193.3K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dulhan Episode 10

Dulhan by Nasir Hussain

ایسی خوبصورت لڑکیاں تو وہ ٹی وی میں دیکها کرتی تهی ..وہ بے یقینی کے ساتھ اپنے ہاتهوں کو اپنے گالوں کو چهو کر دیکھ رہی تھی.

تهوڑی دیر پہلے وہ ان سب لڑکیوں پہ رشک کر رہی تھی اب میک اپ کر کے وہ ان سب سے اچهی لگ رہی تهی اب اسے افراہیم کے ساتھ چلنے میں کوئی شرم نہیں ..

اسے ڈر تها کہیں اسے اپنے آپ کی ہی نظر نہ لگ جائے..اس کے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی ایک بار افراہیم اسے دیکھ لے تب اسے پتا چلے گا اس کی بانی کتنی خوبصورت ہے. …

وہ تو نظریں ہی نہیں ہٹا سکے گا……تهوڑی دیر بعد اس لڑکی نے آ کر اطلاع دی کہ اس کا شوہر آ چکا ہے وہ آرام سے چلتے ہوئے باہر آئی تو افراہیم اسے دیکھ کر جیسے سانس لینا بهول گیا ہو….

وہ ایک ٹک اسے دیکهے جا رہا تها.اس کی دهڑکن کی رفتار بے ترتیب ہونے لگی تھی .اس نے بھی شرما کر نگاہیں نیچے کر رکهیں تهیں….بہت دیر بعد وہ خود کو سنبھالنے میں کامیاب ہوا …

چلیں….؟…اس نے اپنے قدم آگے بڑهائے. .اب وہ اس کے ساتھ چلتی ہوئی کوئی شرم محسوس نہیں کر رہی تهی…..

Nice Couple…..

پیچھے سے ایک لڑکی کی آواز آئی اس کی اس بات کا مطلب وہ تو نا سمجھ سکی البتہ افراہیم نے مسکراتے ہوئے اسے کچھ جواب دیا……….

وہ ڈرائیونگ سیٹ پہ آ کر بیٹھ گیا. .وہ بھی بیٹھ چکی تهی اس نے کار سٹارٹ کر کے گهر کے راستے کی طرف موڑ دی..وہ بار بار بیک مرر سے اسے دیکھ رہا تھا اسے دیکھ کر اس کا دل ہی نہیں بهر رہا تها…

آج وہ اتنی خوبصورت جو لگ رہی تهی………

کیا یار. ..دماغ خراب ہے اس دیہاتی جاہل کو کیوں گهور گهور کر دیکھ رہے ہو…مانا کہ وہ خوبصورت ہے لیکن خوبصورتی ہی تو سب کچھ نہیں ہوا کرتی…یہ لڑکی وہ نہیں ہے جس کے ساتھ تو نے اپنی پوری زندگی گزارنی ہے. …جس لڑکی کو ٹی وی آن کرنا ہی نہ آتا ہو وہ اس کے ساتھ کیسے ساری زندگی رہ سکتا ہے. .یہ صرف ایک سمجهوتہ ہے بس اور کچھ نہیں. …

اس نے خود کو ملامت کیا….لیکن یہ سب سوچنے کے باوجود بھی وہ بار بار بیک ویومر سے اسے دیکهتا رہا جب کہ وہ اس سے بے نیاز سڑک پہ چلتی گاڑیوں کو دیکهتی رہی. …….

گهر پہنچ کر وہ سیدھا کچن میں گهس گئی جو تهوڑا بہت کام باقی رہ گیا تها وہ کرنے ..مہمانوں کے آنے میں ابهی تهوڑا وقت باقی تها…کچن سے مطمئن ہو کر نکلنے کے بعد وہ ڈائٹنگ ٹیبل پہ آئی وہاں کی صفائی کے ساتھ ساتھ اس نے پهول بھی ٹیبل پہ رکھ دیے..اگر اسے زیادہ نہیں بهی معلوم تها تو اپنے اندازے کے مطابق کچھ نہ کچھ تو وہ کر رہی تهی………

اس نے ایک سرسری سے نگاہ صوفے پہ بیٹهے افراہیم پہ ڈالی وہ تهکے ہوئے لگ رہے تهے وہ کچھ سوچ کر کچن میں گئی اور گرما گرم تازہ چائے بنا کر اس کے پاس ٹیبل پہ جا کر رکھ دی. .چائے رکهنے کی آواز پہ اس نے اپنی بند آنکھیں کهولیں……..

اس کا اس وقت چائے پینے کا موڈ لگ رہا تها لیکن یہ بات اسے کیسے پتا چلی اس بات پہ وہ تهوڑا حیران ضرور تها……….

کچھ ہی دیر میں اس کے آفس کے سارے دوست آ گئے وہ سب سے گرم جوشی سے ملا اور ساتھ ہی ساتھ اپنی نئی نویلی دلہن صاحبہ کو بھی دیکھ رہا تها کہیں وہ کوئی غلطی نہ کردے…وہ اس کی نصیحت کے مطابق صرف سلام دعا کی حد تک ہی بات کر رہی تهی….سارے مہمانوں جو تین سٹائلش لڑکیاں تهیں وہ بڑے اچهے طریقے سے اس کا جائزہ لے رہی تهیں…یا پهر شاید یہ دیکھ رہی تهیں کہ اس میں ایسی کیا بات ہے جو افراہیم صاحب نے ہم جیسی لڑکیوں کو نظر انداز کر دیا. …………

ارے یار کمال کی بیوی ڈهونڈ کر لائے ہو کون سے حسین وادی سے پکڑ کر لائے ہو اس پری کو…؟..اس کے ایک دوست نے جو کچھ زیادہ ہی شوخ مزاج تها اس نے کمنٹ پاس کیا..اور آواز اس کی اتنی اونچی تهی کہ زرا فاصلے پہ کهڑی لڑکیوں کو بھی سنائی دی اور سب قہقہے لگانے لگے……….

وہ اپنی تعریف پہ جهنپ گئی …….

ارے ..رے…اس محترمہ کو دیکهو کیسے دیہاتی لڑکیوں کی طرح شرما رہی ہے….اس کے پاس کهڑی ایک لڑکی بولی. ..اسے ڈر لگنے لگا اس کے سارے دوستوں میں سے کوئی یہ نہ جان لے کہ اس کی بیوی ایک ان پڑھ دیہاتی ہے…………

اچها یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی پہلے کچھ پیٹ پوجا ہو جائے.. ؟..افراہیم نے سوالیہ نگاہ سب کے چہروں پہ ڈالی جن کا جواب مثبت تها………………..

ارے یار افراہیم یقین نہیں آتا شہر میں رہ کر تماری بیوی اتنا اچها کهانا بناتی ہے ..اس کے ایک دوست نے کهانا کهاتے ہوئے تبصرہ کیا…….

وہ تو اس کے ہاتھ کے بنی کهانوں کا ذائقہ اچهے سے جانتا تھا لیکن اس کے دوست پہلی بار کها رہے تھے. . …پہلی بار تو اسے بھی حیرت ہوئی بریانی کها کر کیونکہ اتنی ذائقہ دار بریانی اس نے کهبی نہیں کهائی…

ہائے…ایک ہماری بیویاں ہیں جنہیں میک اپ سے ہی فرصت نہیں ملتا..دوسرے دوست نے دہائی دی..جبکہ وہ دوستوں کی گفتگو سے زیادہ اسے دیکھ رہا تها وہ لڑکیاں سرگوشی میں پتا نہیں کرید کرید کر اس سے کیا پوچھ رہیں تهیں…جبکہ وہ بول کم اور سن زیادہ رہی تهی یہ مشورہ بهی خود اس نے ہی اسے دیا تها…

بهابی مجهے اس ٹیسٹی بریانی کی ریسپی ضرور دے دیجیے گا ..جاتے وقت …وہ حیرانی سے اپنے مخاطب کو دیکھ رہی تھی..وہ سمجھ نہیں سکی وہ کون سی پیس مانگ رہا ہے….

ہاں ہاں کیوں نہیں.ہماری مسز آپ کو بریانی بنانے کی ترکیب ضرور دے دی گی….افراہیم نے بات سنبھال کر کہا .اور وہ سمجھ گئی…..

اور کهانے کے دوران ایسے چهوٹے موٹے مسئلے پیدا ہوتے رہے جنہیں وہ بڑے آرام سے ایک خوبصورت انداز میں سنبهالتا رہا …کهانے کے بعد چائے کا دور چلا سب لوگ ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر ہلکی پھلکی گفتگو کے ساتھ ساتھ چائے کا بھی مزا لے رہے تهے………

وہ خاموش ضرور تهی لیکن اپنے کسی بھی اینگل سے اس نے یہ ظاہر نہیں ہونے دیا کہ وہ ان سب پڑهی لکهی لڑکیوں سے مختلف ہے وہ ایک چهوٹے گاوں سے آئی ایک ان پڑھ لڑکی ہے.وہ بھی خاص طور پر اس پہ نظریں جمائے بیٹھا تها….حالانکہ اس کے ایک دوست نے اس کی یہ چوری پکڑ بھی لی…….

چلتا ہے سب .شروع شروع کے دنوں میں ہم بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے. .ہم بھی اپنے بیگمات کو بے پناہ چاہتے تھے لیکن اب صرف پناہ چاہتے ہیں. ..

وہ اس کے پاس صوفے پہ بیٹها ہوا تها اس نے سرگوشی کے انداز میں کہا..اس لیے کوئی اور نہیں سن سکا… وہ بظاہر مسکرا دیا..!!