Dulhan by Nasir Hussain NovelR50403 Dulhan Episode 8
Rate this Novel
Dulhan Episode 8
Dulhan by Nasir Hussain
صبح صبح اٹھ کر اس نے نماز قرآن پاک کی تلاوت کے بعد ناشتہ بنایا…وہ ابهی تک گہری نیند میں تها وہ کافی دیر تک اس کے چہرے کو دیکهتی رہی ..وہ اس وقت نیند میں ساری دنیا سے بے خبر بہت معصوم لگ رہا تها…اس پر سے نظریں ہٹا کر اس نے الماری سے اس کے کپڑے نکالے اور وہ ڈسڑب نہ ہو اس لیے انہیں استری کرنے دوسرے کمرے میں لے گئی……….
کل صبح تو جناب نے اس کی استری کی ہوئی شرٹ نہیں پہنی لیکن آج وہ اس کے سارے شرٹس نکال لائی تهی. .وہ کوئی نہ کوئی شرٹ تو ضرور پہنے گا….اگر وہ ضدی ہے تو اسے راہ راست پہ لانے کے لیے وہ بھی ضدی بن جائے گی…
اس کا وہ شوہر محترم اس کی استری کی ہوئی شرٹ نہیں پہنتا اس کے بنائی ہوئی بریانی نہیں کهاتا لیکن رات کو دو بجے بریانی بڑے شوق سے کهائی جاتی ہے..اس سے نظریں بچا بچا کر قیمہ اپنی پلیٹ میں ڈالا جاتا ہے …اس کے ہاتھوں کی چائے پی جاتی ہے…
کب تک بچیں گے آپ شہری بابو…..وہ استری کرتے ہوئے سوچ رہی تهی…اس کے سارے کے سارے کپڑے استری کرنے کے بعد وہ انہیں واپس الماری میں رکھ آئی وہ بیدار ہو چکا تها کیونکہ واش روم سے آواز آ رہی تهی…وہ نیچے کچن میں اس کے لیے ناشتہ لگانے چلی آئی……………
واش روم سے نکل کر اس نے الماری کهولی اور ایک شرٹ نکال کر پہننے لگا تب اسے احساس ہوا یہ اس لڑکی نے استری کی…اس نے ایک اور شرٹ نکالی وہ بھی استری شدہ ملی…پهر تیسری چوتهی حالانکہ اس کے سارے کپڑے استری ہو چکے تهے….اسے تهوڑا غصہ بھی آیا اور حیرت بھی ہوئی جانے کب اٹھ کر اس نے یہ سارے کپڑے استری کیے………….
لیکن وہ بھی ایک نمبر کا ضدی تها اس نے وہی پرانی شرٹ پہن لی جو اس نے کل سے پہنی ہوئی تھی. ..
وہ جب سیڑھیاں اتر کر نیچے جا رہا تها تو اس نے دیکها وہ اسے غور سے دیکھ رہی ہے اور نہ صرف دیکھ رہی ہے بالکل مسکراہٹ ضبط کرنے کے لیے منہ پہ ہاتھ رکهے ہوئے ہے …وہ قطعی طور پر اسے نظر انداز کرتا ہوا کهانے کی ٹیبل پہ جا کر بیٹھ گیا. .وہ اندر سے اس کے لیے ناشتہ لے آئی…آج اس نے خود ناشتہ نہیں بنایا جب اس کے ہاتھ کی بنی بریانی وہ کها سکتا ہے چائے پی سکتا ہے تو ناشتہ کیوں نہیں. …..؟
وہ ناشتہ رکھ کر اندر چلی گئی جبکہ وہ آرام سے ناشتہ کرنے لگا ..ناشتے کے بعد وہ آفس کے لیے نکل گیا……….
جبکہ وہ ٹیبل پر سے برتن سمیٹنے لگی..سارے کام مکمل کرنے کے بعد اس ڈرتے ڈرتے ٹی وی آن کیا .. ٹی وی خوبصورت تصویریں دیکھ کر وہ وہیں صوفے پہ بیٹھ گئی. .کوئی گانوں کا چینل لگا تها وہ حیران ہو کر پوری طرح ٹی وی پہ متوجہ تهی…وہ ہیرو اور ہیروئین کو بہودہ ڈانس کرتے دیکھ کر انہیں دل ہی دل میں ملامت کر رہی تھی اور کافی شرما بھی رہی تهی حالانکہ گهر میں اس وقت کوئی بھی نہیں تھا پھر بھی وہ بار بار ادھر ادھر دیکھ رہی تھی. ……..
کل افراہیم نے جو اسے چینل بدلنا سکهایا تو انہی بٹنوں کو دباتے ہوئے وہ مختلف چینلز تبدیل کرتی رہی..اچانک فون کی گهنٹی پورے گهر میں گونج اٹهی اس نے حیران ہو کر پیچھے دیکها اور نظر انداز کر دیا. …
ٹرن….ٹرن….ٹرن….
ایک بار گهنٹی سنائی دی اس بار وہ بدک کر صوفے سے کهڑی ہو گئی گهبراہٹ کے مارے اسے پسینہ آ گیا وہ سمجھ نہ سکی یہ ٹرن ٹرن کی آواز کہاں سے آ رہی ہے……
کہیں کوئی جن بهوت تو نہیں ہیں اس گهر میں. …وہ ڈرتے ڈرتے ادهر ادهر دیکھ رہی تھی. ….گهنٹی ایک بار پهر سنائی دی. ..اب کی بار وہ چیخ مار کر پیچھے ہٹی……..
گهنٹی مسلسل بجتی ہی جارہی تهی..اس نے آواز کا تعاقب کرنے کی کوشش کی. .تب اسے پتا چلا یہ گهنٹی کی آواز اس چهوٹے ڈبے سے آ رہی ہے…….
کچھ سوچنے پہ اسے یاد آیا ایسا ہی ایک ڈبہ اس کی سہیلی نجمہ کے گهر بهی تها جس سے وہ اپنے ابو جو سعودی عرب میں تهے ان سے بات کرتی…لیکن اس سے بات کیسے ہوتی ہے….وہ سوچ رہی تهی جبکہ گهنٹی بجی جا رہی تھی. …
اس نے درود پاک کا ورد کرتے ہوئے اس چهوٹی چیز کو اٹها ہی لیا جو اس کے اوپر رکھا تھا. ..تب اسے آواز سنائی دی……
ہیلو…..
ہیلو….
کوئی ہے…..بات کرو ….
وہ اس آواز کو پہچان گئی یہ افراہیم کی آواز تهی..
جی آپ…وہ…..اس نے کچھ کہنا چاہا جب کہ وہ اس کی بات کاٹ کر بولا ……
سنو …شام کو میرے آفس کے کچھ دوست کهانے پہ آ رہے ہیں ہوٹلوں کا کهانا وہ نہیں کهاتے اگر تم بنا سکو تو……
جی ہم بنا دیں گے. .وہ جلدی جلدی بولی….
ٹهیک ہے میں بھی جلدی آ جاوں گا. ..جو سامان ختم ہو چکا ہے وہ بتاو میں آتے وقت لے آوں گا….
اس نے سامان جو ختم ہو گیا تها وہ اسے بتائیں…اور آخر میں جب وہ پوچهنے لگا بس اور تو کچھ نہیں تب وہ بولی…..
جی وہ یہ ٹی بی بند کیسے ہوتا ہے ..اس نے چلا تو لیا اب اسے بند کرنے کا نہیں پتا …کل بھی اس نے نہیں پوچھا تھا….
اسی بٹن سے جس سے تم نے آن کیا…..اس نے سنجیدگی سے کہہ کر فون کٹ کر دیا…اس نے بهی وہ چیز دوبارہ اپنی جگہ پہ رکھ دی. ..اسے ویسے تو اس کی آواز ہمیشہ سے پسند تهی لیکن فون پہ اس کی آواز اسے ہمیشہ سے بھی زیادہ اچهی لگی اور اس کا اس طرح اسے کهانا بنانے کا کہنا یہ بات بھی اسے اچهی لگی…………
ٹی وی بند کر کے وہ سیدھا کچن میں گهس گئی.وہ سامان چیک کرنے لگی اور اپنی ضرورت کی تمام اشیا الگ کرنے لگی..کوئی مہمان پہلی بار گهر آ رہا تها اس لیے وہ کوئی بھی کمی چهوڑنا نہیں چاہتی تهی..اس نے بہت سامان استعمال کے لیے علیحدہ کر کے رکھ دیا اسے مسجد سے اذان کی آواز سنائی دی. …
سارے کام چھوڑ کر وہ نماز ادا کرنے اپنے کمرے میں چلی گئی. ..وہ نماز کو اپنی ہر ضروری سے ضروری کام پر ترجیح دیتی..اس کے ماموں نے بچپن میں ہی اسے ایک بات سکهائی تهی جو اسے نے ایک گانٹھ باندھ کر محفوظ کر لی………….
ہم انسان بھی بہت عجیب ہوتے ہیں کامیابی کو ہر جگہ ڈهونڈتے ہیں حالانکہ ہمیں دن میں دس بار آواز آتی ہے.
ِحَىَّ عَلَى الْفَلاَح
ِحَىَّ عَلَى الْفَلاَح
(آو کامیابی کی طرف )
( آو کامیابی کی طرف)
ہم اس آواز کو ہمیشہ نظر انداز کر دیتے ہیں ہم اپنے چوبیس گھنٹوں پہ مشتمل طویل دن میں سے صرف ایک گهنٹہ بهی خدا کو نہیں دے سکتے جو ہمیں اتنا کچھ دیتا ہے……وہ ہمیں نماز کی طرف بلاتا ہے ہم انکار کر دیتے ہیں اور اس کی رحمت تو دیکهو وہ پھر بھی ہمیں کهانا دیتا ہے ہماری ضروریات پوری کرتا ہے..اگر وہ ہم سے کہے آج تو آپ نے نماز نہیں پڑھی آج آپ کو کهانا کیوں دوں…؟..لیکن وہ ایسا نہیں کرتا کیونکہ دنیا کی سب سے بڑی کتاب میں ننانوے ناموں سے ایک نام رحمن بھی ہے. …………….
یہ بات اسے اس کے ماموں نے اس انداز میں سمجهائی کہ وہ دوبارہ کهبی اپنا کوئی نماز نہیں چهوڑ سکی..اور جو بھی کام کر رہی ہوتی اذان کی آواز سن کر وہ کام ادھورا چھوڑ کر نماز ادا کرنے جاتی….
نماز ادا کر کے وہ ایک بار پھر کچن میں آئی..وہ الماری میں سے خوبصورت برتن بھی نکالنے لگی اپنی طرف سے وہ جتنا سمجھ سکتی تهی اتنا کرنے لگی..اسے دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی وہ کچن سے باہر نکل آئی ..افراہیم بیگ اٹهائے اندر آ رہا تھا. .اس نے بتایا تها وہ جلدی آئے گا لیکن اتنی جلدی آئے گا یہ اس نے نہیں سوچا تها…وہ کچن میں اس کے لیے ایک گلاس پانی لے آئی ….اس نے ایک نظر پانی کو اور ایک نظر اسے دیکها اور پانی پی لیا..وہ خالی گلاس لے کر جب واپس پلٹنے لگی تو اس نے آواز دے کر اسے صوفے پہ بیٹهنے کو کہا وہ ججهکتے ہوئے بہرحال بیٹھ ہی گئی….
سنو. . میرے آفس کے کچھ دوست شام کو کهانے پہ آئیں گے وہ لوگ دس بارہ کے قریب ہوں گے..میں نہیں چاہتا ان لوگوں کے سامنے ہماری شادی شدہ زندگی کے غلط اثرات پڑیں…اس لیے میں چاہتا ہوں تم اچهے سے تیار ہو جانا …کپڑے بھی میں لا دوں گا اور ایک بات نیلے رنگ کے کپڑوں کے ساتھ کالے رنگ کی آئی شیڈ کوئی نہیں لگاتا ….او کے…….وہ غور سے اس کی بات سن رہی تهی.وہ اسے کل کے میک اپ کی بات جتا رہی تهی…….
اچها چهوڑو میں تمہیں بیوٹی پارلر لے کر جاوں گا وہیں سے تیار ہو جانا اور ابهی ان کے آنے میں کافی وقت ہے. ……
جی ..کون سا کارلر…..
کارلر نہیں بیوٹی…..بیوٹی….ب…ی…و…ٹ…ی…پا…رلر…اس نے ایک لفظ الگ الگ کر کے اسے سمجهانے کی کوشش کی. ….
ببٹی پرلر جی….؟..اس نے سوالیہ انداز میں پوچها جبکہ اس نے زور سے اپنے ماتهے پہ ہاتھ مارا….
ببٹی نہیں …بیوٹی….اچها چهوڑو…اس بات کو…..تم ان لوگوں کے سامنے کوئی بات نہیں کرو گی او کے. ..اگر تم بات کرو گی تو انہیں پتا چلا جائے گا کہ تم ان پڑھ ہو…..سلام دعا کے علاوہ اور کوئی بھی بات نہیں کرو گی تم اور سلام دعا بھی مدهم آہستہ آواز میں کرنا….ویسے نہیں جیسے فون پہ چلا چلا کر بات کر رہی تھی. .کوئی بہرہ نہیں ہوتا ..او کے ……
اس نے اپنی گردن ہلائی.. ..
اور اتنے لوگوں کا کهانا بنا لو گی. ..؟..
جی ہم بنا لیں گے ……
ٹهیک ہے تم ابهی سے تیاری شروع کرو کیونکہ وقت بہت کم ہے اور بعد میں بیوٹی پارلر بھی جانا ہے او کے …..وہ حکم صادر کر کے کمرے میں فریش ہونے چلا گیا…….
وہ بهاگتے ہوئے کچن میں چلی گئی اس کے پاس جناب کے کہے ہوئے کسی بات کو بھی سوچنے کا وقت نہیں تها .جلدی جلدی وہ ہاتھ چلانے لگی..!!
