Dulhan by Nasir Hussain NovelR50403 Dulhan Episode 3
Rate this Novel
Dulhan Episode 3
Dulhan by Nasir Hussain
افراہیم تو آفس جا چکا تها جبکہ وہ وہیں ٹی وی کے پاس گم سم سی کهڑی تهی. باقی کا وقت وہ ادهر ادهر گهر کا جائزہ لیتی رہی لیکن ان سب سے بهی اس کی بوریت بالکل ختم نہیں ہوئی حالانکہ وہاں ٹائم پاس کے لیے کافی چیزیں تهیں..میگزین اور ڈائجسٹ یہ تو وہ پڑھ نہیں سکتی تهی اور رہی بات ٹی وی کی تو وہ ڈر کے اسے آن نہیں کر رہی تهی کیونکہ بچپن میں اس نے سنا تھا ان سب چیزوں میں کرنٹ ہوتا ہے اور آن ہوتے ہی پهٹ جاتے ہیں. .وہ بچپن کے اس ڈر کو اپنے دل سے نکال ہی نہیں پائی…..دوپہر کا کهانا اس نے خود اپنے لیے بنایا تھا گهر میں ضرورت کی ہر شے موجود تهی یہ الگ بات ہے کہ ان چیزوں کو تلاش کرنے میں اس کا کافی وقت ضائع ہو گیا..امیر لوگوں کی ہر شے الگ ہوتی ہے واش روم سے لے کر کچن تک…
جتنا بڑا ان کا واش روم ہوتا ہے وہاں گاوں میں دو کمرے اتنی جگہ پہ بن جاتے ..اور باقی سازو سامان الگ..پہلے پہل تو وہ واش روم کو دیکھ کر حیران ہوئی ..اس کے شوہر محترم شادی کے تیسرے دن ہی آفس چلے گئے اپنی نئی نویلی دلہن کو اتنے بڑے گهر میں اکیلے چهوڑ کر…………………
اس نے تو کهبی زندگی میں ان سب چیزوں کی تمنا نہیں کی تهی یہ سب تو اسے بنا مانگے ہی مل گیا لیکن اتنی جلدی اتنی آسانی سے بڑی چیزیں کهبی نہیں ملا کرتیں…….
عصر کی نماز ادا کر کے وہ ایک بار پھر کچن میں گهس گئی اتنی بڑی عمارت میں اس کی کام کی جگہ صرف کچن ہی تهی…وہ اپنے شوہر کے لیے اپنے ہاتھوں سے کچھ اچها بنانا چاہتی تهی اس لیے وقت سے پہلے ہی تیاری کرنے لگی..
وہ جانتی تھی آدهے گهنٹے کے کام میں وہ تین گهنٹے تو ضرور لگا دے گی….اس نے کہیں سنا تها کہ شوہر کے دل کا راستہ اس کے پیٹ سے ہو کر جاتا ہے اس لیے وہ اپنے شوہر کے دل میں جگہ بنانے کے لیے اس کی پسندیدہ بریانی بنانا چاہتی تهی….
اس کی پسند نا پسند اور اس کے بارے میں کچھ اور معلومات دادی نے عمرے پہ جانے سے پہلے اسے فراہم کیں تهیں..چاہے وہ اس سے ناپسند کرے چاہے وہ اس سے نفرت کرے مگر وہ ۔۔۔۔۔۔ وہ کهبی اس سے نفرت نہیں کرے گی وہ ایک بیوی ہونے کا فرض ضرور نبهائے گی….چاہے وہ شوہر ہونے کا فرض نبهائے یا نا نبهائے……
صبح سے کچن میں مختلف الٹے سیدھے تجربات کر کے وہ اب کافی حد تک سمجھ چکی تهی….اسے اس کے واپس آنے کا وقت نہیں پتا تها اس لیے سب کچھ جلدی جلدی کرنا چاہتی تهی. ..اپنی مطلوبہ ہر شے اس نے اپنے پاس کر لیا..اور پیاز کاٹنے لگ گئی پیاز کاٹنے سے اس کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے..یہ صرف پیاز کاٹنے کے آنسو تهے یا ان میں کوئی اور آنسو بھی شامل ہو گئے یہ وہ نہیں سمجھ سکی…….
فریج سے گوشت نکال کر اس نے پتیلے میں ڈال دیے .اور چولہے کی آگ تهوڑی کم کر کے وہ مغرب کی نماز ادا کرنے کمرے میں چلی گئی…..
جب نماز پڑھ کر واپس آئی تو بریانی تیار ہو چکی تهی اس نے احتیاطی طور پر پہلے خود چیک کر کے دیکها.اسے تو ٹهیک لگا لیکن پتا نہیں اس کے شوہر محترم کو پسند آئے گا بهی یا نہیں. ..وہ اور بھی کچھ بنانا چاہتی تهی لیکن بریانی بنانے میں ہی اتنا وقت ضائع ہو گیا کہ مزید کچھ بنانے کی گنجائش نہیں رہی..وہ اب آہستہ آہستہ کچن سمیٹنے لگی ایک بریانی بنانے کے چکر میں اس نے پورے کا پورا کچن بکهیر کر رکھ دیا تها………..
اس نے دروازہ کھلنے کی آواز سنی وہ بهاگتی ہوئی کچن کے دروازے تک گئی وہ اپنا بیگ اٹهائے اندر داخل ہو چکا تها. ..اس کے ہاتھوں میں شاید کچھ کهانے کا سامان بھی تها جو اس نے ٹیبل پر رکھ دیا اور خود اپنے کمرے کی طرف چلا گیا..
