Dulhan by Nasir Hussain NovelR50403 Dulhan Episode 13
Rate this Novel
Dulhan Episode 13
Dulhan by Nasir Hussain
پہلی بار پڑهنے والوں کے لیے گزشتہ قسط کا خلاصہ.
بانی نام کی ایک دیہاتی ان پڑھ لڑکی کی شادی ہو جاتی ہے ایک ہینڈسم پڑهے لکهے مغرور شخص (افراہیم) سے جو اسے نا پسند کرتا ہے ..وہ اسے پانے کے لیے ہر حد تک جاتی ہے. ..اب آگے…….
………………………………………….
اس رات وہ اپنے بستر پہ یونہی لیٹا تها جب وہ اس کے کمرے میں آئی اس کے ہاتھوں میں دودھ کا ایک گلاس تها وہ ہمیشہ رات کو سونے سے پہلے اس کے لیے دودھ لانا نہیں بهولتی تهی..وہ ایک مشرقی بیوی کے روپ میں بالکل پوری اترتی تهی کهبی کهبی وہ اس لڑکی کو بالکل بھی سمجھ نہیں پاتا وہ اس سے جتنی بدتمیزی سے بات کرتا یا کهبی کهبی غصے سے بات کرتا تو وہ جواباً خاموش ہو جاتی….دوسرے بیویوں کی طرح لڑتی جهگڑتی بالکل بھی نہیں تهی لڑنا تو دور وہ کهبی اپنی صفائی بھی پیش نہیں کرتی تهی……..
وہ اپنے دوستوں کی جب شکائتیں سنتا جو وہ اپنی اپنی بیویوں کے بارے میں کرتے تو حیران ہو جاتا کہ کون سی بیوی سہی قسم کی ہے …ایک ان پڑھ جاہل گاوں کی لڑکی یا وہ پڑهی لکهی ماڈرن لڑکیاں..جو اپنے شوہروں پہ حکومت کرتی تهیں..نہ کهانا بنانا نہ بچوں کو سنبهالنا ہر وقت میک اپ سے لدے رہنا….ہنس ہنس کے ہر مرد سے بات کرنا …اسے اس قسم کی عورتیں کچھ عجیب لگتیں..لیکن وہ اپنی زندگی میں ایک بہت مختلف لڑکی دیکھ رہا تھا ایک ایسی لڑکی جو اس نے آج تک کهبی نہیں دیکهی…………
ایک وہ بیویاں تهیں جو شوہروں کی ہر بات پہ اعتراض کرتی تهیں اور ایک یہ ہے اگر اس سے کہا جائے کہ رات سفید ہے تو یہ اپنے شوہر کی ہاں میں ہی ہاں ملائے گی یہ لڑکی تو اپنے شوہر کو مجازی خدا سمجهتی تهی.ہر بات ماننے والی ..ہر کام کرنے والی….
ایک بار اس کے آفس کے ایک دوست نے اس سے پوچھا تها اسے کس قسم کی بیوی چاہیے وہ کوئی جواب نہیں دے سکا اسے اب تک نہیں معلوم تها کہ بیویوں کی بهی اقسام ہوتی ہیں. .اس نے دودھ کا گلاس اس کے ہاتهوں میں تهما دیا وہ دودھ پیتے ہوئے اسے مسلسل اپنی نگاہوں کے حصارے میں لیے ہوئے تها اور وہ نگاہیں جھکائے کھڑی تهی….کتنی عجیب لڑکی تهی کسی اور تو کیا شوہر سے نگاہیں ملاتے ہوئے بھی شرماتی تهی وہ پہلی بار اس کے اس ادا سے لطف اندوز ہو رہا تها………………..
اس لڑکی کے ساتھ رہتے ہوئے اسے بیس دن ہو چکے تهے اور ان بیس دنوں میں اس نے نوٹ کیا کہ وہ لڑکی جهوٹ کهبی نہیں بولتی …
بنا مقصد بنا مطلب کوئی بات نہیں کرتی…
نماز پابندی سے ادا کرتی ہے…
اور کئی بار اس نے صبح صبح اسے قرآن پاک کی تلاوت کرتے بھی سنا…….
وہ اب نیچے فرش پہ اپنا بستر ڈال کر سو رہی تهی ..اس نے کهبی نہیں کہا کہ میرا حق ادا کرو …بیڈ پہ سونا میرا حق ہے. …وہ ہمیشہ رات کو سونے سے پہلے کوئی نہ کوئی عجیب سا ٹاپک پکڑ کر اس پہ مختلف سوالات کرتی تهی. .اور وہ بس ہوں ہاں میں یا کهبی کهبی تو اسے غصے سے بهی جهڑک دیتا تها…
مگر وہ کهبی اس کے غصے پہ ناراض نہیں ہوتی تهی کوئی شکوہ نہیں کرتی تهی……
لیکن آج وہ خاموشی سے سونے کے لیے لیٹ رہی تهی. اسے ہمیشہ رات کو اس لڑکی کی باتیں بہت بری لگتیں لیکن عجیب بات تو یہ تهی کہ اگر وہ لڑکی بات نہ کرتی تو وہ الجھن کا شکار ہو جاتا ….
اور آج بھی جب وہ بنا کوئی بات کیے سو رہی تهی تو اسے ایک عجیب کرب کا احساس ہوا…..
سو رہی ہو تم……؟..پہلی بار اس نے خود سے اسے مخاطب کیا. …
جی کچھ چاہیے تها آپ کو…وہ ایک دم چاق و چوبند ہو کر کهڑی ہو گئی…وہ اس طرح جلد بازی میں اس کے کهڑے ہونے پہ ہنس دیا..!!
