193.3K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dulhan Episode 12

Dulhan by Nasir Hussain

وہ چهٹی کا دن تها اس لیے اسے بیدار ہونے کی کوئی جلدی نہیں تهی وہ دس بجے تک سوتا رہا اور دس بجے کے بعد جب اس کی نیند مکمل ہو چکی تهی تو وہ فریش ہونے واش روم چلا گیا جب باہر نکلا تو اس کی بلیک کلر کی شرٹ بیڈ پہ پڑی ہوئی تهی …

مطلب آج اسے بلیک شرٹ پہننے کو کہا جا رہا ہے اب وہ اسی کے استری شدہ کپڑے پہننے لگا تها..جب اس کے ہاتھ کی بنی چائے پی سکتا ہے کهانا کها سکتا ہے تو کپڑے پہننے میں بهی کوئی ہرج نہیں تها…………

لیکن ایک بات اسے اب تک سمجھ نہیں آئی اس لڑکی کو کیسے پتا چل جاتا ہے کہ وہ کس ٹائم بیدار ہوا ہے اور اسی وقت وہ شرٹ بستر پہ لا کر رکھ دیتی ہے یا پھر جب اس کے سر میں درد ہوتا ہے یا پھر چائے پینے کا موڈ ہوتا ہے تو بنا کہے وہ اس کے لیے چائے بنا کر لے آتی ہے. ..حالانکہ اس نے روایتی شوہروں والا ایسا کوئی حکم بھی نہیں سنایا لیکن وہ خود بنا کہے اس کے سارے کام کرتی …وہ روایتی بیویوں والے سارے فرض نبها رہی تهی لیکن اس سب کے باوجود بھی وہ اسے قبول نہیں کر سکتا………..

اس میں وہ اعتماد اور وہ شعور ہی نہیں ہے جو اسے ایک بیوی میں چاہیے تها وہ خوبصورت ہے لیکن خوبصورتی ہی تو سب کچھ نہیں ہوا کرتی اور نہ ہی صرف خوبصورتی کے ساتھ پوری زندگی گزاری جاتی ہے……..

ہر انسان کی طرح اسے بھی حسن متاثر کرتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ ایک انسان کو خوبصورت بنانے کے لیے صرف حسن ہی کافی ہو …حسن کے علاوہ بھی کئی اور چیزیں انسان کو خوبصورت بناتی ہیں. …..کنگھی کر کے وہ نیچے چلا گیا تب تک وہ ناشتہ لگا چکی تهی..ناشتہ کر کے یونہی لان میں اخبار لے کر بیٹھ گیا چهٹی کا دن تها اس لیے ذہن بالکل فریش تها ویسے اسے اخبار پڑھنے کی عادت تو نہیں تهی لیکن یونہی ٹائم پاس کے انداز میں وہ اخبار کے ہیڈ لائز پہ نظریں دوڑانے لگا ..چهٹی کے دن اس کی کوئی خاص مصروفیت نہیں ہوا کرتی وہ ہمیشہ چهٹی کا دن گهر پہ ہی گزارتا. .. عام نوجوانوں کی طرح کوئی خاص دوستی بھی نہیں تهی اس کی ..اس نے اپنا سارا وقت سارے خواب اپنی ہونے والی جیون ساتھی کے لیے سمیٹ رکهے تهے..لیکن اس کے خواب ریزہ ریزہ ہو چکے تهے دادی کے آنے میں بھی ایک ہفتہ باقی تها……..

اچانک اخبار پڑھتے پڑھتے اسے احساس ہوا کوئی اسے دیکھ رہا ہے اس نے نگاہ اٹھا کر دائیں بائیں جانب دیکها لیکن اسے کوئی نظر نہیں آیا وہ ایک بار پھر اخبار پڑھنے لگا لیکن کچھ لمحے بعد اسے پھر احساس ہوا جیسے کوئی اسے مسلسل دیکھ رہا ہے اب کی بار اس نے دائیں بائیں دیکها اور پھر سامنے دیکها تو اسے پتا چلا کہ وہ لڑکی کچن کی کهڑکی جو باہر لان کی طرف کهلتی ہے اس سے چپکے چپکے اسے دیکھ رہی تھی. .وہ اس کی چوری پکڑ چکا تها اور اسے دیکھ کر وہ کهڑکی سے غائب ہو گئی. …اسے کچھ عجیب لگا..دو دن پہلے جب صبح کے وقت وہ گہری نیند میں سو رہا تها اچانک ایک آواز سے اس کی آنکھ کهلی. ..تب اس نے دیکھا وہ لڑکی ہاتھ باندھ کر اسے بڑے غور سے دیکھ رہی ہے اسے حیرت کا جهٹکا لگا…….پهر اس نے چادر اوڑھ لی اور چادر کے اندر سے آنکھیں کهول کر اس لڑکی کو دیکهنے لگا جو مسلسل اسے دیکهے جا رہی تهی اسے نہیں پتا تها وہ بھی اسے دیکھ رہا ہے اگر اسے پتا ہوتا تو وہ شاید گڑبڑا کر باہر نکل جاتی …..

اس صبح وہ کافی دیر تک اس کے بارے میں سوچتا رہا اور آج ایک بار پھر وہ اسے مسلسل گهور رہی تھی کیا وہ ہمیشہ اسے ایسے گهور کر دیکهتی ہے جب وہ چائے پی رہا ہوتا ہے یا وہ کهانا کها رہا ہوتا ہے. ..لیکن کیوں….؟..

اس دن وہ اس کے کپڑے استری کرنے لگی تهی جب اچانک اسے یاد آیا کہ وہ دودھ کی دیگچی چولہے پہ رکھ آئی ہے وہ اب ابلنے والا ہوگا وہ بهاگتی ہوئی کچن میں گئی چولہے کا بٹن بند کیا اور دودھ اتار کر سائیڈ پر رکھ دیا. …….

اب وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے کمرے تک آئی .کمرے اسے عجیب بدبو کا احساس ہوا اس نے استری کی طرف دیکها اور یہ دیکھ کر جیسے اس پہ آسمان گر گیا وہ شرٹ جل چکی تهی…وہ بهاگتے ہوئے استری تک گئی …..

اس نے اپنے ماتهے پہ زور سے ہاتھ مارا..

یہ کیا …یہ..کیا کر دیا میں نے یہ تو ان کی پسندیدہ شرٹ تهی اب کیا ہو گیا اللہ. ..اب تو وہ بہت غصہ کریں گے…کیا کہوں گی ان سے کیسے بتاؤں گی..وہ تو پہلے بھی بہت ناراض رہتے ہیں اب انہیں اس شرٹ کا پتا چلے گا تو وہ اور بھی ناراض ہوں گے. …….

وہ آفس سے واپس آ گیا لیکن وہ اسے شرٹ کے بارے میں نہ بتا سکی. .کهانے کے وقت بھی اس کی ہمت نہیں ہوئی….رات کے سوتے وقت بھی وہ اسے بتانا چاہتا تهی لیکن ہمت ہی نہیں پیدا کر پا رہی تهی….

وہ اس کی عجیب غیر معمولی تبدیلی کو نوٹ کر رہا تها پتا نہیں کہاں گم تهی کس ٹینشن میں تهی جب سے وہ آفس سے آیا ہے اسے وہ کسی پریشانی میں مبتلا لگی..کهانے کے دوران بھی اس نے جگ کے ساتھ گلاس نہیں رکها اور چائے میں بھی چینی کی جگہ نمک ڈال کر آ گئی…اس نے تو اسے کچھ نہیں کہا لیکن وہ کچھ نیا پن محسوس ضرور کر رہا تها. ..

.لیکن وہ خود بتا نہیں رہی تهی اور وہ تو اس سے زندگی بهر نہیں پوچهتا…..

صبح جب وہ ناشتہ کر کے آفس جانے لگا تو پیچھے سے آواز دے کر اس نے روک دیا…….

پیچھے سے آواز دینا ضروری تها محترمہ. ..اب بتاو کیا چاہیے. …..وہ خاموش نگاہیں جهکا کر کهڑی تهی شاید کچھ بول ہی نہیں پا رہی تهی….

اب آپ کچھ بولیں گی یا میں بیٹھ کر آپ کے بولنے کا انتظار کروں ویسے بھی مجھے آفس جانے میں تو بالکل بھی دیر نہیں ہو رہی….وہ طنز کے تیز چلا رہا تها…

جی…وہ..میں آپ سے ایک بات کہنا چاہتی ہوں. .اس نے ہونٹوں پہ زبان پهیر کر کہا….

جی ہم وہی سننے کے لیے تو کهڑے ہیں محترمہ. …

وہ غلطی سے آپ کی شرٹ استری کرتے ہوئے جل گئی….یہ کہہ کر وہ پهوٹ پهوٹ کر رو پڑی…

اور وہ پتا نہیں کیا کیا سوچ چکا تها کل سے…اور اب پتا نہیں رو کیوں رہی تهی. …

اوکے…اوکے…..کوئی بات نہیں. ….

لیکن وہ آپ کی پسندیدہ شرٹ تهی جی…وہ نیلی والی….اس نے اپنی مسکراہٹ چهپائی…

کہہ دیا ناں کوئی بات نہیں اب یہ مگر مچھ کی طرح آنسو مت بہاو…اسے اس کے آنسو سے تکلیف ہونے لگی تهی وہ جانے کے لیے دروازے کی طرف مڑا پهر کچھ سوچ کر واپس اس کے پاس آیا…….

تم تو آسانی سے یہ بات مجھ سے چهپا سکتی تهی اتنے سارے شرٹس میں سے میں اپنی ہر شرٹ کا تو حساب نہیں رکهتا پهر تم نے اپنی غلطی کیوں بتائی…..

میں نے زندگی میں جهوٹ کهبی نہیں بولا جی..

آپ سے جهوٹ بول سکتی ہوں لیکن اپنے آپ سے تو نہیں. اور میں اپنی نظروں سے کهبی نہیں گرنا چاہتی..اور اگر آج میں جهوٹ بولتی تو میں چوری کرتی. .اور چوری چاہے چهوٹی ہو یا بڑی چوری چوری ہی ہے …اور چوری کرنے والا اور جهوٹ بولنے والا زندگی میں کهبی نہ کهبی منہ کے بل گرتا ضرور ہے….

اسے حیرت کا جهٹکا لگا…پتا نہیں کتنی پاگل لڑکی تهی ..ایسی لڑکیاں بھی دنیا میں ہوتی ہیں. ئہ لڑکیوں کی کون سی قسم ہے..بیویاں تو بڑی سے بڑی جهوٹ بول کر اپنے شوہروں کو بے وقوف بناتی ہیں ان سے کئی باتیں چهپاتی ہیں اور یہ ایک معمولی شرٹ کے لیے اتنا چھوٹا جهوٹ بهی نہیں بول سکی…….

وہ سارا راستہ اسی کے بارے میں سوچتا رہا..!!