193.3K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dulhan Episode 5

Dulhan by Nasir Hussain

اگلی صبح وقت پہ بیدار نہیں ہو سکا ..اسے آفس جانا تها اور وہ آدها گهنٹہ دیر سے اٹها اور کل کی طرح آج بھی سب سے پہلے اس نے اپنے بائیں جانب اس لڑکی کے بستر کی طرف دیکها..وہ اسے وہاں نظر نہیں آئی۔

وہ اٹھ کر واش روم کی طرف چلا گیا..اسے آفس جانے میں پہلے ہی دیر ہو چکی تھی ………….

واش روم سے جب وہ نہا کر تولیے سے بال رگڑتا ہوا باہر آیا تو نیلے رنگ کی شرٹ بیڈ پہ دیکھ کر وہ ٹهٹک گیا.. وہ استری کر کے بیڈ پہ رکھ دیا گیا تها.. اتنے سارے کپڑوں میں اس نے نیلے رنگ کا ہی انتخاب کیوں کیا… گویا اس کی زوجہ محترمہ کو معلوم تھا کہ نیلا رنگ اس کا پسندیدہ رنگ ہے لیکن یہ اسے کیسے پتا چلا…؟

اسے اپنی بیوی کی یہ مشرقی ادا تسکین نہیں پہنچا سکی مزید سلگها گئی……

کیوں ہاتھ لگایا اس نے میرے کپڑوں کو…؟

کس حق سے اس نے میری شرٹ استری کی….؟

یہ وہ سوالات تهے جو وہ غصے سے اپنے آپ سے کر رہا تها. .لیکن وہ بھی اپنے نام کا ایک تها جب وہ اسے بیوی تسلیم نہیں کرتا تو وہ اس کے استری کیے ہوئے کپڑے کیوں پہنے… اس نے وہ شرٹ واپس الماری میں رکهی اور ایک سفید رنگ کی شرٹ پہن لی… یہ الگ بات ہے کہ اس سفید شرٹ میں کئی شکنیں پڑ چکی تهیں.. عموماً وہ اپنے سارے کام خود کرتا تها کهانا پکانے سے لے کر کپڑے استری کرنے تک… لیکن آج تو وہ پہلے ہی کافی لیٹ ہو چکا تها اس لیے جیسے تیسے وہ شرٹ پہن کر بالوں میں جلدی جلدی کنگهی پهیر کر وہ بیگ اٹها کر نیچے آیا……………..

اس کا ناشتہ کرنے کا آج بالکل ارادہ نہیں تها وہ وہیں آفس میں ہی کچھ نہ کچھ لے لیتا .. پہلے ہی کافی دیر ہو چکی تهی اس لیے وہ جلدی جلدی بڑے بڑے قدم اٹهاتا ہوا گهر کے بڑے دروازے تک گیا.. ابهی اس نے دروازہ کهولنے کے لیے ہاتھ بڑهایا ہی تها کہ اپنی زوجہ محترمہ کی آواز پہ رک گیا………..

سنو جی….اس نے ایک ٹھنڈی سانس خارج کی اسے اس طرح اپنا پیچھے سے آواز دے کر بلانا بالکل بھی اچها نہیں لگا. اس نے کوئی بات تو نہیں کی البتہ اس کی طرف سوالیہ نظروں سے ضرور دیکها. ………

وہ جی گهر کا تهوڑا سامان لانا ہے… اس نے ججهکتے ہوئے کہا. . جبکہ اسے اس طرح پیچھے سے بلایا جانا اور اب پورے حق کے ساتھ گهر کے سامان کا آرڈر دینا بالکل ناگوار گزرا اور یہ ناگواری اس کے چہرے سے بھی عیاں تهی…………..

کیا لانا ہے….؟

چہرہ سپاٹ تها……

وہ..جی چینی اور چائے کی پتی……

بس…؟..

نہیں وہ سرخ مرچ اور پیاز بھی ختم ہو گیا….وہ پوری کی پوری مشرقی ادا میں مخاطب تهی……..

اوکے…اور کچھ. …؟…..

سبزی بھی ختم ہو گئی اس ڈبے سے…

کون سے ڈبے سے..؟.وہ حیران تها…..

وہی جی..جو اندر رکها ہوا ..جسے کهولو تو سرخ بتی جلتی ہے…

اس نے دماغ پہ زور دیا…..

وہ…وہ…اسے فریج کہتے ہیں بے وقوف. …اس نے عجیب نظروں سے اس لڑکی کو دیکها. ….

ہاں جی وہی فراج سے ….

فراج نہیں فریج….اس نے اپنے لفظوں پہ زور دیا…

کیا جی….فا ریج ..؟..اس نے بهول پن سے سوال کیا. .

فا ریج..نہیں. ….اچها چهوڑو یہ بتاو اور کیا کیا لانا ہے..وہ دانت پیس کر بولا….

دہی بهی جی اور….اور…..وہ کچھ سوچنے لگی. ..

اگر اس کی کوئی پڑهی لکهی بیوی ہوتی تو وہ ایک منٹ میں ہی لسٹ بنا کر دیتی اسے لیکن یہ گاوں کی گوار اسے دو گهنٹوں سے گهر کا سامان رٹوا رہی ہے…….

کچھ یاد آیا محترمہ…یا پھر میں یہیں بیٹھ کر آپ کی یادداشت واپس آنے کا انتظار کروں…اس نے طنز بهرے لہجے میں اس مخاطب کیا. وہ پتا نہیں اس کے طنز کو سمجھ سکی یا نہیں بہرحال اس نے اپنی زبان کو تهوڑی تکلیف ضرور دی. …….

وہ جی وہ جو لال لال سی ہوتی ہے….اب اسے حقیقتاً غصہ آیا….

لال لال سی کوئی ایک چیز نہیں ہوتی ..اور کیا میں بازار میں جا کر یہ کہوں گا محترمہ بانی صاحبہ کسی لال چیز کا کہہ رہیں تهیں آپ مجھے وہی لال چیز دے دیں..اب کی بار وہ غصہ نہیں چهپا سکا وہ اس کے غصے سے ڈر گئی……………

میں سب سودے بهجوا دوں گا…او کے…اس کی آنکھوں میں بهرے وہ آنسو دیکھ چکا تها اس لیے وہ نہیں چاہتا تها وہ اس کے سامنے کوئی سیلاب جاری کرے وہ کہتا ہوا باہر نکل گیا..

وہ وہیں کهڑی اپنے آنسو پہ قابو پانے کی کوشش کرتی رہی..اسے دکھ اس کے رویے سے نہیں بلکہ اس بات سے پہنچا ہے کہ وہ شرٹ جو اس نے اتنی محبت کے ساتھ استری کی وہ کیوں نہیں پہن کر گیا…

باقی کا سارا دن بھی وہ اداس رہی اس نے دوپہر کو ہی ایک ملازم کے ذریعے گهر کا سارا راشن بهیج دیا تها وہ بھی جو اس نے کہا اور وہ بھی جو وہ نہ کہہ سکی ..باقی کا بہت سارا وقت اس نے سامان کو ترتیب دینے میں گزار دی ..اس لیے اسے کچھ سوچنے کی مہلت ہی نہ ملی سبزی آ چکی تهی اس نے کچھ سبزیاں فریج میں ڈالیں اور رات کے کھانے کی تیاری کے لیے آلو اور قیمہ الگ کرنے لگی…

اب وہ ایک کام میں تو ماہر ہو چکی تهی کهانا بنانے میں. .ایسا نہیں تها کہ اسے کهانا بنانا نہیں آتا تها لیکن اس عجیب کچن میں کهانا بنانے کا اس کا تجربہ نیا تها… یہاں سب کام آسان تهے گاوں کی نسبت. .. یہاں چولہا جلانے کے لیے لکڑیاں ڈهونڈ ڈهونڈ کر نہیں لانی پڑتیں تهیں… پانی کا انتظام پاس میں ہی تها اور ہر چیز علیحدہ علیحدہ صاف نظر آ رہا تها جبکہ وہاں سالن میں نمک ڈالو تو دو گهنٹے تک مرچوں کا ڈبہ نہ ملے…. یہاں ساری سہولیات ہونے کے باوجود بھی وہ شروع شروع میں کچھ جهجک رہی تھی لیکن اب چونکہ وہ کچن کے بارے میں کافی معلومات حاصل کر چکی تهی اس لیے اسے کام کرنے میں بہت مزا آ رہا تها ..

روز بروز نئی نئی چیزوں سے آشنا ہو رہی تھی. .. قیمہ تیار ہونے میں ابهی کافی وقت تها اس لیے وہ اپنے کمرے میں آئی اسے ایک بار اس کی ایک سہیلی نے بتایا تها….

بانی یہ جو شہری مرد ہوتے ہیں ان کو کریم پاوڈر والی لڑکیاں بہت پسند آتی ہیں..اس وقت تو اس نے اس بات پہ غور نہیں کیا لیکن اب چونکہ مصیبت سر پہ آن پڑی تھی تو ان سب چیزوں کو استعمال کرنا تها..وہ میک اپ کا ڈبہ جو دادی نے اسے دیا تها وہ جوں کا توں پڑا ہوا تها اس نے ہاتھ تک نہیں لگایا .اسے میک اپ سے ہمیشہ چڑ ہوا کرتی تهی اور اسے اچهے سے میک اپ آتا بھی کہاں تها اس نے کهبی میک اپ کیا ہی نہیں کهبی ضرورت ہی نہیں پڑی وہاں پہ بھی صرف صابن سے منہ دهویا کرتی تهی……………

اس نے اپنی پرانی لوہے کی پیٹی سے وہ میک اپ والا ڈبہ باہر نکالا..

اس ڈبے میں ایسی چیزیں تهیں جن کے نام تو دور شکل تک کهبی نہیں دیکهی اس نے..

اب ایسے میں انہیں استعمال کرنا کافی مشکل تها..

اس نے سارا سامان الٹ پلٹ کر دیکها اسے ان سیکڑوں چیزوں میں جو کام کی چیز لگی وہ منہ پہ لگانے والی کریم، لپ اسٹک، اور آئی شیڈ تهی..باقی سارا کا سارا سامان اس کے لیے بے کار تها…….

یہ تینوں چیزیں لے کر وہ آئینے کے سامنے بیٹھ گئی. کریم تو جیسے تیسے لگا ہی لیا اس نے آئی شیڈ بهی ترتیب اور بے ترتیبی سے لگ گیا اب اصل مسئلہ لپ اسٹک کا تها… اس نے کهبی خود لپ اسٹک نہیں لگایا بچپن میں بھی جب کوئی شادی وغیرہ ہوتی تو اس کی کزنز اس کو زبردستی لپ اسٹک لگایا کرتیں اسے ان سب چیزوں میں کهبی کوئی دلچسپی نہیں تھی…….

دس مرتبہ اس نے لپ اسٹک لگایا اور ایک مرتبہ بھی سہی نہ لگا سکی لیکن اس نے کوشش کرنا نہیں چهوڑا.. وہ تب تک لگاتی رہی جب تک سہی نہیں لگا اور بیس منٹ کی مشقت کے بعد بہرحال اس نے کچھ ڈھنگ سے لپ اسٹک لگا ہی لی… اسے بالکل پرفیکٹ تو خیر اب بھی نہیں کہا جا سکتا تها لیکن پہلے کی نسبت کافی بہتر تهی…. اس نے نیلے رنگ کی فراک پہن رکهی تهی نیلا رنگ اس کا پسندیدہ رنگ تها اس لیے اس نے اس کی پسند سے ہی خود کو تیار کیا”