193.3K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dulhan Episode 14

Dulhan by Nasir Hussain

نہیں وہ……وہ….یہ تم ہمیشہ یہی کپڑے ہی کیوں پہنتی ہو…. اس نے بات شروع کرنے کے لیے یہ عجیب و غریب سوال کیا..اس نے غور سے اپنے کپڑوں کو دیکها جو سادہ لان کے کپڑے تهے. …….

جی…وہ باقی میلے تهے. وہ اس لیے .اس نے حیران ہو کر جواب دیا. ….

کتنے جوڑے ہیں تمارے…..

جی پانچ. ..اس نے سادگی سے جواب دیا جبکہ وہ حیران ہوا. ..جس لڑکی کا شوہر لاکھوں کے حساب سے تنخواہ لیتا ہو اس کی بیوی کے پاس صرف پانچ سادہ لان کے کپڑے ہیں. .یہ بات اسے بہت عجیب لگی اس کے خود کے ہزاروں کپڑے تهے اور اس نے بھی کهبی کچھ نہیں مانگا..اس کے پاس کپڑے جوتے جو بھی چیز نہیں تهی اس نے اپنے لیے اس سے کهبی کچھ نہیں مانگا…..

کیوں نہیں مانگا…اسے مانگنا چاہیے تھا یہ اس کا حق تها وہ اس کا شو………

تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا…..وہ دکھ سے پوچھ رہا تها جبکہ وہ نظریں جهکا گئی جیسے اس نے بہت بڑی غلطی کر دی ہو… ……

اچها ٹهیک ہے ہم کل کو چلیں گے شاپنگ پہ پهر لے لینا اپنے لیے کپڑے ..اور بهی تمہیں جو کچھ چاہیے وہ بھی..او کے ….

جی….

اچها اب سو جاو ….وہ سونے کے لیے لیٹ گئی اس نے لیمپ آف کر دیا …اب اسے بهی اچهی نیند آتی وہ سابقہ تجربات سے یہ نتیجہ اخذ کر چکا تها کہ جب بھی وہ لڑکی اس سے بات نہیں کرتی اسے نیند بڑی دیر سے آتی. ………….

رات تقریباً گزر چکی تهی دور دور سے کہیں موذن کی آواز آ رہی تهی ..

اس نے سوتے سوتے محسوس کیا کوئی اس کے ماتهے پہ ہاتھ رکهے ہوئے ہے وہ کرنٹ کها کر اٹھ گیا….وہ اس کے بالکل پاس کهڑی تهی اس اٹهتا دیکھ کر وہ گهبرا گئی …….

اسے اتنی صبح صبح اس کا چهونا بہت برا لگا..غصے کی شدید لہر اس کے جسم میں پیدا ہو گیا پورا جسم جیسے جلنے لگا ہو…وہ کمبل کو پرے دھکیل کر بالکل اس کے برابر کهڑا ہو گیا وہ سہمے ہوئے نگاہیں نیچے جهکا کر کهڑی تهی….اس کے دل میں اس وقت آگ لگی ہوئی تهی اس نہیں پتا تها اسے اتنا غصہ کیوں آ رہا ہے لیکن وہ مزید اپنے غصے پہ قابو نہیں رکھ سکا….

تماری ہمت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی..کیا سمجهتی ہو تم خود کو…..اور کیا سوچ کر تم نے مجھے ہاتھ لگایا..میں نے تمہیں بتایا تها ناں میں تمہیں بیوی کا درجہ کهبی نہیں دے سکتا تو زبردستی میری زندگی میں گهسنے کی کوشش مت کرو ..

او کے …نہ تو میں تمہیں کهبی قبول کر سکتا ہوں اور نہ کهبی کروں گا اس لیے یہ روایتی بیویوں والی حرکتیں کرنا بند کر دو….

وہ چلا چلا کر بات کر رہا تها اندر کے لاوا کو باہر آنے کا راستہ مل چکا تها …اس کا پارہ ایک دم چڑھ چکا تها وہ بدستور سر نیچے کیے ہوئے کهڑی تهی اس نے محسوس کیا اس کی آنکھوں سے آنسو گر رہے ہیں …

گیٹ آوٹ…..اس نے چلا کر کہا..پهر اسے یاد آیا وہ جاہل گوار لڑکی انگلش نہیں سمجھ سکتی اس لیے اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے زبردستی اپنے کمرے سے باہر نکالا اور کنڈی لگا کر بیڈ پہ بیٹھ گیا. .!!