Deewangi By Zeenia Sharjeel NovelR50394 Deewangi (Episode 9)
No Download Link
Rate this Novel
Deewangi (Episode 9)
Deewangi By Zeenia Sharjeel
“گھر چلو”
آدھے گھنٹے بعد درید کی آواز سنائی دی تو زمل اپنے گھٹنوں سے سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔ وہ چہرے پر سخت غصے والے تاثر لیے زمل سے مخاطب تھا، زمل کو اس وقت بھی درید سے خوف آ رہا تھا
“تمہاری کار میں ڈرائیو کر لیتا ہوں میرا مطلب ہے تم دونوں کو گھر میں چھوڑ دیتا ہوں”
احمر بھی اسی کمرے میں آکر بیچ میں مداخلت کرتا ہوا درید سے بولا
“میں اب ٹھیک ہوں احمر، ابھی ڈیڈ کی کال آئی تھی وہ اس کے لیے پریشان ہیں کافی ٹائم گزر چکا ہے اس کو گھر سے نکلے ہوئے۔۔۔ میں ان سے کہہ چکا ہوں کہ میں زمل کو لے کر گھر آ رہا ہوں”
درید احمر کو بولتا ہوا زمل کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے نکل گیا
کار میں پورے راستے ان دونوں کے درمیان خاموشی رہی تھی جیسے ہی کار پورچ میں آکر رکی تو درید کار سے اتر کر زمل کی طرف کا دروازہ کھولتا ہوا اس کی کلائی پکڑ کر زمل کو کار سے باہر نکلنے لگا
“دید پلیز ڈیڈ اور مما کو کچھ بھی مت بتائیے گا، ورنہ میں ان دونوں سے نظریں نہیں ملا پاؤں گی۔۔۔ میں آپ کی ہر بات مانو گی، آپ جو کہے گیں وہ کرو گی، گھر سے باہر بالکل بھی قدم نہیں نکالو گی،، نہ ہی کوئی دوست بناؤ گی پلیز دید۔ ۔۔۔ آپ مجھے ڈیڈ کے بیڈ روم میں کیوں لے کر جا رہے ہیں۔۔۔ میں بول تو رہی ہوں آپ کی ہر بات مانو گی اب”
وہ زمل کی کلائی پکڑ کر تقریباً اس کو کھینچتا ہوا اعظم اور تابندہ کے بیڈروم میں لے کر جارہا تھا کیونکہ گھر پر ابھی تک سرونٹس موجود تھے زمل مسلسل روتی ہوئی درید سے منتوں پر اتر آئی تھی جن کا درید پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا
“منہ بند کر کے خاموشی سے چلو زمل ورنہ میں تمہارا یہی حشر بگاڑ دوں گا”
زمل درید سے اپنی کلائی چھڑانے کی کوشش کرنے لگی تو وہ زمل کو آنکھیں دکھاتا ہوا بولا اور اعظم کے بیڈروم میں لاکر زمل کو زور سے دھکا دیا۔۔۔ زمل کے گرنے پر ٹیبل کا کارنر اس کے سر پر لگا اعظم حیرت زدہ ہو کر بیڈ سے اٹھا جبکہ تابندہ دوڑ کر زمل کے پاس آئی
“یہ کیا بیہودہ حرکت ہے درید کچھ احساس ہے تمہیں کتنی زور سے ٹیبل کا کونا اس کے سر پر لگا ہے”
اس سے پہلے تابندہ درید پر بگڑتی اعظم بیڈ سے اٹھ کر درید سے سخت لہجے میں مخاطب ہوا
“اس سے پوچھیں یہ کیا بیہودہ حرکت کر کہ آئی ہے، جو قدم آج اس نے اٹھایا ہے آپ کو اگر معلوم ہو گیا تو آپ کا دل کرے گا کہ آپ اسے جان سے مار ڈالیں”
درید غصے میں آعظم کو دیکھتا ہوا بولا تو زمل سمجھ گئی کہ اب ایک اور قیامت کا منظر اس کا منتظر ہے۔۔۔ جو ماں اس وقت اس کے چوٹ لگنے پر اس کو پیار کر رہی ہے تھوڑی دیر بعد وہی اس پر قہر برسائے گی۔۔۔ وہ ابھی بھی درید کو التجائی نظروں سے دیکھ رہی تھی مگر درید غصے میں اعظم اور تابندہ کو سب کچھ بتاتا چلا گیا جس پر زمل کا سر شرم سے جھک گیا
“زمل یہاں میری طرف دیکھو اور مجھے بتاؤ کہ درید کی باتوں میں کتنی سچائی ہے”
درید کی بات سن کر اعظم بالکل خاموش ہو چکا تھا جبکہ تابندہ بے یقینی سے زمل کو دیکھ رہی تھی اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ زمل اس سے غلط بیانی کر سکتی ہے اس لیے وہ زمل سے پوچھنے لگی
“مما سس۔ ۔۔ سوری نور نے مجھ سے کہا تھا کہ اپنی مما سے میلاد کا بولو گی تو باہر جانے کی پرمیشن آسانی سے مل جائے گی”
زمل کی بات سن کر تابندہ نے اس کے گال پر تھپڑ مارنا شروع کر دیے
“تابی کیا ہو گیا ہے تمہیں، جوان بیٹی پر ہاتھ اٹھا رہی ہو پاگل تو نہیں ہو گئی ہو تم”
اعظم ایک دم تابندہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے پیچھے ہٹاتا ہوا بولا جبکہ درید وہی کھڑا ہوا اب بھی سخت نظروں سے زمل کے سرخ چہرے کو دیکھ رہا تھا، اب زمل خود بھی درید کو غصے کے ساتھ ساتھ نفرت سے گھور رہی تھی
“اعظم آپ وہی پر موجود تھے ناں،، اس نے کیسے مجھ سے ریکویسٹ کرکے میلاد میں جانے کی پرمیشن لی تھی اور میں نے یہ سوچ کر اس کو پرمیشن دی تھی کہ درید اس کو کہیں آنے جانے نہیں دیتا۔۔۔ اس نے مجھ سے غلط بیانی کی، جھوٹ بولا اعظم کیا ہوتا اگر درید وہاں پر نہیں پہنچتا۔ ۔۔ اس نے تو مجھے زلیل رسوا کروانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی”
تابندہ بولتی ہوئی زارو قطار رونے لگی زمل کے اس قدم پر اسے کافی تکلیف پہنچی تھی۔۔۔ اعظم تابندہ کو بیڈ پر بٹھاتا ہوا زمل کے پاس آیا تب ایک دم درید بولا
“ڈیڈ مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنا ہے”
درید کے بولنے پر اعظم مڑ کر اسے دیکھتا ہوا بولا
“اپنے کمرے میں جاؤ میں آ رہا ہوں تھوڑی دیر میں”
وہ درید سے بولتا ہوا زمل کو اٹھانے لگا جو کہ ابھی تک سر جھکائے ٹیبل کے پاس نیچے ہی بیٹھی تھی
“اپنے کمرے میں نہیں یہی سب کے سامنے بات کرنا ہے مجھے”
درید کے بولنے پر اعظم آنکھوں سے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کرنے لگا
“چلو بیٹا اپنے روم میں جاؤ آپ”
آعظم زمل کو بولتا ہوا اس کے کمرے میں اسے خود چھوڑنے چلا گیا تو درید وہی کھڑا اعظم کا انتظار کرنے تھا جبکہ تابندہ ابھی بھی درید کی طرف دیکھے بغیر رو رہی تھی
“اب بولو”
اعظم واپس آتا ہوا درید سے بولا وہ نہیں چاہتا تھا کہ زمل کے سامنے مزید کوئی اس ٹاپک پر دوبارہ بات کی جائے
“میں لندن جانے سے پہلے زمل سے نکاح کرنا چاہتا ہوں”
درید کی بات سن کر اعظم حیرت سے اسے دیکھنے لگا بلکہ اب تابندہ بھی اسی کو دیکھ رہی تھی
“ایسا کیسے ممکن ہے زمل صرف پندرہ سال کی ہے اور تمہاری پرسوں فلائٹ ہے اتنی جلدی کیسے نکاح ہو سکتا ہے”
اعظم کے اعتراض اٹھانے پر درید سے پہلے تابندہ بول اٹھی
“کل سادگی سے گھر میں ہی نکاح کی تقریب رکھ لیتے ہیں، آپ نے جن خاص لوگوں کو بلانا ہو انہیں آج ہی موبائل پر انوٹیشن دے دیئے گا”
تابندہ اپنے آنسو پوچھتی ہوئی اعظم سے مخاطب ہوئی تو اعظم کے ساتھ درید بھی اس کو دیکھنے لگا
*****
زمل کی حرکت پر تابندہ نے اتنا اثر لیا کہ اس کی حالت رات میں بگڑ گئی جس کی وجہ سے اسے ہاسپٹل لے جانا پڑا۔ ۔۔ زمل اپنے آپ کو زمین میں گڑھتا ہوا محسوس کرنے لگی اسے نہیں معلوم تھا کہ اس کی ایک چھوٹی سی غلطی کے اتنے بھیانک نتائج سامنے آئیں گے ساری رات اس کی آنکھوں میں کٹی تھی اذان کی آواز پر اسے احساس ہوا کہ دن کا آغاز ہو چکا ہے باہر گاڑی کی آواز پر وہ اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی جہاں درید ڈرائیونگ سیٹ سے اتر رہا تھا جبکہ اعظم تابندہ کو تھامے گھر کے اندر لا رہا تھا۔۔۔۔ آدھا گھنٹہ گزرنے کے بعد جب اسے یقین ہو گیا کہ درید اپنے کمرے میں چلا گیا ہوگا تب زمل اپنے کمرے سے نکل کر اعظم کے کمرے کی طرف گئی، دروازہ کھلا
“بیٹا خیریت آپ اتنی صبح کیوں جاگ گئیں”
اعظم دروازے پر کھڑی زمل کو دیکھ کر پوچھنے لگا ایک وہی شخص گھر میں اس پر بغیر غصے کے نارمل انداز میں بات کر رہا تھا
“ڈیڈ مما کی طبیعت کیسی ہے اب، میں ان کو دیکھنا چاہتی ہوں ان سے بات کرنا چاہتی ہوں”
زمل اعظم کو بتا نہیں سکی کہ وہ ایک پل کے لئے بھی سوئی نہیں تھی وہ اعظم کے سوال کے جواب میں شرمندہ ہوتی ہوئی تابندہ کی فکر کرتی اعظم سے اس کا پوچھنے لگی
“تابی کی تھوڑی دیر پہلے ہی آنکھ لگی ہے بیٹا ابھی آپ اس سے بات کرو گی تو اس کی نیند ڈسٹرب ہو گی جب وہ جاگ جائے گی تو میں آپ کو بتا دوں گا تب آپ اپنی مما سے بات کر لینا۔۔۔ ابھی آپ بھی اپنے کمرے میں جاکر آرام کریئے شاباش”
زمل کو اس وقت اپنے سامنے دیکھ کر تابندہ کی دوبارہ طبیعت خراب ہوتی اس لئے اعظم اسے نرمی سے سمجھاتا ہوا بولا تو زمل خاموش ہوگئی۔۔۔ اعظم نے کمرے کا دروازہ آدھے سے زیادہ کھولا ہوا تاکہ زمل تابندہ کو سوتا ہوا دیکھ سکے
“مجھے آپ سے بھی بات کرنا تھی ڈیڈ”
زمل نظریں چراتی ہوئی اعظم سے بولی وہ جانتی تھی اعظم تابندہ کے بارے میں صحیح کہہ رہا ہے وہ خود بھی آہستہ آواز میں بولی تاکہ تابندہ کی نیند ڈسٹرب نہ ہو
“چلیں آئت لیونگ روم میں چلتے ہیں”
اعظم کمرے کا دروازہ بند کرکے زمل سے مخاطب ہوا تو وہ اعظم کے پیچھے لیونگ روم میں چلی آئی
“ارے یہاں پر نیچے کیوں بیٹھ گئی ہو بیٹا آپ”
اعظم صوفے پر بیٹھتا ہوا زمل کے بولنے کا منتظر تھا تو زمل صوفے کی بجائے اعظم کے پاس فرش پر بیٹھی جبھی اعظم اس سے بے ساختہ بولا
“نہیں ڈیڈ مجھے یہی بیٹھا رہنے دیں میں اس لائق نہیں ہوں کہ آپ کے اور مما کے ساتھ بیٹھو یا آپ سب سے نظریں ملا سکوں”
زمل روتی ہوئی اعظم سے بولی
“نہیں بیٹا آپ بیٹی ہو ہم دونوں کی، ایسا مت سوچیں” اعظم زمل کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھتا ہوا بولا زمل کو دوبارہ کو اٹھانا چاہا تو وہ دوبارہ نفی میں سر ہلا کر منع کرتی ہوئی بولی
“یہ صحیح ہے کہ میں وہاں نور اور وائبہ کے ساتھ ہوٹل میں جانا چاہتی تھی، مگر مجھے محسوس ہوا کہ آپ یا مما مجھے پرمیشن نہیں دیں گیں تب مجھے نور کا بتایا ہوا آئیڈیا برا نہیں لگا اور میں نے آپ دونوں سے جھوٹ کہا کہ اسکول کی طرف سے میلاد کی تقریب ہے مگر مجھے بالکل بھی معلوم نہیں تھا کہ نور نے وہاں اپنے کزن کو بھی بلایا ہوا ہے یا پھر نور اور وائبہ کے فرینڈ بھی وہاں پر پہلے سے موجود تھے میں بالکل صحیح بول رہی ہیں۔۔۔ جب وہ لوگ آپس میں اوپر روم لینے کی بات کر رہے تھے تب مجھے اندازہ نہیں ہو سکا وہ لوگ کس پرپز کے لیے روم بُک کروانا چاہتے ہیں۔۔۔ جب نور کے کزن نے اس روم میں میرے ساتھ بدتمیزی کرنا چاہیی تو میں اس روم سے جانا چاہتی تھی مگر اس سے پہلے ہی دید وہاں پر پہنچ گئے اور نور نے دید سے سب کچھ جھوٹ بولا۔۔۔ ڈیڈ میں قسم کھا کر کہتی ہوں دید مجھے جیسی لڑکی سمجھ رہے ہیں میں ویسی لڑکی نہیں ہوں”
وہ اعظم کے سامنے بیٹھی روتی ہوئی اسے اپنی سچائی بیان کرنے لگی
“بیٹا سب سے پہلی بات تو یہ آپ کو جھوٹ بول کر کہیں بھی نہیں جانا چاہیے تھا، جب میں اور آپ کی مما آپ کو میلاد میں جانے کی پرمیشن دے سکتے ہیں تو فرینڈز کے ساتھ باہر ڈنر کرنے کی کیوں نہیں دیتے مگر اس سے پہلے یہ بات سمجھنے کی ہے کہ انسان کو خود دیکھ بھال کرکے اپنے دوست بنانا چاہیے کیوکہ ہمارے دوستو سے ہی ہماری شخصیت کا پتہ چلتا ہے۔۔۔ ہماری عادتوں سے، ہمارے بات کرنے سے، خیالات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم کن لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں۔۔۔ یہ بات آپ خود بھی بچپن سے اپنے گھر میں دیکھتی آ رہی ہیں کہ آپ کی مما اور درید کی آپس میں بالکل بھی انڈرسٹینڈنگ نہیں ہے مگر پھر بھی تابی کچھ باتوں پر درید کی مخالفت نہیں کرتی بلکہ خاموش رہتی ہے جیسے آپ کو کہاں آنا جانا چاہیے، کس سے ملنا چاہیے، آپ کی کس طرح کی فرینڈز ہونی چاہیے۔۔۔ ان سب باتوں کا خیال اگر درید رکھتا ہے تو تابی کبھی بھی اس کے اگینسٹ بات نہیں کرتی کیونکہ وہ اچھی طرح جانتی ہے کہ درید یہ سب آپ کے اچھے کے لئے کرتا ہے، وہ آپ کی کیئر کرتا ہے۔۔۔ ہاں بعض وقت وہ بہت زیادہ ان سکیور ہو جاتا ہے جس پر تابی کو بھی اچھا نہیں لگتا اور میں بھی پھر اس کے ساتھ سختی سے پیش آتا ہوں۔۔۔ آپ جانتی ہیں ہم سب گھر والے آپ سے بہت پیار کرتے ہیں کیونکہ آپ بہت انوسینٹ ہیں اور ساتھ ہی ام میچور بھی، آپ کو دنیا کا نہیں معلوم آپ اپنے ذہن سے یا بات نکال دیں کہ درید نے نور کی بات کا یقین کیا ہوگا اسے صرف اس بات پر غصہ ہے کہ آپ گھر میں غلط بیانی کر کے باہر گئیں۔ ۔۔ بیٹا آپ کو مجھے، تابندہ کو یا پھر درید کو اپنا یقین دلانے کے لیے کسی قسم کی قسم کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ آپ کیسی ہیں یہ ہم سب اچھی طرح سے جانتے ہیں اور اب آپ اس طرح سے بالکل نہیں روئے گیں”
اعظم نرمی سے زمل کو سمجھا رہا تھا جبکہ لیونگ روم کے دروازے پر کھڑا درید کی خاموشی سے اعظم کی باتیں سن رہا تھا، وہ اس وقت اعظم سے بات کرنے کے لئے اس کے کمرے کی طرف گیا تھا مگر لیونگ روم کی جلتی ہوئی لائٹ دیکھ کر زمل اور اعظم کی باتیں سن کر واپس اپنے کمرے میں چلا گیا
*****
تھوڑی دیر پہلے درید سے اس کا نکاح ہوا تھا اس کے لاکھ رونے، احتجاج کرنے کے باوجود زمل کو اپنے نکاح کے لیے حامی بھرنا پڑی کیونکہ درید کی مرضی کے ساتھ ساتھ اس نکاح میں تابندہ کی بھی نرضی شامل تھی۔۔۔ درید کے خوف کی وجہ سے، تابندہ کی ناراضگی اور طبیعت خرابی کی وجہ سے اور اعظم کے سمجھانے پر زمل نے نکاح نامے پر سائن کر دیئے، اس نے کبھی خواب میں یا تصور میں بھی درید کے ساتھ ایسے رشتے کا نہیں سوچا تھا جو تھوڑی دیر پہلے اس کا اور درید کا بن چکا تھا۔۔۔ چند منٹ پہلے نگہت اس کے کمرے میں کھانا لے کر آئی تھی اور ساتھ ہی درید کا پیغام بھی کہ اگر اس نے صبح کے ناشتے اور دوپہر کے کھانے کی طرح اس وقت رات کے کھانے سے انکار کیا تو وہ خود یہاں آکر اس کو کھانا کھلائے گا
زمل اس کے کھانا کھلانے کے طریقے کار سے اچھی طرح واقف تھی لیکن اس کے کھانا کھانے کی وجہ ڈر نہیں تھا بلکہ وہ اس وقت درید کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی اس لئے دل مار کر کھانا کھانے لگی۔۔۔ نگہت سے ہی اس کو معلوم ہوا تھا کہ درید کے ہاتھوں جو لڑکا کل زخمی ہوا تھا اس کے گھر والوں نے درید خلاف ایف آئی آر کٹوا دی تھی کیونکہ اس لڑکے کے سر پر کافی گہری چوٹ آئی تھی۔۔۔ لیکن اچھا یہ ہوا کہ اعظم نے بیچ میں پڑ کر اپنے تعلقات کی بنا پر، کچھ سفارشیں کروا کے اس معاملے کو بڑھنے نہیں دیا بلکہ دبا دیا ورنہ درید کے ملک سے باہر جانے میں مسلئہ کھڑا ہو جاتا
کل درید کی لندن کی فلائٹ تھی، کل تک زمل کا دل درید کے دور جانے پر اداس تھا لیکن اب وہ شکر ادا کر رہی تھی کہ درید یہاں سے جا رہا تھا اس وقت رات کے بارہ بج رہے تھے زمل لائٹ بند کیے بغیر،، آنکھوں پر اپنا ہاتھ رکھ کر بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی تب اس کے کمرے کا دروازہ کھلا۔۔ زمل نے درید کو کمرے میں آتا دیکھا تو اٹھ کر بیٹھ گئی
“اب کیا کرنے آئے ہیں آپ میرے کمرے میں”
زمل درید کو دیکھ کر ناراضگی اور غصے میں بولی کیونکہ زمل کو پورا یقین تھا کہ اس سے نکاح کرنے کے بارے میں کھبی درید نے بھی نہیں سوچا ہوگا یہ نکاح درید نے غصے اور ضد میں آکر کیا تھا
“تمہیں سبق سکھانے آیا ہوں”
درید چلتا ہوا زمل کے پاس آیا اور اس کو سنجیدگی سے جواب دینے لگا
“کل سے لے کر اب تک آپ سب کچھ ہی تو کر چکے ہیں میرے ساتھ۔۔۔ سارے سبق سکھا چکے ہیں آپ مجھے، پلیز چلے جائیں اب یہاں سے”
زمل درید کے سامنے آکر اسے دیکھتی ہوئی بولی تو درید نے اس کے دونوں بازوؤں کو سختی سے پکڑا
“نہیں ابھی تک سارے سبق نہیں سکھائے ہیں تمہیں۔۔۔ سب سے زیادہ اہم سبق سکھانے کے لئے میں نے آج تم سے نکاح کیا ہے۔۔۔ یہاں سے جانے سے پہلے میں تمہیں وہ سبق سکھا کر جاؤں گا جو تم ساری زندگی یاد رکھو گی”
درید نے بولنے کے ساتھ زمل کو بیڈ پر دھکا دیا وہ خوف سے درید کو دیکھ کر بیڈ سے اٹھ بیٹھی اور پیچھے کی طرف سرکنے لگی۔۔۔ تب درید سے زمل کے دونوں پاؤں اپنی طرف کھینچ کر اس کے اوپر جھکا
“دید نہیں آپ ایسے کیسا کر سکتے ہیں میرے ساتھ۔۔۔ آپ ایسے نہیں کر سکتے میرے ساتھ”
زمل روتی ہوئی درید کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے ہٹاتی ہوئی بولی تو درید نے ایک ہاتھ سے زمل کی دونوں کلائیوں کو سختی سے پکڑا، اپنے دوسرے ہاتھ سے زمل کی گردن پر دباؤ ڈالتا ہوا بولا
“اگر تمہارے رونے کی آواز کمرے سے باہر نکلی تو میں تمہیں جان سے مار ڈالوں گا۔۔۔ کل تو تمہیں احمر نے بچا لیا لیکن آج تمہیں مجھ سے کوئی بھی نہیں بچا سکتا یاد رکھنا”
درید کی دی ہوئی وارننگ سے زمل کا رونا بند ہوا وہ خوفزدہ نظروں سے درید کو دیکھنے لگی تب درید نے اس کی گردن سے اپنا ہاتھ ہٹایا
“جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے کے باوجود میں تمہیں ایک چھوٹی بچی سمجھتا تھا، مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ تمہارے اندر ایک پوری عورت چھپی بیٹھی ہے۔۔۔ میں تمہیں نائن کلاس میں پڑھنے والی ایک معصوم سی لڑکی سمجھتا تھا مجھے اس بات کا بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ تم ایک لڑکے اور لڑکی کی بیچ قائم تعلقات کے بارے میں مکمل جانکاری رکھتی ہو۔۔۔ تم گھر سے جھوٹ بول کر باہر نکلی جہاں شکاری اپنے شکار کی تاک میں بیٹھے ہوتے ہیں۔۔۔ اگر میں بروقت وہاں پر نہیں پہنچتا جانتی ہو وہ لڑکا تمہارے ساتھ کیا کرتا”
درید قہر برساتی آنکھوں سے زمل کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا تو زمل خوف کے مارے نفی میں سر ہلانے لگی
“مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا دید وہ لوگ وہاں روم میں جا کر کیا کرنے والے ہیں”
زمل درید کے بگڑے ہوئے تاثرات دیکھ کر اسے صفائی دیتی ہوئی بولی
“تمہیں یہ اندازہ تو ہونے لگا ہے ناں کہ اب میں تمہارے ساتھ کیا کرنے والا ہوں”
درید مزید زمل پر جھکاؤ ڈالتا ہوا کڑے تیوروں سے زمل کو گھورتا ہوا اس سے پوچھنے لگا اس کی بات سن کر زمل سکتے کی حالت میں درید کو دیکھنے لگی۔۔۔ مگر جیسے ہی درید نے اس کے نائٹ ڈریس کی شرٹ کا پہلا بٹن کھولا زمل بری طرح سسک اٹھی
“بتاؤ سہہ پائے گا تمہارا یہ نازک وجود اتنی سخت سزا، کہ جس کے بعد تم خود سے بھی نظریں نہ ملا پاؤ۔۔۔ جواب دو برداشت کر پاؤ گی تم درید اعظم کا وہ روپ جس کا تم نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو”
درید کی بات سن کر زمل سسکتی ہوئی رو پڑی ساتھ نفی میں سر ہلانے لگی
“میرے یہاں سے جانے کے بعد تم کبھی کوئی ایسا کام نہیں کروں گی جس سے ہماری فیملی کا سر شرمندگی سے جھکے، گھر سے باہر اب تم صرف اپنی اسٹڈی کے لیے نکلو گی، اگر مجھے معلوم ہوا کے تم نے کسی لڑکی یا لڑکے سے دوستی کی یا بات چیت کی تو میں اسی وقت واپس آکر تمہارا حشر بگاڑ دوں گا، یہ جو تمہارا جسم ہے اس پر صرف میری مرضی، میرا حق چلے گا اب زندگی بھر، تمہارے اس جسم پر ہی نہیں تمہاری ان سانسوں پر بھی میرا اختیار ہوگا سمجھ میں آرہا ہے تمہیں”
درید زمل کو تنبہی کرتا ہوا بولا۔۔۔ درید بیڈ پر سے اٹھا تو زمل اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپاتی ہوئی سسک اٹھی
“کل کی تمہاری اُس حرکت نے میرا اور تمہارا وہ رشتہ ختم کردیا جو اب تک ہمارے بیچ قائم تھا، اب تم اپنے دید کو الگ روپ میں دیکھو گی جو تمہاری کسی بھی غلطی کو لے کر تمہیں کوئی رعایت نہیں دے گا”
درید زمل کو بولتا ہوا اس کے کمرے سے چلا گیا
****
