Dulhan by Nasir Hussain NovelR50403 Dulhan Episode 9
Rate this Novel
Dulhan Episode 9
Dulhan by Nasir Hussain
اس وقت مغرب کی اذان ہو رہی تهی جب وہ کچن سے بہ مشکل فارغ ہوئی کئی قسم کے کهانے وہ بنا چکی تهی میٹهے میں بھی بہت کچھ بنایا تها اس نے. …
کهانا اچها ہے یا برا یہ فیصلہ وہ نہیں کر سکتی تهی اس فیصلے کا حق ان مہمانوں کو تها.. ..اس نے تو اپنے گاوں کے مطابق سارے کهانے بنائے لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ ڈر بهی رہی تهی..پتا نہیں ان لوگوں کو کهانا پسند آئے گا بهی یا نہیں.
وہاں کی بات الگ تهی وہاں گاوں میں تو سبھی اس کے ہاتھوں کے بنی کهانوں کی تعریف کرتے تهے اور آس پاس کے پڑوسی تو اس سے فرمائش کر کے مختلف پکوان بنواتے تهے لیکن یہ شہر ہے یہاں کی طرز زندگی مختلف ہے. ..یہاں گاوں کے دیسی کهانوں کو پسند نہیں کیا جاتا ہو گا….. …….
مغرب کی نماز ادا کر کے وہ ایک بار پھر کچن میں آئی ..وہ بھی چیزوں کا جائزہ لینے کچن میں آ گیا اب وہ اس سے ایک ایک چیز کے بارے میں پوچھ رہا تها اور ساتھ ہی ساتھ اپنی رائے کے ساتھ ساتھ اسے کچھ خصوصی نصیحتیں بھی کر رہا تها…………..
اچها کهانا تو بن گیا اب چلو بیوٹی پارلر. ..اس نے بریانی ٹیسٹ کر کے کہا…….
جی اچها ہم تیار ہو کر آتے ہیں.
محترمہ آپ تیار ہونے کے لیے ہی بیوٹی پارلر جا رہی ہیں. .چلو تهوڑی دیر میں وہ لوگ آ جائیں گے. ..دیر ہو رہی ہے….وہ کچن سے باہر نکل گیا جبکہ وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے پورچ میں آئی……….
وہ اس کے لیے کار کا دروازہ کهول چکا تها وہ بیٹھ گئی. .وہ زندگی میں پہلی بار کار میں بیٹھ رہی تهی اس لیے نہیں جانتی تھی کہ کار میں بیٹهنے کے کیا طریقے کار ہوتے ہیں.اور وہ تهوڑا ڈر بھی رہی تهی ……اس نے بیک ویومر سے اسے دیکھا اور گاڑی سٹارٹ کر سڑک پہ لے آیا…
وہ دونوں ہاتهوں سے سیٹ قابو کر کے بیٹهی تهی. جبکہ وہ اس کی اس حرکت کو نوٹ کر چکا تها…..
مس بانی صاحبہ یہ کار ہے موٹر سائیکل نہیں. .آپ اگر ہاتھ چهوڑ کر بھی بیٹهیں گی تب بھی نہیں گریں گی..اس نے طنزیہ لہجے میں اسے مخاطب کیا. ..اس نے ڈرتے ڈرتے ہاتھ چهوڑ ہی دیے………
آپ کو گاڑی چلانا اچهے سے آتا ہے ناں جی….اس نے گهبراتے ہوئے پوچها. جبکہ وہ بے اختیار مسکرا دیا….
نہیں مجھے تو نہیں آتا گاڑی چلانا اس وقت گاڑی کو ایک فرشتہ چلا رہا ہے…کیا پتا کب یہ کسی بڑے ٹرک سے ٹکرا جائے اور آپ بیوٹی پارلر کی جگہ اوپر پہنچ جائیں…اس لیے درود کا ورد جاری رکهیے….اس نے تو یونہی مذاق کیا تها جبکہ وہ سچ مچ درود پڑهنے لگی…….
پتا نہیں کہاں سے پکڑ کر لائیں ہیں دادی اس انمول تحفے کو…اس نے دل ہی دل میں سوچا. ..اور گاڑی پارلر کے سامنے روک دی پہلے وہ خود گاڑی سے نیچے اترا اور اس کے لیے دروازہ کھول دیا وہ بھی ہونٹ ہلاتی نیچے اتری…………
وہ اس کی تقلید میں چلتی ہوئی اندر داخل ہوئی وہ اتنے عالیشان اتنے خوبصورت پهولوں سے سجی اس پارلر کو دیکھ کر حیران رہ گئی. .وہ گهور گهور کر میک اپ کراوتی لڑکیوں کو دیکھ رہی تھی. .کتنی پر اعتماد اور بولڈ لڑکیاں تهیں جو انگریزی میں بات کر رہیں تهیں…ہنس رہیں تهیں مسکرا رہیں تهیں …اسے رشک محسوس ہوا ان سبھی لڑکیوں پہ جو اتنی خوبصورت تهیں اتنی پر اعتماد….اتنی اچهی انگلش بولتی تهیں…ان سب کے شوہر تو انہیں بہت پسند کرتے ہوں گے اس نے دل ہی دل میں سوچا…….
کاش میں بهی ان سب میں سے ایک ہوتی ..میں بھی اتنی اچھی انگلش بول سکتی کاش میں نے بهی کسی بڑے ادارے سے کوئی بڑی ڈگری حاصل کی ہوتی. .تو افراہیم مجھے بہت پسند کرتا…ان ماڈرن لڑکیوں کو دیکھ کر بے اختیار اس کے دل میں ایک عجیب و غریب خواہش پیدا ہوئی….اس نے گردن موڑ کر افراہیم کو دیکها جو اس پارلر والی سے انگلش میں کوئی بات کر رہا تها……کتنا خوبصورت لگ رہا تها افراہیم اس وقت اس کے ساتھ تو ان سب میں موجود کوئی لڑکی خوبصورت لگتی اس جیسی ان پڑھ جاہل دیہاتی ہر گز نہیں. ………
سنو….میں جا رہا ہوں ایک گهنٹے بعد تمہیں لینے آوں گا ٹهیک ہے یہیں اندر اس کرسی پہ بیٹھ کر میرا انتظار کرنا کہیں باہر مت نکل جانا اوکے….؟..اس نے سوالیہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکها اس نے اثبات میں گردن ہلائی اور وہ مطمئن ہو کر چلا گیا……….
پهر وہ لڑکی جس سے ابهی تهوڑی دیر پہلے وہ بات کر رہا تها وہ اسے ایک دوسرے کمرے میں لے گئی..اس کمرے میں ہر طرف خوشبو ہی خوشبو تهی..اس لڑکی نے اسے ایک کرسی پہ بٹها دیا…… ..
اس نے آئینے میں خود کو دیکها تو بے اختیار آنکھیں بند کر دیں…اسے نہیں پتا وہ لڑکی اس کے ساتھ کیا کیا کرتی رہی۔
کهبی اس کے بالوں پہ کوئی مشین چلاتی تو کهبی رخسار پر کوئی کریم لگاتی تو کهبی آنکهوں پہ……اس کے لیے یہ سب نیا تها اس کی نظر میں میک اپ لپ اسٹک اور آئی شیڈ تک ہی محدود ہے لیکن وہ بے وقوف تهی آئی شیڈ اور لپ اسٹک تو کچھ بھی نہیں. .یہاں تو اور بھی کئی طرح کا میک اپ ہوتا تھا…. …
ایک گهنٹے بعد جب وہ مکمل طور پر تیار ہوئی تو آئینے کو دیکھ کر ساکت رہ گئی…وہ اتنی خوبصورت بھی لگ سکتی ہے یہ بات اسے پہلے کهبی نہیں معلوم تهی..
وہ بس آئینے میں خود کو دیکهتی رہی اسے یقین نہیں آ رہا تها آئینے میں کهڑی وہ حسین و جمیل لڑکی کوئی اور نہیں وہ خود ہے…میک اپ سے اس کا خوبصورت چہر نکهر آیا تها…کالے رنگ کے ریشمی فراک کے ساتھ وہ کسی پرستان کی پری لگ رہی تھی. .!!
