Deewangi By Zeenia Sharjeel NovelR50394 Deewangi (Episode 8)
No Download Link
Rate this Novel
Deewangi (Episode 8)
Deewangi By Zeenia Sharjeel
“کہاں رستے میں گم ہوگئے تھے میرے بھائی”
درید ہوٹل کے ایڈریس پر پہنچا جہاں آج اس کے دوستوں نے اس کے لیے ڈنر ارینج کیا تھا تب احمر اسے پوچھنے لگا۔۔۔ وہ دونوں ہی اپنی اپنی گاڑی میں آگے پیچھے ہوٹل پہنچ رہے تھے
“پٹرول بھروانے کے لئے رک گیا تھا باقی سب پہنچ گئے ہیں کیا”
درید احمر کے ساتھ چلتا ہوا پوچھنے لگا ہوٹل کے فرسٹ فلور پر اُن لوگوں کا ٹیبل بُک تھا
“ہاں ابھی رضا کی کال آئی تھی وہ بتا رہا تھا سب آچکے ہیں صرف ہم دونوں کا ویٹ ہو رہا ہے”
احمر سیڑھیاں چڑھتا ہوا درید کو بتا رہا تھا تب نیچے فلور پر ایک ٹیبل پر کچھ لڑکے لڑکیوں کے قہقہے سیٹیاں اور شور کی آواز آئی جس پر درید سیڑھیاں چڑھتا ہوا اس ٹیبل کی طرف متوجہ ہوا
“پہلے اسی فلور پر یہی ٹیبل میں نے بُک کروانے کا سوچا تھا مگر یہ ٹیبل پہلے سے ہی ریزرو تھی”
احمر سیڑھاں چڑھتا ہوا درید کو بتانے لگا۔۔۔ تب درید نے بے خیالی میں اثبات میں سر ہلایا کیوںکہ اس کی توجہ بلیک ٹاپ میں اس لڑکی پر تھی جس کی پشت درید کی طرف تھی، درید اس کا چہرہ تو نہیں دیکھ سکتا تھا مگر کھلے بالوں سے اسے زمل کا گمان ہوا تھا مگر درید سے اپنا وہم سمجھ کر سیڑھیاں چڑھنے لگا۔۔۔ جہاں اس کے سب دوست اس کا انتظار کر رہے تھے
*****
“کہو زمل انجوائے کر رہی ہو نا، یہاں ہمارے ساتھ آ کر”
زمل کے برابر والی چیئر پر بیٹھی ہوئی نور اس سے پوچھنے لگی
“یار سچ بتاؤ تو عجیب سا لگ رہا ہے بلکہ افسوس ہو رہا ہے کہ میں نے مما کو سچ نہیں بتایا، مطلب انھوں نے میلاد میں جانے کی پرمیشن بھی تو دی مجھے، کم از کم ان سے جھوٹ بول کر کے تو مجھے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا اور ادینہ بھی نہیں آئی۔۔۔ وہی آ جاتی میرے ساتھ”
زمل اپنے اٹھائے ہوئے قدم پر افسوس کرتی ہوئی بولی، نور کے کہنے پر ہی اس نے تابندہ کو اسکول میں میلاد کا کہا تھا اور اس وقت وہ اپنی کلاس فیلوز کے ساتھ ہوٹل میں موجود تھی جہاں نور اور وائیبہ کے ساتھ ان دونوں کے بوائے فرینڈز بھی آئے ہوئے تھے
“اور تمہاری مما تمہیں یہاں بلاجواز ڈنر کا سن کر آنے کی اجازت دے دیتیں۔۔۔ جیسے پہلے تم ہر بار ہر جگہ آتی رہی ہو۔۔۔ اور ادینہ کا ذکر کرکے موڈ خراب مت کرو عجیب سی ممی ڈیڈی ٹائپ بندی ہے یار وہ تو، کوئی کتابی کیڑا گُھسا ہوا لگتا ہے مجھے اس کے اندر۔۔۔ جب دیکھو پڑھائی پڑھائی اور بس پڑھائی فیشن کا تو اسے کچھ معلوم ہی نہیں ہے بلاوجہ میں بی اماں ٹائپ شریف بی بی بنی رہتی ہے میری مانو تو تم بھی اس سے دوستی کم ہی کر دو۔۔۔ اچھا اب اتنی عجیب شکل مت بناؤ، نہ ہی اتنا گلٹی فیل کرو وائبہ کو دیکھو وہ بھی اپنے پیرنٹس سے میلاد کا ہی بول کر یہاں آئی ہے اور دیکھو ناں ذرا سمیع کے ساتھ کیسی خوش ہے۔۔۔ میرا کزن ہمایوں آتا ہی ہوگا پھر وہ تمہیں اچھی سی کمپنی دے گا تم ذرا سا بھی خود کو اداس محسوس نہیں کروں گی۔۔۔ اس کے بعد ڈنر کر کے تھوڑا بہت ہلہ گلہ کرکے تم ڈریسنگ روم میں جا کر اپنے کپڑے چینج کر لینا اور پھر چلی جانا اپنے گھر۔۔۔ یہی تو اصل زندگی کے مزے ہوتے ہیں جو ہم سب بعد میں یاد کرکے خوش ہوتے ہیں”
نور زمل کا اچھی طرح برین واش کرتی ہوئی اس سے بولی اور آنکھ مار کر جوس سے بھرا گلاس پینے لگی
زمل کی شروع سے ہی ادینہ اور مرینہ سے دوستی تھی جو کہ بے حد پڑھاکو ٹائپ اور سنجیدہ قسم کی لڑکیاں تھی۔۔۔ اسی کی کلاس میں نور اور وائبہ بھی تھی جن سے چند دنوں پہلے زمل کی کافی گہری دوستی ہو چکی تھی، نور اور وائبہ یہاں ہوٹل میں اپنے اپنے بوائے فرینڈز کے ساتھ آئی ہوئی تھی تو نور نے زمل کو بھی اپنے ساتھ آنے کے لئے کہا۔۔۔ کیونکہ زمل اب ان کی دوست تھی انکے ساتھ وقت گزارتی تھی نور کے خیال میں زمل کو اب ان ہی کے طریقے سے چلنا چاہیے تھا نور کے کہنے پر وہ تابندہ سے اسکول میں میلاد کے فنکشن کا جھوٹ بول کر آئی تھی نور کے کہنے پر ہی وہ اپنا ایک ڈریس بیگ میں رکھ کر لائی تھی جو اس نے ہوٹل کے واش روم میں چینج کیا تھا
****
ڈنر سے فارغ ہونے کے بعد ابھی درید اپنے دوستوں کے ساتھ وہی ٹیبل پر موجود باتیں کر رہا تھا تب بے ساختہ اس کی نظر سیڑھیوں سے اوپر آتی زمل پر پڑی جسے دیکھ کر وہ حیرت زدہ ہو گیا یعنی نیچے فلور پر وہ لڑکی جسے درید اپنا وہم سمجھا تھا وہ واقعی زمل تھی۔۔۔ اس وقت وہ اکیلی نہیں تھی اس کے ساتھ دو لڑکیاں اور تین لڑکے بھی موجود تھے۔۔ یہ لڑکیاں آدینہ اور مرینہ ہرگز نہیں تھی وہ ان دونوں زمل کی دوستوں کو چہروں سے جانتا تھا بلکے ان دونوں کی فیملی کو بھی جانتا تھا
“کہاں کھو گئے کیا دیکھ رہے ہو کوئی پسند آگئی ہے کیا”
احمر درید کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا جس کی نظریں تھرڈ فلور پر سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جاتے لڑکے اور لڑکیوں پر تھیں
“بکواس نہیں کرو۔۔۔ یہاں اوپر والے فلور پر تو رومز موجود ہیں ناں”
درید احمر سے کنفرم کرنے لگا کیونکہ احمر کا کزن اسی ہوٹل میں مینیجر تھا
“ہاں مگر تمہیں کیا ضرورت پڑ گئی روم کی، کیا چکر ہے”
احمر شک بھری نگاہوں سے درید کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا تو درید تنقیدی نگاہ اس پر ڈال کر کرسی سے اٹھا
“آتا ہوں تھوڑی دیر میں”
*****
“ہم لوگ اس روم میں کیو آئے ہیں نور، میں اب کافی لیٹ ہو چکی ہو میرے خیال میں اب مجھے واپس گھر جانے کے لیے ڈرائیور کو کال کرکے بلا لینا چاہیے”
زمل کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وائبہ اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ ایک الگ روم میں جا چکی تھی۔۔۔ نور خود اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ باتوں میں لگ کر اسے فراموش کر چکی تھی۔۔۔ اور اس کا کزن ہمایوں جو کہ تھوڑی دیر پہلے ہوٹل میں آیا تھا اور ان لوگوں کو جوائن کیا تھا وہ زمل کو عجیب طریقے سے دیکھ کم اور گھور زیادہ رہا تھا۔۔۔ اس سے عجیب عجیب سی باتیں پوچھ رہا تھا
“یار ابھی سے گھر جانے کیا ضرورت ہے پھر تمہارے پیرنٹس تمہیں کہاں اتنی جلدی آنے جانے کی پرمیشن دیں گے،، دیکھو یہ جو میرا بوائے فرینڈ ہے ناں اگر میں اس کو صحیح سے ٹائم نہیں دے پائی تو یہ مجھ سے بہت بری طرح ناراض ہو جائے گا،، اس لئے میں اسی روم کے ساتھ اٹیچ دوسرے روم میں تھوڑی دیر رومی کے ساتھ وقت گزارنا چاہتی ہوں،، میں نے آج ہمایوں کو یہاں پر صرف تمہارے لئے بلایا ہے،، پلیز تم ہمایوں کو تھوڑی دیر ٹائم دو، اسے تمہاری جیسی خوبصورت اور بھولی بھالی لڑکیاں ہی پسند ہے وہ بہت جلد تم سے محبت کر بیٹھے گا”
نور زمل کو سمجھاتی ہوئی زمل کی کوئی بات سنے بغیر اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ اسی کمرے کے ساتھ اٹیچ ایک دوسرے روم میں چلی گئی اور دروازہ بند کر لیا۔۔۔۔ ہمایوں مسکراتا ہوا کنفیوز کھڑی ہوئی زمل کو دیکھنے لگا
“تم خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سیدھی بھی ہو ڈئیر اور مجھے تمہاری جیسی لڑکی بہت اٹریکٹ کرتی ہیں۔۔۔ اچھا تو تم مجھے ذرا یہ بتاؤ تمہیں معلوم ہے میری کزن نور اس وقت اِس روم میں اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ کیا کر رہی ہو گی”
ہمایوں زمل کے نزدیک آتا ہوا سے پوچھنے لگا وہ زمل یا اس کی کلاس فیلوز کا ہم عمر نہیں تھا بلکہ دو تین سال بڑا ہی ہوگا مگر ہمایوں سے جھجھک کی وجہ اس کی عمر نہیں وہ باتیں تھی جو وہ زمل سے کر رہا تھا
“مجھے نہیں معلوم اندر کمرے میں نور کیا کر رہی ہے اور نہ ہی مجھے یہ جاننے میں دلچسپی ہے۔۔۔ معلوم نہیں اگر نور کو اپنے فرینڈ کو ہی کمپنی دینا تھی تو پھر وہ مجھے یہاں پر کیو لےکر آئی تھی”
زمل ہمایوں کو دیکھ کر بیزار لہجے میں بولی
“میرے لئے ڈئیر وہ تمہیں یہاں پر میرے لئے لائی ہے تاکہ مجھے اچھی کمپنی مل سکے یقین کرو تم میری کمپنی کو بہت انجوائے کرو گی۔۔۔ اچھا تو مجھے تم یہ بتاؤ بالغ تو تم کنفرم ہوگئی ہوگی اب تک۔۔۔ تمہیں پہلے کبھی کسی لڑکے نے کِس وغیرہ کیا ہے”
ہمایوں کے بےباکی سے پوچھے گئے سوال پر پہلے تو زمل حیرت زدہ ہو کر اسے دیکھنے لگی پھر اسے ہمایوں کی بات سن کر غصہ آنے لگا
“یہ کیا بیہودہ سوال ہے، راستہ چھوڑو میرا باہر جانا ہے مجھے۔۔ نور آئے تو اس کو بتا دینا کہ میں اپنے گھر کے لیے نکل گئی ہو”
زمل ہمایوں کو سخت لہجے میں بولتی ہوئی سائیڈ سے نکلنے لگی کہ اچانک ہمایوں نے اس کی کلائی پکڑی
“یہ کیا ڈئیر تم تو ناراض ہو گئی میرے سوال سے۔۔۔ میں نے یہ سوال اس لئے پوچھا ہے کہ کِس کرنے کے عمل میں بہت مزہ آتا ہے،، ہوسکتا ہے شروع میں تم تھوڑا عجیب محسوس کرو لیکن بعد میں تم انجوائے کرو گی میں یہ بات دعوے سے کہہ سکتا ہوں”
ہمایوں زمل کو بہلاتا ہوا اس کے دونوں بازو پکڑ کر اس کے ہونٹوں پر جھکنے لگا تو زمل نے پوری قوت سے اسے پیچھے دھکا دینا چاہا
“لیو می،، میں کہتی ہوں پیچھے ہٹو” ہمایوں کو پیچھے ہٹانے کے ساتھ وہ زور سے چیخی
“پاگل تو نہیں ہو گئی ہو تم بیوقوف لڑکی۔۔۔ چیخ کیوں رہی ہو یہاں، صرف کِس کر رہا ہوں میں تمہیں۔۔۔ اس کے بعد باقی سب تمہاری مرضی پر ہی ہوگا اگر تم ایگری کرو گی تو اوکے”
ہمایوں نے بولنے کے ساتھ زمل کو اچانک پیچھے صوفے پر دھکا دیا۔۔۔ وہ اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکی اور صوفے پر جا گری،، ہمایوں نے ایک بار پھر اس کے اوپر جھکنے کی کوشش کی تو زمل اس کی شرٹ کا کالر پکڑ کر احتجاجاً زور سے چیخی
“پیچھے ہٹو میں کہتی ہوں دور رہو مجھ سے”
صوفے پر لیٹی ہوئی زمل ایک بار پھر ہمایوں کو پیچھے ہٹا کر چیختی ہوئی بولی اس سے پہلے ہمایوں اس پر مکمل قابض ہوتا اچانک کمرے کا دروازہ کھلا جس کی وجہ سے ہمایوں کو پیچھے ہٹنا پڑا تو زمل بھی جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئی مگر کمرے کے اندر آنے والے شخص کو دیکھ کر اس کی روح فنا ہونے لگی
“واٹ دا ہیل، اس ہوٹل میں کوئی پرائیوسی نام کی چیز ہے یا نہیں تم اندر کیسے آئے ہو یو فول”
ہمایوں درید پر غصہ کرتا ہوا بولا مگر درید نے بنا لحاظ کیے یا کچھ بولے بغیر ہمایوں کو بری طرح پیٹنا شروع کر دیا۔۔۔ وہ اپنے ہاتھ کو روکے بناء ہمایوں کے منہ پر مُکے ہی مُکے برساتا گیا
“تم مجھے مار کیو رہے ہو اتنی بری طرح،، کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا”
تھوڑی ہی دیر بعد درید نے ہمایوں کو مار مار کر اس کی حالت جانوروں جیسی کردی تھی جبکہ زمل خوف سے کھڑی ہوئی درید کو بےپناہ غصے میں دیکھ کر بری طرح کانپ رہی تھی، مار پیٹ اور شور کی آواز پر نور اور اس کا بوائے فرینڈ بھی اپنے شرٹ کے بٹن بند کرتا ہوا اس کنرے میں آگیا تھا جبکہ درید کا دوست احمر اور اس کا کزن ہوٹل کا مینیجر ایک ساتھ ہی اس کمرے میں پہنچے تھے
“کیسے چھوا تم نے اس کو، جواب دو ہمت کیسے ہوئی تمہاری اس کو ہاتھ لگانے کی”
درید ہمایوں کو طیش کے عالم میں بری طرح پیٹنے کے بعد اس کا سر شدید غصے کے عالم میں صوفے کی لکڑی پر مارتا ہوا چیخ رہا تھا۔۔۔ اس کا غصہ اتنا شدید تھا کہ وہ ہوٹل کے مینیجر اور احمر کے قابو میں نہیں آ رہا تھا جس کی وجہ سے ہمایوں کا اچھا خاصہ کچومر نکل چکا تھا
“چھوڑ دو اس کو یہ زمل کا بوائے فرینڈ ہے، جو بھی کچھ زمل کے ساتھ کر رہا تھا وہ زمل کی مرضی پر ہی کر رہا تھا تم ہمایوں کو اس طرح نہیں مار سکتے”
نور کے چیخ کر بولنے پر درید نے ہمایوں کا گریبان چھوڑا تو وہ زمین پر ڈھیر ہو گیا۔۔۔ درید غصے میں نور کی طرف بڑھا اس سے پہلے درید کا ہاتھ نور کے منہ پر طماچے کی صورت پڑتا احمر اور ہوٹل کے مینیجر نے ایک بار پھر درید کو قابو میں کیا
زمل نور کے منہ سے اپنے لیے یہ الفاظ سن کر سکتے کی کیفیت میں نور کو دیکھنے لگی جبکہ نور اور اس کا بوائے فرینڈ ہمایوں کو ہوش میں لانے کی کوشش کر رہے تھے
“درید میں یہ نہیں کہہ رہا کہ شی از رائٹ بٹ تھوڑی دیر پہلے جب اس روم کی بکنگ کروائی گئی تھی تو یہاں پر کسی کو فورسلی نہیں لایا گیا تھا یار۔۔۔ اس طرح سے شور شرابہ کرنے سے تمہاری الگ بدنامی ہوگی اور ہوٹل کی الگ ریپوٹیشن خراب ہو گئی پلیز میری جاب کا سوچو میں نے صرف تمہارے ریکویسٹ کرنے پر تمہیں اس طرح یہاں روم میں آنے دیا ہے”
احمر کا کزن ہوٹل کا مینیجر درید کو نرمی سے سمجھاتا ہوا بولا مگر نور کی بات سن کر تو درید کا سر چکرا گیا تھا اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ سب کچھ تہس نہس کر ڈالے
“اس کے سر سے بہت زیادہ بلیڈنگ ہو رہی ہے اسے ہوش نہیں آرہا ہے اسکو ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہے”
ہمایوں کی حالت دیکھ کر نور پریشان ہوتی ہوئی بولی تو احمر اور مینیجر بھی ہمایوں کی طرف متوجہ ہوگئے وہ سب ہمایوں کو ہاسپٹل لے جانے کا بندوبست کرنے لگے
اس وقت ہوٹل کے روم میں درید اپنا سر دونوں ہاتھوں میں پکڑے صوفے پر بیٹھا ہوا تھا جبکہ زمل وہی خاموش کھڑی ہوئی تھی اس کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ درید کو مخاطب کرے، بہت ساری ہمت جمع کر کے وہ چلتی ہوئی درید کے پاس آئی
“دید”
زمل کے ہاتھوں کا لمس اپنے کندھے پر محسوس کر کے درید سرخ آنکھوں کے ساتھ سر اٹھا کر زمل کو دیکھنے لگا۔۔۔ درید کی آنکھو میں نمی دیکھ کر زمل کو ڈھیروں شرمندگی نے آ گھیرا زمل کو لگا درید کی آنکھوں میں نمی کی وجہ نور کی باتیں تھی
“نور نے جو بھی کہا اس میں بالکل سچائی نہیں تھی”
زمل کی بات مکمل بھی نہیں ہو پائی تھی درید نے صوفے سے اٹھ کر زوردار تھپڑ زمل کے منہ پر دے مارا، درید کے ہاتھ کا زناٹے دار تپھڑ زمل برداشت نہیں کر پائی اور نیچے ماربل پر جاگری۔۔۔ ایک پل کے لیے اسے پورا کمرہ گھومتا ہوا محسوس ہوا
“اپنی ماں سے، مجھ سے، جھوٹ بول کر یہاں پر آئی تھی تم، اپنے ہی گھر والوں کو دھوکا دیتے ہوئے شرم نہیں آئی تمہیں”
درید غصے میں چلتا ہوا زمل کے پاس آ رہا تھا زمل فرش پر سے اُٹھ بھی نہیں پائی تھی کہ درید نے اس کے گال پر دوسرا تھپڑ مارا
“مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی تھی دید، میں نے غلط بیانی سے کام لیا مگر مجھے بالکل بھی معلوم نہیں نور یہاں پر اپنے کسی کزن کو بلانے والی ہے اور نور کا مجھے یہاں لانے کا کیا مقصد تھا۔۔۔ میں نور کے کزن کو بالکل بھی نہیں جانتی آپ میرا یقین کریں میں سچ بول رہی ہوں اور اگر آپ کو مجھ پر یقین نہیں تو بے شک میری جان لے لیں”
زمل فرش پر بیٹھی ہوئی رو کر بولی
“ٹھیک کہا تم نے تمہاری لیے یہی سزا ہونی چاہیے کہ آج میں اپنے ہاتھوں سے تمہاری جان لے لو”
درید گھٹنوں کے بل بیٹھتا ہوا زمل کا گلا پکڑتا ہوا بولا۔۔۔ اپنے گلے پر درید کے ہاتھوں کے دباؤ سے زمل کو سانس لینے میں تکلیف ہونے لگی اس کا دم گھٹنے لگا، وہ تکلیف کے مارے درید کے دونوں ہاتھ اپنی گردن سے ہٹا رہی تھی اور پاؤں زور سے فرش پر رگڑ رہی تھی
“درید۔۔۔ درید کیا کر رہا ہے یار کیا ہوگیا ہے۔۔۔ چھوڑ اسے”
احمر جوکہ درید کے پاس واپس آیا تھا کمرے میں موجود صورت حال دیکھ کر بھاگتا ہوا درید کے پاس آیا ہوا اور اسے پیچھے ہٹانے لگا۔۔۔ درید کے ہاتھ جیسے ہی زمل کی گردن سے ہٹے تو وہ اپنی گردن پکڑ کر اٹھ بیٹھی اور زور زور سے کھانسنے لگی
“تم نہیں سمجھو گے احمر اس کا مرجانا ہی بہتر ہے، اس نے اپنے اوپر سے میرا اعتماد آج ختم کر دیا مجھے اندر سے توڑ کر رکھ دیا اس کی بے ہودہ حرکت نے۔۔۔ اس کی شکل دیکھو کتنی معصوم لگتی ہے میں اسے دنیا کی بری نظر سے بچا کر رکھنا چاہتا تھا اور آج اس نے۔۔۔ یہ مجھ سے اپنی ماں سے جھوٹ بول کر یہاں پر آئی ہے۔۔۔ اس کو مرجانے دو آج میرے ہاتھوں۔۔۔ اس کا مرجانا ہی بہتر ہے”
درید اس وقت بالکل اپنے آپے میں نہیں لگ رہا تھا وہ غصے میں ایک بار پھر بولتا ہوا زمل کی طرف بڑھا زمل ڈر کے مارے چیخ کر روتی ہوئی پیچھے سرکنے لگی اور پیچھے دیوار سے جا لگی ایک بار پھر احمر نے درید کو پکڑا
“درید ہوش میں آؤ، پاگل تو نہیں ہو گئے ہو تم۔۔۔ یہاں آؤ میرے ساتھ اس کمرے میں”
احمر کو اس بات کا علم تھا کہ زمل اس کی اسٹپ مدر کی بیٹی تھی مگر آج وہ درید کی حالت دیکھ کر یہ بھی جان کیا کہ اس کا یہ دوست اس لڑکی کے لئے کیا فیلینگز رکھتا ہے
احمر سمجھ گیا تھا کہ اس وقت درید ذہنی طور پر کافی زیادہ ڈسٹرب ہے۔،۔۔۔ زمل اس کے سامنے رہے گی تو وہ ایسے ہی ری ایکٹ کرے گا اس لئے احمر درید کو دوسرے پورشن میں لے گیا جبکہ زمل دیوار سے جڑی ہوئی نیچے فرش پر بیٹھی رونے لگی۔۔۔ وی جانتی تھی اس سے غلطی ہوئی تھی اس نے جھوٹ بولا تھا لیکن وہ درید کا ری ایکشن دیکھ کر کافی زیادہ خوفزدہ ہو چکی تھی اس کے دونوں گالوں پر درید کی انگلیوں کے نشان موجود تھے بلکہ اس کی گردن پر بھی درید کی انگلیوں کے نشانات موجود تھے
****
