یہ اس طرح کر سکتی ہے آپ پوچھیں اس سے۔۔۔ یہ میرے نکاح میں ہو کر کیسے کسی غیر مرد کا خیال اپنے دل میں بھی لا سکتی ہے صرف اس وجہ سے کہ وہ لڑکا اس سے محبت کرتا ہے”
درید غصے کی شدت سے چیختا ہوا تابندہ سے پوچھنے لگا اس کی مردانگی یہ ضرب برداشت نہیں کر پارہی تھی اس کی منکوحہ کے دل میں اس کی بجائے کوئی دوسرا مرد بستا ہے
“یہاں مجھے دیکھ کر بتاؤ وہ کل کا لڑکا تمہارا ننھا منھا سا عاشق تمہیں مجھ سے زیادہ چاہ سکتا ہے، نہیں کبھی بھی نہیں۔۔۔۔ تمہیں درید اعظم سے زیادہ کوئی نہیں چاہ سکتا سنا تم نے”
درید اب خود بھی فرش پر بیٹھ کر سسکتی ہوئی زمل کے سامنے بیٹھ کر غصے میں اس سے بولا
“میں درید اعظم کو نہیں چاہتی”
زمل اپنا چہرہ درید کے قریب کرتی ہوئی ارام سے بولی جس پر تابندہ ڈر کے مارے درید کو دیکھنے جبکہ درید کی زبان تالو سے چپک گئی وہ خاموشی سے اپنے سامنے بیٹھی اس لڑکی کو دیکھنے لگا جسے اس نے بچپن سے اب تک بے تحاشہ چاہا تھا مگر وہ اس کو نہیں چاہتی تھی۔۔۔ تابندہ بیڈ سے اٹھ کر زمل کے پاس آئی اس کو ہاتھ پکڑ کر اٹھاتی ہوئی بولی
“کیا چاہ رہی ہو تم اس وقت زمل بتاؤ مجھے۔۔۔ میں خود تمہیں اپنے ہاتھوں سے مار ڈالوں کیو کر رہی ہو ایسا۔۔۔ ایسی کی تھی میں نے تمہاری تربیت، ذرا شرم نہیں آرہی تمہیں یہ سب بولتے ہوئے”
تابندہ زمل کے منہ پر تپھڑ جڑتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی جبکہ درید سب باتوں سے انجان خاموشی سے اپنے کمرے میں چلا گیا
*****
“میں درید اعظم کو نہیں چاہتی۔۔۔۔ میں درید اعظم کو نہیں چاہتی”
وہ صوفے پر بیٹھا ہوا ناجانے کب سے اسموکنگ کر رہا تھا زمل کے جملے بار بار اس کے کانوں میں بازگشت کر رہے تھے۔ ۔۔ کھٹن کا احساس بڑھتا ہی چلا جارہا تھا تب ٹیبل پر رکھے اپنے موبائل کی اسکرین پر اس کی نظر پڑی جہاں احمر کی کال آرہی تھی
“ہاں احمر بولو کیا انفرمیشن ملی اس لڑکے کے بارے میں”
درید ساری باتیں اپنے ذہن سے جھٹک کر احمر کی کال کی طرف متوجہ ہو چکا تھا جیسے جیسے احمر اسے کیف کے بارے میں بتا رہا تھا ویسے ویسے درید کے ماتھے پر شکنیں نمایاں ہونے لگی
“اب تم آ گے دیکھ لو کیا کرنا ہے یا پھر مجھے بتا دو میں خود دیکھ لیتا ہوں اِس لڑکے کو۔۔۔ اس وقت تو وہ تمہاری بدولت ہسپتال میں موجود ہے مگر اس نے اپنا حشر بگاڑنے والے کا نام نہیں لیا”
احمر ساری باتیں درید کو بتانے کے بعد اس سے بولا
“ہہم ٹھیک ہے۔۔۔نہیں تم اس معاملے کے بیچ نہیں پڑو یہ کوئی اتنا بڑا ایشو نہیں ہے میں خود ہینڈل کر لو گا”
درید نے احمر سے بول کر موبائل رکھ دیا اس وقت رات کے بارہ بج رہے تھے دوپہر کے واقعہ کے بعد،، وہ واپس آفس نہیں گیا تھا بلکہ تب سے اپنے کمرے میں موجود تھا
رات میں تابندہ ہی اس کے کمرے میں کھانا لے کر آئی تھی اور تابندہ نے ہی اسے بتایا تھا کہ وہ زمل سے اس کا موبائل لے چکی ہے اب زمل کل سے یونیورسٹی بھی نہیں جائے گی اور نہ ہی گھر سے باہر قدم نکالے گی۔۔۔ تابندہ نے اس کو یقین دلایا تھا کہ اب زمل کبھی بھی اس لڑکے کا ذکر نہیں کرے گی وہ زمل کو اچھی طرح سمجھا چکی ہے۔۔۔
درید بناء کچھ بولے تابندہ کی ساری باتیں خاموشی سے سن رہا تھا اسے نہیں معلوم تھا کہ تابندہ اس سے کس بنا پر یہ باتیں کر رہی ہے۔۔۔ کیا مرتے ہوئے شوہر کا پاس رکھنے کے لیے وہ یہ سب کہہ رہی تھی کیونکہ آعظم نے مرنے سے ایک دن پہلے تابندہ سے یہ وعدہ لیا تھا کہ وہ درید کا خیال رکھے گی۔۔۔ زمل اور درید کے رشتے کو کبھی بھی ٹوٹنے نہیں دے گی، ایسا تابندہ نے خود اعظم کا ذکر کرتے وقت درید کو بتایا تھا۔۔۔ وہ خود بھی اندازہ لگا چکی تھی کہ درید اس کی بیٹی سے محبت کرتا ہے شاید اس لیے بھی وہ چاہتی تھی کہ اس کی بیٹی کسی دوسرے لڑکے کا خیال اپنے دل سے نکال دے یا پھر عمر کے اس حصے میں آکر وہ اپنی جوانی میں کیے گئے عمل پر پشیماں محسوس کر تھی۔۔۔ اس نے بھی شادی شدہ ہو کر اعظم سے تعلق رکھا تھا اب یہ سب اس کی بیٹی کر رہی تھی تو شاید اسے احساس ہو رہا تھا کہ اس کی بیٹی غلط کر رہی ہے۔۔۔ درید ان ساری باتوں کو سوچنے کے بعد ذہن سے جھٹک کر صوفے سے اٹھا
“میں درید اعظم کو نہیں چاہتی”
ایک بار پھر زمل کا بولا ہوا جملہ اس کے کانوں سے ٹکرایا سائیڈ ٹیبل کے دراز سے اپنا ریوالور نکال کر اسے جیکٹ میں چھپاتا ہوا وہ زمل کے کمرے میں جانے لگا
**†**
وہ رات کے وقت زمل کے کمرے میں داخل ہوا تو کمرے کی لائٹ آف تھی، لیمپ کی روشنی میں بیڈ پر بے خبر سوئے ہوئے وجود کو دیکھ کر درید اندازہ لگا چکا تھا کہ زمل گہری نیند سو رہی ہے۔۔۔ وہ کمرے میں مدھم روشنی میں بیڈ پر زمل کے پاس بیٹھ کر اس کے چہرے کو غور سے دیکھنے لگا جہاں اس کے ہاتھوں کی انگلیوں کے نشان کے ساتھ تابندہ کی انگلیوں کے نشان بھی زمل کے گال پر چھپے ہوئے تھے۔۔۔ شاید سونے سے پہلے بھی روئی تھی اس کے گالوں پر آنسو کے نشانات اب سوکھ چکے تھے
درید اس کی بند آنکھوں پر انگلیاں پھیرتا ہوا اس کے گال کو اپنی انگلی کے پوروں سے چھوتا ہوا اپنی انگلیاں زمل کی گردن تک لایا،، کسی احساس کے تحت زمل نے اپنی آنکھیں کھولیں تو درید کو اپنے قریب بیٹھا دیکھا۔۔۔ زمل کو جاگتا دیکھ کر نہ درید نے اپنی انگلیاں زمل کی گردن سے ہٹائی نہ ہی زمل نہ کوئی ہل جھل کی۔۔۔ وہ خاموشی سے لیٹی درید کو دیکھتی رہی۔۔۔ درید نے اپنا دوسرا بازو زمل کی کمر کے گرد حائل کرتے ہوئے اسے بیڈ پر بٹھا دیا، وہ اب بھی خاموشی سے بیڈ پر درید کے سامنے بیٹھی ہوئی اس کو دیکھ رہی تھی تب درید نے بولنا شروع کیا
“جب میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے پاس ماں باپ کے علاوہ اور کسی دوسرے کو نہیں دیکھا، سنا تھا لڑکے بہت بےپروا ہوتے ہیں لیکن لڑکا ہونے کے باوجود مجھے اکیلے پن کا احساس رہتا، دل میں خواہش جاگتی کوئی ایسا ہو جس کے میں ساتھ کھیل کود سکو پھر تم پیدا ہوئی اور میرے لیے اسپیشل بات یہ تھی کہ تم میری برتھ ڈے والے دن ہی پیدا ہوئی۔ ۔۔۔ جب تابندہ آنٹی تمہیں ہمارے گھر پر لے کر آتی تو میں تمہیں دیکھ کر بہت خوش ہوتا، بچپن سے ہی تم آئستہ آئستہ میری توجہ کھینچتی رہی مگر تم بہت چھوٹی تھی،، میرے ساتھ باتیں نہیں کر سکتی تھی میں انتظار کرنے لگا تمہارے بڑے ہونے کا۔۔۔ تاکہ تم بڑی ہو کر میرے ساتھ باتیں کرو کھیلو کودو،، تم نے بچپن سے ہی میری توجہ کو اپنی طرف کھینچ رکھا میں دل ہی دل میں دعا کرنے لگا کہ تم میرے پاس آ جاؤ میرے گھر میں ہمیشہ کے لئے پھر ایک دن میری دعا قبول ہوگئی۔۔۔ تم ہمیشہ کے لئے میرے گھر میں آگئی میرے پاس،، اس دن میرے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ تم صرف میری ہو جبھی میرے پاس ہو میرے گھر میں۔۔۔۔ آہستہ آہستہ تم بڑی ہونے لگی میں تمہارے مقابلے میں اور زیادہ بڑا ہوتا گیا میرا قد میرا ذہن میری سوچ۔۔۔ پھر میری خواہش نہیں رہی کہ میں تمہارے ساتھ کھیلو مگر تمہارے ضد کرنے پر مجبور کرنے پر میں بچہ بن کر تمہارے ساتھ کھیلتا۔۔۔ آہستہ آہستہ تمہیں لے کر میری طبیعت مزید حساس ہونے لگی،، میں تمہاری ہر چیز کو لے کر پوزیسو ہوتا گیا تمہاری کیئر کرنا اپنی ذمہ داری سمجھنے لگا یہاں تک کہ آنٹی تمہاری کیئر کرتی مجھے وہ بھی برا لگتا کیونکہ میں کس لیے تھا آخر۔۔۔۔ میری بڑھتی ہوئی عمر میرے اندر جاگتی تمہاری محبت کو کم نہیں کر سکی۔۔۔ وقت اور عمر کے ساتھ ساتھ وہ محبت بھی مزید پروان چڑھنے لگی میرے احساسات تمہیں سوچتے ہوئے مختلف ہو جاتے،، تمہیں مسکراتا ہوا دیکھ کر اچھا لگتا ہے کئی بار تمہیں چھونے کی، پیار کرنے کی خواہش دل میں جاگتی مگر میں اس وقت جوانی کے ادوار سے گزر رہا تھا تم نہیں، تم وہی معصوم بچی تھی۔۔۔۔ جبھی درید اعظم تم پر اپنے احساسات اور جذبات عیاں نہیں کر پایا،،، لیکن فرسٹ ٹائم جب اکیڈمی جانے پر تمہارا رشتہ آیا تو میں اندر ہی اندر ڈر گیا کوئی تمہیں مجھ سے چھین نہ لے، اس لیے اسی دن میں نے اپنے خیالات کا اظہار ڈیڈ پر اور آنٹی پر کردیا تاکہ وہ دونوں بھی یہ بات اپنے ذہن میں محفوظ کر لیں کہ تم صرف میری ہو اس کے بعد پھر وہ واقعہ ہوا جس نے ایک بار پھر مجھے اندر سے خوفزدہ کردیا مگر ساتھ ہی یہ احساس بھی دلایا کہ اب تم بچی نہیں رہی۔۔۔ ان دنوں گرینی بیمار تھی میں ان سے پرامس کر چکا تھا لندن ان کے پاس آنے کا مگر تمہیں یوں چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا تھا تبھی لندن جانے سے پہلے میں نے تم سے نکاح کیا تاکہ تمہارے ذہن میں بھی یہ بات محفوظ رہے کہ اب تم صرف میری ہو مگر مجھ پر غصہ ہونے کی وجہ سے تم نے میرے جاتے وقت نہ صرف مجھے یہ کہا کہ اب دوبارہ کبھی واپس مت آئیے گا بلکہ تم ہم دونوں کے بیچ ہوئے نکاح کو بھی فراموش کر بیٹھی، اتنے قریبی رشتے کو بھول گئی تم”
درید بولتا ہوا خاموش ہوا زمل ابھی بھی اس کے سامنے بیٹھی درید کو دیکھ رہی تھی تب درید زمل کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتا ہوا دوبارہ بولا
“تم نے آج کہا کہ تم درید اعظم کو نہیں چاہتی، ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ زمل اپنے دید کو نہیں چاہتی، میں یہ مان ہی نہیں سکتا۔۔۔ میں نے بچپن سے تمہیں دیکھا ہے تمہیں چاہا ہے صرف تم سے محبت کی ہے کسی اور کی طرف غلطی سے میرا دھیان بھی نہیں بھٹکا پھر ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ جس لڑکی کو میں نے دیوانگی کی حد تک چاہا ہو وہ مجھے نہیں چاہتی۔۔۔ بول دو ایسا تم نے صرف غصے میں کہا تھا زمل بول دو تم بھی مجھے چاہتی ہو بول دو تم بھی مجھ سے پیار کرتی ہو”
درید زمل کا ہاتھ تھاما ہوا اس کو دیکھ کر بولا
“میں آپ سے پیار کرتی ہوں دید مگر ویسا نہیں جیسا آپ سمجھ رہے ہیں۔۔۔ میں نے ایسا کبھی بھی نہیں سوچا آپ کے بارے میں جیسی آپ فیلیگز رکھتے ہیں میرے لیے،، مجھے نہیں معلوم آپ نے اس دن نکاح مجھ سے محبت میں کیا تھا۔۔۔ اس وقت آپ غصے میں تھے وہ مجھے آپ کے غصے کا ری ایکشن لگا۔۔۔ آپ بچپن سے ہی میرے ساتھ ایسا کرتے آئے ہیں دید،، جب آپ کو میری کسی بات سے اعتراض ہوا آپ نے روک دیا ٹوک دیا اپنا غصہ مجھ پر نکال کر میری خواہشات کا گلہ دبا دیا۔۔۔۔ آپ کی محبت مجھے ذرا سا بھی اسپیس نہیں دیتی ہے دید نہ ہی آگے زندگی میں دے گی۔۔۔ میں ساری زندگی تو ایسے نہیں گزار سکتی ہر چیز پر آپ کی روک برداشت کرتے ہوئے پلیز مجھے اس رشتے سے آزاد کر دیں پلیز آپ میری بات کو سمجھیں”
زمل آنسو بہاتی ہوئی درید سے بولنے لگی تو درید کے ہاتھ کی گرفت زمل کے ہاتھ پر ڈھیلی ہوئی لیکن وہ زمل کا ہاتھ چھوڑے بغیر اس سے بولا
“مانا تم مجھ سے ویسا پیار نہیں کرتی،، مگر جیسے بھی کرتی ہوں میرے لیے وہی بہت ہے کہ تم مجھے پیار کرتی ہو۔۔۔ اگر میرا کیئر کرنے کا انداز تمہیں روک ٹوک لگتا ہے تو ٹھیک ہے میں کوشش کروں گا اپنا انداز بدل لوں لیکن تم اس رشتے کو ختم کرنے کی بات نہیں کر سکتی زمل۔۔۔ کیف تم سے محبت نہیں کرتا اور اگر بالفرض وہ محبت کرتا بھی ہے تو میں تمہیں اس رشتے سے آزاد نہیں کر سکتا۔۔۔ مجھے نہیں معلوم یہ بات تمہارے علم میں ہے کہ نہیں لیکن ہمارے نکاح کے وقت نکاح نامے میں خلع لینے کا آپشن کٹوا دیا گیا تھا۔۔۔۔ مجھ سے خلع لینے کا حق تمہارے پاس محفوظ نہیں ہے تم مجھ سے خلع نہیں لے سکتی اور خود سے طلاق میں تمہیں کبھی بھی نہیں دوگا تو پلیز اپنے اور میرے رشتے کو دل سے قبول کر لو”
درید حیرت زدہ سی زمل کو دیکھتا ہوا اسے بتانے لگا۔۔۔ جیسے ہی درید زمل کا تھاما ہوا ہاتھ اپنے ہونٹوں تک لے کر گیا ویسے ہی زمل نے زور سے اپنا ہاتھ کھینچا
“مطلب کیا ہے آپ کا میرے پاس خلع کا بھی حق محفوظ نہیں ہے۔۔ آپ یا پھر کوئی اور دوسرا مجھ سے میرا حق نہیں چھین سکتا۔۔۔ میں مر جاؤں گی لیکن آپ کے ساتھ ساری زندگی اس رشتے میں جڑ کر نہیں رہوں گی سنا آپ نے”
اسے آج ہی درید سے یہ بات معلوم ہوئی تھی اس لئے وہ غصے میں چیختی ہوئی بولی لیکن جیسے ہی درید نے جیکٹ میں چھپی ہوئی ریوالور باہر نکالا تو زمل بالکل خاموش ہوگئی۔۔۔ درید بے حد سنجیدگی سے زمل کو دیکھتا ہوا بولا
“آزادی چاہیے تمہیں مجھ سے بولو، اب بول کیوں نہیں رہی آزادی چاہیے تمہیں اس رشتے سے”
درید زمل کی طرف ریوالور کا رخ کرتا اس سے پوچھنے لگا۔۔۔ زمل کو درید سے ڈر لگنے لگا وہ پوری آنکھیں کھولے درید کو دیکھنے لگی
“ٹھیک ہے آج تم اپنے ہاتھ سے مجھے ختم کر اس رشتے سے اور مجھ سے آزادی حاصل کر لو۔۔۔ میں تم پر اپنا خون معاف کر دیتا ہوں کیوکہ میری موت کی صورت ہی تمہیں اب اس رشتے سے آزادی مل سکتی ہے ویسے تو میں خود سے تمہیں جدا نہیں ہونے دوں گا”
درید نے بولنے کے ساتھ ہی زمل کے ہاتھوں میں ریولور پکڑا کر اپنی کنپٹی پر رکھ دی
“یہ۔ ۔۔ یہ کیا کر رہے ہیں آپ دید۔۔۔ پلیز میرا ہاتھ چھوڑیں ہٹائے اس ریوالور کو”
ریوالور پکڑے ہوئے زمل کا ہاتھ درید کے ہاتھ میں تھا جسے درید نے زبردستی گرفت میں لے کر اپنی کنپٹی پر رکھا ہوا تھا۔۔۔ زمل کا دل خوف کے مارے کسی انہونی کے ڈر سے بری طرح کانپنے لگا
“نہیں آج ختم کر ڈالو مجھے تاکہ تمہیں آزادی نصیب ہو جائے ویسے بھی تم مجھ سے محبت نہیں کرتی۔۔ یہ سوچ ہی مجھے مارے جا رہی ہے”
درید نے بولنے کے ساتھ ہی زمل کی انگلی سے ٹریگر دبانا چاہا
“میں محبت کرتی ہوں آپ سے دید، بہت محبت کرتی ہوں۔۔۔ اب دوبارہ کبھی بھی آپ سے دور جانے کی بات نہیں کروں گی پرامس”
زمل اپنا ہاتھ مسلسل درید کی گرفت سے چھڑواتی ہوئی خوفزدہ انداز میں چیخ کر بولی۔۔۔ تب درید نے زمل کا پکڑا ہوا ہاتھ چھوڑ دیا، زمل نے فوراً اپنے ہاتھ میں موجود ریوالور کو ڈر کے مارے فرش پر پھینکا اور درید کے سینے سے لگ کر رونے لگی
“آپ کو کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی تھی میں، کبھی بھی آپ کے ساتھ برا نہیں کر سکتی نہ برا ہوتے برداشت کر سکتی ہو۔۔۔ خدا کے لئے دوبارہ کبھی بھی ایسا مت کریئے گا ورنہ میرے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا میں کرتی ہو آپ سے محبت پلیز دید ایسا مت کرئیے گا آئندہ”
زمل درید کے سینے سے لگی ہوئی ہے اس سے بول رہی تھی جبکہ درید کی نظریں اب کمرے کے دروازے پر ٹکی ہوئی تھی جہاں دروازے کا ہینڈل کو پکڑے کافی دیر سے کھڑی ہوئی تابندہ سارا تماشا خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ بناء آواز کے کمرے کا دروازہ آہستہ سے بند کرتی ہوئی وہاں سے چلی گئی تب درید نے زمل کے وجود کو اپنے حصار میں لیا جو اس کے سینے سے لگی ہوئی ابھی تک درید کی حرکت پر رو رہی تھی
“آئی نو تم مجھ سے پیار کرتی ہو، بس تم مجھ پر غصہ تھی مجھ سے ناراض تھی اس لیے کیف کی طرف متوجہ ہوگئی۔۔۔ اس سے تمہیں کوئی دلی لگاؤ نہیں ہے۔۔۔ تم اپنے اور میرے رشتے کو آخر کیوں دل سے قبول نہیں کر پا رہی، ہم دونوں نے بچپن سے ایک دوسرے کو آمنے سامنے دیکھا ہے تو پھر ہم ساری زندگی کیوں نہیں ایک ساتھ رہ سکتے ہیں بتاؤ مجھے”
درید زمل کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر اس سے پوچھنے لگا زمل کے چہرے پر ابھی بھی خوف کے آثار دکھ رہے تھے وہ درید کے ری ایکشن سے خوفزدہ گئی تھی۔۔۔ درید اس کی آنکھوں سے آنسو صاف کرتا ہوا دوبارہ بولا
“رونا بند کر دو زمل میں تمہیں اپنے آپ سے دور کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا جبھی یہ سب جذبات میں کر بیٹھا اب ایسا کبھی بھی نہیں کروں گا۔۔۔ بس تمہارے منہ سے یہ الفاظ نہیں سن سکتا کہ تم مجھ سے پیار نہیں کرتی، میرے ساتھ نہیں رہ سکتی۔۔۔ آئندہ ایسا کبھی مت بولنا پلیز”
درید زمل کے وجود کو اپنے حصار میں لے کر بیڈ پر لٹاتا ہوا اس پر جھکا
“دید”
زمل اس سے پہلے درید کو کچھ بولتی وہ اپنی انگلی زمل کے ہونٹوں پر رکھ کر چکا تھا
“بہت زیادہ دل جلا ہے آج میرا،، صرف پانچ منٹ مجھے اپنی قربت کے دے کر خود میں سکون محسوس کرنے دو۔۔۔ اس کے بعد میں تمہارے کمرے سے چلا جاؤں گا”
درید زمل سے بول کر اس کی گردن پر جھگ گیا اپنے آج کے کیے گئے غصے کا ازالہ اس کی گردن کو اپنے ہونٹوں سے چھو کر پورا کرنے لگا جبکہ زمل خاموشی سے دیوار پر ٹنگی گھڑی میں پانچ منٹ گزرنے کا انتظار کرتی ہوئی ساتھ ہی یہ سوچنے لگی کہ اب اسے کیف کو بھلانا ہوگا۔۔۔ اپنی گردن پر درید کی سانسوں کی گرمائش سے اس میں کوئی احساسات بیدار نہیں ہوئے وہ بت بنی لیٹی ہوئی والکلاک کو دیکھے جاری تھی، تب درید نے زمل کے گال پر اپنا ہاتھ رکھ کر اس کے چہرے کا رخ اپنی طرف کیا
“لو یو مائی لائف”
مدہوش سی درید کی آواز زمل کے کان سے ٹکرائی جس کے بعد وہ اپنی سانسوں کی گرمائش زمل کی سانسوں میں اتارنے لگا۔۔۔ زمل کی بند آنکھوں سے آنسو جاری ہونے لگے۔۔۔ درید کی انگلیاں زمل کی گردن پر آئستہ سے رقص کرتی ہوئی سرحد پار کر کے حدود سے نکلتی گئی اس نے ایک دم درید کا ہاتھ پکڑا مگر اب وہاں درید کے ہونٹوں کا لمس اسے تڑپا رہا تھا
“لیو می دید پانچ منٹ ہوچکے ہیں”
زمل کے یاد دلانے پر درید ہوش میں آیا وہ زمل کو خاموشی سے دیکھتا ہوا اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا
*****
