Deewangi By Zeenia Sharjeel NovelR50394 Deewangi (Episode 5)
No Download Link
Rate this Novel
Deewangi (Episode 5)
Deewangi By Zeenia Sharjeel
وہ ابھی گھر لوٹا ہی تھا تب سیٹنگ روم سے آتی ہوئی اجنبی آوازوں نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا،، درید نے سٹنگ روم کا رخ کیا جہاں اعظم اور تابندہ کے علاوہ ایک پچاس سالہ مرد اور عورت،، اور ایک نوجوان شخص بیٹھا ہوا تھا
“آؤ درید ان سے ملو یہ مسٹر سراج ہیں اور یہ ان کی مسسز اور یہ سراج صاحب کے صاحبزادے”
درید کے سٹینگ روم میں قدم رکھنے پر سب کی نظریں اس پر مرکوز ہوئی جبھی اعظم نے درید کو وہاں آنے کی دعوت دینے کے ساتھ گھر میں آئے ہوئے گیسٹ کا اس سے تعارف کروایا۔۔۔ درید ان لوگوں سے مل کر صوفے پر بیٹھ گیا مگر یہ چہرے اس کے لئے اجنبی تھے وہ ان تینوں کو نہیں پہچانتا اور نہ اسے ان لوگوں کے آنے کا مقصد معلوم تھا اس لیے خاموش بیٹھا رہا
“تو پھر آپ دونوں نے اپنی بیٹی کے بارے میں کیا سوچا ہے جواب نہیں دیا آپ لوگوں نے۔۔ ہم عادل کو اپنے ساتھ جبھی لے کر آئے تھے تاکہ آپ دونوں عادل کو بھی دیکھ لیں اور ہماری فیملی تو آپ کے سامنے ہی ہے”
سراج صاحب دوبارہ سے باتوں کا سلسلہ جوڑتے ہوئے آعظم سے گویا ہوئے تو درید کنفیوز ہو کر اعظم کو دیکھنے لگا۔۔۔ خود اعظم بھی درید کو دیکھ رہا تھا اس لیے سراج صاحب کی بجائے درید کو ان لوگوں کے یہاں آنے کا مقصد بتانے لگا
“دراصل جس اکیڈمی میں چند ماہ پہلے زمل نے ایڈمیشن لیا تھا وہ سراج صاحب کی اکیڈمی ہے اور عادل زمل کے ٹیچر ہیں۔۔۔ ہماری بیٹی عادل کو اور ان کی فیملی کو پسند آئی ہے اسی سلسلے میں یہ لوگ ہم سے بات کرنے آئے ہیں مطلب زمل رشتہ لے کر”
اعظم درید کو بتا رہا تھا اور اعظم کے ساتھ بیٹھی ہوئی تابندہ خاموشی سے درید کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہی تھی۔۔۔ اعظم کی بات مکمل ہونے پر درید اٹھا اور عادل کے پاس آیا
“اٹھو”
عادل کے ہاتھ سے چائے کا کپ لے کر واپس ٹیبل پر رکھتا ہوا وہ عادل سے بولا تو کمرے میں ایک دم سکوت طاری ہو گیا سب کی نگاہیں درید پر مرکوز تھی عادل اٹھ کر درید کے مقابل کھڑا ہو گیا
“اب تک اپنی اکیڈمی کی کتنی لڑکیوں کے گھر اپنے ماں باپ کو لے کر ان کا رشتہ لینے کے لیے جا چکے ہو”
درید عادل سے نارمل انداز میں پوچھنے لگا تو خجالت سے عادل کا چہرہ سرخ ہو گیا
“درید”
اعظم کے سختی سے ٹوکنے پر درید اعظم کی بجائے تابندہ کو دیکھنے لگا
“بتایا نہیں آپ نے ڈیڈ کو میرے خیالات اور ارادوں کے بارے میں زمل کو لے کر کیا سوچتا ہو آپ تو واقف ہیں ناں،، کیسے آنے دیا آپ نے ان لوگوں کو یہاں پر زمل کے لیے سب کچھ جاننے کے باوجود،۔۔ دھکا دے کر نکالا کیوں نہیں آپ نے ان لوگوں کو”
درید غصے میں تابندہ کو دیکھتا ہوا بولا تو وہ مزید شرمندہ ہونے لگی مگر ان لوگوں کا لحاظ کر کے خاموش رہی
“ہم یہاں شریفوں کی طرح عزت دار طریقے سے آپ کی بیٹی کا رشتہ لے کر آئے ہیں اور آپ کا یہ بیٹا مسلسل ہماری توہین کر رہا ہے”
سراج صاحب خفا ہوتے ہوئے اعظم کو دیکھ کر بولے مگر اعظم کے معظرت کرنے سے پہلے ہی درید سراج صاحب کی طرف رخ کرتا ہوا ان سے بولا
“توہین محسوس کر کے بھی آپ لوگ مسلسل یہاں پر بیٹھے ہوئے ہیں میرے خیال میں آپ لوگوں کو یہاں سے چلے جانا چاہیے ناشتہ تو کر ہی چکے ہیں”
درید لوازمات سے سجی ہوئی ٹیبل کی طرف دیکھتا ہوا طنزیہ انداز میں بولا تو سراج صاحب سمیت ان کی وائف اور بیٹا وہاں سے اٹھ کر چل دیئے
*****
“زمل ابھی پندرہ سال کی ہوئی ہے میں اس کی اتنی جلدی شادی ہرگز نہیں کرو گا لیکن گھر آئے گیسٹ کے ساتھ یہ سلوک، اس فضول حرکت کے پیچھے کیا مقصد تھا تمہارا کیوں اس طرح سے انسلٹ کر کے نکالا تم نے ان لوگوں کو جواب دو مجھے درید”
ان لوگوں کے جانے کے بعد اعظم غصے میں درید سے پوچھنے لگا جبکہ تابندہ اس کی حرکت پر کھولتی ہوئی درید کو دیکھ رہی تھی
“اس گھر میں اور بھی کوئی زمل کا رشتہ لے کر آئے گا تو میں ایسے ہی اس کی انسلٹ کروں گا کیونکہ زمل اس گھر سے کہیں نہیں جائے گی، وہ ہمیشہ یہی رہے گی میری وائف بن کر”
درید کو اعظم سے یہ سب بولتے ہوئے نہ ہی کوئی شرمندگی ہوئی تھی نہ ہی کوئی ہچکچاہٹ مگر اس کی بات سن کر اعظم ضرور شاکڈ ہوا تھا کیونکہ تابندہ نے درید کے خیالات کے بارے میں اعظم کو بتایا تھا اور نہ ہی اس بات کا کہ درید ان دونوں کی شادی سے پہلے کی پسندیدگی کے بارے میں بھی باخبر تھا
“اپنے ہی گھر کی لڑکی پر نظر رکھتے ہوئے شرم نہیں آئی تمہیں، جو تم اپنا منہ کھول کر بےشرموں کی طرح ایسی بات کر رہے ہو وہ بھی اپنے باپ سے”
اعظم جب کچھ بولنے کے قابل ہوا تو درید کو شرمندہ کرتا ہوا بولا
“نہیں ڈیڈ میں زمل پر نظر رکھ کر ہرگز شرمندہ نہیں ہوں کیونکہ نہ تو وہ میرے دوست کی بیوی ہے نہ ہی کسی دوسرے کی بیوی ہے۔۔۔ ہاں میں نے زمل پر اپنے خیالات کا اظہار نہیں کیا ہے کیونکہ اس کی عمر ان سب باتوں کو سوچنے یا سمجھنے کی نہیں ہے اور آپ دونوں کو اپنے خیالات کے متعلق اس لئے آگاہ کر رہا ہو تاکہ دوبارہ اس طرح کوئی بھی دوسرا منہ اٹھا کر زمل کا رشتہ مانگنے یہاں آ جائے تو آپ دونوں پھر خود ہی اسے انکار کر دیں”
درید بغیر غصے کے بالکل نارمل انداز میں اعظم کو دیکھتا ہوا بولا مگر اعظم کی بولتی صرف اس وجہ سے بند ہو چکی تھی کہ اس کے بیٹے کو ضرور اس کے ماضی میں تابندہ سے تعلق کے بارے میں علم تھا جبھی وہ اعظم پر گہرے طنز کر رہا تھا اعظم بالکل خاموش تھا مگر اب کی بار تابندہ خاموش نہیں رہ سکی
“کیوں انکار کردیں کہیں اور زمل کے رشتے سے، ایک ماں ہونے کی حیثیت سے مجھے زیادہ اچھی طرح معلوم ہے کہ میری بیٹی کے لئے آگے زندگی میں کون سا شخص مناسب رہے گا اور سراج صاحب کے بیٹے عادل میں ایسی کوئی برائی نہیں ہے جو اس کے رشتے کو ریجیکٹ کیا جائے، وہ پڑھا لکھا گوار نہیں ہے اس میں بڑوں سے بات کرنے کی تمیز اور تہذیب موجود ہے وہ زمل کیلئے ہر لحاظ سے بہتر ہے کم ازکم تم سے تو بہتر ہی ہے”
تابندہ جو اب تک خاموش تھی درید پر گہرا طنز کرتی ہوئی بولی جسے سن کر درید غصے میں اپنے جبڑے بھینچتا ہوا تابندہ کے پاس آیا
“اگر سامنے والا عزت کے قابل ہو تو اس کو عزت دی جاتی ہے میرا تو یہ ماننا ہے خیر اس بات کو جانے دیں کیونکہ یہاں بات زمل کی ہو رہی ہے۔۔۔ تو یہ بات اچھی طرح اپنے ذہن میں بٹھا لیں اگر آپ نے زمل کا رشتہ کہیں اور طے کرنے کی کوشش کی، شادی تو بہت دور کی بات ہے صرف رشتہ کرنے پر ہی میں اس لڑکے کو جان سے مار ڈالوں گا۔۔۔ یہ میری بدقسمتی ہے کہ زمل آپ کی بیٹی ہے جسے میں اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں اس لیے آپ کے لیے بہتر یہی ہوگا کہ آپ اس بات کو انا کا مسئلہ بنائے بغیر سکون سے ایکسپیٹ کرلیں ورنہ خود ہی آگے جا کر آپ کے لئے مشکل ہو جائے گی اور ہاں آج کے بعد زمل اکیڈمی نہیں جائے گی، وہ اکیڈمی سے واپس آئے تو یہ بات اس کو اچھی طرح سمجھا دیجئے گا اب دوبارہ سے اس کو میں خود پڑھا دیا کروں گا”
درید تابندہ کو اچھی طرح سے ہر بات کے لیے وارن کرتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا تابندہ جو مکمل ضبط کے ساتھ اس کی بات سن رہی تھی صوفے پر خاموش بیٹھے ہوئے اعظم کو دیکھنے لگی
“آپ کا بیٹا کیا کچھ کہہ کر جا چکا ہے اور آپ اتنے آرام سے اس کی باتیں سن رہے ہیں اعظم،، وہ کہہ رہا تھا کہ اگر ہم نے زمل کا رشتہ کہیں اور طے کیا تو وہ اس لڑکے کو جان سے مار ڈالے گا۔۔۔ اعظم یہ درید مجھے بول کر گیا ہے سنا آپ نے،، میں آپ کو بتا رہی ہو اعظم میں اپنی بیٹی کی شادی اپنی مرضی سے کرونگی،، آپ خاموش کیوں ہیں کچھ بولتے کیوں نہیں”
تابندہ خود بھی اتنی جلدی زمل کے رشتے کے حق میں نہیں تھی مگر درید کی باتیں اس بری طرح سلگا گئی تھی اس لیے تیز آواز میں اعظم کے سر پر کھڑی ہو کر اس سے بولی تو اعظم نے سر اٹھا کر تابندہ کو دیکھا
“اسے ہم دونوں کے بارے میں کیسے معلوم ہوا تابی”
اعظم کے پوچھنے پر تابندہ غصے میں بغیر کچھ بولے اپنا سر پکڑ کر صوفے پر بیٹھ گئی یقیناً اعظم درید کے منہ سے شادی سے پہلے تابندہ سے قائم تعلق والی بات پر گلٹ فیل کررہا تھا
“کیا اسے ثمن کے بارے میں۔۔۔”
اعظم کے کچھ بولنے سے پہلے تابندہ سر اٹھاتی ہوئی بھنا کر بولی
“مجھے نہیں معلوم اعظم کہ درید کو ہم دونوں کے بارے میں کہاں سے خبر ہوئی یا پھر اسے ثمن کی موت کی اصل وجہ معلوم ہے کہ نہیں لیکن آپ میری یہ بات اچھی طرح سن لیں میں زمل کی شادی درید سے ہرگز نہیں کروں گی”
تابندہ اعظم کو غصے میں بولتی ہوئی صوفے سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئی
****
اعظم کے انتقال کو آج تیسرا دن تھا جس وقت ڈاکٹرز نے اعظم کی ڈیتھ کا بتایا تھا تابندہ کو تو جیسے سکتہ طاری ہو گیا تھا اس کا سکتہ اعظم کے ڈیتھ باڈی کو دیکھ کر ٹوٹا تھا زمل نے ہی بہت مشکلوں سے اپنے آپ کو اور ساتھ تابندہ کو بھی سنبھالا تھا ان دونوں کو نہیں معلوم تھا کہ درید کو اعظم کی موت کی خبر سے کسی نے آگاہ بھی کیا ہے کہ نہیں۔۔۔ تابندہ نہیں جانتی تھی کہ درید پاکستان واپس آنے کا ارادہ رکھتا ہے کہ نہیں، بس وہ یہ جانتی کہ تھوڑی دیر پہلے زمل کی سہیلی ثمرن اس سے پرمیشن لے کر زمل کو اپنے ساتھ تھوڑی دیر کے لئے اپنی کار میں ڈرائیو پر لے کر گئی تھی تاکہ زمل کی طبعیت بہل جائے۔۔۔ باہر کسی کی آمد پر تابندہ بیڈ پر اٹھ کر بیٹھی اور اپنے کمرے سے باہر نکلی تو اس نے ہال کے دروازے پر درید کو کھڑا پایا
درید نے تابندہ کو دیکھ کر ہاتھ میں موجود سوٹ کیس نیچے رکھا تابندہ اسے چار سال کے بعد اپنے سامنے دیکھ رہی تھی تابندہ نے دیکھا اس کی آنکھیں بری طرح سرخ ہو رہی تھی وہ سرخ آنکھوں سے تابندہ سے چند قدم فاصلے پر کھڑا اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ تابندہ چلتی ہوئی درید کے پاس آئی اور روتی ہوئی اس کے گلے لگ گئی
“آعظم ہمیں چھوڑ کر چلے گئے درید، تمہارے ڈیڈ ہمہیں چھوڑ کر چلے گئے”
ان دونوں کی شروع سے ہی نہیں بنتی تھی لیکن اس وقت ان دونوں کا غم برابر تھا تبھی تابندہ اس کے گلے لگ کر روتی ہوئی بولی، بہت ضبط کے باوجود درید کی آنکھوں سے اشک رواں ہونے لگے
“وہ تمہیں یاد کرتے کرتے چلے گئے اس دنیا سے،۔۔ کیا ہوتا اگر تم ان کی زندگی میں آ کر انہیں ایک بار اپنا چہرہ دکھا دیتے وہ تمہارا انتظار کرتے کرتے چلے گئے ہمیشہ کے لئے”
تابندہ ابھی بھی درید کے گلے لگ کر روتی ہوئی اس کے دیر سے آنے کا شکوہ کر رہی تھی اور تابندہ کے الفاظ درید کو مزید تڑپا رہے تھے، اعظم اس کا باپ تھا۔۔ درید کو اپنے باپ کے مرنے کا اور آخری وقت میں اس کا چہرہ نہ دیکھنے پر بے حد افسوس تھا،، تبھی وہ تابندہ کو الگ کرتا ہوا اس سے بولا
“پیپر ورک میں کچھ ایشو آگیا تھا جس کے بنا پر فوری طور پر یہاں نہیں آ سکا، اپنی اس وقت کی بدنصیبی کو میں چاہ کر بھی زندگی بھر نہیں بھلا سکوں گا، کہ میں ڈیڈ کے آخری وقت میں ان کے پاس نہیں تھا۔۔۔ آپ کو کیا لگتا ہے تکلیف نہیں ہو رہی ہے مجھے، جانتی ہیں آپ اس وقت میرے دل کی کیا کیفیت ہو رہی ہے، میں کیسا محسوس کر رہا ہوں”
شاید اپنی زندگی میں وہ پہلی بار اپنے سامنے کھڑی اپنی سوتیلی ماں کو حرف بہ حرف سچائی بتا رہا تھا بلکہ اسے اپنے دل کی کیفیت بیان کر رہا تھا۔۔۔ اس سے پہلے درید اپنا آنسوؤں سے تر چہرہ صاف کرتا تھا تابندہ اپنے دوپٹے سے اس کے آنسو پہنچنے لگی
“میں جانتی ہوں تم صحیح کہہ رہے ہوں گے، میں تمہاری کیفیت سے بے خبر نہیں ہے بیٹا۔۔۔ لازمی تمہیں تکلیف ہو رہی ہوگی اعظم ڈیڈ تھے تمہارے ان کے سوا کون سا رشتہ ہے اب دنیا میں”
تابندہ کے منہ سے بے ساختہ نکلا اس وقت اسے درید پر ترس آ رہا تھا چھوٹی سی عمر میں اس نے اپنی ماں کو کھو دیا تھا اور آج باپ بھی اس کے پاس موجود نہیں تھا
“زمل”
درید تابندہ کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا تو تابندہ زمل کا نام اس کے منہ سے سن کر خاموشی سے درید کو دیکھنے لگی تابندہ کو سمجھ میں نہیں آیا وہ اسے بتا رہا ہے یا پھر کچھ یاد دلا رہا ہے
“کہاں ہیں وہ نظر کیوں نہیں آ رہی”
درید اب تابندہ کی طرف دیکھنے کی بجائے زمل کے کمرے کا بند دروازہ دیکھ کر تابندہ سے اس کے بارے میں پوچھنے لگا
“وہ دراصل زمل۔۔۔ زمل کی دوست اسے تھوڑی دیر کے لئے اپنے ساتھ باہر لے کر گئی ہے”
تابندہ کو یہ بات کہتے ہوئے دشواری محسوس ہوئی تھی اب جس انداز میں درید اس کو دیکھ رہا تھا وہ مزید درید کو دیکھ کر جلدی سے بولی
“میں اچھی طرح جانتی ہوں ثمرن کو بہت اچھی طبیعت کی بچی ہے سیدھی سادی سی،، فیملی کو بھی اچھی طرح جانتی ہوں پڑھے لکھے صاف ستھرے لوگ ہیں، بس زمل تھوڑا بہتر فیل نہیں کر رہی تھی تو میرے کہنے پر ہی ثمرن اسے اپنے ساتھ لے کر گئی تھی میں کال کرتی ہوں زمل کو،، تم بتاؤ فلائٹ میں کچھ لیا تھا یا پھر کچھ کھاؤ گے”
اپنی طرف سے تابندہ نے درید کو مکمل طور پر تسلی دی تھی جو نہ جانے اسے ہوئی بھی تھی کہ نہیں وہ درید کا خیال کرتے ہوئے اس سے کھانے کا پوچھنے لگی
“بھوک نہیں ہے مجھے، آپ اپنے کمرے میں جا کر ریسٹ کریں”
درید دیوار پر ٹنگی ہوئی گھڑی میں ٹائم دیکھتا ہوا تابندہ سے بولا اور باہر کی طرف جانے لگا
“مگر تم اس وقت کہاں جا رہے ہو”
تابندہ اس کو یوں اچانک باہر جاتا ہوا دیکھ کر ایک دم پوچھنے لگی
“قبرستان”
درید مڑ کر تابندہ کو بولتا ہوا اپنا ہینڈ کیری وہی چھوڑ کر گھر سے باہر نکل گیا
تابندہ کو معلوم تھا وہ اس کے روکنے سے یا پھر صبح جانے کا کہنے سے کبھی اس کی بات نہیں مانے گا ویسے ایک طرح سے تو درید کا باہر جانا ہی مناسب تھا کیونکہ تابندہ کو معلوم تھا کہ زمل اپنا موبائل گھر پر ہی بھول گئی تھی اچھا ہوتا کہ وہ درید کے گھر لوٹنے سے پہلے ہی واپس گھر آجاتی۔۔۔ تابندہ واقعی اپنے آپ کو تھکا ہوا محسوس کر رہی تھی اس لئے اپنے کمرے میں جانے لگی
*****
