Dulhan by Nasir Hussain NovelR50403 Dulhan Episode 11
Rate this Novel
Dulhan Episode 11
Dulhan by Nasir Hussain
مہمانوں کے چلے جانے کے بعد وہ کچن میں چلی آئی بہت کام باقی پڑا تها..اس نے سارے برتن سمیٹے..اور کچن میں بکهری بکهری چیزیں سمیٹنے لگی ….
وہ باہر ٹی وی پہ بیٹها بنا دلچسپی سے چینل تبدیل کر رہا تها..
اس نے محسوس کیا کہ اس کی نگاہیں ٹی وی پہ بالکل نہیں ہیں پتا نہیں کہاں ہیں. ………
وہ کئی مرتبہ کچن میں بھی جهانک کر دیکھ چکا تها .وہاں سے برتن کهٹکنے کی آوازیں آ رہیں تهیں…
شکر ہے دادی کی بہو نے اس کے دوستوں کے سامنے کچھ تو لاج رکهی. نہیں تو وہ تو بہت ڈر رہا تها پتا نہیں کیا ہو گا… کیسی حرکتیں کرے گی وہ… اچانک اس کے دوستوں نے نئی شادی کی خوشی میں اس سے ٹریٹ کی فرمائش کر دی اور اس نے پتا نہیں کیسے ہاں کر دی …….
وہ ٹی وی دیکھ دیکھ کر بیزار ہو چکا تها اس کے قدم بے اختیار سی کیفیت میں کچن کی طرف بڑهنے لگے..اسے کچن کے دروازے پہ دیکھ کر اس نے برتن دهونا روک کر غور سے اسے دیکھا. ……
جی کچھ چاہیے آپ کو….؟
اس نے اس لڑکی کی آواز سنی وہ ہاں یا ناں کچھ نہیں بول سکا کیا بولتا اسے خود بھی نہیں پتا تها وہ کچن میں کیوں چلا آیا..
وہ ابهی تو ٹی وی دیکھ رہا تها پهر جانے کیا سوچ کر وہ کچن میں چلا آیا….وہ ذہنی طور پر غائب تها کہیں. … بعض اوقات انسان کا اپنے ذہن پہ بهی اختیار نہیں رہتا.اس نے ایک نظر اس لڑکی کو دیکها جو شاید اس کے کسی جواب کی منتظر تهی .جواب تو اس کے خود پاس بھی نہیں تها تو کیا جواب دیتا. ..وہ کچن سے باہر نکل کر اپنے کمرے کی طرف جانے لگا…………..
بڑی دیر کے بعد وہ کچن کے کاموں سے فارغ ہوئی تو تهکاوٹ کے ساتھ ساتھ آنکھیں نیند سے بوجهل ہونے لگیں ..وہ کمرے میں چلی گئی وہ ابهی تک جاگ رہا تها لیپ ٹاپ پہ کوئی کام کر رہا تھا شاید. ………
وہ فرش پہ اپنا بستر بنانے لگی اس کی نگاہیں وہ مسلسل خود پہ محسوس کر سکتی تهی. ……..
آپ کے لیے چائے لاوں جی…..
نہیں.. اس نے سنجیدگی سے جواب دیا……
آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں جی…پتا نہیں کیا سوچ کر اس نے یہ کہا جبکہ وہ حیرت سے اسے دیکهنے لگا وہ کب سے اس کا چہرہ پڑهنے لگی……………
نہیں تو میں کیوں پریشان ہوں گا…..اس نے نفی کی لیکن دل کے بات کی نفی نہیں کر سکا…………
جب دادی یہاں نہیں ہوتی تو آپ کهانا ہوٹل سے لاتے ہو جی…
نہیں خود بناتا ہوں……اس کی نظریں لیپ ٹاپ پہ تهیں.
آپ خود….؟..اس نے بے یقینی سے پوچها…
ہاں کیوں…اس میں اتنا حیران ہونے والی کون سی بات ہے…..
جی وہ ہمارے گاوں میں تو مرد کهانا نہیں بناتے….
لیکن یہ گاوں نہیں ہے. … گاوں اور شہر میں زمین آسمان کا فرق ہے. .اب وہ کوفت میں مبتلا ہونے لگا……….
جی آپ نے اپنی ماں کو دیکها ہے……..
ہاں…….اس نے ایک لفظی جواب دیا..اور وہ خاموش ہو گئی. ……
اچها تمہیں کهانا بنانا تماری ماں نے سکهایا ہے. ..پتا نہیں کیا سوچ کر اس نے پہلی بار اس لڑکی سے سوال کیا ہے. …..
نہیں جی ہم نے تو اپنی امی کو دیکها بھی نہیں وہ ہمارے بچپن میں ہی گزر گئیں .کهانا بنانا تو ہم نے خود سیکھ لیا. ..آپ کو اچها لگا ہمارے ہاتھ کا کهانا……..
ہاں ٹهیک ہی تها….حالانکہ وہ اس کے کهانوں کا اسیر ہو چکا تها. ……….
پهر اس نے کوئی اور سوال نہیں پوچھا وہ چادر اوڑھ کر لیٹ گئی وہ بھی لیپ ٹاپ رکھ کر لیٹ گیا..!!
