Dulhan by Nasir Hussain NovelR50403 Dulhan Episode 4
Rate this Novel
Dulhan Episode 4
Dulhan by Nasir Hussain
ایک تو تهکن کافی محسوس ہو رہی تهی اور اوپر سے ٹینشن اسے کهائے جا رہے تھے اپنے کمرے میں آ کر اس نے بیگ صوفے پہ پهینک دیا اور خود جوتوں سمیت بیڈ پہ لیٹ گیا…یہ شاید اس کی زندگی کے سب سے برے دن چل رہے تهے گهر آتے ہی سب سے پہلے زوجہ محترمہ کے درشن ہو گئے ..وہ پہلے سے ہی بہت ڈسٹرب تها اور رہی سہی کسر محترمہ نے پوری کر دی..اسے تو یہ سوچ سوچ کر ہی تکلیف ہو رہی تهی یہ ان پڑھ گوار لڑکی اس کی بیوی کی حیثیت سے اس گهر میں موجود ہے…….
کافی دیر وہ یونہی بیڈ پہ لیٹا رہا جب تهکن کا احساس کافی حد تک کم ہوا تو اسے بهوک لگنا شروع ہوئی..واش روم میں جا کر اس نے ہاتھ منہ دهوئے اور نیچے چلا گیا…اس نے متلاشی نگاہوں سے ادهر ادهر دیکها وہ نظر نہیں آئی..لیکن اسے خود کے اس طرح متلاشی ہو کر دیکهنے پہ بہت غصہ آیا وہ کہاں ہے کیا کر رہی ہے اس سے اسے کیا مطلب جہنم میں جائے اس کی بلا سے………
لیکن ٹیبل کے پاس پہنچ کر اس نے اپنا مطلوبہ شاپر غائب پایا جس میں وہ ہوٹل سے اپنے لیے کهانا لے کر آیا تها..
ویسے تو وہ ہمیشہ اپنے لیے گهر پہ کهانا خود بناتا تھا لیکن آج تهوڑا تهکا ہوا اور پریشان تها اس لیے اس نے ہوٹل سے کهانا خرید لیا. .مگر یہ شاپر اچانک کیسے کہاں غائب ہو گئی. ..اسے سمجهنے میں دیر نہیں لگا یہ ضرور اس کی جاہل زوجہ محترمہ کا کام ہو گا..لیکن وہ اس طرح شاپر لے جا کر کہاں غائب ہو گئی. .کیا اسے بهوک لگ رہی تهی…اور وہ کهانا وہ اپنے لیے لے گئی…لیکن وہ خود بھی تو بنا کر کها سکتی تهی..بقول دادی کے تو وہ ہوٹلوں سے بهی اچها کهانا بناتی ہے. …..وہ غصے سے کهولتا ہوا کرسی پہ بیٹھ گیا. …..
اور آنکھیں بند کر کرسی کی پشت پر ٹیک لگا دی..اور پھر اس نے اپنی آنکھیں تب کهولیں جب اس نے ٹیبل پہ کچھ رکهنے کی آواز سنی…وہ ٹیبل پہ مختلف پلیٹوں میں کهانا لگا رہی تهی…اس نے ایک نظر اسے دیکها جو حد سے زیادہ خوش فہمی میں نظر آ رہی تهی..اور پھر کهانے کو دیکهنے لگا. .
جو وہ بے ترتیبی سے ٹیبل پہ سجا رہی تهی..سالن کے بڑے ڈونگے میں اس نے بریانی ڈالی ہوئی تهی اور چاولوں کی پلیٹ میں اس نے سالن نکالا ہوا تها اور سب سے عجیب بات اس نے روٹیاں پتیلے میں رکھ دیں تهیں…اس نے غصہ ضبط کر لیا اور صرف خاموشی سے اسے یہ سب کاروائی کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا. .جب وہ سب کچھ مکمل کر چکی تب بھی وہ وہیں کهڑی اسے دیکهتی رہی…..
کچھ چاہیے. ..اس نے سرد لہجے میں اسے مخاطب کیا..اسے مخاطب کرنا اس کی مجبوری تهی وہ کهانے کے دوران اسے بالکل بھی اپنے پاس نہیں دیکھ سکتا تها..وہ اپنی گردن ہلا کر دوبارہ کچن میں چلی گئی اور برتن دهونے لگی لیکن وہ جانتا تها وہ برتن دهوتے ہوئے بھی اسے ہی دیکھ رہی ہے. …….
وہ اسے نظر انداز کر کے کهانے کی طرف متوجہ ہوا.اس کی لائی ہوئی ساری چیزوں کے ساتھ بریانی کا بھی اضافہ تها .یہ بریانی وہ تو نہیں لایا تها تو پھر ضرور دادی کی اس سگهڑ بہو نے بنائے ہوں گے .ویسے تو بریانی اس کی پسندیدہ ڈش تهی لیکن یہ چونکہ اس محترمہ نے بنایا تھا اس لیے وہ اس ٹیبل پہ موجود بریانی کو چهوڑ کر ہر ڈش کے ساتھ انصاف کرنے لگا..حالانکہ اس کا دل بہت چاہ رہا تها وہ بریانی کهائے لیکن دل کی اس خواہش کے درمیان اس کی انا آ رہی تهی اور وہ صرف بریانی کے لیے اپنی انا کهبی نہیں کچل سکتا تها…………….
کهانے کے بعد ٹشو سے ہاتھ صاف کرتا وہ لاونج میں رکهی ٹی وی دیکهنے لگا . ٹی وی دیکهتے وقت بھی وہ پتا نہیں کیوں بار بار ادھر ادھر دیکھ رہا تھا. .
دو گهنٹے کے بعد وہ ٹی وی کو چهوڑ کر اپنے کمرے کی طرف جا رہا تها حالانکہ وہ جو مووی دیکھ رہا تھا اس کے ختم ہونے میں ابهی آدها گهنٹہ باقی تها لیکن پتا نہیں کیوں اس کا ٹی وی دیکهنے کو بالکل دل نہیں چاہ رہا تھا .ایسا پہلے کهبی نہیں ہوا وہ ہر مووی مکمل ہی دیکها کرتا…..
سیڑھیاں عبور کر کے وہ اپنے کمرے میں آیا ..کمرے میں جاتے ہی سب سے پہلی نظر اس پہ ہی پڑی وہ فرش پہ پوری دنیا سے بے خبر سو رہی تهی..کتنے اطمینان سے وہ نیند کی آغوش میں تهی. .اس کا سکون چهین کر ، اس کی خوشی چهین کر……
وہ بنا کوئی آواز پیدا کیے بیڈ پہ آ کر لیٹ گیا. نیند کو کافی دیر تک بلانے کی کوشش کرتا رہا..بہرحال رات کے جانے کون سے پہر وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہو چکا تها………………
پهر اسے کی آنکھ رات کے دو بجے کهلی اس نے اس لڑکی کو دیکها جو بے خبر سو رہی تهی ..اسے پیاس اور بهوک کا احساس ہوا ..عموماً رات کو اسے بهوک اور پیاس کا احساس ہوتا رہتا اس لیے وہ ہمیشہ اپنے لیے فریج میں کهانا بچا کر رکهتا..لیکن آج جہاں تک اسے یاد پڑ رہا ہے وہ جو کهانا لایا تها وہ سارا ختم کر چکا تها اب اسے اپنی بهوک مٹانے کے لیے خود ہی کچھ نہ کچھ بنانا تها….وہ دروازہ کھول کر باہر نکل گیا……….
دروازہ کھلنے کی آواز سے اس کی آنکھ کهلی..اس نے سب سے پہلے اٹھ کر دروازے کو نہیں بیڈ کو دیکها..جب اسے بیڈ سے غائب پایا تو وہ حیرانی سے کهڑی ہوگئی..سامنے دیوار پہ لگی سوئیوں والی گهڑی سے اس نے وقت کا اندازہ لگانے کی کوشش کی تو اسے حیرت ہوئی دو بج رہے تهے. .اتنی رات کو وہ باہر کیا کرنے چلا گیا…پانی پینے. …؟
نہیں پانی کا تو جگ رکها ہوا ہے پهر کہاں گیا ..اسے تجسس ہونے لگی اور وہ کمرے سے باہر نکل آئی ..آہستہ آہستہ ادهر ادهر نگاہیں دوڑاتے ہوئے وہ سنگ مرمر سے بنی سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگی اسے کچن سے کچھ آوازیں آنے لگیں…اس نے قدموں کا رخ کچن کی جانب کر دیا …. ……….
کچن کے دروازے پہ پہنچ کر اس پہ عجیب انکشاف ہوا ..وہ رات کے دو بجے کهانا کها رہا تها اس کا منہ دوسری طرف تها اس لیے وہ اسے دیکھ نہ سکا….اور غور کرنے پہ اسے پتا چلا وہ اس کی بنائی ہوئی بریانی کها رہا تها ..یہ انکشاف خوشگوار تها اس کے چہرے پہ مسکراہٹ کے ساتھ ساتھ حیرت بهی تهی….
رات کے کهانے میں ٹیبل پہ موجود ہر شے کهانے والا اس کا وہ شوہر محترم صرف اور صرف اس کی بنائی ہوئی بریانی کو نظر انداز کر گیا…اسے اس وقت حقیقتاً بہت دکھ ہوا. .وہ کچن میں کافی دیر تک روتی رہی اس نے اتنی محنت سے اس کے لیے بریانی بنائی تهی اور اس نے چکهنا تک گوارا نہیں کیا. .
اسے غصہ آیا اپنے مغرور شوہر پہ…اسے جتنا غصہ تها جتنا دکھ تها وہ سب اب ختم ہو چکا تها..رات کے کهانے میں اس کے انا پرست شوہر نے بریانی کو ہاتھ تک نہیں لگایا اور اب رات کے دو بجے وہ اس کی بنائی ہوئی بریانی کتنی رغبت سے کها رہا تها………….
وہ دروازے سے واپس پلٹ آئی ..اور کمرے میں آ کر سونے کے لیے لیٹ گئی..اسے پہلے اگر دکھ کی وجہ سے نیند نہیں آ رہی تهی تو اب وہ خوشی سے سو نہیں پائے گی…………
بیس منٹ بعد اس نے دروازے پہ اس کی آمد کو محسوس کیا. .لیکن وہ خود کو سوتا ہوا ظاہر کر رہی تهی ..جبکہ دل ہی دل میں اپنے شوہر کی اس عجیب و غریب چوری پہ مسکرا بھی رہی تھی
