436.8K
21

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deewangi (Episode 4)

Deewangi By Zeenia Sharjeel

“پھر کیا سوچا ہے تم چاروں نے کونسرٹ کا،، دیکھو پاسیز کا کوئی ایشو نہیں ہوگا،، پانچ پاس آسانی سے مل جائیں گیں، میرا کزن ارینج کروا دے گا۔۔۔ میں تو کہتا ہوں آج شام کا پروگرام کنفرم کر لو”

واصف، کیف، زمل، ثمرن اور نشاء پانچویں کلاس آف ہونے کے بعد یونیورسٹی کے کیفیٹیریا میں بیٹھے ہوئے تھے تب واصف ان چاروں کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا

“ہاں چلے چلتے ہیں یار اسی بہانے یونیورسٹی سے اف ہونے بعد شام میں دوبارہ ایک دوسرے کو جوائن کرلیں گے”

کیف بول تو واصف کو رہا تھا مگر اس کی نظریں زمل کے چہرے پر ٹکی ہوئی تھی جو کہ ان سب کے درمیان موجود ہو کر ذہنی طور پر کہیں اور تھی

“یار میرا تو مشکل ہے کیوکہ آج بابا واپس آرہے ہیں۔۔۔ رات میں ہمارا فیملی ڈنر ہوگا اس کو میں مس نہیں کرسکتی”

ثمرن اپنے کونسلٹ میں نہ آنے کا جواز بتانے لگی

“زمل تم تو چلو گی نہ یار شام میں”

ثمرن کے نہ آنے کا سن کر نشاء زمل سے پوچھنے لگی تو زمل اپنی سوچوں سے نکل کر نشاء سے بولی

“میرا بھی مشکل ہے یار۔۔۔ ڈیڈ کی حالت دیکھ کر بالکل موڈ نہیں ہو رہا کہیں جانے کا”

وہ اعظم کی کنڈیشن کو دیکھ کر ویسے بھی پریشان تھی اور کل رات چار سال بعد درید کی آواز سن کر ذہنی طور پر اور بھی ڈسٹرب ہوگئی تھی اسلیے ان سب سے ایکسکیوز کرتی ہوئی بولی

“زمل بھی نہیں جارہی، نہ ہی ثمرن تو میں کیا کروں گی ان دونوں کے بغیر جاکر”

نشاء واصف کو دیکھتی ہوئی کندھے اچکا کر بولی

“انکل کی وجہ سے پریشان مت ہو، ہم کون سا رات دیر تک وہاں رکے گیں جلدی واپسی کر لیں گے۔۔۔ تمہاری طبعیت بھی بہل جائے گی تھوڑی دیر کے لیے”

کیف نے زمل کی وجہ سے اپنے جانے کا پروگرام بنایا تھا وہ زمل کو دیکھ کر بولا تو زمل سے پہلے ثمرن بول اٹھی

“فورس مت کرو اسے کیف۔۔۔ وہ ٹھیک کہہ رہی ہے اور ویسے بھی انٹی انکل کے پاس اکیلی ہوگیں”

ثمرن کی بات سن کر کیف خاموش ہوگیا

“پھر کیا کرنا ہے۔۔۔ ان نخریلی لڑکیوں کو چھوڑو، ہم دونوں ہی چلتے ہیں”

واصف کیف کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا

“میرے خیال میں پروگرام کو کینسل کر دینا چاہیے۔۔۔ ویسے بھی دو مہینے کے بعد سمسٹر شروع ہونے والے ہیں”

زمل کا موڈ دیکھ کر کیف اپنے جانے کا بھی پروگرام کینسل کرتا ہوا بولا تو واصف خاموش ہوگیا

“لگتا ہے اب کہ بار تمہارا ہیئر کٹ لینے کا ارادہ نہیں،، ویسے لونگ ہیئرز سوٹ کریں گیں تمہارے فیس پر”

نشاء زمل کے بالوں کی لینتھ دیکھ کر زمل سے بولی کیوکہ اس نے ہمیشہ زمل کو شولڈر تک بالوں میں دیکھا تھا جبکہ واصف اور کیف ان خواتین کو مخصوص زنانہ باتوں میں لگا دیکھ کر اپنی باتیں اسٹارٹ کر چکے تھے

“غلط سوچ رہی ہو، زہر لگتے ہیں لمبے بال میرے فیس کٹ پر، بس ڈیڈ ٹھیک ہو کر واپس گھر آجائے پھر ان لمبے بالوں سے بھی نجات حاصل کر گی”

زمل نشاء کو دیکھ کر بولی جبکہ چار سال پہلےاس کے جنتے لمبے بال ہوا کرتے تھے اب اس کے آدھے ہوچکے تھے اپنے لمبے بالوں کو یاد کرکے ماضی کی یاد اس کے ذہن پر حملہ آور ہوئی

**†**

“تابی میں تم سے دوسری بار کہہ رہا ہوں آہستہ آواز میں بولو اب تمہاری آواز اس کمرے سے باہر نہیں جانا چاہیے، میں تمہیں بول رہا ہو کہ میں خود درید سے پوچھو گا آخر اس نے ایسی حرکت کی کیوں زمل کے ساتھ”

اعظم کو خود اندازہ نہیں تھا کہ تابندہ کو سمجھاتے ہوئے اس کی خود کی آواز کافی تیز ہو چکی تھی جو کہ کمرے سے باہر جا رہی تھی

“کب اعظم کب،، آخر کب پوچھیں گے آپ اپنے بیٹے سے، دن بدن اس کی بدتمیزی اور خود سری بڑھتی جا رہی ہے اور آج تو اس نے حد ہی کر دی ہے وہ ہوتا کون ہے میری بیٹی پر پابندیاں لگانے والا اور اس پر روک ٹوک کرنے والا۔۔۔ زمل کہیں آ نہیں سکتی کہیں جا نہیں سکتی،، اپنی مرضی سے کوئی کام کر نہیں سکتی،، کچھ سیکھنا ہو یا پھر کسی بات کا دل چاہ رہا ہو تو پہلے اسے درید کی پرمیشن لینا پڑتی ہے۔۔۔ میری بیٹی کی اپنی لائف پر اس کا اختیار نہیں ہے اور آج تو درید نے حد کر دی یعنیٰ اگر زمل نے اپنی مرضی سے ہیئر کٹنگ کروا لی تو درید کا اتنا سخت ری ایکشن۔۔۔۔ وہ ہوتا کون ہے میری بیٹی سے اس طرح کا بی ہیویر کرنے والا۔۔۔ اگر میں درید کی حرکتوں اور زیادتیوں پر خاموش رہتی ہو تو صرف اس وجہ سے کہ گھر کا ماحول برباد نہ ہو، بچوں کے ذہن ڈسٹرب نہ ہو مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ میں درید کی ہر بات میں اس کی من مانیاں برداشت کروں گی”

تابندہ خاموش ہونے کی بجائے اونچی آواز میں اعظم کو مزید باتیں سنانے لگی

اپنے کمرے میں موجود درید اسموکنگ کرتا ہوا ساری باتیں سن رہا تھا مگر اسے ہمیشہ کی طرح اس وقت بھی اعظم اور تابندہ کی پروا نہیں تھی اسے احساس تھا تو صرف اپنے رویے کا۔۔۔ اس سلوک کا جو اپنے غصے کی بدولت زمل کے ساتھ کر چکا تھا۔۔۔ جیسے جیسے زمل بڑی ہو رہی تھی وہ اس کے لیے مزید حساس ہوتا جا رہا تھا

ویسے تو وہ بچپن سے ہی زمل کی ذات کو لے کر کافی ٹچی رہا تھا زمل کی ذرا سی بھی طبیعت خراب ہو جاتی تو تابندہ سے زیادہ وہی اس کے لئے پرشان ہوتا،، زمل کی اسٹڈیز کو لے کر وہ فکرمند رہتا،، وہ کس طرح کی لڑکیوں میں اٹھتی بیٹھتی ہے وہ لڑکیاں کس فیملی سے تعلق رکھتی ہیں ان سب باتوں کو جاننے کے بعد ہی زمل کو ان سے دوستی کی پرمیشن دیتا۔۔۔ چند ہفتے پہلے جب زمل بی پی لو ہونے کی وجہ سے اسکول میں بےہوش ہو گئی تھی تب تابندہ نے پریشان ہو کر درید کو ہی فون کیا تھا۔۔۔ درید اس وقت یونیورسٹی میں موجود تھا تھوڑی دیر بعد اس کی پریزنٹیشن تھی مگر تابندہ کی بات سن کر وہ زمل کے لیے فکرمند ہو گیا، وہی زمل کو اسکول سے گھر لے کر آیا۔۔۔ اس کے بعد وہ زمل کی ڈائٹ کا بھی خیال رکھنے لگا زمل کو کیا چیز کھانے میں پسند ہے اب یہ بات میٹر نہیں رکھتی بلکہ کیا چیز اس کی صحت کے لئے فائدہ مند ہے یہ ضروری تھا وہ زمل اس کے سامنے بریک فاسٹ کرنے کے بعد اسکول جاتی

درید کو شروع سے ہی زمل کے لمبے بال پسند تھے،، زمل نے جب جب اس سے ہیئر کٹ لینے کی اجازت مانگی، تب تب درید نے اسے سختی سے منع کردیا۔۔۔ کمر کو ڈھکے زمل کے بالوں کی لمبائی درید کو بے حد پسند تھی

آج شام جب وہ احمر کے پاس سے گھر لوٹا، کسی کام سے زمل کے پاس اس کے کمرے میں گیا تو ایک پل کے لیے وہ زمل کے بالوں کی لینتھ دیکھ کر شاکڈ رہ گیا زمل کے بالوں کی لینتھ چھوٹی ہو چکی تھی آدھی کمر تک آتے اسٹائل میں کٹے بالوں کو دیکھ کر اسے افسوس کم اور غصہ زیادہ آنے لگا

“کیوں کٹوائے تم نے اپنے بال”

وہ غصے میں زمل کے بالوں کو مٹھی میں جکڑ کر زمل سے بالوں کے کاٹنے کی وجہ پوچھنے لگا

“دید میرا دل چاہ رہا تھا پلیز آپ ناراض مت ہو،، ویسے بھی کتنی جلدی میرے بالوں کی لینتھ بڑھتی ہے آپ خود کہتے ہیں”

زمل اس کو غصے میں دیکھکر وضاحت دینے لگی

“اور میرے دل کا کیا میرا خیال کیوں نہیں کیا تم نے،، تم جانتی ہو ناں تمہاری حرکت سے مجھے کتنا دکھ ہوگا، کیسے تم نے میری بغیر اجازت کے ان بالوں کو کسی دوسرے کو ہاتھ لگانے دیا،،، بولو” درید نے غصے میں زمل کو بیڈ پر دھکا دیا اور خود ڈریسنگ ٹیبل کی ڈراز کی طرف بڑھا

“دید۔ ۔۔ یہ کیا کر رہے ہیں آپ۔ ۔۔ دید نہیں، نہیں دید نہیں پلیز ایسا مت کریں”

جب درید نے قینچی سے زمل کے بال کاٹنے شروع کیے تو وہ بہت روئی چیخی چلائی مگر درید اس کے بالوں پر الٹی سیدھی قینچی چلاتا رہا

اس کے بعد درید کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا اس نے زمل کمرے میں موجود سارے ڈیکوریشن پیس اور چیزوں کو تہس نہس کر دیا جبکہ زمل بیڈ پر لیٹی ہوئی درید کے اتنے سخت ری ایکشن پر روتی رہی

“آئندہ کبھی اپنے بالوں کو میرے بغیر اجازت کے کسی دوسرے کو تم نے ہاتھ بھی لگانے دیا تو اُس کا اور تمہارا دونوں کا حشر بگاڑ دو گا میں”

وہ بیڈ پر روتی ہوئی زمل کو دھمکی دیتا ہوا اپنے کمرے میں جا چکا تھا

اعظم اور تابندہ جب اپنے فرینڈ کے گھر سے ڈنر کر کے واپس لوٹے تب ملازموں کے ذریعے ان دونوں کو سارا ماجرا معلوم ہوا۔۔۔ زمل درید کے رویہ پر کافی دلبرداشتہ ہوئی تھی اور تابندہ کے گلے لگ کر روئی تھی جبکہ اعظم نے تین سے چار بار درید کے کمرے کا بند دروازہ کھٹکھٹا کر درید کو کمرے سے باہر آنے کا حکم دیا مگر وہ اعظم یا کسی کی پرواہ کیے بغیر اپنے کمرے کا دروازہ لاکڈ کیے اپنے کمرے میں بیٹھا اسموکنگ کرتا رہا۔۔۔ مگر اب جیسے جیسے رات گزر رہی تھی درید کا غصہ بےچینی میں تبدیل ہو رہا تھا۔۔۔ اسے زمل کے ساتھ کیے جانے والے اپنے سلوک پر دکھ ہونے لگا خاص کر اس کا روتا ہوا چہرا یاد کر کے اسکی بےچینی بڑھنے لگی۔۔۔ اس وقت گھڑی میں رات کے دو بج رہے تھے نیند درید کی آنکھوں سے غائب تھی نہ ہی وہ اپنے کل ہونے والے پیپر پر صحیح سے توجہ دے پا رہا تھا، یونیورسٹی میں اس کا فائنل آیئر تھا۔۔۔ صوفے سے اٹھ کر وہ زمل کمرے میں جانے کا ارادہ کرنے لگا

*****

“مجھے معلوم ہے تم جاگ رہی ہو زمل یہاں دیکھو میری طرف”

وہ زمل کے بیڈ روم میں آیا تو زمل اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھے لیٹی ہوئی تھی، درید نے کمرے کی لائٹ آن کی تو اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ زمل جاگ رہی ہے،، تب درید بیڈ پر اس کے قریب بیٹھ کر زمل کا ہاتھ اس کی آنکھوں سے ہٹانا چاہا

“کیوں آئے ہیں آپ یہاں پر، پلیز دید چلے جائیں میرے روم سے”

درید نے جیسے ہی زمل کی آنکھوں سے ہاتھ ہٹایا زمل فوراً دوسری طرف کروٹ لیٹی ہوئی درید سے بولی

“چلا جاؤں گا پہلے یہاں میری طرف دیکھ کر میری بات سن لو”

درید نے زمل کا بازو پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کرنا چاہا تو وہ ایک دم اٹھ کر بیٹھ گئی

“کیا بات سن لو میں آپ کی دید، کیا بتانا چاہتے ہیں آپ مجھے، یہی نہ کہ غلطی میری تھی مجھے اپنے بالوں کی کٹنگ نہیں کروانا چاہیے تھی کیونکہ آپ کو میرے لمبے بال پسند ہیں لیکن آپ مجھے یہ بتائیں میری اپنی لائف پر میرا حق ہے کہ نہیں، یار انسان ہوں میں بھی، اپنی مرضی سے جینا چاہتی ہوں مگر مجھے میری زندگی پر اپنا اختیار ہی نہیں ہے”

وہ اس کے سامنے بیٹھ کر بولتی ہوئی رونے لگی تو درید خاموشی سے اسے دیکھنے لگا پھر بولا

“جو آپ سے بہت زیادہ پیار کرتا ہو تو آپ کے لیے خودبخود حساس ہو جاتا ہے، پھر سامنے والے کو چاہیے کہ وہ خود اپنے سارے اختیارات اس پیار کرنے والے کو سونپ دے۔۔۔ اگر تم یہ اختیارات مجھے نہیں سونپنا چاہتی تو پھر میں ایسے ہی تم پر اپنا حق جتاؤ گا کیونکہ میں بہت پیار کرتا ہوں تم سے”

درید زمل کی آنکھیں صاف کرتا ہوا بولا اپنی طرف سے آج اس نے زمل کو اپنے محسوسات سے اگاہ کردیا تھا جو وہ زمل کے لئے کیا محسوس کرتا تھا مگر وہ جانتا تھا زمل اس کی باتوں کو بالکل نارمل لے گی جبکہ دوسری طرف زمل کو درید کی بےتکی لاجک پر غُصہ آنے لگا وہ اپنے چہرے سے درید کے ہاتھ جھٹکتی ہوئی بولی

“ایسے پیار کیا جاتا ہے کسی سے دید، پیار کرنے والے کا یہ حشر کیا جاتا ہے جو آپ نے میرا کردیا اور میرے اس کمرے کا بھی، پیار تو میں بھی آپ سے بہت کرتی ہو بتائے ذرا کاٹ ڈالو آپ کی یہ حسین زلفیں”

زمل غصے میں درید سے پوچھنے لگی مگر اس کی آخری بات پر درید کو ہنسی آنے لگی جسے وہ ضبط کر گیا

“تمہارا غصہ اگر ایسے ٹھنڈا ہوجائے گا تو کاٹ ڈالو یار میری یہ حسین زلفیں،، اُف تک نہیں کروں گا تمہارے بدلہ لینے پر”

درید بولتا ہوا اپنا چہرا زمل کے چہرے کے قریب لایا تو

زمل نے درید بالوں کو اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھی میں بھرلیا

“کیا کر رہی ہو یار بال تو چھوڑو میرے”

زمل نے درید کے بال پکڑے تو درید اپنا بیلنس برقرار نہیں رکھ پایا اگر وہ اپنے دونوں ہاتھ زمل کے دائے بائے بیڈ پر نہیں ٹکاتا تو اس کے اوپر ہی گر پڑتا

“اب کل دوبارہ پارلر جاکر بالوں کی سیٹنگ کروانا پڑے گی”

درید پیچھے ہوکر بیٹھا تو زمل افسوس سے کہنے لگی وہ خود اپنے بالوں کو زیادہ چھوٹا نہیں کروانا چاہتی تھی مگر اب بالوں کی سیٹنگ کروانے پر اس کو اچھی طرح اندازہ تھا بالوں کی لمبائی کافی کم ہوجائے گی

“کوئی ضرورت نہیں ہے، تم نے سنی نہیں میری بات مجھے بالکل بھی پسند نہیں کہ کوئی تمہارے بالوں کو ہاتھ لگائے۔۔۔ یہاں آکر بیٹھو میں بیلنس میں کر دیتا ہو بالوں کو”

درید نے بولنے کے ساتھ بیڈ سے اٹھ کر زمل کو ڈریسنگ ٹیبل کے پاس موجود چھوٹے سے اسٹول پر بیٹھنے کا اشارہ کیا

“دید نو پلیز بال اور چھوٹے ہوجائیں گے یار”

زمل درید کے ارادے سے ڈرتی ہوئی اس سے کہنے لگی تو درید اسے آنکھیں دکھاتا ہوا بولا

“مجھے تمہارے بالوں کی تم سے زیادہ فکر ہے، یہاں بیٹھو آکر شرافت سے”

درید نے اسے بازو پکڑ کر اسٹول پر بٹھا دیا تو زمل کی رونے والی شکل ہوگئی وہ منہ بناکر اسٹول پر بیٹھی ہوئی درید کو دیکھ رہی تھی جو اس کے بالوں پر پانی کا اسپرے مار کر بہت احتیاط کے ساتھ کی اس کے بالوں کی لینتھ کو بیلنس میں لا رہا تھا

“اب ایسی شکل تو نہیں بناؤ تھوڑی دیر پہلے جو مجھ سے تمہارے بالوں کا حشر ہوا تھا اس سے تو بہتر ہی ہے اب”

درید اس کے بالوں کی کٹنگ کرنے کے بعد زمل کی رونی شکل دیکھتا ہوا بولا

“اُس سے تو بہتر ہے مگر بہت زیادہ چھوٹے ہو گئے ہیں اور اتنے چھوٹے بالوں میں تو میں آپ کو اچھی بھی نہیں لگو گی”

زمل اسٹول سے آٹھ کر درید کے سامنے کھڑی ہوتی ہوئی اس سے کہنے لگی۔۔۔ اب مشکل سے اس کے بالوں کی لینتھ شولڈر کو چھو رہی تھی درید کو واقعی زمل کے اتنے چھوٹے بالوں کو دیکھ کر بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا مگر یہ بھی نہیں تھا کہ اسے زمل بری لگ رہی ہو زمل کی بات سن کر درید مسکراتا ہوا بولا

“تم مجھے کبھی بھی بری نہیں لگ سکتی اگر پوری گنجی ہو جاؤ گی تب بھی بہت پیاری لگو گی”

بولنے کے ساتھ ہی درید نے شرارت سے اس کی ناک کھینچی اور اپنے کمرے میں جانے لگا وہ یہی سوچ رہا تھا کہ کل یونیورسٹی سے آنے کے بعد زمل کا روم بھی سیٹ کرے گا

“دید کہاں جا رہے ہیں آپ رکیں تو”

درید کو اپنے کمرے سے جاتا ہوا دیکھ کر زمل جلدی سے بولی

“یار کل پیپر ہے میرا تھوڑا اسٹڈی کروں گا اور پھر سو جاؤں گا”

درید زمل کو دیکھتا ہوا اسے بتانے لگا

“تھوڑی دیر پہلے آپ نے مجھے بتایا تھا کہ آپ مجھ سے پیار کرتے ہیں جن سے پیار کیا جاتا ہے ان کا احساس بھی کیا جاتا ہے، احساس ہے آپ کو کہ میں نے رات میں کچھ نہیں کھایا آپ کے غصے کے سوا،، چلیں اس وقت باہر میرے ساتھ اور مجھے کچھ کھلا کر لائیں”

رات کا کھانا تو خود اس نے بھی نہیں کھایا تھا مگر اس وقت زمل کی فرمائش سن کر درید اسے بڑی بڑی آنکھیں دکھا کر گھورنے لگا

“دماغ ٹھیک ہے تمہارا،، رات کے تین بجنے والے ہیں باہر اس وقت کونسی شاپ یا ہوٹل کھلا ہوگا شرافت سے کچن میں جاؤ فرج سے کھانا نکالو کھاؤ اور سوجاؤ”

درید زمل کو بولتا ہوا اپنے کمرے میں جانے لگا مگر زمل کو خاموش نظروں سے اپنی طرف دیکھ کر وہ دوبارہ رک گیا

“فوڈ اسٹریٹ اوپن ہوگی اس وقت، ہم وہاں پر جا کر ارام سے کچھ کھا سکتے ہیں۔۔۔ مگر بات اب آپ کے پیار کی ہے میری بات مان کر آپ مجھ پر ظاہر کر سکتے ہیں کہ آپ سچ میں مجھے پیار کرتے ہیں”

زمل کے بولنے پر درید لمبا سانس کھینچ کر اسے دیکھنے لگا

“بہت بڑی فلم ہوگئی ہو تم زیادہ ہی ڈائیلاگز بولنے نہیں آ گئے ہیں تمہیں، انسان بن جاؤ۔۔۔ اس ڈریسنگ میں میں تمہیں اس وقت باہر لے کر ہرگز نہیں جاؤ گا جیکٹ لے کر باہر آؤ”

درید اس کے بلیک کیپری اور ہاف سلیوز ٹاپ کو دیکھتا ہوا بولا اور زمل کے کمرے سے باہر نکل گیا زمل جلدی سے جیکٹ پہننے لگی

“ہم کار میں نہیں جائیں گے دید،، میں پہلے ہی آپ کو بتا رہی ہوں اپنی ہیوی شیوی بائیک نکال لیں پلیز”

درید جو کہ کار کی طرف بڑھ رہا تھا زمل کی اگلی فرمائش پر ایک مرتبہ پھر گھور کر اس کو دیکھنے لگا

“اتنی فرمائشوں سے بہتر یہی تھا کہ قینچی اٹھا کر تم بھی میرے بالوں پر چلا دیتی اور اپنا بدلا لے لیتی”

وہ زمل کے پاس آتا ہوا بولا اور اس کی جیکٹ کی زپ بند کرتا ہوا اپنی بائیک کی طرف بڑھ گیا۔۔۔ درید نے بائیک اسٹارٹ کی تو زمل لڑکیوں کی طرح بیٹھنے کی بجائے لڑکوں والے اسٹائل درید کے پیچھے بائیک پر بیٹھ گئی

“معلوم نہیں تمہیں آگے جاکر عقل آئے گی بھی کہ نہیں”

وہ صرف عمر میں بڑھ رہی تھی مگر اس کے ہر انداز سے لاپرواہی چھلکتی تھی تبھی درید اس کی طرف گردن موڑ کر اس سے بولا

“میری عقل سے آپ کو یا خود مجھ کو کیا لینا دینا مجھے تو چلاتے ہی آپ اپنی عقل سے ہے،، اب آگے دیکھ کر بائیک چلائیں”

ٰزمل نے بولنے کے ساتھ ہی دونوں ہاتھ درید کی کنپٹی پر رکھ کر اس کے سر کو آگے گھمایا تو وہ بھی ہنس دیا

“بائیک چلانی ہے یا پھر ہوا میں اُڑانی ہے”

وہ دونوں ہاتھوں سے درید کی کمر کو پکڑے بائیک پر بیٹھی تھی تب درید ایک بار پھر زمل سے پوچھنے لگا

“یہ آپ کی چوائس ہے کہ آپ مجھے کس انداز میں امپریس کرنا پسند کریں گے،، ڈیسنٹ بن کر یا پھر ہیرو بن کر”

زمل تیز آواز میں درید سے بولی تو اس کی بات کا مفہوم سمجھ کر درید نے بائیک کی اسپیڈ اتنی تیز کردی کہ زمل باقاعدہ چیخنے لگی

****

“اب تم میرے کمرے میں کیا کر رہی ہو، پیٹ بھر گیا ناں اب جا کر اپنے کمرے میں سو جاؤ”

تھوڑی دیر پہلے وہ دونوں باہر سے آئے تھے درید لیپ ٹاپ میں موجود اپنا اسائنٹمنٹ چیک کر رہا تھا تب زمل دوبارہ اس کے روم میں آئی، درید گھڑی میں ٹائم دیکھتا ہوا اس سے بولا جہاں ساڑھے چار بج رہے تھے

“نیند نہیں آ رہی ہے مجھے، اب آپ اور میں مووی دیکھیں گے کوئی اچھی سی”

زمل بیڈ پر درید کے برابر میں بیٹھتی ہوئی اس سے بولی

“زمل ہوش میں آ جاؤ آدھی رات گزر چکی ہے یار، جاؤ اپنے کمرے میں سونے کی کوشش کرو”

درید باقاعدہ اس کو آنکھیں دکھاتا ہوا سختی سے بولا جس کا اثر لیے بغیر وہ خاموشی سے درید کو دیکھ رہی تھی

“نکال چکے ہیں آج کا غصہ آپ میرے اوپر،، اب آپ یہ غصہ بعد کے لیے سنبھال کر رکھیں”

زمل درید سے بولتی ہوئی مزید اس کے قریب ہو کر بیٹھی اور لیپ ٹاپ کا رخ اپنی طرف کر کے اسکرین پر موجود اپلیکیشن کلوز کرنے کے بعد اس نے مووی لگادی

درید خاموشی سے اس کی کاروائی دیکھ رہا تھا مووی لگانے کے بعد وہ درید کا چہرہ اپنی طرف سے ہٹا کر لیپ ٹاپ کی طرف کرتی ہوئی خود بھی مووی دیکھنے لگی مگر آدھے گھنٹے بعد جب اس کا سر درید کے کندھے سے ٹکرایا تب درید کو اندازہ ہوا کہ زمل مووی دیکھتے ہوئے سو چکی تھی

“زمل اٹھو۔۔۔ اپنے کمرے میں جا کر سؤو۔۔۔ زمل”

درید لیپ ٹاپ ایک طرف رکھ کر اس کا کندھا ہلاتا ہوا بولا

“دید تنگ مت کریں سونے دیں پلیز”

وہ نیند میں بولتی ہوئی باقاعدہ بیڈ پر لیٹ چکی تھی درید غصے میں اس کو گھورنے لگا کیوکہ وہ پچھلے تین گھنٹے سے اس کو تنگ کر رہی تھی اور اب الٹا وہ اس سے کہہ رہی تھی کہ تنگ مت کریں

“دل تو چاہ رہا ہے تمہیں اپنے کمرے سے اٹھا کر باہر پھینک دو”

درید نے بولتے ہوئے زمل کو بازوؤں میں اٹھا لیا اور اسے اس کے کمرے میں لٹانے کے بعد درید اس پر کمفرٹر ڈالنے لگا۔۔۔ اس کی نظریں بھٹک کر زمل کے گلابی ہونٹوں پر ٹک گئی جنھیں دیکھنے کے بعد، اسے دل میں مچلتی خواہش کو دبانا مشکل مرحلہ لگنے لگا

“کیو میرے جذبوں سے اتنی انجان ہو۔۔۔ کیو اپنے دید کی محبت کو سمجھ نہیں پاتی، بہت مشکلیں پیدا کر دیتی ہے میرے لیے تمھاری یہ بےخبری”

درید زمل کے ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگائے اپنے دوسرے ہاتھ کی انگلیاں اس کے گال پر پھیرتا ہوا۔۔۔ وہ اپنے دل میں زمل سے مخاطب تھا

وہ اپنا چہرہ اس کے چہرے کے قریب جھکا کر اس کے ہونٹوں کو کسی پیاسے صحرا کی ماند دیکھنے لگا۔۔۔ درید چاہتا تو وہ زمل کی نیند سے فائدہ اٹھا کر اپنے ہونٹوں کی پیاس بجھا بھی سکتا تھا مگر وہ ایسا کوئی بھی عمل کرکے اس کے کچے ذہن پر کوئی غلط اثر نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔۔۔ اس لیے اس پر کمفرٹر ڈالنے کے بعد بیڈ سے اٹھ کر اس کے کمرے سے نکل گیا

“تم اس وقت زمل کے کمرے میں کیا کر رہے ہو”

وہ زمل کے کمرے کا دروازہ بند کرنے لگا تب تابندہ اپنے کمرے سے نکلتی ہوئی درید کو دیکھ کر حیرت زدہ ہو کر اس سے پوچھنے لگی۔۔۔ درید نے مڑ کر اسے دیکھا شاید وہ بھی نیند سے ابھی جاگی تھی

“آپ کو کیا لگتا ہے میں کیا کرنے آیا ہونگا اس ٹائم زمل کے کمرے میں”

درید الٹا تابندہ کے پاس آ کر اس سے سوال پوچھنے لگا تابندہ غصے میں دانت پیستی ہوئی بولی

“اگر تم نے میری بیٹی کے ساتھ کچھ غلط کرنے کی کوشش بھی کی تو”

تابندہ انگلی اٹھا کر اسے غصے میں وارن کرنے لگی تھی تب درید اسکی بات کاٹتا ہوا بیچ میں بول اٹھا

“میں نیچ اور گرا ہوا انسان نہیں ہوں جو اپنی محبت کے ساتھ کسی جائز رشتے کے بغیر کوئی بھی ایسا گھٹیا قدم اٹھاؤ جس سے میری محبت کی توہین ہو۔۔۔ میں اعظم بخش کا خون ہونے کے باوجود ان کی جیسی طبعیت نہیں رکھتا سمجھ میں آیا آپ کے”

درید تابندہ پر بہت کچھ جتا کر اپنے کمرے سے چلا گیا تابندہ صدمے کی حالت میں اس کی باتوں کا مطلب سمجھنے لگی

وہ کیا کچھ جانتا تھا اعظم اور اس کے بارے میں اور وہ اپنی محبت کسے کہہ رہا تھا زمل کو؟ ؟؟ ایسا کب ہوا۔۔۔ کیا زمل بھی؟ ؟ اسے کیو کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔ ۔۔۔ تابندہ اپنا سر پکڑتی ہوئی واپس کمرے میں چلی گئی

****

“اتنی دیر لگا دی اسپتال آنے میں، کہاں موجود تھی کب سے انتظار کر رہی ہوں میں تمہارا”

ٰزمل اسپتال میں آئی تو پریشان سی تابندہ اس کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی

“ٹریفک میں پھنس گئی تھی مما یونیورسٹی سے سیدھی ہی آرہی ہوں آپ بتائیے ڈیڈ کی طبیعت اب کیسی ہے، کیا کہہ رہے ہیں ڈاکٹرز”

زمل تابندہ کا پریشان چہرہ دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی۔۔۔ چار دن سے اعظم ہاسپٹل میں ایڈمٹ تھا۔۔۔ آج صبح سے ہی اس کی طبیعت خاصی خراب تھی جبھی تابندہ نے زمل کو یونیورسٹی سے سیدھا اپنے پاس ہاسپٹل میں بلایا تھا

“ہارٹ مکمل طور پر صحیح تو ورک نہیں کر رہا ہے اب بریتھینک میں بھی کافی پرابلم ہے تھوڑی دیر پہلے ڈاکٹرز کہہ رہے تھے اگر شام تک طبیعت نہیں سنبھلی تو وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑ سکتی ہے”

تابندہ تھکے ہوئے انداز میں زمل کو بتانے لگی اور رو پڑی زمل نے آگے بڑھ کر تسلی دینے والے انداز میں تابندہ کو گلے لگایا ساتھ خود کو رونے سے باز رکھا۔۔۔۔ اعظم کی حالت پر اس کا اپنا دل دکھی تھا

“آپ پریشان مت ہوں مما انشااللہ ڈیڈ ٹھیک ہوجائیں گے”

وہ تابندہ کو تسلی دیتی ہوئی بولی مگر جس طرح کی کنڈیشن تابندہ اسے بتا رہی تھی وہ واقعی مایوس کن تھی

“پریشان کیسے نہ ہو اعظم کے علاوہ کون ہے ہمارا۔۔۔۔ کس طرح اشاروں سے وہ درید کے بارے میں پوچھ رہے تھے، کب سے ان کو تسلی دیئے جارہی ہو کہ درید آنے والا ہے ان کے پاس”

تابندہ آنسو صاف کرتی ہوئی زمل سے بولی تو زمل تابندہ سے الگ ہو کر صوفے پر جا بیٹھی اور خاموشی سے تابندہ کو دیکھنے لگی

“بات ہوئی تھی آپ کی دید سے، ان کا واقعی پاکستان آنے کا پروگرام بن رہا ہے”

اپنے تیز دھڑکتے دل پر قابو پاتے ہوئے وہ تابندہ سے درید کی آمد کے بارے میں پوچھنے لگی

“بات کرنا پسند ہی کہا کرتا ہے وہ مجھ سے، جب اسے اعظم کا اسپتال میں ایڈمٹ ہونے کا بتایا تھا تب اس نے لگے بندھے انداز میں ایک بار مجھ کو کال کرکے اعظم کے بارے میں پوچھا تھا اور اپنے آنے کا تو کچھ بتایا بھی نہیں”

تابندہ تھکے ہوئے انداز میں زمل کو بتانے لگے

“بہت ہی اچھا ہوگا دید واپس نہ آئیں تو”

زمل کے منہ سے بے ساختہ نکلا تو تابندہ اپنی بیٹی کو دیکھنے لگی

“کیسی بات کر رہی ہو، اعظم انتظار کر رہے ہیں اس کا۔۔۔ اتنے سال کا عرصہ گزر چکا ہے اب تمہیں خود بھی سب کچھ بھول جانا چاہیے”

تابندہ کی بات پر زمل اسے دیکھنے لگی تبھی نرس روم میں ان دونوں کے پاس آئی

“آئی سی یو میں آپ کے پیشینٹ کی حالت سنبلھنے میں نہیں آرہی ہے۔ ۔۔ ڈاکٹر ظہیر آپ کو اپنے روم میں بلا رہے ہیں”

نرس کے اطلاع دینے پر تابندہ اور زمل ڈاکٹر ظہیر کے روم کی طرف جانے لگی

*****